Explained with ayahs 77–79
نیکیوں کی دیوار لوگ
اللہ تعالیٰ اپنے کمال علم اور کمال قدرت کو بیان فرما رہا ہے کہ زمین آسمان کا غیب وہی جانتا ہے، کوئی نہیں جو غیب دان ہو اللہ جسے چاہے، جس چیز پر چاہے، اطلاع دے دے۔ ہر چیز اس کی قدرت میں ہے نہ کوئی اس کا خلاف کرسکے۔ نہ کوئی اسے روک سکے جس کام کا جب ارادہ کرے، قادر ہے پورا ہو کر ہی رہتا ہے آنکھ بند کر کے کھولنے میں تو تمہیں کچھ دیر لگتی ہوگی لیکن حکم الٰہی کے پورا ہونے میں اتنی دیر بھی نہیں لگتی۔ قیامت کا آنا بھی اس پر ایسا ہی آسان ہے، وہ بھی حکم ہوتے ہی آجائے گی۔ ایک کا پیدا کرنا اور سب کا پیدا کرنا اس پر یکساں ہے۔ اللہ کا احسان دیکھو کہ اس نے لوگوں کو ماؤں کے پیٹوں سے نکالا…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 70
بعد کے فقرے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دراصل جواب ہے کفار مکہ کے اس وال کا جو وہ اکثر نبی ﷺ سے کیا کرتے تھے کہ اگر واقعی وہ قیامت آنے والی ہے جس کی تم ہمیں خبر دیتے ہو تو آخر وہ کس تاریخ کو آئے گی۔ یہاں ان کے سوال کو نقل کیے بغیر اس کا جواب دیا جارہا ہے۔
سورة النَّحْل 71
یعنی قیامت رفتہ رفتہ کسی طویل مدت میں واقع نہ ہوگی، نہ اس کی آمد سے پہلے تم دور سے اس کو آتے دیکھو گے کہ سنبھل سکو اور کچھ اس کے لیے تیاری کرسکو۔ وہ تو کسی روز اچانک چشم زدن میں، بلکہ اس سے بھی کم مدت میں آجائے گی۔ لہٰذا جس کو غور کرنا ہو سنجیدگی کے ساتھ غور کرے، اور اپنے رویہ کے متعلق جو فیصلہ بھی کرنا ہو جلدی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور آسمانوں اور زمین کی تمام پوشیدہ باتیں (جو کسی کو معلوم نہیں باعتبار علم کے اللہ ہی کے ساتھ خاص ہیں (تو صفت علم میں وہ کامل ہیں) اور (قدرت میں ایسے کامل ہیں کہ ان غیوب میں سے جو ایک امر عظیم ہے یعنی) قیامت (اس) کا معاملہ بس ایسا (جھٹ پٹ) ہوگا جیسے آنکھ جھپکنا بلکہ اس سے بھی جلدی (قیامت کے معاملہ سے مراد ہے مردوں میں جان پڑنا اور اس کا بہ نسبت آنکھ جھپکنے کے جلدی ہونا ظاہر ہے کیونکہ آنکھ جھپکنا حرکت ہے اور حرکت زمانی ہوتی ہے اور جان پڑنا آنی ہے اور آنی ظاہر ہے کہ زمانی سے اسرع ہے اور اس پر تعجب نہ کیا جائے کیونکہ) یقینا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتے ہیں (اور اثبات قدرت…
Read the full tafseer →اثنائے کلام میں ایک تنبیہ : وَلِلّٰهِ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔
یہ اثنائے کلام میں ضدی مخاطبوں کو ایک تنبیہ ہے کہ قیامت کو بہت بعید نہ سمجھو۔ اگر اس کا وقت معلوم نہیں ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ آئے گی ہی نہیں۔ آسمانوں اور زمین کا غیب اللہ ہی کے علم میں ہے۔ جب وہ اس کو لانا چاہے گا تو وہ آنکھ جھپکتے کی طرح آجائے گی بلکہ اس سے بھی جلد تر۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →77۔ 1 یعنی آسمان اور زمین میں جو چیزیں غائب ہیں اور وہ بیشمار ہیں اور انہی میں قیامت کا علم ہے۔ ان کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ اس لئے عبادت کے لائق بھی صرف ایک اللہ ہے نہ کہ وہ پتھر کے بت جن کو کسی چیز کا علم نہیں نہ وہ کسی کو نفع نقصان پہنچانے پر قادر ہیں۔
77۔ 2 یعنی اس کی قدرت کاملہ کی دلیل ہے کہ وسیع و عریض کائنات اس کے حکم سے پلک جھپکنے میں بلکہ اس سے بھی کم لمحے میں تباہ برباد ہوجائے گی۔ یہ بات بطور مبالغہ نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت واقعہ ہے کیونکہ اس کی قدرت غیر متناہی ہے۔ جس کا ہم اندازہ نہیں کرسکتے، اس کے ایک لفظ کُنْ سے سب کچھ ہوجاتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ تو یہ قیامت بھی اس کے کُنْ (ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–79
32: مشرکین عرب بعض اوقات اپنے شرک کی تائید میں یہ مثال دیتے تھے کہ جس طرح دنیا کا بادشاہ تنہا اپنی حکومت نہیں چلاتا، بلکہ اسے حکومت کے بہت سے کام اپنے مددگاروں کو سونپنے پڑتے ہیں، اسی طرح (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی خدائی کے بہت سے کام ان دیوتاؤں کو سونپ رکھے ہیں۔ اور ان معاملات میں وہ خود مختار ہوگئے ہیں۔ اس آیت میں ان سے کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے دنیا کے بادشاہوں کی، بلکہ کسی بھی مخلوق کی مثال دینا انتہائی جہالت کی بات ہے۔ اس کے بعد آیت نمبر 75، 76 میں اللہ تعالیٰ نے دو مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ جن کا مقصد یہ ہے کہ اگر مخلوقات ہی کی مثال لینی ہے تو ان دو مثالوں سے ظاہر ہے کہ…
Read the full tafseer →بعثت بعد الموت کا مسئلہ وہ مسئلہ ہے جو ہر دور میں نہایت درجہ مختلف فیہ رہا ہے۔ اس کے بارے میں لوگوں نے ہر رسول کے ساتھ مکالمہ ، مجادلہ اور مناظرہ کیا ہے۔ اپنی اصل میں یہ وہ غیب ہے جو اللہ کے مخصوص ترین رازوں میں سے ہے۔
تشریح :
وللہ غیب السموت والارض (61 : 77) ” زمین و آسمان کے پوشیدہ حقائق کا علم تو اللہ ہی کو ہے “۔ انسانوں کی حالت تو یہ ہے کہ وہ پردہ غیب کے پیچھے پوشیدہ اسرار و رموز کے پانے سے عاجزو قاصر ہیں۔ ان کا مادی علم جس قدر بھی آگے بڑھ جائے اور دنیا کی مادیات کے بارے میں ان پر جس قدر علوم کے خزانے بھی کھل جائیں۔ وہ زمین کے اندر پوشیدہ خزانوں کی ایک بڑی مقدار کو دریافت کیوں نہ کرلیں وہ…
Read the full tafseer →8 یعنی ساری مخلوق یکساں نہ ہوئی۔ ایک آدمی کا حال دوسرے سے بےانتہا مختلف ہوا۔ سب چیزیں ایک سطح مستوی پر کھڑی نہیں کی گئیں۔ اس کا بھید اور ہر ایک کی پوشیدہ استعداد اور مخفی حالت کا علم خدا ہی کے پاس ہے۔ چناچہ وہ اپنے علم محیط کے موافق قیامت میں ہر ایک کے ساتھ جداگانہ معاملہ کرے گا۔ اور مختلف احوال پر مختلف نتائج مرتب فرمائے گا۔
9 یعنی قیامت کے آنے کو مستبعد مت سمجھو، خدا کے آگے کوئی چیز مشکل نہیں۔ تمام لوگوں کو جب دوبارہ پیدا کرنا چاہے گا تو پلک جھپکنے کی دیر بھی نہ لگے گی، ادھر سے ارادہ ہوتے ہی چشم زدن میں ساری دنیا دوبارہ موجود ہوجائے گی۔ (تنبیہ) (كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ ) 16 ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
اَيْنَـمَا يُوَجِّهْهُّ لَا يَاْتِ بِخَيْرٍ
ایک شخص کے دو غلام ہیں۔ ایک غلام گونگا ہے کسی کام کی کوئی صلاحیت نہیں رکھتا الٹا اپنے مالک پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ کام وغیرہ کچھ نہیں کرتا ‘ صرف روٹیاں توڑتا ہے۔ اگر اس کا آقا اسے کسی کام سے بھیج دے تو وہ کام خراب کر کے ہی آتا ہے۔
هَلْ يَسْتَوِيْ هُوَ ۙ وَمَنْ يَّاْمُرُ بالْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ
اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک شخص کے دو غلاموں کے حوالے سے دو طرح کے انسانوں کی مثال بیان فرمائی ہے کہ سب انسان میرے غلام ہیں۔ لیکن میرے ان غلاموں کی ایک قسم وہ ہے جو میری نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں مگر میرا کوئی کام نہیں کرتے میرے دین کی…
Read the full tafseer →78 قیامت کا دفعتاً واقع ہونا :۔ یہاں درمیان میں مشرکوں کے ایک سوال کا ذکر کیے بغیر اس کا جواب دیا جارہا ہے۔ وہ اکثر یہ سوال کرتے رہتے ہیں کہ قیامت کب یعنی کتنے سال بعد اور کس مہینہ کی کون سی تاریخ کو آئے گی ؟ اور اس کا جواب بھی کئی پہلوؤں سے مذکور ہوچکا ہے۔ یہاں جس پہلو کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ اس کائنات کی تمام تر اشیاء اور وہ واقعات اور حوادثات جو ماضی میں واقع ہوچکے ہیں یا اس وقت ہو رہے ہیں یا مستقبل میں پیش آنے والے ہیں۔ وہ غائب تو تمہاری نظروں اور علم سے ہیں۔ اللہ کے لیے یہ سب باتیں ایسے ہی ہیں جیسے وہ اس کے سامنے موجود اور حاضر ہیں۔ اسی طرح قیامت کا بھی اسے پورا علم ہے اور وہ جانتا ہے کہ…
Read the full tafseer →121۔ (جو ایک فرع ہے حق تعالیٰ کے علم کامل و محیط کی) للہ کی ترکیب ہی سے اشارہ ہوگیا کہ یہ علم غیب خاصہ صرف حق تعالیٰ کا ہے، جس میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔ للہ تعالیٰ خاصہ لا لاحد غیرہ استقلالا ولا اشتراکا (روح) یفید الحصر معناہ ان العلم بھذہ الغیوب لیس الا للہ (کبیر)
122۔ آیت کے شروع میں بیان حق تعالیٰ کے کمال علم کا ہے، اور آخر آیت میں بیان کمال قدرت کا، دونوں کے درمیان ذکر قیامت کا ہے۔ جو قبل وقوع دیکھئے تو ایک مثال ہے کمال علم کی، اور بعد وقوع کے لحاظ سے نظر کیجئے تو ایک مثال ہے کمال قدرت کی ! (آیت) ” الاکلمح البصر “ یعنی ایسا ہی آنا فانا “۔ عام محاورۂ انسانی میں کسی شے کے فی الفور واقع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
آیت نمبر 77 تا 83
ترجمہ : آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا علم اللہ ہی کو ہے یعنی ان دونوں میں مخفی چیزوں کا علم، قیامت کا معاملہ تو بس ایسا ہوگا جیسا کہ پلک کی ایک جھپک یا اس سے بھی جلدی، اسلئے کہ وہ لفظ کن سے ہوگا، تو وہ ہوجائے گی، یقیناً اللہ ہر شئ پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حال میں پیدا کیا کہ تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے (لاتعلمون شیئًا) کم ضمیر سے حال ہے، اور اس نے تمہیں کان دیئے سمع، اسماعٌ کے معنی میں ہے اور آنکھیں دیں اور دل دیئے تاکہ تم ان کا شکریہ ادا کرو، اور ایمان لے آؤ، کیا لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا ؟ کہ وہ پرواز کے لئے آسمان کی فضاء میں…
Read the full tafseer →واللہ غیب السموات والارض اور آسمانوں اور زمین کی تمام پوشیدہ باتیں اللہ ہی کیلئے مخصوص ہیں۔ یعنی ان سے واقف اللہ ہی ہے ‘ بغیر اس کے بتائے کسی کو معلوم نہیں ہوسکتیں۔ غیب و شہادت کے معنی کی تشریح ہم نے سورة جن میں ذکر کی ہے۔
وما امر الساعۃ الا کلمح البصر وھو اقرب اور قیامت کا معاملہ بس پلک جھپکنے کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی جلدی۔ یعنی وقوع قیامت کی سرعت اور سہولت پلک جھپکنے کی طرح ہے۔ قاموس میں لمح کا معنی نظر جھپکنا بیان کیا گیا ہے۔ میں کہتا ہوں : اس معنی پر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ قیامت بس ایسی ہے جیسے بجلی نظر کو جھپک لے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : لمح کا معنی ہے : نظر کا حدقۂ چشم کے بالائی حصہ سے نچلے…
Read the full tafseer →(77) تمام پوشیدہ باتیں جو بندوں میں سے کسی کو بھی معلوم نہیں، اللہ ہی کے ساتھ خاص ہیں قیامت ہے، اس کا معاملہ ایسا جھٹ پٹ ہوگا جیسا کہ آنکھ جھپکنا بلکہ اس سے بھی زیادہ جلدی اللہ تعالیٰ مرنے کے بعد کی زندگی وغیرہ ہر چیز پر قادر ہیں۔
Read the full tafseer →وَلِلّٰهِ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ : ”غَيْبُ“ جو نہ حواس خمسہ سے معلوم ہو سکے، نہ عقل سے، مخلوق سے پوشیدہ ہو۔ ”لِلّٰهِ“ خبر ہے ”غَيْبُ السَّمٰوٰتِ“ کی۔ بعد میں آنے کے بجائے پہلے آنے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا، اس لیے ترجمہ ”اللہ ہی کے پاس ہے“ کیا گیا۔ صرف اللہ تعالیٰ کے معبود برحق ہونے کے دلائل میں سے یہ بہت بڑی دلیل ہے۔ ساتھ ہی ایک ایسے غیب کا ذکر فرما دیا جو اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں، کیونکہ وہ غیب کا علم کسی کو بتایا ہی نہیں گیا اور وہ قیامت ہے اور اس کا علم ہونا سچا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 77
قولہ تعالیٰ : وللہ غیب السموت والارض اس کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے ساتھ متصل ہے : ان اللہ یعلم وانتم لا تعلمون۔ (النحل) ۔ یعنی اس نے تحلیل (حلال قرار دینا) وتحریم (حرام قرار دینا) کا قانون بنایا اور بلاشبہ اسے اچھا وہ بنا سکتا ہے جو ان کے انجام اور مصالح کا علم رکھتا ہو اور انہیں محیط ہو، اور تم اسے مشرکو ! تم تو ان کا احاطہ نہیں کرسکتے تو پھر فیصلے کیونکہ کرسکتے ہو۔ ومآ امر الساعۃ الا کلمح البصر اور تمہیں اس (قیامت کے دن) میں اپنے اعمال کے بدلے جزا دی جائے گی۔ اور الساعۃ سے مراد وہ وقت ہے جس میں قیامت قائم ہوگی، اس کا نام ساعۃ رکھا گیا ہے کیونکہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
1:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ’ ’ ویعبدون من دون اللہ ما لا یملک لہم رزقا من السموت والارض “۔ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ بت ہیں کہ جن کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کی جاتی تھی اور (یہ بت) نہیں مالک ہوتا اس شخص کے لئے جو اس کی عبادت کرتا ہے نہ نفع کا نہ نقصان کا نہ زندگی کا اور نہ دوبارہ اٹھنے کا۔ (آیت) ” فلا تضربوا للہ الامثال “ پس اللہ کی مثالیں بیان نہ کرو کیونکہ وہ ایک ہے اور بےنیاز ہے ” لم یلد، ولم یولد (3) ولم یکن لہ کفوا احد (4) “ (نہ کسی نے اس کو جنا اور نہ وہ جنم دیا گیا اور اس کا کوئی ہم سر نہیں۔
اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک…
Read the full tafseer →[وَللّٰهِ : اور اللہ کے لئے ہی ہے ] [ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ: زمین اور آسمانوں کا غیب ] [ وَمَآ : اور نہیں ہے ] [ اَمْرُ السَّاعَةِ : قیامت کا حکم ] [ اِلَّا : مگر ] [ كَلَمْحِ الْبَصَرِ : چشمِ زدن کی مانند ] [ اَوْ : یا ] [ هُوَ : وہ ] [ اَقْرَبُ ۭ: زیادہ قریب ہو ] [ ان : بیشک ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ عَلٰي كُلِ شَيْءٍ : ہر چیز پر ] [ قَدِيْرٌ: قدرت رکھنے والا ہے ]
ل م ح
[لَمْحًا : (ف) ستارہ یا بجلی کا چمکنا۔ نظر کا اٹھنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 77 ۔]
ترکیب : (آیت۔ 75) ھَلْ یَسْتَوٗنَ فعل جمع کے صیغے میں آیا ہے کیونکہ اس کا فاعل اس میں شامل ھُمْ کی ضمیر ہے جو غلاموں اور انفاق کرنے والوں…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ہی کو غیب کا علم ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
توحید کے دلائل بیان فرمانے کے بعد یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کو آسمانوں کی اور زمین کی ان سب چیزوں کا علم ہے جو مخلوقات کے علم اور فہم اور عقل و ادراک سے باہر ہیں، وقوع قیامت کی جو خبر آرہی ہے اس میں اس کی تمہید ہے، مذکورہ بالا علوم غیبیہ کا تذکرہ فرما کر جن کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے لیے خاص ہے یوں فرمایا کہ جب قیامت کے آنے کا وقت ہوگا جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہے اس وقت اچانک آجائے گی اور ایسی جلدی اس کا وقوع ہوگا جیسے پلک جھپک جائے، پلک جھپکنے میں کچھ دیر بھی لگتی ہے اس سے بھی کم وقت میں آپہنچے گی، (اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–83
رجور بسوئے دلائل توحید بتذکیر انعامات خداوند حمید
قال اللہ تعالیٰ : واللہ انزل من السماء .... الیٰ .... واکثرھم ھم الکفرون۔
(ربط) اوپر سے بہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کا ذکر چلا آرہا ہے اور پھر اسی طرح سے یہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کو بیان فرماتے ہیں اور یہ دلائل معاد بھی ہیں اور دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل ہدایت بھی ہیں اور دلائل رحمت بھی ہیں۔ دور تک اسی طرح سلسلہ کلام چلا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کے انعامات کو ذکر فرمایا جو علاوہ نعمت ہونے کے اس کے کمال علم اور کمال قدرت اور حکمت کے دلائل بھی ہیں۔
(1) چناچہ واللہ انزل من السماء ماء سے اپنی قدرت کا بیان شروع فرمایا کہ آسمان سے…
Read the full tafseer →61:۔ واؤ تعلیلیہ ہے اور اس میں دعویٰ توحید مذکورہ کی علت بیان کی گئی ہے یعنی سب کچھ کرنیوالا اللہ تعالیٰ ہی ہے کیونکہ غیب داں وہی ہے۔ اگر واؤ استینافیہ ہو تو یہ دوسرے دعوے کا بیان ہوگا یعنی جس طرح سب کچھ کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اسی طرح سب کچھ جاننے والا بھی وہی ہے۔ ” و ما امر الساعۃ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ قیامت بپا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ جب اسکا معین وقت آجائے گا تو وہ آن واحد میں سارے جہان کو زیر و زبر کردے گا کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
(ربط آیات)
گذشتہ دروس میں اللہ نے شرک کی تردید میں بعض دلائل اور مثالیں بیان فرمائیں ایک مثال یہ بیان فرمائی کہ ایک شخص غلام بھی ہے اور گونگا بھی ، وہ بالکل نکما ہے ، جو بھی کام اس کے سپرد کیا جائے وہ کوئی اچھا نتیجہ پیش نہیں کرتا اور اس طرح آپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے ، دوسری طرف ایک آزاد اور مومن آدمی ہے ، اور خود بھی عدل و انصاف پر قائم ہے اور دوسروں کو بھی اسی کی تلقین کرتا ہے ، یہ شخص اللہ کے بتائے ہوئے صراط مستقیم پر ہے تو اللہ نے ان دو شخصوں کا حال بیان کرکے فرمایا کہ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ یہی مثال ایک مشرک اور موحد کی ہے ، جس طرح مذکورہ دو شخص برابر نہیں ، اسی طرح مشرک اور…
Read the full tafseer →وَلِلّٰهِ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 77
غيب
الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20]
( غ ی ب ) الغیب ( ض )
غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور جو اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
ترکیب : اوھواقرب اوللتمثیل اوللتخییر وقیل لشک المخاطب وقیل بمعنی بل والجملۃ تمثیل لسرعۃ وقوع القیامۃ۔ مسخرات حال من الطیر۔ سکنًا بمعنی مسکون لاتعلمون جملہ حال ہے ضمیر منصوب امہاتکم سے۔ مایمسکہن جملہ حال ہے مسخرات سے۔ ظعن سفر۔ اثاتاً معطوف ہے سکنًا پر اور دونوں میں اصوافہا جار مجرور کا فصل مستقبح نہیں ہے کیونکہ جار مجرور بھی مفعول ہے اور ایک مفعول کا دوسرے پر مقدم کرنا قبیح نہیں الظعن بفتح العین وسکونہا کالنہرو ھوسیر اہل البادیۃ من موضع الیٰ موضع والصوف للغنم والوبرللابل والشعر للمغر اکنانا جمع کن وھو مایستکن بہ۔
تفسیر : ان آیات میں خدا تعالیٰ ان کے ان معبودوں کے مقابلہ میں کہ جن کو دو مثالوں…
Read the full tafseer →وَلِلّٰہِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَمَآ اَمْرُالسَّاعَۃِ اِلاَّ کَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْھُوَ اَقْرَبُ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (سورۃ النحل : 77)
(اور آسمانوں اور زمین کا غیب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے اور قیامت کا معاملہ پس آنکھ جھپکنے کی طرح ہے یا اس سے بھی جلدی، بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے۔ )
مشرکینِ مکہ کی نارسائیوں پر تنبیہ
معلوم ہوتا ہے کہ قریش مکہ نے اپنی عادت کے مطابق قیامت کو سوالات کا نشانہ بنایا ہے۔ اور آنحضرت ﷺ سے اصرار کیا ہے کہ اگر قیامت واقعی آنے والی ہے تو آپ اس کے دن کا تعین کریں۔ جواب میں پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ زمین و آسمان کے پوشیدہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
توحید کے انکار کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ مشرک آخرت کی جوابدہی کا انکار کرتا ہے۔ لہٰذا توحید کے بعدعقیدہ آخرت کے ثبوت دیئے جاتے ہیں۔ گویا کہ توحید اور آخرت کا عقیدہ لازم وملزوم ہیں۔
آدمی کے کفرو شرک اختیار کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کافر سرے سے اللہ تعالیٰ کی ذات کا منکر ہونے کی وجہ سے آخرت کا انکار کرتا ہے۔ مشرک آخرت کے بارے میں اس لیے دلیر ہوتا ہے کہ اس کا عقیدہ ہوتا ہے کہ جنکو وہ مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتا ہے وہ قیامت کے دن ا سے بچا لیں گے۔ اس بنا پر کافر کفر سے اور مشرک شرک سے باز نہیں آتا۔ مکہ کے کفار کی حالت یہ تھی کہ وہ آخرت کا انکار…
Read the full tafseer →اللہ قیامت کے علم والا اور ایک لمحہ میں لانے کی قدرت والا :
77: وَلِلّٰہِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے پوشیدہ باتیں آسمانوں اور زمین کی) نمبر 1۔ بندوں سے جن چیزوں کا علم آسمانوں اور زمین میں پوشیدہ ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ وہ خاص ہے اور بندوں سے اس کا علم بھی مخفی ہے۔ نمبر 2۔ غیب السمٰوٰتِ والارض سے قیامت مراد ہے۔ اس طرح کہ اس کا علم اہل السمٰوٰت والارض سے مخفی ہے اور اس کی اطلاع کسی مخلوق کو نہیں ہے۔ جو آسمان و زمین میں بسنے والی ہے۔ وَمَآ اَمْرُ السَّاعَۃِ (اور قیامت کا علم نہیں) قریب ہونے میں اور سرعت قیام ووقوع میں اِلَّا کَلَمْحِ الْبَصَرِ (مگر ایک پلک جھپک…
Read the full tafseer →تفسیر (77)” واللہ غیب السموً والارض وما امر الساعۃ “ اس سے بھی زیادہ قریب ہے۔ ” الا کلمح البصر “ جب وہ یہ لفظ کہے گا ” کن “ تو قیامت ہوجائے گی۔” اوھو اقرب “ بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ” ان اللہ علی کلی شیء قدیر “ یہ ان کافروں کے متعلق نازل ہوئیں جنہوں نے اس کی جلدی کے متعلق استہزاء کی۔
Read the full tafseer →77۔ آیت کے اس ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال علم کو ذکر فرمایا کہ غیب کا علم سوائے خدا کے اور کسی کو نہیں ہے انبیاء اور رسول کوئی بھی غیب دان نہیں ہیں اللہ پاک نے جس کو جتنا وحی یا الہام کے ذریعہ سے خبردار کردیا وہ اتنا ہی جانتا ہے اور ماسوا اس کے آسمان و زمین میں جو جو باتیں غیب کی ہیں اس کا علم کسی کو نہیں خدا ہی جانتا ہے اور غیب کا علم اسی کے ساتھ خاص ہے چناچہ صحیح مسلم میں حضرت عمر ؓ سے روایت ہے 1 ؎، کہ جب حضرت جبریل (علیہ السلام) نے انسان کی شکل میں آکر آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ قیامت کب ہے تو آپ نے یوں اپنی لا علمی ظاہر کی کہ پوچھنے والے سے میں زیادہ نہیں جانتا ہوں جس کا مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
آیت : (77)
یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے عیب کا علم رکھنے میں منفرد اور یکتا ہے ‘ پس چھپی ہوئی باطن کی باتیں اور اسرار نہاں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ‘ قیامت کی گھڑی کا علم بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ چناچہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی۔ جب قیامت کی گھڑی نمایاں ہو کر سامنے آجائے گی تو یہ (الاکلمح البصر اوھواقرب) ” آنکھ جھپکنے یا اس سے بھی کم وقت میں آجائے گی۔ “ پس لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور محشر کی طرف دوڑیں گے اور جو لوگمہلت چاہیں گے ان کے لئے مہلت کا وقت ختم ہوجائے گا۔ (ان اللہ علی کل شیء قدیر) ” بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ “ الہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
گونگے غلام کا حکم
اگر یہ کہا جائے کہ ارشاد باری ہے (وضرب اللہ مثلا رجلین احمدھما بکم لا یقدر علی شی وھو کل علی مولاہ۔ اللہ ایک اور مثال دیتا ہے۔ دو آدمی ہیں ایک گونگا بہرا ہے کوئی کام نہیں کرسکتا اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے) لیکن آیت کی اس امر پر دلالت نہیں ہو رہی ہے کہ گونگا کسی چیز کا مالک نہیں ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا آیت میں گونگے سے گونگا غلام مراد ہے آپ اس قول باری کو دیکھئے (وھو کل علی مولاہ اینما یوجھہ لا یات بخیر۔ اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے جدھر بھی وہ اسے بھیجے کوئی بھلا کام اس سے نہ بن آئے) آقا کا ذکر نیز آقا کی طرف سے اسے بھیجنے کا بیان اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس سے مراد…
Read the full tafseer →155۔ علم غیب خاصہ خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا اور اسلوب حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا۔ " اور اللہ ہی کیلئے ہے غیب آسمانوں اور زمین کا " پس وہی جانتا ہے کہ مشرکین و مکذبین پر عذاب کب آئے گا۔ اور کس شکل میں آئے گا۔ اور یہ کہ قیامت کی وہ گھڑی کب بپا ہوگی۔ لہذا ان لوگوں کا اس بارے میں جلد بازی سے کام لینا اور اس کے لئے جلدی مچانا اور خواہ مخواہ کی حجت بازی اور قیل وقال کرنا ان کی اپنی حماقت کی دلیل ہے۔ پس پیغمبر کیلئے عالم غیب اور مختار کل ہونے کا عقیدہ رکھنا جس طرح کہ آج کے کلمہ گو مشرک کا کہنا اور ماننا ہے اس طرح کی نصوص صریحہ کے خلاف اور باطل و مردود ہے۔ اور اللہ پاک کی صفات مختصہ میں اس کی…
Read the full tafseer →قیامت آنکھ جھپکنے کی طرح قائم ہوگی
تشریح : اس آیت میں بڑی گہری بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ ہے غیب السموات والارض یعنی کائنات کا مادہ غیب (Hidden Matter) اس آیت میں مادہ غیب اور قیامت کا اکٹھا ذکر کرنے کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ دونوں کا آپس میں تعلق ہے۔ پھر ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ اس کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ یعنی اس کو معلوم کرلینا انسان کے لیے کوئی معمولی بات نہیں۔ اس مادہ غیب کی توضیح (وضاحت) مشہور سائنسدان سلطان بشیر محمود صاحب یوں کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں :” حیرانی کی بات یہ ہے کہ بلا چارج انتہائی چھوٹے ایٹمی ذرات نیوٹرینوز (Neutrinos) جن کا سائنسی تعلق ہم نے غیب السموات والارض کے طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
(رکوع نمبر 1 1)
اسرارومعارف
جو انسانی منصوبہ بندیاں اور اندازے ہیں جن کی بنیاد پر لوگ رب جلیل کو بھی عام انسانوں کی طرح تصور کرکے مثالیں دیتے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں کہ زمین اور آسمانوں میں یا ساری مخلوق میں غیب کا علم تو صرف اللہ جل جلالہ کو ہے اور کل کیا ہونے والا ہے یا آئندہ کیا پیش آئے گا یہ صرف اللہ جل جلالہ جانتا ہے ، لہذا انسان کی بہتری اسی کی اطاعت میں ہے ، ورنہ انسان کو تو یہ بھی خبر نہیں کہ کس گھڑی سب کچھ تہ وبالا ہوجائے گا اور پلک جھپکنے میں قیامت قائم ہوجائے گی اللہ جل جلالہ تو یقینا جانتا ہے بلکہ وہی ذات قیامت قائم کرنے والی ہے اور یقینا وہ ہر بات پہ کامل قدرت رکھتا ہے لہذا اسی…
Read the full tafseer →ف 5 غیب سے مرد وہ باتیں ہیں جو بندوں کے لحاظ سے پوشیدہ ہیں۔
6 یعنی یا اس سے بھی کم ویژن اللہ تعالیٰ قیامت کو لاسکتا ہے اس کے لئے کوئی کام ذرہ مشکل نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
(16:77) امر الساعۃ۔ یعنی قیامت برپا ہونے کا معاملہ۔
لمح۔ اسم مصدر۔ پلک جھپکنا۔ لمح البرق۔ بجلی چمکی۔ یا جھپکی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 83
امرالساعۃ قیامت کا حال۔ لمح البصر آنکھ کا جھپکنا، آنکھ کا بند ہونا۔ اقرب زیادہ قریب۔ بطون (بطن) پیٹ۔ شیئاً کچھ بھی۔ السمع سننا، کان الابصار (بصر) آنکھیں۔ الافئدۃ دل، قلب۔ الطیر پرندہ۔ فی جو السمآء آسمان کی فضا میں۔ مایمسک نہیں تھامتا۔ سکن ٹھکانا، رہنے کی جگہ۔ جلود (جلد) کھالیں۔ تستخفون تم ہلکا پھلکا پاتے ہو۔ یوم ظعن سفر کے دن، کوچ کے دن۔ یوم اقامۃ ٹھہرنے کے دن۔ اصواف (صوف) اون۔ اوبار (وبر) اونٹ کا نرم رواں۔ اشعار (شعر) بال۔ اثاثاً سامان اسباب۔ متاعاً سامان۔ حین وقت ، زمانہ۔ ظلال سائے۔ اکنان صکن) چھپنے کی جگہ۔ سرابیل (سربال) کرتے۔ تقیکم تمہیں بچاتا ہے۔ باس لڑائی،…
Read the full tafseer →اس آیت کے پہلے ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا بیان ہے کہ وہ جمیع غیوب کا جاننے والا ہے، اس پر کوئی چھپنے والی چیز پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔
حاصل معنی آیت کے یہ ہیں یہ غفلت سے لوگ اپنی عمر اور دنیا کی عمر کے بھروسہ پر بڑے بڑے دیر طلب کام کرتے ہیں۔ اللہ کے نزدیک وعدہ آجانے کی دیر ہے، پھر اس کی قدرت کے رو برو درمیانی اور آخری قیامت کا قائم ہوجانا پلک جھپکنے سے بھی زیادہ نزدیک ہے، کیونکہ اس کی درگارہ میں ہر کام کے لئے فقط حکم کی دیر ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ برے کام سے توبہ اچھے کام کا سر انجام جو کچھ انسان کو کرنا ہے وہ آج کرلے آج کے کام کو کل پر نہ رکھے اس لئے کہ جب انسان کی عمر اور دنیا کی عمر کو…
Read the full tafseer →[45] مشرکین رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کرتے تھے کہ اگر واقعی قیامت آنے والی ہے تو وہ کب واقع ہوگی۔
یہاں ان کے سوال کو نقل کئے بغیر اس کا جواب دیا جا رہا ہے۔ توحید کے بیان کے درمیان یکایک قیامت کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ لوگ توحید اور شرک کے درمیان کسی ایک عقیدے کے انتخاب کو محض ایک نظری (Theoretical) سوال نہ سمجھ بیٹھیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہئے کہ جب قیامت اچانک برپا ہوجائے گی اس وقت اس انتخاب کے صحیح یا غلط ہونے پر آدمی کی کامیابی و ناکامی کا دارومدار ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
(ف 1) مبلغ خیر اور ابکم شریر کی تمثیل ہے ، کہ نیک آدمی ہمیشہ نیکی کی تلقین کرتا ہے دنیا میں بھلائی پھیلاتا ہے اور وہ جو شریر ہے گونگا ہے برائیوں سے روکتا نہیں بلکہ گونگے شیطان کی ماند لڑائیوں کا دیکھتا ہے اور خاموش ہوتا ہے ۔
حل لغات :
کل : بوجھہ دوجہ ملال وتکدر
الا کلمح البصر : آنکھ کا جھپکنا مراد عجلت سے ہے ۔
Read the full tafseer →77 ۔ اور اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ آسمانوں اور زمین کے تمام پوشیدہ امور خاص ہیں اور اسی کے پاس تما م آسمانوں اور زمین کے بھید ہیں اور قیامت کا کام اور قیامت کا معاملہ تو بس ایسا ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا یا اس سے بھی قریب تر بلا شبہ اللہ تعالیٰ ہر شے پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے۔ پلک جھپکنا بہر حال زمانی ہے اور ارادہ کا تعلق آنی ہے یا تو قیامت مراد ہے یا مردوں کا زندہ ہونا ۔ چونکہ امور پوشیدہ اسی کے لئے خاص ہیں اسی لئے وقوع قیامت کا علم بھی اسی کو ہے۔
ان الساعۃ ایتہ اکا دا اخفیھا التجزی
Read the full tafseer →ف 3۔ قیامت کے معاملہ سے مراد ہے مردوں میں جان پڑنا اور اس کا جلدی ہونا ظاہر ہے کیونکہ آنکھ جھپکنا حرکت ہے اور حرکت زمانی ہوتی ہے اور جان پڑن آنی ہے اور آنی طاہر ہے کہ زمانی سے اسرع ہے۔
4۔ اثبات قدرت کے لیے تخصیص ساعہ کی شاید اس وجہ سے کی ہو کہ وہ من جملہ غیوب خاصہ کے بھی ہے پس وہ علم اور قدرت دونوں کی دلیل ہے قبل الوقوع تو علم کی اور بعدالوقوع قدرت کی۔
Read the full tafseer →آسمانوں اور زمین کا غیب جاننے والا کون ہے ؟ فقط اللہ :
89۔ پچھلی دونوں آیتوں میں مخلوق کی بےبسی اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و کمال کو بڑے دل نشیں پیرایہ میں بیان کیا گیا تھا اور بات کو مثالیں دے کر ذہن نشین کرایا گیا تھا اب اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کی دلیل پیش کی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے کہ آسمانوں اور زمین کے تمام غیبوں کو جاننا اس کے ساتھ مخصوص ہے کوئی انسان بھی اپنے حواس کے ذریعہ یا اپنی عقل کے زور سے ان کو نہیں جان سکتا ، غیب اسے کہتے ہیں جس کا ادراک نہ حواس سے ہوسکے اور نہ عقل وفکر سے ” مالا یدرک بالحس ولا یفھم بالعقل “۔ (بحر) غیب پر مطلع ہونے کا ایک ذریعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
In the second example, there is a man who bids justice and teaches what is good. This is a model of his intellectual perfection. Then he him-self takes the path of moderation and right guidance. This is the model of his practical perfection. Set against the power of this intellectually and practically perfect man, there is the other man who cannot do anything for himself nor can he do anything right for others. These two men of two different kinds, despite being from one genus, one species and one brotherhood, cannot be equal to each other. So, how can some created being or thing become equal…
Read the full tafseer →70. The subsequent sentence shows that this is the answer to a question which was frequently put to the Prophet (peace be upon him) by the disbelievers of Makkah. The question which has not been cited was this: If the Resurrection so often you talk of is really coming, let us know the date of its coming.
71. That is, don’t be under the delusion that the Resurrection will come gradually and take a long time: you will neither be able to see it coming at a distance nor guard against it and make preparations to meet it. For it will come suddenly without any previous notice, in the twinkling of an…
Read the full tafseer →