مومن اور کافر میں فرق
ابن عباس ؓ وغیرہ فرماتے ہیں یہ کافر اور مومن کی مثال ہے۔ پس ملکیت کے غلام سے مراد کافر اور اچھی روزی والے اور خرچ کرنے والے سے مراد مومن ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں اس مثال سے بت کی اور اللہ تعالیٰ کی جدائی سمجھانا مقصود ہے کہ یہ اور وہ برابر کے نہیں۔ اس مثال کا فرق اس قدر واضح ہے جس کے بتانے کی ضرورت نہیں، اسی لئے فرماتا کہ تعریفوں کے لائق اللہ ہی ہے۔ اکثر مشرک بےعلمی پر تلے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 66
یعنی اگر مثالوں ہی سے بات سمجھنی ہے تو اللہ صحیح مثالوں سے تم کو حقیقت سمجھاتا ہے۔ تم جو مثالیں دے رہے ہو وہ غلط ہیں، اس لیے تم ان سے غلط نتیجے نکال بیٹھتے ہو۔
سورة النَّحْل 67
سوال اور الحمد للہ کے درمیان ایک لطیف خلا ہے جسے بھرنے کے لیے خود لفظ الحمد للہ ہی میں بلیغ اشارہ موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ نبی ﷺ کی زبان سے یہ سوال سن کر مشرکین کے لیے اس کا یہ جواب دینا تو کسی طرح ممکن نہ تھا کہ دونوں برابر ہیں۔ لا محالہ اس کے جواب میں کسی نے صاف صاف اقرار کیا ہوگا کہ واقعی دونوں برابر نہیں ہیں، اور کسی نے اس اندیشے سے خاموشی اختیار کرلی ہوگی کہ اقراری جواب دینے کی صورت میں اس کے منطقی…
Read the full tafseer →آخری دو آیتوں میں انسان کی جو دو مثالیں دی گئی ہیں ان میں سے پہلی مثال میں تو آقا اور غلام یعنی مالک اور مملوک کی مثال دے کر بتلایا کہ جب یہ دونوں ایک ہی جنس ایک ہی نوع کے ہوتے ہوئے آپس میں برابر نہیں ہو سکتے تو کسی مخلوق کو خدا تعالیٰ کے ساتھ کیسے برابر ٹھراتے ہو
Read the full tafseer →ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا يَـقْدِرُ عَلٰي شَيْءٍ وَّمَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَـنًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّجَهْرًا ۭ هَلْ يَسْتَوٗنَ ۭ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۔
خدا کی بیان کردہ تمثیل : یعنی اگر مثال ہی سننی ہے تو خدا مثال بیان کرتا ہے اس کو سنو۔ ایک طرف ایک غلام مملوک جس کو کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں ہے اور دوسری طرف ایک آزاد ہے جس کو خدا نے خوب رزق و فضل دے رکھا ہے، وہ پوری آزادی سے پوشیدہ اور علانیہ اس میں سے خرچ کرتا ہے کیا یہ دونوں یکساں ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ نہیں، تو پھر خدا اور اس کے مملوکوں کو کس طرح یکساں کردیتے…
Read the full tafseer →75۔ 1 بعض کہتے ہیں کہ یہ غلام اور آزاد کی مثال ہے کہ پہلا شخص غلام اور دوسرا آزاد ہے۔ یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے بعض کہتے ہیں کہ یہ مومن اور کافر کی مثال ہے۔ پہلا کافر اور دوسرا مومن ہے۔ یہ برابر نہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ اور بت (معبودان باطلہ) کی مثال ہے، پہلے سے مراد بت اور دوسرے سے اللہ ہے۔ یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے مطلب یہی ہے کہ ایک غلام اور آزاد، باوجود اس بات کے کہ دونوں انسان ہیں، دونوں اللہ کی مخلوق ہیں اور بھی بہت سی چیزیں دونوں کے درمیان مشترکہ ہیں، اس کے باوجود رتبہ اور شرف اور فضل و منزلت میں تم دونوں کو برابر نہیں سمجھتے تو اللہ تعالیٰ اور پتھر کی ایک مورتی یہ دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–79
32: مشرکین عرب بعض اوقات اپنے شرک کی تائید میں یہ مثال دیتے تھے کہ جس طرح دنیا کا بادشاہ تنہا اپنی حکومت نہیں چلاتا، بلکہ اسے حکومت کے بہت سے کام اپنے مددگاروں کو سونپنے پڑتے ہیں، اسی طرح (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی خدائی کے بہت سے کام ان دیوتاؤں کو سونپ رکھے ہیں۔ اور ان معاملات میں وہ خود مختار ہوگئے ہیں۔ اس آیت میں ان سے کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے دنیا کے بادشاہوں کی، بلکہ کسی بھی مخلوق کی مثال دینا انتہائی جہالت کی بات ہے۔ اس کے بعد آیت نمبر 75، 76 میں اللہ تعالیٰ نے دو مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ جن کا مقصد یہ ہے کہ اگر مخلوقات ہی کی مثال لینی ہے تو ان دو مثالوں سے ظاہر ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
آیت نمبر 74
اس کے بعد اللہ ان لوگوں کے سامنے دو مثالیں پیش کرتا ہے ، ایک شخص مالک رازق ہے اور دوسرا شخص مملوک غلام اور عاجز ہے۔ کسی چیز کا نہ مالک ہے اور نہ کسب کمائی پر قادر ہے۔ یہ مثال اس لیے دی جارہی ہے کہ جس عظیم حقیقت کو وہ بھول چکے ہیں وہ ان کے فہم کے قریب تر ہوجائے۔ یہ حقیقت ہے کہ اللہ کی کوئی مثال نہیں ، اور یہ کہ اللہ کے ساتھ اس کی الوہیت و حاکمیت اور بندگی میں اس کی مخلوق میں سے کسی چیز کو بھی شریک نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مخلوق سب اس کی غلام اور بندہ ہے۔
Read the full tafseer →3 ایک شخص وہ ہے جو آزاد نہیں، دوسرے کا مملوک غلام ہے کسی طرح کی قدرت و اختیار نہیں رکھتا۔ ہر ایک تصرف میں مالک کی اجازت کا محتاج ہے۔ بدون اجازت اس کے سب تصرفات غیر معتبر ہیں دوسرا آزاد اور با اختیار شخص ہے جسے خدا نے اپنے فضل سے بہت کچھ مقدرت اور روزی عنایت فرمائی جس میں سے دن رات سراً وعلانیۃً بےدریغ خرچ کرتا ہے۔ کوئی اس کا ہاتھ نہیں روک سکتا۔ کیا یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے ہیں ؟ اسی طرح سمجھ لو کہ حق تعالیٰ ہر چیز کا مالک حقیقی ہے، سب تعریفیں اور خوبیاں اس کے خزانہ میں ہیں جس کو چاہے دے۔ کوئی مزاحمت کرنے والا نہیں۔ ذرہ ذرہ پر کلی اختیار اور کامل قبضہ رکھتا ہے۔ یہ کس قدر ظلم ہوگا کہ ایک پتھر…
Read the full tafseer →آیت 75 ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا يَـقْدِرُ عَلٰي شَيْءٍ
اللہ تعالیٰ ان کے شرک کی نفی کے لیے یہ مثال بیان کر رہا ہے کہ ایک بندہ وہ ہے جو کسی کا غلام اور مملوک ہے ‘ اس کا کچھ اختیار نہیں ‘ وہ اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کرسکتا۔
وَّمَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَـنًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّجَهْرًا
رزق میں مال علم اور صلاحیتیں سب شامل ہیں۔ یعنی وہ شخص مال بھی خرچ کر رہا ہے ‘ لوگوں کو تعلیم بھی دے رہا ہے ‘ اور کئی دوسرے طریقوں سے بھی لوگوں کو مستفید کر رہا ہے۔
هَلْ يَسْتَوٗنَ ۭ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ
ایک طرف اللہ کا وہ بندہ ہے جو…
Read the full tafseer →74 اب مشرکوں کی غلط مثالوں کے بجائے اللہ ایک ٹھیک مثال بیان کرتا ہے جو معمولی عقل والے آدمی کی بھی سمجھ میں آسکتی ہے۔ اور اس مثال میں شرک کی ایک نئے انداز میں تردید بیان کی گئی ہے۔ مثلاً ایک شخص خود غلام ہے اس کی اپنی کوئی چیز ہے ہی نہیں اور مالک کی چیز میں وہ تصرف کا اختیار نہیں رکھتا۔ اگر وہ کچھ خرچ کرنا چاہے بھی تو کر نہیں سکتا کیونکہ وہ مجبور محض ہے۔ اب اس کے مقابلے ایک دوسرا شخص ہے جو آزاد ہے۔ خود مختار ہے، لمبے چوڑے مال و دولت اور جائداد کا مالک بھی ہے۔ اسے اس مال و دولت کو خرچ کرنے کا مکمل اختیار بھی ہے اور وہ ہر وقت پوشیدہ طور پر بھی اور علانیہ بھی خرچ کرتا ہی رہتا ہے۔ تو کیا یہ دونوں…
Read the full tafseer →114۔ (کہ کسی مال میں تصرف کرسکے، بجز اپنے مالک کی اجازت کے) غلام کے لئے تو خیر مالک سے اجازت کے بعد امکان تصرف باقی ہے، معبودان باطل میں تو مالک کی اجازت سے بھی مالکیت میں دخل پانے کا امکان نہیں۔ (آیت) ’ ضرب اللہ مثلا “۔ مثال سے مقصود بطلان شرک کا اظہار ہے :۔
115۔ (جب اور جس طرح چاہے، کوئی اس کی روک ٹوک کرنے والا نہیں)
116۔ ظاہر ہے کہ نہیں، تو جب مالک مجازی ومملوک مجازی مساوی نہیں ہوسکتے، جو اپنی اصل وخلقت کے لحاظ سے بالکل ایک ہیں، اور باہم فرق محض اعتباری واضافی رکھتے ہیں، تو مالک حقیقی ومملوک حقیقی کیونکر یکساں و مساوی ہوسکتے ہیں، جن کے درمیان کوئی شے بہ طور قدر مشترک ہی نہیں۔ (آیت) ” ھل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
آیت نمبر 71 تا 76
ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ نے رزق میں بعض کو بعض پر فوقیت دی ہے تو تم میں مالدار اور غریب اور مالک ومملوک (دونوں قسم کے
لوگ) ہیں، یعنی جو مال وغیرہ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں اپنے اور اپنے غلاموں کے درمیان شرکت کرنے والے نہیں ہیں اس طریقہ پر کہ آقا و غلام اس میں برابر کے شریک ہوجائیں مطلب یہ ہے کہ ان کے غلاموں میں سے کوئی غلام ان کے مالوں میں شریک نہیں ہے تو پھر خدا کے غلاموں میں سے بعض کو اس کا کس طرح شریک ٹھہراتے ہیں ؟ تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کے منکر ہورہے ہیں اس طریقہ پر کہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں، اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہاری ہی جنس کی تم کو بیویاں عطا فرمائیں چناچہ…
Read the full tafseer →ضرب اللہ مثلا عبدًا مملوکًا یقدر علی شیء اللہ ایک مثال بیان کرتا ہے (فرض کرو) ایک شخص تو غلام ہے جو کسی کا مملوک ہے ‘ خود کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔
ا اللہ نے یہ مثال اپنی ذات اور دوسرے باطل معبودوں (کا فرق واضح کرنے) کیلئے بیان کی ہے۔ مَمْلُوْکًا سے مراد یہ ہے کہ وہ بندہ آزاد نہیں۔ یوں تو سبھی لوگ ‘ آزاد ہوں یا غلام ‘ اللہ کے بندے ہیں۔ لاَّ یَقْدِرُ عَلیٰ شَیْءٍ کہنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ غلام مکاتب نہیں ہے اور نہ اس کا لین دین کی آقا کی طرف سے اجازت دی گئی ہے (مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جس نے آقا سے معاہدہ کرلیا ہو کہ اتنا روپیہ کما کر جب میں تم کو دے دوں گا تو آزاد ہوجاؤں گا…
Read the full tafseer →(75) اس کے بعد اللہ تعالیٰ مومن و کافر بندے کی ایک مثال بیان کرتے ہیں کہ ایک تو غلام ہے کسی کا مملوک کہ اموال وتصرفات وغیرہ میں اس کو کوئی اختیار نہیں، یہ حالت تو کافر کی ہے کہ کبھی اس سے کسی قسم کی بھلائی اور نیکی کا صدور نہیں ہوسکتا اور دوسرا ایک شخص ہے جس کو ہم نے اپنے پاس سے خوب مال و دولت دے رکھا ہے تو وہ اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خفیہ اور علانیہ جس طرح چاہتا ہے، خرچ کرتا ہے یہ مومن مخلص کی شان ہے کیا اس قسم کے حضرات ثواب لوٹنے اور اطاعت خداوندی میں برابر ہوسکتے ہیں۔
تمام قسم کی تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے لائق ہیں اور وحدانیت اسی ذات کے لیے ثابت ہے بلکہ ان میں سے اکثر قرآن کی…
Read the full tafseer →ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا۔۔ : ”عَبْدًا“ کا معنی ہی غلام ہے، پھر بھی ”مَّمْلُوْكًا“ کی تصریح اس لیے فرمائی کہ ایک لحاظ سے آسمان و زمین کا ہر شخص ہی ”عَبْدًا“ ہے، فرمایا : (اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا) [ مریم : 93 ] ”آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمٰن کے پاس عبد (غلام) بن کر آنے والا ہے۔“ سو یہاں مراد وہ عبد ہے جو کسی آدمی کی ملکیت میں ہے۔
وَّمَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَـنًا۔۔ : یہاں ”مَّمْلُوْكًا“ کے مقابلے میں ”مَالِکًا“ کہنے کے بجائے ”وَّمَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا“ اس لیے فرمایا کہ انسان مالک بھی ہو تو…
Read the full tafseer →آیت نمبر 75
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : ضرب اللہ مثلا اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی ضلالت و گمراہی پر متنبہ کیا ہے، اور یہ اپنے ماقبل سمیت ان نعمتوں کے ذکر کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر فرمائی ہیں اور ان کے معبودوں میں سے کسی کے اس کی مثل نہ ہونے کو شامل ہے۔ ضرب اللہ مثلا یعنی ایک مثال اور تشبیہ بیان فرمائی۔ پھر اس کا ذکر کیا اور فرمایا : عبدا مملوکا یعنی جس طرح تمہارے نزدیک عبد مملوک جو اپنے معاملات میں سے کسی شے پر قدرت نہ رکھتا ہو اور وہ آزاد آدمی جسے رزق حسن دیا گیا ہے وہ برابر نہیں ہوسکتے۔ پس اسی طرح میں اور یہ بت برابر نہیں ہوسکتے۔ پس وہ جو اس آیت میں مثال ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
1:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ’ ’ ویعبدون من دون اللہ ما لا یملک لہم رزقا من السموت والارض “۔ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ بت ہیں کہ جن کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کی جاتی تھی اور (یہ بت) نہیں مالک ہوتا اس شخص کے لئے جو اس کی عبادت کرتا ہے نہ نفع کا نہ نقصان کا نہ زندگی کا اور نہ دوبارہ اٹھنے کا۔ (آیت) ” فلا تضربوا للہ الامثال “ پس اللہ کی مثالیں بیان نہ کرو کیونکہ وہ ایک ہے اور بےنیاز ہے ” لم یلد، ولم یولد (3) ولم یکن لہ کفوا احد (4) “ (نہ کسی نے اس کو جنا اور نہ وہ جنم دیا گیا اور اس کا کوئی ہم سر نہیں۔
اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک…
Read the full tafseer →[ضَرَبَ : بیان کی ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ مَثَلًا : ایک مثال ] [ عَبْدًا مَّمْلُوْكًا : ایک غلام بندے کی ] [ لَّا يَـقْدِرُ : وہ قدرت نہیں رکھتا ] [ عَلٰي شَيْءٍ : کسی چیز پر ] [ وَّمَنْ : اور اس کی ] [ رَّزَقْنٰهُ : ہم نے عطا کی جس کو ] [ مِنَا : اپنے پاس سے ] [ رِزْقًا حَسَـنًا : کچھ اچھی روزی ] [ فَهُوَ : تو وہ ] [ يُنْفِقُ : خرچ کرتا ہے ] [ مِنْهُ : اس میں سے ] [ سِرًّا : چھپاتے ہوئے ] [ وَّجَهْرًا ۭ : اور نمایاں کرتے ہوئے ] [هَلْ : کیا ] [ يَسْتَوٗنَ ۭ : وہ سب برابر ہوتے ہیں ] [اَلْحَمْدُ : تمام شکر و سپاس ] [ للّٰهِ ۭ: اللہ کے لئے ہے ] [ بَلْ : بلکہ (یعنی لیکن)] [ اَكْثَرُهُمْ : ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
دو مثالیں پیش فرما کر مشرکین کی تردید فرمائی
ان آیات میں بھی مشرکین کی تردید فرمائی اور اس بارے میں دو مثالیں بیان فرمائیں ایک مثال یہ ہے کہ جیسے ایک غلام ہے وہ کسی کی ملکیت میں ہے خود کسی چیز کا مالک نہیں لہٰذا کسی مال میں بھی کسی قسم کا تصرف کرنے کا ذاتی طور پر کوئی اختیار نہیں رکھتا اور دوسرا وہ شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے خوب روزی عطا فرمائی اسے اپنے مال پر پورا اختیار ہے پوشیدہ طور پر اور علانیہ طور پر کسی روک ٹوک کے بغیر جس طرح چاہتا ہے اور جہاں چاہتا ہے خرچ کرتا ہے دونوں شخصوں کا حال سامنے رکھ کر یہ مشرکین بتائیں کیا یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے ہیں ؟ تھوڑے سے علم و فہم والا بھی جواب دینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–83
رجور بسوئے دلائل توحید بتذکیر انعامات خداوند حمید
قال اللہ تعالیٰ : واللہ انزل من السماء .... الیٰ .... واکثرھم ھم الکفرون۔
(ربط) اوپر سے بہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کا ذکر چلا آرہا ہے اور پھر اسی طرح سے یہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کو بیان فرماتے ہیں اور یہ دلائل معاد بھی ہیں اور دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل ہدایت بھی ہیں اور دلائل رحمت بھی ہیں۔ دور تک اسی طرح سلسلہ کلام چلا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کے انعامات کو ذکر فرمایا جو علاوہ نعمت ہونے کے اس کے کمال علم اور کمال قدرت اور حکمت کے دلائل بھی ہیں۔
(1) چناچہ واللہ انزل من السماء ماء سے اپنی قدرت کا بیان شروع فرمایا کہ آسمان سے…
Read the full tafseer →59:۔ تم نے اپنے معبودوں کے لیے جو مثال بیان کی ہے وہ صحیح نہیں۔ تمہارے خود ساختہ معبودوں کی صحیح مثالیں یہ ہیں۔ پہلی مثال۔ ایک غلام ہو جو دوسرے شخص کا مملوک ہو، وہ اپنے مالک کے رحم و کرم پر اور اس کا محتاج ہو اور اس کے پاس کوئی اختیار بھی نہ ہو۔ اس کے برعکس ایک وہ شخص ہے جو آزاد ہے اور ہم نے اسے حلال کمائی سے بہت سی دولت دی ہو جسے وہ اپنے اختیار سے جب چاہے، جہاں چاہے آزادانہ خرچ کرتا ہو۔ اب تم خود ہی بتاؤ کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ استفہام انکاری ہے یعنی دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ ” الحمد للہ “ تمام صفات کارسازی اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہیں۔ جس طرف ایک عاجز و بےبس غلام اور ایک با اختیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں شرک اور مشرکین کا رد فرمایا گیا تھا ، اللہ تعالیٰ نے غلط مثالیں بیان کرنے سے منع فرمایا ، اللہ تعالیٰ کی ذات کو دنیا کے بادشاہوں پر قیاس کرکے مخلوق کی صفات اللہ میں ثابت کرنا نہایت ہی بری بات ہے ، اللہ نے اس بات کی سختی سے تردید فرمائی کہ عام آدمی کی اس تک رسائی نہیں ہے اور اسے کسی وسیلہ کی ضرورت ہے بلکہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا تعلق براہ راست اس کے بندے سے ہے اللہ نے اپنے لیے اس قسم کی مثالیں بیان کرنے سے منع فرما دیا ، اب آج کی آیات بھی شرک کی تردی میں ہی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے خود دو مثالیں بیان کرکے اپنی وحدانیت کا مسئلہ واضح فرمایا ہے ، پہلی مثال ایک آزاد اور ایک…
Read the full tafseer →ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا يَـقْدِرُ عَلٰي شَيْءٍ وَّمَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَـنًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّجَهْرًا ۭ هَلْ يَسْتَوٗنَ ۭ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 75
قدر
الْقُدْرَةُ إذا وصف بها الإنسان فاسم لهيئة له بها يتمكّن من فعل شيء ما، وإذا وصف اللہ تعالیٰ بها فهي نفي العجز عنه، ومحال أن يوصف غير اللہ بالقدرة المطلقة معنی وإن أطلق عليه لفظا، بل حقّه أن يقال : قَادِرٌ علی كذا، ومتی قيل : هو قادر، فعلی سبیل معنی التّقييد، ولهذا لا أحد غير اللہ يوصف بالقدرة من وجه إلّا
ويصحّ أن يوصف بالعجز من وجه، والله تعالیٰ هو الذي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
دوسری مثال و ضرب اللہ مثلاً رجلین میں ہے یہ دو شخصوں کی مثال ہے جن میں سے ایک تو گونگا ہو اور اپاہج بھی اور نکما بھی جہاں جائے کوئی کام بنا کر نہ آئے دوسرا حکیم و دانا ہو کہ لوگوں کو بھی نیکوکاری ‘ عدل و انصاف کا حکم دیتا ہو اور خود بھی راہ مستقیم پر قائم ہو۔ بھلا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ہرگز نہیں۔ پہلے شخص سے ان کے معبود دوسرے سے وہ خدائے قادر حکیم مراد ہے مشرکین دو قسم کے تھے بلکہ اب بھی ہیں۔ ایک وہ جو پتھر یا اور چیزوں کی مورتوں کو پوجتے تھے ان کے معبودوں کی مثال اخیر میں ذکر کی اور ایک وہ جو بزرگوں کو پوجتے تھے ان کے لیے مثال اول ہے۔
Read the full tafseer →ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً عَبْدًا مَّمْلُوْکًا لاَّیَقْدِرُعَلٰی شَیْ ئٍ وَّمَنْ رَّزَقْنٰہُ مِنَّارِزْقًا حَسَنًا فَھُوَا یُنْفِقُ مِنْہُ سِرًّا وَّجَھْرًا ط ھَلْ یَسْتَوٗنَ ط اَلْحَمْدُلِلّٰہِ ط بَلْ اَکْثَرُھُمْ لاَیَعْلَمُوْنَ ۔
(سورۃ النحل : 75)
(اللہ تعالیٰ ایک مثال بیان فرماتا ہے ایک غلام مملوک کی جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور اس کی جس کو ہم نے اپنی جانب سے اچھا رزق دے رکھا ہے جس میں سے وہ پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتا ہے، (اب تم ہی بتائو) کیا یہ یکساں ہیں، شکر کا سزاوار اللہ تعالیٰ ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ )
اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ تمثیل
اگر مثال ہی سننا چاہتے ہو تو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
معبودان باطل کی مثالیں خالق حقیقی کے ساتھ بیان کی بجائے ان کا اپنے ساتھ موازنہ کرو اور اپنے ضمیر کے آئینہ میں دیکھو اور سوچو تاکہ تمہارے سامنے حقیقت منکشف ہوجائے کہ شرک کا عقیدہ کس قدر بےبنیاد اور بےانصافی پر مبنی ہے۔
مشرکین کی پرانی عادت ہے کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت سمجھائی جائے۔ تو مشرک اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرتوں کا اعتراف کرنے کے بجائے اپنے معبودان باطل کے حق میں دلائل دیتے اور ان کو اللہ تعالیٰ کے مشابہ قرار دیتے ہیں۔ بالخصوص جو لوگ مدفون بزرگوں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں۔ ان کا عقیدہ اور دلائل یہ ہیں کہ جس…
Read the full tafseer →مخلوق کو اللہ کا شریک بنانے کی پہلی مثال :
75: ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً عَبْدًا۔ (اللہ تعالیٰ نے مثال بیان کی کہ ایک شخص کا ایک غلام ہے) ۔
نحو : عبدًا یہ مثلاً سے بدل ہے۔ مَّمْلُوْکًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰی شَیْئٍ وَّمَنْ رَّزَقْنٰہُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَھُوَ یُنْفِقُ مِنْہُ (ایک مملوک جو کسی چیز پر قدرت نہ رکھتا ہو اور وہ جس کو ہم نے اچھا رزق دے رکھا ہو۔ اور وہ اس میں سے اعلانیہ و پوشیدہ خرچ کرتا ہو) سِرًّا وَّ جَھْرًا یہ دونوں مصدر ہیں جو موضع حال میں واقع ہیں۔ یعنی تمہارے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بتوں کو شریک کرنے کی مثال ایسی ہے جیسا کہ کوئی عبد مملوک جو تصرف سے بھی عاجز ہو اور شریف سردار،…
Read the full tafseer →(75)” ضرب اللہ مثلاً عبداً مملو کالا یقدر علی شیئ “ یہ مثال کافر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو مال دیا لیکن اس نے اس کو اچھی جگہ خرچ نہیں کیا۔ ” ومن رزقناہ منا رزقاً حسناً فھو ینفق منہ سراً و جھراً “ یہ مثال مومن کی ہے کہ اللہ نے ان کو مال عطا کیا۔ انہوں نے اس کو اس کی راہ میں خرچ کیا جس سے اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ پوشیدہ طورپر بھی اور اعلانیہ طورپر بھی خرچ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں اس کو جنت عطا فرمائی۔” ھل یستو ون “ یہاں پر ھل یستویان نہیں فرمایا (من) کی وجہ سے کیونکہ یہ اسم واحد جمع، تثنیہ سب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ” لا یستطیعون “ جمع کے ساتھ ذکر…
Read the full tafseer →75۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کو اللہ کا شریک اور مثل ٹھہرانے سے منع فرما کر دو مثالیں بیان فرمائیں جن میں سے ایک کو اس آیت میں یوں ذکر فرمایا کہ تم دنیا میں دیکھو کہ ایک وہ شخص ہے جو کسی کا غلام ہو اور اس میں کسی بات کی قدرت نہ ہو بالکل مفلس ہو اپنے آقا کا دست نگر ہو دوسرا وہ شخص جو آزاد ہو اور اللہ پاک نے اسے آسودہ حال کیا ہو ہر طرح کی جاہ و ثروت اسے دے رکھی ہو وہ اپنے مال میں سے اپنی خواہش کے موافق کھلے چھپے خرچ کر رہا ہو کسی بات کا محتاج نہ ہو تو فرمایا کہ کیا یہ دونوں شخص کبھی برابر ہوسکتے ہیں۔ ان میں آسمان و زمین کا فرق ہے باوجود اس بات کے پھر یہ دونوں خدا کی مخلوق ہیں اسی کے بندے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
آیت : (73-76)
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت اور ان کے ظلم کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے ہیں جن کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے شرک ٹھہرایا ہے اور ان باطل معبودوں کا حال یہ ہے کہ وہ ان کے لئے زمین و آسمان میں رزق کا اختیار نہیں رکھتے۔ وہ بارش برسا سکتے ہیں نہ رزق عطا کرسکتے ہیں اور نہ ہی زمین میں نباتات اگا سکتے ہیں ‘ وہ زمین و آسمان میں کسی ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں بلکہ اگر وہ چاہیں بھی تو کسی چیز کے مالک نہیں بن سکتے ‘ کیونکہ بسا اوقات کسی چیز کا غیر مالک بھی اس چیز پر ‘ جو نفع دے سکتی ہو ‘ قدرت اور اختیار رکھتا ہے۔۔۔۔…
Read the full tafseer →قول باری ہے (ضرب اللہ مثلا عبدا مملوکا لا یقدر علی شی۔ اللہ ایک مثال دیتا ہے ایک تو ہے غلام جو دوسرے کا مملوک ہے، اور خود کوئی اختیار نہیں رکھتا) حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ مثال اس کافر کی بیان کی گئی ہے جس کی ذات میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی اور اس مومن کی جو بھلائیاں اور نیکیاں کماتا ہے۔ حسن اور مجاہد کے قول کے مطابق یہ مثال مشرکین کی بت پرستی کے سلسلے میں بیان کی گئی ہے۔ مشرکین ان بتوں کی پوجا کرتے ہیں جو کسی چیز کے مالک نہیں ہیں اور اس ذات کی پرستش سے منہ موڑتے ہیں جو ہر چیز کی مالک ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ آیت کئی طرح سے اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ غلام کسی چیز کا…
Read the full tafseer →150۔ ابطال شرک کے لئے ایک مثال کا ذکر وبیان : اور توحید کے بارے میں صحیح مثال وہی ہوسکتی ہے جو وہ خود بیان فرمائے۔ سو اللہ تعالیٰ نے ابطال شرک کیلئے ایک مثال بیان فرمائی۔ یعنی وہ آزاد شخص چاہے اور جیسے چاہے اور جہاں چاہیے اور جس قدر چاہے خرچ کرتا ہے کہ وہ آزاد اور خود مختار ہے۔ تو ایسا شخص اور دوسرا وہ شخص جو عاجز ہو اور کچھ نہ کرسکتا ہو، کیا یہ دونوں شخص باہم ایک برابر ہوسکتے ہیں ؟ اور جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر تم لوگ خداوند قدوس کے ساتھ اس کے مملوکوں کو برابر کس طرح مانتے ہو ؟ جب وہ خالق کل اور مالک مطلق ہے۔ اور باقی سب اس کی مخلوق اور اس کے مملوک ہیں۔ آخر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–76
اللہ کی طرف سے مزید نعمتیں اور اللہ کی دی گئی مثالیں
تشریح : ان آیات میں اللہ نے مزید نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اسی طرح تمہارے جوڑے بنائے، یعنی میاں بیوی تاکہ دنیا کی خوشیاں اور سکون حاصل کرسکو اور پھر اولاد در اولاد کی خوشیاں دیکھو اور دنیا کی تمام چیزیں تمہارے لیے مسخر کردیں پھر بھی بیوقوف لوگ بےجان لاچارا ور بےبس مخلوقات کی عبادت کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھو تو کہتے ہیں کہ بھئی جس طرح بادشاہ تک پہنچنے کے لیے درباریوں وزیروں کا سہارا لینا پڑتا ہے تو اسی طرح اللہ سے مانگنے کے لیے ان چیزوں کو وسیلہ بنانا پڑتا ہے کیونکہ اللہ تو بہت ہی بلند وبالا ہے۔ براہ راست اس تک کیسے پہنچا جاسکتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
(رکوع نمبر 10)
اسرارومعارف
اب اپنی تخلیق پر غور کرو تو توحید کے اثبات کی کتنی بڑی دلیل موجود ہے کہ اللہ کریم نے سب انسانوں کو مال و دولت میں بھی یکساں نہیں بنایا جیسے قد کاٹھ طاقت علم اور شعور میں سب ایک سے نہیں ایسے مالی اعتبار سے سب برابر نہیں بعض تو غلام اور خدم وحشم رکھتے ہیں اور اپنی پسند سے خرچ کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو ان کی وساطت سے روزی ملتی ہے بعض مزدور ، ملازم یا غلام ہوتے ہیں تو کیا کوئی صاحب ثروت انسان غلام کو برابر جانتا ہے یا کرسکتا ہے کہ اگر رزق بانٹ بھی دے تو بحیثیت غلام دیا تو وہ مالک نہ بن سکے گا مال تو مالک ہی کا رہا اور اگر آزاد کر کے دیا تو اگرچہ مال میں برابر ہوگیا ، مگر…
Read the full tafseer →ف 10 مگر اپنی بےوقوفی سے اللہ تعالیٰ کو دنیا کے بادشاہوں پر قیاس کرتے ہو اور سمجھتے ہو کہ اللہ ان کی سفارش رد نہیں کرسکتا۔ یہ تمہاری بےعقلی اور بےسمجھی ہے۔ لہٰذا تم اللہ کے لئے اس قسم کی مثالیں بیان نہ کرو۔ اب آگے دو مثالیں بیان کی جاتی ہیں ان پر غور کرو۔ (وحیدی)
11 یعنی ایسا غلام ہے جو اپنے مالک کی اجازت کے بغیر ایک کوڑی بھی خرچ نہیں کرسکتا۔
12 ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ بس یہی مثال ہے بت اور اللہ تعالیٰ کی بلکہ بت اس غلام سے بھی کیا گزرا ہے کیونکہ وہ تو پھر بھی ہوش و حواس اور شعور رکھتا ہے اور اپنے نفس سے حتی الوسع دفاع کرسکتا ہے مگر یہ بےجان اور بےشعور بت کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ پھر کس قدر…
Read the full tafseer →(16:75) مملوکا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ ملک مادّۃ (باب ضرب) وہ جو کسی کی ملکیت میں ہو۔ یعنی غلام۔
من اسم ہے اور بطور مصوف استعمال ہوا ہے اور عبدا کی مطابقت میں نکرہ آیا ہے۔ کانہ قیل وحرا رزقناہ (عبدا کے مقابلہ میں حرا) یعنی اللہ تعالیٰ مثال دیتا ہے ایک عبد مملوک کی اور ایک آزاد شخص کی جسے خدا نے رزق حسن عطا کر رکھا ہے۔
ھل یستوٗن۔ میں استفہام انکاری ہے۔ کیا یہ برابر ہوسکتے ہیں ؟ یعنی یہ برابر نہیں ہوسکتے یہاں صیغہ تثنیہ کی بجائے جمع کا آیا ہے کیونکہ مقصود یہاں محض دو فرد ہی نہیں بلکہ اس قبیل کے کل اشخاص ہیں جو متضاد صفات کے مالک ہیں۔ یہ دونوں قسم کے اشخاص ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔
الحمد للہ۔ اس مثال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
لغات القرآن آیت نمبر 74 تا 76
لاتضربوا تم نہ مارو، تم نہ گھڑو۔ ضرب بیان کیا۔ عبد غلام۔ مملوک کسی کی ملکیت۔ لایقدر قدرت نہیں رکھتا۔ ینفق وہ خرچ کرتا ہے۔ سر چھپ کر۔ جھر کھل کر۔ ھل یستون کیا وہ دونوں برابر ہیں۔ رجلین دو آدمی۔ ابکم گونگا۔ لایقدر قدرت نہیں رکھتا، اختیار نہیں رکھتا۔ کل بوجھ۔ مولیٰ مالک، آقا۔ اینما جہاں بھی۔ یوجھہ اس کو بھیجا جاتا ہے۔ لایات نہیں لاتا۔ بخیر بھلائی سے۔ یامر حکم کرتا ہے۔ العدل انصاف
تشریح : آیت نمبر 74 تا 76
اس سے پہلی آیات میں فرمایا گیا تھا کہ اے لوگو ! تم ایک اللہ کو چھوڑ کر ان غیر اللہ کی عبادت و بندگی نہ کرو جو آسمان و زمین میں نہ تو کچھ پیدا کرتے ہیں نہ وہ رزق…
Read the full tafseer →مشرکین مکہ کو ہدایت کے لئے دو مثالیں بتلائیں
اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کو اللہ کا شریک ٹھہرانے سے منع فرما کر دو مثالیں بیان فرمائیں : (1) جن میں سے ایک کو اس آیت میں یوں ذکر فرمایا کہ تم دنیا میں دیکھو کہ ایک وہ شخص ہے جو کسی کا غلام ہو اور اس میں کسی بات کی قدرت نہ ہو۔ بلکل مفلس ہو، اپنے آقا کا دست نگر ہو۔ (2) دوسرا وہ شخص جو آزاد ہو اور اللہ پاک نے اسے آسودہ حال کیا ہو اور وہ اپنے مال میں پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتا ہو کیا یہ دونوں برابر ہیں۔ پھر فرمایا کہ اکثر لوگ گمراہ ہیں، اور خدا اور رسول کے منکر ہیں۔
Read the full tafseer →[43] اس مثال میں اللہ تعالیٰ نے بتوں اور جھوٹے معبودوں کو غلام بےاختیار کے مانند ٹھہرایا ہے جو اپنے اختیار سے کچھ کر نہیں سکتا اور خود اپنی مثال اس بااختیار شخص کی سی دی ہے جو اپنے مال میں جس طرح چاہتا ہے تصرف کرتا ہے اور کسی کا محکوم نہیں۔
Read the full tafseer →(ف 2) مومن اور مشرک کی مثال بیان کی ہے مومن دل کا فیاض ہوتا ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور مشرک ممسک اور بخیل ہوتا ہے ، اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا بلکہ اپنی خواہشات و ضروریات پر خرچ کرتا ہے ۔
یا مقصد یہ ہے کہ جس طرح مملوک کے اختیار میں کچھ نہیں مجبور اور مختار دونوں برابر نہیں ہوسکتے ، اسی طرح اللہ کے سوا سب اس کی مخلوق ہے اس لئے خالق اور مخلوقات میں کیونکر مساوات ہو سکتی ہے ؟
Read the full tafseer →75 ۔ اللہ تعالیٰ ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ فرض کرو ایک غلام ایسا ہے جو کسی کا مملوک ہے جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا اور ایک اور شخص ہے جس کو ہم نے اپنے پاس سے خوب روزی دے رکھی ہے اور وہ اس روزی میں سے پوشیدہ اور علانیہ آزادی کے ساتھ خرچ کرتا ہے تو کیا اس قسم کے افراد آپس میں برابر ہوسکتے ہیں ۔ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کو لائق ہیں ۔
بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ان مشرکوں میں سے بکثرت لوگ بےعلم اور جاہل ہیں ۔ یعنی ایک شخص کسی کا مملوک جو کسی قسم کا مال نہیں رکھتا اور تصرف میں مالک کی اجازت کا محتاج اور دوسرا مالک کہ اللہ نے اس کو اچھی خوب روزی دے رکھی ہے جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے تو…
Read the full tafseer →ف 1۔ پس جب مالک مجازی ومملوک مجازی برابر نہیں ہوسکتے تو مالک حقیقی اور مملوک حقیقی توکب برابر ہوسکتے ہیں اور استحقاق عبادت موقوف ہے مساوات پر اور وہ منتفی ہے۔
Read the full tafseer →شرک کے رد سے لوگوں کو شرک کا خزانہ مل گیا جس کو وہ خوب بانٹ رہے ہیں :
87۔ ان کافروں اور مشرکوں کو ایک مثال دے کر سمجھایا جارہا ہے فرمایا اللہ کے لئے مثالیں بیان نہ کرو بلکہ اس کی مخلوق اور وہ بھی انسان ہیں مختلف حالتوں پر غور کرلو تو تم کو سمجھ آجائے گی کہ جب مخلوق کے اندر اور وہ بھی ایک جنس کی مخلوق میں اس قدر فرق ہے اور وہ تو خالق ہے اس کو کسی مخلوق کے ساتھ تشبیہہ کیونکر دی جاسکتی ہے غور کرو کہ ایک شخص کسی کا زر خرید غلام ہے اس کو کسی چیز پر قدرت نہیں ہے وہ کسی بھوکے آدمی کو باسی روٹی کا ایک ٹکڑا بھی نہیں دے سکتا اور سردی میں ٹھٹھرنے والے کو ایک کپڑا نہیں اوڑھا سکتا خواہ وہ پھٹا پرانا ہی…
Read the full tafseer →In the first of the two examples given in the last two verses, the description is that of a master and a slave, that is, the owner and the owned. By giving this example, it is being said: When these two, despite being from the same genus and the same kind, cannot be equal to each other, how then could you equate someone or something created by Allah with Him?
Read the full tafseer →66. In the preceding verse, the mushriks were told not to make comparisons between Allah and His creatures, for there is nothing like Him. As the bases of their comparison were wrong, their conclusions were also misleading. In this verse appropriate similitude have been cited and right comparisons have been made to lead them to reality.
67. Between the last question and“Praise be to Allah”there is a gap which is to be filled with the help of the latter. When the question was posed, obviously the mushriks could not say that the two men were equal. So some of them would have admitted that they…
Read the full tafseer →