Explained with ayahs 77–79
نیکیوں کی دیوار لوگ
اللہ تعالیٰ اپنے کمال علم اور کمال قدرت کو بیان فرما رہا ہے کہ زمین آسمان کا غیب وہی جانتا ہے، کوئی نہیں جو غیب دان ہو اللہ جسے چاہے، جس چیز پر چاہے، اطلاع دے دے۔ ہر چیز اس کی قدرت میں ہے نہ کوئی اس کا خلاف کرسکے۔ نہ کوئی اسے روک سکے جس کام کا جب ارادہ کرے، قادر ہے پورا ہو کر ہی رہتا ہے آنکھ بند کر کے کھولنے میں تو تمہیں کچھ دیر لگتی ہوگی لیکن حکم الٰہی کے پورا ہونے میں اتنی دیر بھی نہیں لگتی۔ قیامت کا آنا بھی اس پر ایسا ہی آسان ہے، وہ بھی حکم ہوتے ہی آجائے گی۔ ایک کا پیدا کرنا اور سب کا پیدا کرنا اس پر یکساں ہے۔ اللہ کا احسان دیکھو کہ اس نے لوگوں کو ماؤں کے پیٹوں سے نکالا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
سورة النَّحْل 72
یعنی وہ ذرائع جن سے تمہیں دنیا میں ہر طرح کی واقفیت حاصل ہوئی اور تم اس لائق ہوئے کہ دنیا کے کام چلا سکو۔ انسان کا بچہ پیدائش کے وقت جتنا بےبس اور بیخبر ہوتا ہے اتنا کسی جانور کا نہیں ہوتا۔ مگر یہ صرف اللہ کے دیے ہوئے ذرائع علم (سماعت، بینائی، اور تعقل و تفکر) ہی میں ہیں جن کی بدولت وہ ترقی کر کے تمام موجودات ارضی پر حکمرانی کرنے کے لائق بن جاتا ہے۔
سورة النَّحْل 73
یعنی اس خدا کے شکر گزار جس نے یہ بےبہا نعمتیں تم کو عطا کیں۔ ان نعمتوں کی اس سے بڑھ کر ناشکری اور کیا ہو سکتی ہے کہ ان کانوں سے آدمی سب کچھ سنے مگر ایک خدا ہی کی بات نہ سنے، ان آنکھوں سے سب کچھ دیکھے مگر ایک خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
معارف و مسائل
قولہ تعالیٰ لَا تَعْلَمُوْنَ شَـيْـــًٔـا اس میں اشارہ ہے کہ علم انسان کا ذاتی ہنر نہیں پیدائش کے وقت وہ کوئی علم وہنر نہیں رکھتا پھر ضرورت انسانی کے مطابق اس کو کچھ کچھ علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلاواسطہ سکھایا جاتا ہے جس میں نہ ماں باپ کا دخل ہے نہ کسی معلم کا سب سے پہلے اس کو رونا سکھایا اس کی یہی صفت اس وقت اس کی تمام ضروریات مہیا کرتی ہے بھوک پیاس لگے تو وہ روتا ہے سردی گرمی لگے تو رو دیتا ہے کوئی اور تکلیف پہنچنے تو رو دیتا ہے قدرت نے اس کی ضروریات کے لئے ماں باپ کے دلوں میں خاص الفت ڈال دی کہ جب بچے کی آواز سنیں تو وہ اس کی تکلیف کے پہچاننے اور اس کے دور کرنے لئے آمادہ…
Read the full tafseer →آیات الٰہی کی طرف : اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَاۗءِ ۭ مَا يُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔ یعنی اگر یہ آنکھیں کھول کر دیکھیں تو انہیں معلوم ہو کہ ہر چیز کو اس کی ضرورت کی چیزیں خدا ہی کی عنایت سے ملی ہیں پرندے فضا میں اڑتے ہیں۔ آخر خدا کے سوا کون ہے جو ان کو فضا میں تھامتا ہے۔ سورة ملک میں ہے۔ ولم یروا الی الطیر فوقہم صافات و یقبضن ما یمسکھن الا الرحمن انہ بکل شیء بصیر (کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھا، وہ اپنے پروں کو پھیلائے بھی ہوتے ہیں اور ان کو سمیٹ بھی لیتے ہیں، ان کو خدائے رحمان ہی تھامتا ہے،…
Read the full tafseer →79۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے پرندوں کو اس طرح اڑنے کی اور ہواؤں کو انھیں اپنے دوش پر اٹھائے رکھنے کی طاقت بخشی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–79
32: مشرکین عرب بعض اوقات اپنے شرک کی تائید میں یہ مثال دیتے تھے کہ جس طرح دنیا کا بادشاہ تنہا اپنی حکومت نہیں چلاتا، بلکہ اسے حکومت کے بہت سے کام اپنے مددگاروں کو سونپنے پڑتے ہیں، اسی طرح (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی خدائی کے بہت سے کام ان دیوتاؤں کو سونپ رکھے ہیں۔ اور ان معاملات میں وہ خود مختار ہوگئے ہیں۔ اس آیت میں ان سے کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے دنیا کے بادشاہوں کی، بلکہ کسی بھی مخلوق کی مثال دینا انتہائی جہالت کی بات ہے۔ اس کے بعد آیت نمبر 75، 76 میں اللہ تعالیٰ نے دو مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ جن کا مقصد یہ ہے کہ اگر مخلوقات ہی کی مثال لینی ہے تو ان دو مثالوں سے ظاہر ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
پرندے زمین و آسمان کی فضا میں مسخر ہیں۔ یہ اسی میں اڑتے پھرتے ہیں ، ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ منظر ہم بار بار دیکھتے ہیں اور بار بار دیکھنے کی وجہ سے اس کے اندر جو عجوبہ ہے ، وہ غیر محسوس ہوگیا ہے۔ اس کی طرف انسان کا دل و دماغ تب توجہ کرتا ہے جب وہ جاگنے والا ہو ، اور اس کو شاعرانہ قوت مشاہدہ دی گئی ہو۔ ایک شاعرانہ ظرف نگاہی رکھنے والا شخص تو اس پر ایک نظم اور قصیدہ لکھ سکتا ہے اور وہ بےساختہ اس قدیم ، مالوف اور جدید شاعرانہ منظر کو دیکھ کر یہ کہہ سکتا ہے۔
یا یمسکھن الا اللہ (61 : 97) ” اللہ کے سوا کس نے انہیں تھام رکھا ہے “۔ یہ کس طرح ، پرندوں کی فطرت ہی ایسے اصولوں پر وضع کی گئی ، اس کے…
Read the full tafseer →2 یعنی جیسے آدمی کو اس کے مناسب قویٰ عنایت فرمائے، پرندوں میں ان کے حالات کے مناسب فطری قوتیں ودیعت کیں، ہر ایک پرندہ اپنی اڑان میں قانون قدرت کا تابع اور خدا تعالیٰ کے تکوینی احکام سے وابستہ ہے۔ اسے کسی درسگاہ میں اڑنے کی تعلیم نہیں دی گئی، قدرت نے اس کے پر اور بازو اور دم وغیرہ کی ساخت ایسی بنائی ہے کہ نہایت آسانی سے آسمانی فضا میں اڑتے رہتے ہیں۔ یہ نہیں ہوتا کہ ان کا جسم ثقیل ہوائے لطیف کو چیر پھاڑ کر بےاختیار نیچے آپڑے۔ یا زمین کی عظیم الشان کشش انھیں اپنی طرف کھینچ لے اور طیران سے منع کر دے۔ کیا خدا کے سوا کسی اور کا ہاتھ ہے جس نے ان کو بےتکلف فضائے آسمانی میں روک رکھا ہے۔
3 حضرت شاہ…
Read the full tafseer →آیت 79 اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَاۗءِ ۭ مَا يُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ
یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے قانون کے مطابق یہ پرندے فضا میں تیر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →80 ہوا میں تیرنے پھرنے والے پرندوں کی ساخت :۔ کوئی چیز فضا میں ٹھہر نہیں سکتی وہ ہوا کی لطافت اور زمین کی کشش ثقل کی وجہ سے زمین پر آگرتی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے پرندوں کے پروں اور ان کی دم کی ساخت میں کچھ ایسا توازن قائم کیا ہے کہ نہ زمین کی کشش ثقل انھیں اپنی طرف کھینچتی ہے اور نہ ہوا کی لطافت انھیں نیچے گراتی ہے اور فضا میں بےتکلف تیرتے پھرتے ہیں۔ پھر یہ فن انھیں سیکھنے کی بھی ضرورت نہیں۔ یہ سب باتیں ان کی فطرت میں رکھ دی گئی ہیں۔ پرندے جب اڑنے لگتے ہیں تو اپنے پروں کو پھڑ پھڑاتے اور پھیلاتے ہیں۔ پھر جب فضا میں پہنچ جاتے ہیں تو ضروری نہیں کہ وہ ہر وقت پروں کو پھیلائے رکھیں۔ وہ انھیں بند بھی…
Read the full tafseer →124۔ یعنی اس صانع مطلق ہی نے ان کا جسم اس سبک وضع کا بنایا ہے کہ باوجود ثقل کے، ہوائے لطیف ورقیق میں دوڑتے پھرتے ہیں۔ آیت میں ضمنا پرند پرستی کی بھی تردید آگئی، یعنی یہ پر ندغریب معبود ہونے کی صلاحیت تو کیا رکھتے، اپنے ہوا میں سنبھال بھی نہیں سکتے بغیر اذن خداوندی کے مشرک قوموں نے پرندوں تک کو بھی بغیر معبود بنائے نہیں چھوڑا ہے۔ باز، شکرا، الو، مور بہت سے پرندوں کو پرستش ہوچکی ہے۔ اور نیل کنٹھ وغیرہ کا تقدس تو آج بھی ہندوستان میں دیکھاجاسکتا ہے۔
125۔ (حق تعالیٰ کی حکمت، قدرت، اور ربوبیت کی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
آیت نمبر 77 تا 83
ترجمہ : آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا علم اللہ ہی کو ہے یعنی ان دونوں میں مخفی چیزوں کا علم، قیامت کا معاملہ تو بس ایسا ہوگا جیسا کہ پلک کی ایک جھپک یا اس سے بھی جلدی، اسلئے کہ وہ لفظ کن سے ہوگا، تو وہ ہوجائے گی، یقیناً اللہ ہر شئ پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حال میں پیدا کیا کہ تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے (لاتعلمون شیئًا) کم ضمیر سے حال ہے، اور اس نے تمہیں کان دیئے سمع، اسماعٌ کے معنی میں ہے اور آنکھیں دیں اور دل دیئے تاکہ تم ان کا شکریہ ادا کرو، اور ایمان لے آؤ، کیا لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا ؟ کہ وہ پرواز کے لئے آسمان کی فضاء میں…
Read the full tafseer →الم یروا الی الطیر مسخرات فی جو السماء ما یمسکھن الا اللہ کیا لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ آسمان کے نیچے فضاء میں مسخرہو رہے ہیں ‘ ان کو اللہ کے سوا (اس خلا میں) کوئی نہیں تھامتا۔
مُسَخَّرٰتٍ یعنی بازو ‘ پر وغیرہ۔ اڑنے کے آلات اللہ نے ان کو عطا کئے جن کے ذریعہ سے وہ اللہ کے زیرفرمان اڑتے ہیں۔ جَوِّ السَّمَآء آسمان و زمین کی درمیانی ہوا۔ بغوی نے کعب الاحبار کا قول نقل کیا ہے کہ پرندے بارہ میل بلندی تک اڑ سکتے ہیں ‘ اس سے اوپر نہیں اڑ سکتے (یعنی مسخر ہونے کا یہ مطلب ہے کہ صرف بارہ میل کی بلندی تک اڑنے کی ان میں طاقت ہے ‘ اس سے اونچا اڑنا ان کیلئے ممکن نہیں) ۔
ان فی ذلک ایت لقوم یؤمنون ایمان…
Read the full tafseer →(79) اے مکہ والو ! کیا تم نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ اس سے قدرت خداوندی اور اس کی توحید کو سمجھتے کہ وہ پرندے آسمان و زمین کے درمیان مسخر ہو کر اڑ رہے ہیں انکو اس اڑنے میں اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں تھامتا ،
پرندوں کے فضا میں رکے رہنے میں ان لوگوں کے لیے جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ ہی تھام رہے ہیں، وحدانیت الہی کی چند نشانیاں ہیں اب مزید اپنے انعامات یاد دلاتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اس پر ایمان لائیں۔
Read the full tafseer →اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ۔۔ : ”الطَّيْرِ“ ”طَاءِرٌ“ کی جمع ہے، اڑنے والا، اگرچہ بعض لوگ ”فَاعِلٌ“ کی جمع ”فَعْلٌ“ کا انکار کرتے ہیں، مگر شنقیطی ؓ نے اس کی کئی مثالیں ذکر فرمائی ہیں، جیسا کہ ”صَاحِبٌ“ کی جمع ”صَحْبٌ۔“ امرء القیس نے کہا
وُقُوْفًا بِھَا صَحْبِيْ عَلَيَّ مَطِیَّھُمْ
یَقُوْلُوْنَ لَا تَھْلِکْ أَسًی وَ تَجَمَّلِ
”رَاکِبٌ“ کی جمع ”رَکْبٌ“ ، ”شَارِبٌ“ کی ”شَرْبٌ“ اور ”سَافِرٌ“ کی ”سَفْرٌ“ وغیرہ۔ کیا ان مشرکوں نے آسمان و زمین کے درمیان اڑتے ہوئے پرندوں پر غور نہیں کیا، وہ کون سی ہستی ہے جس نے ان کے پروں، بازوؤں اور دموں کی ساخت اڑنے کے قابل بنائی اور زمین و آسمان کے درمیان اڑتے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 79
قولہ تعالیٰ : الم یرو الی الطیر مسخرت فی جو السماء ما یمسکھن الا اللہ یحییٰ بن وثاب، اعمش، ابن عامر، حمزہ اور یعقوب نے تروا تا کے ساتھ صیغہ خطاب کے ساتھ پڑھا ہے، اور ابوعبید نے اسے پسند کیا ہے۔ اور باقیوں نے خبر کے طور پر یا کے ساتھ پڑھا ہے۔ مسخرت یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطیع و فرمانبردار بن کر ؛ یہ کلبی نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : مسخرت کا مفہوم ہے تمہارے منافع کے لئے مطیع و فرمانبردار بن کر (اڑ رہے ہیں) ۔ فی جو السمآء، الجو سے مراد وہ فضا ہے جو زمین و آسمان کے درمیان ہے اور فضا کی اضافت آسمان کی طرف کی اس لئے کہ وہ زمین سے بلند ہے۔ اور قول باری تعالیٰ : مسخرت میں مسخر…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فی جو السمآء “ یعنی وہ آسمان کے جوف میں۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فی جو السمآء “ سے مراد ہے آسمان کے درمیان ” ما یمسکھن الا اللہ “ یعنی ہر ایک کو اللہ تعالیٰ نے (فضا میں) تھام رکھا ہے (واللہ اعلم بالصواب )
Read the full tafseer →[اَلَمْ يَرَوْا : کیا انھوں نے غور نہیں کیا ] [ اِلَى الطَّيْرِ : پرندوں کی طرف ] [ مُسَخَّرٰتٍ : (کیسے وہ) سدھائے ہوئے ہیں ] [ فِيْ جو السَّمَاۗءِ ۭ: آسمان کی فضا میں ] [ مَا يُمْسِكُهُنَّ : نہیں تھامتا ان کو (کوئی)] [ اِلَّا : مگر ] [ اللّٰهُ ۭ: اللہ ] [ ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [ لَاٰيٰتٍ : یقینا نشانیاں ہیں ] [ لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لئے ] [ يُّؤْمِنُوْنَ : جو ایمان لاتے ہیں ]
Read the full tafseer →(2) پھر ارشاد فرمایا کہ کیا پرندوں کو نہیں دیکھتے جو آسمانی فضا میں مسخر ہیں ان کو نیچے گرنے سے کوئی چیز روکنے والی نہیں صرف اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت سے رکے ہوئے ہیں، اڑ رہے ہیں اور آگے بڑھ رہے ہیں حالانکہ بوجھ والے ہیں زمین کی کشش انہیں اپنی طرف نہیں کھینچ پاتی اگر کوئی شخص یوں کہے کہ پروں کی حرکت کی وجہ سے ہوا میں تموج اور تحریک ہے جس کی وجہ سے نہیں گرتے اس کا جواب یہ ہے کہ پروں میں یہ قوت اور ہوا میں یہ تحریک اور تموج کہاں سے آیا ؟ یہ بھی تو اللہ تعالیٰ ہی کا پیدا فرمایا ہوا ہے، ذرا انسان تو اڑ کے دیکھ لے اپنے ہاتھوں کو حرکت دے پھر دیکھے فضا میں ٹھہر سکتا ہے یا نہیں، اسی سے ہوائی جہاز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–83
رجور بسوئے دلائل توحید بتذکیر انعامات خداوند حمید
قال اللہ تعالیٰ : واللہ انزل من السماء .... الیٰ .... واکثرھم ھم الکفرون۔
(ربط) اوپر سے بہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کا ذکر چلا آرہا ہے اور پھر اسی طرح سے یہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کو بیان فرماتے ہیں اور یہ دلائل معاد بھی ہیں اور دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل ہدایت بھی ہیں اور دلائل رحمت بھی ہیں۔ دور تک اسی طرح سلسلہ کلام چلا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کے انعامات کو ذکر فرمایا جو علاوہ نعمت ہونے کے اس کے کمال علم اور کمال قدرت اور حکمت کے دلائل بھی ہیں۔
(1) چناچہ واللہ انزل من السماء ماء سے اپنی قدرت کا بیان شروع فرمایا کہ آسمان سے…
Read the full tafseer →63:۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی ایک واضح دلیل ہے کہ اس نے جس طرح انسانوں کو مکتلف قوتیں بخشی ہیں اسی طرح اس نے پرندوں کو بھی ارنے کی طاقت دی ہے اور وہ اس کی قدرت سے فضائے آسمانی میں اڑتے پھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے تکوینی احکام کے تابع ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
(ربط آیات)
گذشتہ دروس میں اللہ نے شرک کی تردید میں بعض دلائل اور مثالیں بیان فرمائیں ایک مثال یہ بیان فرمائی کہ ایک شخص غلام بھی ہے اور گونگا بھی ، وہ بالکل نکما ہے ، جو بھی کام اس کے سپرد کیا جائے وہ کوئی اچھا نتیجہ پیش نہیں کرتا اور اس طرح آپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے ، دوسری طرف ایک آزاد اور مومن آدمی ہے ، اور خود بھی عدل و انصاف پر قائم ہے اور دوسروں کو بھی اسی کی تلقین کرتا ہے ، یہ شخص اللہ کے بتائے ہوئے صراط مستقیم پر ہے تو اللہ نے ان دو شخصوں کا حال بیان کرکے فرمایا کہ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ یہی مثال ایک مشرک اور موحد کی ہے ، جس طرح مذکورہ دو شخص برابر نہیں ، اسی طرح مشرک اور…
Read the full tafseer →اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَاۗءِ ۭ مَا يُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ 79
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع : بالعقل،
وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
ترکیب : اوھواقرب اوللتمثیل اوللتخییر وقیل لشک المخاطب وقیل بمعنی بل والجملۃ تمثیل لسرعۃ وقوع القیامۃ۔ مسخرات حال من الطیر۔ سکنًا بمعنی مسکون لاتعلمون جملہ حال ہے ضمیر منصوب امہاتکم سے۔ مایمسکہن جملہ حال ہے مسخرات سے۔ ظعن سفر۔ اثاتاً معطوف ہے سکنًا پر اور دونوں میں اصوافہا جار مجرور کا فصل مستقبح نہیں ہے کیونکہ جار مجرور بھی مفعول ہے اور ایک مفعول کا دوسرے پر مقدم کرنا قبیح نہیں الظعن بفتح العین وسکونہا کالنہرو ھوسیر اہل البادیۃ من موضع الیٰ موضع والصوف للغنم والوبرللابل والشعر للمغر اکنانا جمع کن وھو مایستکن بہ۔
تفسیر : ان آیات میں خدا تعالیٰ ان کے ان معبودوں کے مقابلہ میں کہ جن کو دو مثالوں…
Read the full tafseer →اَلَمْ یَرَوْا اِلَی الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّالسَّمَآئِ ط مَا یُمْسِکُھُنَّ اِلاَّ اللّٰہُ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 79)
(کیا انھوں نے کبھی پرندوں کی طرف نہیں دیکھا کہ وہ مطیع اور فرمانبردار بن کر اڑ رہے ہیں، ان کو بس اللہ تعالیٰ ہی تھامے ہوئے ہوتا ہے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں۔ )
اللہ تعالیٰ کی فضائی نعمتوں کا ذکر
اللہ تعالیٰ اپنے کمال قدرت اور شان ربوبیت کی ایک اور نشانی کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا انکار کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت پر ایمان نہ لانے والے کیا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : پرندوں کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا حوالہ دے کر انسان کو ایمان لانے کی دعوت دی ہے۔
جانوروں اور پرندوں میں معاشرے کا وجود :
(وَمَا مِنْ دَابَّۃٍ فِی الْأَرْضِ وَلَا طَاءِرٍ یَطِیْرُ بِجَنَاحَیْہِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُکُمْ مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتَابِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ إِلَی رَبِّہِمْ یُحْشَرُوْنَ )[ الانعام : 38]
” زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو یہ سب تمہاری ہی طرح کی اقسام ہیں اور ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے پھر یہ سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جاتے ہیں۔ “
جدیدتحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جانور…
Read the full tafseer →79: اَلَمْ یَرَوْا (کیا وہ نہیں دیکھتے) قراءت : شامی اور حمزہ نے تاء سے پڑھا ہے۔ اِلَی الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ (پرندوں کو جو فضاء میں مسخر ہو رہے ہیں) اڑنے کیلئے زیرفرمان ان پروں کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پیدا فرما دیے اور ان موافق اسباب سے جو اس کے لئے ان کو میسر فرما دیئے ہیں۔ فِیْ جَوِّ السَّمَآئِ (آسمان کی فضاء میں) فضاء اس ہوا کو کہتے ہیں جو بلند آسمان کی سمت میں زمین سے دور ہے۔ مَایُمْسِکُھُنَّ (نہیں ان کو تھامتا) پروں کو سمیٹنے اور پھیلانے اور فضاء میں ٹھہرانے میں اِلَّا اللّٰہُ (مگر اللہ تعالیٰ ) اپنی قدرت کے ساتھ۔ ازالہ : اس میں اس وہم کا ازالہ ہے جو قوائے طبعیہ کی خاصیت اس…
Read the full tafseer →(79)” الم یروا “ ابن عامر، حمزہ، یعقوب نے تاء کے ساتھ ( تروا) پڑھا ہے اور باقی قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔” الی الطیر مسخرات “ یعنی وہ تمہارے لیے بازو بچھائے ہوئے ہیں۔ ” فی جو السمائ “ آسمان اور زمین کی درمیانی ہوا۔ کعب احبار کا قول ہے کہ پرندے بارہ میل تک بلندی میں اڑ سکتے ہیں اس سے اوپر نہیں اڑ سکتے۔ ” ما یمسکھن “ وہ ہوا میں نہیں رک سکتے۔” الا للہ ان فی ذلک لایات لقوم یومنون “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
78۔ 79۔ اوپر ذکر تھا کہ جب وقت آئے گا تو پلک جھپکنے میں درمیانی یا آخری قیامت آجائے گی کیونکہ اسے ہر شے پر پوری قدرت ہے وہ کسی چیز سے عاجز نہیں ہے منکر حشر یہ نہ سمجھیں کہ قیامت نہ ہوگی اور پھر انسان دوبارہ زندہ نہ ہوں گے اب فرمایا کہ اللہ پاک نے تمہیں اس حالت میں پیدا کیا کہ تمہارا کچھ وجود نہ تھا باپ کی پیٹھ سے ماں کے شکم میں نطفہ کو ٹھہرا دیا اور رفتہ رفتہ اس نطفہ سے پتلا بنایا پھر روح پھونکی اور تمہیں ماں کے پیٹ سے جب روئے زمین پر ظاہر کیا اس وقت بھی تمہاری حالت یہ تھی کہ تم دنیا میں کسی چیز کو نہیں جانتے تھے نہ نفع کی چیزوں کا تمہیں علم تھا نہ ضرر دینے والی اشیا کو تم جانتے تھے نہ دوست…
Read the full tafseer →آیت : (79)
کیونکہ اہل ایمان آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور آیات الٰہی میں غور و فکر کرتے ہیں۔ رہے کفار ‘ تو وہ آیات الٰہی کو لہو و لعب اور غفلت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس آیت کریمہ کے معنی یہ ہیں کہ پرندوں کو اللہ تعالیٰ نے ایسی ہئیت میں پیدا کیا ہے جو ان کے اڑے کے لئے درست ہے ‘ پھر ان کے لئے اس لطیف ہوا کو مسخر کردیا ‘ پھر ان پر میں حرکت کرنے کی قوت اور وہ چیز ودیعت کی جن کے ذریعے سے وہ اڑنے پر قادر ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت لامحدود علم ‘ تمام مخلوق پر اس کی عنایت ربانی اور اس کے اقتدار کامل کی دلیل ہے۔ نہایت بابرکت ہے اللہ تعالیٰ جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
گونگے غلام کا حکم
اگر یہ کہا جائے کہ ارشاد باری ہے (وضرب اللہ مثلا رجلین احمدھما بکم لا یقدر علی شی وھو کل علی مولاہ۔ اللہ ایک اور مثال دیتا ہے۔ دو آدمی ہیں ایک گونگا بہرا ہے کوئی کام نہیں کرسکتا اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے) لیکن آیت کی اس امر پر دلالت نہیں ہو رہی ہے کہ گونگا کسی چیز کا مالک نہیں ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا آیت میں گونگے سے گونگا غلام مراد ہے آپ اس قول باری کو دیکھئے (وھو کل علی مولاہ اینما یوجھہ لا یات بخیر۔ اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے جدھر بھی وہ اسے بھیجے کوئی بھلا کام اس سے نہ بن آئے) آقا کا ذکر نیز آقا کی طرف سے اسے بھیجنے کا بیان اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس سے مراد…
Read the full tafseer →160۔ فضاؤں میں اڑتے پھرتے پرندوں میں سامان عبرت و بصیرت : سو ارشاد فرمایا گیا " اور کون ہو جو فضاء میں اڑتے ان پرندوں کو روک سکے سوائے اللہ کے ؟ " کوئی بھی نہیں۔ بلکہ یہ اسی کی قدرت ہے جو ایسے ثقیل جسموں کو بغیر کسی ظاہری اور مادی سہارے کے فضاء میں اس طرح تھامے رکھتی ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو قدرت کا یہ نشان جو ہر وقت تمہارے سامنے رہتا ہے آخر تم لوگ اس کے بارے میں غور کیوں نہیں کرتے کہ نہ اس پرندوں کے نیچے کوئی سہارا ہے اور نہ ہی ان کو اوپر سے کوئی چیز پکڑنے والی ہے تو ان کی اس طرح اس فضاء میں کون گرنے سے روک سکتا ہے سوائے اللہ کے۔ ان کو یہ اڑنا کس نے سکھایا ؟ پھر فضاؤں میں اڑتے پھرتے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
انسان کی پیدائش، اڑتے پرندے اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں
تشریح : اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور نعمتوں کا ذکر ہو رہا ہے۔ اسی سلسلے میں یہاں انسان کا ذکر ہو رہا ہے کہ غور کریں تو پتہ چلتا ہے اللہ رحمن و رحیم نے انسان کی پیدائش کا ذریعہ اس کی ماں کو خاص طور سے بنایا ہے۔ کیونکہ وہی اپنے پیٹ کے اندر مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے ایک بچے کی پرورش کرتی ہے اور پھر نو ماہ کی مشکل ترین محنت کے بعد اللہ کے حکم سے بچے کو جنم دیتی ہے۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو بظاہر وہ بالکل بےتعلق نظر آتا ہے مگر اس کے تمام اعضاء بالکل ورکنگ کنڈیشن میں ہوتے ہیں۔ لیکن تمام توانائیاں بڑی کمزور حالت میں ہوتی ہیں جو کہ آہستہ آہستہ وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
(رکوع نمبر 1 1)
اسرارومعارف
جو انسانی منصوبہ بندیاں اور اندازے ہیں جن کی بنیاد پر لوگ رب جلیل کو بھی عام انسانوں کی طرح تصور کرکے مثالیں دیتے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں کہ زمین اور آسمانوں میں یا ساری مخلوق میں غیب کا علم تو صرف اللہ جل جلالہ کو ہے اور کل کیا ہونے والا ہے یا آئندہ کیا پیش آئے گا یہ صرف اللہ جل جلالہ جانتا ہے ، لہذا انسان کی بہتری اسی کی اطاعت میں ہے ، ورنہ انسان کو تو یہ بھی خبر نہیں کہ کس گھڑی سب کچھ تہ وبالا ہوجائے گا اور پلک جھپکنے میں قیامت قائم ہوجائے گی اللہ جل جلالہ تو یقینا جانتا ہے بلکہ وہی ذات قیامت قائم کرنے والی ہے اور یقینا وہ ہر بات پہ کامل قدرت رکھتا ہے لہذا اسی…
Read the full tafseer →ف 8 ان کے پروں بازوئوں اور (دموں) کی ساخت ایسی رکھی ہے کہ ہوا ان کا بوجھ اٹھا لیتی ہے اور وہ اس میں نہایت آسانی سے اڑتے رہتے ہیں۔
9 یعنی بعض لوگ معاش کی فکر میں مشغول ہونے کی وجہ سے ایمان لانے سے رکے ہوئے ہیں۔ پس فرمایا کہ تم ماں کے پیٹ سے تو کچھ نہیں لائے۔ اسباب کمائی کان آنکھ دل اللہ نے دیئے ہیں اور اڑتے جانور ادھر میں کس کے بھروسے جیتے ہیں۔ (موضح)
Read the full tafseer →(16:79) مسخرات۔ اسم مفعول جمع مؤنث مسخرۃ واحد تسخیر (تفعیل) مصدر تابع۔ فرمانبردار بنائے گئے۔ مطیع۔
جو۔ فضائ۔ ہوا۔ اس کی جمع جواء اور اجواء ہے۔
یمسکہن۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔
امساک (افعال) مصدر۔ روکنا۔ تھامے رکھنا۔ امساک کے اصل معنی کسی چیز سے چمٹ جانا اور اس کی حفاظت کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 83
امرالساعۃ قیامت کا حال۔ لمح البصر آنکھ کا جھپکنا، آنکھ کا بند ہونا۔ اقرب زیادہ قریب۔ بطون (بطن) پیٹ۔ شیئاً کچھ بھی۔ السمع سننا، کان الابصار (بصر) آنکھیں۔ الافئدۃ دل، قلب۔ الطیر پرندہ۔ فی جو السمآء آسمان کی فضا میں۔ مایمسک نہیں تھامتا۔ سکن ٹھکانا، رہنے کی جگہ۔ جلود (جلد) کھالیں۔ تستخفون تم ہلکا پھلکا پاتے ہو۔ یوم ظعن سفر کے دن، کوچ کے دن۔ یوم اقامۃ ٹھہرنے کے دن۔ اصواف (صوف) اون۔ اوبار (وبر) اونٹ کا نرم رواں۔ اشعار (شعر) بال۔ اثاثاً سامان اسباب۔ متاعاً سامان۔ حین وقت ، زمانہ۔ ظلال سائے۔ اکنان صکن) چھپنے کی جگہ۔ سرابیل (سربال) کرتے۔ تقیکم تمہیں بچاتا ہے۔ باس لڑائی،…
Read the full tafseer →اس آیت میں فرمایا کہ آسمان و زمین کے درمیان تم سینکڑوں جانوروں کو اڑتے ہوئے دیکھتے ہو کہ ہوا میں سیر کرتے پھرتے ہیں۔ کیا ان کا تھامنے والا سوائے خدا کے اور کوئی ہے ہرگز نہیں یہ بھی اس کی قدرت ہے۔ پھر فرمایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے واسطے ان امور مذکورہ میں قدرت کی نشانیاں موجود ہیں۔ جن کا یمان کامل ہے وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں وہ غور کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
[46] قیامت کے ذکر کے بعد یہاں سے پھر وہی سلسلہ بیان شروع ہوجاتا ہے جو اوپر سے چلا آ رہا تھا۔
[47] شکر اس لئے کہ اس نے ان آلات کے ذریعے تمہاری بےعلمی علم سے بدل دی۔ سماعت اس لئے دی کہ اللہ کے احکام سنو، بصارت اس لئے دی کہ اس کی قدرت و حکمت کے نمونے مشاہدہ کرو اور دل اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا احساس اور اس پر غور و فکر کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
(ف 2) پرندے فضا میں اڑ رہے ہیں ، یہ پرواز اللہ کے ایک مقرر قانون کے ماتحت ہے ۔ (آیت) ” مایمسکھن الا اللہ “۔ مگر وہ لوگ جو دانا ہیں ، اس قانون کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے قانون پر غور کرنے کے لئے مسلمان کو ترغیب دی تھی ، مگر کافر اس کی جانب متوجہ ہورہے ہیں ، وہ پرندوں کی طرح ہوؤں اور فضاؤں میں اڑ رہے ہیں ، ان کے پاس بیشمار ہوئی جہاز ہیں ، طیارے ہیں جن کی وجہ سے آج وہ ربع سکون پر حکومت کر رہے ہیں ۔
کیا مسلمان کبھی غور کرے گا کہ (آیت) ” ان فی ذلک لایت “۔ میں کس قدر غور طلب حقائق ہیں ؟
قرآن نے ہر نکتے کی جانب ہماری توجہ کو مبذول کیا ہے مگر افسوس کہ ہم ہر راہ ارتقاء سے دور بیٹھے…
Read the full tafseer →79 ۔ کیا ان لوگوں نے ان پرندوں کے حال پر غور نہیں کیا جو فضائے آسمانی میں مسخر ہوتے ہیں ان پرندوں کو اس جگہ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی روکتا نہیں اس امر مذکور ہیں ان لوگوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ۔ یعنی جسم ثقیل کا تقاضا ہے کہ پرندے زمین پر گرپڑیں لیکن قدرت نے ان کی ساخت اس طرح رکھی ہے کہ وہ ہوا میں اڑتے ہیں اور گرتے نہیں اس میں بھی اس کی وحدانیت کے دلائل ہیں ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایمان لانے میں بعض اٹکتے ہیں معاش کی فکر سے سو فرمایا کہ ماں کے پیٹ سے کوئی کچھ نہیں لاتا ، اسباب کمائی کے ، آنکھ کان دل اللہ ہی دیتا ہے اور اڑتے جانور ادھر میں کس کے سہارے…
Read the full tafseer →ف 6۔ چند نشانیاں اس لیے فرمایا کہ طیور کو خاص وضع پر پیدا کرنا جس سے اڑنا ممکن ہو ایک دلیل ہے پھر جو کو ایسے طور پر پیدا کرنا جس میں اڑنا ممکن ہو ایک دلیل ہے پھر بالفعل اس طیران کا وقوع ایک دلیل ہے اور جتنے اسباب کو طیران میں دخل ہے جس کی وجہ سے ثقل جسم ورقت قوام معاقع کا اثر طبعی ظاہر نہیں ہوا چونکہ وہ سب اللہ ہی کے پیدا کیے ہوئے ہیں پھر ان اسباب پر مسبب یعنی طیران کا مرتب ہوجانا یہ بھی مشییت الٰہی ہے۔
Read the full tafseer →ذرا ان پرندوں ہی پر غور کرو جو آسمان و زمین کے درمیان اڑ رہے ہیں :
91۔ ان پرندوں کو کس نے پیدا کیا ؟ اور وہ کون ہے جس نے ان کو پیدا کر کے انکی روزی کا بندوبست بھی کردیا اور پھر صرف بندوبست ہی نہیں کیا بلکہ ہر روز روزی ان کو بہم پہنچا رہا ہے ؟ وہ کون ہے جس نے ان کو یہ اڑان بخشی اور وہ تمہارے اس زمین و آسمان کی درمیانی خلا میں اڑ رہے ہیں ۔ اچھا جس طرح کی حاجات کھانے پینے کی تمہاری ساتھ ہیں ان سب کے ساتھ بھی ہیں تو ان کی ساری احتیاجوں کو کون پورا کر رہا ہے ؟ اور انہوں نے کس سے سفارش کرائی ہے ‘ ۔
کس کا واسطہ ڈالا ہے ‘ کس کے توسط وتوسل یہ سب کچھ حاصل کر رہے ہیں اور یہ سب کچھ ان کو دیا جا رہا ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
Commentary
The Divine statement: لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا (when you knew nothing - 78) indicates that knowledge is not an ingrained personal excellence of man. When born, man has no knowledge or skill. Then, in proportion to growing human needs, man is made to absorb some knowledge, bit by bit, directly from Allah Ta’ ala in which no role is played by the parents or teachers. First of all, man was taught to cry. This one qualification alone provides all he needs at that time. Hungry or thirsty, he cries. Feels hot or cold, he cries. If some other discomfort bothers him, he would still cry.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
72. This is to remind them that when they were born they were more helpless and ignorant than the young one of an animal, but Allah gave them ears to hear, eyes to see and minds to think and reflect. These have enabled them to acquire every kind of information and knowledge to carry on their worldly affairs efficiently. So much so that these sensory faculties are the only means which help man attain so much progress as to rule over everything on the earth.
73. That is, you should be grateful to that Allah Who has bestowed upon you such blessings as these. It will be ingratitude on your part…
Read the full tafseer →