An-Nahl 16:81

An-Nahl · from ayah 81

16:81

وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَسَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ ؕ— كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ ۟وَاللّٰهُ جَعَلَ لَـكُمۡ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّجَعَلَ لَـكُمۡ مِّنَ الۡجِبَالِ اَكۡنَانًا وَّجَعَلَ لَـكُمۡ سَرَابِيۡلَ تَقِيۡكُمُ الۡحَـرَّ وَسَرَابِيۡلَ تَقِيۡكُمۡ بَاۡسَكُمۡ‌ؕ كَذٰلِكَ يُتِمُّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡلِمُوۡنَ

اور خدا ہی نے تمہارے (آرام کے) لیے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں غاریں بنائیں اور کُرتے بنائے جو تم کو گرمی سے بچائیں۔ اور (ایسے) کُرتے (بھی) جو تم کو اسلحہ جنگ (کے ضرر) سے محفوظ رکھیں۔ اسی طرح خدا اپنا احسان تم پر پورا کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And Allah has made for you, from that which He has created, shadows and has made for you from the mountains, shelters and has made for you garments which protect you from the heat and garments which protect you from your [enemy in] battle. Thus does He complete His favor upon you that you might submit [to Him].

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 11 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:81

اس نے اپنی پیدا کی ہوئی بہت سی چیزوں سے تمہارے لیے سائے کا انتظام کیا، پہاڑوں میں تمہارے لیے پناہ گاہیں بنائیں، اور تمہیں ایسی پوشاکیں بخشیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں اور کچھ دوسری پوشاکیں جو آپس کی جنگ میں تمہاری حفاظت کرتی ہیں اس طرح وہ تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے شاید کہ تم فرماں بردار بنو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خدا ہی نے تمہارے (آرام کے) لیے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں غاریں بنائیں اور کُرتے بنائے جو تم کو گرمی سے بچائیں۔ اور (ایسے) کُرتے (بھی) جو تم کو اسلحہ جنگ (کے ضرر) سے محفوظ رکھیں۔ اسی طرح خدا اپنا احسان تم پر پورا کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ ہی نے تمہارے لیے اپنی پیدا کرده چیزوں میں سے سائے بنائے ہیں اور اسی نے تمہارے لیے پہاڑوں میں غار بنائے ہیں اور اسی نے تمہارے لیے کرتے بنائے ہیں جو تمہیں گرمی سے بچائیں اور ایسے کرتے بھی جو تمہیں لڑائی کے وقت کام آئیں۔ وه اسی طرح اپنی پوری پوری نعمتیں دے رہا ہے کہ تم حکم بردار بن جاؤ

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اللہ ہی نے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں سے تمہارے لیے سائے پیدا کیے، اور پہاڑوں میں تمہارے لیے پناہ گا ہیں بنائیں، اور تمہارے لیے ایسے لباس پیدا کیے جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں، اور ایسے لباس جو تمہاری جنگ میں تمہیں محفوظ رکھتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی نعمتوں کو تم پر مکمل کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ نے تمہیں اپنی بنائی ہوئی چیزوں سے سائے دیئے اور تمہارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہ بنائی اور تمہارے لیے کچھ پہنادے بنائے کہ تمہیں گرمی سے بچائیں اور کچھ پہناوے کہ لڑائیں میں تمہاری حفاظت کریں یونہی اپنی نعمت تم پر پوری کرتا ہے کہ تم فرمان مانو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اللہ ہی نے تمہارے لئے اپنی پیدا کردہ کئی چیزوں کے سائے بنائے اور اس نے تمہارے لئے پہاڑوں میں پناہ گاہیں بنائیں اور اس نے تمہارے لئے (کچھ) ایسے لباس بنائے جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں اور (کچھ) ایسے لباس جو تمہیں شدید جنگ میں (دشمن کے وار سے) بچاتے ہیں، اس طرح اللہ تم پر اپنی نعمتِ (کفالت و حفاظت) پوری فرماتا ہے تاکہ تم (اس کے حضور) سرِ نیاز خم کر دو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ نے تمہارے لیے ان چیزوں سے جو اس نے پیدا کیں، سائے بنا دیے اور تمہارے لیے پہاڑوں میں سے چھپنے کی جگہیں بنائیں اور تمہارے لیے کچھ قمیصیں بنائیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں اور کچھ قمیصیں جو تمہیں تمہاری لڑائی میں بچاتی ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی نعمت تم پر پوری کرتا ہے، تاکہ تم فرماں بردار بن جاؤ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز اللہ ہی نے تمہارے لئے اپنی مخلوق (کی اکثر چیزوں) کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں کمین گاہیں بنائیں اور تمہارے لیے ایسے لبادے بنائے جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں اور جو لڑائی کے وقت بچاتے ہیں۔ اللہ اسی طرح تم پر اپنی نعمتیں پوری کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ ہی نے تمہارے لیے اپنی پیدا کردہ چیزوں سے سایے بنائے اور تمہارے لیے پہاڑوں میں پناہ گاہیں بنائیں اور تمہارے لیے ایسے لباس بنائے جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں اور ایسے لباس بنائے جو تمہاری جنگ میں تم کو محفوط رکھتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تم پر اپنی نعمت تمام کرتا ہے تاکہ فرمانبردار رہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اللہ نے اپنی پیدا کردہ بہت سی چیزوں سے تمہارے لئے طرح طرح کے سایوں کا بھی بندوبست کردیا، اور اسی نے تمہارے لئے پہاڑوں سے (مضبوط) پناہ گاہیں بھی بنادیں، اور تمہارے لئے ایسی پوشاکیں بھی مہیا فرما دیں، جو تمہیں بچاتی ہیں گرمی (اور سردی) سے، اور ایسی پوشاکیں بھی، جو تمہاری آپس کی لڑائی کے دوران تمہاری حفاظت کرتی ہیں، اللہ اسی طرح تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے تاکہ تم لوگ فرمانبردار بن جاؤ،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اللہ نے تمہارے لئے اپنی بعض مخلوقات کے سائے بنائے اور تمہارے لئے پہاڑوں میں پناہ گا ہیں بنائیں۔ اور تمہارے لئے (وہ) پیراہن بنائے جو تمہاری حفاظت گرمی سے کرتے ہیں اور (وہ) پیراہن جو تمہاری حفاظت (تمہاری آپس کی جنگ میں) کرتے ہیں۔ (اللہ) اسی طرح اپنی تعمتیں تم پر پوری کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار رہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اللہ ہی نے بنایا تمہارے لیے اپنی پیدا کردہ چیزوں سے سایہ اور اسی نے بنائیں تمہارے لیے پہاڑوں کے اندر پناہ گاہیں اور بنائے تمہارے لیے ایسے لباس جو تمہیں بچاتے ہیں گرمی سے اور ایسے لباس (زرہیں) جو تمہیں بچاتے ہیں تمہاری لڑائی میں اسی طرح وہ اتمام فرماتا ہے اپنی نعمت کا تم پر تاکہ تم اطاعت کی روش اختیار کرو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اللہ ہی نے تمہارے آرام کے لیے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے، پہاڑوں میں غاریں بنائیں اور کرتے بنائے جو تم کو گرمی سے بچاتے ہیں اور ایسے کرتے بھی جو تم کو جنگ (میں اسلحہ کے نقصان) سے بچائیں، اسی طرح اللہ اپنے احسان تم پر پورے کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And Allah has provided shade for you out of some of the things He has created; and He has provided you with shelters in the mountains, and has given you coats that protect you from heat as well as coats that protect you in battle. Thus does He complete His favour upon you that you may submit to Him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah has made for your benefit shades from what He has created, and made for you shelters in the mountains, and made for you shirts that protect you from heat, and shirts that protect you in your battles. This is how He perfects His favor upon you, so that you may submit.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah has made for your benefit shades from what He has created, and made for you shelters in the mountains, and made for you shirts that protect you from heat, and shirts that protect you in your battles. This is how He perfects His favor upon you, so that you may submit.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And Allah has made shade for you out of that which He has created, and He has made places of refuge in the mountains for you, and He has made garments for you to protect you from the heat, and coats of mail to protect you from your violence. Thus does He perfect His favor for you, that you may submit yourselves to His will.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Allah hath given you, of that which He hath created, shelter from the sun; and hath given you places of refuge in the mountains, and hath given you coats to ward off the heat from you, and coats (of armour) to save you from your own foolhardiness. Thus doth He perfect His favour unto you, in order that ye may surrender (unto Him).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And Allah has made for you, from that which He has created, shadows and has made for you from the mountains, shelters and has made for you garments which protect you from the heat and garments which protect you from your [enemy in] battle. Thus does He complete His favor upon you that you might submit [to Him].

— Saheeh International

God has provided shade for you out of what He has created and places of retreat out of mountains. He has given you garments to protect you from the heat and cover your private parts. This is how He perfects His bounties to you so that perhaps you would submit to His will.

— Muhammad Sarwar

And Allah has made for you of what He has created shelters, and He has given you in the mountains places of retreat, and He has given you garments to preserve you from the heat and coats of mail to preserve you in your fighting; even thus does He complete His favor upon you, that haply you may submit.

— Muhammad Habib Shakir

And Allah hath appointed for you, of that which He hath created shades, and He hath appointed for you from the mountains places of retreat, and He hath appointed for you coats protecting you from the heat and coats protecting you from the violence. Thus He perfecteth His favour on you that haply ye may submit.

— Abdul Majid Daryabadi

It is Allah Who made out of the things He created, some things to give you shade; of the hills He made some for your shelter; He made you garments to protect you from heat, and coats of mail to protect you from your (mutual) violence. Thus does He complete His favours on you, that ye may bow to His Will (in Islam).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:81

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 80–83

احسانات الٰہی کی ایک جھلک قدیم اور بہت بڑے ان گنت احسانات وانعامات والا اللہ اپنی اور نعمتیں ظاہر فرما رہا ہے۔ اسی نے بنی آدم کے رہنے سہنے آرام اور راحت حاصل کرنے کے لئے انہیں مکانات دے رکھے ہیں۔ اسی طرح چوپائے، جانوروں کی کھالوں کے خیمے، ڈیرے، تمبو اس نے عطا فرما رکھے ہیں کہ سفر میں کام آئیں، نہ لے جانا دو بھر نہ لگانا مشکل، نہ اکھیڑنے میں کوئی تکلیف۔ پھر بکریوں کے بال، اونٹوں کے بال، بھیڑوں اور دنبوں کی اون، تجارت کے لئے مال کے طور پر اسے تمہارے لیے بنایا ہے۔ وہ گھر کے برتنے کی چیز بھی ہے اس سے کپڑے بھی بنتے ہیں، فرش بھی تیار ہوتے ہیں، تجارت کے طور پر مال تجارت ہے۔ فائدے کی چیز ہے جس سے لوگ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 81–82

سورة النَّحْل 76 سردی سے بچانے کا ذکر یا تو اس لیے نہیں فرمایا گیا کہ گرمی میں کپڑوں کا استعمال انسانی تمدن کا تکمیلی درجہ ہے اور درجہ ٔ کمال کا ذکر کردینے کے بعد ابتدائی درجات کے ذکر کی حاجت نہیں رہتی، یا پھر اسے خاص طور پر اس لیے بیان کیا گیا ہے کہ جن ملکوں میں نہایت مہلک قسم کی باد سموم چلتی ہے وہاں سردی کے لباس سے بھی بڑھ کر گرمی کا لباس اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے ممالک میں اگر آدمی سر، گردن، کان اور سارا جسم اچھی طرح ڈھانک کر نہ نکلے تو گرم ہوا اسے جھُلس کر رکھ دے، بلکہ بعض اوقات تو آنکھوں کو چھوڑ کر پورا منہ تک لپیٹ لینا پڑتا ہے۔ سورة النَّحْل 77 یعنی زرہ بکتر۔ سورة النَّحْل 78 اتمام حجت یا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 81–83

(آیت) سَرَابِيْلَ تَـقِيْكُمُ الْحَـرّ۔ یہاں انسان کو کرتے کی غرض گرمی سے بچانے کو فرمایا ہے حالانکہ کرتہ انسان کو گرمی اور سردی دونوں سے بچاتا ہے اس کا ایک جواب تو امام قرطبی اور دوسرے مفسرین نے یہ دیا ہے کہ قرآن حکیم عربی زبان میں آیا ہے اس کے اولین مخاطب عرب ہیں اس لئے اس میں عرب کی عادات و ضروریات کا لحاظ رکھ کر کلام کیا گیا ہے عرب ایک گرم ملک ہے وہاں برف باری اور سردی کا تصور ہی مشکل ہے اس لئے گرمی سے بچانے کے ذکر پر اکتفاء کیا گیا حضرت تھانوی نے بیان القرآن میں فرمایا کہ قرآن کریم نے اسی سورة کے شروع میں لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ فرما کر لباس کے ذریعہ سردی سے بچنے اور گرمی حاصل کرنے کا ذکر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيْلَ تَـقِيْكُمُ الْحَـرَّ وَسَرَابِيْلَ تَقِيْكُمْ بَاْسَكُمْ ۭكَذٰلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ۔ بعض اور نشانیوں کی طرف اشارہ : پھر اور دیکھو، یہ خدا ہی ہے جس نے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں میں تمہارے لیے سایہ پیدا کردیا۔ تمہارے لیے پہاڑوں میں پناہ گاہیں بنادیں، تمہارے لیے ایسے لباس بنا دیے جو گرمی اور سموم کی لپٹ سے تمہیں باتے اور جنگوں میں تمہاری حفاظت کرتے ہیں۔ اللہ نے یہ اتمام نعمت تم پر اس لیے کیا کہ تم خدا کے سوا کسی اور کے محتاج نہ روہ اور اپنے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 81–82

81۔ 1 یعنی درخت جن سے سایہ حاصل کیا جاتا ہے۔ 81۔ 2 یعنی اون اور روئی کے کرتے جو عام پہننے میں آتے ہیں اور لوہے کی زرہیں اور خود جو جنگوں میں پہنی جاتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 81–83

34: یعنی لوہے کی زرہیں جو جنگ میں تلوار وغیرہ کے وار کو روکنے کے لیے پہنی جاتی تھیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب مضمون ، اللہ کی تخلیقات کے اسرار و رموز بیان کرتے ہوئے ایک قدم اور آگے بڑھتا ہے۔ اللہ کی قدرت کے مزید نشانات اور اللہ کے انعامات کے کچھ مزید نمونے پیش کیے جاتے ہیں۔ لوگوں کے گھر اور ان کی مسرتیں ، گھروں کا ماحول سازوسامان اور پناہ گاہیں۔ گھر اور پرسکون گھر کس قدر عظیم نعمت ہے ، اس کی قدر وہ جانیں جو مہاجر ہیں ، جو گھروں سے نکال دئیے گئے ہیں اور مارے مارے پھر رہے ہیں۔ نہ ان کا گھر ہے اور نہ سکون ہے۔ یہاں گھروں اور سایوں کا ذکر غیب کے ذکر کے بعد آتا ہے۔ ربط یوں ہے کہ ایک سایہ بھی کسی چیز کو ڈھانپ لیتا ہے اور غیب بھی ان امور کو ڈھانپ لیتا ہے جو غیب میں ہوتے ہیں۔ دونوں میں ستر اور پوشیدگی ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 مثلاً بادل، درخت، مکان اور پہاڑ وغیرہ کا سایہ قانون قدرت کے موافق زمین پر پڑتا ہے جس میں مخلوق آرام پاتی ہے۔ 9 جہاں سر چھپا کر بارش، دھوپ یا دشمن وغیرہ سے اپنی حفاظت کرسکتے ہو۔ 10 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جن کرتوں میں گرمی کا بچاؤ ہے، سردی کا بھی بچاؤ ہے۔ پر اس ملک میں گرمی زیادہ تھی اس کا ذکر خصوصیت سے فرمایا۔ " 11 یعنی زرہیں جو لڑائی میں زخمی ہونے سے بچاتی ہیں۔ 12 یعنی دیکھو ! کس طرح تمہاری ہر قسم کی ضروریات کا اپنے فضل سے انتظام فرمایا اور کیسی علمی و عملی قوتیں مرحمت فرمائیں جن سے کام لے کر انسان عجیب و غریب تصرفات کرتا رہتا ہے۔ پھر کیا ممکن ہے کہ جس نے مادی اور جسمانی دنیا میں اس قدر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 81–83

آیت 81 وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا اللہ نے درختوں اور بہت سی دوسری چیزوں سے سائے کا نظام وضع فرمایا ہے جو انسانی زندگی کے لیے بہت مفید ہے۔ وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا پہاڑوں کے اندر قدرتی غاریں پائی جاتی ہیں جن میں لوگ طوفانی ہواؤں وغیرہ کی شدت سے بچنے کے لیے پناہ لے سکتے ہیں۔ پرانے زمانے میں تو اس حوالے سے ان غاروں کی بہت اہمیت تھی۔ كَذٰلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ جیسا کہ قبل ازیں بھی اشارہ کیا گیا ہے اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ذکر کی تکرار بہت زیادہ ہے۔ مزید ملاحظہ ہوں آیات 18 ‘ 35 ‘ 71 ‘ 72 ‘ 83 اور 114۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 81–82

83 گرمی سردی سے بچاؤ کے لئے کپڑے :۔ انسان کو سردی سے بچنے کے لیے بھی لباس کی ایسے ہی ضرورت ہوتی ہے جیسے گرمی سے بچنے کے لیے اور جو لباس گرمی سے بچاتا ہے وہ سردی سے بھی بچاتا ہے اور یہاں جو بالخصوص گرمی سے بچانے کا ذکر فرمایا تو اس لیے اہل عرب سردی کے موسم سے ناآشنا تھے وہاں عموماً موسم گرم ہی رہتا ہے۔ بالخصوص مکہ میں، جہاں یہ سورت نازل ہوئی، ٹھنڈا موسم ہوتا ہی نہیں۔ وہاں فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کبھی کم گرمی کا موسم ہوتا ہے اور کبھی شدید گرمی کا۔ 84 ( لَعَلَّکُمْ تُسْلِمُوْنَ ) النحل :81) کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو وہی ہے جو ترجمہ سے ظاہر ہے اور دوسرا یہ ہے کہ لباس اس لیے بنائے کہ تم گرمی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

128۔ (مثلا غار کہ سردی گرمی سے، بارش سے، جنگلی جانوروں سے، سب سے پناہ کا کام دیتے ہیں) (آیت) ” مما خلق ظللا “۔ درختوں کے، عمارتوں کے، ٹیلوں اور پہاڑوں کے سایہ سے انسان کی آسائش اٹھانا بالکل ظاہر ہے۔ 129۔ یہ سب اللہ کی مختلف نعمتوں ہی کی تفصیل ہورہی ہے۔ (آیت) ” سرابیل “۔ سربال کا لفظ عام ہے ہر قسم کے پیراہن کے لیے۔ القمیص من ای جنس (راغب) یہاں اس قمیص یا بالائی جسم کی پوشش کی دو خاص قسمیں ارشاد ہورہی ہیں۔ (آیت) ” سرابیل تقیکم الحر “۔ ایک وہ پوشش جو موسم کی سختیوں سے جسم کو محفوظ رکھے سردی کو چھوڑ کر یہاں صرف گرمی کی تخصیص کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ سردی سیح فاظت کا ذکر کچھ ہی اوپر آچکا ہے۔ (آیت)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 77–83

آیت نمبر 77 تا 83 ترجمہ : آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا علم اللہ ہی کو ہے یعنی ان دونوں میں مخفی چیزوں کا علم، قیامت کا معاملہ تو بس ایسا ہوگا جیسا کہ پلک کی ایک جھپک یا اس سے بھی جلدی، اسلئے کہ وہ لفظ کن سے ہوگا، تو وہ ہوجائے گی، یقیناً اللہ ہر شئ پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حال میں پیدا کیا کہ تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے (لاتعلمون شیئًا) کم ضمیر سے حال ہے، اور اس نے تمہیں کان دیئے سمع، اسماعٌ کے معنی میں ہے اور آنکھیں دیں اور دل دیئے تاکہ تم ان کا شکریہ ادا کرو، اور ایمان لے آؤ، کیا لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا ؟ کہ وہ پرواز کے لئے آسمان کی فضاء میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وا اللہ جعل لکم مما خلق ظللا وجعل لکم من الجبال اکنانا اور تمہارے لئے اللہ ہی نے اپنی پیداوار کی ہوئی بعض چیزوں کے سائے بنائے اور تمہارے لئے پہاڑوں میں پناہ کی جگہیں بنائیں۔ یعنی درختوں ‘ پہاڑوں اور مکانوں کے سائے بنائے جو دھوپ کی تپش سے بچاتے ہیں اور پہاڑوں میں چھپنے اور محفوظ رہنے کے مقامات مثلاً غار اور غاروں کے اندر پتھروں کو تراش کر بنائے ہوئے مکان بنائے۔ اَکْنَان ‘ کِنٌّ کی جمع ہے۔ کِنٌّ چھپنے کا مقام ‘ مکان وغیرہ۔ وجعل لکم سرابیل تقیکم الحر وسرابیل تقیکم باسکم اور تمہارے لئے (سوت ‘ اون ‘ کنان ‘ ریشم وغیرہ کے کچھ) ایسے کرتے بنائے جو تم کو گرمی سے محفوظ رکھتے ہیں اور (لوہے ‘ ریشم وغیرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(81) اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے درختوں، پہاڑوں اور دیواروں کے سائے بنائے، جن سے گرمی میں اپنی حفاظت کرتے ہو اور تمہارے لیے پہاڑوں میں پناہ کے مقامات اور غار بنائے اور تمہارے لیے ایسے کرتے بنائے جو گرمی سے گرمی میں اور سردی سے سردی میں تمہارے حفاظت کرتے ہیں۔ اور زرہیں بنائیں جو تمہارے دشمن کے ہتھیار لگنے سے حفاظت کرتی ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمتیں پوری کرتا ہے، اگر تم اس کا اقرار کرکے اس کے فرمانبردار ہوجاؤ یا یہ کہ ان زر ہوں کی وجہ سے زخم لگنے سے محفوظ رہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا۔۔ : ”ظِلٰلًا“ ”ظِلٌّ“ کی جمع ہے، سائے۔ ”اَكْنَانًا“ اور ”اَکِنَّۃٌ“ دونوں ”کِنٌّ“ کی جمع ہیں، چھپاؤ کی جگہ یا چیز، جیسا کہ فرمایا : (وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ اَكِنَّةٍ) [ حٰآ السجدۃ : 5 ] ”اور انھوں نے کہا ہمارے دل پردے میں ہیں۔“ ”سَرَابِیْل“ ”سِرْبَالٌ“ کی جمع ہے، قمیص یا جو لباس بھی پہنا جائے۔ ”تَقِيْكُمْ“ ”وَقٰی یَقِيْ“ سے مضارع معلوم واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے۔ فاعل اس کا ضمیر جمع ہے، اس لیے واحد مؤنث ہے۔ چوپاؤں، مکانوں اور خیموں کے بعد گھر سے باہر سردی گرمی اور دشمن سے بچاؤ کرنے والی نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ اس آیت میں ان لوگوں کے لیے جن کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 81 اس میں چھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : ظلا الظلال : اس سے مراد ہر وہ شے ہے جس سے سایہ حاصل کیا جاتا ہے چاہے وہ گھر ہوں یا درخت ہوں۔ اور قول باری تعالیٰ : مما خلق سایہ کرنے والے جمیع اشخاص کو عام ہے۔ مسئلہ نمبر 2: قولہ تعالیٰ : اکنانا الأکنان کی جمع ہے، مراد وہ جگہ ہے جو بارش اور ہوا وغیرہ سے حفاظت کرتی ہے، اور یہاں مراد وہ غاریں ہیں جو پہاڑوں میں ہوتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں مخلوق کے لئے تیار بنایا ہے وہ ان میں پناہ لے سکتے ہیں، وہ انہیں اپنی حفاظت کا قلعہ بنا سکتے ہیں اور ان میں مخلوق سے علیحدگی اور تنہائی اختیار کرسکتے ہیں۔ اور صحیح روایت میں ہے کہ آپ ﷺ شروع شروع…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 81–83

1:۔ عبدبن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واللہ جعل لکم مما خلق ظللا “ (یعنی سایہ بنایا) درخت سے اور اس کے علاوہ (دوسری چیزوں سے) (آیت) ” وجعل لکم من الجبال اکنانا “ یعنی غاریں جن میں تم ٹھہرتے ہو (آیت) ” وجعل لکم سرابیل تقیکم الحر “ یعنی روئی سے اور اون سے لباس بنائے (آیت) ” وسرابیل تقیکم باسکم “ یعنی لوہے کے لباس (آیت) ” کذلک یتم نعمتہ علیکم لعلکم تسلمون “ (اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کو پورا فرماتے ہیں تاکہ تم اللہ کے سامنے جھک جاؤ) 2:۔ ابن ابی حاتم نے کسائی کے طریق سے حمزہ (رح) سے روایت کیا کہ اعمش ابوبکر اور عاصم یہ تینوں حضرات اس کو یوں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاللّٰهُ : اور اللہ ہی نے ] [ جَعَلَ : بنایا ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ مِّمَا : اس سے جو ] [ خَلَقَ : اس نے پیدا کیا ] [ ظِلٰلًا : کچھ سائے ] [ وَّجَعَلَ : اور اس نے بنائے ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ مِّنَ الْجبالِ : پہاڑوں میں سے ] [ اَكْنَانا : کچھ غار ] [ وَّجَعَلَ : اور اس نے بنائے ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ سَرَابِيْلَ : کچھ کرتے ] [ تَـقِيْكُمُ : وہ بچاتے ہیں تم کو ] [الْحَـرَّ : گرمی سے ] [ وَسَرَابِيْلَ : اور کچھ کرتے ] [ تَقِيْكُمْ : وہ بچاتے ہیں تم کو ] [ بَاْسَكُمْ ۭ: تمہاری جنگ میں ] [ كَذٰلِكَ : اس طرح ] [ يُتم : وہ پوری کرتا ہے ] [ نِعْمَتَهٗ : اپنی نعمت کو ] [ عَلَيْكُمْ :…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(5) پانچویں یوں فرمایا کہ اللہ نے تمہارے لیے بعض ایسی مخلوقات پیدا فرمائی ہیں جن سے تمہیں سایہ حاصل کرنے کا فائدہ ہوتا ہے اس میں درخت، مکانات بڑے بڑے پہاڑ اور وہ سب چیزیں داخل ہیں جن سے سایہ حاصل کیا جاتا ہے۔ (6) چھٹے نمبر پر یوں فرمایا کہ اللہ نے پہاڑوں میں تمہارے لیے پناہ لینے اور سر چھپانے کی جگہ بنائی، اس سے پہاڑوں کے غار مراد ہیں اور پہاڑوں کو کاٹ کر جو گھر بنالیتے ہیں وہ بھی اس کے عموم میں داخل ہیں۔ (7) ساتویں نمبر پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کرتے بنائے یعنی وہ چیزیں پیدا فرمائیں جن سے کرتے بنائے جاتے ہیں اس میں اون، روئی اور وہ سب چیزیں داخل ہیں جن سے کپڑے تیار کیے جاتے ہیں،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–83

رجور بسوئے دلائل توحید بتذکیر انعامات خداوند حمید قال اللہ تعالیٰ : واللہ انزل من السماء .... الیٰ .... واکثرھم ھم الکفرون۔ (ربط) اوپر سے بہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کا ذکر چلا آرہا ہے اور پھر اسی طرح سے یہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کو بیان فرماتے ہیں اور یہ دلائل معاد بھی ہیں اور دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل ہدایت بھی ہیں اور دلائل رحمت بھی ہیں۔ دور تک اسی طرح سلسلہ کلام چلا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کے انعامات کو ذکر فرمایا جو علاوہ نعمت ہونے کے اس کے کمال علم اور کمال قدرت اور حکمت کے دلائل بھی ہیں۔ (1) چناچہ واللہ انزل من السماء ماء سے اپنی قدرت کا بیان شروع فرمایا کہ آسمان سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

65:۔ اللہ تعالیٰ نے درختوں اور چھتوں کیلئے سائے بنا دئیے، پہاڑوں میں غاریں بنادیں جو وقتاً فوقتاً بارش، طوفانِ باد، دھوپ اور سردی سے بچنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ اون اور روئی وغیرہ پیدا کی جن سے سردی اور گرمی سے بچنے کے لیے لباس تیار کیا جاتا ہے۔ صرف گرمی کا ذکر فرمایا حالانکہ یہ کپڑے سردی سے بھی بچاتے ہیں اس لیے کہ عرب میں شدت کی گرمی پڑتی ہے جس سے بچنے کے لیے انہیں درختوں کے سایوں، پہاڑوں کے غاروں اور مختلف قسم کے کیڑوں کی ضرورت تھی۔ سردی وہاں اس قدر کم پڑتی ہے جو زیادہ اہتمام کے بغیر بھی برداشت کی جاسکتی ہے۔ ” تقیکم باسکم “ لوہے کی زرہیں جو جنگ میں پہنی جاتی تھیں تاکہ بدن پر تلوار یا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 80–83

(ربط آیات) شرک اور مشرکین کے رد کے بعد اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور جزائے عمل کی طرف اشارہ کیا ، پھر فرمایا کہ انسانوں کے تمام مخفی حالات سے صرف اللہ تعالیٰ ہی واقف ہے جو کائنات کی تمام مخفی چیزوں کو جانتا ہے قیامت کو بھی اپنے وقت پر وہی برپا کرے تا ، انسان قیامت کے وقت کے متعلق کچھ نہیں جانتے اور وہ اچانک ہی آئے گی ، انسان کی انفرادی موت بھی اچانک ہی واقع ہوجاتی ہے کوئی شخص اس کے وقت اور مقام کو نہیں جانتا گویا قیامت صغری اور قیامت کبری میں اس لحاظ سے مناسبت ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور وحدانیت کے دلائل کا ذکر کیا پہلے انسان کے جسم میں موجود بڑی بڑی نعمتوں کو یا ددلایا ، پھر پرندوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيْلَ تَـقِيْكُمُ الْحَـرَّ وَسَرَابِيْلَ تَقِيْكُمْ بَاْسَكُمْ ۭكَذٰلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ 81؀ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 77–83

ترکیب : اوھواقرب اوللتمثیل اوللتخییر وقیل لشک المخاطب وقیل بمعنی بل والجملۃ تمثیل لسرعۃ وقوع القیامۃ۔ مسخرات حال من الطیر۔ سکنًا بمعنی مسکون لاتعلمون جملہ حال ہے ضمیر منصوب امہاتکم سے۔ مایمسکہن جملہ حال ہے مسخرات سے۔ ظعن سفر۔ اثاتاً معطوف ہے سکنًا پر اور دونوں میں اصوافہا جار مجرور کا فصل مستقبح نہیں ہے کیونکہ جار مجرور بھی مفعول ہے اور ایک مفعول کا دوسرے پر مقدم کرنا قبیح نہیں الظعن بفتح العین وسکونہا کالنہرو ھوسیر اہل البادیۃ من موضع الیٰ موضع والصوف للغنم والوبرللابل والشعر للمغر اکنانا جمع کن وھو مایستکن بہ۔ تفسیر : ان آیات میں خدا تعالیٰ ان کے ان معبودوں کے مقابلہ میں کہ جن کو دو مثالوں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلاً وَّجَعَلَ لَکُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَکْنَانًا وَّجَعَلَ لَکُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْکُمُ الْحَرَّوَسَرَابِیْلَ تَقِیْکُمْ بَاْسَکُمْ ط کَذٰلِکَ یُتِمُّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تُسْلِمُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 81) (اور اللہ تعالیٰ ہی نے ان چیزوں سے جو اس نے پیدا کی ہیں تمہارے لیے سائے بنائے، اور تمہارے لیے پہاڑوں میں پناہ گاہیں بنائیں اور تمہارے لیے ایسے لباس بنائے جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں اور ایسے لباس بنائے جو تمہاری جنگ میں تمہیں محفوظ رکھتے ہیں، اسی طرح وہ تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو۔ ) مزید چند نعمتوں کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 81–83

فہم القرآن ربط کلام : انسان کی مستقل قیام گاہ کے بعد اس کی عارضی پناہ گاہوں اور اس کے لباس کا تذکرہ۔ دنیا میں انسان کی مستقل قیام گاہ اس کا گھر ہوتا ہے جو انسان کے لیے سکون اور سکونت کا باعث ہونے کے ساتھ گرمی، سردی اور اس کے سازوسامان کی حفاظت کا ذریعہ ہوتا ہے۔ انسان کا گھر بیشک جھونپڑی کی صورت میں کیوں نہ ہو وہ اسے اٹھائے ہوئے ہر جگہ نقل و حرکت نہیں کرسکتا۔ اس نے اپنی روزی اور دیگر حاجات کے لیے گھر سے باہر جانا ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری تھا کہ اس کے لیے عارضی طور پر ایسی قیام گاہیں ہوں جنہیں وہ گرمی، سردی اور سفری مشکلات کے وقت کچھ وقت کے لیے قیام کرسکے اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے درختوں اور پہاڑوں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

81: وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلاً (اللہ تعالیٰ نے بنا دیئے تمہارے لئے اس میں سے بعض چیزوں کے سائے) مثلاً درخت، چھتیں وَّ جَعَلَ لَکُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَکْنَانًا (اور اس نے بنائے پہاڑوں میں تمہارے لیے پناہ گاہیں) اکنان جمع کِنٌ کی ہے جو چیز تمہیں چھپائے جیسے غار، کھوہ، وَّ جَعَلَ لَکُمْ سَرَابِیْلَ (اور بنائے تمہارے لئے ُ کرتے) سرابیل ُ کرتوں کو کہتے ہیں اور اون کے کپڑوں پر بولا جاتا ہے اسی طرح کتان اور کپاس کے بنے ہوئے کپڑوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ تَقِیْکُمُ الْحَرَّ ( جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں) وہ سردی سے بھی بچاتے ہیں۔ مگر دونوں ضدوں میں سے ایک کے تذکرے پر اکتفاء کیا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (81)” واللہ جعل لکم مما خلق ظلالاً “ وہ گرمی سے بچنے کے لیے چھائوں میں بیٹھتے ہیں۔ خواہ وہ چھائوں درخت کی ہوں یا ٹیلے وغیرہ کی۔ ” وجعل لکم من الجبال اکناناً “ پہاڑ اور غار میں چھپنے کی جگہ۔” اکنانا کن “ کی جمع ہے چھپنے کا مقام، مکان وغیرہ۔ ” وجعل لکم سرابیل “ اور بنائے تمہارے لیے سوت، اون ، کنان، ریشم وغیرہ کے کچھ حصے۔” تقیکم “ جس سے تم بچتے ہو۔ ” الحر “ اہل معانی نے لھا ہے کہ تم اس سے سردی اور گرمی میں بچتے ہو۔ یہاں پر صرف (حر) کو ذکر کیا اور سردی کو اس پر چھوڑ دیا۔ ایک کو ذکر کرنے پر اکتفاء کیا۔ ” و سرابیل تقیکم باسکم “ اس سے مراد زرہیں، خود اور جنگی لباس۔ تم لڑائی میں اس سے اپنا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 80–83

80۔ 83۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ایک اور دلیل اپنی توحید کی بیان کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے آرام و آسائش کے لئے گھر بنا دئیے کہ جب چل پھر کر تھک جاؤ تو وہاں آکر آرام کرو راتوں کو اطمینان سے اس میں سو جاؤ تمہارے بال بچے ادھر ادھر مارے مارے نہ پھریں دھوپ کی گرمی سے امن پاؤ برسات میں مینہ کے بھیگنے سے بچو جاڑے کی سردی سے نجات پاؤ پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا اس حکمت سے تم اگر سفر میں جاؤ گے تو کہاں قیام کرو گے تمہارے واسطے چارپاؤں کے کھال کے خیموں چھولداریاں وغیرہ بنائے جس کو تم اپنے ساتھ لے جایا کرو اور آسانی سے اس کو نصب کرلیا کرو اور سونے بیٹھنے میں اس سے بہت بڑا نفع حاصل کرو پھر فرمایا کہ جانوروں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 80–82

آیت : (80-83) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمتیں یا دلاتا ہے اور ان سے ان نعمتوں کے اعتراف اور ان پر شکر کا مطالبہ کرتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (واللہ جعل لکم من بیوتکم سکنا) ” اور اللہ ہی نے تمہارے لئے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے گھر اور بڑے بڑے محلبنائے جو گرمی اور سردی سے بچاتے ہیں ‘ تمہیں ‘ تمہاری اولاد اور تمہارے مال و متاع کو ٹھکانا مہیا کرنے ہیں۔ تم ان گھروں میں ‘ اپنے مختلف اقسام کے فوائد اور مصالح کے لئے کمرے اور بالا خانے بناتے ہو۔ ان گھروں میں تمہارے مال و متاع اور تمہاری عزت و ناموس کی حفاظت ہے اور اس قسم کے دیگر فوائد جن کا روز مشاہد ہوتا ہے۔ (وجعل…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 80–88

جانوروں کی اون اور بال حلال ہیں قول باری ہے (ومن اصوافھا واوبارھا و اشعارھا اثا شاومت عا الی حین۔ اس نے جانوروں کے صوف اور اون اور بالوں سے تمہارے لئے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کردیں جو زندگی کی مدت مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں) جانور کی موت کے بعد اس کے جسم سے حاصل کردہ مذکورہ چیزوں سے فائدہ اٹھانے کے جواز پر آیت میں دلالت موجود ہے اس لئے کہ جانور کی موت سے پہلے اور موت کے بعد اس سے ان چیزوں کو حاصل کرنے کے مابین کوئی فرق نہیں رکھا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 81–83

167۔ سایوں کی نعمت کا انتظام : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ نے اپنی پیدا کردہ چیزوں سے تمہارے لیے طرح طرح کے سایوں کا بھی انتظام فرمایا۔ مکانوں، چھپروں، پہاڑوں، غاروں اور درختوں اور بادلوں وغیرہ کے ذریعے۔ تاکہ تم لوگ دھوپ کی تپش و تمازت سے بچ سکو اور طرح طرح کے ان سایوں کے اندر تم آرام کرسکو اور ٹھنڈی میٹھی نیند سو سکو۔ ورنہ تمہارا کیا حال ہوتا۔ تپتی دھوپ اور لو کے اندر تم جھلس کر رہ جاتے۔ سو اس گرمی اور لو سے بچنے کیلئے جب کسی ٹھنڈے پر سکون سائے میں بیٹھوتوسوچو کہ اس ٹھنڈے پر سکون اور راحت بخش سائے کی اس نعمت سے ہمیں کس نے نوازا وہ کیسی قدرت وحکمت اور رحمت و عنایت والی ذات ہے ؟ اور اس کا ہم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 80–83

اللہ کے انعامات اور کفار کی ہٹ دھرمی تشریح : ان آیات میں بھی اللہ کی طرف سے دی گئی کچھ اور نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ تمام نعمتیں مستقل جاری وساری رہنے والی ہیں اور یہ سب انسان کو ذہنی اور جسمانی سکون حاصل کرنے کے لیے دی گئی ہیں۔ ان میں سب سے پہلے گھر کا ذکر کیا گیا ہے کہ گھر انسان کے سکون کی بہترین جگہ ہے۔ گھر اوپر سے بنا کر اللہ نے نہیں دیا بلکہ گھر بنانے کی تمام چیزیں مہیا کردی گئیں اور ساتھ میں عقل و فہم اور علم و ادراک بھی دے دیا پہلے خاندان کے رہن سہن کو بڑی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے اور حلال حرام کا بھی ذکر ہوچکا ہے اب جانوروں کے وہ فائدے بیان کیے جا رہے ہیں جو ان کی کھال اور اون…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 77–83

(رکوع نمبر 1 1) اسرارومعارف جو انسانی منصوبہ بندیاں اور اندازے ہیں جن کی بنیاد پر لوگ رب جلیل کو بھی عام انسانوں کی طرح تصور کرکے مثالیں دیتے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں کہ زمین اور آسمانوں میں یا ساری مخلوق میں غیب کا علم تو صرف اللہ جل جلالہ کو ہے اور کل کیا ہونے والا ہے یا آئندہ کیا پیش آئے گا یہ صرف اللہ جل جلالہ جانتا ہے ، لہذا انسان کی بہتری اسی کی اطاعت میں ہے ، ورنہ انسان کو تو یہ بھی خبر نہیں کہ کس گھڑی سب کچھ تہ وبالا ہوجائے گا اور پلک جھپکنے میں قیامت قائم ہوجائے گی اللہ جل جلالہ تو یقینا جانتا ہے بلکہ وہی ذات قیامت قائم کرنے والی ہے اور یقینا وہ ہر بات پہ کامل قدرت رکھتا ہے لہذا اسی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 اور سردی سے بھی چونکہ سخت گرمی اور بادسموم سے بچنے کے لئے کپڑوں کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ اس لئے گرمی سے بچنے کا ذکر خصوصیت کے ساتھ فرما دیا۔ (شوکانی) 3 یعنی سلمان بنو اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ کی بےپایاں نعمتوں پر غور کرے گا ضرور ہے کہ وہ یہاں بلکہ میں کی اطاعت اختیار کرے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:81) ظللا۔ بوجہ مفعول منصوب ہے۔ ظل کی جمع۔ سائے۔ ان المتقین فی ظلل وعیون (77:41) بیشک پرہیزگار لوگ سایوں اور چشموں میں ہوں گے۔ اکنانا۔ بوجہ مفعول منصوب ہے اکنان جمع ، اس کی واحد کن ہے چھپنے کی جگہ، حفاظت کی جگہ۔ کن یکن (نصر) کن کنون واکن گھر میں چھپانا۔ دھوپ سے بچانا۔ الکن ہر وہ چیز جس میں کسی چیز کو محفوظ رکھا جائے۔ کننت الشیٔ کنا۔ میں نے چیز کو کن میں محفوظ کردیا۔ کننت (ثلاثی مجرد) خصوصیت کے ساتھ کسی مادّی شے کو گھر یا کپڑے وغیرہ میں چھپانے پر بولا جاتا ہے۔ مثلاً کانہم لؤلؤ مکنون (52:24) جیسے چھپائے ہوئے موتی۔ آیہ ہذا : وجعل لکم من الجبال اکنانا۔ اور اس نے تمہارے لئے پہاڑوں میں غاریں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 77–83

لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 83 امرالساعۃ قیامت کا حال۔ لمح البصر آنکھ کا جھپکنا، آنکھ کا بند ہونا۔ اقرب زیادہ قریب۔ بطون (بطن) پیٹ۔ شیئاً کچھ بھی۔ السمع سننا، کان الابصار (بصر) آنکھیں۔ الافئدۃ دل، قلب۔ الطیر پرندہ۔ فی جو السمآء آسمان کی فضا میں۔ مایمسک نہیں تھامتا۔ سکن ٹھکانا، رہنے کی جگہ۔ جلود (جلد) کھالیں۔ تستخفون تم ہلکا پھلکا پاتے ہو۔ یوم ظعن سفر کے دن، کوچ کے دن۔ یوم اقامۃ ٹھہرنے کے دن۔ اصواف (صوف) اون۔ اوبار (وبر) اونٹ کا نرم رواں۔ اشعار (شعر) بال۔ اثاثاً سامان اسباب۔ متاعاً سامان۔ حین وقت ، زمانہ۔ ظلال سائے۔ اکنان صکن) چھپنے کی جگہ۔ سرابیل (سربال) کرتے۔ تقیکم تمہیں بچاتا ہے۔ باس لڑائی،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اس آیت میں فرمایا کہ یہ نعمتیں جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائیں کہ خیمے وغیرہ یہ درحقیقت امیروں کے لئے ہیں مگر بےچارے غریب جو سفر میں آتے جاتے رہتے ہیں ان کی رفع تکلیف کے لئے یہ سامان راحت مہیا کردیا کہ جا بجا راستوں میں درخت پیدا کردیئے ہیں تاکہ آنے جانے والے مسافر دھوپ میں اس کے سائی میں آرام حاصل کریں اور مینہ میں بھی کچھ اس کے نیچے پناہ پکڑیں۔ اور پہاڑ اور پہاڑ کی گھاٹیاں تمہارے سایہ میں ٹھہرنے کے واسطے ایک عمدہ جگہ تیار کی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی عام نعمت کا ذکر فرمایا جو امیروں اور غریبوں پر یکساں ہے کہ تمہارے لئے پہننے کے کپڑے اس لئے بنائے کہ گرمی میں کو پہنو تو لو وغیرہ سے بچو اور…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 81–82

(ف 1) رہائش کے متعلق انعامات گنائے ہیں کہ کیونکر تمہارے لئے اللہ نے سہولتیں مہیا کی ہیں ، تمہیں مکانات دیئے ہیں ، جو آرام و راحت کا باعث ہیں یہ مسکن ہیں تمہارے لئے خیموں اور قناتوں کا انتظام کیا ہے ، کہ جہاں چاہو ، گھر بنا لو ، اور جو بہت غریب ہیں ان کے لئے دامن کوہ میں سایہ کا انتظام کیا ہے ، وہ گھنے درختوں کے تلے آرام پاتے ہیں ، تمہیں ملبوسات عطا کئے ہیں جو سردی اور گرمی کے لئے جدا جدا اور گوناگون ہیں کچھ وہ ہیں جو جنگ میں کام آتے ہیں غرض یہ ہے کہ تم اللہ کی ان تمام نعمتوں کا استعمال کرو اور شکریہ ادا کرو ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

81 ۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں میں سے بعض چیزوں کے تمہارے لئے سائے بنائے اور پہاڑوں میں تمہارے لئے چھپنے کی جگہیں اور ٹھکانے بنائے اور تمہارے لئے ایسے کرتے بنائے جو گرمی سے تم کو بچاتے ہیں اور ایسے کرتے بھی بنائے جو لڑائی میں تمہاری حفاظت کا کام دیں اور تمہاری آپس کی لڑائی میں تم کو بچاتے ہیں اللہ تعالیٰ اسی طرح تم پر اسی نعمتیں پوری کرتا ہے تا کہ تم فرمانبرداربنو اور حکم مانو ۔ سائے جیسے درختوں اور مکانوں اور پہاڑوں کے کرتے جو گرمی اور لو سے بچائو اور لڑائی سے بچائو کے لئے زر ہیں جو زخم لگنے سے حفاظت کریں جب ظاہری نعمتوں کا یہ حال ہے تو باطنی نعمتوں اور مہربانیوں کا اندازہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 81–82

ف 2۔ یعنی غار وغیرہ جس میں گرمی، سردی، بارش، موذی دشمن آدمی جانور سے محفوظ رہ سکتے ہو۔ 3۔ مراد اس سے زرہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس دنیا میں کیا کچھ ہی پیدا کردیا ہے : 93۔ اگر کوئی شخص انعامات الہی کو گننا چاہے تو ممکن نہیں کہ وہ گن سکے وہ انعامات جو روز مرہ زندگی کے استعمال میں آنے والے ہیں اور ہر انسان کو قدرتی طور پر اللہ تعالیٰ نے برابری کے طور پر مہیا کردیئے ہیں انکی بھی کمی نہیں اور وہ انعامات بھی جن کو حاصل کرنے کی انسانی مین صلاحیت ودیعت فرما دی ہے اور ہر انسان محنت کرکے ان سے مستفید ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے غور کرو کہ گرمی کا موسم ہو سورج اپنی پوری تمازت کے چمک رہا ہو اور سخت لو چل رہی ہو آپ اس وقت کسی گھنے درخت کے سایہ میں بیٹھ کر دیکھیں یا سستانے کے لئے ذرا رک جائیں آپ کو پتہ چلے گا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 81–88

Finally, a note about the statement: سَرَ‌ابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ‌ (shirts which protect you from heat - 81). Here, protection from heat has been identified as the purpose of a shirt - though, a shirt protects one from heat and cold both. This has been answered by Imam Al-Qurtubi and other commentators by saying that the Holy Qur’ an has been revealed in the Arabic language, its first addressees are Arabs, therefore, it speaks by taking Arab habits and needs into account. Arabia is a hot country where the very thought of snow and winter chill is far-fetched, therefore, the statement was…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 81–82

76. The Quran has not mentioned protection from cold for either of the two reasons: (1) Because the use of garments in the summer season is a symbol of cultural perfection and obviously there is no need to mention the lower stages of culture. Or (2) the use of garments in hot countries has specially been mentioned because the main use of garments there is for protection from the hot pestilential furious wind. Therefore, one has to cover one’s head, neck, ears, and the whole of his body to protect it from the hot wind which would otherwise scorch him to death. 77. That is, Armors. 78.“Thus…

Read the full tafseer →