Explained with ayahs 80–83
احسانات الٰہی کی ایک جھلک
قدیم اور بہت بڑے ان گنت احسانات وانعامات والا اللہ اپنی اور نعمتیں ظاہر فرما رہا ہے۔ اسی نے بنی آدم کے رہنے سہنے آرام اور راحت حاصل کرنے کے لئے انہیں مکانات دے رکھے ہیں۔ اسی طرح چوپائے، جانوروں کی کھالوں کے خیمے، ڈیرے، تمبو اس نے عطا فرما رکھے ہیں کہ سفر میں کام آئیں، نہ لے جانا دو بھر نہ لگانا مشکل، نہ اکھیڑنے میں کوئی تکلیف۔ پھر بکریوں کے بال، اونٹوں کے بال، بھیڑوں اور دنبوں کی اون، تجارت کے لئے مال کے طور پر اسے تمہارے لیے بنایا ہے۔ وہ گھر کے برتنے کی چیز بھی ہے اس سے کپڑے بھی بنتے ہیں، فرش بھی تیار ہوتے ہیں، تجارت کے طور پر مال تجارت ہے۔ فائدے کی چیز ہے جس سے لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
سورة النَّحْل 76
سردی سے بچانے کا ذکر یا تو اس لیے نہیں فرمایا گیا کہ گرمی میں کپڑوں کا استعمال انسانی تمدن کا تکمیلی درجہ ہے اور درجہ ٔ کمال کا ذکر کردینے کے بعد ابتدائی درجات کے ذکر کی حاجت نہیں رہتی، یا پھر اسے خاص طور پر اس لیے بیان کیا گیا ہے کہ جن ملکوں میں نہایت مہلک قسم کی باد سموم چلتی ہے وہاں سردی کے لباس سے بھی بڑھ کر گرمی کا لباس اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے ممالک میں اگر آدمی سر، گردن، کان اور سارا جسم اچھی طرح ڈھانک کر نہ نکلے تو گرم ہوا اسے جھُلس کر رکھ دے، بلکہ بعض اوقات تو آنکھوں کو چھوڑ کر پورا منہ تک لپیٹ لینا پڑتا ہے۔
سورة النَّحْل 77
یعنی زرہ بکتر۔
سورة النَّحْل 78
اتمام حجت یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
(آیت) سَرَابِيْلَ تَـقِيْكُمُ الْحَـرّ۔ یہاں انسان کو کرتے کی غرض گرمی سے بچانے کو فرمایا ہے حالانکہ کرتہ انسان کو گرمی اور سردی دونوں سے بچاتا ہے اس کا ایک جواب تو امام قرطبی اور دوسرے مفسرین نے یہ دیا ہے کہ قرآن حکیم عربی زبان میں آیا ہے اس کے اولین مخاطب عرب ہیں اس لئے اس میں عرب کی عادات و ضروریات کا لحاظ رکھ کر کلام کیا گیا ہے عرب ایک گرم ملک ہے وہاں برف باری اور سردی کا تصور ہی مشکل ہے اس لئے گرمی سے بچانے کے ذکر پر اکتفاء کیا گیا حضرت تھانوی نے بیان القرآن میں فرمایا کہ قرآن کریم نے اسی سورة کے شروع میں لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ فرما کر لباس کے ذریعہ سردی سے بچنے اور گرمی حاصل کرنے کا ذکر…
Read the full tafseer →فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِيْن۔ یہ پیغمبر ﷺ کو خطاب کرکے ارشاد ہے کہ اگر یہ اعراض و انکار پر جم گئے تو تم زیادہ ان کے درپے نہ ہو تمہارے اوپر ان کے ایمان کی ذمہ داری نہیں ہے، صرف واضح طور پر حق کو پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔ تم اپنا فرض ادا کرکے ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ یہ اپنی اس ضد کا انجام خود دیکھیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
81۔ 1 یعنی درخت جن سے سایہ حاصل کیا جاتا ہے۔
81۔ 2 یعنی اون اور روئی کے کرتے جو عام پہننے میں آتے ہیں اور لوہے کی زرہیں اور خود جو جنگوں میں پہنی جاتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
34: یعنی لوہے کی زرہیں جو جنگ میں تلوار وغیرہ کے وار کو روکنے کے لیے پہنی جاتی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
اب وہ بات سامنے لائی جاتی ہے جس کا آغاز کلام میں ذکر ہوا تھا ، وہ یہ کہ جب قیامت آجائے گی تو کافر کس حالت میں دو چار ہوں گے۔
Read the full tafseer →13 یعنی اگر اس قدر احسانات سن کر بھی خدا کے سامنے نہ جھکیں تو آپ کچھ غم نہ کھائیے۔ آپ اپنا فرض ادا کرچکے، کھول کھول کر تمام ضروری باتیں سنا دیں گئیں۔ آگے ان کا معاملہ خدا کے سپرد کیجئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
آیت 81 وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا
اللہ نے درختوں اور بہت سی دوسری چیزوں سے سائے کا نظام وضع فرمایا ہے جو انسانی زندگی کے لیے بہت مفید ہے۔
وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا
پہاڑوں کے اندر قدرتی غاریں پائی جاتی ہیں جن میں لوگ طوفانی ہواؤں وغیرہ کی شدت سے بچنے کے لیے پناہ لے سکتے ہیں۔ پرانے زمانے میں تو اس حوالے سے ان غاروں کی بہت اہمیت تھی۔
كَذٰلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ
جیسا کہ قبل ازیں بھی اشارہ کیا گیا ہے اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ذکر کی تکرار بہت زیادہ ہے۔ مزید ملاحظہ ہوں آیات 18 ‘ 35 ‘ 71 ‘ 72 ‘ 83 اور 114۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
83 گرمی سردی سے بچاؤ کے لئے کپڑے :۔ انسان کو سردی سے بچنے کے لیے بھی لباس کی ایسے ہی ضرورت ہوتی ہے جیسے گرمی سے بچنے کے لیے اور جو لباس گرمی سے بچاتا ہے وہ سردی سے بھی بچاتا ہے اور یہاں جو بالخصوص گرمی سے بچانے کا ذکر فرمایا تو اس لیے اہل عرب سردی کے موسم سے ناآشنا تھے وہاں عموماً موسم گرم ہی رہتا ہے۔ بالخصوص مکہ میں، جہاں یہ سورت نازل ہوئی، ٹھنڈا موسم ہوتا ہی نہیں۔ وہاں فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کبھی کم گرمی کا موسم ہوتا ہے اور کبھی شدید گرمی کا۔
84 ( لَعَلَّکُمْ تُسْلِمُوْنَ ) النحل :81) کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو وہی ہے جو ترجمہ سے ظاہر ہے اور دوسرا یہ ہے کہ لباس اس لیے بنائے کہ تم گرمی کی…
Read the full tafseer →131۔ (تو آپ ان کے لیے غم وتردد میں ہرگز نہ پڑیں) (آیت) ” فان تولوا “۔سے اشارہ ادھر ہوگیا، کہ وضوح دلائل کے بعد بھی اگر یہ توحید و ایمان سے برگشتہ رہیں، صیغہ مخاطب سے غائب کی طرف انتقال صنعت التفات میں سے ہے، جس کا ذکر کئی بار آچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
آیت نمبر 77 تا 83
ترجمہ : آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا علم اللہ ہی کو ہے یعنی ان دونوں میں مخفی چیزوں کا علم، قیامت کا معاملہ تو بس ایسا ہوگا جیسا کہ پلک کی ایک جھپک یا اس سے بھی جلدی، اسلئے کہ وہ لفظ کن سے ہوگا، تو وہ ہوجائے گی، یقیناً اللہ ہر شئ پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حال میں پیدا کیا کہ تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے (لاتعلمون شیئًا) کم ضمیر سے حال ہے، اور اس نے تمہیں کان دیئے سمع، اسماعٌ کے معنی میں ہے اور آنکھیں دیں اور دل دیئے تاکہ تم ان کا شکریہ ادا کرو، اور ایمان لے آؤ، کیا لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا ؟ کہ وہ پرواز کے لئے آسمان کی فضاء میں…
Read the full tafseer →فان تولوا فانما علیک البلغ المبین پھر بھی یہ لوگ اگر (ایمان سے) منہ پھیریں (تو آپ سے اس کا کوئی مؤاخذہ نہ ہوگا ‘ کوئی پرواہ نہ کیجئے) آپ کے ذمے تو صاف صاف (ا اللہ کا پیام) پہنچا دینا ہے۔
یعنی اتنے دلائل اور نشانات قدرت کے بعد بھی اگر یہ ایمان سے گریز کریں تو آپ ان کی پرواہ نہ کریں ‘ رنجیدہ اور تنگ دل نہ ہوں ‘ آپ کا کام صرف پیام پہنچا دینا ہے (ان کے ماننے نہ ماننے سے آپ کا کچھ تعلق نہیں ہے) ۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد کا قول بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضور ﷺ نے اس کے سامنے پڑھا : وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ منم بُیُوْتِکُمْ سَکَنًا۔ اس نے کہا : جی ہاں۔ پھر حضور ﷺ نے…
Read the full tafseer →(82) اور اگر یہ لوگ ایمان لانے اعراض کریں تو آپ کی ذمہ داری تو احکام خداوندی کا زبان عربی میں صاف طور پر پہنچا دینا ہے۔
Read the full tafseer →فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ : اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے۔ اس شرط کا جواب محذوف ہے جو بعد والے جملے سے سمجھ میں آ رہا ہے، یعنی اگر وہ پھرجائیں، نہ مانیں تو آپ کا کوئی نقصان ہے نہ آپ پر کوئی ملامت، کیونکہ آپ کے ذمے صرف واضح پیغام پہنچا دینا ہے، آپ اپنا فریضہ ادا کرتے جائیں، ایمان کی توفیق دینا یا نہ دینا ہمارے ہاتھ میں ہے، فرمایا : (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ) [ القصص : 56 ] ”بیشک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے۔“ پھر ان کا محاسبہ بھی ہمارے ذمے ہے، فرمایا : (فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ) [ الرعد : 40 ] ”پس تیرے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 82
قولہ تعالیٰ : فان تولوا یعنی اگر وہ منہ پھیر لیں اس نظر و استدلال اور ایمان سے۔ فانما علیک البلغ یعنی آپ پر تو فقط تبلیغ کرنا، پیغام پہنچانا ہے، اور رہی ہدایت تو وہ ہمارے ذمہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
1:۔ عبدبن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واللہ جعل لکم مما خلق ظللا “ (یعنی سایہ بنایا) درخت سے اور اس کے علاوہ (دوسری چیزوں سے) (آیت) ” وجعل لکم من الجبال اکنانا “ یعنی غاریں جن میں تم ٹھہرتے ہو (آیت) ” وجعل لکم سرابیل تقیکم الحر “ یعنی روئی سے اور اون سے لباس بنائے (آیت) ” وسرابیل تقیکم باسکم “ یعنی لوہے کے لباس (آیت) ” کذلک یتم نعمتہ علیکم لعلکم تسلمون “ (اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کو پورا فرماتے ہیں تاکہ تم اللہ کے سامنے جھک جاؤ)
2:۔ ابن ابی حاتم نے کسائی کے طریق سے حمزہ (رح) سے روایت کیا کہ اعمش ابوبکر اور عاصم یہ تینوں حضرات اس کو یوں…
Read the full tafseer →[فَان : پھر اگر ] [ تَوَلَوْا : وہ لوگ منہ پھیرتے ہیں ] [ فَانمَا : تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ عَلَيْكَ : آپ ﷺ پر ] [ الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ : واضح طور پر پہنچا دینا ہے ]
Read the full tafseer →(فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ) (سو اگر یہ لوگ روگردانی کریں تو آپ کے ذمہ صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے) یہ نہیں مانتے اور ایمان نہیں لاتے تو غمگین نہ ہوں آپ کی کوئی ذمہ داری منوانے کی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–83
رجور بسوئے دلائل توحید بتذکیر انعامات خداوند حمید
قال اللہ تعالیٰ : واللہ انزل من السماء .... الیٰ .... واکثرھم ھم الکفرون۔
(ربط) اوپر سے بہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کا ذکر چلا آرہا ہے اور پھر اسی طرح سے یہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کو بیان فرماتے ہیں اور یہ دلائل معاد بھی ہیں اور دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل ہدایت بھی ہیں اور دلائل رحمت بھی ہیں۔ دور تک اسی طرح سلسلہ کلام چلا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کے انعامات کو ذکر فرمایا جو علاوہ نعمت ہونے کے اس کے کمال علم اور کمال قدرت اور حکمت کے دلائل بھی ہیں۔
(1) چناچہ واللہ انزل من السماء ماء سے اپنی قدرت کا بیان شروع فرمایا کہ آسمان سے…
Read the full tafseer →66:۔ یہ تمام مذکورہ دلائل سے متعلق ہے اور اِنْ کی جزا محزوف ہے ای فان تولوا بعد ھذہ الدلائل الواضحۃ والبینات القاھرۃ فاف لھم۔ یعنی یہ معاندین اگر ایسے واضح دلائل و بینات کے بعد بھی مسئلہ توحید کو نہ مانیں تو تف ہے ان کی عقلوں پر۔ اگر وہ نہ مانیں تو اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں کیونکہ آپ کا فرض تبلیغ ہے جو آپ نے احسن طریق سے انجام دے دیا۔ صاحب مدارک نے فلا تبعۃ علیک جزا مقدر مانی ہے۔ ای فلا تبعۃ علیک وفی زلک لان الذی علیک ھو التبلیغ الظھار و قد فعلت (مدارک ج 2 ص 228) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
(ربط آیات)
شرک اور مشرکین کے رد کے بعد اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور جزائے عمل کی طرف اشارہ کیا ، پھر فرمایا کہ انسانوں کے تمام مخفی حالات سے صرف اللہ تعالیٰ ہی واقف ہے جو کائنات کی تمام مخفی چیزوں کو جانتا ہے قیامت کو بھی اپنے وقت پر وہی برپا کرے تا ، انسان قیامت کے وقت کے متعلق کچھ نہیں جانتے اور وہ اچانک ہی آئے گی ، انسان کی انفرادی موت بھی اچانک ہی واقع ہوجاتی ہے کوئی شخص اس کے وقت اور مقام کو نہیں جانتا گویا قیامت صغری اور قیامت کبری میں اس لحاظ سے مناسبت ہے ،
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور وحدانیت کے دلائل کا ذکر کیا پہلے انسان کے جسم میں موجود بڑی بڑی نعمتوں کو یا ددلایا ، پھر پرندوں…
Read the full tafseer →فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ 82
ولي
وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه .
فمن الأوّل قوله :
وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] .
ومن الثاني قوله :
فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ،
( و ل ی ) الولاء والتوالی
اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
ترکیب : اوھواقرب اوللتمثیل اوللتخییر وقیل لشک المخاطب وقیل بمعنی بل والجملۃ تمثیل لسرعۃ وقوع القیامۃ۔ مسخرات حال من الطیر۔ سکنًا بمعنی مسکون لاتعلمون جملہ حال ہے ضمیر منصوب امہاتکم سے۔ مایمسکہن جملہ حال ہے مسخرات سے۔ ظعن سفر۔ اثاتاً معطوف ہے سکنًا پر اور دونوں میں اصوافہا جار مجرور کا فصل مستقبح نہیں ہے کیونکہ جار مجرور بھی مفعول ہے اور ایک مفعول کا دوسرے پر مقدم کرنا قبیح نہیں الظعن بفتح العین وسکونہا کالنہرو ھوسیر اہل البادیۃ من موضع الیٰ موضع والصوف للغنم والوبرللابل والشعر للمغر اکنانا جمع کن وھو مایستکن بہ۔
تفسیر : ان آیات میں خدا تعالیٰ ان کے ان معبودوں کے مقابلہ میں کہ جن کو دو مثالوں…
Read the full tafseer →فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ۔ (سورۃ النحل : 82)
(پھر اگر وہ اعراض کریں تو آپ کی ذمہ داری صاف صاف پہنچا دینا ہے)
پروردگار نے گزشتہ آیات میں جس جزرسی کے ساتھ انسانوں پر اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اس کے بعد اگر انسانوں سے پوچھا جائے کہ تم بتائو تمہارے خیال میں ان نعمتوں کا عطا کرنے والا کیا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی ہے۔ وہ یقینا اپنے کفر کے باوجود اعتراف کریں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان تمام نعمتوں کو پیدا فرمایا ہے۔ اس کے بعد برجستہ ایک اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان تمام نعمتوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے تو پھر تم نے دوسروں کو اس کا شریک کیوں بنا رکھا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
فہم القرآن
ربط کلام : انسان کی مستقل قیام گاہ کے بعد اس کی عارضی پناہ گاہوں اور اس کے لباس کا تذکرہ۔
دنیا میں انسان کی مستقل قیام گاہ اس کا گھر ہوتا ہے جو انسان کے لیے سکون اور سکونت کا باعث ہونے کے ساتھ گرمی، سردی اور اس کے سازوسامان کی حفاظت کا ذریعہ ہوتا ہے۔ انسان کا گھر بیشک جھونپڑی کی صورت میں کیوں نہ ہو وہ اسے اٹھائے ہوئے ہر جگہ نقل و حرکت نہیں کرسکتا۔ اس نے اپنی روزی اور دیگر حاجات کے لیے گھر سے باہر جانا ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری تھا کہ اس کے لیے عارضی طور پر ایسی قیام گاہیں ہوں جنہیں وہ گرمی، سردی اور سفری مشکلات کے وقت کچھ وقت کے لیے قیام کرسکے اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے درختوں اور پہاڑوں…
Read the full tafseer →ان انعامات کو دیکھ کر تو منعم حقیقی کو پہچاننا چاہیے :
82: فَاِنْ تَوَلَّوْا (پس اگر وہ منہ پھیر لیں) یعنی اسلام لانے سے اعراض کریں۔ فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ (تو بیشک تم پر تو صاف صاف پہنچا دینا ہے) اس کا تم پر مؤاخذہ ووبال نہ ہوگا۔ کیونکہ تمہارے ذمہ ظاہرًاتبلیغ ہے اور وہ آپ نے کردی۔ (ماننا نہ ماننا انکا کام ہے)
Read the full tafseer →(82)” فان تولوا “ اگر وہ آپ سے اعراض کریں تو آپ ان سے رنجیدہ اور تنگ دل نہ ہوں، آپ کا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے۔ ” فانما علیک البلاغ المبین “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
80۔ 83۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ایک اور دلیل اپنی توحید کی بیان کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے آرام و آسائش کے لئے گھر بنا دئیے کہ جب چل پھر کر تھک جاؤ تو وہاں آکر آرام کرو راتوں کو اطمینان سے اس میں سو جاؤ تمہارے بال بچے ادھر ادھر مارے مارے نہ پھریں دھوپ کی گرمی سے امن پاؤ برسات میں مینہ کے بھیگنے سے بچو جاڑے کی سردی سے نجات پاؤ پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا اس حکمت سے تم اگر سفر میں جاؤ گے تو کہاں قیام کرو گے تمہارے واسطے چارپاؤں کے کھال کے خیموں چھولداریاں وغیرہ بنائے جس کو تم اپنے ساتھ لے جایا کرو اور آسانی سے اس کو نصب کرلیا کرو اور سونے بیٹھنے میں اس سے بہت بڑا نفع حاصل کرو پھر فرمایا کہ جانوروں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
آیت : (80-83)
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمتیں یا دلاتا ہے اور ان سے ان نعمتوں کے اعتراف اور ان پر شکر کا مطالبہ کرتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (واللہ جعل لکم من بیوتکم سکنا) ” اور اللہ ہی نے تمہارے لئے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے گھر اور بڑے بڑے محلبنائے جو گرمی اور سردی سے بچاتے ہیں ‘ تمہیں ‘ تمہاری اولاد اور تمہارے مال و متاع کو ٹھکانا مہیا کرنے ہیں۔ تم ان گھروں میں ‘ اپنے مختلف اقسام کے فوائد اور مصالح کے لئے کمرے اور بالا خانے بناتے ہو۔ ان گھروں میں تمہارے مال و متاع اور تمہاری عزت و ناموس کی حفاظت ہے اور اس قسم کے دیگر فوائد جن کا روز مشاہد ہوتا ہے۔ (وجعل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–88
جانوروں کی اون اور بال حلال ہیں
قول باری ہے (ومن اصوافھا واوبارھا و اشعارھا اثا شاومت عا الی حین۔ اس نے جانوروں کے صوف اور اون اور بالوں سے تمہارے لئے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کردیں جو زندگی کی مدت مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں) جانور کی موت کے بعد اس کے جسم سے حاصل کردہ مذکورہ چیزوں سے فائدہ اٹھانے کے جواز پر آیت میں دلالت موجود ہے اس لئے کہ جانور کی موت سے پہلے اور موت کے بعد اس سے ان چیزوں کو حاصل کرنے کے مابین کوئی فرق نہیں رکھا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
167۔ سایوں کی نعمت کا انتظام : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ نے اپنی پیدا کردہ چیزوں سے تمہارے لیے طرح طرح کے سایوں کا بھی انتظام فرمایا۔ مکانوں، چھپروں، پہاڑوں، غاروں اور درختوں اور بادلوں وغیرہ کے ذریعے۔ تاکہ تم لوگ دھوپ کی تپش و تمازت سے بچ سکو اور طرح طرح کے ان سایوں کے اندر تم آرام کرسکو اور ٹھنڈی میٹھی نیند سو سکو۔ ورنہ تمہارا کیا حال ہوتا۔ تپتی دھوپ اور لو کے اندر تم جھلس کر رہ جاتے۔ سو اس گرمی اور لو سے بچنے کیلئے جب کسی ٹھنڈے پر سکون سائے میں بیٹھوتوسوچو کہ اس ٹھنڈے پر سکون اور راحت بخش سائے کی اس نعمت سے ہمیں کس نے نوازا وہ کیسی قدرت وحکمت اور رحمت و عنایت والی ذات ہے ؟ اور اس کا ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
اللہ کے انعامات اور کفار کی ہٹ دھرمی
تشریح : ان آیات میں بھی اللہ کی طرف سے دی گئی کچھ اور نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ تمام نعمتیں مستقل جاری وساری رہنے والی ہیں اور یہ سب انسان کو ذہنی اور جسمانی سکون حاصل کرنے کے لیے دی گئی ہیں۔ ان میں سب سے پہلے گھر کا ذکر کیا گیا ہے کہ گھر انسان کے سکون کی بہترین جگہ ہے۔ گھر اوپر سے بنا کر اللہ نے نہیں دیا بلکہ گھر بنانے کی تمام چیزیں مہیا کردی گئیں اور ساتھ میں عقل و فہم اور علم و ادراک بھی دے دیا پہلے خاندان کے رہن سہن کو بڑی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے اور حلال حرام کا بھی ذکر ہوچکا ہے اب جانوروں کے وہ فائدے بیان کیے جا رہے ہیں جو ان کی کھال اور اون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
(رکوع نمبر 1 1)
اسرارومعارف
جو انسانی منصوبہ بندیاں اور اندازے ہیں جن کی بنیاد پر لوگ رب جلیل کو بھی عام انسانوں کی طرح تصور کرکے مثالیں دیتے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں کہ زمین اور آسمانوں میں یا ساری مخلوق میں غیب کا علم تو صرف اللہ جل جلالہ کو ہے اور کل کیا ہونے والا ہے یا آئندہ کیا پیش آئے گا یہ صرف اللہ جل جلالہ جانتا ہے ، لہذا انسان کی بہتری اسی کی اطاعت میں ہے ، ورنہ انسان کو تو یہ بھی خبر نہیں کہ کس گھڑی سب کچھ تہ وبالا ہوجائے گا اور پلک جھپکنے میں قیامت قائم ہوجائے گی اللہ جل جلالہ تو یقینا جانتا ہے بلکہ وہی ذات قیامت قائم کرنے والی ہے اور یقینا وہ ہر بات پہ کامل قدرت رکھتا ہے لہذا اسی…
Read the full tafseer →ف 4 ان کے نہ ماننے سے آپ کا کوئی نقصان نہ ہوگا اس لئے آپ غم نہ کیجیے بلکہ تبلیغ کا فریضہ ادا کرتے جائیے۔ اس میں آنحضرت کو تسلی دی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
(16:82) فان تولوا۔ اگر یہ روگردانی کرتے رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 83
امرالساعۃ قیامت کا حال۔ لمح البصر آنکھ کا جھپکنا، آنکھ کا بند ہونا۔ اقرب زیادہ قریب۔ بطون (بطن) پیٹ۔ شیئاً کچھ بھی۔ السمع سننا، کان الابصار (بصر) آنکھیں۔ الافئدۃ دل، قلب۔ الطیر پرندہ۔ فی جو السمآء آسمان کی فضا میں۔ مایمسک نہیں تھامتا۔ سکن ٹھکانا، رہنے کی جگہ۔ جلود (جلد) کھالیں۔ تستخفون تم ہلکا پھلکا پاتے ہو۔ یوم ظعن سفر کے دن، کوچ کے دن۔ یوم اقامۃ ٹھہرنے کے دن۔ اصواف (صوف) اون۔ اوبار (وبر) اونٹ کا نرم رواں۔ اشعار (شعر) بال۔ اثاثاً سامان اسباب۔ متاعاً سامان۔ حین وقت ، زمانہ۔ ظلال سائے۔ اکنان صکن) چھپنے کی جگہ۔ سرابیل (سربال) کرتے۔ تقیکم تمہیں بچاتا ہے۔ باس لڑائی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
اس آیت مبارکہ میں آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ باوجود ان نعمتوں کے معلوم کرنے کے یہ لوگ اسلام سے بےبہرہ رہیں، اور ایمان نہ لائیں تو اس کا تم پر کوئی الزام نہیں ہے تمہیں تو کھول کر اللہ کا پیگام پہنچا دینا ہے پھر تم بری الذمہ ہو۔ ماننا نہ ماننا ان کا اختیار ہے۔ یہ لوگ خدا کی نعمتوں کو خوب اچھی طرح جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں اور پھر بھی تمہاری رسالت کا انکار کرتے ہیں۔ کفر کرتے ہیں تو اس کا وبال ان پر پڑے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
[49] یعنی زرہیں۔
[50] یعنی وہ تمہاری فطرت کی ہر مانگ پوری کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
(ف 1) رہائش کے متعلق انعامات گنائے ہیں کہ کیونکر تمہارے لئے اللہ نے سہولتیں مہیا کی ہیں ، تمہیں مکانات دیئے ہیں ، جو آرام و راحت کا باعث ہیں یہ مسکن ہیں تمہارے لئے خیموں اور قناتوں کا انتظام کیا ہے ، کہ جہاں چاہو ، گھر بنا لو ، اور جو بہت غریب ہیں ان کے لئے دامن کوہ میں سایہ کا انتظام کیا ہے ، وہ گھنے درختوں کے تلے آرام پاتے ہیں ، تمہیں ملبوسات عطا کئے ہیں جو سردی اور گرمی کے لئے جدا جدا اور گوناگون ہیں کچھ وہ ہیں جو جنگ میں کام آتے ہیں غرض یہ ہے کہ تم اللہ کی ان تمام نعمتوں کا استعمال کرو اور شکریہ ادا کرو ۔
Read the full tafseer →82 ۔ پھر اگر یہ لوگ اس پر بھی روگردانی اور اعراض کا برتائو کریں تو اے پیغمبر آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں کیونکہ آپ کے ذمہ تو بس واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
ف 2۔ یعنی غار وغیرہ جس میں گرمی، سردی، بارش، موذی دشمن آدمی جانور سے محفوظ رہ سکتے ہو۔
3۔ مراد اس سے زرہیں ہیں۔
Read the full tafseer →لوگ اگر ان دلائل سے منہ پھیریں تو آپ کے ذمہ صرف ان کا پہنچانا ہے :
94۔ جو لوگ حق سے منہ پھیر جانے والے ہیں ان کا منہ پھیر جانا آپ کو کچھ نقصان نہیں دے گا آپ کے ذمہ ان کو ہدایت دینا نہیں بلکہ ہدایت دینا نہیں بلکہ ہدایت کا پیغام پہنچانا ہے وہ آپ پہنچا رہے ہیں تو آپ اپنا فرض ادا کر رہے ہیں اور اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں آپ مطمئن رہیں کہ اگر وہ ان کو گوناگوں انعامات اور پہیم نوازشات کے باوجود دین حق کو قبول نہیں کرتے اور اللہ کی توحید پر ایمان نہیں لاتے تو آپ پریشان کیوں ہوتے ہیں آپ کا جو فرض تھا وہ آپ ﷺ نے باحسن وجوہ ادا فرما دیا اور آپ کی ذمہ داری پوری ہوگئی اگر وہ نہیں مانتے تو نقصان بھی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–88
Finally, a note about the statement: سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ (shirts which protect you from heat - 81). Here, protection from heat has been identified as the purpose of a shirt - though, a shirt protects one from heat and cold both. This has been answered by Imam Al-Qurtubi and other commentators by saying that the Holy Qur’ an has been revealed in the Arabic language, its first addressees are Arabs, therefore, it speaks by taking Arab habits and needs into account. Arabia is a hot country where the very thought of snow and winter chill is far-fetched, therefore, the statement was…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
76. The Quran has not mentioned protection from cold for either of the two reasons:
(1) Because the use of garments in the summer season is a symbol of cultural perfection and obviously there is no need to mention the lower stages of culture. Or
(2) the use of garments in hot countries has specially been mentioned because the main use of garments there is for protection from the hot pestilential furious wind. Therefore, one has to cover one’s head, neck, ears, and the whole of his body to protect it from the hot wind which would otherwise scorch him to death.
77. That is, Armors.
78.“Thus…
Read the full tafseer →