Explained with ayahs 73–74
توحید کی تاکید
نعمتیں دینے والا، پیدا کرنے والا، روزی پہنچانے والا، صرف اللہ تعالیٰ اکیلا وحدہ لا شریک لہ ہے۔ اور یہ مشرکین اس کے ساتھ اوروں کو پوجتے ہیں جو نہ آسمان سے بارش برسا سکیں، نہ زمین سے کھیت اور درخت اگا سکیں۔ وہ اگر سب مل کر بھی چاہیں تو بھی نہ ایک بوند بارش برسانے پر قادر، نہ ایک پتے کے پیدا کرنے ان میں سکت پس تم اللہ کے لئے مثالیں نہ بیان کرو۔ اس کے شریک وسہیم اور اس جیسا دوسروں کو نہ سمجھو۔ اللہ عالم ہے اور وہ اپنے علم کی بنا پر اپنی توحید پر گواہی دیتا ہے۔ تم جاہل ہو، اپنی جہالت سے دوسروں کو اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہو۔
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 65
”اللہ کے لیے مثالیں نہ گھڑو“ ، یعنی اللہ کو دنیوی بادشاہوں اور راجوں اور مہاراجوں پر قیاس نہ کرو کہ جس طرح کوئی ان کے مصاحبوں اور مقرب بارگاہ ملازموں کے توسط کے بغیر ان تک اپنی عرض معروض نہیں پہنچا سکتا اسی طرح اللہ کے متعلق بھی تم یہ گمان کرنے لگو کہ وہ اپنے قصر شاہی میں ملائکہ اور اولیاء اور دوسرے مقربین کے درمیان گھِرا بیٹھا ہے اور کسی کا کوئی کام ان واسطوں کے بغیر اس کے ہاں سے نہیں بن سکتا۔
Read the full tafseer →فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَال میں ایک اہم حقیقت کو واضح فرمایا ہے جس سے غفلت برتنا ہی تمام کافرانہ شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے وہ یہ ہے کہ عام طور پر لوگ حق تعالیٰ کو اپنے بنی نوع انسان پر قیاس کر کے ان میں سے اعلیٰ ترین انسان مثلا بادشاہ وفرمانروا کو اللہ تعالیٰ کی مثال قرار دیتے ہیں اور پھر اس غلط بنیاد پر اللہ تعالیٰ کے نظام قدرت کو بھی انسانی بادشاہوں کے نظام پر قیاس کر کے یہ کہنے لگتے ہیں کہ جس طرح کسی سلطنت و حکومت میں اکیلا بادشاہ سارے ملک کا انتظام نہیں کرسکتا بلکہ اپنے ما تحت وزراء اور دوسرے افسروں کو اختیارات سپرد کر کے ان کے ذریعہ نظم مملکت چلایا جاتا ہے اسی طرح یہ بھی ہونا…
Read the full tafseer →فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔
صفات الٰہی کے باب میں تمثیل سے احتراز کی ہدایت : " ضرب مثل " سے یہاں مراد تمثیل و تشبیہ کو ذریعہ بنا کر خدا کے لیے صفتیں بیان کرنا ہے۔ مثلاً یہ کہ اپنے اوپر قیاس کرکے یہ کہا جائے کہ خدا کے بیٹیاں ہیں یا دنیوی بادشاہوں پر قیاس کرکے خدا کو ان کی جیسی صفات سے متصف کیا جائے۔ شرک کے بیشتر دروازے اسی تمثیل و تشبیہ سے کھلے ہیں اس وجہ سے اوپر کی آیات میں خد ا کی صفات کے باب میں صحیح رہنمائی دے کر اس فتنہ کے دروازے کو بند کردیا۔ فرمایا کہ خدا کی صفات کے معاملے میں تشبیہ و قیاس کو رہنما نہ بناؤ۔ خدا اپنی صفات…
Read the full tafseer →74۔ 1 جس طرح مشرکین مثالیں دیتے ہیں کہ بادشاہ سے ملنا ہو یا اس سے کوئی کام ہو تو کوئی براہ راست بادشاہ سے نہیں مل سکتا ہے۔ پہلے اسے بادشاہ کے مقربین سے رابطہ کرنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر بادشاہ تک اس کی رسائی ہوتی ہے اسی طرح اللہ کی ذات بھی بہت اعلی اور اونچی ہے۔ اس تک پہنچنے کے لیے ہم ان معبودوں کو ذریعہ بناتے ہیں یا بزرگوں کا وسیلہ پکڑتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، تم اللہ کو اپنے پر قیاس مت کرو نہ اس قسم کی مثالیں دو۔ اس لیے کہ وہ تو واحد ہے، اس کی کوئی مثال ہی نہیں ہے۔ پھر بادشاہ نہ تو عالم الغیب ہے، نہ حاضر و ناظر نہ سمیع وبصیر۔ کہ وہ بغیر کسی ذریعے کے رعایا کے حالات و ضروریات سے آگاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–79
32: مشرکین عرب بعض اوقات اپنے شرک کی تائید میں یہ مثال دیتے تھے کہ جس طرح دنیا کا بادشاہ تنہا اپنی حکومت نہیں چلاتا، بلکہ اسے حکومت کے بہت سے کام اپنے مددگاروں کو سونپنے پڑتے ہیں، اسی طرح (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی خدائی کے بہت سے کام ان دیوتاؤں کو سونپ رکھے ہیں۔ اور ان معاملات میں وہ خود مختار ہوگئے ہیں۔ اس آیت میں ان سے کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے دنیا کے بادشاہوں کی، بلکہ کسی بھی مخلوق کی مثال دینا انتہائی جہالت کی بات ہے۔ اس کے بعد آیت نمبر 75، 76 میں اللہ تعالیٰ نے دو مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ جن کا مقصد یہ ہے کہ اگر مخلوقات ہی کی مثال لینی ہے تو ان دو مثالوں سے ظاہر ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
آیت نمبر 74
اس کے بعد اللہ ان لوگوں کے سامنے دو مثالیں پیش کرتا ہے ، ایک شخص مالک رازق ہے اور دوسرا شخص مملوک غلام اور عاجز ہے۔ کسی چیز کا نہ مالک ہے اور نہ کسب کمائی پر قادر ہے۔ یہ مثال اس لیے دی جارہی ہے کہ جس عظیم حقیقت کو وہ بھول چکے ہیں وہ ان کے فہم کے قریب تر ہوجائے۔ یہ حقیقت ہے کہ اللہ کی کوئی مثال نہیں ، اور یہ کہ اللہ کے ساتھ اس کی الوہیت و حاکمیت اور بندگی میں اس کی مخلوق میں سے کسی چیز کو بھی شریک نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مخلوق سب اس کی غلام اور بندہ ہے۔
Read the full tafseer →1 مشرک کہتے تھے کہ مالک اللہ ہی ہے۔ یہ لوگ اس کی سرکار میں مختار ہیں۔ ہمارے کام ان ہی سے پڑتے ہیں۔ بڑی سرکار تک براہ راست رسائی نہیں ہوسکتی۔ سو یہ مثال غلط ہے جو بارگاہ احدیت پر چسپاں نہیں۔ اللہ ہر چیز آپ کرتا ہے خواہ بالواسطہ ہو یا بلاواسطہ۔ کوئی کام کسی کو اس طرح سپرد نہیں کر رکھا جیسے سلاطین دنیا اپنے ماتحت حکام کو اختیارات تفویض کردیتے ہیں کہ تفویض تو ارادہ و اختیار سے کیا لیکن بعد تفویض ان اختیارات کے استعمال میں ماتحت آزاد ہیں۔ کسی مجسٹریٹ کے فیصلہ کے وقت بادشاہ یا پارلیمنٹ کو اس واقعہ اور فیصلہ کی مطلق خبر نہیں ہوتی۔ نہ اس وقت جزئی طور پر بادشاہ کی مشیت و ارادہ کو فیصلہ صادر کرنے میں…
Read the full tafseer →آیت 74 فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ
قبل ازیں اسی سورت آیت 60 میں ہم پڑھ چکے ہیں : وَلِلّٰہِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰی ”اور اللہ کی مثال سب سے بلند ہے“ لیکن اس کا ترجمہ بالعموم یوں کیا جاتا ہے : ”اللہ کی صفت بہت بلند ہے“۔ یا ”اللہ کی شان بہت بلند ہے“۔ اس لیے کہ اللہ کے لیے کوئی مثال بیان نہیں کی جاسکتی۔ انسانی سطح پر بات سمجھنے اور سمجھانے کے لیے کچھ نہ کچھ تمثیلی الفاظ تو استعمال کرنے پڑتے ہیں ‘ مثلاً اللہ کا چہرہ اللہ کا ہاتھ اللہ کا تخت اللہ کی کرسی اللہ کا عرش وغیرہ ‘ لیکن ایسے الفاظ سے ہم نہ تو حقیقت کا اظہار کرسکتے ہیں اور نہ ہی اللہ کی صفات اور اس کے افعال کی حقیقت کو جان سکتے ہیں۔…
Read the full tafseer →73 زیادہ خداؤں کی ضرورت کا نظریہ :۔ چونکہ مشرکوں کا اللہ کی ذات کے متعلق تصور ہی غلط ہے اس لیے وہ اللہ کے متعلق جو مثال بھی چسپاں کرتے ہیں حقیقت کا اس سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ وہ اللہ کو بھی دنیا کے بادشاہوں یا راجوں، مہاراجوں کی طرح سمجھتے ہیں حالانکہ اللہ مخلوقات کی مشابہت سے پاک ہے اس لیے وہ اللہ کے متعلق ٹھیک مثال بیان کر ہی نہیں سکتے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح بادشاہوں کو اپنے وزیروں اور امیروں کی بات سننا پڑتی ہے۔ کیونکہ انھیں یہ خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں میرے خلاف نہ ہوجائیں اور بغاوت یا کوئی دوسرا فتنہ نہ کھڑا کردیں۔ اسی طرح انبیائ، اولیائ، بزرگ، اوتار اور ٹھاکر اور ہمارے یہ معبود…
Read the full tafseer →113۔ صحیح مثال اپنے متعلق وہی بیان کرسکتا، اور صحیح صفات اپنی وہی بتا سکتا ہے، تم جب اپنی نافہمی سے کوشش کروگے، ایسی ہی الٹی پلٹی باتیں کروگے۔ مشرکین کا ایک مایہ ناز استدلال اس وقت یہی تھا، اور اب بھی ہے کہ آخر دنیا کے بادشاہوں کی خدمت میں براہ راست عرض ومعروض کون کرسکتا ہے، درمیانی واسطوں کی، عرض بیگیوں کی، امیروں وزیروں کی ضرورت پڑتی ہی ہے۔ پھر جو سب سلاطین کا سلطان کا سلطان اور شہنشاہ اعظم ہے، اس سے براہ راست اور بلا واسطہ تعلق پیدا کرنا کیونکر ممکن ہے ؟ اور ہم جو ان مورتیوں کی اور ان ستاروں کی پرستش کرتے ہیں، تو وہ بھی اسی لئے کہ وہ رب الارباب کے خادم اور اس کے ہاں مقرب ہیں، استدلال کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
آیت نمبر 71 تا 76
ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ نے رزق میں بعض کو بعض پر فوقیت دی ہے تو تم میں مالدار اور غریب اور مالک ومملوک (دونوں قسم کے
لوگ) ہیں، یعنی جو مال وغیرہ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں اپنے اور اپنے غلاموں کے درمیان شرکت کرنے والے نہیں ہیں اس طریقہ پر کہ آقا و غلام اس میں برابر کے شریک ہوجائیں مطلب یہ ہے کہ ان کے غلاموں میں سے کوئی غلام ان کے مالوں میں شریک نہیں ہے تو پھر خدا کے غلاموں میں سے بعض کو اس کا کس طرح شریک ٹھہراتے ہیں ؟ تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کے منکر ہورہے ہیں اس طریقہ پر کہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں، اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہاری ہی جنس کی تم کو بیویاں عطا فرمائیں چناچہ…
Read the full tafseer →فلا تضربوا اللہ الامثال ان اللہ یعلم وانتم لا تعلمون پس تم اللہ کی مثالیں مت گھڑو۔ اللہ بلاشبہ (اشیاء کی حقیقت اور ضرب امثال کو) خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
ا اللہ کی مثال بیان کرنے کی ممانعت اس وجہ سے کی کہ ضرب المثل نام ہے ایک حال کو دوسرے حال سے تشبیہ دینے کا اور اللہ کی ذات وصفات کا کسی کو (کامل) علم نہیں ‘ نہ کوئی یہ جانتا ہے کہ کون کون سی صفات کا اطلاق اللہ پر ہونا درست ہے اور کن کن صفات کے ساتھ اللہ کا متصف ہونا محال ہے۔ ایسی حالت میں اللہ کو کسی چیز پر کیسے قیاس کیا جاسکتا ہے۔ غالب کو حاضر کے سانچے میں ڈھالنا کس طرح زیبا ہے۔ کوئی علت جامع اور وصف مشترک موجود نہیں ہے۔ اَللّٰہُ…
Read the full tafseer →(74) تو اب تم اس بطلان کے بعد اللہ تعالیٰ کے لیے لڑکا شریک اور نائب مت ٹھہراؤ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں کہ ان کے نہ کوئی لڑکا ہے اور نہ شریک اور اے گروہ کفار تم نہیں جانتے۔
Read the full tafseer →فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ : مشرک کہتے ہیں کہ جس طرح بادشاہوں کے وزیر اور درباری اس کی سلطنت میں دخیل ہوتے ہیں اور بادشاہ کو ان کی سننا پڑتی ہے، اسی طرح ہمارے یہ معبود، اوتار اور ٹھاکر بھی اللہ کی سرکار میں صاحب اختیار ہیں، اس واسطے ہم ان کو پوجتے ہیں، سو یہ مثال غلط ہے۔ بادشاہ تو سب کام خود نہیں کرسکتے مگر اللہ ہر چیز آپ کرتا ہے اور اس پر کسی کا رتی برابر بھی دباؤ نہیں ہے۔
وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ : یعنی یہ تمہاری بےعلمی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دنیا کے بادشاہوں پر قیاس کرتے ہو اور سمجھتے ہو کہ اللہ ان کی سفارش رد نہیں کرسکتا، کبھی چھت پر چڑھنے کے لیے سیڑھی کی ضرورت کی طرح اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
آیت نمبر 73 تا 74
قولہ تعالیٰ : ویعبدون من دون اللہ ما لا یملک لھم رزقا من السموت اس میں رزقا من السموت سے مراد بارش ہے۔ والارض اس سے مراد نباتات ہے۔ شیئا اخفش نے کہا ہے : یہ رزقا سے بدل ہے۔ اور فراء نے کہا ہے : اس پر رزق کو واقع کرنے کے سبب یہ منصوب ہے، یعنی یعبدون ما لا یملک أن یرزقھم شیئا (وہ عبادت کرتے ہیں ان معبودوں کی جو کچھ اختیار نہیں رکھتے کہ وہ انہیں کوئی شے عطا کریں) ۔ ولا یستطیعون یعنی وہ کسی شے پر قدرت نہیں رکھتے، مراد بت ہیں۔ فلا تضربوا اللہ الامثال یعنی تم اس کے ساتھ ان جمادات کو تشبیہ نہ دو ، کیونکہ وہ تو واحد اور یکتا ہے وہ قدرت رکھتا ہے اس کی کوئی مثل نہیں ہے۔ اس کا ذکر پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
1:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ’ ’ ویعبدون من دون اللہ ما لا یملک لہم رزقا من السموت والارض “۔ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ بت ہیں کہ جن کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کی جاتی تھی اور (یہ بت) نہیں مالک ہوتا اس شخص کے لئے جو اس کی عبادت کرتا ہے نہ نفع کا نہ نقصان کا نہ زندگی کا اور نہ دوبارہ اٹھنے کا۔ (آیت) ” فلا تضربوا للہ الامثال “ پس اللہ کی مثالیں بیان نہ کرو کیونکہ وہ ایک ہے اور بےنیاز ہے ” لم یلد، ولم یولد (3) ولم یکن لہ کفوا احد (4) “ (نہ کسی نے اس کو جنا اور نہ وہ جنم دیا گیا اور اس کا کوئی ہم سر نہیں۔
اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک…
Read the full tafseer →[فَلَا تَضْرِبُوْا : پس تم لوگ مت بیان کرو ] [ للّٰهِ : اللہ کے لئے ] [ الْاَمْثَالَ ۭ : مثالیں ] [ ان : بیشک ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [يَعْلَمُ : جانتا ہے ] [ وَانتم : اور تم لوگ ] [ لَا تَعْلَمُوْنَ : نہیں جانتے ]
نوٹ۔ 2: آیت۔ 74 میں ہے کہ اللہ کے لئے مثالیں مت بیان کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو دنیوی بادشاہوں پر مت قیاس کرو کہ جس طرح کوئی ان کے مصاحبوں اور درباری ملازمین کے توسط کے بغیر ان تک اپنی درخواست نہیں پہنچا سکتا، اسی طرح اللہ کے متعلق بھی تم یہ گمان کرنے لگو کہ وہ اپنے قصر شاہی میں ملائکہ اور اولیاء کے درمیان گھرا بیٹھا ہے اور کسی کا کوئی کام ان کے واسطوں کے بغیر نہیں ہوسکتا۔…
Read the full tafseer →(فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰہِ الْاَمْثَالَ ) اس کا مطلب بعض مفسرین نے یوں لکھا ہے کہ اللہ کے لیے مثالیں مت گھڑو اور اپنی طرف سے باتیں بنا کر قیاس دوڑا کر اللہ تعالیٰ کی شان میں ایسی مثالیں بیان نہ کرو جس سے اپنے شرکیہ اعمال پر دلیل لاؤ اور بعض حضرات نے اس کا یہ معنی بتایا ہے کہ کسی کو اللہ کا مثیل نہ بناؤ یعنی کسی کے لیے اللہ تعالیٰ کی صفات خاصہ تجویز نہ کرو اور کسی کو معبود نہ بناؤ اس معنی کے اعتبار سے مذکورہ بالا جملہ (فَلاَ تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا) کے ہم معنی ہوگا۔
(اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ) (بلاشبہ اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے) یہ تمہاری جہالت ہے کہ خالق کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–83
رجور بسوئے دلائل توحید بتذکیر انعامات خداوند حمید
قال اللہ تعالیٰ : واللہ انزل من السماء .... الیٰ .... واکثرھم ھم الکفرون۔
(ربط) اوپر سے بہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کا ذکر چلا آرہا ہے اور پھر اسی طرح سے یہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کو بیان فرماتے ہیں اور یہ دلائل معاد بھی ہیں اور دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل ہدایت بھی ہیں اور دلائل رحمت بھی ہیں۔ دور تک اسی طرح سلسلہ کلام چلا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کے انعامات کو ذکر فرمایا جو علاوہ نعمت ہونے کے اس کے کمال علم اور کمال قدرت اور حکمت کے دلائل بھی ہیں۔
(1) چناچہ واللہ انزل من السماء ماء سے اپنی قدرت کا بیان شروع فرمایا کہ آسمان سے…
Read the full tafseer →85:۔ یہ ” و یجعلون للہ البنات “ سے متعلق ہے۔ مشرکین کہتے تھے کہ فرشتے بیٹیوں کی مانند اللہ کو پیارے ہیں اور وہ ان کی کوئی بات رد نہیں کرتا اس لیے ہم فرشتوں کو خدا کے یہاں سفارشی سمجھتے ہیں نیز مشرکین کہتے تھے اصل میں مالک و مختار اور متصرف علی الاطلاق تو واقعی اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن اللہ کے برگزیدہ اور نیک بندے اللہ کی سرکار میں مختار بالاذن ہیں اس لیے ہم ان کو خدا کے یہاں سفارشی سمجھ کر پوجتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کے لیے ایسی مثالیں نہ بیان کرو جن سے شرک کی راہ نکلتی ہو یا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے لیے شریک اور مثیل نہ بناؤ یعنی اپنے معبودانِ باطلہ کو خدا کا شریک مت ٹھہراؤ۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
(ربط آیات)
اللہ نے اپنی قدرت کی وہ نشانیاں بیان کیں جو اس نے انسان کے اندر اور بیرونی دنیا میں پیدا فرمائی ہیں پھر اسی مضمون کو شرک کی تردید میں بطور دلیل پیش کیا ، گذشتہ آیات میں بھی اللہ نے اپنے انعامات کا تذکرہ کیا تھا اور آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں ، اللہ نے مشرکین کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ اس کے انعامات کی ناقدری کرتے ہیں حالانکہ ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہئے تھا ، انسان کو چاہئے کہ وہ اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے ۔
(رزق میں تفاوت)
اب اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ احسان بھی یاد دلایا ہے (آیت) ” واللہ فضل بعضکم علی بعض فی…
Read the full tafseer →فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ 74
ضَرْبُ المَثلِ
هو من ضَرْبِ الدّراهمِ ، وهو ذکر شيء أثره يظهر في غيره . قال تعالی: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] ، وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] ، ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ
[ الروم/ 28] ، وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] ،
ضرب اللبن الدراھم سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں کسی بات کو اس طرح بیان کرنے کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] خدا ایک مثال بیان فرماتا ہے ۔ وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] اور ان سے قصہ بیان…
Read the full tafseer →ترکیب : عبدًا موصوف مملوکًا صفت اول لایقدر صفت ثانی پھر یہ بدل ہے مثلاً سے ومن معطوف ہے عبدًا پر یہ بھی مجموعہ میں شامل ہو کر مثل سے بدل ہوگا سرًا و جہرًا حال ہے ضمیر ینفق سے اور اسی طرح رجلین مثلاً سے بدل ہے پھر احدھما سے رجلین کا بیان ہے۔
تفسیر : مشرکین رد شرک کے یہ دلائل سن کر جواب میں یہ مثالیں بیان کیا کرتے تھے کہ دنیا میں کوئی شخص بادشاہوں سے ان کے وزیروں اہلکاروں کے ذریعہ بغیر عرض حال نہیں کرسکتا اور نیز جس طرح بادشاہوں نے اپنے تمام کارخانوں کے مختار کر رکھے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ نے بھی ان کے جواب میں فرمایا ہے فلاتضربو الخ کہ یہ مثالیں نہ بناؤ خدا کا معاملہ بندوں کا سا نہیں ان اللہ…
Read the full tafseer →فَلاَ تَضْرِبُوْا لِلّٰہِ الْاَمْثَالَ ط اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 74)
(پس (اے مشرکو ! ) اللہ تعالیٰ کے لیے مثالیں بیان نہ کرو، بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ )
صفاتِ الٰہی کے باب میں تمثیل سے احتراز کی ہدایت
ضرب المثل کا معنی ہے، ایک حال کو دوسرے حال سے تشبیہ دینا۔ اس آیت کریمہ میں شرک کا ایک بہت بڑا دروازہ بند کیا جارہا ہے۔ انسانوں نے جن راستوں سے شرک کے حوالے سے ٹھوکر کھائی ہے اور توحید کو نقصان پہنچایا ہے، ان میں ایک تشبیہ کا راستہ ہے۔ مثلاً کتنی مشرک قومیں ہیں جنھوں نے دنیوی بادشاہوں پر قیاس کرکے اللہ تعالیٰ کے لیے ان جیسی صفات تجویز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
معبودان باطل کی مثالیں خالق حقیقی کے ساتھ بیان کی بجائے ان کا اپنے ساتھ موازنہ کرو اور اپنے ضمیر کے آئینہ میں دیکھو اور سوچو تاکہ تمہارے سامنے حقیقت منکشف ہوجائے کہ شرک کا عقیدہ کس قدر بےبنیاد اور بےانصافی پر مبنی ہے۔
مشرکین کی پرانی عادت ہے کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت سمجھائی جائے۔ تو مشرک اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرتوں کا اعتراف کرنے کے بجائے اپنے معبودان باطل کے حق میں دلائل دیتے اور ان کو اللہ تعالیٰ کے مشابہ قرار دیتے ہیں۔ بالخصوص جو لوگ مدفون بزرگوں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں۔ ان کا عقیدہ اور دلائل یہ ہیں کہ جس…
Read the full tafseer →اللہ بےمثل ہے :
74: فَلاَ تَضْرِبُوْا لِلّٰہِ الْاَمْثَالَ (پس تم نہ بیان کرو اللہ تعالیٰ کیلئے مثالیں) نہ بنائو اللہ تعالیٰ کیلئے مثال اس لئے کہ اس کا کوئی مثل نہیں۔ یعنی اس کا کسی کو شریک نہ بنائو۔ اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ (بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے) مخلوق میں اس کا کوئی مثل نہیں۔ وَاَنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ (اور تم نہیں جانتے) اس بات کو۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ مثال بیان کرنا جانتے ہیں اور تم اس کو نہیں جانتے۔ مگر تفسیر اول اولیٰ ہے پھر مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا۔
Read the full tafseer →تفسیر (74)” فلا تضربو اللہ الامثال “ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم جو اللہ کی مثالیں بیان کرتے ہو اور اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو وہ اکیلا ہے اس کا کوئی مثل نہیں۔ ” ان اللہ یعلم وانتم لا تعلمون “ جو تم اللہ کے متعلق مثالیں بیان کرتے ہو وہ تمہاری غلطی ہے۔ پھر اللہ نے مومن اور کافر کی مثال بیان کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
73۔ 74۔ اوپر وحدانیت الٰہی کا ذکر فرما کر اب مشرکوں کو یوں قائل کیا کہ تم لوگ جو سوا اللہ کے غیروں کی عبادت کرتے ہو جن میں اتنی بھی قدرت نہیں کہ تمہارے رزق کا کچھ انتظام کریں نہ آسمان میں ان کا اختیار کہ وہاں سے مینہ برسا سکیں نہ زمین میں ان کا کچھ تصرف ہے کہ اس میں غلہ پیدا کریں اور درخت اگائیں۔ عالم بالا اور عالم پستی میں کہیں بھی ان کا ذرہ برابر عمل دخل نہیں بلکہ خود انہی میں کوئی قدرت نہیں دوسرے کے محتاج ہیں خدا کی مخلوق ہیں اس لئے یہ عبادت کے ہرگز سزاوار نہیں۔ اطاعت اور بندگی تو خدائے وحدہ لا شریک کو زیبا ہے جو کل شئے کا خالق اور رازق ہے پھر فرمایا کہ اللہ کی مخلوق کو اس کا شبیہ نہ قرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
آیت : (73-76)
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت اور ان کے ظلم کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے ہیں جن کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے شرک ٹھہرایا ہے اور ان باطل معبودوں کا حال یہ ہے کہ وہ ان کے لئے زمین و آسمان میں رزق کا اختیار نہیں رکھتے۔ وہ بارش برسا سکتے ہیں نہ رزق عطا کرسکتے ہیں اور نہ ہی زمین میں نباتات اگا سکتے ہیں ‘ وہ زمین و آسمان میں کسی ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں بلکہ اگر وہ چاہیں بھی تو کسی چیز کے مالک نہیں بن سکتے ‘ کیونکہ بسا اوقات کسی چیز کا غیر مالک بھی اس چیز پر ‘ جو نفع دے سکتی ہو ‘ قدرت اور اختیار رکھتا ہے۔۔۔۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
حفدۃ کی تشریح
قول باری ہے (وجعل لکم من ازواجکم نبی ن وحفدۃ۔ اور اسی نے ان بیویوں سے تمہیں بیٹے اور پوتے عطا کئے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حفدہ نوکروں اور مددگاروں کو کہتے ہیں۔ حسن کا قول ہے۔ ” من اعانک فقد حفدک “ (جس شخص نے تمہاری اعانت کی وہ تمہارا حفید یعنی مددگار بن گیا) مجاہد، قتادہ اور طائوس کا قول ہے کہ حفدہ نوکروں اور خدمت گاروں کو کہتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ، ابو الضحی، ابراہیم نخعی اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ دو بہنوں کو حفدہ کہتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق حفد کے اصل معنی اسراع فی العمل (کام میں تیزی دکھانے) کے ہیں، اسی سے دعائے قنوت میں یہ فقرہ ہے۔ والیک نسعی و تحفد، یعنی…
Read the full tafseer →148۔ اللہ پاک کیلئے مثالیں بیان کرنے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا " پس تم لوگ اللہ کیلئے مثالیں مت بیان کرو " کہ وہ نظیرومثال سے پاک ہے۔ (لیس کمثلہ شیء ج وھو السمیع البصیر) پس نہ تم اللہ کیلئے کوئی مثل بناؤ اور نہ تم اس کو اس کی مخلوق میں سے کسی کے ساتھ تشبیہہ دو کہ اس کی کوئی نظیر و مثال سرے سے ہے ہی نہیں۔ اور وہ اس طرح کے تمام تصورات سے پاک اور اعلی وبالا ہے۔ سو اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ کیلئے اپنی طرف سے مثالیں بیان کرنے سے صاف اور صریح طور پر منع فرما دیا گیا۔ اور طرح طرح کے شرکیات کے ایک بڑے دروازے کو ہمیشہ کیلئے بند فرما دیا گیا۔ کیونکہ انسان اپنی عقل وفکر سے جو بھی کوئی مثال بیان کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–76
اللہ کی طرف سے مزید نعمتیں اور اللہ کی دی گئی مثالیں
تشریح : ان آیات میں اللہ نے مزید نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اسی طرح تمہارے جوڑے بنائے، یعنی میاں بیوی تاکہ دنیا کی خوشیاں اور سکون حاصل کرسکو اور پھر اولاد در اولاد کی خوشیاں دیکھو اور دنیا کی تمام چیزیں تمہارے لیے مسخر کردیں پھر بھی بیوقوف لوگ بےجان لاچارا ور بےبس مخلوقات کی عبادت کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھو تو کہتے ہیں کہ بھئی جس طرح بادشاہ تک پہنچنے کے لیے درباریوں وزیروں کا سہارا لینا پڑتا ہے تو اسی طرح اللہ سے مانگنے کے لیے ان چیزوں کو وسیلہ بنانا پڑتا ہے کیونکہ اللہ تو بہت ہی بلند وبالا ہے۔ براہ راست اس تک کیسے پہنچا جاسکتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
(رکوع نمبر 10)
اسرارومعارف
اب اپنی تخلیق پر غور کرو تو توحید کے اثبات کی کتنی بڑی دلیل موجود ہے کہ اللہ کریم نے سب انسانوں کو مال و دولت میں بھی یکساں نہیں بنایا جیسے قد کاٹھ طاقت علم اور شعور میں سب ایک سے نہیں ایسے مالی اعتبار سے سب برابر نہیں بعض تو غلام اور خدم وحشم رکھتے ہیں اور اپنی پسند سے خرچ کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو ان کی وساطت سے روزی ملتی ہے بعض مزدور ، ملازم یا غلام ہوتے ہیں تو کیا کوئی صاحب ثروت انسان غلام کو برابر جانتا ہے یا کرسکتا ہے کہ اگر رزق بانٹ بھی دے تو بحیثیت غلام دیا تو وہ مالک نہ بن سکے گا مال تو مالک ہی کا رہا اور اگر آزاد کر کے دیا تو اگرچہ مال میں برابر ہوگیا ، مگر…
Read the full tafseer →ف 9 مشرک کہتے ہیں کہ جس طرح بادشاہوں کے وزیر اور درباری اس کی سلطنت میں دخیل ہوتے ہیں اور بادشاہ کو ان کی بات سننی پڑتی ہے اسی طرح ہمارے یہ معبود اوتار اور بیٹھا کر بھی اللہ کی سرکار میں صاحب اختیار ہیں اس واسطے ہم ان کو پوجتے ہیں۔ سو یہ مثال غلط ہے، بادشاہ تو سب کام خود نہیں کرسکتے مگر اللہ تعالیٰ ہر چیز آپ کرتا ہے اور اس پر کسی کارتی برابر بھی دبائو نہیں ہے (وحیدی، موضح)
Read the full tafseer →(16:74) فلا تضربوا للہ الامثال۔ اللہ کے لئے مثالیں مت گھڑو۔
ضرب المثل کا معنی ہے ایک حال کو دوسرے حال سے تشبیہ دینا۔ تشبیہ حال بحال یہاں منع کیا جا رہا ہے کہ اس کو کسی کے ساتھ تشبیہ نہ دی جاوے کیونکہ اس کی ذات فہم انسانی سے ماوراء ہے اور ہر اعتبار سے غیر محدود اور ہر حدود نہایت سے برتر ہے اس لئے اس کی مثال دی ہی نہیں جاسکتی اور نہ ہی اس کی کوئی شبیہ ہوسکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
لغات القرآن آیت نمبر 74 تا 76
لاتضربوا تم نہ مارو، تم نہ گھڑو۔ ضرب بیان کیا۔ عبد غلام۔ مملوک کسی کی ملکیت۔ لایقدر قدرت نہیں رکھتا۔ ینفق وہ خرچ کرتا ہے۔ سر چھپ کر۔ جھر کھل کر۔ ھل یستون کیا وہ دونوں برابر ہیں۔ رجلین دو آدمی۔ ابکم گونگا۔ لایقدر قدرت نہیں رکھتا، اختیار نہیں رکھتا۔ کل بوجھ۔ مولیٰ مالک، آقا۔ اینما جہاں بھی۔ یوجھہ اس کو بھیجا جاتا ہے۔ لایات نہیں لاتا۔ بخیر بھلائی سے۔ یامر حکم کرتا ہے۔ العدل انصاف
تشریح : آیت نمبر 74 تا 76
اس سے پہلی آیات میں فرمایا گیا تھا کہ اے لوگو ! تم ایک اللہ کو چھوڑ کر ان غیر اللہ کی عبادت و بندگی نہ کرو جو آسمان و زمین میں نہ تو کچھ پیدا کرتے ہیں نہ وہ رزق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
مشرکوں کو قائل کرنے کا ذکر
اس آیت میں مشرکوں کو یوں قائل کیا کہ تم لوگ جو سوا اللہ کے غیروں کی عبادت کرتے ہو، جن میں اتنی بھی قدرت نہیں کہ تمہارے رزق کا کچھ انتظام کریں۔ نہ آسمان میں ان کا اختیار کہ وہاں سے مینہ برسا سکیں نہ زمین میں ان کا کچھ تصرف ہے کہ اس میں غلہ پیدا کریں اور درخت لگائیں۔ عالم بالا اور عالم پستی میں کہیں بھی ان کا ذرہ برابرا عمل ودخل نہیں، بلکہ خود انہیں میں کوئی قدرت نہیں دوسرے کے محتاج ہیں۔ خدا کی مخلوق ہیں اس لئے یہ عبادت کے ہرگز سزوار نہیں۔ اطاعت اور بندگی تو خدائے وحدہ لاشریک کو زیبا ہے جو کل شئی کا خالق اور رازق ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کی مخلوق کو اس کا شبیہ نہ قرار…
Read the full tafseer →[42] مشرکین کا ایک مایہ ناز استدلال اس وقت یہی تھا اور اب بھی ہے کہ آخر دنیا کے بادشاہوں کی خدمت میں براہ راست عرض و معروض کون کرسکتا ہے ؟ درمیانی واسطوں کی ضرورت پڑتی ہی ہے پھر جو سب بادشاہوں کا شہنشاہ ہے اس سے براہ راست اور بلاواسطہ تعلق پیدا کرنا کیونکر ممکن ہے ؟ استدلال کی خرافات بالکل ظاہر ہے۔ دنیا کا بڑے سے بڑا بادشاہ بھی آخر انسان ہی ہوتا ہے، بشر ہی کے سے محدود و ناقص قویٰ رکھتا ہے۔ وہ تو اس بات پر مجبور ہے کہ دوسروں کی اعانت حاصل کرے۔ اس کے برخلاف کہاں رب العالمین جو ہر قید سے ماوراء اور ہر اعتبار سے غیر محدود ! اس بےنیاز ہستی کو محتاج ہستیوں پر کس طرح قیاس کیا جاسکتا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
(ف 1) مختلف انعام ذکر کرنے کے بعد نعمت توحید کی جانب توجہ دلائی ہے ، کہ یہ مشرک اللہ کی نعمتوں سے استفادہ کرتے ہیں ، مگر شکریہ ادا نہیں کرتے ، بلکہ ان نعمتوں کا انتساب اور الٹا دوسروں کی طرف کرتے ہیں ، اور کہتے ہیں فلان ولی نے ہمارے حال پر کرم کیا ہے ، اور ہمیں رزق کی نعمت سے نوازا ہے فلان فقیر نے ہماری مشکلوں کو آسان کردیا ہے ، فلان قطب اور شیخ نے ہماری سن لی ہے ، اور بیماریاں دور کردی ہیں ، یہ نہیں جانتے کہ یہ اللہ کی ناشکری ہے وہ سارے پیر فقیر خود اس کے در کے بھکاری ہیں ، انہیں جو کچھ ملتا ہے ، اس کے فیض سے ملتا ہے ، وہ تمہیں کیا دیں گے ، وہ بذات خود اسی کے محتاج ہیں ، نادار ، نادار کی کیا…
Read the full tafseer →74 ۔ سو تم لوگ اللہ تعالیٰ کے لئے مثالیں نہ گھڑا کر اور اللہ تعالیٰ کے لئے مثالیں نہ بیان کیا کرو بلا شبہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم صحیح مثال بیان کرنا نہیں جانتے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مشرک کہتے ہیں کہ مالک اللہ ہی ہے یہ لوگ اس کی سرکار میں مختار میں اس واسطے ان کو پوجیے سو یہ غلط مثال ہے اللہ ہر چیز آپ کرتا ہے کسی پر سپرد نہیں کر رکھا اور اگر صحیح مثال چاہوتو آگے دو مثالیں فرمائیں۔ 12
خلاصہ ! یہ کہ اس قسم کی مثالیں دنیوی بادشاہوں کے لئے تو زیب دیتی ہیں کہ اس کے مشیر اور نائب وغیرہ ہوتے ہیں لوگ ان سے کہتے ہیں وہ بادشاہ سے کہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ جو مالک الملک ہے وہ اس قسم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
ف 5۔ یعنی منجملہ دلائل قدرت وہ جو نعمت کے ایک بڑی نعت اور دلیل قدرت اللہ کی خود تمہارا وجود شخصی ونوعی ہے۔
Read the full tafseer →اللہ کے لئے مثالیں نہ گھڑو ‘ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے :
85۔ (آیت) ” فلا تضربوا للہ الامثال “۔ ” پس اللہ کے لئے مثالیں مت گھڑو “ ایک چھوٹا سا فقرہ ہے لیکن اس کے اندر اتنا مضمون قلم بند کردیا گیا ہے کہ اس کو کھول کر رکھا جائے تو ایک دفتر درکار ہے اس کو کہتے ہیں کو زے میں دریا بند کرنا ۔ انسان کی ساری درماندگی اس راہ میں یہ ہے کہ وہ اپنے معیار خیال سے اللہ کا تصور آراستہ کرنا چاہتا ہے اور اس کے لئے مثالیں تراشتا ہے حالانکہ اس کے سارے تصور اس کے سارے قیاسات ‘ اس کی ساری تمثیلیں ‘ اس کے لئے ٹھوکروں پر ٹھوکریں اور گمراہیوں پر گمراہیاں ہوتی جاتی ہیں وہ اپنی سوچی سمجھی تمثیلوں میں جتنا بڑھتا…
Read the full tafseer →The statement: فَلَا تَضْرِبُوا لِلَّـهِ الْأَمْثَالَ (So, do not coin similarities for Allah -74) clarifies an important aspect of the reality of things as they relate to Allah. If ignored, it becomes the breeding ground of all sorts of rejectionist doubts and scruples. The problem is that people would generally take Allah Ta’ ala the analogy of their own humankind and go on to declare the highest placed among them, a king and ruler, as similar to Allah Ta’ ala. Then, relying on this wrong assumption, they start seeing the Di-vine system on the analogy of the system of human monarchs. This…
Read the full tafseer →65.“So do not make up any similitude for Allah”: You should not compare Allah with others nor consider Him to be unapproachable like worldly kings and rulers, to whom none can have access without the mediation and intercession of their courtiers and servants. As Allah is not surrounded by angels, saints, favorites, etc. everyone can have direct access to Him without mediation by anyone.
Read the full tafseer →