Explained with ayahs 80–83
احسانات الٰہی کی ایک جھلک
قدیم اور بہت بڑے ان گنت احسانات وانعامات والا اللہ اپنی اور نعمتیں ظاہر فرما رہا ہے۔ اسی نے بنی آدم کے رہنے سہنے آرام اور راحت حاصل کرنے کے لئے انہیں مکانات دے رکھے ہیں۔ اسی طرح چوپائے، جانوروں کی کھالوں کے خیمے، ڈیرے، تمبو اس نے عطا فرما رکھے ہیں کہ سفر میں کام آئیں، نہ لے جانا دو بھر نہ لگانا مشکل، نہ اکھیڑنے میں کوئی تکلیف۔ پھر بکریوں کے بال، اونٹوں کے بال، بھیڑوں اور دنبوں کی اون، تجارت کے لئے مال کے طور پر اسے تمہارے لیے بنایا ہے۔ وہ گھر کے برتنے کی چیز بھی ہے اس سے کپڑے بھی بنتے ہیں، فرش بھی تیار ہوتے ہیں، تجارت کے طور پر مال تجارت ہے۔ فائدے کی چیز ہے جس سے لوگ…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 79
انکار سے مراد وہی طرز عمل ہے جس کا ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں۔ کفار مکہ اس بات کے منکر نہ تھے کہ یہ سارے احسانات اللہ نے ان پر کیے ہیں، مگر ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اللہ نے یہ احسانات ان کے بزرگوں اور دیوتاؤں کی مداخلت سے کیے ہیں، اور اسی بنا پر وہ ان احسانات کا شکریہ اللہ کے ساتھ، بلکہ کچھ اللہ سے بڑھ کر ان متوسط ہستیوں کو ادا کرتے تھے۔ اسی حرکت کو اللہ تعالیٰ انکار نعمت اور احسان فراموشی اور کفران سے تعبیر کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
(آیت) سَرَابِيْلَ تَـقِيْكُمُ الْحَـرّ۔ یہاں انسان کو کرتے کی غرض گرمی سے بچانے کو فرمایا ہے حالانکہ کرتہ انسان کو گرمی اور سردی دونوں سے بچاتا ہے اس کا ایک جواب تو امام قرطبی اور دوسرے مفسرین نے یہ دیا ہے کہ قرآن حکیم عربی زبان میں آیا ہے اس کے اولین مخاطب عرب ہیں اس لئے اس میں عرب کی عادات و ضروریات کا لحاظ رکھ کر کلام کیا گیا ہے عرب ایک گرم ملک ہے وہاں برف باری اور سردی کا تصور ہی مشکل ہے اس لئے گرمی سے بچانے کے ذکر پر اکتفاء کیا گیا حضرت تھانوی نے بیان القرآن میں فرمایا کہ قرآن کریم نے اسی سورة کے شروع میں لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ فرما کر لباس کے ذریعہ سردی سے بچنے اور گرمی حاصل کرنے کا ذکر…
Read the full tafseer →يَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ يُنْكِرُوْنَهَا وَاَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۔ یعنی یہ بات نہیں ہے کہ یہ باتیں ان کی سمجھ میں نہ آرہی ہوں، آخر ایسا کو دن کون ہوسکتا ہے کہ یہ نہ سمجھ سکے کہ یہ ساری نعمتیں اللہ ہی کی بخشی ہوئی ہیں۔ یہ لوگ جان کر انجان بنتے ہیں اور ان میں سے اکثر نا شکرے ہیں، ان کے اندر سے ایمان لانے والے تھوڑے ہی نکلیں گے۔ تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو، یہ خود بھگتیں گے۔
Read the full tafseer →83۔ 1 یعنی اس بات کو جانتے اور سمجھتے ہیں کہ یہ ساری نعمتیں پیدا کرنے والا اور ان کا استعمال میں لانے کی صلاحیتیں عطا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے، پھر بھی اللہ کا انکار کرتے ہیں اور اکثر ناشکری کرتے ہیں۔ یعنی اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
34: یعنی لوہے کی زرہیں جو جنگ میں تلوار وغیرہ کے وار کو روکنے کے لیے پہنی جاتی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
اب وہ بات سامنے لائی جاتی ہے جس کا آغاز کلام میں ذکر ہوا تھا ، وہ یہ کہ جب قیامت آجائے گی تو کافر کس حالت میں دو چار ہوں گے۔
Read the full tafseer →14 یعنی بیشک بعضے بندے شکر گزار بھی ہیں (وَقَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ ) 34 ۔ سبأء :13) لیکن اکثروں کا حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کو دیکھتے اور اس کے احسانات کو سمجھتے ہیں، مگر جب شکر گزاری اور اظہار اطاعت کا وقت آتا ہے تو سب بھول جاتے ہیں۔ گویا دل سے سمجھتے ہیں اور عمل سے انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
آیت 81 وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا
اللہ نے درختوں اور بہت سی دوسری چیزوں سے سائے کا نظام وضع فرمایا ہے جو انسانی زندگی کے لیے بہت مفید ہے۔
وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا
پہاڑوں کے اندر قدرتی غاریں پائی جاتی ہیں جن میں لوگ طوفانی ہواؤں وغیرہ کی شدت سے بچنے کے لیے پناہ لے سکتے ہیں۔ پرانے زمانے میں تو اس حوالے سے ان غاروں کی بہت اہمیت تھی۔
كَذٰلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ
جیسا کہ قبل ازیں بھی اشارہ کیا گیا ہے اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ذکر کی تکرار بہت زیادہ ہے۔ مزید ملاحظہ ہوں آیات 18 ‘ 35 ‘ 71 ‘ 72 ‘ 83 اور 114۔
Read the full tafseer →85 یعنی بار بار اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلاتے رہنے کے باوجود بھی اگر یہ لوگ اس طرف متوجہ نہیں ہوتے تو آپ اپنا کام کرتے جائیے۔ آپ کی صرف اتنی ہی ذمہ داری ہے کہ آپ انھیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا کریں۔ اور حقیقت حال یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے انعامات کو دیکھتے بھی ہیں اور سمجھتے بھی ہیں مگر جب شکرگزاری اور اظہار اطاعت کا وقت آتا ہے تو سب کچھ بھول جاتے ہیں گویا دل سے سمجھتے تو ہیں مگر عمل سے انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →132۔ (جو زبانی بھی اقرار توحید نہیں کرتے، بلکہ سرے سے منکر حق ہیں) اے الجاحدون غیر معترفین (کشاف) (آیت) ” یعرفون نعمت اللہ “۔ یہ معذور بھی نہیں، کہ سرے سے اللہ کی ان نعمتوں کو پہچان ہی نہ سکے ہوں۔ (آیت) ” ثم ینکرونھا “۔ یعنی اپنی عملی زندگی میں اللہ منعم حقیقی کی طرف سے انجام بن کر غیر اللہ کے ساتھ معاملہ اللہ سا کرنے لگتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
آیت نمبر 77 تا 83
ترجمہ : آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا علم اللہ ہی کو ہے یعنی ان دونوں میں مخفی چیزوں کا علم، قیامت کا معاملہ تو بس ایسا ہوگا جیسا کہ پلک کی ایک جھپک یا اس سے بھی جلدی، اسلئے کہ وہ لفظ کن سے ہوگا، تو وہ ہوجائے گی، یقیناً اللہ ہر شئ پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حال میں پیدا کیا کہ تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے (لاتعلمون شیئًا) کم ضمیر سے حال ہے، اور اس نے تمہیں کان دیئے سمع، اسماعٌ کے معنی میں ہے اور آنکھیں دیں اور دل دیئے تاکہ تم ان کا شکریہ ادا کرو، اور ایمان لے آؤ، کیا لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا ؟ کہ وہ پرواز کے لئے آسمان کی فضاء میں…
Read the full tafseer →یعرفون نعمت اللہ ثم ینکرونھا و اکثر ھم الکفرون یہ اللہ کی نعمت کو پہچانتے تو ہیں ‘ پھر اَن جان ہوجاتے ہیں (منکر ہوجاتے ہیں) اور ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں۔ یعنی اللہ کی نعمتوں کو دیکھ کر ان کا اقرار کرتے ہیں اور ان کو اللہ کی طرف سے عطا کردہ جانتے ہیں ‘ پھر اللہ کی خالص عبادت سے روگرداں ہوجاتے ہیں ‘ اللہ کی عبادت میں دوسروں کو شریک بنا لیتے ہیں (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو منعم سمجھتے ہیں ‘ اللہ کو منعم نہیں سمجھتے۔ یا اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی منعم جانتے ہیں۔ یہ حقیقت میں اللہ کی نعمت کا انکار ہے۔ مترجم) سدی کے نزدیک اللہ کی نعمت سے رسول اللہ ﷺ کی نبوت مراد ہے ‘ یعنی وہ نبوت محمدیہ ﷺ…
Read the full tafseer →(83) چناچہ جب رسول اکرم ﷺ نے کفار کو یہ نعمتیں یاد دلائیں تو کہنے لگے بیشک محمد ﷺ یہ سب نعمتیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہیں، اس کے بعد پھر اس چیز کے منکر ہوگئے اور کہنے لگے ہمارے بتوں کی سفارش سے یہ نعمتیں ملی ہیں، اسی چیز کو اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ خود اقرار کر رہے ہیں کہ یہ سب نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں مگر پھر کہتے ہیں کہ ہمارے بتوں کی سفارش سے ایسا ہوا ہے ان اللہ تعالیٰ کے منکر اور کافر ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”۔ یعرفون نعمت اللہ“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجاہد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے کہ ایک اعرابی رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ سے کچھ…
Read the full tafseer →يَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ يُنْكِرُوْنَهَا : یعنی خوب جانتے ہیں کہ یہ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی کی ذات عنایت فرما رہی ہے، مگر جب عملاً شکر گزاری کا وقت آتا ہے تو انکار کردیتے ہیں۔ ”ثُمَّ“ یہاں تعجب کے لیے ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے پھر اللہ کی نعمتوں کا انکار کردیتے ہیں، گویا دل میں نعمتوں کا اقرار اور اپنے عمل سے انکار کرتے ہیں، بلکہ پوچھنے پر اللہ کی نعمتوں کا اقرار زبان سے بھی کرتے ہیں، مثلاً تمہیں کس نے پیدا کیا ؟ جواب دیں گے اللہ نے۔ (دیکھیے زخرف : 87) اسی طرح سورة مومنون (84 تا 89) میں ان کے اعترافات ذکر فرمائے ہیں۔ مگر وہ ایمان لانے پر تیار نہ تھے، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ صرف…
Read the full tafseer →آیت نمبر 83
قولہ تعالیٰ : یعرفون نعمت اللہ سدی نے کہا ہے : مراد حضور نبی رحمت ﷺ ہیں، یعنی وہ آپ کی نبوت کو پہچانتے ہیں۔ ثم یکرونھا اور آپ کو جھٹلاتے ہیں۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : مراد وہ نعمتیں ہیں جو اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ان پر شمار کی ہیں، یعنی وہ پہچانتے ہیں کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہیں اور وہ ان کا انکار اپنے اس قول کے ساتھ کرتے ہیں کہ وہ ان کے اپنے آباء و اجداد کی جانب سے وارث بنے ہیں۔ اور اسی کی مثل حضرت قتادہ نے کہا ہے۔ اور عون بن عبد اللہ نے کہا ہے : یہ کسی آدمی کا یہ قول ہے اگر فلاں نہ ہوتا تو اس طرح ہوتا، اور اگر فلاں نہ ہوتا تو میں اس مصیبت میں نہ پڑتا، حالانکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
1:۔ عبدبن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واللہ جعل لکم مما خلق ظللا “ (یعنی سایہ بنایا) درخت سے اور اس کے علاوہ (دوسری چیزوں سے) (آیت) ” وجعل لکم من الجبال اکنانا “ یعنی غاریں جن میں تم ٹھہرتے ہو (آیت) ” وجعل لکم سرابیل تقیکم الحر “ یعنی روئی سے اور اون سے لباس بنائے (آیت) ” وسرابیل تقیکم باسکم “ یعنی لوہے کے لباس (آیت) ” کذلک یتم نعمتہ علیکم لعلکم تسلمون “ (اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کو پورا فرماتے ہیں تاکہ تم اللہ کے سامنے جھک جاؤ)
2:۔ ابن ابی حاتم نے کسائی کے طریق سے حمزہ (رح) سے روایت کیا کہ اعمش ابوبکر اور عاصم یہ تینوں حضرات اس کو یوں…
Read the full tafseer →[يَعْرِفُوْنَ : وہ پہچانتے ہیں ] [ نِعْمَتَ اللّٰهِ : اللہ کی نعمت کو ] [ ثُمَّ : پھر (بھی)] [ يُنْكِرُوْنَهَا : انکار کرتے ہیں اس کا ] [ وَاَكْثَرُهُمُ : اور ان کے اکثر ] [ الْكٰفِرُوْنَ : ناشکری کرنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →(یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰہِ ثُمَّ یُنْکِرُوْنَھَا) (یہ لوگ اللہ کی نعمت کو پہچانتے ہیں پھر اس کے منکر ہوتے ہیں) (وَ اَکْثَرُھُمُ الْکٰفِرُوْنَ ) (اور ان میں اکثر ناشکرے ہیں) سب سے بڑی ناشکری کفر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا فرمایا اور بڑی بڑی نعمتیں عطا فرمائیں پھر بھی ایمان نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–83
رجور بسوئے دلائل توحید بتذکیر انعامات خداوند حمید
قال اللہ تعالیٰ : واللہ انزل من السماء .... الیٰ .... واکثرھم ھم الکفرون۔
(ربط) اوپر سے بہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کا ذکر چلا آرہا ہے اور پھر اسی طرح سے یہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کو بیان فرماتے ہیں اور یہ دلائل معاد بھی ہیں اور دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل ہدایت بھی ہیں اور دلائل رحمت بھی ہیں۔ دور تک اسی طرح سلسلہ کلام چلا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کے انعامات کو ذکر فرمایا جو علاوہ نعمت ہونے کے اس کے کمال علم اور کمال قدرت اور حکمت کے دلائل بھی ہیں۔
(1) چناچہ واللہ انزل من السماء ماء سے اپنی قدرت کا بیان شروع فرمایا کہ آسمان سے…
Read the full tafseer →67:۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو خوب پہچانتے ہیں اور انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں مگر اس کے باوجود عملاً ان کا انکار کرتے ہیں کیونکہ اللہ کے سوا غیروں کی عبادت کرتے اور ازراہ عناد و تعنت ان نعمتوں کو اپنے معبودان باطلہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ای یعرفون ان اللہ تعالیٰ ھو المسدی الیھم ذلک وھو المتفضل بہ علیہم و مع ھذا ینکرون ذلک و یعبدون معہ غیرہ و یسندون النصر والرز الی غیرہ ( ابن کثیر ج 2 ص 580) ان کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے اس لیے ان پر دلائل کا کوئی اثر ہوگا نہ امتنان کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
(ربط آیات)
شرک اور مشرکین کے رد کے بعد اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور جزائے عمل کی طرف اشارہ کیا ، پھر فرمایا کہ انسانوں کے تمام مخفی حالات سے صرف اللہ تعالیٰ ہی واقف ہے جو کائنات کی تمام مخفی چیزوں کو جانتا ہے قیامت کو بھی اپنے وقت پر وہی برپا کرے تا ، انسان قیامت کے وقت کے متعلق کچھ نہیں جانتے اور وہ اچانک ہی آئے گی ، انسان کی انفرادی موت بھی اچانک ہی واقع ہوجاتی ہے کوئی شخص اس کے وقت اور مقام کو نہیں جانتا گویا قیامت صغری اور قیامت کبری میں اس لحاظ سے مناسبت ہے ،
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور وحدانیت کے دلائل کا ذکر کیا پہلے انسان کے جسم میں موجود بڑی بڑی نعمتوں کو یا ددلایا ، پھر پرندوں…
Read the full tafseer →يَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ يُنْكِرُوْنَهَا وَاَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ 83ۧ
عرف
المَعْرِفَةُ والعِرْفَانُ : إدراک الشیء بتفکّر وتدبّر لأثره، وهو أخصّ من العلم، ويضادّه الإنكار،
قال تعالی: فَلَمَّا جاءَهُمْ ما عَرَفُوا[ البقرة/ 89] ، فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ
[يوسف/ 58]
( ع رف ) المعرفۃ والعرفان
کے معنی ہیں کسی چیز کی علامات وآثار پر غوروفکر کرکے اس کا ادراک کرلینا یہ علم سے اخص یعنی کم درجہ رکھتا ہے اور یہ الانکار کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے قرآن میں ہے ؛
فَلَمَّا جاءَهُمْ ما عَرَفُوا[ البقرة/ 89] پھر جس کو وہ خوب پہنچانتے تھے جب ان کے پاس آپہنچی تو اس کافر ہوگئے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
ترکیب : اوھواقرب اوللتمثیل اوللتخییر وقیل لشک المخاطب وقیل بمعنی بل والجملۃ تمثیل لسرعۃ وقوع القیامۃ۔ مسخرات حال من الطیر۔ سکنًا بمعنی مسکون لاتعلمون جملہ حال ہے ضمیر منصوب امہاتکم سے۔ مایمسکہن جملہ حال ہے مسخرات سے۔ ظعن سفر۔ اثاتاً معطوف ہے سکنًا پر اور دونوں میں اصوافہا جار مجرور کا فصل مستقبح نہیں ہے کیونکہ جار مجرور بھی مفعول ہے اور ایک مفعول کا دوسرے پر مقدم کرنا قبیح نہیں الظعن بفتح العین وسکونہا کالنہرو ھوسیر اہل البادیۃ من موضع الیٰ موضع والصوف للغنم والوبرللابل والشعر للمغر اکنانا جمع کن وھو مایستکن بہ۔
تفسیر : ان آیات میں خدا تعالیٰ ان کے ان معبودوں کے مقابلہ میں کہ جن کو دو مثالوں…
Read the full tafseer →یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰہِ ثُمَّ یُنْکِرُوْنَھَا وَاَکْثَرُھُمُ الْکٰفِرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 83)
(یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں پھر اس کا انکار کرتے ہیں اور ان میں اکثر ناشکرے ہیں۔ )
یہ کفار مکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو خوب پہچانتے ہیں، وہ ایسے بیوقوف اور کو دن نہیں کہ یہ بھی نہ جانتے ہوں کہ ان نعمتوں کا دینے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور ہے۔ البتہ یہ بات تعجب خیز ضرور ہے کہ وہ اس کا انکار کرتے ہیں۔ انکار دراصل اس بات کا نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نعمتیں پیدا فرمائی ہیں اور وہی ان کا عطا کرنے والا بھی ہے۔ انکار اس بات کا ہے کہ نعمتوں کا عطا کرنے والا تنہا اللہ تعالیٰ نہیں بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
فہم القرآن
ربط کلام : انسان کی مستقل قیام گاہ کے بعد اس کی عارضی پناہ گاہوں اور اس کے لباس کا تذکرہ۔
دنیا میں انسان کی مستقل قیام گاہ اس کا گھر ہوتا ہے جو انسان کے لیے سکون اور سکونت کا باعث ہونے کے ساتھ گرمی، سردی اور اس کے سازوسامان کی حفاظت کا ذریعہ ہوتا ہے۔ انسان کا گھر بیشک جھونپڑی کی صورت میں کیوں نہ ہو وہ اسے اٹھائے ہوئے ہر جگہ نقل و حرکت نہیں کرسکتا۔ اس نے اپنی روزی اور دیگر حاجات کے لیے گھر سے باہر جانا ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری تھا کہ اس کے لیے عارضی طور پر ایسی قیام گاہیں ہوں جنہیں وہ گرمی، سردی اور سفری مشکلات کے وقت کچھ وقت کے لیے قیام کرسکے اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے درختوں اور پہاڑوں…
Read the full tafseer →83: یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰہِ (وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں) وہ نعمتیں جن کو ہم نے اپنے اقوال سے گن کر بیان کردیا۔ پھر یہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ ثُمَّ یُنْکِرُوْنَھَا (پھر انکا انکار کرتے ہیں) یعنی اپنے افعال و کردار سے کہ غیر منعم کی عبادت کرتے ہیں نمبر 2۔ سختیوں میں اقرار پھر خوشحالی میں انکار کرتے ہیں۔ وَاَکْثَرُ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ (اور ان کی اکثر یت انکاری ہے) شدت سے انکاری ہیں کہ اعتراف بھی نہیں کرتے۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کی نعمت یعنی نبوت محمد ﷺ کو پہچانتے ہیں۔ پھر عناد سے انکار کرتے ہیں۔ اور ان کی اکثریت سخت انکاری اور دلوں سے انکاری ہیں ثم ؔ…
Read the full tafseer →(83)” یعرفون نعمۃ اللہ “ سدی کا قول ہے کہ اس سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں۔ بعض حضرات کے نزدیک نبی کریم ﷺ کی نبوت مراد ہے۔ ” ثم ینکرونھا “ پھر انہوں نے اس نعمت کو جھٹلا دیا۔ بعض نے کہا کہ اس نعمت سے مراد اسلام ہے۔ مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ کا بیان ہے کہ اللہ نے اس سورت میں جن نعمتوں کا ذکر کیا ہے کافر ان کو پہچانتے ہیں ، پھر جب ان سے کہا گیا کہ اس بات کی تصدیق بھی کرو ان نعمتوں کے احکام کی تکمیل بھی کرو تو پھر اس کا انکار کرنے لگے اور کہنے لگے ہمیں تو یہ نعمتیں باپ دادا کی وراثت سے ملی ہیں۔
کلبی (رح) کا بیان ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کی نعمتوں کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے اقرار کیا اور کہاں ہاں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
80۔ 83۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ایک اور دلیل اپنی توحید کی بیان کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے آرام و آسائش کے لئے گھر بنا دئیے کہ جب چل پھر کر تھک جاؤ تو وہاں آکر آرام کرو راتوں کو اطمینان سے اس میں سو جاؤ تمہارے بال بچے ادھر ادھر مارے مارے نہ پھریں دھوپ کی گرمی سے امن پاؤ برسات میں مینہ کے بھیگنے سے بچو جاڑے کی سردی سے نجات پاؤ پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا اس حکمت سے تم اگر سفر میں جاؤ گے تو کہاں قیام کرو گے تمہارے واسطے چارپاؤں کے کھال کے خیموں چھولداریاں وغیرہ بنائے جس کو تم اپنے ساتھ لے جایا کرو اور آسانی سے اس کو نصب کرلیا کرو اور سونے بیٹھنے میں اس سے بہت بڑا نفع حاصل کرو پھر فرمایا کہ جانوروں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
آیت : (84-87)
اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کفار کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس روز ان سے کوئی عذر قبول کیا جائے نہ ان سے عذاب کو رفع کیا جائے گا اور ان کے ٹھہرائے ہوئے شریک ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے اور وہ اقرار کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور اس پر افتراز پردازی کیا کرتے تھے ‘ چناچہ فرمایا : (ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا) ” اور جس دن کھڑا کریں گے ہم ہر امت میں سے ایک گواہی دینے والا “ جو ان کے اعمال پر گواہی دے گا کہ انہوں نے داعی ہدایت کو کیا جواب دیا تھا اور یہ گواہ جس کو اللہ گواہی کے لئے کھڑا کرے گا ‘ وہ سب سے پاک اور سب سے عادل گواہ ہوگا اور یہ گواہ رسول ہی ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–88
جانوروں کی اون اور بال حلال ہیں
قول باری ہے (ومن اصوافھا واوبارھا و اشعارھا اثا شاومت عا الی حین۔ اس نے جانوروں کے صوف اور اون اور بالوں سے تمہارے لئے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کردیں جو زندگی کی مدت مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں) جانور کی موت کے بعد اس کے جسم سے حاصل کردہ مذکورہ چیزوں سے فائدہ اٹھانے کے جواز پر آیت میں دلالت موجود ہے اس لئے کہ جانور کی موت سے پہلے اور موت کے بعد اس سے ان چیزوں کو حاصل کرنے کے مابین کوئی فرق نہیں رکھا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
167۔ سایوں کی نعمت کا انتظام : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ نے اپنی پیدا کردہ چیزوں سے تمہارے لیے طرح طرح کے سایوں کا بھی انتظام فرمایا۔ مکانوں، چھپروں، پہاڑوں، غاروں اور درختوں اور بادلوں وغیرہ کے ذریعے۔ تاکہ تم لوگ دھوپ کی تپش و تمازت سے بچ سکو اور طرح طرح کے ان سایوں کے اندر تم آرام کرسکو اور ٹھنڈی میٹھی نیند سو سکو۔ ورنہ تمہارا کیا حال ہوتا۔ تپتی دھوپ اور لو کے اندر تم جھلس کر رہ جاتے۔ سو اس گرمی اور لو سے بچنے کیلئے جب کسی ٹھنڈے پر سکون سائے میں بیٹھوتوسوچو کہ اس ٹھنڈے پر سکون اور راحت بخش سائے کی اس نعمت سے ہمیں کس نے نوازا وہ کیسی قدرت وحکمت اور رحمت و عنایت والی ذات ہے ؟ اور اس کا ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
اللہ کے انعامات اور کفار کی ہٹ دھرمی
تشریح : ان آیات میں بھی اللہ کی طرف سے دی گئی کچھ اور نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ تمام نعمتیں مستقل جاری وساری رہنے والی ہیں اور یہ سب انسان کو ذہنی اور جسمانی سکون حاصل کرنے کے لیے دی گئی ہیں۔ ان میں سب سے پہلے گھر کا ذکر کیا گیا ہے کہ گھر انسان کے سکون کی بہترین جگہ ہے۔ گھر اوپر سے بنا کر اللہ نے نہیں دیا بلکہ گھر بنانے کی تمام چیزیں مہیا کردی گئیں اور ساتھ میں عقل و فہم اور علم و ادراک بھی دے دیا پہلے خاندان کے رہن سہن کو بڑی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے اور حلال حرام کا بھی ذکر ہوچکا ہے اب جانوروں کے وہ فائدے بیان کیے جا رہے ہیں جو ان کی کھال اور اون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
(رکوع نمبر 1 1)
اسرارومعارف
جو انسانی منصوبہ بندیاں اور اندازے ہیں جن کی بنیاد پر لوگ رب جلیل کو بھی عام انسانوں کی طرح تصور کرکے مثالیں دیتے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں کہ زمین اور آسمانوں میں یا ساری مخلوق میں غیب کا علم تو صرف اللہ جل جلالہ کو ہے اور کل کیا ہونے والا ہے یا آئندہ کیا پیش آئے گا یہ صرف اللہ جل جلالہ جانتا ہے ، لہذا انسان کی بہتری اسی کی اطاعت میں ہے ، ورنہ انسان کو تو یہ بھی خبر نہیں کہ کس گھڑی سب کچھ تہ وبالا ہوجائے گا اور پلک جھپکنے میں قیامت قائم ہوجائے گی اللہ جل جلالہ تو یقینا جانتا ہے بلکہ وہی ذات قیامت قائم کرنے والی ہے اور یقینا وہ ہر بات پہ کامل قدرت رکھتا ہے لہذا اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
ف 5 یعنی خوب دبانتے ہیں کہ یہ ت مام نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی کی ذات عنایت فرما رہی ہے مگر جب عملاً شکر گزاری کا وقت آتا ہے تو سب بھول جاتے ہیں اور بخرک کرنے لگتے ہیں۔ گویا دل میں نعمتوں کا متوار اور اپنے عمل سے انکار کرتے ہیں۔
6 ان کا پیغمبر اللہ کے سامنے کو ہوگا اور ان کے حق میں ایمان و تصدیق کی گواہی دے گا۔ (بشرطیکہ یہاں لا کر پیروی کی ہوگی اور اگر انحراف کیا ہوگا تو ان کے خلاف کفر و تکذیب کی گواہی دے گا۔ اس میں منکرین نعمت کے لئے وعید ہے۔ شوکانی
7 یعنی ان کا مجرم ہونا اتنا واضح ہوگا کہ ان کے پاس کوئی عذر یا بحث نہیں ہوگی جس کے بیان کرنے کی اجازت دی جائے۔
8 یا نہ انہیں (اپنے رب کو) راضی کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
(16:82) فان تولوا۔ اگر یہ روگردانی کرتے رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 83
امرالساعۃ قیامت کا حال۔ لمح البصر آنکھ کا جھپکنا، آنکھ کا بند ہونا۔ اقرب زیادہ قریب۔ بطون (بطن) پیٹ۔ شیئاً کچھ بھی۔ السمع سننا، کان الابصار (بصر) آنکھیں۔ الافئدۃ دل، قلب۔ الطیر پرندہ۔ فی جو السمآء آسمان کی فضا میں۔ مایمسک نہیں تھامتا۔ سکن ٹھکانا، رہنے کی جگہ۔ جلود (جلد) کھالیں۔ تستخفون تم ہلکا پھلکا پاتے ہو۔ یوم ظعن سفر کے دن، کوچ کے دن۔ یوم اقامۃ ٹھہرنے کے دن۔ اصواف (صوف) اون۔ اوبار (وبر) اونٹ کا نرم رواں۔ اشعار (شعر) بال۔ اثاثاً سامان اسباب۔ متاعاً سامان۔ حین وقت ، زمانہ۔ ظلال سائے۔ اکنان صکن) چھپنے کی جگہ۔ سرابیل (سربال) کرتے۔ تقیکم تمہیں بچاتا ہے۔ باس لڑائی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
اس آیت مبارکہ میں آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ باوجود ان نعمتوں کے معلوم کرنے کے یہ لوگ اسلام سے بےبہرہ رہیں، اور ایمان نہ لائیں تو اس کا تم پر کوئی الزام نہیں ہے تمہیں تو کھول کر اللہ کا پیگام پہنچا دینا ہے پھر تم بری الذمہ ہو۔ ماننا نہ ماننا ان کا اختیار ہے۔ یہ لوگ خدا کی نعمتوں کو خوب اچھی طرح جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں اور پھر بھی تمہاری رسالت کا انکار کرتے ہیں۔ کفر کرتے ہیں تو اس کا وبال ان پر پڑے گا۔
Read the full tafseer →[51] مشرکین اس بات کے منکر نہ تھے کہ تمام نعمتیں اللہ ہی کی دی ہوئی ہیں مگر ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ نعتیں ان کے دیویوں، دیوتاؤں، بزرگوں اور ولیوں کی مداخلت سے انھیں ملی ہیں۔ اس لئے وہ ان نعمتوں کے شکریئے میں غیر اللہ کو بھی شریک کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
(ف 2) یعنی وہ لوگ جو اللہ کی نعمتوں کو پہچانتے تو ہیں مگر اقرار نہیں کرتے ، اور عملا اس بات کا ثبوت نہیں دیتے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی نعمتوں سے مشرف کر رکھا ہے ۔ قیامت کے دن یہ لوگ دربار خداوندی میں لاحاضر کئے جائیں گے ، پیغمبر اور اللہ کے فرستادے ان کے خلاف شہادتیں دیں گے ، اور کہیں گے کہ تم وہ ہو ، جنہوں نے اللہ کی بہت بڑی نعمت کو ٹھکرا دیا یعنی تمہارے پاس اللہ کا رسول آیا تم نے انکار کیا ، تمہارے ہاں اللہ کا ہادی اور مصلح آیا تونے منہ پھیرلیا حالانکہ وہ تمہارے بھلے اور فائدے کے لئے آیا تمہیں جہل و تاریکی کی سمندروں سے نکالنے کے لئے آیا تم کو علم ومعرفت کا سبق دینے کیلئے آیا ، اور…
Read the full tafseer →83 ۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو جانتے پہچانتے ہیں پھر پہچان کر انکار کرتے ہیں ۔ اور زیادہ ان کے ناسپاس ہیں ۔ یعنی آپ کا کام تبلیغ احکام ہے اور بس یہ لوگ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کو پہچانتے ہیں پھر ان کا برتائو منکرانہ اور کافرانہ ہے وہ برتائو نہیں جو ایک منعم اور محسن کے ساتھ ہونا چاہئے۔
Read the full tafseer →ف 4۔ کہ جو برتاو منعم کے ساتھ چاہیے تھا یعنی وہ عبادت دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →انعام الہی کو پہچان لینے کے بعد انکار کرنے والے ہی دراصل کافر ہیں :
95۔ فرمایا وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں اور ازیں بعد ان کا انکار کرتے ہیں اور ان کا یہ انکار طرز عمل کا انکار ہے ، کفار مکہ اور مشرکین اس بات کی منکر نہ تھے کہ یہ سارے احسانات اللہ تعالیٰ نے ان پر کئے ہیں مگر ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اللہ نے یہ احسانات ان کے بزرگوں اور دیوتاؤں کی وجہ سے اور ان کے بزرگوں اور دیوتاؤں کی وجہ سے ان کے وسیلہ سے کئے ہیں اور اس وجہ سے اور ان کے وسیلہ سے کئے ہیں اور اس وجہ سے وہ ان احسانات کا شکریہ اللہ کے ساتھ بلکہ اللہ تعالیٰ سے بھی بڑھ کر ان متوسط ہسیتوں کا ادا کرتے تھے اور زبان سے بھی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–88
Finally, a note about the statement: سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ (shirts which protect you from heat - 81). Here, protection from heat has been identified as the purpose of a shirt - though, a shirt protects one from heat and cold both. This has been answered by Imam Al-Qurtubi and other commentators by saying that the Holy Qur’ an has been revealed in the Arabic language, its first addressees are Arabs, therefore, it speaks by taking Arab habits and needs into account. Arabia is a hot country where the very thought of snow and winter chill is far-fetched, therefore, the statement was…
Read the full tafseer →79. Here the denial of the blessings of Allah refers to practical denial by the disbelievers of Makkah. For they did not deny that all these blessings were from Allah but along with this they believed that their saints and gods also had contributed towards them. This is why they associated their intercessors in their gratitude to Allah for these blessings. Nay, they were even more grateful to them than to Allah. Allah regards this association as denial of His blessings, ingratitude and forgetfulness of His favors.
Read the full tafseer →