An-Nahl 16:73

An-Nahl · from ayah 73

16:73

وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ شَیْـًٔا وَّلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ۟ۚوَيَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَمۡلِكُ لَهُمۡ رِزۡقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ شَيۡـئًا وَّلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ‌ۚ

اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جو ان کو آسمانوں اور زمین میں روزی دینے کا ذرا بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ کسی اور طرح کا مقدور رکھتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they worship besides Allah that which does not possess for them [the power of] provision from the heavens and the earth at all, and [in fact], they are unable.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 10 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:73

اور اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پوجتے ہیں جن کے ہاتھ میں نہ آسمانوں سے انہیں کچھ بھی رزق دینا ہے نہ زمین سے اور نہ یہ کام وہ کر ہی سکتے ہیں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جو ان کو آسمانوں اور زمین میں روزی دینے کا ذرا بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ کسی اور طرح کا مقدور رکھتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور وه اللہ تعالیٰ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین سے انہیں کچھ بھی تو روزی نہیں دے سکتے اور نہ کچھ قدرت رکھتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ اللہ کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو آسمانوں اور زمین میں سے کسی طرح کا رزق دینے کا نہ کوئی اختیار رکھتی ہیں نہ رکھ سکتی ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جو انہیں آسمان اور زمین سے کچھ بھی روزی دینے کا اختیار نہیں رکھتے نہ کچھ کرسکتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اللہ کے سوا ان (بتوں) کی پرستش کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین سے ان کے لئے کسی قدر رزق دینے کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ ہی کچھ قدرت رکھتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انھیں آسمانوں اور زمین سے کچھ بھی رزق دینے کے مالک ہیں اور نہ وہ طاقت رکھتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ کے سوا وہ جن چیزوں کو پوجتے ہیں وہ آسمانوں اور زمین سے انھیں رزق مہیا کرنے کا کچھ اختیار نہیں رکھتیں اور نہ ہی وہ یہ کام کرسکتی ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ کے سوا ان چیزوں کو پوجتے ہیں جو نہ ان کے ایمان کے لیے آسمان سے کسی رزق پر اختیار رکھتی ہیں، نہ زمین سے اور نہ وہ اس کی استطاعت ہی رکھتی ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور پوجا کرتے ہیں یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی (بےحقیقت) چیزوں کی جو نہ تو آسمانوں سے ان کے لئے کسی طرح کی روزی رسانی کا اختیار رکھتی ہیں، اور نہ ہی زمین سے، اور نہ ہی وہ اس کی کچھ سکت رکھتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو ان کو نہ آسمان سے رزق پہنچانے کا اختیار رکھتی ہیں اور نہ زمین ہی سے کسی چیز کا اور نہ ایسا کر ہی سکتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا ان کی جنہیں کچھ اختیار نہیں ان کے لیے کسی رزق کا نہ آسمانوں سے اور نہ زمین سے اور نہ وہ اس کی قدرت ہی رکھتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

سو ایسوں کو پوجتے ہیں جو ان کو آسمانوں اور زمین میں روزی دینے کا ذرا بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ ہی وہ کسی اور طرح قدرت رکھتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and worship instead of Allah, those helpless beings who have no control over providing them any sustenance from the heavens and the earth; do you worship those who have no power to do anything of this sort?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They worship, besides Allah, the objects that have no power to give them anything from the heavens and the earth, nor can they ever have such power.

— Muhammad Taqi Usmani

They worship, besides Allah, the objects that have no power to give them anything from the heavens and the earth, nor can they ever have such power.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they worship others besides Allah such as do not have power to grant them any provision from the heavens or the earth nor the ability to do so.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they worship beside Allah that which owneth no provision whatsoever for them from the heavens or the earth, nor have they (whom they worship) any power.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they worship besides Allah that which does not possess for them [the power of] provision from the heavens and the earth at all, and [in fact], they are unable.

— Saheeh International

Do they worship things other than God which neither provide them with any sustenance from the heavens and the earth nor have the ability to do so?

— Muhammad Sarwar

And they serve besides Allah that which does not control for them any sustenance at all from the heavens and the earth, nor have they any power.

— Muhammad Habib Shakir

And they worship, beside Allah, that which owneth them not any provision from the heavens and the earth, and they cannot

— Abdul Majid Daryabadi

And worship others than Allah,- such as have no power of providing them, for sustenance, with anything in heavens or earth, and cannot possibly have such power?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:73

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 73–74

توحید کی تاکید نعمتیں دینے والا، پیدا کرنے والا، روزی پہنچانے والا، صرف اللہ تعالیٰ اکیلا وحدہ لا شریک لہ ہے۔ اور یہ مشرکین اس کے ساتھ اوروں کو پوجتے ہیں جو نہ آسمان سے بارش برسا سکیں، نہ زمین سے کھیت اور درخت اگا سکیں۔ وہ اگر سب مل کر بھی چاہیں تو بھی نہ ایک بوند بارش برسانے پر قادر، نہ ایک پتے کے پیدا کرنے ان میں سکت پس تم اللہ کے لئے مثالیں نہ بیان کرو۔ اس کے شریک وسہیم اور اس جیسا دوسروں کو نہ سمجھو۔ اللہ عالم ہے اور وہ اپنے علم کی بنا پر اپنی توحید پر گواہی دیتا ہے۔ تم جاہل ہو، اپنی جہالت سے دوسروں کو اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 72–73

سورة النَّحْل 63 ”باطل کو مانتے ہیں“ ، یعنی یہ بےبنیاد اور بےحقیقت عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کی قسمتیں بنانا اور بگاڑنا، ان کی مرادیں بر لانا اور دعائیں سننا، انہیں اولاد دینا، ان کو روزگار دلوانا، ان کے مقدمے جتوانا، اور انہیں بیماریوں سے بچانا کچھ دیویوں اور دیوتاؤں اور جنوں اور اگلے پچھلے بزرگوں کے اختیار میں ہے۔ سورة النَّحْل 64 اگرچہ مشرکین مکہ اس بات سے انکار نہیں کرتے تھے کہ یہ ساری نعمتیں اللہ کی دی ہوئی ہیں، اور ان نعمتوں پر اللہ کا احسان ماننے سے بھی انہیں انکار نہ تھا، لیکن جو غلطی وہ کرتے تھے وہ یہ تھی کہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ وہ ان بہت سی ہستیوں کا شکریہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 72–73

خلاصہ تفسیر اور (منجملہ دلائل قدرت و وجوہ نعمت کے ایک بڑی نعمت اور دلیل قدرت اللہ تعالیٰ کی خود تمہارا وجود وبقاء شخصی ونوعی ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے تم ہی میں سے (یعنی تمہاری جنس اور نوع سے) تمہارے لئے بیبیاں بنائیں اور (پھر) ان بیبیوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کئے (کہ یہ بقاء نوعی ہے) اور تم کو اچھی اچھی چیزیں کھانے (پینے) کو دیں (کہ یہ بقاء شخصی ہے اور چونکہ بقاء موقوف ہے وجود پر اس میں اس کی طرف بھی اشارہ ہوگیا) کیا (یہ سب دلائل ونعم سنکر) پھر بھی بےبنیاد چیز پر (یعنی بتوں وغیرہ پر جن کے معبود ہونے کی کوئی دلیل نہیں بلکہ خلاف دلیل ہے) ایمان رکھیں گے اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ شَـيْـــًٔـا وَّلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ۔ یہ اس ایمان بالباطل اور ناشکری کی تفصیل ہے کہ وہ اللہ کے سوا ان چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ آسمان سے ان کے لیے کوئی رزق اتارنے پر اختیار رکھتی ہیں نہ زمین سے کوئی چیز برآمد کرنے پر۔ اور صرف یہی نہیں کہ بالفعل ان کو اختیار حاصل نہیں بلکہ اگر وہ چاہیں بھی اور اس کے لیے اپنا پورا زور بھی صرف کرڈالیں جب بھی ان کو اس کا اختیار حاصل نہیں ہوسکتا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

73۔ 1 یعنی اللہ کو چھوڑ کر عبادت بھی ایسے لوگوں کی کرتے ہیں جن کے پاس کسی چیز کا اختیار نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 71–73

30: مطلب یہ ہے کہ تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں کرتا کہ اپنے غلام کو اپنی دولت اس طرح دیدے کہ وہ دولت میں اس کے برابر ہوجائے۔ اب تم خود مانتے ہو کہ جن دیوتاؤں کو تم نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک یعنی غلام ہیں۔ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ نے انہیں اپنی خدائی اس طرح دے دی ہو کہ انہیں اللہ کے برابر معبود بننے کا حق حاصل ہوگیا ہو۔ 31: یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کر کے یہ دعوی کرتے ہیں کہ فلاں نعمت اللہ نے نہیں، بلکہ ان کے گھڑے ہوئے دیوتاؤں نے دی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 70–73

اب روئے سخن جانوروں ، درختوں ، پھلوں ، شہد کی مکھیوں ، شہد کے انعامات کے مقابلے میں نفس انسانی کے قریب تر ، انسانی شخصیت کی گہرائیوں کے ساتھ تعلق رکھنے والے موضوع کی طرف مڑ جاتا ہے۔ انسانی زندگی کے مختلف مراحل ، انسان کی عمر ، اس کا رزق ، اس کا جوڑا ، بچے اور پوتے وغیرہ جو انسانی دلچسپی کے مخصوص ترین موضوعات ہیں۔ انسان ایسی باتوں سے بہت ہی متاثر ہوتا ہے کیونکہ یہ اس کی سرگرمیوں اور دلچسپیوں کے میدان ہیں۔ آیت نمبر 70 تا 73 ان حساس موضوعات میں سے پہلا موضوع انسانی زندگی ، انسانی موت اور زندگی کے مراحل کے بارے میں ہے اور یہ تمام انسانوں کی دلچسپی کا محبوب موضوع ہے۔ انسانی زندگی پر غور کرنے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی نہ آسمان سے مینہ برسانے کا خدائی اختیار رکھتے ہیں نہ زمین سے غلہ اگانے کا۔ پھر قادر مطلق کے شریک معبودیت میں کس طرح بن گئے ؟12 یعنی نہ فی الحال اختیار ہے نہ آئندہ حاصل کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 73 وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ شَـيْـــًٔـا وَّلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ مشرکین عرب ایام جاہلیت میں جو تلبیہ پڑھتے تھے اس میں توحید کے اقرار کے ساتھ ساتھ شرک کا اثبات بھی موجود تھا۔ ان کا تلبیہ یہ تھا : لبّیک اللّٰھُم لبّیک ‘ لبّیک لَا شَرِیْکَ لَک لبّیک ‘ اِلَّا شَرِیْکًا تَملِکُہُ وَمَا مَلَک یعنی میں حاضر ہوں اے اللہ ! میں حاضر ہوں۔ میں حاضر ہوں ‘ تیرا کوئی شریک نہیں ہے ‘ میں حاضر ہوں۔ سوائے اس شریک کے کہ اس کا اور جو کچھ اس کا اختیار ہے سب کا مالک تو ہی ہے۔ یعنی بالآخر اختیار تیرا ہی ہے اور تیرا کوئی شریک تجھ سے آزاد ہو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

72 ان کے معبود نہ تو بارش برسانے پر قادر ہیں نہ زمین سے غلے اور پھلدار درخت پیدا کرنے پر، نہ ہی وہ یہ بتاسکتے ہیں کہ زمین میں کون کون سے خزانے موجود ہیں اور وہ کون کون سے مقامات پر موجود ہیں، نہ وہ ان باتوں پر آج قدرت رکھتے ہیں اور نہ آئندہ کبھی قادر ہوسکیں گے یعنی تمہاری زندگی اور تمہاری نوع کی بقا کے اسباب تو صرف اللہ مہیا کرے اور اس کی بندگی میں تم اوروں کو بھی شریک بنا لو۔ یہ کس قدر ناانصافی کی بات ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

112۔ یعنی نہ صرف یہ کہ بالفعل اختیار نہیں رکھتے، بلکہ سرے سے اس کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے، اگر چاہیں جب بھی یہ اختیار نہیں حاصل کرسکتے۔ (آیت) ” رزقا من السموت “۔ آسمان سے رزق مثلا بارش۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 71–76

آیت نمبر 71 تا 76 ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ نے رزق میں بعض کو بعض پر فوقیت دی ہے تو تم میں مالدار اور غریب اور مالک ومملوک (دونوں قسم کے لوگ) ہیں، یعنی جو مال وغیرہ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں اپنے اور اپنے غلاموں کے درمیان شرکت کرنے والے نہیں ہیں اس طریقہ پر کہ آقا و غلام اس میں برابر کے شریک ہوجائیں مطلب یہ ہے کہ ان کے غلاموں میں سے کوئی غلام ان کے مالوں میں شریک نہیں ہے تو پھر خدا کے غلاموں میں سے بعض کو اس کا کس طرح شریک ٹھہراتے ہیں ؟ تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کے منکر ہورہے ہیں اس طریقہ پر کہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں، اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہاری ہی جنس کی تم کو بیویاں عطا فرمائیں چناچہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویعبدون من دون اللہ ما لا یملک لھم رزقا من السموات والارض شیئا ولا یستطیعون اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے رہیں گے جو ان کو نہ آسمان میں سے رزق پہنچانے کا اختیار رکھتی ہیں اور نہ زمین میں سے اور نہ (کسی قسم کی) قدرت رکھتی ہیں۔ آسمان سے رزق یعنی بارش اور زمین سے رزق یعنی سبزی (غلہ ‘ پھل ‘ ترکاری وغیرہ) اخفش کے نزدیک شَیْءًا بدل ہے اور رِزْقًا مبدل منہ اور رزق سے مراد ہے : مرزوق (کھانے ‘ پینے ‘ پہننے کی چیز) یعنی وہ کسی چیز کے مالک نہیں ‘ نہ قلیل کے نہ کثیر کے ‘ ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں۔ فراء نے رِزْقًا کو مفعول مطلق کہا ہے اور شَیْءًا کو مفعول بہ۔ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ کا یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(73) یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان بتوں کی عبادت کرتے رہیں گے کہ جو نہ آسمان سے پانی برسانے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ زمین میں سے کسی پیداوار پر قادر ہیں اور نہ اختیار حاصل کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔۔ : ”مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ“ میں ہر بت، تھان، آستانہ، زندہ و مردہ بزرگ، غرض ہر چیز آگئی جسے وہ پوجتے اور پکارتے ہیں اور ان سب کے لیے ”مَا“ کا لفظ استعمال فرمایا جو عام طور پر ان چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن میں عقل نہیں۔ ”رِزْقًا“ میں تنوین تنکیر کے لیے ہے کہ جو کسی معمولی سے معمولی رزق کے مالک بھی نہیں۔ اسی طرح ”شَـيْـــًٔـا“ نکرہ ہے کہ کسی بھی رزق کی ملکیت میں ان کا کچھ بھی حصہ نہیں، یعنی ان مشرکوں کی جہالت دیکھو کہ ان معبودوں کو پوجتے اور پکارتے ہیں جو نہ تو آسمان و زمین میں سے کسی بھی طرح کے رزق کی کچھ بھی ملکیت رکھتے ہیں، نہ آسمان سے بارش برسانے کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 73–74

آیت نمبر 73 تا 74 قولہ تعالیٰ : ویعبدون من دون اللہ ما لا یملک لھم رزقا من السموت اس میں رزقا من السموت سے مراد بارش ہے۔ والارض اس سے مراد نباتات ہے۔ شیئا اخفش نے کہا ہے : یہ رزقا سے بدل ہے۔ اور فراء نے کہا ہے : اس پر رزق کو واقع کرنے کے سبب یہ منصوب ہے، یعنی یعبدون ما لا یملک أن یرزقھم شیئا (وہ عبادت کرتے ہیں ان معبودوں کی جو کچھ اختیار نہیں رکھتے کہ وہ انہیں کوئی شے عطا کریں) ۔ ولا یستطیعون یعنی وہ کسی شے پر قدرت نہیں رکھتے، مراد بت ہیں۔ فلا تضربوا اللہ الامثال یعنی تم اس کے ساتھ ان جمادات کو تشبیہ نہ دو ، کیونکہ وہ تو واحد اور یکتا ہے وہ قدرت رکھتا ہے اس کی کوئی مثل نہیں ہے۔ اس کا ذکر پہلے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 73–77

1:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ’ ’ ویعبدون من دون اللہ ما لا یملک لہم رزقا من السموت والارض “۔ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ بت ہیں کہ جن کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کی جاتی تھی اور (یہ بت) نہیں مالک ہوتا اس شخص کے لئے جو اس کی عبادت کرتا ہے نہ نفع کا نہ نقصان کا نہ زندگی کا اور نہ دوبارہ اٹھنے کا۔ (آیت) ” فلا تضربوا للہ الامثال “ پس اللہ کی مثالیں بیان نہ کرو کیونکہ وہ ایک ہے اور بےنیاز ہے ” لم یلد، ولم یولد (3) ولم یکن لہ کفوا احد (4) “ (نہ کسی نے اس کو جنا اور نہ وہ جنم دیا گیا اور اس کا کوئی ہم سر نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَيَعْبُدُوْنَ : اور وہ بندگی کرتے ہیں ] [ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے علاوہ ] [ مَا : اس کی جو ] [ لَا يَمْلِكُ : اختیار نہیں رکھتے ] [ لَهُمْ : ان کے لئے ] [ رِزْقًا : روزی دینے کا ] [ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں سے ] [ شَـيْـــًٔـا : کسی چیز کا ] [ وَّلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ : اور نہ وہ استطاعت رکھتے ہیں ] (آیت۔ 73) یَمْلِکُ کا مفعول رِزْقًا ہے۔ یہ مصدر ہے اور اس نے اپنے مفعول شَیْئًا کو نصب دی ہے۔ (دیکھیں آیت۔ 2:54، نوٹ۔ 1)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَمْلِکُ لَھُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْءًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ) (اور وہ لوگ اللہ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو آسمانوں میں سے اور زمین میں سے انہیں رزق دینے کا ذرا بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ انہیں قدرت ہے) اللہ تعالیٰ شانہ سب کو رزق دیتا ہے اور اللہ کے سوا کوئی بھی کسی کو رزق نہیں دیتا پھر یہ کیسی حماقت ہے کہ رزق دینے والے کے علاوہ ان چیزوں کی عبادت کریں جنہیں رزق دینے کا ذرا سا بھی اختیار نہیں اور وہ کچھ بھی طاقت اور قدرت نہیں رکھتے، اس کے عموم میں تمام معبودان باطلہ کی تردید ہوگئی جن کی عبادت کرنے کو سابقہ آیت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–83

رجور بسوئے دلائل توحید بتذکیر انعامات خداوند حمید قال اللہ تعالیٰ : واللہ انزل من السماء .... الیٰ .... واکثرھم ھم الکفرون۔ (ربط) اوپر سے بہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کا ذکر چلا آرہا ہے اور پھر اسی طرح سے یہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کو بیان فرماتے ہیں اور یہ دلائل معاد بھی ہیں اور دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل ہدایت بھی ہیں اور دلائل رحمت بھی ہیں۔ دور تک اسی طرح سلسلہ کلام چلا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کے انعامات کو ذکر فرمایا جو علاوہ نعمت ہونے کے اس کے کمال علم اور کمال قدرت اور حکمت کے دلائل بھی ہیں۔ (1) چناچہ واللہ انزل من السماء ماء سے اپنی قدرت کا بیان شروع فرمایا کہ آسمان سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

57:۔ یہ بطور زجر دلیل مذکور کا ثمرہ ہے۔ مذکورہ بالا بیان سے واضح ہوگیا کہ قادر مطلق، مالک الملک اور سب کا رازق اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا وہی سب کا کارساز ہے اور وہی مستحق عبادت و دعاء ہے۔ مگر یہ مشرکین اس قادر و محسن کے ساتھ عبادت اور پکار میں اس کے عاجز و بےبس بندوں کو شریک بناتے ہیں جو مذکورہ کاموں میں سے کچھ بھی نہیں کرسکتے، نہ آسمان سے بارش برسا سکتے ہیں نہ زمین سے روزی پیدا کرسکتے ہیں۔ ان کاموں میں سے کچھ بھی تو ان کے اختیار میں نہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 71–74

(ربط آیات) اللہ نے اپنی قدرت کی وہ نشانیاں بیان کیں جو اس نے انسان کے اندر اور بیرونی دنیا میں پیدا فرمائی ہیں پھر اسی مضمون کو شرک کی تردید میں بطور دلیل پیش کیا ، گذشتہ آیات میں بھی اللہ نے اپنے انعامات کا تذکرہ کیا تھا اور آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں ، اللہ نے مشرکین کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ اس کے انعامات کی ناقدری کرتے ہیں حالانکہ ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہئے تھا ، انسان کو چاہئے کہ وہ اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے ۔ (رزق میں تفاوت) اب اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ احسان بھی یاد دلایا ہے (آیت) ” واللہ فضل بعضکم علی بعض فی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ شَـيْـــًٔـا وَّلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ 73؀ۚ عبد العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 72–73

سوم واللہ جعل لکم من انفسکم الخ کہ اللہ نے تمہارے لیے بیویاں بنائیں اگر مرد کو عورت نہ ملے تو دنیا کا عیش تلخ ہوجائے اس میں کسی کی حکمت اور علم اور طبیعت کا کیا دخل ہے ؟ پھر عورتیں کیسی تمہاری جنس اور قبیلے کی جن کی مجانست سے تمہاری پوری موانست ہوتی ہے پھر اگر اولاد اور اہل قرابت کام آنے والے نہ ہوتے تو بھی مشکل پڑجاتی اس لیے بنین وحفدۃ 2 ؎ بیٹے اور پوتے اقارب بھی پیدا کئے اس پر رزقکم من الطبیٰت اچھی چیزیں کھانے کو دیں پھر اس پر بھی لوگ جھوٹے معبودوں پر ایمان لاتے اور اللہ کی نعمتوں کے منکر ہوتے ہیں کیونکہ ان نعمتوں کو اوروں کی طرف نسبت کرتے ہیں اور اللہ کو چھوڑ اوروں کی عبادت کرتے ہیں جن کو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالاَ یَمْلِکُ لَھُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ شَیْئًا وَّلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 73) (اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا ان معبودوں کی بندگی کرتے ہیں جو انھیں آسمانوں اور زمین سے رزق دینے کا کچھ اختیار نہیں رکھتے اور نہ وہ کچھ کرسکتے ہیں۔ ) ایمان بالباطل کی تفصیل یہ ایمان بالباطل اور ناشکری کی تفصیل ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا ان قوتوں کی پرستش کرتے ہیں جو زمین و آسمان میں کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے۔ نہ انسانوں کے پیدا کرنے میں انھیں کوئی دخل ہے اور نہ رزق دینے میں۔ نہ آسمان سے کسی چیز کے اتارنے پر قادر ہیں اور نہ زمین سے کسی چیز…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 72–73

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کے بلا شرکت غیرے خالق ہونے کی پانچویں دلیل : مشرک کے ضمیر کو جھنجھوڑنے اور رزق میں تفادت بیان کے بعداب ان کے نفوس کے حوالے سے عقیدۂ توحید سمجھایا جا رہا ہے۔ اللہ وہ خالق ہے جس نے مردوں میں سے ہی ان کی بیویوں کو پیدا فرمایا اور پھر ان کی بیویوں سے بیٹے اور پوتوں کا سلسلہ جاری کیا۔ وہی تمہیں پاک چیزوں سے روزی دیتا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ باطل معبودوں پر ایمان لاتے ہیں۔ حقیقت میں مشرک اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اس آیت مبارکہ میں دو باتیں بیان فرمائی گئی ہیں۔ 1۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں سے ان کی بیویوں کو پیدا فرمایا جسے قرآن مجید نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

73: وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالَا یَمْلِکُ لَھُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ شَیْئًا (اور وہ عبادت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی جو ان کو نہ آسمانوں سے اور نہ زمین میں سے ذرہ بھررزق پہنچانے کی طاقت و اختیار رکھتے ہیں) یعنی بت وہ جماد ہیں۔ وہ ذرہ بھر رزق کے مالک نہیں۔ الرزقؔ مصدری معنی اور ما یرزق ( جو چیز دی جائے) میں استعمال ہوتا ہے۔ نحو : اگر مصدری معنی ہو تو شیئًا منصوب ہے۔ ای لا یملک ان یرزق شیئًا وہ مالک نہیں کہ وہ رزق دیں ذرہ بھر۔ نمبر 2۔ اور اگر مرزوق مراد ہو تو شیئا بدل ہے۔ ای ورزقا قلیلا کہ وہ معمولی سا رزق بھی دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ نمبر 1۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(73)” ویعبدون من دون اللہ مالا یملک رزقاً من السمواً “ آسمان سے رزق کا مطلب ہے بارش کا برسنا۔ ” والارض “ نباتات کا اگتنا ” شیئاً “ اخفش کا قول ہے کہ یہ رزق سے بدل ہے۔ اس کا معنی یہ ہوگا کہ رزق میں کسی چیز کے مالک نہیں، نہ ہی تھوڑے رزق کے مالک ہیں اور نہ ہی زیادہ رزق کے۔ فراء کا قول ہے کہ ” رزقاً “ مفعول مطلق اور ” شیئاً “ مفعول بہ ہے۔ عبادت یہ ہوگی ” الا یرزق شیئاً “ کہ ایک ذرہ برابر بھی یہ رزق نہیں دے سکتے۔ ” ولا یسطعیون ‘ ‘ اور یہ کسی چیز پر قادر نہیں کیونکہ یہ بت عاجز ہیں نفع اور نقصان دینے سے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 73–74

73۔ 74۔ اوپر وحدانیت الٰہی کا ذکر فرما کر اب مشرکوں کو یوں قائل کیا کہ تم لوگ جو سوا اللہ کے غیروں کی عبادت کرتے ہو جن میں اتنی بھی قدرت نہیں کہ تمہارے رزق کا کچھ انتظام کریں نہ آسمان میں ان کا اختیار کہ وہاں سے مینہ برسا سکیں نہ زمین میں ان کا کچھ تصرف ہے کہ اس میں غلہ پیدا کریں اور درخت اگائیں۔ عالم بالا اور عالم پستی میں کہیں بھی ان کا ذرہ برابر عمل دخل نہیں بلکہ خود انہی میں کوئی قدرت نہیں دوسرے کے محتاج ہیں خدا کی مخلوق ہیں اس لئے یہ عبادت کے ہرگز سزاوار نہیں۔ اطاعت اور بندگی تو خدائے وحدہ لا شریک کو زیبا ہے جو کل شئے کا خالق اور رازق ہے پھر فرمایا کہ اللہ کی مخلوق کو اس کا شبیہ نہ قرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 73–75

آیت : (73-76) اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت اور ان کے ظلم کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے ہیں جن کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے شرک ٹھہرایا ہے اور ان باطل معبودوں کا حال یہ ہے کہ وہ ان کے لئے زمین و آسمان میں رزق کا اختیار نہیں رکھتے۔ وہ بارش برسا سکتے ہیں نہ رزق عطا کرسکتے ہیں اور نہ ہی زمین میں نباتات اگا سکتے ہیں ‘ وہ زمین و آسمان میں کسی ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں بلکہ اگر وہ چاہیں بھی تو کسی چیز کے مالک نہیں بن سکتے ‘ کیونکہ بسا اوقات کسی چیز کا غیر مالک بھی اس چیز پر ‘ جو نفع دے سکتی ہو ‘ قدرت اور اختیار رکھتا ہے۔۔۔۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 72–74

حفدۃ کی تشریح قول باری ہے (وجعل لکم من ازواجکم نبی ن وحفدۃ۔ اور اسی نے ان بیویوں سے تمہیں بیٹے اور پوتے عطا کئے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حفدہ نوکروں اور مددگاروں کو کہتے ہیں۔ حسن کا قول ہے۔ ” من اعانک فقد حفدک “ (جس شخص نے تمہاری اعانت کی وہ تمہارا حفید یعنی مددگار بن گیا) مجاہد، قتادہ اور طائوس کا قول ہے کہ حفدہ نوکروں اور خدمت گاروں کو کہتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ، ابو الضحی، ابراہیم نخعی اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ دو بہنوں کو حفدہ کہتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق حفد کے اصل معنی اسراع فی العمل (کام میں تیزی دکھانے) کے ہیں، اسی سے دعائے قنوت میں یہ فقرہ ہے۔ والیک نسعی و تحفد، یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

146۔ مشرکوں کی حماقت کا ایک اور نمونہ ومظہر : کہ بخشا تو ان کو اور سب دنیا کو اللہ وحدہ لاشریک ہی نے ہے اور وہی وحدہ لاشریک ہے جو سب کو دیتا ہے اور سب کو بخشتا ہے۔ مگر یہ لوگ ہیں کہ اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کو جو وہاب مطلق ہے یہ اپنے خود ساختہ اور من گھڑت معبودوں کی پوجا کرتے ہیں۔ جو نہ آسمان سے کسی طرح کی روزی کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ زمین سے کوئی انگوری وغیرہ نکالنے کی۔ یعنی نہ تو وہ اس کا کوئی اختیار رکھتے ہیں کہ ان کے لئے آسمان سے بارش اتار سکیں جس سے زمین کو زندگی ملتی ہے۔ اور نہ ان میں اس کی کوئی ہمت اور سکت ہے کہ وہ بارش کے اتر جانے کے بعد زمین سے کوئی انگوری اور پیداوارنکال سکیں۔ تو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 72–76

اللہ کی طرف سے مزید نعمتیں اور اللہ کی دی گئی مثالیں تشریح : ان آیات میں اللہ نے مزید نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اسی طرح تمہارے جوڑے بنائے، یعنی میاں بیوی تاکہ دنیا کی خوشیاں اور سکون حاصل کرسکو اور پھر اولاد در اولاد کی خوشیاں دیکھو اور دنیا کی تمام چیزیں تمہارے لیے مسخر کردیں پھر بھی بیوقوف لوگ بےجان لاچارا ور بےبس مخلوقات کی عبادت کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھو تو کہتے ہیں کہ بھئی جس طرح بادشاہ تک پہنچنے کے لیے درباریوں وزیروں کا سہارا لینا پڑتا ہے تو اسی طرح اللہ سے مانگنے کے لیے ان چیزوں کو وسیلہ بنانا پڑتا ہے کیونکہ اللہ تو بہت ہی بلند وبالا ہے۔ براہ راست اس تک کیسے پہنچا جاسکتا ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 71–76

(رکوع نمبر 10) اسرارومعارف اب اپنی تخلیق پر غور کرو تو توحید کے اثبات کی کتنی بڑی دلیل موجود ہے کہ اللہ کریم نے سب انسانوں کو مال و دولت میں بھی یکساں نہیں بنایا جیسے قد کاٹھ طاقت علم اور شعور میں سب ایک سے نہیں ایسے مالی اعتبار سے سب برابر نہیں بعض تو غلام اور خدم وحشم رکھتے ہیں اور اپنی پسند سے خرچ کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو ان کی وساطت سے روزی ملتی ہے بعض مزدور ، ملازم یا غلام ہوتے ہیں تو کیا کوئی صاحب ثروت انسان غلام کو برابر جانتا ہے یا کرسکتا ہے کہ اگر رزق بانٹ بھی دے تو بحیثیت غلام دیا تو وہ مالک نہ بن سکے گا مال تو مالک ہی کا رہا اور اگر آزاد کر کے دیا تو اگرچہ مال میں برابر ہوگیا ، مگر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی نہ وہ آسمان سے پانی برسا سکتے ہیں اور نہ زمین سے کوئی چیز اگا سکتے ہیں اور نہ جو چیز اگے اسے باقی رکھ سکتے ہیں۔ 8 یا نہ وہ ایسا اختیار حاصل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے محبور محض ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:73) لا یستطیعون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ استطاعۃ (استفعال) وہ طاقت نہیں رکھتے ۔ وہ استطاعت نہیں رکھتے ۔ وہ استطاعت نہیں رکھتے ۔ وہ قدرت نہیں رکھتے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 71–73

لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 73 فضل بڑائی دی۔ فضلوا بڑھائے گئے۔ رادی لوٹانے والے۔ ملکت ایمان داہنے کی ملکیت، غلام۔ سواء برابر۔ یجحدون وہ انکار کرتے ہیں۔ ازواج جوڑے، بیویاں۔ بنین بیٹے۔ حفدۃ پوتے۔ لایستطیعون وہ قدرت طاقت نہیں رکھتے۔ تشریح : آیت نمبر 71 تا 73 اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت کاملہ اور اپنی ان نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جو اس نے انسانوں کے فائدہ کیلئے عطا فرمائی ہیں۔ ان آیات میں چند اور نعمتوں کا بھی ذکر کر کے توحید کا اثبات اور باطل کے بےحقیقت ہونے کا اظہار فرمایا ہے۔ فرمایا کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے کہ اس نے اپنی حکمت اور قدرت کا ملہ سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 73–74

مشرکوں کو قائل کرنے کا ذکر اس آیت میں مشرکوں کو یوں قائل کیا کہ تم لوگ جو سوا اللہ کے غیروں کی عبادت کرتے ہو، جن میں اتنی بھی قدرت نہیں کہ تمہارے رزق کا کچھ انتظام کریں۔ نہ آسمان میں ان کا اختیار کہ وہاں سے مینہ برسا سکیں نہ زمین میں ان کا کچھ تصرف ہے کہ اس میں غلہ پیدا کریں اور درخت لگائیں۔ عالم بالا اور عالم پستی میں کہیں بھی ان کا ذرہ برابرا عمل ودخل نہیں، بلکہ خود انہیں میں کوئی قدرت نہیں دوسرے کے محتاج ہیں۔ خدا کی مخلوق ہیں اس لئے یہ عبادت کے ہرگز سزوار نہیں۔ اطاعت اور بندگی تو خدائے وحدہ لاشریک کو زیبا ہے جو کل شئی کا خالق اور رازق ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کی مخلوق کو اس کا شبیہ نہ قرار…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 73–74

(ف 1) مختلف انعام ذکر کرنے کے بعد نعمت توحید کی جانب توجہ دلائی ہے ، کہ یہ مشرک اللہ کی نعمتوں سے استفادہ کرتے ہیں ، مگر شکریہ ادا نہیں کرتے ، بلکہ ان نعمتوں کا انتساب اور الٹا دوسروں کی طرف کرتے ہیں ، اور کہتے ہیں فلان ولی نے ہمارے حال پر کرم کیا ہے ، اور ہمیں رزق کی نعمت سے نوازا ہے فلان فقیر نے ہماری مشکلوں کو آسان کردیا ہے ، فلان قطب اور شیخ نے ہماری سن لی ہے ، اور بیماریاں دور کردی ہیں ، یہ نہیں جانتے کہ یہ اللہ کی ناشکری ہے وہ سارے پیر فقیر خود اس کے در کے بھکاری ہیں ، انہیں جو کچھ ملتا ہے ، اس کے فیض سے ملتا ہے ، وہ تمہیں کیا دیں گے ، وہ بذات خود اسی کے محتاج ہیں ، نادار ، نادار کی کیا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

73 ۔ اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان معبود ان باطلہ کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کو آسمانوں میں سے کچھ رزق دینے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ زمین سے اور نہ اختیار حاصل کرنے کی قدرت و طاقت رکھتے ہیں یعنی نہ ان کو کوئی اختیار ہے نہ آئندہ اختیار حاصل کرنے کی طاقت ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی نہ آسمان سے مینہ برسادیں نہ زمین سے اناج نکالیں ۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 72–74

ف 5۔ یعنی منجملہ دلائل قدرت وہ جو نعمت کے ایک بڑی نعت اور دلیل قدرت اللہ کی خود تمہارا وجود شخصی ونوعی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تفسیر : اللہ کے سوا ان ہستیوں کو پکارتے ہیں جو خود ہی محتاج رزق ہیں : 84۔ معبودوں سے مراد دو قسم کے معبود ہیں ایک وہ انسان اور شیاطین جن کی اپنی خواہش اور کوشش یہ تھی کہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان کی بندگی کریں دوسرے وہ جو قبروں میں دفن ہوئے اور جن کے بت تراشے گئے اور دوسرے شجر وحجر وغرگہ سب کے سب جن کی پرستش دنیا میں کی جاتی ہے ۔ ان میں سے پہلی قسم کے معبود تو اپنے جرم کے باعث مجرمین میں شامل ہوں گے اور انہیں سزا کے طور پر جہنم کا راستہ دکھایا جائے گا اور دوسری قسم کے معبود بھی اپنے پرستاروں کے ساتھ اس لئے جہنم میں ڈالے جائیں گے کہ وہ انہیں دیکھ کر ہر وقت شرمندگی محسوس کریں اور اپنی حماقتوں کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 72–73

Commentary In verse 72: جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا (Allah has created spouses from among you), a special blessing has been mentioned in that Allah Ta’ ala has created spouses from the same genus so that they remain mutually familiar and their distinction and nobility inherent in the human species also remains stable through generations. Given here, there may be another hint towards the fact that spouses belong to each other's genus and, as such, their needs and feelings are common to both, therefore, mutual consideration is but necessary for them. The next sentence of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 72–73

63.“Is then in falsehood that they believe”: they have this false and baseless belief that there are certain gods and goddesses, jinns and saints, dead and alive, who possess the power to make or mar their fates, fulfill their desires and answer their prayers, give them children, cure their diseases and help them win law suits. 64.“In the bounty of Allah that they disbelieve”: by associating others with Allah in offering gratitude to Him for His favors, though they did not have any proof or authority that their false gods had played any part in regard to those favors. The Quran considers such…

Read the full tafseer →