Explained with ayahs 77–79
نیکیوں کی دیوار لوگ
اللہ تعالیٰ اپنے کمال علم اور کمال قدرت کو بیان فرما رہا ہے کہ زمین آسمان کا غیب وہی جانتا ہے، کوئی نہیں جو غیب دان ہو اللہ جسے چاہے، جس چیز پر چاہے، اطلاع دے دے۔ ہر چیز اس کی قدرت میں ہے نہ کوئی اس کا خلاف کرسکے۔ نہ کوئی اسے روک سکے جس کام کا جب ارادہ کرے، قادر ہے پورا ہو کر ہی رہتا ہے آنکھ بند کر کے کھولنے میں تو تمہیں کچھ دیر لگتی ہوگی لیکن حکم الٰہی کے پورا ہونے میں اتنی دیر بھی نہیں لگتی۔ قیامت کا آنا بھی اس پر ایسا ہی آسان ہے، وہ بھی حکم ہوتے ہی آجائے گی۔ ایک کا پیدا کرنا اور سب کا پیدا کرنا اس پر یکساں ہے۔ اللہ کا احسان دیکھو کہ اس نے لوگوں کو ماؤں کے پیٹوں سے نکالا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
سورة النَّحْل 72
یعنی وہ ذرائع جن سے تمہیں دنیا میں ہر طرح کی واقفیت حاصل ہوئی اور تم اس لائق ہوئے کہ دنیا کے کام چلا سکو۔ انسان کا بچہ پیدائش کے وقت جتنا بےبس اور بیخبر ہوتا ہے اتنا کسی جانور کا نہیں ہوتا۔ مگر یہ صرف اللہ کے دیے ہوئے ذرائع علم (سماعت، بینائی، اور تعقل و تفکر) ہی میں ہیں جن کی بدولت وہ ترقی کر کے تمام موجودات ارضی پر حکمرانی کرنے کے لائق بن جاتا ہے۔
سورة النَّحْل 73
یعنی اس خدا کے شکر گزار جس نے یہ بےبہا نعمتیں تم کو عطا کیں۔ ان نعمتوں کی اس سے بڑھ کر ناشکری اور کیا ہو سکتی ہے کہ ان کانوں سے آدمی سب کچھ سنے مگر ایک خدا ہی کی بات نہ سنے، ان آنکھوں سے سب کچھ دیکھے مگر ایک خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
معارف و مسائل
قولہ تعالیٰ لَا تَعْلَمُوْنَ شَـيْـــًٔـا اس میں اشارہ ہے کہ علم انسان کا ذاتی ہنر نہیں پیدائش کے وقت وہ کوئی علم وہنر نہیں رکھتا پھر ضرورت انسانی کے مطابق اس کو کچھ کچھ علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلاواسطہ سکھایا جاتا ہے جس میں نہ ماں باپ کا دخل ہے نہ کسی معلم کا سب سے پہلے اس کو رونا سکھایا اس کی یہی صفت اس وقت اس کی تمام ضروریات مہیا کرتی ہے بھوک پیاس لگے تو وہ روتا ہے سردی گرمی لگے تو رو دیتا ہے کوئی اور تکلیف پہنچنے تو رو دیتا ہے قدرت نے اس کی ضروریات کے لئے ماں باپ کے دلوں میں خاص الفت ڈال دی کہ جب بچے کی آواز سنیں تو وہ اس کی تکلیف کے پہچاننے اور اس کے دور کرنے لئے آمادہ…
Read the full tafseer →وَاللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَـيْـــًٔـا ۙ وَّجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۔
یعنی انسان جب پیدا ہوتا ہے تو صرف ایک مغضۂ گوشت ہوتا ہے۔ عقل و علم اور قوت وصلاحیت سے بالکل عاری۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کو سمع و بصر اور دل و دماغ کی قوتیں عطا فرماتا ہے۔ ان نعمتوں کا حق یہ ہے کہ تم اللہ کے شکر گزار بنو لیکن اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان نعمتوں کو پا کر ان کو خدا ہی کی ناشکری کا ذریعہ بناتے ہیں۔ اسی مضمون کو سورة ملک میں یوں بیان فرمایا قل ھو الذی انشاکم وجعل لکم السمع والابصاری والافئدۃ قلیلا ما تشکرون : کہہ…
Read the full tafseer →78۔ 1 شَیْئًا، نکرہ ہے تم کچھ نہیں جانتے تھے، نہ نیکی و بدبختی کو، نہ فائدے اور نقصان کو۔
78۔ 2 تاکہ کانوں کے ذریعے تم آوازیں سنو، آنکھوں کے ذریعے سے چیزوں کو دیکھو اور دل، یعنی عقل (کیونکہ عقل کا مرکز دل ہے) دی، جس سے چیزوں کے درمیان تمیز کرسکو اور نفع نقصان پہچان سکو، جوں جوں انسان بڑا ہوتا ہے، اس کی عقل و حواس میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے، حتیٰ کہ جب انسان شعور اور بلوغت کی عمر کو پہنچتا ہے تو اس کی یہ صلاحیتیں بھی قوی ہوجاتی ہیں، حتیٰ کہ پھر کمال کو پہنچ جاتی ہیں۔
78۔ 3 یعنی یہ صلاحیتیں اور قوتیں اللہ تعالیٰ نے اس لئے عطا کی ہیں کہ انسان ان عضا وجوارح کو اس طرح استعمال کرے جس سے اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–79
32: مشرکین عرب بعض اوقات اپنے شرک کی تائید میں یہ مثال دیتے تھے کہ جس طرح دنیا کا بادشاہ تنہا اپنی حکومت نہیں چلاتا، بلکہ اسے حکومت کے بہت سے کام اپنے مددگاروں کو سونپنے پڑتے ہیں، اسی طرح (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی خدائی کے بہت سے کام ان دیوتاؤں کو سونپ رکھے ہیں۔ اور ان معاملات میں وہ خود مختار ہوگئے ہیں۔ اس آیت میں ان سے کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے دنیا کے بادشاہوں کی، بلکہ کسی بھی مخلوق کی مثال دینا انتہائی جہالت کی بات ہے۔ اس کے بعد آیت نمبر 75، 76 میں اللہ تعالیٰ نے دو مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ جن کا مقصد یہ ہے کہ اگر مخلوقات ہی کی مثال لینی ہے تو ان دو مثالوں سے ظاہر ہے کہ…
Read the full tafseer →آیت : واللہ اخرجکم………تشکرون۔ (87)
تشریح :
یہ بھی ایک عالم غیب ہے جو انسان کے بہت ہی قریب ہے ، لیکن قریب ہونے کے ساتھ ساتھ وہ فہم و ادراک سے بہت بعید بھی ہے۔ یہ کہ اس عالم غیب بطن مادر میں جنین کس طرح تکمیل کے مراحل طے کرتا ہے۔ بعض اوقات لوگ جنین کے حالات ملاحظہ کرتے ہیں ، لیکن ان کا علم محدود ہے اور وہ یہ معلوم نہیں کرسکتے کہ وہ کس طرح تکمیل اور نشوونما کے مراحل طے کرتا ہے۔ کیونکہ اس کی نشوونما میں راز حیات اصل راز ہے ، جس کا عل آج تک پوشیدہ ہے۔ وہ علم جس کا انسان دعویٰ کرتا ہے اور جس کے ساتھ انسان آگے بڑھتا ہے اور جس کے ذریعے وہ قیامت کے قیام کو بھی معلوم کرنا چاہتا ہے ، وہ ایک حادث علم ہے…
Read the full tafseer →1 یعنی پیدائش کے وقت تم کچھ جانتے اور سمجھتے نہ تھے، خدا تعالیٰ نے علم کے ذرائع اور سمجھنے والے دل تم کو دیے۔ جو بذات خود بھی بڑی نعمتیں ہیں اور لاکھوں نعمتوں سے متمتع ہونے کے وسائل ہیں۔ اگر آنکھ، کان، عقل وغیرہ نہ ہو تو ساری ترقیات کا دروازہ ہی بند ہوجائے۔ جوں جوں آدمی کا بچہ بڑا ہوتا ہے اس کی علمی و عملی قوتیں بتدریج بڑھتی جاتی ہیں۔ اس کی شکر گزاری یہ تھی کہ ان قوتوں کو مولیٰ کی طاعت میں خرچ کرتے، اور حق شناسی میں سمجھ بوجھ سے کام لیتے، نہ یہ کہ بجائے احسان ماننے کے الٹے بغاوت پر کمر بستہ ہوجائیں۔ اور منعم حقیقی کو چھوڑ کر اینٹ پتھروں کی پرستش کرنے لگیں۔
Read the full tafseer →آیت 78 وَاللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَـيْـــًٔـا
نوزائیدہ بچہ عقل و شعور اور سمجھ بوجھ سے بالکل عاری ہوتا ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ انسان کا بچہ تمام حیوانات کے بچوں سے زیادہ کمزور اور زیادہ محتاج dependent ہوتا ہے۔
وَّجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ
وَالْاَفْــِٕدَةَ کا ترجمہ عام طور پر ”دل“ کیا جاتا ہے ‘ مگر میرے نزدیک اس سے مراد عقل اور شعور ہے۔ اس پر تفصیلی گفتگو ان شاء اللہ سورة بنی اسرائیل کی آیت اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓءِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْءُوْلاً کے ضمن میں ہوگی۔ آیت زیر نظر میں کانوں اور…
Read the full tafseer →79 اللہ کی نعمتیں اور انسان کی ناشکری :۔ یہاں سے پھر گذشتہ مضمون یعنی دلائل توحید کا تسلسل قائم ہو رہا ہے۔
پیدائش کے وقت انسان کا بچہ جس قدر بیخبر اور کمزور ہوتا ہے اتنا اور کسی جاندار کا بچہ بیخبر اور کمزور نہیں ہوتا۔ دوسرے سب جانداروں کے بچے پیدا ہوتے ہی راہ دیکھنے اور چلنے پھرنے لگ جاتے ہیں۔ لیکن انسان کا بچہ چلنا تو درکنار بیٹھ بھی نہیں سکتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آنکھ، کان اور دل سب جانداروں کو عطا کیے ہیں۔ لیکن انسان کو اللہ نے جو کان، آنکھیں اور دل دیئے ہیں وہ اتنی اہلیت اور صلاحیت رکھتے ہیں کہ ان کے ذریعہ انسان باقی تمام جانداروں اور دوسری مخلوق کو اپنا تابع بنا رہا ہے اور ان پر حکمرانی…
Read the full tafseer →123۔ (یہ خیال کرکے کہ اس نے ان آلات کے ذریعہ سے تمہاری بےعلمی علم سے بدل دی) (آیت) ” جعل لکم السمع والابصار والافئدۃ “۔ سماعت اس لئے دی کہ حق تعالیٰ کے احکام سنو۔ آنکھیں اس لئے دیں، کہ حق تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے نمونے مشاہدہ کرو اور دل اس لئے کہ حق تعالیٰ کی عظمت کا احساس، اور اس پر غور و تدبر کرو۔ جعل لکم السمع لتسمعوا مواعظ اللہ والابصار لتبصروا دلائل اللہ والافئدۃ لتعقلوا عظمۃ اللہ (کبیر) (آیت) ” السمع والابصار والافئدۃ “۔ سماعت اور بصارت کی تخصیص شاید اس لئے کہ آلات علم وذرائع معرفت میں اہم ترین یہی دو ہیں۔ اور دل کی تخصیص اس لئے کہ حواس ظاہری وباطنی سب اسی کے تابع ہیں۔ (آیت) ” وجعل لکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
آیت نمبر 77 تا 83
ترجمہ : آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا علم اللہ ہی کو ہے یعنی ان دونوں میں مخفی چیزوں کا علم، قیامت کا معاملہ تو بس ایسا ہوگا جیسا کہ پلک کی ایک جھپک یا اس سے بھی جلدی، اسلئے کہ وہ لفظ کن سے ہوگا، تو وہ ہوجائے گی، یقیناً اللہ ہر شئ پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حال میں پیدا کیا کہ تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے (لاتعلمون شیئًا) کم ضمیر سے حال ہے، اور اس نے تمہیں کان دیئے سمع، اسماعٌ کے معنی میں ہے اور آنکھیں دیں اور دل دیئے تاکہ تم ان کا شکریہ ادا کرو، اور ایمان لے آؤ، کیا لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا ؟ کہ وہ پرواز کے لئے آسمان کی فضاء میں…
Read the full tafseer →وا اللہ اخرجکم من بطون امھتکم لا تعلمون شیءًا وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ اللہ نے ہی تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے ایسی حالت میں نکالا کہ تم (بےجان جمادات کی طرح) کچھ بھی نہیں جانتے تھے اور اسی نے تم کو کان دئیے اور آنکھیں اور دل۔
سمع سے مراد ہیں : اسماع (اسم جنس بمعنی جمع) یعنی اللہ نے تم کو آلات علم عطا کئے۔ اوّل حواس کے ذریعہ سے تم جزئیات کا علم حاصل کرتے ہو ‘ پھر بار بار اور پے در پے احساس کرنے کے بعد تم دل سے اشیاء میں امتیاز کرتے ہو ‘ اشیائے مشترکہ کے اشتراک اور جداجدا چیزوں کے اختلاف کو جان لیتے ہو۔ اس طرح تم کو کچھ بدیہی علوم حاصل ہوجاتے ہیں اور ان بدیہی علوم پر غور کرنے کے بعد تم…
Read the full tafseer →(78) اور کیا اللہ تعالیٰ نے تمہاری ماں کے پیٹ سے تمہیں اس حالت میں نہ نکالا کہ تمہیں اشیا میں سے کسی چیز کی بھی خبر نہ تھی اور اس نے تمہیں نیک بات سننے کے لیے کان اور نیک بات دیکھنے کے لیے آنکھیں اور امور خیر کے سمجھنے کے لیے دل عطا کیے تاکہ تم نعمت خداوندی کا شکر کرو اور اس پر ایمان لاؤ۔
Read the full tafseer →وَاللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ۔۔ : اس سورت کی آیت (65) (وَاللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً) سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر اور اس کے اکیلے معبود ہونے کے جو دلائل شروع ہوئے تھے وہی سلسلۂ کلام جاری ہے۔ اس آیت میں پہلا انعام ماؤں کے پیٹوں سے نکالنا ہے۔ اس سے پہلے بہت سے مراحل خود بخود اس میں آجاتے ہیں۔ نو ماہ تک پیٹ میں مکمل بچہ بنانے کے بعد اسے نکلنے کا راستہ مہیا کرنا اور ماں اور بچے دونوں کی خیریت کے ساتھ بچے کو باہر لے آنا کیا معمولی بات ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے اتنے بڑے احسان کے باوجود انسان کے ناشکری اور شرک اختیار کرنے پر اس کے لیے بہت سخت الفاظ استعمال…
Read the full tafseer →آیت نمبر 78
قولہ تعالیٰ : واللہ اخرجکم من بطون امھتکم لاتعلمون شیئا بیان فرمایا کہ اس کی نعمتوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں تمہاری ماؤں کے شکموں سے نکالا اس حال میں کہ تم بچے تھے اور تمہیں کسی شے کا بھی علم نہ تھا۔ اور اس میں تین اقوال ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے تم اس میں سے کچھ نہیں جانتے تھے جو اس نے تم سے وعدہ لیا درآنحالیکہ تم ابھی اپنے باپوں کی صلبوں میں تھے۔ دوسرا قول یہ ہے : تم اس میں سے کچھ نہ جانتے تھے جو اس نے تمہارے بارے میں سعادت و شقاوت کا فیصلہ کیا ہے۔ اور تیسرا قول یہ ہے : تم اپنے منافع میں سے کچھ نہ جانتے تھے ؛ کلام مکمل ہوگئی، پھر نئے سرے سے آغاز کیا اور فرمایا : وجعل لکم…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واللہ اخرجکم من بطون امھتکم “ یعنی (ماں کے) رحم سے (اللہ تعالیٰ نے تم کو نکالا)
کان، آنکھ، دل اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ لعلکم تشکرون “ کے بارے میں روایت فرمایا کہ یہ عزت اور کرامت ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں عزت دی اس کے ذریعہ اس لئے تم اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔
3:۔ احمد، ابن ماجہ، ابن حبان، طبرانی اور ابن مردویہ نے حبہ وسواء جو خالد (رح) کے بیٹے ہیں سے روایت کیا کہ وہ دونوں نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کوئی دیوار درست فرما رہے تھے آپ نے ان دونوں سے…
Read the full tafseer →[وَاللّٰهُ : اور اللہ ہی نے ] [ اَخْرَجَكُمْ : نکالا تم لوگوں کو ] [ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ : تمہاری مائوں کے پیٹوں سے ] [ لَا تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ نہیں جانتے ] [ شَـيْـــًٔـا ۙ: کچھ بھی ] [ وَّجَعَلَ : اور اس نے بنائے ] [ لَكُمُ : تمہارے لئے ] [ السَّمْعَ : سماعت ] [ وَالْاَبْصَارَ : اور بصارتیں ] [ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۙ: اور دل (ادراک کی صلاحیتیں)] [ لَعَلَّكُمْ : شاید کہ تم لوگ ] [ تَشْكُرُوْنَ : حق مانو ]
(آیت۔ 78) ۔ لَا تَعْلَمُوْنَ ، یہ پورا جملہ اَخْرَجَکُمْ کی ضمیر مفعولی کُمْ کا حال ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے متعدد انعامات، انسانوں کی تخلیق، جانوروں کا اڑنا لباس کا سامان پیدا فرمانا، پہاڑوں میں رہنے کی جگہیں بنانا
ان آیات میں اللہ جل شانہ نے اپنے متعدد انعامات ذکر فرمائے ہیں جن میں بندوں پر امتنان بھی ہے اور دعوت توحید بھی ہے۔
(1) اولاً بندوں کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ نے تمہیں ماؤں کے پیٹوں سے نکالا تم صحیح سالم باہر آگئے تم بالکل ہی انجان تھے اللہ تعالیٰ نے علم سے نوازا اور علم کے ذرائع پیدا فرمائے، سننے کی قوت دی، دیکھنے کے لیے آنکھیں دیں، جاننے کے لیے دل عطا فرمائے یہ اللہ کی بڑی بڑی نعمتیں ہیں بندوں کو چاہیے کہ شکر گزار ہوں، شکر گزاری یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–83
رجور بسوئے دلائل توحید بتذکیر انعامات خداوند حمید
قال اللہ تعالیٰ : واللہ انزل من السماء .... الیٰ .... واکثرھم ھم الکفرون۔
(ربط) اوپر سے بہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کا ذکر چلا آرہا ہے اور پھر اسی طرح سے یہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کو بیان فرماتے ہیں اور یہ دلائل معاد بھی ہیں اور دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل ہدایت بھی ہیں اور دلائل رحمت بھی ہیں۔ دور تک اسی طرح سلسلہ کلام چلا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کے انعامات کو ذکر فرمایا جو علاوہ نعمت ہونے کے اس کے کمال علم اور کمال قدرت اور حکمت کے دلائل بھی ہیں۔
(1) چناچہ واللہ انزل من السماء ماء سے اپنی قدرت کا بیان شروع فرمایا کہ آسمان سے…
Read the full tafseer →62 ۔ یہ توحید پر چھٹی عقلی دلیل ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا اس وقت تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے پھر اس نے تمہیں سننے، دیکھنے اور سوچنے سمجھنے کی قوتیں عطا فرمائیں تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو اور اس کے ساتھ شرک نہ کرو اور گیر اللہ کو حاجات میں غائبانہ مت پکارو اور اس کی عطا کردہ قوتوں کو علم دین اور معرفت الٰہی کی تحصیل میں خرچ کرو۔ اجتلاب العلم والعمل بہ من شکر المنعم و عبادتہ والقیام بھقوقہ (مدارک ج 2 ص 227)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
(ربط آیات)
گذشتہ دروس میں اللہ نے شرک کی تردید میں بعض دلائل اور مثالیں بیان فرمائیں ایک مثال یہ بیان فرمائی کہ ایک شخص غلام بھی ہے اور گونگا بھی ، وہ بالکل نکما ہے ، جو بھی کام اس کے سپرد کیا جائے وہ کوئی اچھا نتیجہ پیش نہیں کرتا اور اس طرح آپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے ، دوسری طرف ایک آزاد اور مومن آدمی ہے ، اور خود بھی عدل و انصاف پر قائم ہے اور دوسروں کو بھی اسی کی تلقین کرتا ہے ، یہ شخص اللہ کے بتائے ہوئے صراط مستقیم پر ہے تو اللہ نے ان دو شخصوں کا حال بیان کرکے فرمایا کہ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ یہی مثال ایک مشرک اور موحد کی ہے ، جس طرح مذکورہ دو شخص برابر نہیں ، اسی طرح مشرک اور…
Read the full tafseer →وَاللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَـيْـــًٔـا ۙ وَّجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ 78
خرج
خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ،
( خ رج ) خرج ۔ ( ن)
خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
ترکیب : اوھواقرب اوللتمثیل اوللتخییر وقیل لشک المخاطب وقیل بمعنی بل والجملۃ تمثیل لسرعۃ وقوع القیامۃ۔ مسخرات حال من الطیر۔ سکنًا بمعنی مسکون لاتعلمون جملہ حال ہے ضمیر منصوب امہاتکم سے۔ مایمسکہن جملہ حال ہے مسخرات سے۔ ظعن سفر۔ اثاتاً معطوف ہے سکنًا پر اور دونوں میں اصوافہا جار مجرور کا فصل مستقبح نہیں ہے کیونکہ جار مجرور بھی مفعول ہے اور ایک مفعول کا دوسرے پر مقدم کرنا قبیح نہیں الظعن بفتح العین وسکونہا کالنہرو ھوسیر اہل البادیۃ من موضع الیٰ موضع والصوف للغنم والوبرللابل والشعر للمغر اکنانا جمع کن وھو مایستکن بہ۔
تفسیر : ان آیات میں خدا تعالیٰ ان کے ان معبودوں کے مقابلہ میں کہ جن کو دو مثالوں…
Read the full tafseer →وَاللّٰہُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْ م بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّجَعَلَ لَکُمْ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ لا لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 78)
(اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہاری مائوں کے پیٹوں سے اس حال میں نکالا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے اور اس نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور سوچنے والے دل بنائے تاکہ تم شکرگزار بنو۔ )
الْاَفْئِدَۃَ فؤاد کی جمع ہے، جیسے غراب کی جمع اغربہ ہے۔ اُمَّھاتْام کی جمع ہے۔ قاعدے کے اعتبار سے اس کی جمع اُمَّات ہونی چاہیے لیکن تاکید کے لیے ھا بڑھا دی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اظہار
اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ادنیٰ سا اظہار…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے منکرین کو قیامت کا منظر بتلانے کے بعد ان کی پیدائش کا منظر بتلایا ہے۔
قیامت کے منکر سب سے بڑی یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ جب ہم مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں کس طرح اٹھائے گا۔ اس کے ساتھ وہ یہ دلیل بھی دیتے ہیں۔ کہ انسان کے الفاظ اور اس کا کردار ہوا میں تحلیل ہوجاتا ہے اس لیے انسان کا دوبارہ زندہ ہونا اور اس کے اعمال کا محاسبہ کرنا نہ ممکنات میں سے ہے۔ موت کے بعد جی اٹھنے کا انکار کرنے والوں کو غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو تمہاری ماؤں کے بطنوں سے تمہیں نکالتا ہے۔ اس حالت میں کہ اس سے پہلے تمہارا وجود نہ تھا۔ اسی نے تمہاری آنکھیں، کان،…
Read the full tafseer →نمونہ ہائے قدرت آیت نمبر 81 تک :
78: وَاللّٰہُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْ 0 بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ (اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہاری مائوں کے پیٹ سے نکالا)
نحو : قراءت : علی نے اِمَّھَا تِکُمْ پڑھا۔ الف کا کسرہ نون کی اتباع میں اور میم کا فتحہ۔ اور حمزہ نے دونوں میں کسرہ پڑھا اِمِہات میں ھاء کو تاکید کیلئے بڑھایا گیا۔ جیسا کہ اِرَاق میں اِھْرَاق کہتے ہیں البتہ واحد میں ھاء کا اضافہ خلاف قاعدہ ہے۔ لَاتَعْلَمُوْنَ شَیْئًا (تم کچھ نہ جانتے تھے)
نحو : یہ حال ہے یعنی تم اس منعم کا حکم کچھ بھی جاننے والے نہ تھے جس نے تمہیں مائوں کے پیٹ میں پیدا کیا۔ وَّ جَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ…
Read the full tafseer →(78) ” واللہ اخرجکم من بطون امھاتکم “ کسائی وغیرہ نے (بطون) کی جگہ ” بیوت “ بھی پڑھا ہے۔” امھاتکم “ کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور حمزہ نے میم اور ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے ہمزہ کے ضمہ کے ساتھ اور میم کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” لا تعلمون شیئاً “ یہاں پر کلام تام ہوتا ہے۔ پھر آگے اللہ عزوجل فرماتے ہیں ” وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ “ ان تمام اشیاء کو مائوں کے پیٹوں سے نکلنے سے پہلے ہی بنادیا تھا۔ البتہ ان اشیاء کا علم اور دوسری چیزوں کا علم اس کے بعد دیا گیا۔
” لعلکم تشکرون “ کہ تم ان تمام نعمتوں کا شکر ادا کرو، سننے اور دیکھنے اور دوسری تمام چیزوں کا۔ دیکھئے بچہ سنتا بھی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
78۔ 79۔ اوپر ذکر تھا کہ جب وقت آئے گا تو پلک جھپکنے میں درمیانی یا آخری قیامت آجائے گی کیونکہ اسے ہر شے پر پوری قدرت ہے وہ کسی چیز سے عاجز نہیں ہے منکر حشر یہ نہ سمجھیں کہ قیامت نہ ہوگی اور پھر انسان دوبارہ زندہ نہ ہوں گے اب فرمایا کہ اللہ پاک نے تمہیں اس حالت میں پیدا کیا کہ تمہارا کچھ وجود نہ تھا باپ کی پیٹھ سے ماں کے شکم میں نطفہ کو ٹھہرا دیا اور رفتہ رفتہ اس نطفہ سے پتلا بنایا پھر روح پھونکی اور تمہیں ماں کے پیٹ سے جب روئے زمین پر ظاہر کیا اس وقت بھی تمہاری حالت یہ تھی کہ تم دنیا میں کسی چیز کو نہیں جانتے تھے نہ نفع کی چیزوں کا تمہیں علم تھا نہ ضرر دینے والی اشیا کو تم جانتے تھے نہ دوست…
Read the full tafseer →آیت : (78)
یعنی اللہ تعالیٰ یہ نعمتیں عطا کرنے میں منفرد اور یکتا ہے (اخرجکم من بطون امھتکم لا تعلمون شیا) ” اس نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا ‘ تم کچھ نہیں جانتے تھے “ اور نہ کسی چیز پر قدرت رکھتے تھے۔ اور اس نے (وجعل لکم السمع والابصار والافدۃ) ” تمہارے کان ‘ آنکھیں اور دل بنائے “ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں اعضاء کا ان کے فضل و شرف کی بنا پر خاص طور پر ذکر کیا ہے ‘ نیز اس خصوصیت کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ تینوں اعضاء ہر علم کی کلید ہیں۔ صرف یہی تین دروازے ہیں جن کے ذریعے سے علم انسان تک پہنچتا ہے ورنہ تمام اعضاء اور تمام ظاہری اور باطنی قوی اللہ تعالیٰ ہی نے عطا کئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
گونگے غلام کا حکم
اگر یہ کہا جائے کہ ارشاد باری ہے (وضرب اللہ مثلا رجلین احمدھما بکم لا یقدر علی شی وھو کل علی مولاہ۔ اللہ ایک اور مثال دیتا ہے۔ دو آدمی ہیں ایک گونگا بہرا ہے کوئی کام نہیں کرسکتا اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے) لیکن آیت کی اس امر پر دلالت نہیں ہو رہی ہے کہ گونگا کسی چیز کا مالک نہیں ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا آیت میں گونگے سے گونگا غلام مراد ہے آپ اس قول باری کو دیکھئے (وھو کل علی مولاہ اینما یوجھہ لا یات بخیر۔ اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے جدھر بھی وہ اسے بھیجے کوئی بھلا کام اس سے نہ بن آئے) آقا کا ذکر نیز آقا کی طرف سے اسے بھیجنے کا بیان اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس سے مراد…
Read the full tafseer →157۔ دلائل انفسی میں غور وفکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور اللہ ہی نے تم سب کو نکالا تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے (اے لوگو ! ) "۔ جو ایک بڑا ثبوت ہے اس کمال قدرت اور بےنہایت رحمت و عنایت کا سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو نوماہ تک تم لوگ اپنی ماؤں کے پیٹوں میں رہے جہاں حیض اور خون تمہاری غذا تھی۔ تو اس قادر مطلق نے اپنی قدرت بےپایاں اور رحمت و عنایت بےنہایت سے تم کو وہاں سے نکالا۔ جبکہ تم لوگ کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور جاننے کے قابل بھی نہیں تھے کہ تم محض گوشت کی بوٹی کی طرح تھے تو اس نے تمہیں وسائل علم و ادراک سے نوازا اور تم کو بتدریج اور آہستہ آہستہ کہاں سے کہاں پہنچایا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پھر اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
انسان کی پیدائش، اڑتے پرندے اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں
تشریح : اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور نعمتوں کا ذکر ہو رہا ہے۔ اسی سلسلے میں یہاں انسان کا ذکر ہو رہا ہے کہ غور کریں تو پتہ چلتا ہے اللہ رحمن و رحیم نے انسان کی پیدائش کا ذریعہ اس کی ماں کو خاص طور سے بنایا ہے۔ کیونکہ وہی اپنے پیٹ کے اندر مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے ایک بچے کی پرورش کرتی ہے اور پھر نو ماہ کی مشکل ترین محنت کے بعد اللہ کے حکم سے بچے کو جنم دیتی ہے۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو بظاہر وہ بالکل بےتعلق نظر آتا ہے مگر اس کے تمام اعضاء بالکل ورکنگ کنڈیشن میں ہوتے ہیں۔ لیکن تمام توانائیاں بڑی کمزور حالت میں ہوتی ہیں جو کہ آہستہ آہستہ وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
(رکوع نمبر 1 1)
اسرارومعارف
جو انسانی منصوبہ بندیاں اور اندازے ہیں جن کی بنیاد پر لوگ رب جلیل کو بھی عام انسانوں کی طرح تصور کرکے مثالیں دیتے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں کہ زمین اور آسمانوں میں یا ساری مخلوق میں غیب کا علم تو صرف اللہ جل جلالہ کو ہے اور کل کیا ہونے والا ہے یا آئندہ کیا پیش آئے گا یہ صرف اللہ جل جلالہ جانتا ہے ، لہذا انسان کی بہتری اسی کی اطاعت میں ہے ، ورنہ انسان کو تو یہ بھی خبر نہیں کہ کس گھڑی سب کچھ تہ وبالا ہوجائے گا اور پلک جھپکنے میں قیامت قائم ہوجائے گی اللہ جل جلالہ تو یقینا جانتا ہے بلکہ وہی ذات قیامت قائم کرنے والی ہے اور یقینا وہ ہر بات پہ کامل قدرت رکھتا ہے لہذا اسی…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی اس خدا کا شکر کرو جس نے تمہیں بےبہا نعمتیں عطا فرمائیں اور اس کے سوا کسی کو نہ پوجو۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
(16:77) امر الساعۃ۔ یعنی قیامت برپا ہونے کا معاملہ۔
لمح۔ اسم مصدر۔ پلک جھپکنا۔ لمح البرق۔ بجلی چمکی۔ یا جھپکی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 83
امرالساعۃ قیامت کا حال۔ لمح البصر آنکھ کا جھپکنا، آنکھ کا بند ہونا۔ اقرب زیادہ قریب۔ بطون (بطن) پیٹ۔ شیئاً کچھ بھی۔ السمع سننا، کان الابصار (بصر) آنکھیں۔ الافئدۃ دل، قلب۔ الطیر پرندہ۔ فی جو السمآء آسمان کی فضا میں۔ مایمسک نہیں تھامتا۔ سکن ٹھکانا، رہنے کی جگہ۔ جلود (جلد) کھالیں۔ تستخفون تم ہلکا پھلکا پاتے ہو۔ یوم ظعن سفر کے دن، کوچ کے دن۔ یوم اقامۃ ٹھہرنے کے دن۔ اصواف (صوف) اون۔ اوبار (وبر) اونٹ کا نرم رواں۔ اشعار (شعر) بال۔ اثاثاً سامان اسباب۔ متاعاً سامان۔ حین وقت ، زمانہ۔ ظلال سائے۔ اکنان صکن) چھپنے کی جگہ۔ سرابیل (سربال) کرتے۔ تقیکم تمہیں بچاتا ہے۔ باس لڑائی،…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی قدرت کا نمونہ
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس حالت میں پیدا کیا کہ تمہارا کچھ وجود نہ تھا۔ باپ کی پیٹھ سے ماں کے شکم میں نطفہ کو ٹھہرا دیا، اور رفتہ رفتہ اس نطفہ سے پتلا بنایا پھر روح پھونکی اور تمہیں ماں کے پیٹ سے جب روئے زمین پر ظاہر کیا۔ اس وقت بھی تمہاری حالت یہ تھی کہ تم دنیا کی کسی چیز کو نہیں جانتے تھے۔ نہ نفع کی چیزوں کا تمہیں علم تھا نہ ضرر دینے والی اشیاء کو تم جانتے تھے۔ مگر اللہ پاک نے تمہیں کان دیئے کہ تم لوگوں کی باتوں کو سنو اور آنکھیں بھی دیں کہ اچھے اور برے کو دیکھ کر تمیز کرو اور اپنی زندگی میں ان آنکھوں کے ذریعہ مناسب کام لو۔ غرضیکہ آنکھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
[46] قیامت کے ذکر کے بعد یہاں سے پھر وہی سلسلہ بیان شروع ہوجاتا ہے جو اوپر سے چلا آ رہا تھا۔
[47] شکر اس لئے کہ اس نے ان آلات کے ذریعے تمہاری بےعلمی علم سے بدل دی۔ سماعت اس لئے دی کہ اللہ کے احکام سنو، بصارت اس لئے دی کہ اس کی قدرت و حکمت کے نمونے مشاہدہ کرو اور دل اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا احساس اور اس پر غور و فکر کرو۔
Read the full tafseer →انسان کی عقلی تربیت :
(ف 1) انسان اگر اپنے اندر نظر دوڑائے ، تو معلوم ہو کہ خود اس میں کس قدر معارف وعلوم کا خزانہ پہناں ہے ۔
اس آیت میں داخلی تفکیر کی جانب توجہ دلائی ہے غور کرو اللہ نے لطف بےپایاں سے تمہاری عقلی وذہنی تربیت کی ہے جب تم پیدا ہوئے تھے ، اس وقت تم نہیں جانتے تھے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے ، آہستہ آہستہ تمہاری عقل بڑھی اور تم اپنے حواس سے کام لینے لگے ، ایک وقت آیا کہ وہ عقل درجہ تکمیل تک پہنچ گئی ، اور تم ہر معاملہ کے حسن وقبح کو پہچاننے لگے بتاؤ جس خدا نے ابتداء سے تمہاری عمل ضروریات کو پورا کیا ہے وہ دنیا تمہاری دینی ومذہبی ضروریات کو پورا نہ کرے گا ، کیونکہ مذہب بھی درحقیقت…
Read the full tafseer →78 ۔ اور اللہ تعالیٰ نے تم کو تمہاری مائوں کے پیٹوں میں سے اس حال میں نکالا کہ تم اس وقت کچھ بھی نہیں جانتے تھے اور اس نے تم کو کان دیئے اور آنکھیں اور دل عطا کئے تا کہ تم شکر بجا لائو اور اس کا شکر کرو۔
Read the full tafseer →ف 5۔ اس مرتبہ کا نام اصطلاح میں عقل ہولانی ہے۔
Read the full tafseer →تم اپنی ماؤں کے بطن سے کس حال میں نکلے اور اس وقت تم کیا ہو ؟ :
90۔ تم کون ہو اور کیا ہو ؟ عالم ہو ‘ مفکر ہو ‘ پروفیسر ہو ‘ حکیم ہو ‘ ڈاکٹر ہو ‘ انجینئر ہو ‘ ایم پی اے ہو ‘ ایم این اے ہو ‘ وزیر اعلی ہو ‘ وزیر اعظم ہو یا کسی ملک کے صدر ہو ؟ جو کچھ بھی تم ہو اللہ تم کو مبارک کرے ذرا غور کرو اور دیکھو جب اپنی ماں کے بطن سے باہر آئے تھے کیا تھے اور اب کیا ہو ؟ بس یہ اس علیم وقدیر کی نوازش ہے کہ اس نے تم کو انسان کی شکل میں پیدا فرمایا اور جب تم پیدا ہوئے تو تمہاری نادانی کا یہ حال تھا کہ تم اپنی ماں کو بھی نہیں پہچان سکتے تھے جس کے شکل میں پیدا فرمایا اور جب تم پیدا ہوئے تو تمہاری نادانی کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
Commentary
The Divine statement: لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا (when you knew nothing - 78) indicates that knowledge is not an ingrained personal excellence of man. When born, man has no knowledge or skill. Then, in proportion to growing human needs, man is made to absorb some knowledge, bit by bit, directly from Allah Ta’ ala in which no role is played by the parents or teachers. First of all, man was taught to cry. This one qualification alone provides all he needs at that time. Hungry or thirsty, he cries. Feels hot or cold, he cries. If some other discomfort bothers him, he would still cry.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
72. This is to remind them that when they were born they were more helpless and ignorant than the young one of an animal, but Allah gave them ears to hear, eyes to see and minds to think and reflect. These have enabled them to acquire every kind of information and knowledge to carry on their worldly affairs efficiently. So much so that these sensory faculties are the only means which help man attain so much progress as to rule over everything on the earth.
73. That is, you should be grateful to that Allah Who has bestowed upon you such blessings as these. It will be ingratitude on your part…
Read the full tafseer →