Explained with ayahs 84–88
ہر امت کا گواہ اس کا نبی
قیامت کے دن مشرکوں کی جو بری حالت بنے گی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس دن ہر امت پر اس کا نبی گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچا دیا تھا کافروں کو کسی عذر کی بھی اجازت نہ ملے گی کیونکہ ان کا بطلان اور جھوٹ بالکل ظاہر ہے۔ سورة والمرسلات میں بھی یہی فرمان ہے کہ اس دن نہ وہ بولیں گے، نہ انہیں کسی عذر کی اجازت ملے گی۔ مشرکین عذاب دیکھیں گے لیکن پھر کوئی کمی نہ ہوگی ایک ساعت بھی عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ انہیں کوئی مہلت ملے گی اچانک پکڑ لئے جائیں گے۔ جہنم آموجود ہوگی جو ستر ہزار لگاموں والی ہوگی۔ جس کی ایک لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ اس میں سے ایک گردن نکلے گی جو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
سورة النَّحْل 80
یعنی اس امت کا نبی، یا کوئی ایسا شخص جس نے نبی کے گزر جانے کے بعد اس امت کو توحید اور خالص خدا پرستی کی دعوت دی ہو، شرک اور مشرکانہ اوہام و رسوم پر متنبہ کیا ہو، اور روز قیامت کی جواب دہی سے خبردار کیا ہو۔ وہ اس امر کی شہادت دے گا کہ میں نے پیغام حق ان لوگوں کو پہنچا دیا تھا، اس لیے جو کچھ انہوں نے کیا وہ ناواقفیت کی بنا پر نہیں کیا، بلکہ جانتے بوجھتے کیا۔
سورة النَّحْل 81
یہ مطلب نہیں ہے کہ انہیں صفائی پیش کرنے کی اجازت نہ دی جائے گی۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان کے جرائم ایسی صریح ناقابل انکار اور ناقابل تاویل شہادتوں سے ثابت کردیے جائیں گے کہ ان کے لیے صفائی پیش کرنے کی کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
خلاصہ تفسیر
اور (وہ دن یاد کرنے کے قابل ہے) جس دن ہم ہر ہر امت میں سے ایک ایک گواہ (کہ اس امت کا پیغمبر ہوگا) قائم کریں گے (جو ان کے اعمال سیہ کی شہادت دیں گے) پھر ان کافروں کو (عذر و معذرت کرنے کی) اجازت نہ دی جائے گی اور نہ ان سے حق تعالیٰ کے راضی کرنے کی فرمائش کی جائے گی (یعنی ان سے یوں نہ کہا جائے گا کہ تم توبہ یا کوئی عمل کر کے اللہ کو خوش کرلو، وجہ اس کی ظاہر ہے کہ آخرت دارالجزاء ہے دارالعمل نہیں) اور جب ظالم (یعنی کافر) لوگ عذاب کو دیکھیں گے (یعنی اس میں پڑیں گے) تو وہ عذاب نہ ان سے ہلکا کیا جائے گا اور نہ وہ (اس میں) کچھ مہلت دئیے جائیں گے (کہ چند روز کے بعد وہ عذاب جاری کیا جائے)…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 84 تا 90:۔ رسول اتمام حجت کا آخری ذریعہ ہے : اوپر رسولوں کی ذمہ داری کی آخری حد واضح کردی گئی ہے۔ آگے اسی تعلق سے یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ رسول کے ذریعے سے اتمام حجت کے بعد کسی قوم کے لیے گمراہی پر قائم رہنے کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے گا جس کو وہ خدا کے سامنے پیش کرسکے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر امت میں حق کی تبلیغ اور اتمام حجت کے لیے اپنے رسول بھیجے۔ وہ ان سے قیامت کے دن گواہی دلوادے گا کہ انہوں نے اللہ کا پیغام لوگوں کو پہنچا دیا۔ یہی حیثیت نبی ﷺ کی اس امت کے لوگوں کے لیے ہے۔ اسی مقصد کے لیے اللہ نے آپ پر یہ کتاب اتاری ہے۔ اس کتاب کا جو بنیادی پیغام ہے آخر میں اس کا…
Read the full tafseer →84۔ 1 یعنی ہر امت پر اس امت کا پیغمبر گواہی دے گا کہ انھیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے اس کی پرواہ نہیں کی ان کافروں کو عذر پیش کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی، اس لئے کہ ان کے پاس حقیقت میں کوئی عذر یا حجت ہوگی ہی نہیں۔ نہ ان سے رجوع یا عتاب دور کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ کیونکہ اس کی ضرورت بھی اس وقت پیش آتی ہے جب کسی کو گنجائش دینا مقصود ہو، ایک دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ انھیں اپنے رب کو راضی کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ کیونکہ وہ موقع تو دنیا میں دیا جا چکا ہے جو دارالعمل ہے۔ آخرت تو دارعمل نہیں، وہ تو دارالجزا ہے، وہاں تو اس چیز کا بدلہ ملے گا جو انسان دنیا سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
35: اس سے مراد ہر امت کے پیغمبر ہیں جو یہ گواہی دیں گے کہ انہوں نے اس امت کے لوگوں کو حق کا پیغام پہنچایا تھا، اور ان کافروں نے اسے قبول نہیں کیا۔
36: اس لیے کہ توبہ کا دروازہ موت سے پہلے پہلے تک تو کھلا رہتا ہے۔ اس کے بعد توبہ قبول نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →تشریح : یہ قیامت کا منظر ہے۔ انبیاء کھڑے ہیں اور وہ تمام واقعات کے چشم دید گواہ ہیں۔ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان جو کشمکش ہوئی وہ اسکرین پر چل رہی ہوگی۔ کفار دنگ کھڑے ہوں گے۔ اب ان کو حجت بازی کی اجازت نہ ہوگی۔ سفارشیں لانے کے اجازت نہ ہوگی۔ ان سے یہ مطالبہ بھی نہ کیا جائے گا کہ یہ یہ کام کرکے رب کو راضی کرو کیونکہ اب تو توبہ کا دروازہ بند اور عمل کا میدان ختم ہے۔ اب تو مکافات عمل کا میدان ہے۔
Read the full tafseer →1 یہاں سے کفر و ناشکری کا انجام بتلاتے ہیں۔ یہ یاد رکھو ! وہ دن بھی آنے والا ہے جب تمام اگلی پچھلی امتیں احکم الحاکمین کی آخری عدالت میں کھڑی ہوں گی اور ہر امت کا نبی بطور گواہ کھڑا کیا جائے گا تاکہ اپنی امت کے نیک و بد اور مطیع و عاصی کی نسبت شہادت دے کہ کس نے کیسا معاملہ حق کے پیغام اور پیغامبر کے ساتھ کیا ہے۔ اس وقت منکروں کو اجازت نہ ہوگی کہ کچھ لب کشائی کرسکیں یا اب بعد از وقت توبہ کر کے سزا سے چھوٹ جائیں اور لب کشائی کا ہے میں کریں گے، درآنحالیکہ انھیں اپنے مجرم ہونے اور کسی کی معذرت نہ چل سکنے کا پورا انکشاف ہوجائے گا۔ وہ یہ بھی سمجھ لیں گے کہ یہ " دارجزاء " ہے " دارعمل " نہیں جو اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
آیت 84 وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا
شہادتِ حق کا یہ مضمون اس سورت میں دو مرتبہ مزید ملاحظہ ہو آیت 89 آیا ہے۔ جبکہ قبل ازیں سورة البقرۃ کی آیت 143 اور سورة النساء کی آیت 41 میں بھی اس کا ذکر ہے۔ آیت زیر نظر میں ہر امت میں سے جس گواہ کا ذکر ہے وہ اس امت کا نبی یا رسول ہوگا۔ جیسا کہ سورة الاعراف میں فرمایا گیا : فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَ ”ہم ضرور پوچھیں گے ان سے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور ہم رسولوں سے بھی پوچھیں گے“۔ روز محشر ہر امت کی پیشی کے وقت اس امت کا رسول عدالت کے سرکاری گواہ prosecution witness کی حیثیت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
86 قیامت کا ایک منظر مشرکوں کی ایک دوسرے کے خلاف گفتگو :۔ اس سے آگے اب میدان محشر کا ایک منظر پیش کیا جارہا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہوگی تو ہر امت اور ہر فرقہ سے ایک گواہ سامنے لایا جائے گا۔ ہر امت میں سے گواہ اس امت کا نبی ہوگا یا پھر وہ نیک بندہ جس نے اللہ کا پیغام پوری وضاحت کے ساتھ لوگوں کو پہنچا دیا ہو۔ گواہوں کی یہ گواہی کافروں پر اتمام حجت کے لیے ہوگی اور مفصل ہوگی۔ یعنی وہ گواہ یہ گواہی دے گا کہ فلاں فلاں لوگوں نے میری بات تسلیم کرلی تھی اور فلاں فلاں لوگ اکڑ گئے تھے۔ اور انہوں نے راہ حق کی مخالفت میں یہ اور یہ کام کیے تھے اور ہمیں ایسا اور ایسا جواب دیا کرتے تھے۔ اس گواہی کے…
Read the full tafseer →133۔ (کہ اب کچھ عذر ومعذرت پیش کرسکیں) (آیت) ” من کل امۃ شھیدا “۔ یہ گواہ اسی امت کا رسول ہوگا۔ یہ گواہ شہادت دے گا کہ میں نے تمام احکام کی تبلیغ پوری پوری کردی تھی، اس پر بھی امت منکر وباغی رہی۔ (آیت) ” امۃ “۔ امۃ سے مراد ظاہر ہے کہ امت دعوت ہے، یہ یعنی وہ قوم جو نبی کے پیام کی مخاطب رہی، یہ مراد نہیں کہ جنہوں نے اس پیام کو قبول بھی کیا۔
134۔ اور وجہ بالکل ظاہر ہے۔ آخرت صرف دارالجزاء ہے، دارالعمل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
آیت نمبر 84 تا 89
ترجمہ : اور یاد کرو اس دن کو کہ جس دن میں ہم ہر امت میں سے گواہ کھڑا کریں گے اور وہ اس امت کا نبی ہوگا، وہ ان کے ایمان و
کفر کی شہادت دے گا، اور وہ قیامت کا دن ہوگا، پھر کافروں کو نہ عذر خواہی کی اجازت دی جائے گی اور نہ ان سے خوشنودی طلب کرنے کے لئے کہا جائیگا یعنی نہ ان سے اس چیز کی طرف رجوع کرنے کے لئے کہا جائیگا جس سے اللہ راضی ہوجائے، اور جب کافر عذاب دیکھ لیں گے تو نہ ان سے (عذاب میں) تخفیف کی جائے گی اور نہ ہی ان کو اس عذاب سے مہلت (ڈھیل) دی جائیگی جب وہ اس کو دیکھ لیں گے، اور جب مشرکین شیاطین وغیرہ سے اپنے شرکاء کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے ہمارے پروردگار یہی ہیں ہمارے…
Read the full tafseer →ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا ثم لا یؤدون للذین کفروا ولا ھم یستعتبون اور جس دن ہر ہر امت میں سے ہم ایک ایک گواہ قائم کریں گے ‘ پھر ان کافروں کو اجازت نہ دی جائے گی اور نہ ان سے اللہ کو راضی کرنے کی فرمائش کی جائے گی۔
شَھِیْد سے مراد پیغمبر ہے جو اپنی امت کے کفر و ایمان کی شہادت دے گا۔ اجازت نہ دی جانے سے مراد ہے : عذر پیش کرنے کی اجازت نہ ملنا کیونکہ ان کے پاس کوئی عذر موجود ہی نہ ہوگا۔ یا یہ مطلب ہے کہ بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بعض نے کہا کہ دنیا میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وَلاَ ھُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ یعنی ان سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ اپنے رب کو راضی کرلو۔ روزآخرت تو عمل کا دن…
Read the full tafseer →(84) اور جس دن ہم ہر ایک قوم میں سے ان کے پیغمبر کو ان پر تبلیغ احکام کے لیے گواہ قائم کریں گے پھر ان کفار کو کلام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ یہ توبہ کے لیے دنیا میں واپس بھیجے جائیں گے۔
Read the full tafseer →وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا : یعنی قیامت کے دن ہر امت کا پیغمبر اللہ کے سامنے کھڑا ہوگا اور ان تک حق پہنچا دینے کی شہادت دے گا، ساتھ ہی اگر انھوں نے تصدیق کی ہوگی تو اس کی اور اگر جھٹلایا ہوگا تو اس کی بھی شہادت دے گا۔ پیغمبروں کی وفات کے بعد جن لوگوں نے حق پہنچایا وہ یہ شہادت دیں گے۔ اس میں نعمت کے منکروں کے لیے وعید ہے۔ شہادت کے مفہوم کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (143) ، نساء (41) ، حج (78) اور سورة زمر (69)۔
ثُمَّ لَا يُؤْذَنُ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : پھر کافروں کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ کس چیز کی ؟ دوسری جگہ اس کی وضاحت آئی ہے، اس میں سے ایک تو یہ ہے کہ اس دن نہ وہ بول سکیں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 84
قولہ تعالیٰ : ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا اس کی نظیر یہ آیت ہے : فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید (النساء : 41) اور اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ ثم لا یؤذن للذین کفروا یعنی انہیں عذر پیش کرنے اور کوئی کلام کرنے کے بارے میں اجازت نہیں دی جائے گی، جیسا کہ یہ ارشاد گرامی ہے : ولا یؤذن لھم فیعتذرون۔ (المرسلات)
اور یہ اس وقت ہوگا جب ان پر جہنم بند کردی جائے گی، جیسا کہ سورة الحجر کے شروع میں گزر چکا ہے اور آگے بھی آرہا ہے۔ ولاھم یستعتمون یعنی نہ ان کی رضا مندی کا مطالبہ کیا جائیگا، مراد یہ ہے کہ انہیں اس کا مکلف اور پابند نہیں کیا جائے گا کہ وہ اپنے رب کو راضی کریں ؛ کیونکہ آخرت دار تکلیف نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
1:۔ عبد ابن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کہ (آیت) ” ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا “ سے مراد ہے کہ ہر امت کا نبی گواہی دے گا اس بات پر کہ اس نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وجئنا بک شھیدا علی ھولآء “ فرمایا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ اللہ کے نبی ﷺ جب اس آیت کو پڑھتے تھے تو آپ کی آنکھیں بہہ پڑتی تھیں۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وذا را الذین ظلموا العذاب فلا یخفف عنہم ولا ھم ینظرون “ یہ اس طرح ہے ج جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے (آیت) ” ھذا یوم لا ینطقون (35) ولا یوذن لہم فیعتذرون “ المرسلات آیت…
Read the full tafseer →[وَيَوْمَ : اور جس دن ] [ نَبْعَثُ : ہم اٹھائیں گے ] [ مِنْ كُلِ اُمَّةٍ : ہر امت سے ] [ شَهِيْدًا : ایک گواہ ] [ ثُمَّ : پھر ] [ لَا يُؤْذَنُ : اجازت نہیں دی جائے گی (بولنے کی)] [ لِلَّذِيْنَ : ان کو جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ وَلَا هُمْ : اور نہ ہی وہ لوگ ] [ يُسْتَعْتَبُوْنَ : منائے جائیں گے ]
ع ت ب
[عَتْبًا : (ن۔ ض) خفگی کرنا۔ ملامت کرنا۔]
[ اِعْتَابًا : (افعال) ناراضگی کے سبب کو دور کرنا۔ کسی کو راضی کرنا۔]
مُعْتَبٌ اسم المفعول ہے۔ راضی کیا ہوا۔ وَاِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا ھُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ (اور اگر وہ لوگ رضا مندی چاہیں گے تو وہ نہیں ہوں گے راضی کئے ہوئوں میں سے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
قیامت کے دن کے چند مناظر، کافروں اور مشرکوں کے لیے عذاب کی وعید
ان آیات میں روز قیامت کے بعض مناظر ذکر فرمائے ہیں اول تو یہ فرمایا کہ قیامت کے دن ہر امت میں سے ہم ایک گواہ قائم کریں گے یہ گواہ ان کا پیغمبر ہوگا جو ان کے کفر کے بارے میں گواہی دے گا، جب کفار قیامت کے دن جمع ہوں گے تو انہیں کسی قسم کے عذر اور معذرت کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ان سے یوں کہا جائے گا کہ اللہ کو راضی کرلو اور راضی کرکے عذاب سے چھوٹ جاؤ کیونکہ راضی کرنے کا موقع صرف دنیا ہی میں تھا وہاں کفر سے توبہ کرلیتے تو اللہ تعالیٰ شانہٗ راضی ہوجاتا لیکن جب کفر پر موت آگئی تو اب اپنے رب کو راضی کرنے کا کوئی راستہ نہ رہا اب تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
ذکر قیامت
قال اللہ تعالیٰ : ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا .... الیٰ .... وبشری للمسلمین۔
(ربط) یہاں تک حق تعالیٰ نے اپنے انعامات اور احسانات کا ذکر فرمایا اور یہ فرمایا کہ بہت سے لوگ اللہ کی نعمت کو خوب پہچانتے ہیں۔ پھر اللہ کی نعمت کے منکر بنے ہوئے ہیں اب قیامت کا ذکر فرماتے ہیں کہ اس دن ان کافروں کو جنہوں نے دیدہ دانستہ حق تعالیٰ کے انعمات و احسانات کا کفر کیا اور انکار کیا۔ کیا حال اور مآل ہوگا اس دن سب کا حساب و کتاب ہوگا اور سب سے باز پرس ہوگی۔ اور سب ذلیل و خوار ہوں گے اور انبیاء کی گواہی سے ان کا جرم ثابت ہوگا۔ گواہی کے بعد کفار اجازت چاہیں گے کہ ہم کو دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
68:۔ تخویف اخروی ہے۔ یہ ماقبل سے متعلق ہے یعنی دنیا میں ماننے پر نہیں آتے قیامت کے دن جب تمام امتیں احکم الحاکمین کی عدالت میں حاضر ہوں گی تو ہر امت کا رسول بطور گواہ پیش ہو کر اپنی امت کے نیک و بد کے بارے میں بیان دے گا کہ اس نے دعوت حق کے ساتھ کیسا سلوک کیا، اس دن ان منکرین کو اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے لب کشائی کی اجازت نہ ہوگی اور نہ ان سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا۔ ” و اذا را الذین الخ “ انبیاء (علیہم السلام) کی گواہی کے بعد مشرکین کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر نہ ان کے عذاب میں کچھ تخفیف ہوگی اور نہ انہیں عذاب میں داخل کرنے سے پہلے کچھ مہلت دیجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک اور مشرکین کے رد میں بہت سے دلائل اور نشانات قدرت بیان فرمائے اور مشرکوں کی ناشکری کا ذکر کیا ، اب آج کے درس میں کفار ومشرکین کو عذاب کی وعید سنائی گئی ہے کہ جب محاسبے کی منزل آئیگی تو انہیں سخت عذاب سے دو چار ہونا پڑے گا ، جس میں تخفیف بھی نہیں ہوگی ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا “۔ اور جس دن ہم ہر امت سے گواہ کھڑا کریں گے ، اس مقام پر گواہ سے مراد اللہ کے نبی ہیں اور گواہی سے مراد تبلیغ رسالت کو گواہی ہے ، ہر نبی اپنی امت کے متعلق اللہ کے حضور ﷺ گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا پیغام اپنی امت کے لوگوں تک پہنچا دیا ، مگر انہوں نے اسے…
Read the full tafseer →وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا ثُمَّ لَا يُؤْذَنُ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُوْنَ 84
بعث
أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال :
بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته، وقوله عزّ وجل : وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] ، أي : يخرجهم ويسيرهم إلى القیامة،
( ب ع ث ) البعث
اصل میں بعث کے معنی کسی چیز کو ابھارنے اور کسی طرف بیجھنا کے ہیں اور انبعث در اصل مطاوع ہے بعث کا مگر متعلقات کے لحاظ سے اس کے معنی مختلف ہوتے رہتے ہیں مثلا بعثت البعیر کے معنی اونٹ کو اٹھانے اور آزاد چھوڑ دینا کے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
ترکیب : یوم اذکر محذوف سے منصوب۔ یستعتبون لایطلب منھم العتبی ای الرجوع الی مایرضی اللہ۔ قالوا ربنا جواب ہے اذا را الذین کا۔
تفسیر : منکرین انعامِ الٰہی اور ان کے ان بیہودہ حرکات کا ذکر کر کے جو آخرت میں بازپرس کے قابل ہیں یوم نبعث سے لے کر آخر تک روز حشر کی کیفیت ‘ بازپرس اور حساب و کتاب بیان فرماتا ہے کہ ہر قوم میں سے ایک ایک گواہ بلائیں گے جو اس قوم مشرک و کافر کے مقابلہ میں گواہی دے گا کہ ہم نے ان کے پاس توحید و احکامِ الٰہی پہنچائے پر انہوں نے نہ مانا (گواہی دینے والے انبیاء یا ان کے جانشین ہیں جن سے کوئی گروہ خالی نہیں) گواہی کے بعد وہ اجازت مانگیں گے کہ ہم پھر دنیا میں جائیں۔ یہ قبول…
Read the full tafseer →وَیَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیْدًا ثُمَّ لاَ یُـؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَلاَھُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ ۔
(سورۃ النحل : 84)
(اور یاد کرو جس دن ہم ہر امت میں سے گواہ اٹھائیں گے، پھر جن لوگوں نے کفر کیا ہوگا انھیں عذر پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ان سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا۔ )
اس آیت کریمہ میں تذکرہ اگرچہ دوسری امتوں کا ہورہا ہے لیکن درحقیقت روئے سخن کفار مکہ ہی کی طرف ہے اور یہاں جس امت کا ذکر کیا جارہا ہے جس پر ہر رسول کو بطور گواہ اٹھایا جائے گا اس سے مراد امت دعوت ہے، امت استجابت نہیں۔ یعنی اس سے وہ امت مراد ہے جس کی طرف رسول مبعوث ہوتا ہے اور اس کی ہدایت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری اور اس کی ذات کے ساتھ کفر کرنے کا انجام۔
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری اور اس کی ذات کا انکار کرنے والے لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جائیں گے۔ وہ جہنم کا عذاب اور رب کا جلال دیکھ کر اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے سے انکار کردیں گے۔ اور بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہمارے پاس کوئی سمجھانے والا نہیں آیا تھا اگر کوئی ہمیں سمجھاتا تو ہم ضرور تیری ذات اور فرمان پر ایمان لاتے۔ اس انکار پر ہر امت کے نبی کو ان کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ جب اس امت کا نبی اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کے خلاف گواہی دے گا کہ اے…
Read the full tafseer →قیامت کے مناظر :
84: وَیَوْمَ (اور جس دن) یہ اذکر محذوف کی وجہ سے منصوب ہے۔ نَبْعَثُ (ہم اٹھائیں گے) ہم جمع کریں گے مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَھِیْدًا (ہر امت میں سے ایک گواہ) وہ پیغمبر ہونگے جو ان کے حق اور مخالفت میں تصدیق کی گواہی دیں گے۔ اور تکذیب کی اور ایمان و کفر کی۔ ثُمَّ لَایُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا (پھر کافروں کیلئے اجازت نہ دی جائے گی) کہ وہ معذرت کرلیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی اذن کے ترک سے یہ ثابت ہوگیا کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ اور نہ ہی عذر وَلَاھُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ (اور نہ ان سے راضی کرنے کی فرمائش کی جائے گی) نہ ان سے رضا طلب کی جائے گی ان سے یہ نہ…
Read the full tafseer →(84)” ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا “ شہید سے مراد پیغمبر ہے جو اپنی امت کے کفر و ایمان کی شہادت دے گا۔ ” ثم لا یوذن للذین کفروا “ پھر ان کو عذر پیش کرنے کی اجازت نہیں ملے گی اور بعض نے کہا کہ ان کو بات کرنے کی بالکل اجازت نہیں ملے گی۔” ولا ھم یستعتبون “ ان سے یہ بھی نہیں کہاجائے گا کہ اپنے رب کو راضی کرلو، روز آخر ت تو عمل کا دن ہی نہ ہوگا اور نہ ہی دنیا میں واپس جا کر تو بہ و عمل کی اجازت ہوگی۔ الحاصل یہ کہ اس دن ان کو اللہ کی رضا حاصل نہیں ہوگی اور یہ بات ثابت ہے کہ آخرت میں کافروں کے لیے رضا مندی کا دروازہ بند کردیاجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
84۔ 87۔ اللہ پاک نے مشرکوں کے نتیجے جو قیامت کے دن ہوں گے ان کو ان آیتوں میں بیان فرمایا کہ ہر ایک امت کا گواہ اس روز اس امت کا پیغمبر کھڑا ہو کر اس بات کی گواہی دے گا کہ جو پیغام خدا کی طرف سے ان کے پاس پہنچایا گیا اس کا کیا جواب ان لوگوں نے دیا کس کس نے ان کی رسالت کی تصدیق کی اور کس کس نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اگرچہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے۔ لیکن اس نے مخلوق کے حساب و کتاب کا دارو مدار اپنے علم پر نہیں رکھا ہے جس طرح دنیا میں انسان کی عادت جاری ہے کہ ہر ایک مقدمہ میں گواہ پیش ہو کر فیصلے ہوا کرتا ہے اسی طرح آخرت میں بھی گواہوں کی شہادت سن کر فیصلہ کیا جائے گا غرض کہ جس وقت انبیاء و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
آیت : (84-87)
اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کفار کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس روز ان سے کوئی عذر قبول کیا جائے نہ ان سے عذاب کو رفع کیا جائے گا اور ان کے ٹھہرائے ہوئے شریک ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے اور وہ اقرار کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور اس پر افتراز پردازی کیا کرتے تھے ‘ چناچہ فرمایا : (ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا) ” اور جس دن کھڑا کریں گے ہم ہر امت میں سے ایک گواہی دینے والا “ جو ان کے اعمال پر گواہی دے گا کہ انہوں نے داعی ہدایت کو کیا جواب دیا تھا اور یہ گواہ جس کو اللہ گواہی کے لئے کھڑا کرے گا ‘ وہ سب سے پاک اور سب سے عادل گواہ ہوگا اور یہ گواہ رسول ہی ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–88
جانوروں کی اون اور بال حلال ہیں
قول باری ہے (ومن اصوافھا واوبارھا و اشعارھا اثا شاومت عا الی حین۔ اس نے جانوروں کے صوف اور اون اور بالوں سے تمہارے لئے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کردیں جو زندگی کی مدت مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں) جانور کی موت کے بعد اس کے جسم سے حاصل کردہ مذکورہ چیزوں سے فائدہ اٹھانے کے جواز پر آیت میں دلالت موجود ہے اس لئے کہ جانور کی موت سے پہلے اور موت کے بعد اس سے ان چیزوں کو حاصل کرنے کے مابین کوئی فرق نہیں رکھا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
175۔ روز قیامت کی تذکیرویاد دہانی :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” یاد کرو اس عظیم الشان اور ہولناک دن کو کہ جس دن ہم ہر امت سے ایک گواہ کھڑاکریں گے “ جو ان کے اعمال و کردار کے بارے میں گواہی دیگا تاکہ ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا بدلہ مل سکے۔ اور اس طرح عدل وانصاف کے تقاضے اپنی آخری شکل میں اور کامل طور پر پورے ہوسکیں، اور گواہ سے مراد ہر امت کا پیغمبر ہے جو اپنی امت کے بارے میں یہ گواہی دے گا کہ دعوت حق کے جواب میں ان لوگوں نے کیا کیا اور کیا کہا تھا۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل جامع البیان اور مراغی و معارف وغیرہ) سو اس ہولناک دن کو ہمیشہ یاد رکھو اے لوگو اور اس کیلئے تیاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
قیامت کے دن مشرک اور شریکوں کا حال
تشریح : یہاں قیامت اور مشرکین کا انجام بڑی وضاحت سے کردیا گیا ہے۔ کافر، مشرک اور فسادی اللہ کے عذاب سے ہرگز بچ نہ سکیں گے، لہٰذا ہر وقت قیامت اور روز حساب کو ذہن میں رکھنا چاہیے معلوم یہی ہوتا ہے کہ ہم سب جو کچھ بھی کرتے ہیں زیادہ تر اپنے لیے ہی کرتے ہیں۔ اللہ تو ہمارے شکر اور خدمت گزاری سے بالکل بےنیاز ہے وہ تو ہر ہر صورت سے بندے کی بھلائی ہی چاہتا ہے کیونکہ اس نے بندے کو پیدا کر کے بےیارو مددگار نہیں چھوڑ دیا بلکہ کھانے، پینے، رہنے سہنے، غرض بہترین زندگی گزارنے کے لیے اس قدر نعمتیں اور برکتیں عطا فرمائیں کہ جو شمار سے باہر ہیں پھر ان کو استعمال کے طریقے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
(رکوع نمبر 12)
اسرارومعارف
ایک روز ایسا آئے جب ہر قوم میں سے ایک ہستی یعنی اس کی طرف بھیجا گیا نبی یا رسول شہادت کے لیے بارگاہ الہی میں طلب کیا جائے گا جو ان لوگوں کے روبرو ان کے اس کردار کی شہادت دے جو انہوں نے اللہ جل جلالہ کے احکام کے ساتھ اپنایا تھا تو وہ وقت اعمال کا نہ ہوگا کہ تب کافروں کو اصلاح احوال کی اجازت ملے یا یہ موقع دیا جائے ، اب کوئی ایسا عمل کرلو جس پر اللہ جل جلالہ راضی ہوجائیں کہ وہ روز تو اجر اور جزا کا ہوگا عمل کا ثواب ہی وقت ہے جب کفار پر عذاب وارد ہوگیا یا یہ اس میں داخل ہوگئے تو پھر نہ ہی عذاب میں کمی واقع ہوگی اور نہ انہیں کسی طرح کی مہلت ہی مل سکے گی بلکہ بات ہی الٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
ف 5 یعنی خوب دبانتے ہیں کہ یہ ت مام نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی کی ذات عنایت فرما رہی ہے مگر جب عملاً شکر گزاری کا وقت آتا ہے تو سب بھول جاتے ہیں اور بخرک کرنے لگتے ہیں۔ گویا دل میں نعمتوں کا متوار اور اپنے عمل سے انکار کرتے ہیں۔
6 ان کا پیغمبر اللہ کے سامنے کو ہوگا اور ان کے حق میں ایمان و تصدیق کی گواہی دے گا۔ (بشرطیکہ یہاں لا کر پیروی کی ہوگی اور اگر انحراف کیا ہوگا تو ان کے خلاف کفر و تکذیب کی گواہی دے گا۔ اس میں منکرین نعمت کے لئے وعید ہے۔ شوکانی
7 یعنی ان کا مجرم ہونا اتنا واضح ہوگا کہ ان کے پاس کوئی عذر یا بحث نہیں ہوگی جس کے بیان کرنے کی اجازت دی جائے۔
8 یا نہ انہیں (اپنے رب کو) راضی کرنے…
Read the full tafseer →(16:84) یوم۔ کا نصب محذوف عبارت کی وجہ سے ہے۔ ای اذکر یوم۔۔
تبعث۔ مضارع جمع متکلم بعث مصدر۔ (باب فتح) ہم کھڑا کریں گے۔ ہم قائم کریں گے۔
لا یؤذن۔ مضارع منفی مجہول واحد مذکر غائب اجازت نہیں دی جائے گی۔ (عذرومعذرت پیش کرنے کی) ۔
ولا ہم یستعتبون۔ مضارع منفی مجہول کا صیغہ جمع مذکر غائب العتب اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں جو وہاں اترنے والے کے لئے ناسازگار ہو۔ پھر استعارہ کے طور پر عتب کے معنی ناراضگی سختی۔ خفگی کے آجاتے ہیں۔ عتب یعتب (نصر) عتب یعتب (ضرب) عتب خفگی کرنا۔ ناراض ہونا۔ غصہ ہونا۔ اعتاب (باب افعال) میں سلب ماخذ کی خصوصیت کی وجہ سے معنی ہونگے عتاب کو دور کرنا۔ ناراضگی۔ غصہ۔ خفگی کو دور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
لغات القرآن آیت نمبر 84 تا 89
نبعث ہم اٹھائیں گے۔ شہید گواہ۔ لایوذن اجازت نہیں دی جائے گی۔ لایستعتبون نہ وہ راضی کرسکیں گے۔ لاینظرون نہ دیکھے جائیں گے، مہلت نہ دی جائے گی۔ کنا ہم تھے۔ ندعوا ہم بلاتے ہیں۔ القوا انہوں نے ڈالا (وہ ڈالیں گے) یومئذ اس دن۔ السلم اطاعت و فرماں برداری۔ زدنا ہم نے بڑھا دیا (ہم بڑھا دیں گے) تبیان کھلی بات، واضح بات۔ بشریٰ خوشخبری۔
تشریح :- آیت نمبر 84 تا 89
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے “ یعنی اس دنیا میں جس انسان نے اپنے عمل کا جیسا بیج بویا ہوگا۔ وہ اس کو آخرت میں جا کر کاٹے گا۔ یہ دنیا دار العمل ہے اور آخرت اس کے عمل کی جزا ہوگی جیسا…
Read the full tafseer →قیامت کا ذکر
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن سے سب کو ڈرنا چاہیے۔ وہ دن ایسا ہوگا کہ ہر پیغمبر اپنی امت کی بابت گواہی دے گا اور ہر ایک کے کفر اور ایمان کو علانیہ طور پر مجمع میں ظاہر کرے گا۔ اس دن کافروں کی یہ کیفیت ہوگی کہ کوئی عذر ان کا قبول نہ ہوگا اور نہ اس سے آئندہ کے لئے اچھے عمل کو کہا جاوے گا۔
Read the full tafseer →[52] یہ گواہ اسی امت کا رسول ہوگا جو گواہی دے گا کہ اس نے تمام احکام کی تبلیغ پوری پوری کردی تھی اس پر بھی امت منکر و باغی ہی رہی۔
[53] مطلب یہ ہے کہ ان کے جرائم ایسی صریح اور ناقابل تردید شہادتوں سے ثابت کردیئے جائیں گے کہ ان کے لئے اپنی صفائی پیش کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے گی۔
[54] کیونکہ وہ دن فیصلے کا ہوگا معافی طلب کرنے کا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
(ف 2) یعنی وہ لوگ جو اللہ کی نعمتوں کو پہچانتے تو ہیں مگر اقرار نہیں کرتے ، اور عملا اس بات کا ثبوت نہیں دیتے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی نعمتوں سے مشرف کر رکھا ہے ۔ قیامت کے دن یہ لوگ دربار خداوندی میں لاحاضر کئے جائیں گے ، پیغمبر اور اللہ کے فرستادے ان کے خلاف شہادتیں دیں گے ، اور کہیں گے کہ تم وہ ہو ، جنہوں نے اللہ کی بہت بڑی نعمت کو ٹھکرا دیا یعنی تمہارے پاس اللہ کا رسول آیا تم نے انکار کیا ، تمہارے ہاں اللہ کا ہادی اور مصلح آیا تونے منہ پھیرلیا حالانکہ وہ تمہارے بھلے اور فائدے کے لئے آیا تمہیں جہل و تاریکی کی سمندروں سے نکالنے کے لئے آیا تم کو علم ومعرفت کا سبق دینے کیلئے آیا ، اور…
Read the full tafseer →84 ۔ اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن ہم ہر ایک امت میں سے ایک گواہ اٹھا کھڑا کردیں گے پھر ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کر رکھا ہے نہ تو بولنے کی اور معذرت کرنے کی اجازت دی جائیگی اور نہ اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے اور راضی کرنے کی ان سے خواہش کی جائیگی ۔ یعنی ہر امت کے پیغمبرکو شہادت کیلئے طلب کیا جائیگا تا کہ وہ اپنی اپنی امت کے اعمال سیہ پر گواہی دے پھر نہ منکروں کو بولنے کا حق ہوگا نہ ان سے یہ کہا جائے گا کہ توبہ کرلو یا کوئی اچھا عمل کر کے اللہ تعالیٰ کو راضی کرلو کیونکہ وہ دارالجزا ہے دارالعمل نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حکم نہ ملے یعنی بولنے کا۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
ف 5۔ یعنی ان سے یوں نہ کہا جائے گا کہ تم توبہ یا کوئی عمل کرکے اللہ کو خوش کرلو وجہ اس کی ظاہر ہے کہ آخرت دارالجزاء ہے دارلعمل نہیں۔
Read the full tafseer →ہم ہر ایک امت سے ایک گواہ ان پر پیش کردیں گے جو ان پر شہادت دے گا :
96۔ ہر ایک امت سے ایک گواہ اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر ان کے نبی ورسول کو بطور گواہ پیش کیا جائے گا کہ یہ لوگ جن انعامات الہی کا انکار کرتے تھے کیا تم نے ان کی توجہ اس شرک سے ہٹانے کی سعی و کوشش نہیں کی تھی ؟ انبیاء کرام (علیہم السلام) ان پر گواہی دیں گے کہ اے بار الہ ! ہم نے تو ان کو تیرا پیغام پہنچایا تھا اور تیری توحید قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور تیرے احسانات کی یاد دہانی کرائی تھی لیکن انہوں نے اس وقت ہماری ایک نہ سنی ۔ اس دن وہ معذرت خواہی کی اجازت چاہیں گے یا دنیا میں واپس لوٹائے جانے کی خواہش کا اظہار کریں گے تو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–88
Finally, a note about the statement: سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ (shirts which protect you from heat - 81). Here, protection from heat has been identified as the purpose of a shirt - though, a shirt protects one from heat and cold both. This has been answered by Imam Al-Qurtubi and other commentators by saying that the Holy Qur’ an has been revealed in the Arabic language, its first addressees are Arabs, therefore, it speaks by taking Arab habits and needs into account. Arabia is a hot country where the very thought of snow and winter chill is far-fetched, therefore, the statement was…
Read the full tafseer →80. The witness will be the Prophet of that community or his follower who invited that community to Tauhid and God worship and warned it of the consequences of shirk and superstitious rites and customs and cautioned it against the accountability on the Day of Resurrection. He will bear witness of the fact that he had conveyed the true message to those people, and that they committed evils deliberately and not in ignorance.
81. This does not mean that the criminals will not be given any opportunity to clear themselves but it means that their crimes will be proved to the hilt by means of…
Read the full tafseer →