An-Nahl 16:75

An-Nahl · from ayah 75

16:75

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰی شَیْءٍ وَّمَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّجَهْرًا ؕ— هَلْ یَسْتَوٗنَ ؕ— اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ؕ— بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ۟ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبۡدًا مَّمۡلُوۡكًا لَّا يَقۡدِرُ عَلٰى شَىۡءٍ وَّمَنۡ رَّزَقۡنٰهُ مِنَّا رِزۡقًا حَسَنًا فَهُوَ يُنۡفِقُ مِنۡهُ سِرًّا وَّجَهۡرًا‌ؕ هَلۡ يَسۡتَوٗنَ‌ؕ اَ لۡحَمۡدُ لِلّٰهِ‌ؕ بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ

خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے جو (بالکل) دوسرے کے اختیار میں ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور ایک ایسا شخص ہے جس کو ہم نے اپنے ہاں سے (بہت سا) مال طیب عطا فرمایا ہے اور وہ اس میں سے (رات دن) پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا رہتا ہے تو کیا یہ دونوں شخص برابر ہیں؟ (ہرگز نہیں) الحمدلله لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں سمجھ رکھتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah presents an example: a slave [who is] owned and unable to do a thing and he to whom We have provided from Us good provision, so he spends from it secretly and publicly. Can they be equal? Praise to Allah! But most of them do not know.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 10 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:75

اللہ ایک مثال دیتا ہے ایک تو ہے غلام، جو دوسرے کا مملوک ہے اور خود کوئی اختیار نہیں رکھتا دوسرا شخص ایسا ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھا رزق عطا کیا ہے اور وہ اس میں سے کھلے اور چھپے خوب خرچ کرتا ہے بتاؤ، کیا یہ دونوں برابر ہیں؟ الحمدللہ، مگر اکثر لوگ (اس سیدھی بات کو) نہیں جانتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے جو (بالکل) دوسرے کے اختیار میں ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور ایک ایسا شخص ہے جس کو ہم نے اپنے ہاں سے (بہت سا) مال طیب عطا فرمایا ہے اور وہ اس میں سے (رات دن) پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا رہتا ہے تو کیا یہ دونوں شخص برابر ہیں؟ (ہرگز نہیں) الحمدلله لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں سمجھ رکھتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے دوسرے کی ملکیت کا، جو کسی بات کا اختیار نہیں رکھتا اور ایک اور شخص ہے جسے ہم نے اپنے پاس سے معقول روزی دے رکھی ہے، جس میں سے وه چھپے کھلے خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ سب برابر ہوسکتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے سب تعریف ہے، بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ ایک مثال دیتا ہے کہ ایک طرف ایک غلام ہے جو کسی کی ملکیت میں ہے، اس کو کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں، اور دوسری طرف وہ شخص ہے جس کو ہم نے اپنے پاس سے عمدہ رزق عطا کیا ہے، اور وہ اس میں سے پوشیدہ طور پر بھی اور کھلے بندوں بھی خوب خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ ساری تعریفیں اللہ کی ہیں، لیکن ان میں سے اکثر لوگ (ایسی صاف بات بھی) نہیں جانتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ نے ایک کہاوت بیان فرمائی ایک بندہ ہے دوسرے کی ملک آپ کچھ مقدور نہیں رکھتا اور ایک جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھی روزی عطا فرمائی تو وہ اس میں سے خرچ کرتا ہے چھپے اور ظاہر کیا وہ برابر ہوجائیں گے سب خوبیاں اللہ کو ہیں بلکہ ان میں اکثر کو خبر نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اللہ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے (کہ) ایک غلام ہے (جو کسی کی) ملکیت میں ہے (خود) کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور (دوسرا) وہ شخص ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے عمدہ روزی عطا فرمائی ہے سو وہ اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا ہے، کیا وہ برابر ہو سکتے ہیں، سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر (بنیادی حقیقت کو بھی) نہیں جانتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ نے ایک مثال بیان کی، ایک غلام ہے جو کسی کی ملکیت ہے، کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ شخص جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھا رزق دیا ہے تو وہ اس میں سے پوشیدہ اور کھلم کھلا خرچ کرتا ہے، کیا وہ برابر ہیں ؟ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ ایک مثال بیان کرتا ہے۔ ایک غلام ہے جو خود کسی کی ملکیت ہے وہ کسی چیز کی قدرت نہیں رکھتا اور دوسرا وہ ہے جسے ہم نے عمدہ رزق عطا کیا پھر وہ اس سے خفیہ اور علانیہ بہرطور خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ سب تعریف اللہ ہی کو سزاوار ہے بلکہ اکثر لوگ (یہ سیدھی سی بات بھی) نہیں جانتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ مثال بیان کرتا ہے ایک غلام مملوک کی جو کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا اور اس کی جس کو ہم نے اپنی جانب سے اچھا رزق دے رکھا ہے جس میں سے وہ پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتا ہے، کیا یہ کساں ہوں گے ؟ شکر کا سزاوار اللہ ہے لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ (ابطال شرک کے لئے) ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ (فرض کرو کہ) ایک غلام ہے جو دوسرے کا ایسا مملوک ہے کہ (اپنے مالک کی اجازت کے بغیر) وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا، اور دوسرا وہ شخص ہے جس کو ہم نے اپنی طرف سے دے رکھی ہو عمدہ روزی، اور وہ اس میں سے (اپنی مرضی کے مطابق) پوشیدہ بھی خرچ کرتا ہو، اور ظاہراً بھی، تو کیا یہ دونوں آپس میں برابر ہوسکتے ہیں ؟ (پس ثابت ہوا کہ معبود حقیقی بھی اللہ ہی ہے اور) ہر تعریف کا حقدار بھی اللہ ہی ہے، مگر لوگوں کی اکثریت ہے کہ وہ جانتے نہیں (حق اور حقیقت کو) ،

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ ایک مثال بیان کرتا ہے کہ ایک تو غلام مملوک ہے کہ کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ اور ایک وہ ہے جسے ہم نے اپنے پاس سے خوب روزی دے رکھی ہے تو وہ اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتا ہے۔ (کیا (ایسے لوگ باہم) برابر ہوسکتے ہیں ؟۔ ساری تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔ لیکن اکثر ان (مشرکین) میں سے علم ہی نہیں رکھتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ نے مثال بیان کی ہے ایک غلام مملوک کی جو اختیار نہیں رکھتا کسی چیز پر بھی اور (ایک وہ ہے) جس کو ہم نے اپنے پاس سے بہت اچھا رزق دیا ہے اور وہ اس میں سے خرچ کرتا ہے چھپ کر بھی اور علانیہ بھی کیا یہ (دونوں) برابر ہیں ؟ کل تعریف اور شکر اللہ کے لیے ہے لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ ایک مثال دیتا ہے کہ ایک غلام ہے جو بالکل دوسرے کے اختیار میں ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور ایک ایسا شخص ہے جس کو ہم نے اپنے پاس سے بہت سا پاکیزہ مال دیا ہے اور وہ اس میں سے رات دن ظاہر اور پوشیدہ خرچ کرتا رہتا ہے تو کیا یہ دونوں شخص برابر ہیں ؟ (ہرگز نہیں۔) ساری خوبی اللہ کے لیے ہے مگر بہت سے لوگ نہیں جانتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah sets forth a parable: There is one who is a slave and is owned by another and has no power over anything; and there is one whom We have granted good provision Ourselves, of which he spends both secretly and openly. Can they be equal? All praise be to Allah. But most of them do not even know (this simple fact).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah gives an example: There is a slave owned (by someone), who has no power over anything, and there is a person whom We have given good provision from Us, and he spends out of it secretly and openly. Are they equal? Praise be to Allah. But, most of them do not know.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah gives an example: There is a slave owned (by someone), who has no power over anything, and there is a person whom We have given good provision from Us, and he spends out of it secretly and openly. Are they equal? Praise be to Allah. But, most of them do not know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah gives the example of a servant under the possession of another, he has no power of any sort, and a man on whom We have bestowed good provisions from Us, and he spends from that secretly and openly. Can they be equal (By no means). All the praises and thanks are to Allah. Nay! (But) most of them know not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah coineth a similitude: (on the one hand) a (mere) chattel slave, who hath control of nothing, and (on the other hand) one on whom we have bestowed a fair provision from Us, and he spendeth thereof secretly and openly. Are they equal? Praise be to Allah! But most of them know not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah presents an example: a slave [who is] owned and unable to do a thing and he to whom We have provided from Us good provision, so he spends from it secretly and publicly. Can they be equal? Praise to Allah! But most of them do not know.

— Saheeh International

God tells a parable about a helpless servant and one to whom He has given honorable provisions and who has spent for the cause of God privately and in public. Can these two people be considered equal? It is only God who deserves all praise, but most people do not know.

— Muhammad Sarwar

Allah sets forth a parable: (consider) a slave, the property of another, (who) has no power over anything, and one whom We have granted from Ourselves a goodly sustenance so he spends from it secretly and openly; are the two alike? (All) praise is due to Allah! Nay, most of them do not know.

— Muhammad Habib Shakir

Allah propoundeth a similitude: there is a bondman enslaved who hath not power over aught; and there is one whom We have provided from Ourselves with goodly provision and he expendeth thereof secretly and openly; can they be equal? All praise Unto Allah; but most of them know not.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah sets forth the Parable (of two men: one) a slave under the dominion of another; He has no power of any sort; and (the other) a man on whom We have bestowed goodly favours from Ourselves, and he spends thereof (freely), privately and publicly: are the two equal? (By no means;) praise be to Allah. But most of them understand not.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:75

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

مومن اور کافر میں فرق ابن عباس ؓ وغیرہ فرماتے ہیں یہ کافر اور مومن کی مثال ہے۔ پس ملکیت کے غلام سے مراد کافر اور اچھی روزی والے اور خرچ کرنے والے سے مراد مومن ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں اس مثال سے بت کی اور اللہ تعالیٰ کی جدائی سمجھانا مقصود ہے کہ یہ اور وہ برابر کے نہیں۔ اس مثال کا فرق اس قدر واضح ہے جس کے بتانے کی ضرورت نہیں، اسی لئے فرماتا کہ تعریفوں کے لائق اللہ ہی ہے۔ اکثر مشرک بےعلمی پر تلے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّحْل 66 یعنی اگر مثالوں ہی سے بات سمجھنی ہے تو اللہ صحیح مثالوں سے تم کو حقیقت سمجھاتا ہے۔ تم جو مثالیں دے رہے ہو وہ غلط ہیں، اس لیے تم ان سے غلط نتیجے نکال بیٹھتے ہو۔ سورة النَّحْل 67 سوال اور الحمد للہ کے درمیان ایک لطیف خلا ہے جسے بھرنے کے لیے خود لفظ الحمد للہ ہی میں بلیغ اشارہ موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ نبی ﷺ کی زبان سے یہ سوال سن کر مشرکین کے لیے اس کا یہ جواب دینا تو کسی طرح ممکن نہ تھا کہ دونوں برابر ہیں۔ لا محالہ اس کے جواب میں کسی نے صاف صاف اقرار کیا ہوگا کہ واقعی دونوں برابر نہیں ہیں، اور کسی نے اس اندیشے سے خاموشی اختیار کرلی ہوگی کہ اقراری جواب دینے کی صورت میں اس کے منطقی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

آخری دو آیتوں میں انسان کی جو دو مثالیں دی گئی ہیں ان میں سے پہلی مثال میں تو آقا اور غلام یعنی مالک اور مملوک کی مثال دے کر بتلایا کہ جب یہ دونوں ایک ہی جنس ایک ہی نوع کے ہوتے ہوئے آپس میں برابر نہیں ہو سکتے تو کسی مخلوق کو خدا تعالیٰ کے ساتھ کیسے برابر ٹھراتے ہو

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا يَـقْدِرُ عَلٰي شَيْءٍ وَّمَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَـنًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّجَهْرًا ۭ هَلْ يَسْتَوٗنَ ۭ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ خدا کی بیان کردہ تمثیل : یعنی اگر مثال ہی سننی ہے تو خدا مثال بیان کرتا ہے اس کو سنو۔ ایک طرف ایک غلام مملوک جس کو کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں ہے اور دوسری طرف ایک آزاد ہے جس کو خدا نے خوب رزق و فضل دے رکھا ہے، وہ پوری آزادی سے پوشیدہ اور علانیہ اس میں سے خرچ کرتا ہے کیا یہ دونوں یکساں ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ نہیں، تو پھر خدا اور اس کے مملوکوں کو کس طرح یکساں کردیتے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

75۔ 1 بعض کہتے ہیں کہ یہ غلام اور آزاد کی مثال ہے کہ پہلا شخص غلام اور دوسرا آزاد ہے۔ یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے بعض کہتے ہیں کہ یہ مومن اور کافر کی مثال ہے۔ پہلا کافر اور دوسرا مومن ہے۔ یہ برابر نہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ اور بت (معبودان باطلہ) کی مثال ہے، پہلے سے مراد بت اور دوسرے سے اللہ ہے۔ یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے مطلب یہی ہے کہ ایک غلام اور آزاد، باوجود اس بات کے کہ دونوں انسان ہیں، دونوں اللہ کی مخلوق ہیں اور بھی بہت سی چیزیں دونوں کے درمیان مشترکہ ہیں، اس کے باوجود رتبہ اور شرف اور فضل و منزلت میں تم دونوں کو برابر نہیں سمجھتے تو اللہ تعالیٰ اور پتھر کی ایک مورتی یہ دونوں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 74–79

32: مشرکین عرب بعض اوقات اپنے شرک کی تائید میں یہ مثال دیتے تھے کہ جس طرح دنیا کا بادشاہ تنہا اپنی حکومت نہیں چلاتا، بلکہ اسے حکومت کے بہت سے کام اپنے مددگاروں کو سونپنے پڑتے ہیں، اسی طرح (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی خدائی کے بہت سے کام ان دیوتاؤں کو سونپ رکھے ہیں۔ اور ان معاملات میں وہ خود مختار ہوگئے ہیں۔ اس آیت میں ان سے کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے دنیا کے بادشاہوں کی، بلکہ کسی بھی مخلوق کی مثال دینا انتہائی جہالت کی بات ہے۔ اس کے بعد آیت نمبر 75، 76 میں اللہ تعالیٰ نے دو مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ جن کا مقصد یہ ہے کہ اگر مخلوقات ہی کی مثال لینی ہے تو ان دو مثالوں سے ظاہر ہے کہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 74–75

آیت نمبر 74 اس کے بعد اللہ ان لوگوں کے سامنے دو مثالیں پیش کرتا ہے ، ایک شخص مالک رازق ہے اور دوسرا شخص مملوک غلام اور عاجز ہے۔ کسی چیز کا نہ مالک ہے اور نہ کسب کمائی پر قادر ہے۔ یہ مثال اس لیے دی جارہی ہے کہ جس عظیم حقیقت کو وہ بھول چکے ہیں وہ ان کے فہم کے قریب تر ہوجائے۔ یہ حقیقت ہے کہ اللہ کی کوئی مثال نہیں ، اور یہ کہ اللہ کے ساتھ اس کی الوہیت و حاکمیت اور بندگی میں اس کی مخلوق میں سے کسی چیز کو بھی شریک نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مخلوق سب اس کی غلام اور بندہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 ایک شخص وہ ہے جو آزاد نہیں، دوسرے کا مملوک غلام ہے کسی طرح کی قدرت و اختیار نہیں رکھتا۔ ہر ایک تصرف میں مالک کی اجازت کا محتاج ہے۔ بدون اجازت اس کے سب تصرفات غیر معتبر ہیں دوسرا آزاد اور با اختیار شخص ہے جسے خدا نے اپنے فضل سے بہت کچھ مقدرت اور روزی عنایت فرمائی جس میں سے دن رات سراً وعلانیۃً بےدریغ خرچ کرتا ہے۔ کوئی اس کا ہاتھ نہیں روک سکتا۔ کیا یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے ہیں ؟ اسی طرح سمجھ لو کہ حق تعالیٰ ہر چیز کا مالک حقیقی ہے، سب تعریفیں اور خوبیاں اس کے خزانہ میں ہیں جس کو چاہے دے۔ کوئی مزاحمت کرنے والا نہیں۔ ذرہ ذرہ پر کلی اختیار اور کامل قبضہ رکھتا ہے۔ یہ کس قدر ظلم ہوگا کہ ایک پتھر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 75 ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا يَـقْدِرُ عَلٰي شَيْءٍ اللہ تعالیٰ ان کے شرک کی نفی کے لیے یہ مثال بیان کر رہا ہے کہ ایک بندہ وہ ہے جو کسی کا غلام اور مملوک ہے ‘ اس کا کچھ اختیار نہیں ‘ وہ اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ وَّمَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَـنًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّجَهْرًا رزق میں مال علم اور صلاحیتیں سب شامل ہیں۔ یعنی وہ شخص مال بھی خرچ کر رہا ہے ‘ لوگوں کو تعلیم بھی دے رہا ہے ‘ اور کئی دوسرے طریقوں سے بھی لوگوں کو مستفید کر رہا ہے۔ هَلْ يَسْتَوٗنَ ۭ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ایک طرف اللہ کا وہ بندہ ہے جو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

74 اب مشرکوں کی غلط مثالوں کے بجائے اللہ ایک ٹھیک مثال بیان کرتا ہے جو معمولی عقل والے آدمی کی بھی سمجھ میں آسکتی ہے۔ اور اس مثال میں شرک کی ایک نئے انداز میں تردید بیان کی گئی ہے۔ مثلاً ایک شخص خود غلام ہے اس کی اپنی کوئی چیز ہے ہی نہیں اور مالک کی چیز میں وہ تصرف کا اختیار نہیں رکھتا۔ اگر وہ کچھ خرچ کرنا چاہے بھی تو کر نہیں سکتا کیونکہ وہ مجبور محض ہے۔ اب اس کے مقابلے ایک دوسرا شخص ہے جو آزاد ہے۔ خود مختار ہے، لمبے چوڑے مال و دولت اور جائداد کا مالک بھی ہے۔ اسے اس مال و دولت کو خرچ کرنے کا مکمل اختیار بھی ہے اور وہ ہر وقت پوشیدہ طور پر بھی اور علانیہ بھی خرچ کرتا ہی رہتا ہے۔ تو کیا یہ دونوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

114۔ (کہ کسی مال میں تصرف کرسکے، بجز اپنے مالک کی اجازت کے) غلام کے لئے تو خیر مالک سے اجازت کے بعد امکان تصرف باقی ہے، معبودان باطل میں تو مالک کی اجازت سے بھی مالکیت میں دخل پانے کا امکان نہیں۔ (آیت) ’ ضرب اللہ مثلا “۔ مثال سے مقصود بطلان شرک کا اظہار ہے :۔ 115۔ (جب اور جس طرح چاہے، کوئی اس کی روک ٹوک کرنے والا نہیں) 116۔ ظاہر ہے کہ نہیں، تو جب مالک مجازی ومملوک مجازی مساوی نہیں ہوسکتے، جو اپنی اصل وخلقت کے لحاظ سے بالکل ایک ہیں، اور باہم فرق محض اعتباری واضافی رکھتے ہیں، تو مالک حقیقی ومملوک حقیقی کیونکر یکساں و مساوی ہوسکتے ہیں، جن کے درمیان کوئی شے بہ طور قدر مشترک ہی نہیں۔ (آیت) ” ھل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 71–76

آیت نمبر 71 تا 76 ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ نے رزق میں بعض کو بعض پر فوقیت دی ہے تو تم میں مالدار اور غریب اور مالک ومملوک (دونوں قسم کے لوگ) ہیں، یعنی جو مال وغیرہ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں اپنے اور اپنے غلاموں کے درمیان شرکت کرنے والے نہیں ہیں اس طریقہ پر کہ آقا و غلام اس میں برابر کے شریک ہوجائیں مطلب یہ ہے کہ ان کے غلاموں میں سے کوئی غلام ان کے مالوں میں شریک نہیں ہے تو پھر خدا کے غلاموں میں سے بعض کو اس کا کس طرح شریک ٹھہراتے ہیں ؟ تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کے منکر ہورہے ہیں اس طریقہ پر کہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں، اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہاری ہی جنس کی تم کو بیویاں عطا فرمائیں چناچہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ضرب اللہ مثلا عبدًا مملوکًا یقدر علی شیء اللہ ایک مثال بیان کرتا ہے (فرض کرو) ایک شخص تو غلام ہے جو کسی کا مملوک ہے ‘ خود کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ ا اللہ نے یہ مثال اپنی ذات اور دوسرے باطل معبودوں (کا فرق واضح کرنے) کیلئے بیان کی ہے۔ مَمْلُوْکًا سے مراد یہ ہے کہ وہ بندہ آزاد نہیں۔ یوں تو سبھی لوگ ‘ آزاد ہوں یا غلام ‘ اللہ کے بندے ہیں۔ لاَّ یَقْدِرُ عَلیٰ شَیْءٍ کہنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ غلام مکاتب نہیں ہے اور نہ اس کا لین دین کی آقا کی طرف سے اجازت دی گئی ہے (مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جس نے آقا سے معاہدہ کرلیا ہو کہ اتنا روپیہ کما کر جب میں تم کو دے دوں گا تو آزاد ہوجاؤں گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(75) اس کے بعد اللہ تعالیٰ مومن و کافر بندے کی ایک مثال بیان کرتے ہیں کہ ایک تو غلام ہے کسی کا مملوک کہ اموال وتصرفات وغیرہ میں اس کو کوئی اختیار نہیں، یہ حالت تو کافر کی ہے کہ کبھی اس سے کسی قسم کی بھلائی اور نیکی کا صدور نہیں ہوسکتا اور دوسرا ایک شخص ہے جس کو ہم نے اپنے پاس سے خوب مال و دولت دے رکھا ہے تو وہ اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خفیہ اور علانیہ جس طرح چاہتا ہے، خرچ کرتا ہے یہ مومن مخلص کی شان ہے کیا اس قسم کے حضرات ثواب لوٹنے اور اطاعت خداوندی میں برابر ہوسکتے ہیں۔ تمام قسم کی تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے لائق ہیں اور وحدانیت اسی ذات کے لیے ثابت ہے بلکہ ان میں سے اکثر قرآن کی…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا۔۔ : ”عَبْدًا“ کا معنی ہی غلام ہے، پھر بھی ”مَّمْلُوْكًا“ کی تصریح اس لیے فرمائی کہ ایک لحاظ سے آسمان و زمین کا ہر شخص ہی ”عَبْدًا“ ہے، فرمایا : (اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا) [ مریم : 93 ] ”آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمٰن کے پاس عبد (غلام) بن کر آنے والا ہے۔“ سو یہاں مراد وہ عبد ہے جو کسی آدمی کی ملکیت میں ہے۔ وَّمَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَـنًا۔۔ : یہاں ”مَّمْلُوْكًا“ کے مقابلے میں ”مَالِکًا“ کہنے کے بجائے ”وَّمَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا“ اس لیے فرمایا کہ انسان مالک بھی ہو تو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 75 اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : ضرب اللہ مثلا اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی ضلالت و گمراہی پر متنبہ کیا ہے، اور یہ اپنے ماقبل سمیت ان نعمتوں کے ذکر کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر فرمائی ہیں اور ان کے معبودوں میں سے کسی کے اس کی مثل نہ ہونے کو شامل ہے۔ ضرب اللہ مثلا یعنی ایک مثال اور تشبیہ بیان فرمائی۔ پھر اس کا ذکر کیا اور فرمایا : عبدا مملوکا یعنی جس طرح تمہارے نزدیک عبد مملوک جو اپنے معاملات میں سے کسی شے پر قدرت نہ رکھتا ہو اور وہ آزاد آدمی جسے رزق حسن دیا گیا ہے وہ برابر نہیں ہوسکتے۔ پس اسی طرح میں اور یہ بت برابر نہیں ہوسکتے۔ پس وہ جو اس آیت میں مثال ہے وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 73–77

1:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ’ ’ ویعبدون من دون اللہ ما لا یملک لہم رزقا من السموت والارض “۔ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ بت ہیں کہ جن کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کی جاتی تھی اور (یہ بت) نہیں مالک ہوتا اس شخص کے لئے جو اس کی عبادت کرتا ہے نہ نفع کا نہ نقصان کا نہ زندگی کا اور نہ دوبارہ اٹھنے کا۔ (آیت) ” فلا تضربوا للہ الامثال “ پس اللہ کی مثالیں بیان نہ کرو کیونکہ وہ ایک ہے اور بےنیاز ہے ” لم یلد، ولم یولد (3) ولم یکن لہ کفوا احد (4) “ (نہ کسی نے اس کو جنا اور نہ وہ جنم دیا گیا اور اس کا کوئی ہم سر نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ضَرَبَ : بیان کی ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ مَثَلًا : ایک مثال ] [ عَبْدًا مَّمْلُوْكًا : ایک غلام بندے کی ] [ لَّا يَـقْدِرُ : وہ قدرت نہیں رکھتا ] [ عَلٰي شَيْءٍ : کسی چیز پر ] [ وَّمَنْ : اور اس کی ] [ رَّزَقْنٰهُ : ہم نے عطا کی جس کو ] [ مِنَا : اپنے پاس سے ] [ رِزْقًا حَسَـنًا : کچھ اچھی روزی ] [ فَهُوَ : تو وہ ] [ يُنْفِقُ : خرچ کرتا ہے ] [ مِنْهُ : اس میں سے ] [ سِرًّا : چھپاتے ہوئے ] [ وَّجَهْرًا ۭ : اور نمایاں کرتے ہوئے ] [هَلْ : کیا ] [ يَسْتَوٗنَ ۭ : وہ سب برابر ہوتے ہیں ] [اَلْحَمْدُ : تمام شکر و سپاس ] [ للّٰهِ ۭ: اللہ کے لئے ہے ] [ بَلْ : بلکہ (یعنی لیکن)] [ اَكْثَرُهُمْ : ان کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 75–76

دو مثالیں پیش فرما کر مشرکین کی تردید فرمائی ان آیات میں بھی مشرکین کی تردید فرمائی اور اس بارے میں دو مثالیں بیان فرمائیں ایک مثال یہ ہے کہ جیسے ایک غلام ہے وہ کسی کی ملکیت میں ہے خود کسی چیز کا مالک نہیں لہٰذا کسی مال میں بھی کسی قسم کا تصرف کرنے کا ذاتی طور پر کوئی اختیار نہیں رکھتا اور دوسرا وہ شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے خوب روزی عطا فرمائی اسے اپنے مال پر پورا اختیار ہے پوشیدہ طور پر اور علانیہ طور پر کسی روک ٹوک کے بغیر جس طرح چاہتا ہے اور جہاں چاہتا ہے خرچ کرتا ہے دونوں شخصوں کا حال سامنے رکھ کر یہ مشرکین بتائیں کیا یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے ہیں ؟ تھوڑے سے علم و فہم والا بھی جواب دینے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–83

رجور بسوئے دلائل توحید بتذکیر انعامات خداوند حمید قال اللہ تعالیٰ : واللہ انزل من السماء .... الیٰ .... واکثرھم ھم الکفرون۔ (ربط) اوپر سے بہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کا ذکر چلا آرہا ہے اور پھر اسی طرح سے یہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کو بیان فرماتے ہیں اور یہ دلائل معاد بھی ہیں اور دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل ہدایت بھی ہیں اور دلائل رحمت بھی ہیں۔ دور تک اسی طرح سلسلہ کلام چلا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کے انعامات کو ذکر فرمایا جو علاوہ نعمت ہونے کے اس کے کمال علم اور کمال قدرت اور حکمت کے دلائل بھی ہیں۔ (1) چناچہ واللہ انزل من السماء ماء سے اپنی قدرت کا بیان شروع فرمایا کہ آسمان سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

59:۔ تم نے اپنے معبودوں کے لیے جو مثال بیان کی ہے وہ صحیح نہیں۔ تمہارے خود ساختہ معبودوں کی صحیح مثالیں یہ ہیں۔ پہلی مثال۔ ایک غلام ہو جو دوسرے شخص کا مملوک ہو، وہ اپنے مالک کے رحم و کرم پر اور اس کا محتاج ہو اور اس کے پاس کوئی اختیار بھی نہ ہو۔ اس کے برعکس ایک وہ شخص ہے جو آزاد ہے اور ہم نے اسے حلال کمائی سے بہت سی دولت دی ہو جسے وہ اپنے اختیار سے جب چاہے، جہاں چاہے آزادانہ خرچ کرتا ہو۔ اب تم خود ہی بتاؤ کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ استفہام انکاری ہے یعنی دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ ” الحمد للہ “ تمام صفات کارسازی اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہیں۔ جس طرف ایک عاجز و بےبس غلام اور ایک با اختیار…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–76

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں شرک اور مشرکین کا رد فرمایا گیا تھا ، اللہ تعالیٰ نے غلط مثالیں بیان کرنے سے منع فرمایا ، اللہ تعالیٰ کی ذات کو دنیا کے بادشاہوں پر قیاس کرکے مخلوق کی صفات اللہ میں ثابت کرنا نہایت ہی بری بات ہے ، اللہ نے اس بات کی سختی سے تردید فرمائی کہ عام آدمی کی اس تک رسائی نہیں ہے اور اسے کسی وسیلہ کی ضرورت ہے بلکہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا تعلق براہ راست اس کے بندے سے ہے اللہ نے اپنے لیے اس قسم کی مثالیں بیان کرنے سے منع فرما دیا ، اب آج کی آیات بھی شرک کی تردی میں ہی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے خود دو مثالیں بیان کرکے اپنی وحدانیت کا مسئلہ واضح فرمایا ہے ، پہلی مثال ایک آزاد اور ایک…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا يَـقْدِرُ عَلٰي شَيْءٍ وَّمَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَـنًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّجَهْرًا ۭ هَلْ يَسْتَوٗنَ ۭ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 75؀ قدر الْقُدْرَةُ إذا وصف بها الإنسان فاسم لهيئة له بها يتمكّن من فعل شيء ما، وإذا وصف اللہ تعالیٰ بها فهي نفي العجز عنه، ومحال أن يوصف غير اللہ بالقدرة المطلقة معنی وإن أطلق عليه لفظا، بل حقّه أن يقال : قَادِرٌ علی كذا، ومتی قيل : هو قادر، فعلی سبیل معنی التّقييد، ولهذا لا أحد غير اللہ يوصف بالقدرة من وجه إلّا ويصحّ أن يوصف بالعجز من وجه، والله تعالیٰ هو الذي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 75–76

دوسری مثال و ضرب اللہ مثلاً رجلین میں ہے یہ دو شخصوں کی مثال ہے جن میں سے ایک تو گونگا ہو اور اپاہج بھی اور نکما بھی جہاں جائے کوئی کام بنا کر نہ آئے دوسرا حکیم و دانا ہو کہ لوگوں کو بھی نیکوکاری ‘ عدل و انصاف کا حکم دیتا ہو اور خود بھی راہ مستقیم پر قائم ہو۔ بھلا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ہرگز نہیں۔ پہلے شخص سے ان کے معبود دوسرے سے وہ خدائے قادر حکیم مراد ہے مشرکین دو قسم کے تھے بلکہ اب بھی ہیں۔ ایک وہ جو پتھر یا اور چیزوں کی مورتوں کو پوجتے تھے ان کے معبودوں کی مثال اخیر میں ذکر کی اور ایک وہ جو بزرگوں کو پوجتے تھے ان کے لیے مثال اول ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً عَبْدًا مَّمْلُوْکًا لاَّیَقْدِرُعَلٰی شَیْ ئٍ وَّمَنْ رَّزَقْنٰہُ مِنَّارِزْقًا حَسَنًا فَھُوَا یُنْفِقُ مِنْہُ سِرًّا وَّجَھْرًا ط ھَلْ یَسْتَوٗنَ ط اَلْحَمْدُلِلّٰہِ ط بَلْ اَکْثَرُھُمْ لاَیَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 75) (اللہ تعالیٰ ایک مثال بیان فرماتا ہے ایک غلام مملوک کی جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور اس کی جس کو ہم نے اپنی جانب سے اچھا رزق دے رکھا ہے جس میں سے وہ پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتا ہے، (اب تم ہی بتائو) کیا یہ یکساں ہیں، شکر کا سزاوار اللہ تعالیٰ ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ ) اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ تمثیل اگر مثال ہی سننا چاہتے ہو تو اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 74–75

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ معبودان باطل کی مثالیں خالق حقیقی کے ساتھ بیان کی بجائے ان کا اپنے ساتھ موازنہ کرو اور اپنے ضمیر کے آئینہ میں دیکھو اور سوچو تاکہ تمہارے سامنے حقیقت منکشف ہوجائے کہ شرک کا عقیدہ کس قدر بےبنیاد اور بےانصافی پر مبنی ہے۔ مشرکین کی پرانی عادت ہے کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت سمجھائی جائے۔ تو مشرک اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرتوں کا اعتراف کرنے کے بجائے اپنے معبودان باطل کے حق میں دلائل دیتے اور ان کو اللہ تعالیٰ کے مشابہ قرار دیتے ہیں۔ بالخصوص جو لوگ مدفون بزرگوں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں۔ ان کا عقیدہ اور دلائل یہ ہیں کہ جس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مخلوق کو اللہ کا شریک بنانے کی پہلی مثال : 75: ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً عَبْدًا۔ (اللہ تعالیٰ نے مثال بیان کی کہ ایک شخص کا ایک غلام ہے) ۔ نحو : عبدًا یہ مثلاً سے بدل ہے۔ مَّمْلُوْکًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰی شَیْئٍ وَّمَنْ رَّزَقْنٰہُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَھُوَ یُنْفِقُ مِنْہُ (ایک مملوک جو کسی چیز پر قدرت نہ رکھتا ہو اور وہ جس کو ہم نے اچھا رزق دے رکھا ہو۔ اور وہ اس میں سے اعلانیہ و پوشیدہ خرچ کرتا ہو) سِرًّا وَّ جَھْرًا یہ دونوں مصدر ہیں جو موضع حال میں واقع ہیں۔ یعنی تمہارے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بتوں کو شریک کرنے کی مثال ایسی ہے جیسا کہ کوئی عبد مملوک جو تصرف سے بھی عاجز ہو اور شریف سردار،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(75)” ضرب اللہ مثلاً عبداً مملو کالا یقدر علی شیئ “ یہ مثال کافر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو مال دیا لیکن اس نے اس کو اچھی جگہ خرچ نہیں کیا۔ ” ومن رزقناہ منا رزقاً حسناً فھو ینفق منہ سراً و جھراً “ یہ مثال مومن کی ہے کہ اللہ نے ان کو مال عطا کیا۔ انہوں نے اس کو اس کی راہ میں خرچ کیا جس سے اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ پوشیدہ طورپر بھی اور اعلانیہ طورپر بھی خرچ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں اس کو جنت عطا فرمائی۔” ھل یستو ون “ یہاں پر ھل یستویان نہیں فرمایا (من) کی وجہ سے کیونکہ یہ اسم واحد جمع، تثنیہ سب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ” لا یستطیعون “ جمع کے ساتھ ذکر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

75۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کو اللہ کا شریک اور مثل ٹھہرانے سے منع فرما کر دو مثالیں بیان فرمائیں جن میں سے ایک کو اس آیت میں یوں ذکر فرمایا کہ تم دنیا میں دیکھو کہ ایک وہ شخص ہے جو کسی کا غلام ہو اور اس میں کسی بات کی قدرت نہ ہو بالکل مفلس ہو اپنے آقا کا دست نگر ہو دوسرا وہ شخص جو آزاد ہو اور اللہ پاک نے اسے آسودہ حال کیا ہو ہر طرح کی جاہ و ثروت اسے دے رکھی ہو وہ اپنے مال میں سے اپنی خواہش کے موافق کھلے چھپے خرچ کر رہا ہو کسی بات کا محتاج نہ ہو تو فرمایا کہ کیا یہ دونوں شخص کبھی برابر ہوسکتے ہیں۔ ان میں آسمان و زمین کا فرق ہے باوجود اس بات کے پھر یہ دونوں خدا کی مخلوق ہیں اسی کے بندے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 73–75

آیت : (73-76) اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت اور ان کے ظلم کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے ہیں جن کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے شرک ٹھہرایا ہے اور ان باطل معبودوں کا حال یہ ہے کہ وہ ان کے لئے زمین و آسمان میں رزق کا اختیار نہیں رکھتے۔ وہ بارش برسا سکتے ہیں نہ رزق عطا کرسکتے ہیں اور نہ ہی زمین میں نباتات اگا سکتے ہیں ‘ وہ زمین و آسمان میں کسی ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں بلکہ اگر وہ چاہیں بھی تو کسی چیز کے مالک نہیں بن سکتے ‘ کیونکہ بسا اوقات کسی چیز کا غیر مالک بھی اس چیز پر ‘ جو نفع دے سکتی ہو ‘ قدرت اور اختیار رکھتا ہے۔۔۔۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (ضرب اللہ مثلا عبدا مملوکا لا یقدر علی شی۔ اللہ ایک مثال دیتا ہے ایک تو ہے غلام جو دوسرے کا مملوک ہے، اور خود کوئی اختیار نہیں رکھتا) حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ مثال اس کافر کی بیان کی گئی ہے جس کی ذات میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی اور اس مومن کی جو بھلائیاں اور نیکیاں کماتا ہے۔ حسن اور مجاہد کے قول کے مطابق یہ مثال مشرکین کی بت پرستی کے سلسلے میں بیان کی گئی ہے۔ مشرکین ان بتوں کی پوجا کرتے ہیں جو کسی چیز کے مالک نہیں ہیں اور اس ذات کی پرستش سے منہ موڑتے ہیں جو ہر چیز کی مالک ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ آیت کئی طرح سے اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ غلام کسی چیز کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

150۔ ابطال شرک کے لئے ایک مثال کا ذکر وبیان : اور توحید کے بارے میں صحیح مثال وہی ہوسکتی ہے جو وہ خود بیان فرمائے۔ سو اللہ تعالیٰ نے ابطال شرک کیلئے ایک مثال بیان فرمائی۔ یعنی وہ آزاد شخص چاہے اور جیسے چاہے اور جہاں چاہیے اور جس قدر چاہے خرچ کرتا ہے کہ وہ آزاد اور خود مختار ہے۔ تو ایسا شخص اور دوسرا وہ شخص جو عاجز ہو اور کچھ نہ کرسکتا ہو، کیا یہ دونوں شخص باہم ایک برابر ہوسکتے ہیں ؟ اور جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر تم لوگ خداوند قدوس کے ساتھ اس کے مملوکوں کو برابر کس طرح مانتے ہو ؟ جب وہ خالق کل اور مالک مطلق ہے۔ اور باقی سب اس کی مخلوق اور اس کے مملوک ہیں۔ آخر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 72–76

اللہ کی طرف سے مزید نعمتیں اور اللہ کی دی گئی مثالیں تشریح : ان آیات میں اللہ نے مزید نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اسی طرح تمہارے جوڑے بنائے، یعنی میاں بیوی تاکہ دنیا کی خوشیاں اور سکون حاصل کرسکو اور پھر اولاد در اولاد کی خوشیاں دیکھو اور دنیا کی تمام چیزیں تمہارے لیے مسخر کردیں پھر بھی بیوقوف لوگ بےجان لاچارا ور بےبس مخلوقات کی عبادت کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھو تو کہتے ہیں کہ بھئی جس طرح بادشاہ تک پہنچنے کے لیے درباریوں وزیروں کا سہارا لینا پڑتا ہے تو اسی طرح اللہ سے مانگنے کے لیے ان چیزوں کو وسیلہ بنانا پڑتا ہے کیونکہ اللہ تو بہت ہی بلند وبالا ہے۔ براہ راست اس تک کیسے پہنچا جاسکتا ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 71–76

(رکوع نمبر 10) اسرارومعارف اب اپنی تخلیق پر غور کرو تو توحید کے اثبات کی کتنی بڑی دلیل موجود ہے کہ اللہ کریم نے سب انسانوں کو مال و دولت میں بھی یکساں نہیں بنایا جیسے قد کاٹھ طاقت علم اور شعور میں سب ایک سے نہیں ایسے مالی اعتبار سے سب برابر نہیں بعض تو غلام اور خدم وحشم رکھتے ہیں اور اپنی پسند سے خرچ کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو ان کی وساطت سے روزی ملتی ہے بعض مزدور ، ملازم یا غلام ہوتے ہیں تو کیا کوئی صاحب ثروت انسان غلام کو برابر جانتا ہے یا کرسکتا ہے کہ اگر رزق بانٹ بھی دے تو بحیثیت غلام دیا تو وہ مالک نہ بن سکے گا مال تو مالک ہی کا رہا اور اگر آزاد کر کے دیا تو اگرچہ مال میں برابر ہوگیا ، مگر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 مگر اپنی بےوقوفی سے اللہ تعالیٰ کو دنیا کے بادشاہوں پر قیاس کرتے ہو اور سمجھتے ہو کہ اللہ ان کی سفارش رد نہیں کرسکتا۔ یہ تمہاری بےعقلی اور بےسمجھی ہے۔ لہٰذا تم اللہ کے لئے اس قسم کی مثالیں بیان نہ کرو۔ اب آگے دو مثالیں بیان کی جاتی ہیں ان پر غور کرو۔ (وحیدی) 11 یعنی ایسا غلام ہے جو اپنے مالک کی اجازت کے بغیر ایک کوڑی بھی خرچ نہیں کرسکتا۔ 12 ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ بس یہی مثال ہے بت اور اللہ تعالیٰ کی بلکہ بت اس غلام سے بھی کیا گزرا ہے کیونکہ وہ تو پھر بھی ہوش و حواس اور شعور رکھتا ہے اور اپنے نفس سے حتی الوسع دفاع کرسکتا ہے مگر یہ بےجان اور بےشعور بت کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ پھر کس قدر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:75) مملوکا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ ملک مادّۃ (باب ضرب) وہ جو کسی کی ملکیت میں ہو۔ یعنی غلام۔ من اسم ہے اور بطور مصوف استعمال ہوا ہے اور عبدا کی مطابقت میں نکرہ آیا ہے۔ کانہ قیل وحرا رزقناہ (عبدا کے مقابلہ میں حرا) یعنی اللہ تعالیٰ مثال دیتا ہے ایک عبد مملوک کی اور ایک آزاد شخص کی جسے خدا نے رزق حسن عطا کر رکھا ہے۔ ھل یستوٗن۔ میں استفہام انکاری ہے۔ کیا یہ برابر ہوسکتے ہیں ؟ یعنی یہ برابر نہیں ہوسکتے یہاں صیغہ تثنیہ کی بجائے جمع کا آیا ہے کیونکہ مقصود یہاں محض دو فرد ہی نہیں بلکہ اس قبیل کے کل اشخاص ہیں جو متضاد صفات کے مالک ہیں۔ یہ دونوں قسم کے اشخاص ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔ الحمد للہ۔ اس مثال…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 74–76

لغات القرآن آیت نمبر 74 تا 76 لاتضربوا تم نہ مارو، تم نہ گھڑو۔ ضرب بیان کیا۔ عبد غلام۔ مملوک کسی کی ملکیت۔ لایقدر قدرت نہیں رکھتا۔ ینفق وہ خرچ کرتا ہے۔ سر چھپ کر۔ جھر کھل کر۔ ھل یستون کیا وہ دونوں برابر ہیں۔ رجلین دو آدمی۔ ابکم گونگا۔ لایقدر قدرت نہیں رکھتا، اختیار نہیں رکھتا۔ کل بوجھ۔ مولیٰ مالک، آقا۔ اینما جہاں بھی۔ یوجھہ اس کو بھیجا جاتا ہے۔ لایات نہیں لاتا۔ بخیر بھلائی سے۔ یامر حکم کرتا ہے۔ العدل انصاف تشریح : آیت نمبر 74 تا 76 اس سے پہلی آیات میں فرمایا گیا تھا کہ اے لوگو ! تم ایک اللہ کو چھوڑ کر ان غیر اللہ کی عبادت و بندگی نہ کرو جو آسمان و زمین میں نہ تو کچھ پیدا کرتے ہیں نہ وہ رزق…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

مشرکین مکہ کو ہدایت کے لئے دو مثالیں بتلائیں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کو اللہ کا شریک ٹھہرانے سے منع فرما کر دو مثالیں بیان فرمائیں : (1) جن میں سے ایک کو اس آیت میں یوں ذکر فرمایا کہ تم دنیا میں دیکھو کہ ایک وہ شخص ہے جو کسی کا غلام ہو اور اس میں کسی بات کی قدرت نہ ہو۔ بلکل مفلس ہو، اپنے آقا کا دست نگر ہو۔ (2) دوسرا وہ شخص جو آزاد ہو اور اللہ پاک نے اسے آسودہ حال کیا ہو اور وہ اپنے مال میں پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتا ہو کیا یہ دونوں برابر ہیں۔ پھر فرمایا کہ اکثر لوگ گمراہ ہیں، اور خدا اور رسول کے منکر ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[43] اس مثال میں اللہ تعالیٰ نے بتوں اور جھوٹے معبودوں کو غلام بےاختیار کے مانند ٹھہرایا ہے جو اپنے اختیار سے کچھ کر نہیں سکتا اور خود اپنی مثال اس بااختیار شخص کی سی دی ہے جو اپنے مال میں جس طرح چاہتا ہے تصرف کرتا ہے اور کسی کا محکوم نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) مومن اور مشرک کی مثال بیان کی ہے مومن دل کا فیاض ہوتا ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور مشرک ممسک اور بخیل ہوتا ہے ، اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا بلکہ اپنی خواہشات و ضروریات پر خرچ کرتا ہے ۔ یا مقصد یہ ہے کہ جس طرح مملوک کے اختیار میں کچھ نہیں مجبور اور مختار دونوں برابر نہیں ہوسکتے ، اسی طرح اللہ کے سوا سب اس کی مخلوق ہے اس لئے خالق اور مخلوقات میں کیونکر مساوات ہو سکتی ہے ؟

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

75 ۔ اللہ تعالیٰ ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ فرض کرو ایک غلام ایسا ہے جو کسی کا مملوک ہے جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا اور ایک اور شخص ہے جس کو ہم نے اپنے پاس سے خوب روزی دے رکھی ہے اور وہ اس روزی میں سے پوشیدہ اور علانیہ آزادی کے ساتھ خرچ کرتا ہے تو کیا اس قسم کے افراد آپس میں برابر ہوسکتے ہیں ۔ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کو لائق ہیں ۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ان مشرکوں میں سے بکثرت لوگ بےعلم اور جاہل ہیں ۔ یعنی ایک شخص کسی کا مملوک جو کسی قسم کا مال نہیں رکھتا اور تصرف میں مالک کی اجازت کا محتاج اور دوسرا مالک کہ اللہ نے اس کو اچھی خوب روزی دے رکھی ہے جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے تو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ پس جب مالک مجازی ومملوک مجازی برابر نہیں ہوسکتے تو مالک حقیقی اور مملوک حقیقی توکب برابر ہوسکتے ہیں اور استحقاق عبادت موقوف ہے مساوات پر اور وہ منتفی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

شرک کے رد سے لوگوں کو شرک کا خزانہ مل گیا جس کو وہ خوب بانٹ رہے ہیں : 87۔ ان کافروں اور مشرکوں کو ایک مثال دے کر سمجھایا جارہا ہے فرمایا اللہ کے لئے مثالیں بیان نہ کرو بلکہ اس کی مخلوق اور وہ بھی انسان ہیں مختلف حالتوں پر غور کرلو تو تم کو سمجھ آجائے گی کہ جب مخلوق کے اندر اور وہ بھی ایک جنس کی مخلوق میں اس قدر فرق ہے اور وہ تو خالق ہے اس کو کسی مخلوق کے ساتھ تشبیہہ کیونکر دی جاسکتی ہے غور کرو کہ ایک شخص کسی کا زر خرید غلام ہے اس کو کسی چیز پر قدرت نہیں ہے وہ کسی بھوکے آدمی کو باسی روٹی کا ایک ٹکڑا بھی نہیں دے سکتا اور سردی میں ٹھٹھرنے والے کو ایک کپڑا نہیں اوڑھا سکتا خواہ وہ پھٹا پرانا ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the first of the two examples given in the last two verses, the description is that of a master and a slave, that is, the owner and the owned. By giving this example, it is being said: When these two, despite being from the same genus and the same kind, cannot be equal to each other, how then could you equate someone or something created by Allah with Him?

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

66. In the preceding verse, the mushriks were told not to make comparisons between Allah and His creatures, for there is nothing like Him. As the bases of their comparison were wrong, their conclusions were also misleading. In this verse appropriate similitude have been cited and right comparisons have been made to lead them to reality. 67. Between the last question and“Praise be to Allah”there is a gap which is to be filled with the help of the latter. When the question was posed, obviously the mushriks could not say that the two men were equal. So some of them would have admitted that they…

Read the full tafseer →