گونگے بت مشرکین کے معبود
ہو سکتا ہے کہ یہ مثال بھی اس فرق کے دکھانے کی ہو جو اللہ تعالیٰ میں اور مشرکین کے بتوں میں ہے۔ یہ بت گونگے ہیں نہ کلام کرسکیں نہ کوئی بھلی بات کہہ سکیں، نہ کسی چیز پر قدرت رکھیں۔ قول و فعل دونوں سے خالی۔ پھر محض بوجھ، اپنے مالک پر بار، کہیں بھی جائے کوئی بھلائی نہ لائے۔ پس ایک برابر ہوجائیں گے ؟ ایک قول ہے کہ ایک گونگا حضرت عثمان ؓ کا غلام تھا۔ اور ہوسکتا ہے کہ یہ مثال بھی کافر و مومن کی ہو جیسے اس سے پہلے کی آیت میں تھی۔ کہتے ہیں کہ قریش کے ایک شخص کے غلام کا ذکر پہلے ہے اور دوسرے شخص سے مراد حضرت عثمان بن عفان ؓ ہیں۔ اور غلام گونگے سے مراد حضرت عثمان ؓ کا وہ غلام ہے…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 69
پہلی مثال میں اللہ اور بناوٹی معبودوں کے فرق کو صرف اختیار اور بےاختیاری کے اعتبار سے نمایاں کیا گیا تھا۔ اب اس دوسری مثال میں وہی فرق اور زیادہ کھول کر صفات کے لحاظ سے بیان کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اور ان بناوٹی معبودوں کے درمیان فرق صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ ایک با اختیار مالک ہے اور دوسرا بےاختیار غلام۔ بلکہ مزید برآں یہ فرق بھی ہے کہ یہ غلام نہ تمہاری پکار سنتا ہے، نہ اس کا جواب دے سکتا ہے، نہ کوئی کام با ختیار خود کرسکتا ہے۔ اس کی اپنی زندگی کا سارا انحصار اس کے آقا کی ذات پر ہے۔ اور آقا اگر کوئی کام اس پر چھوڑ دے تو وہ کچھ بھی نہیں بنا سکتا۔ بخلاف اس کے آقا کا حال یہ…
Read the full tafseer →اور دوسری مثال میں ایک طرف ایک انسان ہے جو لوگوں کو عدل و انصاف اور اچھی باتیں سکھاتا ہے جو اس کی قوت علمیہ کا کمال ہے اور خود بھی معتدل اور سیدھے راستے پر چلتا ہے جو اس کی قوت عملیہ کا کمال اس علمی اور عملی قوت میں مکمل انسان کے بالمقابل وہ انسان ہے جو نہ خود اپنا کام کرسکتا ہے نہ کسی دوسرے کا کوئی کام درست کرسکتا ہے یہ دونوں قسم کے انسان ایک ہی جنس ایک ہی نوع ایک ہی برادری کے ہونے کے باوجود آپس میں برابر نہیں ہو سکتے تو خالق ومالک کائنات جو حکیم مطلق اور قادر مطلق اور علیم وخبیر ہے اس کے ساتھ کوئی مخلوق کیسے برابر ہو سکتی ہے۔
Read the full tafseer →ایک دوسری تمثیل : وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَيْنِ اَحَدُهُمَآ اَبْكَمُ لَا يَـقْدِرُ عَلٰي شَيْءٍ وَّهُوَ كَلٌّ عَلٰي مَوْلٰىهُ ۙ اَيْنَـمَا يُوَجِّهْهُّ لَا يَاْتِ بِخَيْرٍ ۭهَلْ يَسْتَوِيْ هُوَ ۙ وَمَنْ يَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ۔
یعنی ایک دوسری تمثیل سنو۔ دو شخص ہیں جن میں سے ایک گونگا بہرا غلام ہے، کسی چیز پر کوئی قدرت نہیں رکھتا، وہ اپنے آقا پر ایک بوجھ ہے، وہ جہاں کہیں بھی اس کو بھیجتا ہے کوئی کام وہ صحیح کرکے نہیں لاتا اور ایک دوسرا شخص ہے جو آزاد ہے، دوسروں کو عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور خود بھی سیدھے راستہ پر ہے۔ کیا یہ دونوں شخص یکساں ہوں…
Read the full tafseer →76۔ 1 یہ ایک اور مثال ہے جو پہلے سے زیادہ واضح ہے۔
76۔ 2 اور ہر کام کرنے پر قادر ہے کیونکہ ہر بات بولتا اور سمجھتا ہے اور ہے بھی سیدھی راہ یعنی دین اور سیرت صالحہ پر۔ یعنی کمی بیشی سے پاک۔ جس طرح یہ دونوں برابر نہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ اور وہ چیزیں، جن کو لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں، برابر نہیں ہوسکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–79
32: مشرکین عرب بعض اوقات اپنے شرک کی تائید میں یہ مثال دیتے تھے کہ جس طرح دنیا کا بادشاہ تنہا اپنی حکومت نہیں چلاتا، بلکہ اسے حکومت کے بہت سے کام اپنے مددگاروں کو سونپنے پڑتے ہیں، اسی طرح (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی خدائی کے بہت سے کام ان دیوتاؤں کو سونپ رکھے ہیں۔ اور ان معاملات میں وہ خود مختار ہوگئے ہیں۔ اس آیت میں ان سے کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے دنیا کے بادشاہوں کی، بلکہ کسی بھی مخلوق کی مثال دینا انتہائی جہالت کی بات ہے۔ اس کے بعد آیت نمبر 75، 76 میں اللہ تعالیٰ نے دو مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ جن کا مقصد یہ ہے کہ اگر مخلوقات ہی کی مثال لینی ہے تو ان دو مثالوں سے ظاہر ہے کہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 75 تا 76
پہلی مثال تو ان کے اندر موجود صورت حالات سے لی گئی ہے۔ اس وقت عرب کے جاہلی معاشرے میں مملوکہ غلام موجود تھے ، یہ اس قدر بےبس مخلوق تھی کہ نہ وہ کسی چیز کے مالک ہوتے تھے اور نہ ان کو کوئی اختیار حاصل تھا۔ یہ لوگ بھی مالک مختار و متصرف اور عاجز غلام اور بےاختیار کے درمیان فرق مراتب سے اچھی طرح واقف تھے۔ لہٰذا ان سے کہا گیا کہ مالک حقیقی کو تم کس طرح اپنے غلاموں کے ساتھ برابر قرار دیتے ہو اور ان غلاموں کو مالک کا شریک قرار دیتے ہو ، کیونکہ تمام انسان اللہ کے غلام اور بندے ہیں۔
دوسری مثال ایسے شخص کی ہے جو گونگا ، بلید ۔۔۔ اور کم نوال ہے۔ وہ کسی کام کو نہیں جانتا ، مالک پر بوجھ…
Read the full tafseer →4 گونگا ہے تو لازمی طور پر بہرا بھی ہوگا۔ گویا نہ اپنی کہہ سکے نہ دوسرے کی سن سکے۔
5 کیونکہ نہ حواس رکھتا ہے نہ عقل، اور اپاہج ہے جو چل پھر بھی نہیں سکتا۔
6 یعنی مالک کے کسی کام کا نہیں۔ جدھر اسے بھیجنا چاہے یا متوجہ کرے کچھ بھلائی اور فلاح نہ پہنچا سکے۔
7 یعنی خود سیدھی راہ پر قائم رہ کر دوسروں کو بھی اعتدال و انصاف کے راستہ پر لے جا رہا ہے۔ جب یہ دونوں شخص برابر نہیں ہوسکتے تو ایک خود تراشیدہ پتھر کی مورتی کو (العیاذ باللہ) خدائی کا درجہ کیونکر دیا جاسکتا ہے۔ یا ایک اندھا بہرا مشرک جو خدا کی پیدا کی ہوئی روزی کھاتا ہے اور چھدام کا کام کر کے نہیں دیتا اس مومن قانت کی ہمسری کیسے کرسکتا ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
اَيْنَـمَا يُوَجِّهْهُّ لَا يَاْتِ بِخَيْرٍ
ایک شخص کے دو غلام ہیں۔ ایک غلام گونگا ہے کسی کام کی کوئی صلاحیت نہیں رکھتا الٹا اپنے مالک پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ کام وغیرہ کچھ نہیں کرتا ‘ صرف روٹیاں توڑتا ہے۔ اگر اس کا آقا اسے کسی کام سے بھیج دے تو وہ کام خراب کر کے ہی آتا ہے۔
هَلْ يَسْتَوِيْ هُوَ ۙ وَمَنْ يَّاْمُرُ بالْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ
اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک شخص کے دو غلاموں کے حوالے سے دو طرح کے انسانوں کی مثال بیان فرمائی ہے کہ سب انسان میرے غلام ہیں۔ لیکن میرے ان غلاموں کی ایک قسم وہ ہے جو میری نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں مگر میرا کوئی کام نہیں کرتے میرے دین کی…
Read the full tafseer →77 مشرکوں کی دوسری مثال :۔ پہلی مثال میں اختیار ہونے یا نہ ہونے کا تقابل تھا۔ اس مثال میں صفات کا تقابل پیش کیا گیا ہے۔ ایک طرف ایسا آدمی یا کوئی چیز ہے جو گونگا بہرا بھی ہے اور اپاہج بھی جو نہ چل پھر سکے نہ کوئی کام کرسکے۔ اگر اس کا مالک اسے کوئی کام کرنے کو کہے بھی تو وہ کبھی صحیح کام نہ کرسکے بلکہ الٹا اسے بگاڑ کے رکھ دے اور جہاں کہیں جائے مالک کو اس کے متعلق شکایات ہی سننا پڑیں اور وہ ہر لحاظ سے اپنے مالک پر بوجھ بنا ہوا ہو۔ دوسری طرف ایسا تندرست اور صحیح الدماغ انسان ہے جو خود بھی راہ راست پر ہے اور دوسروں کو بھی اس عدل و اعتدال کی راہ پر چلنے کا حکم دیتا ہے تو کیا ان کی حالت یکساں…
Read the full tafseer →119۔ گویا اس درجہ خرف ولا یعقل ہے کہ خود تو کیا کرتا، مالک کی تعلیم کے باوجود بھی کوئی کام درست نہیں کرپاتا۔ (آیت) ” احدھما ابکم “۔ یعنی علاوہ غلام ہونے اور ہر طرح معذور ہونے کے گونگا بھی ہے، اور تکلم پر غیر قادر۔ جو نہ اپنی کہہ سکے نہ دوسرے کی سن سکے، (آیت) ” ابکم “ کے ایک معنی اہل لغت سے لایعقل اور سماعت و بصارت سے محروم ہونے کے بھی منقول ہیں۔ عن ابن الاعرابی الابکم الذی الذی لایعقل (کبیر) قال الزجاج الا بکم المطبق الذی لایسمع ولا یبصر (کبیر) الابکم الذی ولد اخرس فلا یفھم ولا یفھم (کشاف) پیدائشی گونگا بہرا بھی ہوتا ہے۔ جو نہ کسی کی سنتا ہے اور نہ اپنی کسی کو سنا سکتا ہے۔ الابکم الخرس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
آیت نمبر 71 تا 76
ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ نے رزق میں بعض کو بعض پر فوقیت دی ہے تو تم میں مالدار اور غریب اور مالک ومملوک (دونوں قسم کے
لوگ) ہیں، یعنی جو مال وغیرہ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں اپنے اور اپنے غلاموں کے درمیان شرکت کرنے والے نہیں ہیں اس طریقہ پر کہ آقا و غلام اس میں برابر کے شریک ہوجائیں مطلب یہ ہے کہ ان کے غلاموں میں سے کوئی غلام ان کے مالوں میں شریک نہیں ہے تو پھر خدا کے غلاموں میں سے بعض کو اس کا کس طرح شریک ٹھہراتے ہیں ؟ تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کے منکر ہورہے ہیں اس طریقہ پر کہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں، اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہاری ہی جنس کی تم کو بیویاں عطا فرمائیں چناچہ…
Read the full tafseer →وضرب اللہ مثلا رجلین احدھما ابکم لا یقدر علی شییء وھو کل علی مولہ اینما یوجھہ لایات بخیر اور اللہ ایک (اور) مثال بیان کرتا ہے۔ دو آدمی ہیں ‘ ایک تو ان میں گونگا جو کوئی کام نہیں کرسکتا ‘ اپنے سرپرست کیلئے وبال جان ہے۔ اس کو جہاں بھیجتا ہے ‘ کوئی کام ٹھیک کر کے نہیں لاتا۔
اَبْکَمُ پیدائشی گونگا ‘ جو نہ کچھ سمجھتا ہو نہ بول سکتا ہو۔ لاَ یَقْدِرُ عَلٰی شَیْءٍ کم فہمی کی وجہ سے وہ نہ کسی صنعت پر قادر ہے نہ کسی کام کی تدبیر پر۔ کُلٌّ بار ہے ‘ وبال ہے۔ مُوْلٰہُ یعنی اپنے سرپرست کیلئے (آقا مراد نہیں ہے) لاَیَأتِ بِخَیْرٍ یعنی کسی معمولی کام کو بھی ٹھیک کر کے نہیں لاتا۔ یہ تشبیہ بتوں کی ہے جو نہ سنتے…
Read the full tafseer →(76) اللہ تعالیٰ اس کی مزید صراحت کے لیے بتوں کی ایک اور مثال بیان کرتے ہیں کہ دو شخص ہیں، ایک تو ان میں سے گونگا پتھر ہے، بات نہیں کرسکتا ہے جو ان کا بت ہے وہ اپنے مالک اور رشتہ دار پر ایک وبال جان ہے اور اس کو مشرق ومغرب کے جس کونے میں سے بھی پکارا جائے، کسی پکارنے والے کا جواب نہیں دے سکتا، یہ ان کے بتوں کی مثال ہے، کیا یہ بت اور ایسی ذات یعنی اللہ تعالیٰ جو توحید کی تعلیم کرتا ہو اور صراط مستقیم کی طرف لوگوں کو بلاتا ہو نفع پہنچانے اور تکالیف کے دور کرنے میں دونوں برابر ہوسکتے ہیں۔
شان نزول : (آیت) وضرب اللہ مثلا الرجلین“۔ (الخ)
اس آیت مبارکہ کے بارے میں ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے…
Read the full tafseer →وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَيْنِ۔۔ : ”اَبْكَمُ“ گونگا، اس کے ساتھ اس کا بہرا ہونا بھی لازم ہوتا ہے، کیونکہ آدمی سن کر ہی بولنا سیکھتا ہے۔ یہ مثال پہلی مثال سے بھی واضح ہے۔ دو آدمی ہیں، ایک میں چار خامیاں ہیں : 1 وہ ”اَبْكَمُ“ ہے کہ نہ سنتا ہے نہ بولتا ہے۔ 2 ”لَا يَـقْدِرُ عَلٰي شَيْءٍ“ یعنی وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا، چلو بول نہیں سکتا تو کسی ہنر ہی کا مالک ہو، ہاتھ پاؤں ہلا کر یا سر پر بوجھ اٹھا کر ہی کچھ کما سکے، نہیں، کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ 3 وہ آزاد نہیں بلکہ غلام ہے اور غلام بھی ایسا بےکار کہ مالک ہی کو اس کا سارا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ 4 مالک اسے جہاں بھی بھیجے اسے کوئی فائدہ حاصل نہیں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 76
قولہ تعالیٰ : وضرب اللہ مثلا رجلین احدھما ابکم یہ دوسری مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور بتوں کے لئے بیان فرمائی
ہے۔ پس ابکم (گونگا) وہ جو کسی شے پر قادر نہ ہو وہ بت ہے۔ اور وہ جو عدل کے ساتھ حکم دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہے ؛ یہ حضرت قتادہ وغیرہ نے کہا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : أبکم حضرت عثمان ؓ کا غلام تھا، اور آپ اس پر اسلام پیش کرتے تھے اور وہ انکار کردیتا تھا، اور حضرت عثمان ؓ عدل کے ساتھ حکم دیتے تھے، اور آپ ہی سے یہ بھی روایت ہے کہ یہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی اور آپ کے آزاد کردہ غلام جو کہ کافر تھا اس کی مثال ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ أبکم سے مراد ابوجہل ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
1:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ’ ’ ویعبدون من دون اللہ ما لا یملک لہم رزقا من السموت والارض “۔ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ بت ہیں کہ جن کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کی جاتی تھی اور (یہ بت) نہیں مالک ہوتا اس شخص کے لئے جو اس کی عبادت کرتا ہے نہ نفع کا نہ نقصان کا نہ زندگی کا اور نہ دوبارہ اٹھنے کا۔ (آیت) ” فلا تضربوا للہ الامثال “ پس اللہ کی مثالیں بیان نہ کرو کیونکہ وہ ایک ہے اور بےنیاز ہے ” لم یلد، ولم یولد (3) ولم یکن لہ کفوا احد (4) “ (نہ کسی نے اس کو جنا اور نہ وہ جنم دیا گیا اور اس کا کوئی ہم سر نہیں۔
اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک…
Read the full tafseer →[وَضَرَبَ : اور بیان کی ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ مَثَلًا : ایک مثال ] [ رَّجُلَيْنِ : دو آدمیوں کی ] [ اَحَدُهُمَآ : ان دونوں کا ایک ] [ اَبْكَمُ : گونگا ہے ] [ لَا يَـقْدِرُ : قدرت نہیں رکھتا ] [ عَلٰي شَيْءٍ : کسی چیز پر ] [ وَّهُوَ : اور وہ ] [ كَلٌّ: بوجھ ہے ] [ عَلٰي مَوْلٰىهُ ۙ: اپنے آقا پر ] [ اَيْنَمَا : جہاں کہیں ] [ يُوَجِّهْهُ : وہ بھیجتا ہے اس کو ] [ لَا يَاْتِ : وہ نہیں لاتا ] [ بِخَيْرٍ ۭ: کوئی بھلائی ] [هَلْ : کیا ] [ يَسْتَوِيْ : برابر ہوتا ہے ] [ هُوَ ۙ : وہ ] [وَمَنْ : اور وہ شخص جو ] [ يَّاْمُرُ : حکم کرتا ہے ] [ بِالْعَدْلِ ۙ: انصاف کا ] [ وَهُوَ : اور وہ ] [ عَلٰي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
دو مثالیں پیش فرما کر مشرکین کی تردید فرمائی
ان آیات میں بھی مشرکین کی تردید فرمائی اور اس بارے میں دو مثالیں بیان فرمائیں ایک مثال یہ ہے کہ جیسے ایک غلام ہے وہ کسی کی ملکیت میں ہے خود کسی چیز کا مالک نہیں لہٰذا کسی مال میں بھی کسی قسم کا تصرف کرنے کا ذاتی طور پر کوئی اختیار نہیں رکھتا اور دوسرا وہ شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے خوب روزی عطا فرمائی اسے اپنے مال پر پورا اختیار ہے پوشیدہ طور پر اور علانیہ طور پر کسی روک ٹوک کے بغیر جس طرح چاہتا ہے اور جہاں چاہتا ہے خرچ کرتا ہے دونوں شخصوں کا حال سامنے رکھ کر یہ مشرکین بتائیں کیا یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے ہیں ؟ تھوڑے سے علم و فہم والا بھی جواب دینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–83
رجور بسوئے دلائل توحید بتذکیر انعامات خداوند حمید
قال اللہ تعالیٰ : واللہ انزل من السماء .... الیٰ .... واکثرھم ھم الکفرون۔
(ربط) اوپر سے بہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کا ذکر چلا آرہا ہے اور پھر اسی طرح سے یہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کو بیان فرماتے ہیں اور یہ دلائل معاد بھی ہیں اور دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل ہدایت بھی ہیں اور دلائل رحمت بھی ہیں۔ دور تک اسی طرح سلسلہ کلام چلا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کے انعامات کو ذکر فرمایا جو علاوہ نعمت ہونے کے اس کے کمال علم اور کمال قدرت اور حکمت کے دلائل بھی ہیں۔
(1) چناچہ واللہ انزل من السماء ماء سے اپنی قدرت کا بیان شروع فرمایا کہ آسمان سے…
Read the full tafseer →60:۔ یہ دوسری مثال ہے۔ دو شخص ہوں جن میں سے ایک وہ شخص ہے جس میں یہ چار صفتیں ہوں۔ گونگا بہرہ مملوک ہو، اس کے اختیار میں بھی کچھ نہ ہو۔ وہ الٹا اپنے مالک پر بوجھ ہو اور مالک جدھر بھی اسے بھیجے وہ کوئی کام نہ بجا لاسکے اور ایک وہ شخص ہے جس کو اللہ نے قت گویائی عطا فرمائی ہے اور وہ عدل و انصاف کی تلقین کرتا ہے اور اپنے اختیار سے سیدھی راہ پر چل رہا ہے اس طرح اس کا قول اور عمل دونوں ہی سراپا خیر و برکت ہیں۔ یہ دونوں شخص ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ جس طرح ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح معبود برحق اور تمہارے معبودانِ باطلہ میں فرق ہے۔ معبود حق مالک و مختار اور خیر و برکت کا سرچشمہ ہے مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں شرک اور مشرکین کا رد فرمایا گیا تھا ، اللہ تعالیٰ نے غلط مثالیں بیان کرنے سے منع فرمایا ، اللہ تعالیٰ کی ذات کو دنیا کے بادشاہوں پر قیاس کرکے مخلوق کی صفات اللہ میں ثابت کرنا نہایت ہی بری بات ہے ، اللہ نے اس بات کی سختی سے تردید فرمائی کہ عام آدمی کی اس تک رسائی نہیں ہے اور اسے کسی وسیلہ کی ضرورت ہے بلکہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا تعلق براہ راست اس کے بندے سے ہے اللہ نے اپنے لیے اس قسم کی مثالیں بیان کرنے سے منع فرما دیا ، اب آج کی آیات بھی شرک کی تردی میں ہی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے خود دو مثالیں بیان کرکے اپنی وحدانیت کا مسئلہ واضح فرمایا ہے ، پہلی مثال ایک آزاد اور ایک…
Read the full tafseer →وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَيْنِ اَحَدُهُمَآ اَبْكَمُ لَا يَـقْدِرُ عَلٰي شَيْءٍ وَّهُوَ كَلٌّ عَلٰي مَوْلٰىهُ ۙ اَيْنَـمَا يُوَجِّهْهُّ لَا يَاْتِ بِخَيْرٍ ۭهَلْ يَسْتَوِيْ هُوَ ۙ وَمَنْ يَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ 76ۧ
رجل
الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا
[ الأنعام/ 9]
( ر ج ل ) الرجل
کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا[ الأنعام/ 9] اگر ہم رسول کا مدد گار ) کوئی فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی ہی بناتے ۔
بكم
قال عزّ وجلّ : صُمٌّ بُكْمٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
دوسری مثال و ضرب اللہ مثلاً رجلین میں ہے یہ دو شخصوں کی مثال ہے جن میں سے ایک تو گونگا ہو اور اپاہج بھی اور نکما بھی جہاں جائے کوئی کام بنا کر نہ آئے دوسرا حکیم و دانا ہو کہ لوگوں کو بھی نیکوکاری ‘ عدل و انصاف کا حکم دیتا ہو اور خود بھی راہ مستقیم پر قائم ہو۔ بھلا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ہرگز نہیں۔ پہلے شخص سے ان کے معبود دوسرے سے وہ خدائے قادر حکیم مراد ہے مشرکین دو قسم کے تھے بلکہ اب بھی ہیں۔ ایک وہ جو پتھر یا اور چیزوں کی مورتوں کو پوجتے تھے ان کے معبودوں کی مثال اخیر میں ذکر کی اور ایک وہ جو بزرگوں کو پوجتے تھے ان کے لیے مثال اول ہے۔
Read the full tafseer →وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً رَّجُلَیْنِ اَحَدُھُمَآ اَبْکَمُ لاَیَقْدِرُ عَلٰی شَیْ ئٍ وَّھُوَ کَلٌّ عَلٰی مَوْلٰـہُ لا اَیْنَمَا یُوَجِّھْہُّ لاَیَاْتِ بِخَیْرٍ ط ھَلْ یَسْتَوِیْ ھُوَ لا وَمَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ لا وَھُوَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (سورۃ النحل : 76)
(اور اللہ تعالیٰ ایک اور مثال بیان کرتا ہے، دو آدمی ہیں جن میں سے ایک گونگا ہے جو کسی چیز پر قادر نہیں ہے۔ اور وہ اپنے آقا پر ایک بوجھ ہے، جہاں کہیں بھی اس کو بھیجتا ہے، وہ کوئی بھلائی لے کر نہیں آتا، کیا وہ اور وہ جو عدل کا حکم دیتا ہے اور وہ ایک سیدھی راہ پر ہے، دونوں یکساں ہیں۔ )
ایک دوسری تمثیل
شرک کی مذمت اور اس کی حقیقت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
لوگو ! اللہ تعالیٰ توحید اور شرک واضح کرنے کے لیے ایک اور مثال بیان فرماتا ہے۔ اسے غور سے سنو ! دو آدمی ہیں۔ ان میں ایک گونگا، بہرا ہے۔ جو اپنا مؤقف بیان نہیں کرسکتا اور نہ کسی قسم کی طاقت رکھتا ہے وہ سراسر اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ اس کا آقا اسے جدھر بھیجتا ہے وہ بھلائی کے بجائے نقصان کے ساتھ لوٹتا ہے اس کے مقابلے میں باصلاحیت غلام کو اس کا آقا جدھر بھیجتا ہے وہ انصاف کا حکم دیتا ہے اور خود بھی ٹھیک راستے پر گامزن ہے کیا اس کے ہر کام میں خیر و برکت ہے۔ بتاؤ یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ بالکل نہیں۔ یہی فرق ہے مواحد اور مشرک کے درمیان۔ مشرک حقیقت سننے اور اس کا اعتراف کرنے سے قاصر…
Read the full tafseer →دوسری مثال ‘ اللہ نعمتوں کے فیضان والا اور دوسروں کے پاس کچھ بھی نہیں :
76: وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً رَّجُلَیْنِ اَحَدُھُمَآ اَبْکَمُ لَایَقْدِرُ عَلٰی شَیْ ئٍ (اور اللہ تعالیٰ نے ایک اور مثال بیان کی۔ دو آدمی ہیں ایک ان میں سے گونگا کوئی کام نہیں کرسکتا) الا بکم وہ شخص جو پیدائشی گونگا ہو اور سمجھ نہ رکھتا ہو۔ وَّھُوَ کَلٌّ عَلٰی مَوْلٰہُ (وہ اپنے آقا پر بوجھ ہو) وہ بوجھ ہے اور اپنے آقا کی عیال داری میں رہتا ہے۔ اَیْنَمَا یُوَجِّھْہُّ لَایَاْتِ بِخَیْرٍ (اس کو وہ جہاں بھی بھیجتا ہے کوئی کام ٹھیک کر کے نہیں لاتا) جس جگہ اس کو بھیجتا ہے اور کسی ضرورت کی خاطر روانہ کرتا ہے یا کسی اہم کام کو…
Read the full tafseer →” وضرب اللہ مثلاً رجلین احدھما ابکم لا یقدر علی شئی وھو کلی علی مولاہ “ کل بوجھ کو کہتے ہیں جو اپنے مولیٰ پر وبال ہو۔ ” ابن مایوجھہ “ اس کو جہاں بھی بھیجتا ہے وہ ٹھیک کام نہیں کرکے لاتا۔” لا یاتیہ بخیر “ کیونکہ جو کچھ اس کو کہاجاتا ہے وہ اچھے طریقے سے نہیں سمجھتا۔ یہ مثال بتوں کی ہے جو نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں نہ کچھ سمجھتے ہیں۔ ” وھو کل علی مولاہ “ اس کی عبادت کرتے ہیں اور وہ اٹھانے کے اور بیٹھنے کے اور خدمت گاروں کے محتاج ہیں۔ ” ھل یستوی ھو ومن یا مر بالعدل “ اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہیں۔ یعنی اس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی تمثیل دی ہے۔ ” وھو علی صراط مستقیم “ کلبی نے اس کا معنی بیان…
Read the full tafseer →76۔ یہ دوسری مثال اللہ پاک نے بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی اور اپنے جھوٹے معبودوں کی یہ مشرک یوں مثال سمجھیں کہ دنیا میں دو شخص ہوں ایک تو ناسمجھ اور گونگا ہو کہ کسی کی بات نہ سمجھے اور نہ کسی کی بات کا کچھ جواب دے سکے کسی کام کے کرنے کی اس کو قدرت نہ ہو اور وہ اس وجہ سے اپنے مالک کو گراں گزرتا ہو کہ اس کا آقا اسے کسی کام کے انجام دینے کو بھیجے تو وہ زبان اور سمجھ بوجھ نہ ہونے کی وجہ سے اس کو بخوبی اور عمدگی سے انجام نہ دے سکے اور ایک وہ شخص ہو جو لوگوں کو اچھی اچھی باتوں اور نیک کاموں کی ہدایت کرے اور خود بھی راہ راست پر ہو تو فرمایا کہ کیا یہ دونوں شخص یکساں ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
آیت : (77)
یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے عیب کا علم رکھنے میں منفرد اور یکتا ہے ‘ پس چھپی ہوئی باطن کی باتیں اور اسرار نہاں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ‘ قیامت کی گھڑی کا علم بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ چناچہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی۔ جب قیامت کی گھڑی نمایاں ہو کر سامنے آجائے گی تو یہ (الاکلمح البصر اوھواقرب) ” آنکھ جھپکنے یا اس سے بھی کم وقت میں آجائے گی۔ “ پس لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور محشر کی طرف دوڑیں گے اور جو لوگمہلت چاہیں گے ان کے لئے مہلت کا وقت ختم ہوجائے گا۔ (ان اللہ علی کل شیء قدیر) ” بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ “ الہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
گونگے غلام کا حکم
اگر یہ کہا جائے کہ ارشاد باری ہے (وضرب اللہ مثلا رجلین احمدھما بکم لا یقدر علی شی وھو کل علی مولاہ۔ اللہ ایک اور مثال دیتا ہے۔ دو آدمی ہیں ایک گونگا بہرا ہے کوئی کام نہیں کرسکتا اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے) لیکن آیت کی اس امر پر دلالت نہیں ہو رہی ہے کہ گونگا کسی چیز کا مالک نہیں ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا آیت میں گونگے سے گونگا غلام مراد ہے آپ اس قول باری کو دیکھئے (وھو کل علی مولاہ اینما یوجھہ لا یات بخیر۔ اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے جدھر بھی وہ اسے بھیجے کوئی بھلا کام اس سے نہ بن آئے) آقا کا ذکر نیز آقا کی طرف سے اسے بھیجنے کا بیان اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس سے مراد…
Read the full tafseer →153۔ جہالت باعث محرومی و ہلاکت : اس لئے ارشاد فرمایا گیا کہ لوگوں کی اکثریت جانتی نہیں (حق اور حقیقت کو) اس لئے وہ طرح طرح کی گمراہیوں میں مبتلا ہوتے اور اندھیروں میں بھٹکتے ہیں۔ سو جہالت اور دین حق کی تعلیمات مقدسہ سے غفلت وبے خبری جڑ، بنیاد سے تمام خرابیوں اور محرومی و ہلاکت کی۔ والعیاذ باللہ۔ سو یہاں یہ حقیقت پھر آشکارا ہوجاتی ہے کہ عوام الناس کی رائے کسی معاملے کے صحیح یا غلط ہونے کیلئے فیصلہ کن نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ عوام کی اکثریت بہرحال جاہل ہے۔ اور جاہل کی رائے کا کوئی اعتبار نہیں ہوسکتا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
154۔ ابطال شرک کیلئے ایک اور مثال کا ذکر وبیان : سو حق کی توضیح مذید کیلئے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–76
اللہ کی طرف سے مزید نعمتیں اور اللہ کی دی گئی مثالیں
تشریح : ان آیات میں اللہ نے مزید نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اسی طرح تمہارے جوڑے بنائے، یعنی میاں بیوی تاکہ دنیا کی خوشیاں اور سکون حاصل کرسکو اور پھر اولاد در اولاد کی خوشیاں دیکھو اور دنیا کی تمام چیزیں تمہارے لیے مسخر کردیں پھر بھی بیوقوف لوگ بےجان لاچارا ور بےبس مخلوقات کی عبادت کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھو تو کہتے ہیں کہ بھئی جس طرح بادشاہ تک پہنچنے کے لیے درباریوں وزیروں کا سہارا لینا پڑتا ہے تو اسی طرح اللہ سے مانگنے کے لیے ان چیزوں کو وسیلہ بنانا پڑتا ہے کیونکہ اللہ تو بہت ہی بلند وبالا ہے۔ براہ راست اس تک کیسے پہنچا جاسکتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
(رکوع نمبر 10)
اسرارومعارف
اب اپنی تخلیق پر غور کرو تو توحید کے اثبات کی کتنی بڑی دلیل موجود ہے کہ اللہ کریم نے سب انسانوں کو مال و دولت میں بھی یکساں نہیں بنایا جیسے قد کاٹھ طاقت علم اور شعور میں سب ایک سے نہیں ایسے مالی اعتبار سے سب برابر نہیں بعض تو غلام اور خدم وحشم رکھتے ہیں اور اپنی پسند سے خرچ کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو ان کی وساطت سے روزی ملتی ہے بعض مزدور ، ملازم یا غلام ہوتے ہیں تو کیا کوئی صاحب ثروت انسان غلام کو برابر جانتا ہے یا کرسکتا ہے کہ اگر رزق بانٹ بھی دے تو بحیثیت غلام دیا تو وہ مالک نہ بن سکے گا مال تو مالک ہی کا رہا اور اگر آزاد کر کے دیا تو اگرچہ مال میں برابر ہوگیا ، مگر…
Read the full tafseer →ف 2 نہ اپنا کچھ کرسکتا ہے اور نہ دوسروں کے کام آسکتا ہے۔
3 کیونکہ نہ حواس رکھتا ہے اور نہ عقل، اس لئے کسی بھی کام کے لائق نہیں پھر اس کے بھیجنے سے فائدہ کی بجائے الٹا نقصان ہوتا ہے۔
4 بت بہرے گونگے غلام کی طرح ہیں اور اللہ تعالیٰ اس عاقل و دانا شخص کی طرح یا کافر بہرے گوگنے غلام ہیں اور مومن عاقل و دانا شخص کی طرح پھر ان کو برابر کیسے قرار دیا جاسکتا ہے
Read the full tafseer →(16:76) ایکم۔ مادرزاد گونگا۔ بکم سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اس کی جمع بکم ہے صم بکم (2:18) یہ بہرے اور گونگے ہیں
کل ۔ واحد وجمع۔ گراں بار۔ اہل و عیال۔ یتیم ۔ بےوالد یا بےاولاد آدمی۔ چھری یا تلوار کی پشت۔ بےفیض آدمی۔ سب پر بار۔
کل یکل (ضرب) کلا وکلۃ۔ کلالا وکلالۃ۔ تھکنا۔ کمزور ہونا۔ صرف دور کے رشتہ دار رکھنے والا۔ بےاولاد وبے والد کے ہونا۔ تلوار کا کند ہونا۔
کلالۃ۔ وہ آدمی جس کے مرنے پر نہ اس کی اولاد نہ اس کا ماں باپ ہو جو اس کا وارث بن سکے۔
کل علی مولہ ۔ جو اپنے مالک پر بوجھ ہو۔
یوجھہ۔ مضارع واحد مذکر غائب وجہ یوجہ توجیہ (باب تفعیل) ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ وہ اس کو بھیجتا ہے۔ اینما یوجھہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
لغات القرآن آیت نمبر 74 تا 76
لاتضربوا تم نہ مارو، تم نہ گھڑو۔ ضرب بیان کیا۔ عبد غلام۔ مملوک کسی کی ملکیت۔ لایقدر قدرت نہیں رکھتا۔ ینفق وہ خرچ کرتا ہے۔ سر چھپ کر۔ جھر کھل کر۔ ھل یستون کیا وہ دونوں برابر ہیں۔ رجلین دو آدمی۔ ابکم گونگا۔ لایقدر قدرت نہیں رکھتا، اختیار نہیں رکھتا۔ کل بوجھ۔ مولیٰ مالک، آقا۔ اینما جہاں بھی۔ یوجھہ اس کو بھیجا جاتا ہے۔ لایات نہیں لاتا۔ بخیر بھلائی سے۔ یامر حکم کرتا ہے۔ العدل انصاف
تشریح : آیت نمبر 74 تا 76
اس سے پہلی آیات میں فرمایا گیا تھا کہ اے لوگو ! تم ایک اللہ کو چھوڑ کر ان غیر اللہ کی عبادت و بندگی نہ کرو جو آسمان و زمین میں نہ تو کچھ پیدا کرتے ہیں نہ وہ رزق…
Read the full tafseer →اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے کئے دوسری مثال بیان فرمائی کہ دنیا میں دو شخص ہوں : (1) تو ناسمجھ اور گونگا ہو کہ کسی کی بات نہ سمجھے اور نہ کسی بات کا کچھ جواب دے سکے۔ اور وہ اس وجہ سے اپنے مالک کو گراں گزرتا ہو کہ اس کا آقا اس کسی کام کے انجام دینے کو بھیجے تو وہ زبان اور سمجھ بوجھ نہ ہونے کی وجہ سے اس کو بخوبی اور عمدگی سے انجام نہ دے سکے (2) ایک وہ شخص ہو جو لوگوں کو اچھی اچھ باتوں اور نیک کاموں کی ہدایت کرے اور خود بھی راہ راست پر ہو، تو فرمایا کہ کیا یہ دونوں شخص یکساں ہو سکتے ہیں اسی طرح ان بتوں اور آنحضرت ﷺ کی مثال ہے۔
Read the full tafseer →[44] اس مثال میں اللہ اور جھوٹے معبودوں کے فرق کو زیادہ کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بناوٹی معبود غلام بےاختیار ہونے کے علاوہ گونگے بہرے بھی ہیں جو نہ تمہاری پکار سنتے ہیں اور نہ اس کا جواب دے سکتے ہیں۔ دوسری طرف اللہ ہے جو ناطق ہے، عاقل ہے، قوت علمی و عملی کا جامع ہے، آپ بھی راہ راست پر ہے اور لوگوں کو بھی راستی اور عدل کا حکم دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
(ف 1) مبلغ خیر اور ابکم شریر کی تمثیل ہے ، کہ نیک آدمی ہمیشہ نیکی کی تلقین کرتا ہے دنیا میں بھلائی پھیلاتا ہے اور وہ جو شریر ہے گونگا ہے برائیوں سے روکتا نہیں بلکہ گونگے شیطان کی ماند لڑائیوں کا دیکھتا ہے اور خاموش ہوتا ہے ۔
حل لغات :
کل : بوجھہ دوجہ ملال وتکدر
الا کلمح البصر : آنکھ کا جھپکنا مراد عجلت سے ہے ۔
Read the full tafseer →76 ۔ اور اللہ تعالیٰ ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ فرض کرو دو شخص ہیں ایک تو ان میں سے گونگا ہے اور وہ کوئی کام نہیں کرسکتا اور وہ اپنے آقا پر بوجھ اور بارگراں ہے جہاں کہیں اس کا آقا اور مولا بھیجتا ہے تو وہ گونگا کوئی بھلائی لیکر نہیں آتا اور کوئی کام درست کر کے نہیں لاتا تو کیا یہ گونگا ملازم اور وہ شخص برابر ہوسکتا ہے جو لوگوں کو انصاف اور اچھی باتوں کی تعلیم دیتا ہو اور وہ خود بھی سیدھی راہ پر قائم ہو ۔ یعنی ایک غلام گونگا اندھا بہرا کوئی کام نہ کرسکے جہاں اس کا آقا بھیجے وہاں سے کوئی کام درست کرکے نہ لائے آقا پر ایک بار ہو اس کے مقابلے میں ایک وہ شخص جو لوگوں کو اعتدال و انصاف کی باتیں…
Read the full tafseer →ف 2۔ جب مخلوق مخلوق میں باوجود تشارک فی الماہیت ولاوصاف الکثیرہ کے یہ تفاوت ہے تو کجامخلوق و خالق۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ایک اور مثال بیان کرتے ہے تم ذرا سن کر خود فیصلہ کرو :
88۔ گزشتہ مثال میں اللہ اور بناوٹی معبودوں کے فرق کو اختیار اور بےاختیاری کے اعتبار سے نمایاں کیا گیا ہے اب اس دوسری مثال میں وہی فرق اور زیادہ کھول کر صفات کے لحاظ سے بیان کیا گیا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ اور ان بناوٹی معبودوں کے درمیان فرق صرف اتنا ہی نہیں کہ ایک بااختایر مالک ہے اور دوسرا بےاختیار غلام ہے بلکہ مزید برآں یہ فرق بھی ہے کہ یہ غلام نہ تمہاری ہی پکار سنتا ہے ‘ نہ اس کا جواب دے سکتا ہے نہ کوئی کام بااختیار خود کرسکتا ہے اس کی اپنی زندگی کا سارا انحصار اس کے آقا کی ذات پر ہے اور اگر آقا کوئی کام اس کی ذات پر چھوڑ دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
In the second example, there is a man who bids justice and teaches what is good. This is a model of his intellectual perfection. Then he him-self takes the path of moderation and right guidance. This is the model of his practical perfection. Set against the power of this intellectually and practically perfect man, there is the other man who cannot do anything for himself nor can he do anything right for others. These two men of two different kinds, despite being from one genus, one species and one brotherhood, cannot be equal to each other. So, how can some created being or thing become equal…
Read the full tafseer →69. In the first similitude, distinction between Allah and false gods has been made clear in regard to the possession of powers and the lack of these. In the second one, the emphasis is on the use of those powers. Allah is not only All Powerful, but also hears all the prayers and fulfills all the needs, while the slave is utterly powerless. He does not and cannot hear prayers, nor can make a response to them nor has the power to do anything at all. He is totally dependent on the Master and quite incapable of doing anything by himself. On the other hand, the Master is All-Powerful and…
Read the full tafseer →