Explained with ayahs 80–83
احسانات الٰہی کی ایک جھلک
قدیم اور بہت بڑے ان گنت احسانات وانعامات والا اللہ اپنی اور نعمتیں ظاہر فرما رہا ہے۔ اسی نے بنی آدم کے رہنے سہنے آرام اور راحت حاصل کرنے کے لئے انہیں مکانات دے رکھے ہیں۔ اسی طرح چوپائے، جانوروں کی کھالوں کے خیمے، ڈیرے، تمبو اس نے عطا فرما رکھے ہیں کہ سفر میں کام آئیں، نہ لے جانا دو بھر نہ لگانا مشکل، نہ اکھیڑنے میں کوئی تکلیف۔ پھر بکریوں کے بال، اونٹوں کے بال، بھیڑوں اور دنبوں کی اون، تجارت کے لئے مال کے طور پر اسے تمہارے لیے بنایا ہے۔ وہ گھر کے برتنے کی چیز بھی ہے اس سے کپڑے بھی بنتے ہیں، فرش بھی تیار ہوتے ہیں، تجارت کے طور پر مال تجارت ہے۔ فائدے کی چیز ہے جس سے لوگ…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 74
یعنی چمڑے کے خیمے جن کا رواج عرب میں بہت ہے۔
سورة النَّحْل 75
یعنی آپ کوچ کرنا چاہتے ہو تو انہیں آسانی سے تہ کر کے اٹھا لے جاتے ہو اور جب قیام کرنا چاہتے ہو تو آسانی سے ان کو کھول کر ڈیرا جما لیتے ہو۔
Read the full tafseer →وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُيُوْتِكُمْ سَكَنًا بیوت بیت کی جمع ہے جس مکان میں رات گذاری جاسکے اس کو بیت کہتے ہیں امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں فرمایا۔
کل ماعلاک فاظلک فہو سقف وسمآء وکل ماقللک فہو ارض وکل ما سترک من جھاتک الاربع فھوجدار فاذا انتظمت واتصلت فہو بیت جو چیز تمہارے سر سے بلند ہو اور تم پر سایہ کرے وہ چھت یا سما کہلاتی ہے اور جو چیز تمہارے وجود کو اپنے اوپر اٹھائے وہ زمین ہے اور جو چیز چاروں طرف سے تمہارا پردہ کر دے وہ دیواریں ہیں اور جب یہ سب چیزیں جمع ہوجائیں تو وہ بیت ہے۔
گھر بنانے کا اصل مقصد قلب وجسم کا سکون ہے
اس میں حق تعالیٰ نے انسان کے بیت یعنی گھر کو سکن فرما کر گھر…
Read the full tafseer →وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُيُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُيُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ اِقَامَتِكُمْ ۙ وَمِنْ اَصْوَافِهَا وَاَوْبَارِهَا وَاَشْعَارِهَآ اَثَاثًا وَّمَتَاعًا اِلٰى حِيْنٍ۔
خود اپنے حالات پر غور کرنے کی دعوت : یعنی پرندوں کو تو تم نے دیکھا کہ ان کا خیمہ و خرگاہ سب ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اب ذرا اپنے حالات پر غور کرو کہ اللہ نے کس کس طرح تم کو اپنی نعمتوں سے نوازا ہے۔ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو وجہ سکون و راحت بنایا، دن بھر کے تھکے ماندے جب تم اپنے گھروں کو واپس لوٹتے ہو تو کیسی راحت پاتے ہو اور رات…
Read the full tafseer →80۔ 1 یعنی چمڑے کے خیمے، جنہیں تم سفر میں آسانی کے ساتھ اٹھائے پھرتے ہو، اور جہاں ضرورت پڑتی ہے اسے تان کر موسم کی شدتوں سے اپنے کو محفوط کرلیتے ہو۔
80۔ 2 اَ صْوَاف، صُوْف، کی جمع۔ بھیڑ کی اون اَوْبَار، وَبَر، کی جمع، اونٹ کے بال، اَشْعَار، شَعَر، کی جمع، دنبے اور بکری کے بال۔ ان سے کئی قسم کی چیزیں تیار ہوتی ہیں، جن سے انسان کو مال بھی حاصل ہوتا ہے اور ان سے ایک وقت تک فائدہ بھی اٹھاتا ہے۔
Read the full tafseer →33: ان گھروں سے مراد وہ خیمے ہیں جو چمڑے سے بنائے جاتے ہیں، اور عرب کے لوگ انہیں سفر میں ساتھ لے جاتے تھے تاکہ جہاں چاہیں، انہیں نصب کر کے پڑاؤ ڈال لیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
پرندے زمین و آسمان کی فضا میں مسخر ہیں۔ یہ اسی میں اڑتے پھرتے ہیں ، ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ منظر ہم بار بار دیکھتے ہیں اور بار بار دیکھنے کی وجہ سے اس کے اندر جو عجوبہ ہے ، وہ غیر محسوس ہوگیا ہے۔ اس کی طرف انسان کا دل و دماغ تب توجہ کرتا ہے جب وہ جاگنے والا ہو ، اور اس کو شاعرانہ قوت مشاہدہ دی گئی ہو۔ ایک شاعرانہ ظرف نگاہی رکھنے والا شخص تو اس پر ایک نظم اور قصیدہ لکھ سکتا ہے اور وہ بےساختہ اس قدیم ، مالوف اور جدید شاعرانہ منظر کو دیکھ کر یہ کہہ سکتا ہے۔
یا یمسکھن الا اللہ (61 : 97) ” اللہ کے سوا کس نے انہیں تھام رکھا ہے “۔ یہ کس طرح ، پرندوں کی فطرت ہی ایسے اصولوں پر وضع کی گئی ، اس کے…
Read the full tafseer →4 یعنی اینٹ، پتھر، لکڑی وغیرہ کے مکان۔
5 یعنی اینٹ پتھر کے مکانوں کو کہیں منتقل نہیں کرسکتے تھے، اس لیے چمڑے اور اون وغیرہ کے ڈیرے خیمے بنانے سکھا دیے جو بسہولت منتقل کیے جاسکتے ہیں۔ سفر و حضر میں جہاں چاہو نصب کرلو اور جب چاہو لپیٹ کر رکھ دو ۔ بعض نے (يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ اِقَامَتِكُمْ ) 16 ۔ النحل :80) کا یہ مطلب لیا ہے کہ چلنے کے وقت اٹھانے میں اور کسی جگہ اترتے وقت نصب کرنے میں ہلکے رہتے ہیں۔
6 یعنی اونٹ کی پشم سے۔
7 یعنی ان چیزوں سے کتنے سامان رہائش اور آسائش کے تیار کئے جاتے ہیں جو ایک وقت معین یا مدت دراز تک کام دیتے ہیں۔ اگر خدا تعالیٰ آنکھ، کان اور ترقی کرنے والے دل و دماغ نہ…
Read the full tafseer →وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُيُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ اِقَامَتِكُمْ
جانوروں کی کھالوں سے بنائے گئے خیمے بہت ہلکے پھلکے ہوتے ہیں۔ چناچہ دوران سفر بھی انہیں اٹھانا آسان ہوتا ہے اور اسی طرح جب اور جہاں چاہیں انہیں آسانی سے گاڑ کر آرام دہ قیام گاہ بنائی جاسکتی ہے۔
وَمِنْ اَصْوَافِهَا وَاَوْبَارِهَا وَاَشْعَارِهَآ اَثَاثًا وَّمَتَاعًا اِلٰى حِيْنٍ
قبل ازیں آیت 5 میں جانوروں کے بالوں کی افادیت کے حوالے سے ”دِفْ ءٌ“ کا لفظ استعمال ہوا تھا ‘ جس میں سردی کی شدت سے بچنے کے لیے کپڑا تیار کرنے کی طرف اشارہ تھا۔ یہاں اس سلسلے میں وضاحت سے بتایا گیا ہے کہ…
Read the full tafseer →82 خارجی اثرات سے انسان کو بچانے والی اشیاء :۔ ان آیات میں اللہ کی ان نعمتوں کا ذکر ہے جو انسان کو خارجی اثرات مثلاً دھوپ، گرمی، سردی، بارش وغیرہ سے محفوظ رکھتی ہیں۔ ان نعمتوں میں سب سے پہلے ان گھروں کا ذکر جنہیں لوگ آبادیوں میں اپنی رہائش کے لیے بناتے ہیں۔ جو مٹی، اینٹ، پتھر، گارا اور لکڑی وغیرہ سے تیار ہوتے ہیں اور یہ سب چیزیں زمین سے حاصل ہوتی ہیں جسے اللہ نے انسان کی پیدائش سے مدتوں پہلے پیدا کردیا تھا۔ پھر ان خانہ بدوشوں کے گھروں کا ذکر فرمایا جو پہلی قسم کے گھروں کی نسبت بہت ہلکے پھلکے اور قابل انتقال ہوتے تھے اور یہ وہ خیمے ہیں جو مویشیوں کے چمڑوں یا موٹے ریشوں سے بنتے ہیں اور یہ مویشی…
Read the full tafseer →126۔ (اور اس لئے سفر میں ان کا لادنا، اکھاڑنا، نصب کرنا سب سہل معلوم ہوتا ہے) (آیت) ” جعل لکم من بیوتکم سکنا “۔ یہ حالت حضر کا ذکر ہے، اور اس کے معا بعد خیموں کی سفری زندگی کا بیان ہے، گویا انسانی معاشرت کی دونوں حالتوں کی مکمل تصویر آگئی، (آیت) ” من بیوتکم سکنا “۔ یہ اینٹ اور پتھر اور مٹی، اور چونے اور لکڑی کے گھر، بیشتر انسانی آبادی کے مسکن، انسان کے لئے راحت قلب و سکون خاطر کا کتنا بڑا ذریعہ اور سبب ہیں، اس کی قدر کوئی اس غریب سے پوچھے، جو بیچارہ بےگھرا ہو، اور اپنا چھوٹا بڑا کوئی مکان بھی نہ رکھتا ہو ! جس طرح ہم بچپن سے کپڑے پہنے رہنے کے اس قدر عادی ہوگئے ہیں کہ ہمیں ان کا وزن تک نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
آیت نمبر 77 تا 83
ترجمہ : آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا علم اللہ ہی کو ہے یعنی ان دونوں میں مخفی چیزوں کا علم، قیامت کا معاملہ تو بس ایسا ہوگا جیسا کہ پلک کی ایک جھپک یا اس سے بھی جلدی، اسلئے کہ وہ لفظ کن سے ہوگا، تو وہ ہوجائے گی، یقیناً اللہ ہر شئ پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حال میں پیدا کیا کہ تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے (لاتعلمون شیئًا) کم ضمیر سے حال ہے، اور اس نے تمہیں کان دیئے سمع، اسماعٌ کے معنی میں ہے اور آنکھیں دیں اور دل دیئے تاکہ تم ان کا شکریہ ادا کرو، اور ایمان لے آؤ، کیا لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا ؟ کہ وہ پرواز کے لئے آسمان کی فضاء میں…
Read the full tafseer →وا اللہ جعل لکم من بیوتکم سکنا وجعل لکم من جلود الانعام بیوتا تستخفونھا یوم ظعنکم ویوم اقامتکم اور اللہ ہی نے تمہارے واسطے گھروں میں رہنے کی جگہ بنائی اور تمہارے واسطے جانوروں کی کھال کے گھر (یعنی چرمی خیمے) بنائے جن کو تم اپنے سفر اور قیام کے زمانے میں ہلکا پھلکا پاتے ہو۔ کھالوں کے گھروں سے مراد ہیں : چرمی ڈیرے ‘ خیمے ‘ چھولداریاں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اون اور بالوں سے بنے ہوئے ڈیرے ‘ خیمے بھی اس لفظ کے اندر شامل ہوں کیونکہ بال اور اون ‘ کھال کی پیداوار ہے ‘ لہٰذا چمڑے ہی کے حکم میں ہے۔ یوم ظعن کوچ کا دن ‘ یعنی سفر کا زمانہ۔ یوم اقامت ٹھہرنے یا کہیں اترنے کا وقت۔
ومن اصوافھا واوبارھا واشعارھا…
Read the full tafseer →(80) اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حالت حضر میں تمہارے گھروں میں رہنے کی جگہ بنائی اور حالت سفر میں جانوروں کی کھالوں اور ان کی اون اور بالوں کے تمہارے لیے خیمے اور شامیانے بنائے جن کے بوجھ کو تم اپنے سفر کے دن اور اپنے ٹھہرنے کے دن ہلکا پھلکا پاتے ہو (اور مثلا) بکریوں کی اون اونٹوں کے روؤں اور دنبوں کے بالوں سے تمہارے گھر کے سامان نفع کی چیزیں ایک مدت یعنی ختم ہونے اور پرانے ہونے تک کے لیے بنائیں۔
Read the full tafseer →وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُيُوْتِكُمْ سَكَنًا : ”بُیُوْتٌ“ ”بَیْتٌ“ کی جمع ہے۔ قرطبی ؓ نے فرمایا، جو تمہارے اوپر ہو، سایہ کر رہی ہو اسے سقف، چھت اور سماء کہتے ہیں، جو نیچے ہو اسے ارض کہتے ہیں اور جو چاروں طرف سے تمہارے لیے پردہ کر رہی ہو اسے جدار (دیوار) کہتے ہیں اور جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ ترتیب کے ساتھ منظم ہوجائیں تو وہ بیت (گھر) ہے۔ ”سَكَنًا“ مصدر ہے، اس کا معنی کسی جگہ میں رہنا بھی ہے، جیسے فرمایا : (اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ) [ الطلاق : 6 ] ”انھیں (یعنی مطلقہ بیویوں کو) وہاں سے رہائش دو جہاں تم رہتے ہو، اپنی طاقت کے مطابق۔“ اس کا معنی سکون اور راحت…
Read the full tafseer →آیت نمبر 80
اس میں دس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : جعل لکم اس کا معنی صیر ہے۔ اور ہر وہ شے جو تجھ پر بلند ہو اور تجھے سایہ کرے تو وہ سقف (چھت) اور سماء ہے، اور ہر وہ شے جو تیرے نیچے ہو وہ ارض (زمین) ہے، اور ہر وہ جو تجھے چاروں جہتوں سے ڈھانپ لے وہ دیوار ہے۔ اور جب یہ باہم منظم ہوجائیں اور آپس میں مل جائیں تو وہ بیت (گھر، کمرہ) کہلاتا ہے۔ اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا شمار ہے جو لوگوں پر گھروں میں ہیں، پس پہلے شہری گھروں کا ذکر کیا اور یہ وہ ہیں جو طویل اقامت کے لئے بنائے جاتے ہیں۔ اور قولہ تعالیٰ : سکنا یعنی تم ان میں سکونت اختیار کرتے ہو اور تمہارے اعضائے بدن حرکت سے…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واللہ جعل لکم من بیوتکم سکنا “ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے گھر بنائے ہیں جن میں تم رہتے ہو۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واللہ جعل لکم من بیوتکم سکنا “ یعنی تم اس میں رہتے ہو اور قرار پکڑتے ہو کہ (آیت) ” وجعل لکم من جلود الانعام بیوتا “ اور اس سے مراد دیہاتیوں کے خیمے ہیں (آیت) ” تستخفونھا “ یعنی تم اٹھانے میں (ہلکا محسوس کرتے ہو) ” (آیت) ” ومتاعا الی حین “ یعنی موت تک (ساری نعمتوں سے نفع اٹھاتے ہو)
3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” تستخفونھا یوم ظعنکم “ کہ…
Read the full tafseer →[وَاللّٰهُ : اور اللہ ہی نے ] [ جَعَلَ : بنایا ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ مِّنْۢ بُيُوْتِكُمْ : تمہارے گھروں سے ] [ سَكَنًا : آرام ] [ وَّجَعَلَ : اور اس نے بنائے ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ مِّنْ جُلُوْدِ الْانعام : چوپایوں کی کھالوں سے ] [ بُيُوْتًا : کچھ گھر ] [ تَسْتَخِفُّوْنَهَا : تم لوگ ہلکا پاتے ہو جن کو ] [ يَوْمَ ظَعْنِكُمْ : اپنے کوچ کرنے کے دن ] [ وَيَوْمَ اِقَامَتِكُمْ ۙ: اور اپنی اقامت کرنے کے دن ] [ وَمِنْ اَصْوَافِهَا : اور ان کے اونوں سے ] [ وَاَوْبَارِهَا : اور ان کی پشموں سے ] [ وَاَشْعَارِهَآ : اور ان کے بالوں سے ] [ اَثَاثًا : (اس نے بنائے) کچھ گرہستی کے سامان ] […
Read the full tafseer →(3) پھر انسانوں کے گھروں کا تذکرہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے گھر بنائے جن میں وہ رہتے ہیں اور سکون پاتے ہیں، یہ گھر مٹی سے بھی بنالیتے ہیں اور اینٹ پتھر سے بھی، اور چھتیں پختہ بھی بنالیتے ہیں اور گھاس پھونس کے چھپر بھی ڈال لیتے ہیں، یہ سب چیزیں اللہ جل شانہٗ نے پیدا فرمائیں اور دلوں میں ڈالا کہ ان کے ذریعہ گھر بنائے جاسکتے ہیں کچھ گھر ایسے ہیں جو جانوروں کی کھالوں سے تیار کیے جاتے ہیں ان کھالوں کو رنگ کرکے اور سکھاکر خیمے بنالیے جاتے ہیں۔ یہ خیمے ہلکے ہوتے ہیں جو عموماً سفر میں استعمال کیے جاتے ہیں سفر میں کہیں پڑاؤ ڈالتے ہیں، ان خیموں کو لگا کر قیام اور آرام کرتے ہیں۔
(4) چوتھے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–83
رجور بسوئے دلائل توحید بتذکیر انعامات خداوند حمید
قال اللہ تعالیٰ : واللہ انزل من السماء .... الیٰ .... واکثرھم ھم الکفرون۔
(ربط) اوپر سے بہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کا ذکر چلا آرہا ہے اور پھر اسی طرح سے یہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کو بیان فرماتے ہیں اور یہ دلائل معاد بھی ہیں اور دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل ہدایت بھی ہیں اور دلائل رحمت بھی ہیں۔ دور تک اسی طرح سلسلہ کلام چلا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کے انعامات کو ذکر فرمایا جو علاوہ نعمت ہونے کے اس کے کمال علم اور کمال قدرت اور حکمت کے دلائل بھی ہیں۔
(1) چناچہ واللہ انزل من السماء ماء سے اپنی قدرت کا بیان شروع فرمایا کہ آسمان سے…
Read the full tafseer →64:۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا انعام ہے کہ اس کے انسان کو آسمان کی طرح ہر آن متحرک اور پہاڑوں کی مانند ہر وقت ساکن پیدا نہیں فرمایا بلکہ حرکت کے بعد سکون کا تقاضا اس کی فطرت کا لازمہ قرار دیا اور گھروں کو آرام و راحت کی جگہ بنایا۔ یہ چوپائے بھی اللہ نعمت ہیں ان سے آدمی کس قدر کام لیتا ہے۔ ان کے چمڑوں سے گھر (یعنی خیمے اور سائبان) بناتا ہے جو ہلکے پھلکے ہوتے ہیں۔ سفر و حضر میں ان کے اٹھانے اور نصب کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ عرب کے خانہ بدوش قبائل ایسے خیموں سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ اونٹوں، بھیڑوں اور بکریوں کے بالوں سے مختلف قسم کا سامان مثلاً کمبل، گدے، نمدے اور کوٹ وغیرہ تیار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
(ربط آیات)
شرک اور مشرکین کے رد کے بعد اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور جزائے عمل کی طرف اشارہ کیا ، پھر فرمایا کہ انسانوں کے تمام مخفی حالات سے صرف اللہ تعالیٰ ہی واقف ہے جو کائنات کی تمام مخفی چیزوں کو جانتا ہے قیامت کو بھی اپنے وقت پر وہی برپا کرے تا ، انسان قیامت کے وقت کے متعلق کچھ نہیں جانتے اور وہ اچانک ہی آئے گی ، انسان کی انفرادی موت بھی اچانک ہی واقع ہوجاتی ہے کوئی شخص اس کے وقت اور مقام کو نہیں جانتا گویا قیامت صغری اور قیامت کبری میں اس لحاظ سے مناسبت ہے ،
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور وحدانیت کے دلائل کا ذکر کیا پہلے انسان کے جسم میں موجود بڑی بڑی نعمتوں کو یا ددلایا ، پھر پرندوں…
Read the full tafseer →وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُيُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُيُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ اِقَامَتِكُمْ ۙ وَمِنْ اَصْوَافِهَا وَاَوْبَارِهَا وَاَشْعَارِهَآ اَثَاثًا وَّمَتَاعًا اِلٰى حِيْنٍ 80
بيت
أصل البیت : مأوى الإنسان باللیل، قال عزّ وجلّ : فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] ،
( ب ی ت ) البیت
اصل میں بیت کے معنی انسان کے رات کے ٹھکانہ کے ہیں ۔ کیونکہ بات کا لفظ رات کو کسی جگہ اقامت کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
ترکیب : اوھواقرب اوللتمثیل اوللتخییر وقیل لشک المخاطب وقیل بمعنی بل والجملۃ تمثیل لسرعۃ وقوع القیامۃ۔ مسخرات حال من الطیر۔ سکنًا بمعنی مسکون لاتعلمون جملہ حال ہے ضمیر منصوب امہاتکم سے۔ مایمسکہن جملہ حال ہے مسخرات سے۔ ظعن سفر۔ اثاتاً معطوف ہے سکنًا پر اور دونوں میں اصوافہا جار مجرور کا فصل مستقبح نہیں ہے کیونکہ جار مجرور بھی مفعول ہے اور ایک مفعول کا دوسرے پر مقدم کرنا قبیح نہیں الظعن بفتح العین وسکونہا کالنہرو ھوسیر اہل البادیۃ من موضع الیٰ موضع والصوف للغنم والوبرللابل والشعر للمغر اکنانا جمع کن وھو مایستکن بہ۔
تفسیر : ان آیات میں خدا تعالیٰ ان کے ان معبودوں کے مقابلہ میں کہ جن کو دو مثالوں…
Read the full tafseer →وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ م بُیُوْتِکُمْ سَکَنًا وَّجَعَلَ لَکُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَھَا یَوْمَ ظَعْنِکُمْ وَیَوْمَ اِقَامَتِکُمْ لا وَمِنْ اَصْوَافِھَا وَاَوْبَارِھَا وَ اَشْعَارِھَآ اَثَاثًا وَّمَتَاعًا اِلٰی حِیْنٍ ۔ (سورۃ النحل : 80)
(اور اللہ تعالیٰ نے بنایا تمہارے لیے تمہارے گھروں کو آرام و سکون کی جگہ، اور بنائے تمہارے لیے جانوروں کی کھالوں سے گھر (خیمے) ، جنھیں تم ہلکا پھلکا پاتے ہو، سفر کے دن بھی اور قیام کے دن بھی اور اسی نے بنائے ہیں بھیڑوں کی صوف اور اونٹوں کی اون اور بکریوں کے بالوں سے مختلف گھریلو سامان اور استعمال کی چیزیں ایک وقت مقرر تک۔…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : پرندوں کے بعد چوپاؤں کے حوالے سے خدا کی قدرت کا شعور دیا جارہا ہے۔
اللہ تعالیٰ انسان کو اس کے ماحول کے حوالے سے اپنی قدرت کا شعور دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو سکون اور سکونت کا باعث بنایا اور تمہیں صلاحیت عنایت فرمائی کہ تم چوپاؤں کی کھالوں سے گھر یعنی خیمے بناتے ہو جو نقل مکانی کی اور پڑاؤ ڈالنے کی شکل میں تمہارے لیے پھلکے ہوتے ہیں پھر چوپاؤں کی اون، پشم اور بالوں سے رہنے سہنے کے لیے سامان اور پہننے کے لیے اپنا لباس بنانے کے ساتھ اپنی زندگی کے لیے دیگر فوائد حاصل کرتے ہو۔ بھیڑ کی اون کو صوف کہا جاتا ہے جس کی جمع اصواف ہے…
Read the full tafseer →80: وَاللّٰہُ جَعَلَ لَـکُمْ مِّنْ 0 بُیُوتِکُمْ سَکَنًا (اور اللہ تعالیٰ نے ہی تمہارے لئے گھروں میں رہائش کی جگہ بنائی) سَکَنًا مصدر ہے یہ سکن بمعنی مسکون جہاں رہائش اختیار کی جائے۔ اور اس کی طرف علیحدگی اختیار کی جائے جیسے گھر یا انس کی جگہ وَّ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ جُلُوْدِالْاَنْعَامِ بُیُوْتًا (اور تمہارے لئے چو پایوں کی کھال کے گھر بنائے) اس سے چرمی خیمے مراد ہیں۔ تَسْتَخِفُّوْنَھَا (جن کو ہلکا پھلکا پاتے ہو) لگانے کیلئے اٹھانے میں ان کو ہلکا پھلکا پاتے ہو اور اسی طرح اکھاڑنے اور منتقل کرنے کیلئے ہلکا پاتے ہو۔ یَوْمَ ظَعْنِکُمْ (تمہارے کوچ کے دن)
قراءت : کوفی شامی نے عین کے سکون سے پڑھا۔…
Read the full tafseer →(80)” واللہ جعل لکم من بیوتکم “ گھر خواہ پتھر کے ہوں یا مٹی کے ہوں۔ ” سکنا “ اور ان کو اپنے لیے ٹھہرنے کی جگہ بنائو۔ ” وجعل لکم من جلود الانعام بیوتاً “ اس سے مراد خیمے ، قباب ( گنبد نما گھر) چٹائیاں، خواہ وہ اون کی ہوں یا کھال کی۔ ” تستخفونھا “ جن کو اٹھانے میں آسانی ہوتی ہے۔” یوم ظعنکم “ اپنی سواریوں کو سفر پر بھیجنے کی غرض سے۔ ابن عامر اور اہل کوفہ نے عین کے ساکن کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے حضرات نے اس کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” ویوم اقامتکم “ یعنی تمہارے شہروں میں۔ الحاصل دونوں صورتوں میں یہ گھر تمہارے لیے بوجھ کا سبب نہیں بنتے ۔ ” ومن اصوافھا واوبارھا واشعارھا اثاثا “ بھیڑوں کی اون اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
80۔ 83۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ایک اور دلیل اپنی توحید کی بیان کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے آرام و آسائش کے لئے گھر بنا دئیے کہ جب چل پھر کر تھک جاؤ تو وہاں آکر آرام کرو راتوں کو اطمینان سے اس میں سو جاؤ تمہارے بال بچے ادھر ادھر مارے مارے نہ پھریں دھوپ کی گرمی سے امن پاؤ برسات میں مینہ کے بھیگنے سے بچو جاڑے کی سردی سے نجات پاؤ پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا اس حکمت سے تم اگر سفر میں جاؤ گے تو کہاں قیام کرو گے تمہارے واسطے چارپاؤں کے کھال کے خیموں چھولداریاں وغیرہ بنائے جس کو تم اپنے ساتھ لے جایا کرو اور آسانی سے اس کو نصب کرلیا کرو اور سونے بیٹھنے میں اس سے بہت بڑا نفع حاصل کرو پھر فرمایا کہ جانوروں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
آیت : (80-83)
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمتیں یا دلاتا ہے اور ان سے ان نعمتوں کے اعتراف اور ان پر شکر کا مطالبہ کرتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (واللہ جعل لکم من بیوتکم سکنا) ” اور اللہ ہی نے تمہارے لئے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے گھر اور بڑے بڑے محلبنائے جو گرمی اور سردی سے بچاتے ہیں ‘ تمہیں ‘ تمہاری اولاد اور تمہارے مال و متاع کو ٹھکانا مہیا کرنے ہیں۔ تم ان گھروں میں ‘ اپنے مختلف اقسام کے فوائد اور مصالح کے لئے کمرے اور بالا خانے بناتے ہو۔ ان گھروں میں تمہارے مال و متاع اور تمہاری عزت و ناموس کی حفاظت ہے اور اس قسم کے دیگر فوائد جن کا روز مشاہد ہوتا ہے۔ (وجعل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–88
جانوروں کی اون اور بال حلال ہیں
قول باری ہے (ومن اصوافھا واوبارھا و اشعارھا اثا شاومت عا الی حین۔ اس نے جانوروں کے صوف اور اون اور بالوں سے تمہارے لئے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کردیں جو زندگی کی مدت مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں) جانور کی موت کے بعد اس کے جسم سے حاصل کردہ مذکورہ چیزوں سے فائدہ اٹھانے کے جواز پر آیت میں دلالت موجود ہے اس لئے کہ جانور کی موت سے پہلے اور موت کے بعد اس سے ان چیزوں کو حاصل کرنے کے مابین کوئی فرق نہیں رکھا گیا ہے۔
Read the full tafseer →162۔ تمہارے گھروں میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور اللہ ہی نے رکھ دیا تمہارے گھروں میں تمہارے لئے سکون (واطمینان) کا سامان۔ جس سے تم لوگ دن رات مستفید ہوتے رہتے ہو۔ مگر تم یہ نہیں سوچتے کہ یہ کس کا کرم ہے اور اس کا ہم کیا حق ہے ؟ سو تمہارے رب نے تم پر کیسا کرم فرمایا کہ تم لوگ جب اپنے کام کاج سے تھکے ماندے واپس لوٹتے ہو تو تمہیں اپنے گھروں میں خاص راحت ملتی ہے اور تم آرام پاتے ہو۔ اور یہ گھر بھی دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو مٹی پتھر اور سیمنٹ سریا وغیرہ کے مستقل گھر ہوتے ہیں۔ جو ایک ہی جگہ برقراررہتے ہیں۔ اور دوسرے خیموں وغیرہ کے وہ گھر جن کو تم جہاں چاہو اپنے ساتھ لے جاسکتے ہو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
اللہ کے انعامات اور کفار کی ہٹ دھرمی
تشریح : ان آیات میں بھی اللہ کی طرف سے دی گئی کچھ اور نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ تمام نعمتیں مستقل جاری وساری رہنے والی ہیں اور یہ سب انسان کو ذہنی اور جسمانی سکون حاصل کرنے کے لیے دی گئی ہیں۔ ان میں سب سے پہلے گھر کا ذکر کیا گیا ہے کہ گھر انسان کے سکون کی بہترین جگہ ہے۔ گھر اوپر سے بنا کر اللہ نے نہیں دیا بلکہ گھر بنانے کی تمام چیزیں مہیا کردی گئیں اور ساتھ میں عقل و فہم اور علم و ادراک بھی دے دیا پہلے خاندان کے رہن سہن کو بڑی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے اور حلال حرام کا بھی ذکر ہوچکا ہے اب جانوروں کے وہ فائدے بیان کیے جا رہے ہیں جو ان کی کھال اور اون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
(رکوع نمبر 1 1)
اسرارومعارف
جو انسانی منصوبہ بندیاں اور اندازے ہیں جن کی بنیاد پر لوگ رب جلیل کو بھی عام انسانوں کی طرح تصور کرکے مثالیں دیتے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں کہ زمین اور آسمانوں میں یا ساری مخلوق میں غیب کا علم تو صرف اللہ جل جلالہ کو ہے اور کل کیا ہونے والا ہے یا آئندہ کیا پیش آئے گا یہ صرف اللہ جل جلالہ جانتا ہے ، لہذا انسان کی بہتری اسی کی اطاعت میں ہے ، ورنہ انسان کو تو یہ بھی خبر نہیں کہ کس گھڑی سب کچھ تہ وبالا ہوجائے گا اور پلک جھپکنے میں قیامت قائم ہوجائے گی اللہ جل جلالہ تو یقینا جانتا ہے بلکہ وہی ذات قیامت قائم کرنے والی ہے اور یقینا وہ ہر بات پہ کامل قدرت رکھتا ہے لہذا اسی…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی چمڑے کے خیمے بناتے ہو جو عرب میں بہت استعمال ہوتے ہیں۔ اس سورة میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ اس بنا پر اس کو ” سورة النعم “ بھی کہتے ہیں۔
1 یعنی زندگی یا جب تک قیامت نہیں آئے گی تم انہیں استعمال کرنے والوں سے فائدہ اٹھاتے رہو گے۔
Read the full tafseer →(16:80) سکنا۔ فعل بمعنی مفعول۔ ای موضعا تسکنون فیہ وقت اقامتکم۔ وہ جگہ جہاں تم بوقت اقامت تسکین پاتے ہو۔
بیوتا ۔ مفعول بیت کی جمع۔ یہاں گھر سے مراد چمڑے کے بنے ہوئے خیمے جو مسافری کے دوران گھر کا کام دیتے ہیں۔
تستخفونھا۔ مضارع جمع مذکر حاضر ھا ضمیر واحد مؤنث غائب (اس کا مرجع بیوتا ہے تم اسے ہلکا پاتے ہو۔ استخفاف (استفعال) مصدر۔ جس کا مطلب ہلکا سمجھنا۔
” الخفیف “ ” الثقیل “ کے مقابلہ میں ہے۔
ظعنکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہارا سفر۔ ظعن مصدر۔
ومن اصوافھا واوبارھا واشعارھا اس کا عطف ومن جلود پر ہے اور ھا ضمیر کا مرجع الانعام ہے۔
اصوافھا۔ ان کی اُون۔ صوف کی جمع ہے۔ بھیڑوں کی اُون۔
اوبارھا۔ ان کی اُون۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 83
امرالساعۃ قیامت کا حال۔ لمح البصر آنکھ کا جھپکنا، آنکھ کا بند ہونا۔ اقرب زیادہ قریب۔ بطون (بطن) پیٹ۔ شیئاً کچھ بھی۔ السمع سننا، کان الابصار (بصر) آنکھیں۔ الافئدۃ دل، قلب۔ الطیر پرندہ۔ فی جو السمآء آسمان کی فضا میں۔ مایمسک نہیں تھامتا۔ سکن ٹھکانا، رہنے کی جگہ۔ جلود (جلد) کھالیں۔ تستخفون تم ہلکا پھلکا پاتے ہو۔ یوم ظعن سفر کے دن، کوچ کے دن۔ یوم اقامۃ ٹھہرنے کے دن۔ اصواف (صوف) اون۔ اوبار (وبر) اونٹ کا نرم رواں۔ اشعار (شعر) بال۔ اثاثاً سامان اسباب۔ متاعاً سامان۔ حین وقت ، زمانہ۔ ظلال سائے۔ اکنان صکن) چھپنے کی جگہ۔ سرابیل (سربال) کرتے۔ تقیکم تمہیں بچاتا ہے۔ باس لڑائی،…
Read the full tafseer →توحید اور انسان کی معاشرتی اور معاشی زندگی کا ذکر
آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا قادر مطلق ہے اور تمہارا محسن کہ اس نے اپنی رحمت سے تمہارے رہنے کے گھر تم کو عنایت فرمائے اور اس کے بنانے کی ترکیب تم کو سکھائی۔ پتھر اینٹ لکڑی سے اپنے مکانات بنا لیتے ہو، اور تم کو ترکیب سکھائی تاکہ جانوروں کے چمڑے سے خیمے بنا لو جو سفر اور اقامت کے وقت تمہیں مشقت میں نہیں ڈالتے کیونکہ ہلکے ہوتے ہیں۔ اور چار پایوں کے بالوں سے بھی تم کو خیمہ بنانے کی ترکیب سکھائی۔ عرب میں اونٹ یا اور جانوروں کی کھال رنگ کیر خیمہ بناتے ہیں۔ دنبے، بھیڑ، اونٹ بکری کے بال جس کو اون کہتے ہیں۔ شال، دوشالے، پشمینے وغیرہ کپڑے انہی…
Read the full tafseer →[48] یعنی خیمے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
(ف 2) پرندے فضا میں اڑ رہے ہیں ، یہ پرواز اللہ کے ایک مقرر قانون کے ماتحت ہے ۔ (آیت) ” مایمسکھن الا اللہ “۔ مگر وہ لوگ جو دانا ہیں ، اس قانون کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے قانون پر غور کرنے کے لئے مسلمان کو ترغیب دی تھی ، مگر کافر اس کی جانب متوجہ ہورہے ہیں ، وہ پرندوں کی طرح ہوؤں اور فضاؤں میں اڑ رہے ہیں ، ان کے پاس بیشمار ہوئی جہاز ہیں ، طیارے ہیں جن کی وجہ سے آج وہ ربع سکون پر حکومت کر رہے ہیں ۔
کیا مسلمان کبھی غور کرے گا کہ (آیت) ” ان فی ذلک لایت “۔ میں کس قدر غور طلب حقائق ہیں ؟
قرآن نے ہر نکتے کی جانب ہماری توجہ کو مبذول کیا ہے مگر افسوس کہ ہم ہر راہ ارتقاء سے دور بیٹھے…
Read the full tafseer →80 ۔ اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے گھروں اور مکانوں کو تمہارے رہنے سہنے کی جگہ بنایا اور اسی نے تمہارے لئے چو پایوں کی کھالوں سے ڈیرے اور خیموں کے گھر بنائے جن کو تم سفر میں کوچ کرتے اور مقام کرتے وقت ہلکا محسوس کرتے ہو اور ان چمڑے کے گھروں کو اکھیڑنے اور لگانے میں ہلکا پاتے ہو اور اس نے بھیڑ کی اون اور اونٹ کی بیریوں اور پشم سے اور بکریوں کے بالوں سے گھر کا سامان اور برتنے کی چیزیں ایک مدت کیلئے بنائیں ۔ یعنی حضرت حق تعالیٰ اپنے احسانات اپنے بندوں کو یاد دلاتا ہے کہ ہم نے تم کو بسنے کے لئے اور رہنے کے لئے مکانات دیئے تم کو مکان بنانے کے طریقے تعلیم کئے مکان بنانے کا سامان تمہارے لئے مہیا کیا پھر…
Read the full tafseer →ف 1۔ ایک مدت تک اس لیے فرمایا کہ عادة یہ سامان بہ نسبت روئی کے کپڑوں کے دیر پا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے قیام گاہیں بنائیں اور اس کی تسخیر سے تم فوائد حاصل کرتے ہو :
92۔ وہ کون ہے جس نے تمہارے گھروں کو تمہارے لئے سکون کی جگہ بنا دیا ؟ غور کرو کہ جھونپڑیوں میں بسنے والا انسان بڑے محلات اور کو ٹھیوں میں پہنچ کر بھی وہ سکون حاصل نہیں کرسکتا جو اس کو اس جھونپڑی میں نصیب ہوتا ہے جس میں وہ سکونت پذیر ہے گویا سکونت انسان کے لئے ان انعامات الہی میں سے ہے جن سے ہر شخص ہر وقت مستفید ہوتا ہے لیکن کثرت استعمال کی وجہ سے ان کی اہمیت کا احساس بہت کم ہوتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ آسانیاں اور سہولتیں جن کو ہم کبھی خاطر میں بھی نہیں لاتے اگر ہم سے چھین لی جائیں تو زندگی گزارنا دوبھر ہوجاتا…
Read the full tafseer →In the statement: وَاللَّـهُ جَعَلَ لَكُم مِّن بُيُوتِكُمْ سَكَنًا (And Allah has made for you of your houses a place of comfort - 80), the word: بُيُوتِ (buyut) is the plural of bayt (بَیت) which means a house where night could be spent. Imam Al-Qurtubi says in his Tafsir:
کُلُّ مَا عَلَاکَ فَاَظَلَّکَ فَھُوَ سَقفُ وَّسَمَآُء وَ کُلُّ مَآ اَقَلَّکَ فَھُوَاَرضُ وَّ کُلُّ مَا سَتَرَکَ مِن جِھَاتِکَ الاَربَعِ فَھُوَ جِدَارُ فَاِذَا انتَظَمَت فَھُوَ بَیتُ
'Whatever is above your head and provides shade for you is roof or sky, and whatever holds you atop is earth, and whatever screens you out…
Read the full tafseer →74. Tents of skin which are in common use in Arabia.
75. That is, when you want to start on a journey, you can easily fold your tents and carry them, and when you want to make a short halt, you can easily unfold them and pitch them for shelter and rest.
Read the full tafseer →