Explained with ayahs 66–67
خوشگوار دودھ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا گواہ ہے
اونٹ گائے بکری وغیرہ بھی اپنے خالق کی قدرت و حکمت کی نشانیاں ہیں۔ بطونہ میں ضمیر کو یا تو نعمت کے معنی پر لوٹایا ہے یا حیوان پر چوپائے بھی حیوان ہی ہیں۔ ان حیوانوں کے پیٹ میں جو الا بلا بھری ہوئی ہوتی ہے۔ اسی میں سے پروردگار عالم تمہیں نہایت خوش ذائقہ لطیف اور خوشگوار دودھ پلاتا ہے۔ دوسری آیت میں بطونہا ہے دونوں باتیں جائز ہیں۔ جیسے آیت (كَلَّآ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ 11ۚ فَمَنْ شَاۗءَ ذَكَرَهٗ 12ۘ) 80۔ عبس :1211) میں ہے اور جیسے آیت (وَاِنِّىْ مُرْسِلَةٌ اِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ 35) 27۔ النمل :35) میں ہے پس جاء…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 54
گوبر اور خون کے درمیان“ کا مطلب یہ ہے کہ جانور جو غذا کھاتے ہیں اس سے ایک طرف تو خون بنتا ہے، اور دوسری طرف فضلہ، مگر انہی جانوروں کی صنف اناث میں اسی غذا سے ایک تیسری چیز بھی پیدا ہوجاتی ہے جو خاصیت، رنگ و بو، فائدے اور مقصد میں ان دونوں سے بالکل مختلف ہے۔ پھر خاص طور پر مویشیوں میں اس چیز کی پیداوار اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ضرورت پوری کرنے کے بعد انسان کے لیے بھی یہ بہترین غذا کثیر مقدار میں فراہم کرتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (نیز) تمہارے لئے مواشی میں بھی غور درکار ہے (دیکھو) ان کے پیٹ میں جو گوبر اور خون (کا مادہ) ہے اس کے درمیان میں سے (دودھ کا مادہ کہ ایک حصہ خون کا ہے بعد ہضم کے جدا کر کے تھن کے مزاج سے ان کا رنگ بدل کر اس کو) صاف اور گلے میں آسانی سے اترنے والا دودھ (بنا کر) ہم تم کو پینے کو دیتے ہیں ،
معارف و مسائل
بطونہ کی ضمیر انعام کی طرف راجع ہے لفظ انعام جمع مونث ہونے کا تقاضا یہ تھا کہ بطونہا کہا جاتا جیسا کہ سورة مؤمنین میں اسی طرح نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهَا فرمایا گیا ہے
قرطبی نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ سورة مؤ منون میں معنی جمع کی رعایت کر کے ضمیر مؤ نث لائی گئی اور سورة…
Read the full tafseer →وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۭ نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَيْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَاۗىِٕغًا لِّلشّٰرِبِيْنَ۔
دودھ کی نعمت کی طرف اشارہ : پانی کی نعمت کے بعد یہ دودھ کی نعمت کی طرف اشارہ فرمایا کہ غور کرنے والوں کے لیے چوپایوں کے اندر بھی خدا کی رحمت و ربوبیت اور اس کی توحید کے بڑے درس موجود ہیں۔ یہ چوپائے اسی زمین کی گھاس اور سبزیاں چرتے ہیں، جو ان کے پیٹوں میں ایک مرحلہ میں گوبر بنتی ہیں اور ایک مرحلہ میں خون، پھر اسی گوبر اور خون کے درمیان کے مرحلہ دودھ پیدا ہوتا ہے جس میں نہ گوبر کا کوئی شائبہ ہوتا ہے اور نہ خون کا، وہ ہر آمیزش سے بالکل پاک…
Read the full tafseer →66۔ 1 اَنْعَام (چوپائے) سے اونٹ، گائے، بکری (اور بھیڑ، دنبہ) مراد ہوتے ہیں۔
66۔ 2 یہ چوپائے جو کچھ کھاتے ہیں، معدے میں جاتا ہے، اسی خوراک سے دودھ، خون، گوبر اور پیشاب بنتا ہے، خون رگوں میں اور دودھ تھنوں میں اسی طرح گوبر اور پیشاب اپنے اپنے مخرج میں منتقل ہوجاتا ہے اور دودھ میں نہ خون کی رنگت شامل ہوتی ہے اور نہ گوبر پیشاب کی بدبو۔ سفید اور شفاف دودھ باہر آتا ہے جو نہایت آسانی سے حلق سے نیچے اتر جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
26: یعنی یہ پٹی پڑھائی کہ تم جو اعمال کر رہے ہو وہی بہترین اعمال ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 66
یہ دودھ ، جسے ہم حیوانات کے پستانوں سے نچوڑتے ہیں ، یہ کس چیز سے پیدا ہوتا ہے ؟ یہ گوبر اور خون کے بیچ میں سے نکلتا ہے ۔ فرث اس محصول کو کہتے ہیں جو ہضم کے بعد جگالی کرنے والے جانور کے اوجھ میں رہ جاتا ہے۔ نیز ہضم کے بعد جو محلول رہ جاتا ہے اور اسے آنتیں خون کی شکل میں تبدیلی کردیتی ہیں اسے بھی فرث کہا جاتا ہے۔ یہ خون جسم کے ہر خلیے میں گردش کرتا ہے۔ یہ خون جب جانور کی کھیری میں دودھ کے غدود میں جاتا ہے تو یہ دودھ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ یہ قدرت کا عجوبہ ہے کہ یہ خون دودھ بن جاتا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ محلول اور یہ خون کس طرح دودھ کی شکل اختیار کرتے ہیں۔
پھر ہر قسم کی خوراک کا…
Read the full tafseer →7 یعنی اونٹ گائے، بھینس وغیرہ جانور جو گھاس چارہ کھاتے ہیں۔ وہ پیٹ میں پہنچ کر تین چیزوں کی طرف مستحیل ہوجاتا ہے۔ قدرت نے ان حیوانات کے جسم کے اندرونی حصہ میں ایسی مشین لگا دی ہے جو غذا کے کچھ اجزاء کو تحلیل کرکے فضلہ (گوبر) کی شکل میں باہر پھینک دیتی ہے اور کچھ اجزاء کو خون بنا کر عروق میں پھیلا دیتی ہے جو ان کی حیات و بقا کا سبب بنتا ہے۔ اور اسی مادہ میں سے جس کے بعض اجزاء گوبر اور بعض خون بن گئے۔ ان دو گندی چیزوں کے درمیان ایک تیسری چیز (دودھ) تیار کرتی ہے جو نہایت پاک طیب اور خوشگوار چیز ہے۔
8 پہلے کتاب اتارنے کی مناسبت سے پانی اتارنے کا ذکر فرمایا تھا ان آیات میں پانی کی مناسبت سے باقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
آیت 66 وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً
چوپایوں کی تخلیق میں بھی تمہارے لیے بڑا سبق ہے۔ ان کو دیکھو غور کرو اور اللہ کی حکمتوں کو پہچانو !
Read the full tafseer →63 دودھ کی پیدائش میں اللہ کی قدرتیں :۔ فرث کا اطلاق صرف اس قسم کی لید یا گوبر پر ہوتا ہے جو پیٹ یا معدہ میں موجود ہو اور جب مقعد کے راستہ گوبر وغیرہ کی صورت میں نکل آئے تو وہ فرث نہیں ہے بلکہ اسے روث کہتے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پانی کے بعد دوسری بڑی مشروب نعمت دودھ کا ذکر فرمایا۔ دودھ کی پیدائش حیرت انگیز طریقے سے مادہ کے پیٹ میں ہوتی ہے۔ اسی طرف اس آیت میں توجہ دلائی گئی ہے۔ اس میں ایک تو اللہ کی قدرت یہ ہے کہ ایک ہی جنس کے نر ہوں یا مادہ۔ دونوں ایک جیسی خوراک کھاتے ہیں۔ اس خوراک میں سے کام کی چیز جس سے انسان کی زندگی قائم رہتی ہے خون بنتا ہے۔ باقی فضلہ مقعد وغیرہ کے راستہ خارج…
Read the full tafseer →96۔ ان گھریلو جانوروں کی ساخت و ترکیب اور ان کے اعضاء کے افعال میں جو صدہا عجائب ہیں، ان کی تفصیلات بیالوجی (حیاتیات) اور زوآلوجی (حیوانیات) کے ہر ماہر پر روشن ہیں۔ یہ سب صناعیاں اور حکمتیں پتہ کس چیز کا دیتی ہیں ؟ ایک صناع اعظم کا، ایک حکیم مطلق کا (آیت) ” لعبرۃ “۔ عبرۃ کہتے ہیں معلوم سے مجہول اور مشاہد سے غیر مشاہد تک پہنچنے کو والعبرۃ مختصہ بالحالۃ التی یتوصل بھا من معرفۃ المشاھد الی ما لیس بمشاھد (راغب)
97۔ جہاں سے گوبر اور خون وغیرہ گندی چیزیں اور فضلے پیدا ہوتے ہیں، وہیں سے دودھ جیسی نفیس پاکیزہ نعمت انسان کے لیے تیار کردینا جس کے آگے بڑے سے بڑے کیمیا دان اور کیمیا ساز مع اپنی ساری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
آیت نمبر 66 تا 70
ترجمہ : اور امر واقعہ یہ ہے کہ چوپایوں میں (بھی) تمہارے لئے بڑی عبرت ہے چوپایوں کے پیٹ میں جو کچھ ہے ہم اسی گوبر (یعنی) معدہ کے فضلے اور خون کے درمیان سے، (نسقیکم) عبرہ کا بیان ہے، مِنْ ابتدائیہ ہے نسقیکم کے متعلق ہے، ہم پینے والون کو خوشگوار (خوش ذائقہ) صاف دودھ پلاتے ہیں جو حلق میں بآسانی اترنے والا اور حلق میں نہ پھنسنے والا ہے، جس میں نہ گوبر اور خون کے مزے کی آمیزش ہے اور نہ رنگ وبو کی، حالانکہ وہ ان دونوں کے درمیان ہوتا ہے اور انگوروں اور کھجوروں کے پھلوں میں بھی (تمہارے لئے عبرت ہے) کہ جن سے تم شراب بناتے ہو، جو نشہ آور ہوتی ہے خمر کا نام سَکَر (بطور مبالغہ) مصدر کے…
Read the full tafseer →وان لکم فی الانعام لعبرۃ اور (نیز) تمہارے لئے مویشیوں میں بھی غور درکار ہے۔ عبرت سے مراد ہے : ایسا غور جو جہالت سے نکال کر علم کی طرف لے جائے۔
نسقیکم مم فی بطونہ من بین فرث ودم لبنا خالصا سائغا للشربین (دیکھو) ان کے پیٹ میں جو گوبر اور خون (کا مادہ) ہے ‘ اس کے درمیان میں سے صاف اور گلے میں آسانی سے اترنے والا دودھ (بنا کر) ہم تم کو پینے کو دیتے ہیں۔ بُطُوْنِہٖ میں واحد مذکر کی ضمیر الْاَنْعَام کی طرف لوٹ رہی ہے۔ الْاَنْعَام اسم جمع ہے ‘ لفظ کے اعتبار سے مفرد ہے۔ سیبویہ نے اس لفظ کا شمار ان مفرد الفاظ میں کیا ہے جو بروزن افعال آتے ہیں ‘ جیسے اخلاق اور اکباش وغیرہ۔ فراء ‘ ابو عبیدہ اور اخفش کا…
Read the full tafseer →(66) اور مویشی میں سے ہم تمہارے لیے صاف مزے دار دودھ نکال کر تمہارے پینے کو دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً۔۔ :”الْاَنْعَامِ“ لفظاً مفرد ہے، افعال کا وزن یہاں جمع کے لیے نہیں بلکہ یہ اسم جمع ہے، جیسے ”رَھْطٌ“ ، ”قَوْمٌ“ اور ”بَقْرٌ“ وغیرہ۔ یہاں لفظ کی رعایت سے اس کے لیے واحد مذکر کی ضمیر ”بُطُوْنِهٖ“ لائی گئی ہے، سورة مومنون (21) میں ”نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهَا“ جمع کے معنی کی رعایت سے مؤنث کی ضمیر لائی گئی ہے۔ ”الْاَنْعَامِ“ اصل میں اونٹوں کو کہتے ہیں، کیوں وہ بہت بڑی نعمت ہیں، اس کے ساتھ گائے اور بھیڑ بکری کو بھی ”الْاَنْعَامِ“ کہہ لیتے ہیں۔ سورة انعام (143، 144) ، میں ان کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔ ”لَعِبْرَةً“ میں تنوین تعظیم کی ہے، بہت بڑی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 66
اس میں دس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : وان لکم فی الانعام لعبرۃ اس کا بیان سورة الانعام میں گزر چکا ہے، اور یہاں چوپاؤں کی چار قسمیں مراد ہیں : اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری۔ لعبرۃ یعنی ان میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی وحدانیت اور اس کی عظمت پر دلیل ہے۔ اور العبرۃ دراصل ایک شے کو دوسری شے کے ساتھ تشبیہ دینا ہے اور اس کی مثل قرار دینا ہے تاکہ اس کی حقیقت بطریق مشاکلہ پہچان لی جائے۔ اور اسی سے فاعتبروا (پس عبرت حاصل کرو) ہے۔ اور ابوبکر وراق نے کہا ہے : مویشیوں میں عبرت ان کا اپنے مالکوں کے لئے مسخر ہونا اور ان کے لئے ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا ہے، اور تیرا اپنے رب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
1:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو یواخذ اللہ الناس بظلمہم ما ترک علیھا من دآبۃ “ (اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑ لیتا) تو ان کو بارش (کا پانی) نہ پلاتا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اگر بارش نہ برسے تو زمین پر کوئی جانور باقی نہ رہے سب مرجائیں۔
3:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو یواخذ اللہ الناس بظلمہم ما ترک علیھا من دآبۃ “ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں ایسا کیا تھا نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں جو جانور سوار ہوگئے تھے وہ بچ گئے باقی زمین…
Read the full tafseer →[وَان : اور بیشک ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ فِي الْانعام : چوپایوں میں ] [ لَعِبْرَةً ۭ: یقینا ایک عبرت ہے ] [ نُسْقِيْكُمْ : ہم پلاتے ہیں تم لوگوں کو ] [ مِّمَا : اس میں سے جو ] [ فِيْ بُطُوْنِهٖ : ان کے پیٹوں میں ہے ] [ مِنْۢ بَيْنِ فَرْثٍ : خون اور گوبر کے درمیان سے ] [ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا : (خون اور گوبر کی) ملاوٹ سے پاک دودھ ] [ سَاۗىِٕغًا : خوشگوار ہوتے ہوئے ] [ لِلشّٰرِبِيْنَ : پینے والوں کے لئے ]
ر ث
[فَرَثًا : (س) شکم سیر ہونا۔]
[ فَرْثٌ گوبر (جب تک اوجھڑی میں رہے) زیر مطالعہ آیت۔ 66 ۔ ]
(آیت۔ 66) اَلْاَنْعَام اسمِ جنس ہے۔ اس لئے بُطُوْنِہٖ میں واحد مذکر کی ضمیر چہٖ بھی جائز…
Read the full tafseer →چوپایوں میں اور شہد کی مکھی میں تمہارے لیے عبرت ہے
ان آیات سے پہلے بارش کی نعمت کا تذکرہ تھا کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ فرما دیتا ہے اور اس سے طرح طرح کی غذائیں ملتی ہیں ان آیات میں اولاً دودھ کا اور ثانیاً سکر کا اور اس کے ساتھ رزق حسن کا ثالثاً شہد کا تذکرہ فرمایا۔
دودھ کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ دیکھو چوپایوں میں تمہارے لیے عبرت ہے چوپایوں سے دودھ کے جانور مراد ہیں غور کرو اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے پیٹوں سے دودھ نکال کر پلاتا ہے یہ جانور چارہ اور گھاس پھونس کھاتے ہیں اس سے خون بھی بنتا ہے اور فضلہ یعنی گوبر بھی اور دودھ بھی، یہ دودھ خون اور گوبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–83
رجور بسوئے دلائل توحید بتذکیر انعامات خداوند حمید
قال اللہ تعالیٰ : واللہ انزل من السماء .... الیٰ .... واکثرھم ھم الکفرون۔
(ربط) اوپر سے بہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کا ذکر چلا آرہا ہے اور پھر اسی طرح سے یہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کو بیان فرماتے ہیں اور یہ دلائل معاد بھی ہیں اور دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل ہدایت بھی ہیں اور دلائل رحمت بھی ہیں۔ دور تک اسی طرح سلسلہ کلام چلا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کے انعامات کو ذکر فرمایا جو علاوہ نعمت ہونے کے اس کے کمال علم اور کمال قدرت اور حکمت کے دلائل بھی ہیں۔
(1) چناچہ واللہ انزل من السماء ماء سے اپنی قدرت کا بیان شروع فرمایا کہ آسمان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
50:۔ یہ توحید پر پانچویں عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ بارش برسا کر مردہ اور ناکارہ زمین کو سرسبز و شاداب بنا دیتا ہے سمجھ رکھنے والوں کے لیے اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی بہت بڑی دلیل ہے۔ ” و ان لکم فی الانعام “ چوپایوں میں بھی تمہارے لیے عبرت کا سامان موجود ہے۔ ان کے پیٹ کے گوبر اور خون کے درمیان میں سے وہ خالص اور پاکیزہ دودھ نکالتا ہے جو ان دونوں ناپاک چیزوں کی آمیزش سے بالکل پاک اور مبرا ہوتا ہے اور ہر شخص کے لیے خوشگوار ہے۔ دودھ دینے والے چوپائے جو چارہ یا خوراک کھاتے ہیں ہضم معدے کے بعد جگر اس کے کار آمد اجزاء اپنی طرف جذب کرلیتا ہے اور گوبر معدہ میں رہ جاتا ہے جگر اس سیال مادے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے باطل عقائد کا رد فرمایا اور ان کے برے انجام کا ذکر کیا ، رسالت کے ضمن میں فرمایا کہ رسول کی امت کے برے اعمال کو شیطان نے انہیں مزین کرکے دکھایا وہ اپنے شرکیہ عقائد اور باطل رسومات پر ہی جمے رہے اور رسولوں کی بات کو نہ مانا پھر آخری دور میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر آخر الزمان پر کتاب یعنی قرآن نازل فرمائی تاکہ آپ اس کی اچھی طرح وضاحت کردیں اور وہ تمام چیزیں واضح ہوجائیں جن میں لوگ اختلاف کرتے ہیں ، پھر فرمایا کہ یہ کتاب ہدایت اور رحمت ہے مگر اہل ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر پر یہ کتاب نازل فرما کر انسان کی روحانی زندگی کا سامان…
Read the full tafseer →وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۭ نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَيْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَاۗىِٕغًا لِّلشّٰرِبِيْنَ 66
نعام
[ والنَّعَمُ مختصٌّ بالإبل ] ، وجمْعُه : أَنْعَامٌ ، [ وتسمیتُهُ بذلک لکون الإبل عندهم أَعْظَمَ نِعْمةٍ ، لكِنِ الأَنْعَامُ تقال للإبل والبقر والغنم، ولا يقال لها أَنْعَامٌ حتی يكون في جملتها الإبل ] «1» . قال : وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] ، وَمِنَ الْأَنْعامِ حَمُولَةً وَفَرْشاً [ الأنعام/ 142] ، وقوله : فَاخْتَلَطَ بِهِ نَباتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعامُ [يونس/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
ترکیب : لعبرۃ اسم ان لکم خبر بطونہ بطون جمع بطن بمعنی شکم بطونہ کی ضمیر انعام کی طرف راجع ہے کیونکہ انعام 1 ؎ مذکر بھی ہے اور مونث بھی۔ من بین من للابتداء متعلق ہے نسقیکم سے لبنا مفعول ثانی ہے نسقیکم کا خالصًا سائغًا اس کی صفت و من ثمرات الخ محذوف سے متعلق ہے ای نسقیکم من ثمرات الخ تتخذون جملہ مستانفہ یا صفت ہے محذوف کی تقدیرہ شیئًا تتخذون منہ ای وان من ثمرات النخیل شیئًا۔
1 ؎ ھو اسم جمع لاجمع ولذلک عدہ سیبویہ فی المفردات المبنیۃ علی افعال کا خلاق و اکباش۔
تفسیر : قرآن مجید کا دستور ہے کہ وہ ایک اصول میں گفتگو کر کے دوسرے اصول کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ الہیات کے بعد معاد اور کبھی نبوات اور کبھی…
Read the full tafseer →وَاِنَّ لَکُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَۃً ط نُسْقِیْکُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِہٖ مِنْ م بَیْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبْنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلْشّٰرِبِیْنَ ۔ (سورۃ النحل : 66)
(اور بیشک تمہارے لیے چوپایوں میں ایک عبرت ہے، ہم ان کے پیٹوں کے اندر کے گوبر اور خون کے درمیان سے تم کو خالص دودھ پلاتے ہیں جو نہایت خوشگوار ہے پینے والوں کے لیے۔ )
ربوبیت کا فیضان دودھ کی صورت میں
آنحضرت ﷺ کی بعثت کے وقت انسان چونکہ اللہ تعالیٰ سے برگشتہ ہوچکا تھا، وہ اس کے ایک آستانے کو چھوڑ کر ہر آستانے پر ذلیل ہورہا تھا۔ پروردگار ان نعمتوں کا ذکر فرما کر جو روزانہ انسان کے استعمال میں آتی ہیں اسے سوچنے کی دعوت دے رہا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حیوانات اور نباتات کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے خالق، رازق ہونے کے ناقابل تردید دلائل۔
دوران خون (بلڈ سرکولیشن) اور دودھ :
قرآن پاک کا نزول، دوران خون کی وضاحت کرنے والے اولین مسلمان سائنس دان ابن نفیس سے 600 سال پہلے اور اس دریافت کو مغرب میں روشناس کروایا تھا۔ تقریباً تیرہ صدیاں پہلے یہ معلوم ہوا کہ آنتوں کے اندر ایسا کیا کچھ ہوتا ہے جو نظام ہاضمہ میں انجام پانے والے افعال کے ذریعے دیگر جسمانی اعضا کی نشوونما کی ضمانت فراہم کرتا ہے قرآن پاک کی ایک آیت مبارک، جو دودھ کے اجزاء کے ماخذ کی وضاحت کرتی ہے، اس تصور کے عین مطابق ہے۔
مذکورہ بالاتصور کے حوالے سے آیت قرآنی کو…
Read the full tafseer →قریشیوں میں نمونہ عبرت :
66: وَاِنَّ لَکُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَۃً نُسْقِیْکُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِہٖ ( اور تمہارے لے مویشیوں میں عبرت ہے۔ ہم تمہیں پلاتے ہیں اس چیز سے جو ان کے پیٹ میں ہے) قراءت : نافع، شامی اور ابوبکر نے نون کے فتحہ کے ساتھ نسقیکم پڑھا ہے۔ زجاج نے کہا سقیتہ واسقیتہ کا معنی ایک ہے۔ سیبویہ نے کہا انعام اسمائے مفردہ میں سے ہے۔ جو وزن افعال پر وارد ہوتے ہیں۔ اسی لئے ضمیر ان کی طرف مفرد لائی گئی۔ گویا یہ اسم جمع ہے۔ اور فی بطونھا ؔ جو سورة المؤمنون : 21 میں ہے۔ ضمیر کی تانیث اس لئے ہے کہ اس میں معنی جمع کا ہے اور یہ جملہ مستانفہ ہے گویا اس طرح کہا عبرت کس طرح حاصل ہو ؟ تو…
Read the full tafseer →(66) ” وان لکم فی الانعام لعبرۃ “ اس میں ان کے لیے نصیحت ہے۔ ” نسقیکم “ نون کے فتحہ کے ساتھ یہاں مذکور ہے اور سورة مومنین میں بھی اسی طرح ہے اور دوسرے قراء نافع، ابن عامر، ابوبکر، یعقوب اور باقی کے نزدیک ان دونوں کے ضمہ کے ساتھ ذکر کیا ہے اور اس میں دو لغتیں ہیں۔ ” مما فی بطونہ “ اس کی ضمیر کنایۃ انعام کی طرف لوٹ رہی ہے نعم انعام واحد ہیں اور لفظ نعم مذکر استعمال ہوتا ہے اور ابو عبیدہ واخفش نے ” نعم “ کو مذکر و مونث دونوں طرح ذکر کیا ہے اور جو اس کو مونث ذکر کرتے ہیں وہ جمع والا معنی ذکر کرتے ہیں۔ کسائی نے ” بطونہ “ کی ضمیر ما کی طرف راجع کیا ہے یعنی اس چیز کے پیٹ کے اندر سے جس کا ذکر اوپر…
Read the full tafseer →66۔ جانوروں اور دودھ والی عورتوں کے پیٹ میں غذا جا کر نجاست پیشاب خون دودھ سب کچھ اسی غذا سے بنتا ہے۔ قدرت الٰہی سے ایک چیز کا رنگ بو اثر دوسری چیز میں ہرگز کچھ باقی نہیں رہتا اگر آدمی غور کرے تو قدرت الٰہی کا یہ بڑا ایک نمونہ ہے اسی نمونہ قدرت کو یاد دلانے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے تاکہ غافل لوگ ہر روز کے کھانے پینے میں اپنی اولاد کے پلانے میں دودھ کا استعمال جو کرتے ہیں اس استعمال کے وقت دودھ کی پیدائش میں جو قدرت الٰہی ہے اسے وہ ذرا غور کریں اور قدرت کے ذریعہ سے اس قادر مطلق کو پہچان لیں دنیا میں نوکری تجارت، زراعت اللہ کے پیدا کئے ہوئے اسباب ہیں۔ ان اسباب سے روزی حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
آیت : (66-67)
(وان لکمفیالانعام) ” اور بیشک تمہارے لئے چوپایوں میں “ جن کو اللہ تعالٰ نے تمہارے فوائد کے لئے مسخر کیا (لعبرۃ) ” سوچنے کی جگہ ہے “ جس سے تم اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور وسعت احسان پر استدلال کرسکتے ہو کیونکہ اس نے تمہیں ان مویشیوں کے پیٹ سے (دودھ) پلایا جس کا مادہ گوبر اور خون پر مشتمل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے گوبر اور خون سے ایسا دودھ نکالا جو ہر قسم کی آلائش سے پاک اور اپنی لذت کی بنا پر پینے والوں کے لئے انتہائی خوش ذائقہ ہے ‘ نیزیہ کہ اس کو پیا جاتا ہے اور اس سے غذا حاصل کی جاتی ہے۔ کیا یہ سب کچھ طبیعی امور کی بجائے قدرت الہیہ نہیں ہے ؟ اس عالم طبیعیات میں کونسی چیز ہے جو…
Read the full tafseer →جانوروں کے دودھ کے بارے میں
قول باری ہے (نسقیکم مما فی بطونہ من بین فرس ودم لبنا خالصا سائقا للثاربین۔ ان کے پیٹ سے گوبر اور خون کے درمیان ہم ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں یعنی خالص دودھ جو پینے والوں کے لئے نہایت خوشگوار ہے) آیت میں مردہ بکری سے نکالے ہوئے دودھ کی طہارت پر دو وجوہ سے دلالت موجود ہے۔ اول دودھ کی اباحت میں لفظ کا عموم جس میں زندہ حالت میں جانور سے نکالے ہوئے دودھ اور مردہ حالت میں نکالے ہوئے دودھ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ دودھ گوبر اور خون کے درمیان سے خارج ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اس دودھ کی طہارت کا حکم لگا دیا…
Read the full tafseer →126۔ مویشوں میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے لئے (اے لوگو ! ) تمہارے ان مویشیوں میں بھی بڑا سامان عبرت و بصیرت ہے۔ یعنی تمہارے انہی مویشیوں میں جو کہ تمہارے آگے پیچھے چرتے پھرتے ہیں۔ اور اس طرح غور وفکر کا یہ سامان ہر وقت تمہارے سامنے موجود ہوتا ہے مگر تم لوگ ہو کہ نہ اس طرف کوئی توجہ دیتے اور نہ اس سے کوئی سبق لینے کی کوشش کرتے ہو۔ ورنہ اگر تم لوگ صحیح معنوں میں ان میں غور وفکر سے کام لوجو کہ ہر وقت تمہارے سامنے ہوتے ہیں اور جن کو تم دن رات دیکھتے اور ان سے طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ہو تو تمہیں انہیں سے عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ملیں۔ اور ایسے کہ تمہاری کا یا پلٹ…
Read the full tafseer →دودھ ایک عظیم نعمت باری تعالیٰ
تشریح : اس آیت میں اللہ کی طرف سے دی گئی ایک بہت بڑی نعمت کا ذکر ہے، یعنی دودھ۔ یہ اس قدر شفاف، فائدہ مند، غذائیت سے بھر پور، خوشبودار اور سفید ہوتا ہے کہ تمثیلاً کہا جاتا ہے دودھ کی طرح سفید۔ جب ہم غور کرتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ چوپائوں کے ذریعے انسان کے لیے مہیا کیا جاتا ہے۔ کیسی عجیب فیکٹری ہے دودھ بنانے کی۔ دودھ دینے والے جانوروں میں گائے، بھینس، اونٹ، بھیڑ، بکری، دنبہ، شامل ہیں۔ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ جانور جو کچھ کھاتا ہے اس سے اس کی اپنی غذا، اس کے بچے کی غذا اور پھر انسان کی غذا پیدا ہوتی ہے۔ وہی غذا جو وہ کھاتا ہے اس سے اس کے جسم کی طاقت اور نشوو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
(رکوع نمبر 9)
اسرارومعارف
ذرا جانوروں ہی کی تخلیق پر غور کرلو کہ ان کے معدے گوبر اور خون سے بھرے ہوتے ہیں مگر انہیں مادوں میں سے ایک حصے کو دودھ بنا دیتا ہے ان کے اندر ایسا نظام بنا دیا ہے کہ خون اور فضلات میں سے صاف ستھرا اور خوشگوار دودھ الگ ہو ، پینے والوں کے لیے ایک بہترین نعمت کی صورت میں نکلتا ہے یعنی ایسی عجیب شئے کہ بہترین غذا بھی ہے اور دوا بھی کہ قدرت نے ہر حیوان کی پہلی غذا یہی مقرر کردی ہے اس لیے حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ دودھ پیو دعا کرو ” اللھم بارک لنا فیہ وزدنامنہ “۔ کہ اے اللہ ہمارے لیے اس میں برکت دے اور یہ نعمت اور زیادہ عطا فرما ،
(اچھا اور لذیذ کھانا)
اور اس آیہ مبارکہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
ف 4 یعنی انکے پھلوں سے تم نشہ آور شراب بھی کشید کرتے ہو اور کھانے پینے کی دوسری عمدہ چیزیں بھی جیسے شربت سرکہ اور شکر وغیرہ واضح رہے کہ یہ آیت مکی ہے اور شراب مکہ میں حرام نہ ہوئی تھی بلکہ ہجرت کے بعد مدینہ میں حرام ہوئی تھی نزول آیت کے وقت لوگ اسے بلاتامل استعمال کرتے تھے۔ تاہم دوسری عمدہ چیزوں سے اس کا الگ ذکر کر کے اور اس کے لئے لفظ سکر استعمال کر کے متنبہ فرما دیا ہے کہ اس کا استعمال اچھا نہیں۔
Read the full tafseer →(16:66) عبرۃ۔ العبر کے اصل معنی ہیں ایک حالت سے دوسری حالت تک پہنچ جانا۔ مگر العبور کا لفظ خاص کر پانی عبور کرنے پر استعمال ہوتا ہے۔ خواہ کسی طریقہ سے کیا جائے بذریعہ اونٹ ۔ کشتی۔ پل ۔ یا تیر کر یا پیدل۔
العبرۃ اور الاعتبار اس حالت کو کہتے ہیں کہ جس کے ذریعے کسی دیکھی چیز کی وساطت سے ان دیکھے نتائج تک پہنچا جائے۔
امام رازی کے مطابق عبرۃ وہ نشانی ہے کہ جس کے ذریعہ سے جہالت کے مقام کو عبور کر کے علم تک رسائی ہوتی ہے۔
عبرت نصیحت حاصل کرنا۔ دوسرے کے حال سے اپنا حال قیاس کرنا۔
عبرۃ بوجہ عمل ان منصوب ہے۔
بطونہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کے پیٹ ۔ بطون بطن کی جمع ہے ہٖ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الانعام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
لغات القرآن آیت نمبر 66 تا 67
الانعام چوپائے، مویشی جانور۔ نسقیکم ہم تمہیں پلاتے ہیں، سیراب کرتے ہیں۔ بطون (لبطن) پیٹ۔ بین درمیان۔ فرث گوبر، جانور کی لید۔ دم خون۔ لبن دودھ، لسی۔ سائغ (سوغ) خوش گوار۔ شاربین پینے والے۔
تشریح : آیت نمبر 66 تا 67
کتاب و سنت میں اللہ تعالیٰ کی بےانتہا صفتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان ہی میں سے یہ صفت بھی ہے کہ وہ ” حی وقیوم “ ہے یعنی وہ زندہ ہے اور ہر چیز کو تھامے ہوئے ہے۔ اس کائنات میں انسان جتنا بھی غور کرتا ہے وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اس حی وقیوم ذات نے اس پورے نظام کائنات کو سنبھالا ہوا ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے اپنی اس کائنات اور اس کے نظام کو چلاتا ہے۔ چاند، سورج،…
Read the full tafseer →اس آیت میں فرمایا کہ جانوروں اور دودھ والی عورتوں کے پیٹ میں غذا جا کر نجاست، پیشاب، دودھ، خون سب کچھ بنتی ہے اور قدرت الہی سے ایک چیز کا رنگ دوسری چیز کے بلکل مختلف ہوتا ہے۔ اگر آدمی غور کرے تو قدرت الہی کا برا نمونہ ہے ور دنیا میں نوکری ، تجارت ، زراعت، اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے اسباب ہیں ان اسباب سے روزی حاصل کرنے سے بچہ عاجز ہوتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کا رزق پیدا کیا ہے اور جانوروں کے بچوں کے ساتھ انسان کا ساجھا بھی لگا دیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
[36] آیت 64 میں فرمایا تھا کہ قرآن ہدایت و رحمت ہے۔ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ یہ معاملہ ایسا ہی ہے جیسے باران رحمت کا نزول، جو خشک اور مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے اور یہ قرآن مردہ دلوں کو زندہ کردیتا ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت سے بعثت بعد الموت پر استدلال کیا ہے۔ یعنی اللہ جس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے اسی طرح وہ تمام انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
رسول فیصلہ کن تفصیلات بیان کرتا ہے ! :
(ف 1) ان آیات میں یہ بیان کیا ہے کہ پیغمبر خدا کا درجہ ومنصب کیا ہے ، حضور ﷺ سے قبل عقائد کے باب میں کثیر اختلاف تھا ، یہودی اور عیسائی باہم دست وگربیان تھے ، مجوسی اور مشرکین مکہ باہم دشمن تھے اسی طرح دہریوں میں اور دوسرے مذہب والوں میں اختلاف رائے تھا ،
حضور ﷺ کا منصب یہ ہے کہ ان کے درمیان حکم ہوں ، اور تمام اختلافات کو مٹا دیں ، فیصلہ کن تفصیلات سے سب کو آگاہ کردیں ، تاکہ جدال ومناظرہ کی گنجائش باقی نہ رہے ۔
(آیت) ” لتبین لہم “۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی ذمہ تفصیلات کا فرض عائد کیا گیا ہے ، جو لوگ اسوہ رسول کی حجت مسند نہیں سمجھتے ، انہیں اس آیت…
Read the full tafseer →66 ۔ آگے اور دلائل توحید وقدرت بیان فرماتے ہیں اور بلا شبہ تمہارے لئے چو پاپوں میں بھی غور و فکر کرنے اور سمجھنے کا مقام ہے وہ یہ ہے کہ ہم تم کو اس گوبر اور خون کے درمیان سے جو ان کے پیٹوں میں ہوتا ہے ایسا خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لئے خوشگوار اور خلق میں آسانی سے اترنے والا ہے۔ یعنی چوپاپوں کے پیٹ میں خون بھی ہے اور گوبر بھی ہے چو پائے غذا کو ہضم کرلیتے ہیں تو غذا میں سے خون بنتا ہے پھر اس خون میں سے صاف ستھرا دودھ تھنوں میں پہنچا دیا جاتا ہے جس کو تم دوہ لیتے ہو اور یہ سب باتیں چوپایوں کے پیٹ میں ہوتی ہیں اور اس طرح ہوتی ہیں کہ دودھ میں گوبر اور خون ملنے نہیں پاتا اور یہ خوشگوار…
Read the full tafseer →ف 2۔ آیت سے یہ مراد نہیں کہ پیٹ میں ایک طرف گوبر ہوتا ہے اور ایک طرف خون اور دونوں کے درمیان دودھ رہتا ہے بلکہ پیٹ میں جو غذا ہوتی ہے اس میں وہ اجزا جو آگے چل کردودھ بنیں گے اور وہ اجزاء جو گوبر بن جائیں گے سب مخلوط ہوتے ہیں اللہ ان کو جدا جدا کرتے ہیں کچھ گوبر بن کر وضع ہوجاتا ہے اور کچھ ہضم کبدی میں اخلاط بنتے ہیں جن میں خون بھی ہے پھر اس خون میں وہ حصہ جو آگے چل کر دودھ بنے گا اور وہ حصہ جو دودھ نہ بنے گا یہ دونوں مخلوط ہوتے ہیں اللہ ایک حصہ کو جدا کرکے پستان تک پہنچاتا ہے اور وہ وہاں پہنچ کر دودھ بن جاتا ہے۔
Read the full tafseer →ان جانوروں کے دودھ میں سمجھنے والوں کے لئے بڑی نشانی ہے :
76۔ زیر نظر آیت سے شروع کرکے آیت 69 تک ربوبیت الہی کی بخشائشوں کا خوب نقشہ کھینچا ہے اور ساتھ اس کی صنعت و حکمت کی کرشمہ سازیوں پر بھی توجہ دلائی ہے اور یہ بحیثیت مجموعی ربوبیت ‘ رحمت اور حکمت کا استدلال کیا ہے غور کرو کہ تمہاری غذا میں تین چیزیں سب سے زیادہ مفید اور لذیذ ہیں ، دودھ ‘ پھلوں کا عرق اور شہد ، تم میں سے کوئی نہیں جو ان تینوں نعمتوں سے آشنا نہ ہوا ہو ‘ یہ تمہاری روزانہ غذا کا جو ہر ‘ لذت طعام کا ذریعہ اور جسمانی شفا کا نسخہ ہے ، زیر نظر آیت میں دودھ کا ذکر فرمایا ۔ بلاشبہ ان گھریلو جانوروں کی ساخت و ترکیب اور ان کے اعضاء…
Read the full tafseer →Commentary
The pronoun in: بُطُونِہٖ (butunihi: their bellies) reverts back to: (al-an am: cattle). Since the word al-an’ am is plural in the feminine gender, it required that the word used for it should have been: بُطُونِھَا (butuniha), as it appears in Surah Al-Mu'minun: نُّسْقِيكُم مِّمَّا فِي بُطُونِهَا (We provide you, out of what there is in their bellies - 23:21).
Al-Qurtubi explains this by saying that consideration has been made of the meaning of the plural in Surah Al-Mu'minun where the pronoun has been used in the feminine gender. And, in Surah Al-Nahl, the pronoun has been used…
Read the full tafseer →54.“Between excretions and the blood”. This refers to the most wonderful process of the formation of pure milk in the bellies of the cattle. For, the fodder they eat turns into blood, filth and pure milk, which is altogether different from the first two in its nature, color and usefulness. Some cattle produce milk in such abundance that after suckling their young ones a large quantity of it is left to make excellent human food.
Read the full tafseer →