An-Nahl 16:72

An-Nahl · from ayah 72

16:72

وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَحَفَدَةً وَّرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ؕ— اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَ ۟ۙوَاللّٰهُ جَعَلَ لَـكُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ اَزۡوَاجًا وَّ جَعَلَ لَـكُمۡ مِّنۡ اَزۡوَاجِكُمۡ بَنِيۡنَ وَحَفَدَةً وَّرَزَقَكُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ‌ؕ اَفَبِالۡبَاطِلِ يُؤۡمِنُوۡنَ وَبِنِعۡمَتِ اللّٰهِ هُمۡ يَكۡفُرُوۡنَۙ‏

اور خدا ہی نے تم میں سے تمہارے لیے عورتیں پیدا کیں اور عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور کھانے کو تمہیں پاکیزہ چیزیں دیں۔ تو کیا بےاصل چیزوں پر اعتقاد رکھتے اور خدا کی نعمتوں سے انکار کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And Allah has made for you from yourselves mates and has made for you from your mates sons and grandchildren and has provided for you from the good things. Then in falsehood do they believe and in the favor of Allah they disbelieve?

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 10 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:72

اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے تمہاری ہم جنس بیویاں بنائیں اور اسی نے ان بیویوں سے تمہیں بیٹے پوتے عطا کیے اور اچھی اچھی چیزیں تمہیں کھانے کو دیں پھر کیا یہ لوگ (یہ سب کچھ دیکھتے اور جانتے ہوئے بھی) باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کے احسان کا انکار کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خدا ہی نے تم میں سے تمہارے لیے عورتیں پیدا کیں اور عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور کھانے کو تمہیں پاکیزہ چیزیں دیں۔ تو کیا بےاصل چیزوں پر اعتقاد رکھتے اور خدا کی نعمتوں سے انکار کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تم میں سے ہی تمہاری بیویاں پیدا کیں اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور تمہیں اچھی اچھی چیزیں کھانے کو دیں۔ کیا پھر بھی لوگ باطل پر ایمان ﻻئیں گے؟ اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کریں گے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اللہ نے تم ہی میں سے تمہارے لیے بیویاں بنائی ہیں، اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے بیٹے اور پوتے پیدا کیے ہیں، اور تمہیں اچھی اچھی چیزوں میں سے رزق فراہم کیا ہے۔ کیا پھر بھی یہ لوگ بےبنیاد باتوں پر ایمان لاتے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے عورتیں بنائیں اور تمہارے لیے تمہاری عورتوں سے بیٹے اور پوتے نواسے پیدا کیے اور تمہیں ستھری چیزوں سے روز ی دی تو کیا جھوٹی بات پر یقین لاتے ہیں اور اللہ کے فضل سے منکر ہوتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اللہ نے تم ہی میں سے تمہارے لئے جوڑے پیدا فرمائے اور تمہارے جوڑوں (یعنی بیویوں) سے تمہارے لئے بیٹے اور پوتے/ نواسے پیدا فرمائے اور تمہیں پاکیزہ رزق عطا فرمایا، تو کیا پھر بھی وہ (حق کو چھوڑ کر) باطل پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمت سے وہ ناشکری کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ نے تمہارے لیے خود تمھی میں سے بیویاں بنائیں اور تمہارے لیے تمہاری بیویوں سے بیٹے اور پوتے بنائے اور تمہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیاتو کیا وہ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا وہ انکار کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ نے تمہارے لئے تمہی میں سے بیو یاں بنائیں اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے بیٹے اور پوتے بنائے اور تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق عطا کیا۔ کیا پھر وہ باطل (معبودوں) پر یقین رکھتے اور اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائی اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور تمہیں پاکیزہ رزق عطا کیا تو کیا یہ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اللہ (کے کرم و احسان کے بارے میں مزید سنو کہ اس) نے پیدا فرمائیں تمہارے لئے بیویاں خود تمہاری ہی جنس میں سے، اور اسی (قادر مطلق) نے تمہاری بیویوں سے (تمہارے لئے) بیٹے بھی پیدا فرمائے اور پوتے بھی، اور اسی نے تمہیں کھانے (پینے) کے لئے (طرح طرح کی اور عمدہ سے عمدہ) پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں، تو کیا پھر بھی یہ لوگ باطل (اور بےحقیقت و بےبنیاد چیزوں) پر ایمان رکھتے ہیں، اور اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اللہ نے تمہی میں سے تمہارے لئے بیویاں بنائیں اور تمہارے لئے تمہاری بیویوں سے بیٹے اور پوتے پیدا کئے۔ اور تمہیں نفیس چیزیں کھانے کو دیں۔ تو کیا پھر بھی یہ لوگ باطل پر ایمان رکھیں گے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے رہیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اللہ نے تمہارے لیے تمہاری ہی نوع سے بیویاں بنائیں اور بنائے تمہارے لیے تمہاری بیویوں سے بیٹے اور پوتے اور رزق دیا تمہیں پاکیزہ چیزوں سے تو کیا یہ لوگ باطل پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا وہ انکار کرتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اللہ ہی نے تم میں سے تمہارے لیے عورتیں پیدا کیں، عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور کھانے کو تمہیں پاکیزہ چیزیں دیں۔ تو کیا جھوٹی باتیں مانتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں سے انکار کرتے ہیں ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

And Allah has given you spouses from your kind, and has granted you through your spouses, sons and grandsons, and has provided you wholesome things as sustenance. (After knowing all this), do they still believe in falsehood and deny Allah's bounty,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah has created spouses from among you and created sons and grandsons for you from your spouses, and gave you provision from good things. Is it, then, the falsehood that they believe in, and the blessing of Allah that they reject?

— Muhammad Taqi Usmani

Allah has created spouses from among you and created sons and grandsons for you from your spouses, and gave you provision from good things. Is it, then, the falsehood that they believe in, and the blessing of Allah that they reject?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And Allah has made for you mates of your own kind, and has made for you, from your mates, sons and grandsons, and has granted you good provisions. Do they then believe in false deities and deny favor of Allah

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Allah hath given you wives of your own kind, and hath given you, from your wives, sons and grandsons, and hath made provision of good things for you. Is it then in vanity that they believe and in the grace of Allah that they disbelieve?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And Allah has made for you from yourselves mates and has made for you from your mates sons and grandchildren and has provided for you from the good things. Then in falsehood do they believe and in the favor of Allah they disbelieve?

— Saheeh International

God has created spouses for you from your own selves. He has created your sons and grandsons from your spouses and has given you pure things for your sustenance. Do they then believe in falsehood and reject the bounties of God?

— Muhammad Sarwar

And Allah has made wives for you from among yourselves, and has given you sons and grandchildren from your wives, and has given you of the good things; is it then in the falsehood that they believe while it is in the favor of Allah that they disbelieve?

— Muhammad Habib Shakir

And Allah hath appointed for yourselves spouses, and from your spouses He hath appointed for you sons and grandsons, and He hath provided you with clean foods. In falsehood then believe they, and in Allah's favour disbelieve they?

— Abdul Majid Daryabadi

And Allah has made for you mates (and companions) of your own nature, and made for you, out of them, sons and daughters and grandchildren, and provided for you sustenance of the best: will they then believe in vain things, and be ungrateful for Allah's favours?-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:72

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

بندوں پر اللہ تعالیٰ کا احسان اپنے بندوں پر اپنا ایک اور احسان جتاتا ہے کہ انہی کی جنس سے انہی کی ہم شکل، ہم وضع عورتیں ہم نے ان کے لئے پیدا کیں۔ اگر جنس اور ہوتی تو دلی میل جول، محبت و موعدت قائم نہ رہتی لیکن اپنی رحمت سے اس نے مرد عورت ہم جنس بنائے۔ پھر اس جوڑے سے نسل بڑھائی، اولاد پھیلائی، لڑکے ہوئے، لڑکوں کے لڑکے ہوئے، حفدہ کے ایک معنی تو یہی پوتوں کے ہیں، دوسرے معنی خادم اور مددگار کے ہیں پس لڑکے اور پوتے بھی ایک طرح خدمت گزار ہوتے ہیں اور عرب میں یہی دستور بھی تھا۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں انسان کی بیوی کی سابقہ گھر کی اولاد اس کی نہیں ہوتی۔ حفدہ اس شخص کو بھی کہتے ہیں جو کسی کے سامنے اس کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 72–73

سورة النَّحْل 63 ”باطل کو مانتے ہیں“ ، یعنی یہ بےبنیاد اور بےحقیقت عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کی قسمتیں بنانا اور بگاڑنا، ان کی مرادیں بر لانا اور دعائیں سننا، انہیں اولاد دینا، ان کو روزگار دلوانا، ان کے مقدمے جتوانا، اور انہیں بیماریوں سے بچانا کچھ دیویوں اور دیوتاؤں اور جنوں اور اگلے پچھلے بزرگوں کے اختیار میں ہے۔ سورة النَّحْل 64 اگرچہ مشرکین مکہ اس بات سے انکار نہیں کرتے تھے کہ یہ ساری نعمتیں اللہ کی دی ہوئی ہیں، اور ان نعمتوں پر اللہ کا احسان ماننے سے بھی انہیں انکار نہ تھا، لیکن جو غلطی وہ کرتے تھے وہ یہ تھی کہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ وہ ان بہت سی ہستیوں کا شکریہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 72–73

خلاصہ تفسیر اور (منجملہ دلائل قدرت و وجوہ نعمت کے ایک بڑی نعمت اور دلیل قدرت اللہ تعالیٰ کی خود تمہارا وجود وبقاء شخصی ونوعی ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے تم ہی میں سے (یعنی تمہاری جنس اور نوع سے) تمہارے لئے بیبیاں بنائیں اور (پھر) ان بیبیوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کئے (کہ یہ بقاء نوعی ہے) اور تم کو اچھی اچھی چیزیں کھانے (پینے) کو دیں (کہ یہ بقاء شخصی ہے اور چونکہ بقاء موقوف ہے وجود پر اس میں اس کی طرف بھی اشارہ ہوگیا) کیا (یہ سب دلائل ونعم سنکر) پھر بھی بےبنیاد چیز پر (یعنی بتوں وغیرہ پر جن کے معبود ہونے کی کوئی دلیل نہیں بلکہ خلاف دلیل ہے) ایمان رکھیں گے اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِيْنَ وَحَفَدَةً وَّرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ ۭ اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ هُمْ يَكْفُرُوْنَ۔ بیوی بچوں کی نعمت خدا ہی سے ملی ہے : یعنی رزق و فضل کی طرح بیوی بچوں کی نعمت بھی تمہیں خدا ہی سے ملی ہے۔ اسی نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لیے بیویاں بنائیں اور ان سے بیٹوں اور پوتوں کا سلسلہ جاری کیا اور پاکیزہ چیزیں کھانے اور برتنے کو دیں۔ ان نعمتوں کا حق تو یہ تھا کہ لوگ خدا ہی کا شکر کرتے اور اسی پر ایمان لاتے لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ باطل معبودوں پر تو ایمان لاتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

72۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ اپنے انعامات کا تذکرہ کر کے جو آیت میں مذکور ہیں، سوال کر رہا ہے کہ سب کچھ دینے والا تو اللہ ہے، لیکن یہ اسے چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں اور دوسروں کا ہی کہنا مانتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 71–73

30: مطلب یہ ہے کہ تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں کرتا کہ اپنے غلام کو اپنی دولت اس طرح دیدے کہ وہ دولت میں اس کے برابر ہوجائے۔ اب تم خود مانتے ہو کہ جن دیوتاؤں کو تم نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک یعنی غلام ہیں۔ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ نے انہیں اپنی خدائی اس طرح دے دی ہو کہ انہیں اللہ کے برابر معبود بننے کا حق حاصل ہوگیا ہو۔ 31: یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کر کے یہ دعوی کرتے ہیں کہ فلاں نعمت اللہ نے نہیں، بلکہ ان کے گھڑے ہوئے دیوتاؤں نے دی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 70–73

اب روئے سخن جانوروں ، درختوں ، پھلوں ، شہد کی مکھیوں ، شہد کے انعامات کے مقابلے میں نفس انسانی کے قریب تر ، انسانی شخصیت کی گہرائیوں کے ساتھ تعلق رکھنے والے موضوع کی طرف مڑ جاتا ہے۔ انسانی زندگی کے مختلف مراحل ، انسان کی عمر ، اس کا رزق ، اس کا جوڑا ، بچے اور پوتے وغیرہ جو انسانی دلچسپی کے مخصوص ترین موضوعات ہیں۔ انسان ایسی باتوں سے بہت ہی متاثر ہوتا ہے کیونکہ یہ اس کی سرگرمیوں اور دلچسپیوں کے میدان ہیں۔ آیت نمبر 70 تا 73 ان حساس موضوعات میں سے پہلا موضوع انسانی زندگی ، انسانی موت اور زندگی کے مراحل کے بارے میں ہے اور یہ تمام انسانوں کی دلچسپی کا محبوب موضوع ہے۔ انسانی زندگی پر غور کرنے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی نوع انسان ہی سے تمہارا جوڑا پیدا کیا تاکہ الفت و موانست قائم رہے۔ اور تخلیق کی غرض پوری ہو۔ (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً ) 30 ۔ الروم :21) 8 جو تمہاری بقائے نوعی کا ذریعہ ہیں۔ 9 جو بقائے شخصی کا سبب ہے۔ 10 یعنی بتوں کا احسان مانتے ہیں کہ بیماری سے چنگا کیا، یا روزی دی، اور یہ سب جھوٹ اور وہ جو سچ دینے والا ہے اس کے شکر گزار نہیں۔ کذافی الموضح۔ اور شاید یہ بھی اشارہ ہو کہ فانی و زائل زندگانی کی بقائے نوعی و شخصی کے اسباب کو تو مانتے ہو اور خدا کی سب سے بڑی نعمت ( پیغمبر ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 72 وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا عربی میں ”زوج“ شریک حیات spouse کو کہتے ہیں اور یہ لفظ بیوی اور خاوند دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ عورت کے لیے مرد زوج ہے اور مرد کے لیے عورت۔ اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ هُمْ يَكْفُرُوْنَ یعنی کفران نعمت کرتے ہیں۔ یہاں یہ اہم بات لائق توجہ ہے کہ اس سورة میں اللہ کی نعمتوں کا ذکر بہت تکرار کے ساتھ آ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

71 انسان اور اس کی نوع کی بقا کے اسباب :۔ تمہارے بقائے نوع کے اسباب بھی اللہ نے مہیا کیے اور تمہاری اپنی زندگی کی بقا کے اسباب بھی اسی نے پیدا کیے۔ پھر بھی مشرک اپنے معبودان باطل کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ فلاں کی کرم نوازی سے بیٹا پیدا ہوا اور فلاں آستانے پر جانے سے شفا نصیب ہوئی وغیر ذلک من الخرافات

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

109۔ (اور اس طرح تمہاری بقائے نوعی کا سامان کردیا) (آیت) ” من انفسکم “۔ یعنی تمہاری ہی جنس ونوع سے۔ (آیت) ” حفدۃ “۔ حافد کے عام معنی پوتے کے ہیں۔ المراد بالحفدۃ علی ماروی عن الحسن والازھری وجاء فی روایۃ عن ابن عباس واختارہ ابن العربی اولاد الاولاد (روح) لیکن ایک معنی خادم، مددگار، وغیرہ کے بھی لئے گئے ہیں، روی عن ابن عباس ان الحفدہ الخدم والا عوان وقال الحسن اعانک فقد حفدک وقال مجاھد وقتادہ وطاؤس الحفدۃ الخدم (جصاص) امام رازی (رح) نے متعدد معانی ومفہومات بیان کرکے لکھا ہے کہ بہتر یہ ہے کہ لفظ کے عموم میں ان سارے مفہوموں کی وسعت کو شامل رکھا جائے، والاولی دخول الکل فیہ لما بینا ان الالفظ محتمل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 71–76

آیت نمبر 71 تا 76 ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ نے رزق میں بعض کو بعض پر فوقیت دی ہے تو تم میں مالدار اور غریب اور مالک ومملوک (دونوں قسم کے لوگ) ہیں، یعنی جو مال وغیرہ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں اپنے اور اپنے غلاموں کے درمیان شرکت کرنے والے نہیں ہیں اس طریقہ پر کہ آقا و غلام اس میں برابر کے شریک ہوجائیں مطلب یہ ہے کہ ان کے غلاموں میں سے کوئی غلام ان کے مالوں میں شریک نہیں ہے تو پھر خدا کے غلاموں میں سے بعض کو اس کا کس طرح شریک ٹھہراتے ہیں ؟ تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کے منکر ہورہے ہیں اس طریقہ پر کہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں، اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہاری ہی جنس کی تم کو بیویاں عطا فرمائیں چناچہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وا اللہ جعل لکم من انفکسم ازواجا جعل لکم من ازواجکم بنین وحفدۃ اور اللہ ہی نے تم میں سے (یعنی تمہاری جنس میں سے) تمہارے لئے تمہاری بیبیاں بنائیں اور بیبیوں سے تم کو بیٹے پوتے عنایت کئے۔ تمہاری جنس سے تمہاری بیبیاں بنائیں تاکہ تم کو ان سے انس خاطر حاصل ہو اور تمہاری اولاد تمہاری جنس کی ہو (یعنی آدمی ہو) ۔ بعض علماء نے جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اللہ نے حضرت حواء کو حضرت آدم سے پیدا کیا ‘ پھر باقی تمام عورتوں کو مردوں اور عورتوں کے نطفہ سے بنایا۔ حَفَدَۃً اولاد کی اولاد اور تیز دست خادم۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے : حَفَدَ (ماضی) یَحْفِدُ (مضارع) حَفْدًا اور حفدانًا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(72) اور اللہ تعالیٰ نے تمہاری ہی جنس میں سے تمہارے لیے بیویاں بنائیں اور پھر تمہاری عورتوں میں سے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور غلام، باندی اور داماد وغیرہ بھی پیدا کیے اور تمہیں جانوروں سے بہتریں چیزیں کھانے کو دیں کیا پھر بھی تم شیطان اور بتوں پر ایمان رکھو گے اور ان کی تصدیق کرو گے اور وحدانیت کا انکار کرتے رہو گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ۔۔ :”وَحَفَدَةً“ ”حَفَدَ یَحْفِدُ“ (ض) سے ”حَافِدٌ“ کی جمع ہے، خدمت اور اطاعت میں جلدی کرنے والا، جیسا کہ قنوت کی ایک دعا میں ہے : (وَإِلَیْکَ نَسْعٰی وَ نَحْفِدُ) [ ابن خزیمۃ : 2؍155، ح : 1100 ] ”حَفِیْدٌ“ کی جمع ”حُفَدَاءُ“ آتی ہے۔ ”حَافِدٌ“ اور ”حَفِیْدٌ“ بیٹوں کو اور اولاد کی اولاد کو کہتے ہیں، خادم کو بھی کہہ لیتے ہیں۔ (قاموس) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کئی احسان ذکر فرمائے ہیں، ایک تو تنہائی اور وحشت دور کرنے کے لیے ساتھی دیا، مرد کے لیے عورت، عورت کے لیے مرد۔ دوسرا یہ کہ وہ ساتھی اس کی جنس انسان سے دیا، کیونکہ دوسری جنس سے نہ انس حاصل…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 72 قولہ تعالیٰ : واللہ جعل لکم من انفسکم ازواجا اس میں جعل بمعنی خلق ہے، یہ پہلے گزر چکا ہے۔ من انفسکم ازواجا یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سے حضرت حواء (علیہا السلام) کو پیدا فرمایا، اور یہ بھی کہا گیا ہے : کہ جعل لکم من انفسکم کا معنی ہے تمہاری جنس سے اور تمہاری نوع سے اور تمہاری خلقت پر پیدا فرمائیں، جیسا کہ یہ ارشاد ہے : لقد جاء کم رسول من انفسکم (التوبہ : 128) یعنی انسانوں میں سے ہی تمہارے پاس رسول آیا۔ اور اس میں ان عربوں کا رد ہے جو یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ اس نے (فلانے) جن سے شادی کر رکھی ہے اور وہ اس سے جماع کرتا ہے، حتی کہ یہ روایت ہے کہ عمرو بن ہند نے ان میں سے ایک بھتنی کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ عبدبن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” واللہ جعل لکم من انفسکم ازواجا “ کے بارے میں فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا پھر ان کی بیوی کو اس میں سے پیدا فرمایا۔ 2:۔ فریابی، سعید بن منصور، بخاری نے تاریخ میں ابن جریر ابن ابی حاتم طبرانی حاکم اور بیہقی نے سنن میں (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحفدۃ “ سے مراد داماد ہیں۔ 3:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحفدۃ “ سے مراد سسرال ہیں۔ 4:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحفدۃ “ سے مراد بیٹے اور پوتے ہیں۔ 5:۔ ابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاللّٰهُ : اور اللہ ہی نے ] [ جَعَلَ : بنایا ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ مِّنْ انفُسِكُمْ : تمہارے اپنے آپ (یعنی جنس) سے ] [ اَزْوَاجًا؛کچھ جوڑے ] [ وَّجَعَلَ : اور اس نے بنائے ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ : تمہارے جوڑوں (بیویوں) سے ] [ بَنِيْنَ : بیٹے ] [ وَحَفَدَةً : اور پوتے ] [ وَّرَزَقَكُمْ : اور اس نے دیا تم کو ] [ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ ۭ: پاکیزہ (چیزوں) سے ] [ اَفَبِالْبَاطِلِ : تو کیا باطل پر ] [ يُؤْمِنُوْنَ : وہ ایمان لاتے ہیں ] [ وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ : اور اللہ کی نعمت کا ] [ هُمْ : وہ لوگ ہی ] [ يَكْفُرُوْنَ : انکار کرتے ہیں ] حد [حَفْدًا : (ض) کام جلد کرنا۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد ازواج و اولاد کی نعمت کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ نے تمہارے لیے تمہیں میں سے بیویاں بنا دیں (تمہیں میں سے یعنی تمہاری جنس سے وہ بھی انسان ہیں اور تم بھی انسان ہو ہم جنس ہونے کی وجہ سے آپس میں استمتاع اور انتقاع بہت سہل ہے لذیذ ہے اور نفع بخش ہے) پھر اللہ تعالیٰ نے ان بیویوں سے بیٹے پیدا فرمائے پھر ان بیٹوں کے بیٹے پیدا کیے جو تمہارے پوتے بن گئے اس طرح سے تمہاری نسلیں آگے چل رہی ہیں بڑھ رہی ہیں اور ان کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے ہو اور محض اسی پر اکتفا نہیں فرمایا کہ بیویاں عنایت فرما دیں اور بیٹے پوتے دے دئیے ان انعامات کے ساتھ کھانے کے لیے پاکیزہ چیزیں عطا فرما دیں (اَفَبِالْبَاطِلِ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–83

رجور بسوئے دلائل توحید بتذکیر انعامات خداوند حمید قال اللہ تعالیٰ : واللہ انزل من السماء .... الیٰ .... واکثرھم ھم الکفرون۔ (ربط) اوپر سے بہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کا ذکر چلا آرہا ہے اور پھر اسی طرح سے یہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کو بیان فرماتے ہیں اور یہ دلائل معاد بھی ہیں اور دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل ہدایت بھی ہیں اور دلائل رحمت بھی ہیں۔ دور تک اسی طرح سلسلہ کلام چلا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کے انعامات کو ذکر فرمایا جو علاوہ نعمت ہونے کے اس کے کمال علم اور کمال قدرت اور حکمت کے دلائل بھی ہیں۔ (1) چناچہ واللہ انزل من السماء ماء سے اپنی قدرت کا بیان شروع فرمایا کہ آسمان سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

56:۔ یہ دلیل ماقبل سے متعلق ہے اللہ تعالیٰ کا یہ بھی احسان ہے کہ اس نے تمہاری جنس سے تمہارے آرام و سکون کی خاطر تمہارے لیے بیویاں پیدا کیں پھر ان سے اولاد در اولاد پیدا فرمائی اور دنیا میں تمہاری نسل کو بقا نصیب ہوا۔ اور پھر ہر قسم کی پاکیزہ روزی کا سامان بہم پہنچایا۔ ” افبا لباطل یومنون “ لیکن یہ ناشکر گذار انسان اللہ تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں اور اس کی عطا کردہ نعمتوں کو اپنے خود ساختہ معبودوں کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔ یسترون نعمۃ اللہ علیہم و یضیفونہا الی غیرہ ( ابن کثیر) روزی وہ دیتا ہے، مصیبتیں وہ دور کرتا ہے اور اولاد وہی عطا کرتا ہے۔ مگر وہ اسے پیروں فقیروں اور بزرگوں کی عطا سمجھنے لگتے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 71–74

(ربط آیات) اللہ نے اپنی قدرت کی وہ نشانیاں بیان کیں جو اس نے انسان کے اندر اور بیرونی دنیا میں پیدا فرمائی ہیں پھر اسی مضمون کو شرک کی تردید میں بطور دلیل پیش کیا ، گذشتہ آیات میں بھی اللہ نے اپنے انعامات کا تذکرہ کیا تھا اور آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں ، اللہ نے مشرکین کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ اس کے انعامات کی ناقدری کرتے ہیں حالانکہ ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہئے تھا ، انسان کو چاہئے کہ وہ اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے ۔ (رزق میں تفاوت) اب اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ احسان بھی یاد دلایا ہے (آیت) ” واللہ فضل بعضکم علی بعض فی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 71–72

وَاللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰي بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ ۚ فَمَا الَّذِيْنَ فُضِّلُوْا بِرَاۗدِّيْ رِزْقِهِمْ عَلٰي مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيْهِ سَوَاۗءٌ ۭ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ 71؀ فضل الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر فعلی ثلاثة أضرب : فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات . وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله : وَلَقَدْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 72–73

سوم واللہ جعل لکم من انفسکم الخ کہ اللہ نے تمہارے لیے بیویاں بنائیں اگر مرد کو عورت نہ ملے تو دنیا کا عیش تلخ ہوجائے اس میں کسی کی حکمت اور علم اور طبیعت کا کیا دخل ہے ؟ پھر عورتیں کیسی تمہاری جنس اور قبیلے کی جن کی مجانست سے تمہاری پوری موانست ہوتی ہے پھر اگر اولاد اور اہل قرابت کام آنے والے نہ ہوتے تو بھی مشکل پڑجاتی اس لیے بنین وحفدۃ 2 ؎ بیٹے اور پوتے اقارب بھی پیدا کئے اس پر رزقکم من الطبیٰت اچھی چیزیں کھانے کو دیں پھر اس پر بھی لوگ جھوٹے معبودوں پر ایمان لاتے اور اللہ کی نعمتوں کے منکر ہوتے ہیں کیونکہ ان نعمتوں کو اوروں کی طرف نسبت کرتے ہیں اور اللہ کو چھوڑ اوروں کی عبادت کرتے ہیں جن کو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا وَّجَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ بَنِیْنَ وَحَفَدَۃً وَّرَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ط اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَتِ اللّٰہِ ھُمْ یَکْفُرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 72) (اور اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا فرمائیں تمہارے لیے تمہاری جنس سے عورتیں اور پیدا فرمائے تمہارے لیے تمہاری بیویوں سے بیٹے اور پوتے اور تمہیں پاکیزہ نعمتوں کا رزق بخشا، کیا یہ لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ) بیوی بچوں کی نعمت بھی اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اللہ تعالیٰ کی مزید مہربانیوں اور نعمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 72–73

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کے بلا شرکت غیرے خالق ہونے کی پانچویں دلیل : مشرک کے ضمیر کو جھنجھوڑنے اور رزق میں تفادت بیان کے بعداب ان کے نفوس کے حوالے سے عقیدۂ توحید سمجھایا جا رہا ہے۔ اللہ وہ خالق ہے جس نے مردوں میں سے ہی ان کی بیویوں کو پیدا فرمایا اور پھر ان کی بیویوں سے بیٹے اور پوتوں کا سلسلہ جاری کیا۔ وہی تمہیں پاک چیزوں سے روزی دیتا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ باطل معبودوں پر ایمان لاتے ہیں۔ حقیقت میں مشرک اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اس آیت مبارکہ میں دو باتیں بیان فرمائی گئی ہیں۔ 1۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں سے ان کی بیویوں کو پیدا فرمایا جسے قرآن مجید نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ازواج اور عظیم نعمت : 72: وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا (اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تمہارے نفوس میں سے تمہاری بیویاں بنائیں) انفسکم سے مراد جنس ہے۔ وَّ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ بَنِیْنَ وَحَفَدَۃً (اور اس نے بنایا تمہارے لئے تمہاری بیویوں میں سے بیٹے اور پوتے) حفدہ جمع حافد کی ہے۔ اس کو کہا جاتا ہے جو اطاعت میں جلدی کرے اور خدمت میں چابکدستی اختیار کرے۔ اسی سے یہ قول قنوت والا ہے۔ والیک نسعی و نحفد۔ یعنی ہم دوڑتے اور اطاعت میں جلدی کرتے ہیں۔ پھر اس میں اختلاف ہے بعض نے کہا یہ بیٹوں کی اولاد کو کہتے ہیں دوسرا قول یہ ہے کہ اولاد کی اولاد۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(72)” واللہ جعل لکم من انفسکم ازوجاً “ اس سے مراد بیویاں ہیں۔ ’ ’ جعل لکم من انفسکم “ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت حواء کو حضرت آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا۔ پھر باقی تمام عورتوں کو مردوں اور عورتوں کے نطفہ سے بنایا اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے یہ بیوی تمہاری ہی جنس سے پیدا کی ہیں۔ ” وجعل لکم من ازواجکم بنین وحفدۃ “ آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ابن مسعود ؓ اور امام نخعی (رح) نے کہا کہ اس سے مراد داماد ہے اور ابن مسعود ؓ نے اسی طرح ذکر کیا ہے کہ ان کے نزدیک اس سے مراد خسر ہیں۔ اسی قول کے مطابق آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے تمہاری بیویوں سے تم کو نر اور مادہ اولاد عطا کی ہے اور ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

72۔ اللہ پاک نے یہ اوپر ایک نعمت کا احسان جتلایا کہ تمہارے واسطے تمہاری جنس کی عورتیں پیدا کیں حضرت آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے حضرت حوا کو پیدا کیا چناچہ صحیح بخاری و مسلم میں اور علیحدہ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی جو روایتیں ہیں 1 ؎، ان میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے اور اس میں مصلحت یہ ہے کہ اگر غیر جنس کی بیویاں انسان کے لئے پیدا کی جاتیں تو انسان کو ایسے وحشت ہوتی یہ محبت اور انسیت میاں بیوی میں ہرگز نہ ہوتی غرض کہ یہ کمال مہربانی اللہ جل شانہ کی ہے کہ اس نے انسان کے لئے انسان ہی کا جوڑا بنایا اور پھر اس سے آل و اولاد کا سلسلہ چلایا حضرت عبد اللہ بن عباس عقدۃ کی تفسیر میں یہ کہتے ہیں کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت : (72) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اس احسان عظیم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے ان کی بیویاں بنائیں تاکہ وہ ان بیویوں کے پاس سکون حاصل کریں اور ان بیویوں سے ان کو اولاد عطا کی تاکہ ان سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ‘ یہ اولاد ان کی خدمت کرے اور ان کی مختلف حوائج پوری کرے اور وہ متعدد پہلوؤوں سے اپنی اولاد سے فائدہ اٹھائیں اور ان کو پاک مطعومات و مشروبات سے نوازا اور دیگر ظاہری نعمتیں عطا کیں جن کو شمار کرنا بندوں کے بس میں نہیں۔ (افبالباطل یومنون) ” کیا پس وہ باطل کو مانتے ہیں ؟ “ یعنی کیا یہ لوگ باطل پر ایمان رکھتے ہیں جو کوئی قابل ذکر چیز تھا ہی نہیں ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 72–74

حفدۃ کی تشریح قول باری ہے (وجعل لکم من ازواجکم نبی ن وحفدۃ۔ اور اسی نے ان بیویوں سے تمہیں بیٹے اور پوتے عطا کئے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حفدہ نوکروں اور مددگاروں کو کہتے ہیں۔ حسن کا قول ہے۔ ” من اعانک فقد حفدک “ (جس شخص نے تمہاری اعانت کی وہ تمہارا حفید یعنی مددگار بن گیا) مجاہد، قتادہ اور طائوس کا قول ہے کہ حفدہ نوکروں اور خدمت گاروں کو کہتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ، ابو الضحی، ابراہیم نخعی اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ دو بہنوں کو حفدہ کہتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق حفد کے اصل معنی اسراع فی العمل (کام میں تیزی دکھانے) کے ہیں، اسی سے دعائے قنوت میں یہ فقرہ ہے۔ والیک نسعی و تحفد، یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

143۔ بیوی بچوں کی نعمت سے متعلق تذکیر و یاددہانی : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور اس نے تمہارے لئے تمہاری بیویاں پیدا فرمائیں خود تمہاری جنس سے، تاکہ تم انکے ذریعے سکون حاصل کرو اور پرکیف زندگی گزارو۔ تاکہ تمہاری نسل چلے اور تمہارا نام باقی رہے۔ اور اس رشتہ ازدواج کے ذریعے تمہیں طرح طرح کی مزید نعمتوں سے سرفرازی نصیب ہو۔ سو تمہارے لئے تو تمہاری بیویوں کو پیدا کرنا اس کی ایک عظیم الشان نعمت ہے جس سے اس نے تمہیں اپنی خاص رحمت و عنایت سے نوازا ہے۔ پھر مزیدکرم یہ فرمایا کہ اس نے تمہاری ان بیویوں کو خود تمہاری ہی جنس سے پیدا فرمایا ہے۔ تاکہ تمہارے درمیاں باہمی انس و محبت کا تعلق قائم ہو۔ کیونکہ اگر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 72–76

اللہ کی طرف سے مزید نعمتیں اور اللہ کی دی گئی مثالیں تشریح : ان آیات میں اللہ نے مزید نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اسی طرح تمہارے جوڑے بنائے، یعنی میاں بیوی تاکہ دنیا کی خوشیاں اور سکون حاصل کرسکو اور پھر اولاد در اولاد کی خوشیاں دیکھو اور دنیا کی تمام چیزیں تمہارے لیے مسخر کردیں پھر بھی بیوقوف لوگ بےجان لاچارا ور بےبس مخلوقات کی عبادت کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھو تو کہتے ہیں کہ بھئی جس طرح بادشاہ تک پہنچنے کے لیے درباریوں وزیروں کا سہارا لینا پڑتا ہے تو اسی طرح اللہ سے مانگنے کے لیے ان چیزوں کو وسیلہ بنانا پڑتا ہے کیونکہ اللہ تو بہت ہی بلند وبالا ہے۔ براہ راست اس تک کیسے پہنچا جاسکتا ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 71–76

(رکوع نمبر 10) اسرارومعارف اب اپنی تخلیق پر غور کرو تو توحید کے اثبات کی کتنی بڑی دلیل موجود ہے کہ اللہ کریم نے سب انسانوں کو مال و دولت میں بھی یکساں نہیں بنایا جیسے قد کاٹھ طاقت علم اور شعور میں سب ایک سے نہیں ایسے مالی اعتبار سے سب برابر نہیں بعض تو غلام اور خدم وحشم رکھتے ہیں اور اپنی پسند سے خرچ کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو ان کی وساطت سے روزی ملتی ہے بعض مزدور ، ملازم یا غلام ہوتے ہیں تو کیا کوئی صاحب ثروت انسان غلام کو برابر جانتا ہے یا کرسکتا ہے کہ اگر رزق بانٹ بھی دے تو بحیثیت غلام دیا تو وہ مالک نہ بن سکے گا مال تو مالک ہی کا رہا اور اگر آزاد کر کے دیا تو اگرچہ مال میں برابر ہوگیا ، مگر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی ان کا احسان مانتے ہیں کہ ان ہی نے بمیاری سے شفا دی، بیٹا دیا یا روزی بخشی۔ 6 جو سچا معبود ہے اور تمام احسانات اسی کے ہیں مگر یہ بتوں اور بزگروں کے احسان مانتے ہیں کہ تندرستی بیٹے اور روزی یہ دیتے ہیں حالانکہ یہ سب جھوٹ باطل ہے سچی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ دینے والا اللہ تعالیٰ ہے جس کے مشرک شکر گزار نہیں ہوتے۔ (کذافی الموضح )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:72) ازواجا۔ جوڑے۔ ہم مثل چیزیں۔ زوج کی جمع ہے۔ یہاں بیویاں مراد ہیں۔ حفدۃ۔ حافد کی جمع۔ حفد سے اسم فاعل حفد یحفد (باب ضرب) خدمت کے لئے دوڑتے ہوئے حاضر ہونا۔ یہاں اس سے مراد پوتے ہیں کیونکہ ان کی خدمت زیادہ سچی ہوتی ہے۔ بنو سعد العشیرہ کی لغت میں حفدۃ نواسوں کو کہتے ہیں۔ اور لفظی معنی کے لحاظ سے ہر وہ شخص خواہ رشتہ دار ہو یا نہ ہو۔ جو دوڑتے ہوئے خدمت میں حاضر ہو۔ حافد کہلاتا ہے۔ باطل۔ حق کے مقابلہ میں۔ اس سے مراد جھوٹے خدا معبود انِ باطل بھی ہوسکتا ہے۔ وبنعمت اللہ ہم یکفرون۔ میں ہم ضمیر کو تاکید اور زور کا فائدہ حاصل کرنے کے لئے لایا گیا ہے۔ ورنہ تو مضمون اس کے بغیر بھی ادا ہوجاتا تھا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 71–73

لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 73 فضل بڑائی دی۔ فضلوا بڑھائے گئے۔ رادی لوٹانے والے۔ ملکت ایمان داہنے کی ملکیت، غلام۔ سواء برابر۔ یجحدون وہ انکار کرتے ہیں۔ ازواج جوڑے، بیویاں۔ بنین بیٹے۔ حفدۃ پوتے۔ لایستطیعون وہ قدرت طاقت نہیں رکھتے۔ تشریح : آیت نمبر 71 تا 73 اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت کاملہ اور اپنی ان نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جو اس نے انسانوں کے فائدہ کیلئے عطا فرمائی ہیں۔ ان آیات میں چند اور نعمتوں کا بھی ذکر کر کے توحید کا اثبات اور باطل کے بےحقیقت ہونے کا اظہار فرمایا ہے۔ فرمایا کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے کہ اس نے اپنی حکمت اور قدرت کا ملہ سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر غیر جنس کی بیویاں انسان کے لئے پیدا کی جائیں تو انسان کو ان سے وحشت ہوتی ہے، یہ محبت وانسیت میاں بیوی میں ہرگز نہ ہوتی۔ غضی کہ یہ کمال مہربانی اللہ جل شانہ کی ہے کہ انسان کے لئے انسان ہی کا جوڑا بنایا، پھر اس سے آل واولاد کا سلسلہ چلایا اور پوتے پوتیاں نواسے نواسیاں دیں۔ پھر فرمایا کہ تمہاری زندگی کے لئے یہ سامان بھی مہیا کردیا کہ تمہارا رزق پاک وصاف چیزوں میں مقرر کیا تاکہ ایک وقت مقررہ تک تم زندگی بسر کرو۔ پھر ان نعمتوں کا بھی کچھ خیال نہیں کرتے ، بت پرستی کئے چلے جاتے ہو خدا کی ان نعمتوں کا شکر نہیں بجا لاتے کفر کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 70–72

(ف 2) اللہ کے بیشمار مظاہر قدرت میں سے آیا ، مسئلہ کہلوت اور شیخوخت انسانی کا بھی ہے کہ کس طرح آیک انسان جوانی سے پیر فرقرت بن جاتا ہے اور چہرہ پر بڑھاپے کی جھریاں کس طرح نمودار ہوجاتی ہیں ؟ اگر زندگی محض مادی اسباب وذرائع کی رہین منت ہو تو پھر شباب کی قوتوں کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے ، مگر چونکہ یہ اللہ کا مقررہ قانون ہے اس لئے آج بھی باوجود سائنس کی حیرت انگیز ترقیوں اور کمال کے انسان کہولت وپیری کو دور نہیں کرسکا ۔ علم التشریح نے آج بےانتہاء ترقی کرلی ہے اور نظریہ تجدید شباب بھی کامیاب ہورہا ہے ، مگر اس کا اثر محض بڑھاپے کے آثار سے ہے ، نفس کہولت کو دور نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ حل لغات : النحل :…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

72 ۔ اور اللہ تعالیٰ نے تم ہی میں سے تمہارے لئے بیویوں اور جوڑوں کو پیدا کیا اور ان بیویوں سے تمہارے لئے بیٹے اور پوتے پیدا کئے اور تم کو ستھری اور پاکیزہ اور اچھی اچھی چیزوں سے روزی دی کیا یہ سب کچھ سن کر اور دیکھ کر پھر بھی یہ لوگ باطل اور بےبنیاد باتوں پر اعتقاد اور ایمان رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کی نا شکری اور بےقدری کرتے ہیں ۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہی نے تمہاری بقائے نوعی کیلئے تمہاری جنس سے عورتیں بنائیں ۔ حضرت آدم سے حوا کو پیدا کیا پھر آگے تو الدہ تناسل کا سلسلہ شروع کردیا پھر تمہاری بقا نوعی کے لئے تم کو ان عورتوں سے بیٹے اور پوتے دیئے پھر اچھی اچھی چیزوں سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 72–74

ف 5۔ یعنی منجملہ دلائل قدرت وہ جو نعمت کے ایک بڑی نعت اور دلیل قدرت اللہ کی خود تمہارا وجود شخصی ونوعی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ نے تمہاری جنس ہی سے تمہارے جوڑے بنائے اور تمہیں بڑھا دیا : 82۔ انعامات الہی کا ذکر جاری ہے زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اس نعمت کا ذکر فرمایا ہے کہ دیکھو میں نے تمہیں جنس میں تمہاری بیویاں بنا دی ہیں تاکہ باہمی موانست بھی پوری ہو اور نسل انسانی کی بقاء اور اس کی شرافت و بزرگی بھی قائم رہے ، اس آیت میں لفظ (انفسکم) ” آیا ہے جس کا ترجمہ ہمارے مفسرین نے جنہوں نے عربی تفاسیر لکھی ہیں اول سے آخر تک سب ہی نے کیا ہے ” اے من جنسکم “ اور اردو مترجمین نے ترجمہ کیا ہے ” تمہیں میں سے “ ” تمہاری ہی قسم سے “ ” تمہاری ہی جنس سے “ پیچھے آپ پڑھ چکے ہیں کہ جن لوگوں نے (آیت) ” من نفس واحدۃ “۔ کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 72–73

Commentary In verse 72: جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا (Allah has created spouses from among you), a special blessing has been mentioned in that Allah Ta’ ala has created spouses from the same genus so that they remain mutually familiar and their distinction and nobility inherent in the human species also remains stable through generations. Given here, there may be another hint towards the fact that spouses belong to each other's genus and, as such, their needs and feelings are common to both, therefore, mutual consideration is but necessary for them. The next sentence of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 72–73

63.“Is then in falsehood that they believe”: they have this false and baseless belief that there are certain gods and goddesses, jinns and saints, dead and alive, who possess the power to make or mar their fates, fulfill their desires and answer their prayers, give them children, cure their diseases and help them win law suits. 64.“In the bounty of Allah that they disbelieve”: by associating others with Allah in offering gratitude to Him for His favors, though they did not have any proof or authority that their false gods had played any part in regard to those favors. The Quran considers such…

Read the full tafseer →