Explained with ayahs 63–65
شیطان کے دوست
اے نبی ﷺ آپ تسلی رکھیں۔ آپ کو آپ کی قوم کا جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں کون سا نبی آیا جو جھٹلایا نہ گیا ؟ باقی رہے جھٹلانے والے وہ شیطان کے مرید ہیں۔ برائیاں انہیں شیطانی وسو اس سے بھلائیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا ولی شیطان ہے وہ انہیں کوئی نفع پہنچانے والا نہیں۔ ہمیشہ کے لئے مصیبت افزا عذابوں میں چھوڑ کر ان سے الگ ہوجائے گا۔ قرآن حق و باطل میں سچ جھوٹ میں تمیز کرانے والی کتاب ہے، ہر جھگڑا اور ہر اختلاف کا فیصلہ اس میں موجود ہے۔ یہ دلوں کے لئے ہدایت ہے اور ایماندار جو اس پر عامل ہیں، ان کے لئے رحمت ہے۔ اس قرآن سے کس طرح مردہ دل جی اٹھتے ہیں، اس کی مثال مردہ زمین اور بارش کی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
سورة النَّحْل 53
دوسرے الفاظ میں، اس کتاب کے نزول سے ان لوگوں کو اس بات کا بہترین موقع ملا ہے کہ اوہام اور تقلیدی تخیلات کی بنا پر جن بیشمار مختلف مسلکوں اور مذہبوں میں یہ بٹ گئے ہیں ان کے بجائے صداقت کی ایک بڑی پائیدار بنیاد پالیں جس پر یہ سب متفق ہو سکیں۔ اب جو لوگ اتنے بیوقوف ہیں کہ اس نعمت کے آجانے پر بھی اپنی پچھلی حالت ہی کو ترجیح دے رہے ہیں وہ تباہی اور ذلت کے سوا اور کوئی انجام دیکھنے والے نہیں ہیں۔ اب تو سیدھا راستہ وہی پائے گا اور وہی برکتوں اور رحمتوں سے مالا مال ہوگا جو اس کتاب کو مان لے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
خلاصہ تفسیر
اور اگر اللہ تعالیٰ (ظالم) لوگوں پر ان کے ظلم (یعنی شرک وکفر) کے سبب (فی الفور دنیا میں پوری) دارو گیر فرماتے تو سطح زمین پر کوئی (حس) و حرکت کرنے والا نہ چھوڑتے (بلکہ سب کو ہلاک کردیتے لیکن (فی الفور داروگیر نہیں فرماتے بلکہ) ایک میعاد معین تک مہلت دے رہے ہیں (تاکہ اگر کوئی توبہ کرنا چاہے تو گنجائش ہو) پھر جب ان کا (وہ) وقت معین (نزدیک) آپہنچے گا اس وقت ایک ساعت نہ (اس سے) پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے (بلکہ فورا سزا ہو جائیگی) اور اللہ تعالیٰ کے لئے وہ امور تجویز کرتے ہیں جن کو خود (اپنے لئے) ناپسند کرتے ہیں (جیسا اوپر آیا ہے (آیت) وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ) اور…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 65 تا 83:۔ مشرکین کو ملامت اور پیغمبر ﷺ کو تسلی : اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں بخش رکھی ہیں آگے ان میں کچھ کو گنا کر مشرکین کو ملامت کی گئی ہے کہ ان میں سے کس نعمت کو وہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کرسکتے ہیں۔ پھر پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ جو لوگ جان بوجھ کر انجان بن رہے ہیں ان کو راستہ پر لا کھڑا کرنا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے، تمہاری ذمہ داری صرف حق کو پہنچا دینے کی ہے۔
وَاللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ۔
توحید کی دلیل توافق کے پہلو سے : آسمانوں سے پانی برسانا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
64۔ 1 اس میں نبی کا یہ منصب بیان کیا گیا کہ عقائد و احکام شرعیہ کے سلسلے میں یہود و انصاری کے درمیان اور اسی طرح مجوسیوں اور مشرکین کے درمیان اور دیگر اہل مذاہب کے درمیان جو باہم اختلاف ہے، اس کی اس طرح تفصیل بیان فرمائیں کہ حق اور باطل واضح ہوجائے تاکہ لوگ حق کو اختیار اور باطل سے پرہیز کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
26: یعنی یہ پٹی پڑھائی کہ تم جو اعمال کر رہے ہو وہی بہترین اعمال ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 65
پانی تو ہر چیز کی زندگی کا سامان ہے۔ قرآن مجید اسے پورے کرۂ ارض کے لئے علی العموم سامان حیات قرار دیتا ہے ، جو چیز بھی اس کرۂ ارض کی پشت پر ہو اور اللہ جو ہر چیز کو حالت مرونی سے زندگی کی حالت میں لاتا ہے وہی ہے جو الٰہ ہونے کے لائق و سزاوار ہے۔
ذلک لایۃ لقوم یسمعون (16 : 65) “ یقیناً اس میں ایک نشانی ہے سننے والوں کے لئے ” تا کہ وہ جس چیز کو سنیں اس پر غور کریں اور سمجھیں۔ یہی اصل مسئلہ ہے یہ کہ دلائل الوہیت اور دلائل حیات بعد الموت جس کا قرآن کریم با ربار تذکرہ کرتا ہے اور لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتا ہے اس کائنات میں جابجا بکھرے پڑے ہیں ، لیکن یہ آیات و معجزات ان لوگوں کے لئے ہیں…
Read the full tafseer →5 یعنی خشک زمین کو آسمانی بارش سے سرسبز کردیا گویا خشک ہونا زمین کی موت اور سرسبز و شاداب ہونا حیات ہے۔
6 یعنی اسی طرح قرآن سے جاہلوں کو عالم اور مردہ دلوں کو زندہ کردے گا۔ اگر توجہ قلبی اور انصاف سے سنیں گے۔
Read the full tafseer →اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ
یہ نشانی ان لوگوں کے لیے ہے جن کا سننا حیوانوں کا سا سننا نہ ہو بلکہ انسانوں کا سا سننا ہو۔ علامہ اقبال نے ”زبور عجم“ میں کیا خوب کہا ہے :
دم چیست ؟ پیام است ‘ شنیدی ‘ نشنیدی !
در خاک تو یک جلوۂ عام است ندیدی ؟
دیدن دگر آموز ! شنیدن دگر آموز !
یعنی سانس جو تم لیتے ہو یہ بھی اللہ کا ایک پیغام ہے ‘ یہ الگ بات ہے کہ تم اس پیغام کو سنتے ہو یا نہیں سنتے ہو۔ یہ درست ہے کہ تم خاک سے بنے ہو ‘ مگر تمہارے اسی خاکی وجود کے اندر ایک نور اور جلوۂ ربانی بھی موجود ہے۔ یہ روح ربانی جو تمہارے وجود میں پھونکی گئی ہے یہ جلوہ ربانی ہی تو ہے ‘ جسے تم دیکھتے ہی…
Read the full tafseer →62 بارش سے روئیدگی اور بعث بعد الموت پر ثبوت :۔ زمین خشک اور بالکل بےآب وگیاہ پڑی ہوتی ہے مگر برسات کے موسم میں ہر طرف جڑی بوٹیاں گھاس، درخت اور پودے وغیرہ از خود پیدا ہونے لگتے ہیں۔ جن کے بیج وغیرہ مدتوں پہلے زمین میں دبے ہوئے تھے۔ پھر اس موسم میں مینڈک اور کئی قسم کے ایسے حشرات الارض بھی پیدا ہوجاتے ہیں جن کا پہلے نام و نشان تک مٹ چکا تھا اور موسم کی شدت نے اس نوع کا کلیتاً خاتمہ کردیا تھا۔ مگر برسات کے موسم میں وہ بھی از سر نو پیدا ہوجاتے ہیں اور یہ منظر تم اپنی زندگی میں بار بار دیکھتے رہتے ہو۔ بالکل ایسی ہی صورت حال انسان کی دوبارہ پیدائش کی ہوگی۔ جب دوسری بار صور میں پھونکا جائے گا تو…
Read the full tafseer →95۔ (ان باتوں کو گوش ہوش سے) (آیت) ” واللہ۔۔۔ الارض “۔ اوپر سے پانی برسانی اور اس سے زمین خشک و مردہ کو از سر نو سرسبز کردینا، جو روز مرہ کا مشاہدہ ہے، یہ کام سب حق تعالیٰ ہی کا ہے، کسی دیوی دیوتا کا نہیں، اور نہ انسان کے اپنے بس کا۔ (آیت) ” لایۃ “۔ یعنی اللہ کی قدرت، ربوبیت، صناعی کی بڑی دلیل ہے۔ نباتات کی حیات تازہ ونو سے حشر وبعث اجساد کی طرف ہر فطرت سلیم والے کا ذہن آسانی سے منتقل ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
آیت نمبر 61 تا 65
ترجمہ : اگر معاصی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ لوگوں کی گرفت کرتا تو زمین پر چلنے پر ایک بھی چلنے والا (جاندار) نہ چھوڑتا لیکن وہ ان کو ایک مقررہ وقت تک ڈھیل دیتا ہے، سو جب ان کا وقت (مقرر) آجاتا ہے تو وہ اس سے نہ گھڑی پیچھے ہٹتے ہیں اور نہ آگے بڑھتے ہیں، اور اللہ کے لئے وہ چیز ثابت کرتے ہیں جسے وہ خود اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں، اور وہ چیزیں بیٹیاں اور ریاست میں شرکت اور اھانت رسول ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور وہ یہ کہ ان کے لئے اللہ کے نزدیک اچھا بدلہ ہے یعنی جنت جیسا کہ وہ کہتے ہیں اگر مجھے میرے رب کی طرف لوٹایا گیا تو یقیناً میرے لئے اس کے پاس اچھا بدلہ ہے، اللہ…
Read the full tafseer →وا اللہ انزل من السماء ماء فاحیا بہ الارض بعد موتھا اور اللہ ہی نے آسمان سے پانی برسایا ‘ پھر اس زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کیا۔ الْاَرْض سے مراد ہے : زمین کا سبزہ۔ زمین کو زندہ کیا ‘ یعنی اس کو سرسبز اور نامی بنایا۔ زمین کی موت سے مراد ہے : زمین کا خشک ہوجانا ‘ روح نباتی سے خالی ہوجانا۔
ان فی ذلک لایۃ لقوم یسمعون اس میں ایسے لوگوں کیلئے بڑی دلیل ہے جو سنتے ہیں۔ یعنی غور و فکر کے کانوں سے سننے والوں کیلئے خشک ‘ بےجان زمین کا پانی سے سرسبز و شاداب ہوجانا ‘ امکان قیامت کی بڑی دلیل ہے۔
Read the full tafseer →(65) اللہ تعالیٰ نے بارش برسا کر اس سے زمین کو خشک ہوجانے اور قحط سالی کے بعد زندہ کیا، اس امر میں ان لوگوں کے لیے جو اطاعت کرتے اور تصدیق کرتے ہیں، بڑی دلیل توحید ہے۔
Read the full tafseer →وَاللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً۔۔ : ”السَّمَاۗءِ“ ”سِمْوٌ“ سے مشتق ہے جس کا معنی بلندی ہے، اس لیے ہر اونچی چیز کو ”سَمَاءٌ“ کہہ لیتے ہیں۔ یہاں مراد بلندی سے اتارنا بھی ہوسکتا ہے اور بادل سے بھی۔ یہاں پانی کی نعمت کی طرف توجہ دلائی ہے جو زندگی کا اصل ہے، فرمایا : (ۭ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ) [ الأنبیاء : 30 ] ”اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز بنائی۔“ یعنی زمین مردے کی طرح خشک پڑی تھی، نہ اس میں زندگی کے کوئی آثار تھے، نہ گھاس پھونس، نہ پھول پتیاں اور نہ کیڑے مکوڑے، اتنے میں بارش ہوئی اور وہ دیکھتے دیکھتے چند دنوں میں ہری بھری اور تروتازہ ہوگئی اور اس میں ہر قسم کی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 65
قولہ تعالیٰ : واللہ انزل من السمآء مآء اور اللہ تعالیٰ نے بادل سے (پانی) اتارا۔ فاحیا بہ الارض بعد موتھا کلام نعمتوں کو شمار
کرنے اور کمال قدر کو بیان کرنے کی طرف لوٹ آیا ہے۔ ان فی ذلک لایۃ بیشک اس میں دوبارہ زندہ کئے جائے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلیل ہے جب انہوں نے یہ جان لیا کہ ان کا معبود کسی شے کی استطاعت نہیں رکھتا، تو یہ دلیل ہوجائے گی لقوم یسمعون ان لوگوں کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے (حق کی آواز) دلوں کے ساتھ سنتے ہیں نہ کہ کانوں کے ساتھ) فانھا لا تعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور۔ (الحج) (حقیقت تو یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتی بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
1:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو یواخذ اللہ الناس بظلمہم ما ترک علیھا من دآبۃ “ (اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑ لیتا) تو ان کو بارش (کا پانی) نہ پلاتا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اگر بارش نہ برسے تو زمین پر کوئی جانور باقی نہ رہے سب مرجائیں۔
3:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو یواخذ اللہ الناس بظلمہم ما ترک علیھا من دآبۃ “ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں ایسا کیا تھا نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں جو جانور سوار ہوگئے تھے وہ بچ گئے باقی زمین…
Read the full tafseer →[وَاللّٰهُ : اور اللہ نے ] [ انزَلَ : اتارا ] [ مِنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [ مَاۗءً : کچھ پانی ] [ فَاَحْيَا بِهِ : پھر اس نے زندہ کیا اس سے ] [ الْاَرْضَ : زمین کو ] [ بَعْدَ مَوْتِهَا ۭ: اس کی موت کے بعد ] [ ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [ لَاٰيَةً : یقینا ایک نشانی ہے ] [ لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لئے ] [ يَّسْمَعُوْنَ : جو کان دھرتے ہیں ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 65 میں ہے کہ آسمان سے پانی برستا ہے تو مردہ زمین جی اٹھتی ہے۔ اس کے آگے یہ نہیں فرمایا کہ اس میں ان کے لئے نشانی ہے جو دیکھتے ہیں بلکہ فرمایا کہ ان کے لئے نشانی ہے جو سن کر سمجھتے ہیں۔ اس سماعت کا تعلق گذشتہ آیت۔ 64 سے ہے جس میں…
Read the full tafseer →(وَاللّٰہُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا) (اور اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد پانی کے ذریعے زندہ فرمایا) جب زمین ہری بھری ہوگئی اور اس میں سے طرح طرح کے پھل میوے سبزیاں ترکاریاں حاصل ہوئیں تو انسانوں کے لیے اور ان کے جانوروں کے لیے غذا بن کر زندگی کا سہارا ہوگیا اللہ تعالیٰ نے زندگی بھی دی روحانی غذا بھی دی یعنی قرآن مجید عطا فرمایا اور اپنے رسول اللہ ﷺ کو ہادی بنا کر مبعوث فرمایا اور جسمانی غذا بھی دی یہ سب اس کا فضل ہے۔
(اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ) (اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو سنتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–83
رجور بسوئے دلائل توحید بتذکیر انعامات خداوند حمید
قال اللہ تعالیٰ : واللہ انزل من السماء .... الیٰ .... واکثرھم ھم الکفرون۔
(ربط) اوپر سے بہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کا ذکر چلا آرہا ہے اور پھر اسی طرح سے یہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کو بیان فرماتے ہیں اور یہ دلائل معاد بھی ہیں اور دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل ہدایت بھی ہیں اور دلائل رحمت بھی ہیں۔ دور تک اسی طرح سلسلہ کلام چلا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کے انعامات کو ذکر فرمایا جو علاوہ نعمت ہونے کے اس کے کمال علم اور کمال قدرت اور حکمت کے دلائل بھی ہیں۔
(1) چناچہ واللہ انزل من السماء ماء سے اپنی قدرت کا بیان شروع فرمایا کہ آسمان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
50:۔ یہ توحید پر پانچویں عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ بارش برسا کر مردہ اور ناکارہ زمین کو سرسبز و شاداب بنا دیتا ہے سمجھ رکھنے والوں کے لیے اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی بہت بڑی دلیل ہے۔ ” و ان لکم فی الانعام “ چوپایوں میں بھی تمہارے لیے عبرت کا سامان موجود ہے۔ ان کے پیٹ کے گوبر اور خون کے درمیان میں سے وہ خالص اور پاکیزہ دودھ نکالتا ہے جو ان دونوں ناپاک چیزوں کی آمیزش سے بالکل پاک اور مبرا ہوتا ہے اور ہر شخص کے لیے خوشگوار ہے۔ دودھ دینے والے چوپائے جو چارہ یا خوراک کھاتے ہیں ہضم معدے کے بعد جگر اس کے کار آمد اجزاء اپنی طرف جذب کرلیتا ہے اور گوبر معدہ میں رہ جاتا ہے جگر اس سیال مادے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
(ربط آیات)
گذشتہ رکوع کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے دلائل توحید بیان فرمائے اور دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ دو خدا نہ بناؤ بلکہ معبود برحق تو صرف ایک ہی ہے پھر اللہ نے مشرکوں کی مختلف کارگزاریوں کا ذکر فرمایا ، منجملہ ان کے ایک یہ بھی تھی کہ خدا تعالیٰ کی بیٹیوں کا تصور رکھتے تھے جو کہ اس کی شان میں گستاخی اور سخت بےادبی ہے ، فرمایا کہ اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہو مگر خدا تعالیٰ کی نسبت اپنی ناپسندیدہ مخلوق بیٹیوں کی طرف کرتے ہو ، ان کی حالت یہ تھی کہ اگر کسی شخص کو اس کی بیٹی کی ولادت کی خبر دی جاتی تو غم وغصہ اور ندامت کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا اور پھر وہ سوچنے لگتا کہ اس بیٹی کو ذلت…
Read the full tafseer →وَاللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ 65ۧ
ماء
قال تعالی: وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍ [ الأنبیاء/ 30] ، وقال : وَأَنْزَلْنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهُوراً [ الفرقان/ 48] ، ويقال مَاهُ بني فلان، وأصل ماء مَوَهٌ ، بدلالة قولهم في جمعه :
أَمْوَاهٌ ، ومِيَاهٌ. في تصغیره مُوَيْهٌ ، فحذف الهاء وقلب الواو،
( م ی ہ ) الماء
کے معنی پانی کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍ [ الأنبیاء/ 30] اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں ۔ وَأَنْزَلْنا مِنَ السَّماءِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
ترکیب : لعبرۃ اسم ان لکم خبر بطونہ بطون جمع بطن بمعنی شکم بطونہ کی ضمیر انعام کی طرف راجع ہے کیونکہ انعام 1 ؎ مذکر بھی ہے اور مونث بھی۔ من بین من للابتداء متعلق ہے نسقیکم سے لبنا مفعول ثانی ہے نسقیکم کا خالصًا سائغًا اس کی صفت و من ثمرات الخ محذوف سے متعلق ہے ای نسقیکم من ثمرات الخ تتخذون جملہ مستانفہ یا صفت ہے محذوف کی تقدیرہ شیئًا تتخذون منہ ای وان من ثمرات النخیل شیئًا۔
1 ؎ ھو اسم جمع لاجمع ولذلک عدہ سیبویہ فی المفردات المبنیۃ علی افعال کا خلاق و اکباش۔
تفسیر : قرآن مجید کا دستور ہے کہ وہ ایک اصول میں گفتگو کر کے دوسرے اصول کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ الہیات کے بعد معاد اور کبھی نبوات اور کبھی…
Read the full tafseer →وَاللّٰہُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَحْیَابِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 65)
(اور اللہ تعالیٰ ہی نے آسمان سے پانی اتارا، پس اس سے زمین کو زندہ کیا، اس کے مرجانے ( خشک ہوجانے) کے بعد، بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو بات کو سنتے ہیں۔ )
توحید کی دلیل تخالف
آنحضرت ﷺ کی دعوت تین اساسی باتوں پر مشتمل تھی جن کے قبول کرلینے پر ایمان کا دارومدار تھا۔ ان تین باتوں میں پہلی بات ہے توحید، اور دوسری بات آخرت اور تیسری رسالت ہے۔ اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کی دعوت کے ان تینوں اساسی اصولوں کو دلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔ سب…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : انسان کی زندگی اور دنیا کی بقا کے لیے پانی اس کی بقا کا ضامن ہے۔ اسی طرح انسان کی روحانی اور ایمانی زندگی کے لیے قرآن مجید تریاق اور آب حیات ہے۔
انسان کی روحانی اور ایمانی زندگی کا انحصار آسمانی وحی پر ہے آخری وحی قرآن مجید کی شکل میں نازل کی گئی ہے۔ اس کے بغیر انسان کی روح اور اس کا ایمان صحت مند اور توانا نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح انسان کی مادی زندگی کی بنیاد پانی پر رکھی گئی ہے۔
(أَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا أَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ أَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ )[ الانبیاء : 30]
” کیا…
Read the full tafseer →65: وَاللّٰہُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآ ئِ مَآ ئً فَاَحْیَابِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰ یَۃً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا پس اس کے ذریعہ زمین کو اس کے بنجر ہونے کے بعد زندہ کیا۔ بیشک اس میں سننے والے لوگوں کیلئے نشانی ہے) سننے سے مراد انصاف سے سننا ہے۔ اور غورو تدبر والا سماع ہے۔ کیونکہ جو دل کی توجہ سے نہیں سنتا گویا وہ سنتا ہی نہیں۔
Read the full tafseer →تفسیر (65)” واللہ انزل من السماء مائ “ اس سے مراد بارش ہے۔ ” فاحیا بہ الارض “ زمین کو زندہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں نباتات کو اگاتے ہیں۔ ” بعد موتھا “ اس کے بنجر ہونے پر یا پودوں کے سوکھ جانے کے بعد ” ان فی ذلک لایۃ لقوم یسمعون “ جن کے دل سنتے ہیں نہ کان۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
63۔ 65۔ اللہ پاک نے اپنی ذات مقدس کی قسم کھا کر آنحضرت ﷺ کی تسلی دینے کو یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ تم ان مشرکوں کی باتوں سے تنگ دل نہ ہو ہم نے تم سے پہلے پہلی امتوں میں بھی رسول بھیجے ہیں جنہیں ان لوگوں نے اسی طرح جھٹلایا ہے جس طرح کفار مکہ تم کو جھٹلاتے ہیں اور شیطان نے ان کے کاموں کو ایسی زیب وزینت دی کہ وہ لوگ شیطان کے وسوسہ سے گمراہی میں پڑے رہے اور اپنی عقل و سمجھ سے انہوں نے کچھ کام نہ لیا اس واسطے دنیا میں بھی ان کا ساتھی یہی شیطان ہے جس کے بہکانے میں وہ پڑے رہے اور آخرت میں بھی اسی کے ساتھ بہت سخت عذاب کے سزا وار ہوں گے اللہ پاک نے اپنے کلام پاک کی نسبت فرمایا کہ جو کچھ ہم…
Read the full tafseer →آیت : (65)
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ سب سے بڑی نعمت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے وعظ و تذکیر کو سمجھیں اور وہ اس حقیقت پر استدلال کریں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے صرف وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ بارش نازل کر کے اور مختلف اصناف کی نباتات اگا کر بندوں کو نعمتوں سے نوازتا ہے اور اس پر بھی استدلال کریں کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور وہ ہستی جس نے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ کیا ‘ وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قدرت رکھتی ہے اور وہ ہستی جس نے ان احسانات کو عام کیا ‘ وہ بےکراں رحمت اور عظیم سخاوت کی مالک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →124۔ وہی زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد : سو اسی طرح وہ تمہیں بھی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔ (کذلک تخرجون) سو زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرنے کے اس عمل میں عظیم الشان دلائل ہیں اس کی قدرت وحکمت کے۔ سو تم لوگ ذرا سوچو اور غور کرو کہ کس طرح وہ بارش کے اس آب حیات کے ذریعے مردہ پڑی ہوئی اس زمین کو حیات تازہ سے نوازتا اور سرفراز کرتا ہے جس سے آگے طرح طرح کی انگوریاں نکلتیں اور پیداواریں ابھرتی ہیں۔ جن تم لوگ طرح طرح سے فیضیاب و مستفید ہوتے ہو۔ سو تم لوگ ذرا سوچو اور غور کرو کہ وہ کیسا قادر مطلق، حکیم مطلق اور کتنا وہاب و کریم ہے۔ اور جو اس سب کے باوجود اس کے آگے نہ جھکے وہ کس قدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
رحمت الٰہی، کفار کو دردناک عذاب کی وعید اور نزول قرآن کا مقصد
تشریح : اللہ کی رحمتیں بیشمار ہیں اور سب کے لیے ہیں۔ اللہ کا نظام چل رہا ہے ہر کافر و مشرک اور مسلمان اس کی رحمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے مگر جو لوگ اس کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اچھی جزا پائیں گے جو ہدایات سے ہٹ کر بری زندگی گزارتے ہیں وہ بری جزا پائیں گے۔ اور یہ وقت اللہ کے منتخب کیے گئے پروگرام کے مطابق ٹھیک وقت پر ضرور آجائے گا۔ اور اس حقیقت سے ہر عقل مند آدمی خوب اچھی طرح واقف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
یہ لوگ اس قدر ظالم ہیں کہ اگر ان کے مشرکانہ عقاید وافعال پر اللہ جل جلالہ فورا گرفت فرمانے لگے تو ان میں سے کوئی بھی روئے زمین پر باقی نہ رہے اور ان کی گرفت ہوگی بچ نہ سکیں گے صرف انہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دی جاتی ہے اور جب وہ وقت مقررہ آجاتا ہے تو کسی کو مجال نہیں ہوتی کہ گھڑی بھر بھی اسے آگے پیچھے کرسکے ، ذرا گستاخی کی حد تو دیکھو کہ جو چیز خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے یعنی بیٹیاں وہ اللہ جل جلالہ کے لیے تجویز کرتے ہیں اور پھر ساتھ یہ جھوٹ بھی بولتے ہیں کہ اس پر انہیں انعامات نصیب ہوں گے مگر بلاشک ایسے لوگ کے لیے تو آگ ہی ہے جس میں وہ بدستور اضافہ کر رہے ہیں کہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
ف 2 پہلے مردے کی طرح خشک پڑی تھی۔ نہ اس میں زندگی کے کوئی آثار تھے۔ نہ گھاس پھونس نہ پھول پتیاں اور نہ کیڑے مکوڑے۔ اتنے میں بارش ہوئی اور وہ دیکھتے دیکھتے چند دنوں میں ہری بھری اور ترو تازہ ہوگئی اور اس میں ہر قسم کی سرسبزی و شادابی آگئی اور جگہ جگہ پانی کے چشمے پھوٹنے لگے کو یا مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندگی نصیب ہوئی۔
3 اس سے وہ با آسانی سمجھ سکتے ہیں کہ جو خدا زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندگی عطا فرما سکتا ہے وہ انسانوں کو بھی انکے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرسکتا ہے۔ اس کے لئے کوئی چیز مشکل نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
(16:64) لتبین لام تعلیل کا ہے۔ تبین مضارع واحد مذکر حاضر۔ تاکہ تو صاف صاف بیان کرے۔
ھدی ورحمۃ۔ انزلنا کے مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ یعنی ہم نے اسے ہدایت اور رحمت بنا کر نازل کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 65
یواخذ وہ پکڑتا ہے۔ ماترک اس نے نہ چھوڑا (وہ نہ چھوڑے گا) یوخر وہ مہلت دیتا ہے، تاخیر کرتا ہے۔ اجل مدت، موت۔ لایستاخرون نہ پیچھے ہٹ سکیں گے۔ لایستقدمون نہ وہ آگے بڑھیں گے۔ یکرھون وہ ناپسند کرتے ہیں۔ تصف ملوث ہوتے ہیں، کہتے ہیں۔ السنۃ (لسان) زبانیں۔ مفرطون آگے بڑھا رہے ہیں۔ زین خوبصورت بنا دیا۔ احیا اس نے زندگی دی۔ یستمعون وہ سنتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 61 تا 65
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کفار و مشرکین اللہ کی شان میں گستاخی کر گزرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں حالانکہ اللہ ہر عیب سے پاک ہے وہ بیٹا، بیٹی کا محتاج نہیں یہ خود…
Read the full tafseer →اللہ کی قدرت کے نمونے : اس آیت میں فرمایا یہ ہے کہ اگر یہ کفار بات سے بےخوف ہوں کہ کیسی قیامت اور کیسی دوزخ اور بہشت اور پھر مرنے کے بعد زندہ ہونا کیسا تو ان لوگوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خدا میں ہر طرح کی قدرت ہے۔ ایک ذرا سی بات یہ ہے کہ جب زمین میں خشکی کی انتہا ہوجاتی ہے اور سارے درخت خشک ہو ہو کر مردہ ہوجاتے ہٰں تو وہ آسمان سے مینہ برسا کر زمین کو تروتازہ کردیتا ہے اور پھر زمین زندہ ہوجاتی ہے اور درخت ہرے بھرے ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح اسے یہ بھی قدرت ہے کہ ہر جاندار کے فنا ہونے جانے کے بعد اسے زندہ کر دے گا۔ جو لوگ دل کے کان رکھتے ہیں اور اس کی مدد سے ہر ایک طرح کی باتوں کو سنتے ہیں اور غور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
[36] آیت 64 میں فرمایا تھا کہ قرآن ہدایت و رحمت ہے۔ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ یہ معاملہ ایسا ہی ہے جیسے باران رحمت کا نزول، جو خشک اور مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے اور یہ قرآن مردہ دلوں کو زندہ کردیتا ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت سے بعثت بعد الموت پر استدلال کیا ہے۔ یعنی اللہ جس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے اسی طرح وہ تمام انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
رسول فیصلہ کن تفصیلات بیان کرتا ہے ! :
(ف 1) ان آیات میں یہ بیان کیا ہے کہ پیغمبر خدا کا درجہ ومنصب کیا ہے ، حضور ﷺ سے قبل عقائد کے باب میں کثیر اختلاف تھا ، یہودی اور عیسائی باہم دست وگربیان تھے ، مجوسی اور مشرکین مکہ باہم دشمن تھے اسی طرح دہریوں میں اور دوسرے مذہب والوں میں اختلاف رائے تھا ،
حضور ﷺ کا منصب یہ ہے کہ ان کے درمیان حکم ہوں ، اور تمام اختلافات کو مٹا دیں ، فیصلہ کن تفصیلات سے سب کو آگاہ کردیں ، تاکہ جدال ومناظرہ کی گنجائش باقی نہ رہے ۔
(آیت) ” لتبین لہم “۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی ذمہ تفصیلات کا فرض عائد کیا گیا ہے ، جو لوگ اسوہ رسول کی حجت مسند نہیں سمجھتے ، انہیں اس آیت…
Read the full tafseer →65 ۔ اور اللہ تعالیٰ نے آسمان کی جانب سے پانی نازل کیا پھر اس پانی سے زمین کو اس کے مرنے اور خشک ہوجانے کے بعد زندہ کردیا بلا شبہ اس زمین کو مرے پیچھے زندہ کرنے میں ان لوگوں کے لڑے بڑی دلیل ہے جو توجہ اور دل کے ساتھ ان باتوں کو سنتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اسی طرح قرآن کریم جاہلوں کو عالم کرے گا اگر دل سے سنیں گے۔ 12 زمین کا مرنیکے بعد زندہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پانی برسنے کے بعد زمین میں پھر نمو کی قوت پیدا ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی اس کی قوت نامیہ کو بعد اس کے خشک ہوجانے سے کمزور ہوگئی تھی تقویت دی۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کی بارش سے دلوں کی مردہ زمین کو زندہ کردیا :
75۔ گزشتہ آیت میں کتاب کا نزول ہدایت ورحمت ہے اور اس جگہ اس کی وضاحت فرما دی کہ یہ معاملہ ایسا ہی ہے جیسے باران رحمت کا نزول ۔ وہ مردہ زمین کو زندہ کردیتی ہے یہ مردہ دلوں کو زندہ کردیتا ہے اس کی تشریح سورة الرعد میں بڑی تفصیل سے ذکر کی گئی جہاں اس کو ایک تمثیل کے رنگ میں سمجھایا گیا ، اس تمثیل میں اس علم کو جو نبی اعظم وآخر ﷺ پر بذریعہ وحی نازل کیا گیا تھا آسمانی بارش سے تشبیہ دی اور ایمان لانے والے سلیم الفطرت لوگوں کو ان ندی نالوں کی مانند ٹھہرایا گیا ہے جو اپنے اپنے ظرف کے مطابق باران رحمت سے بھرپور ہو کر رواں دواں ہوجاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
Also at the end of the third verse (60), in: وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (And He is the Mighty, the Wise), there is a hint that taking the birth of a baby girl to be nuisance and disgrace, and hiding from people because of it, amount to challenging Divine wisdom - as the creation of male and female among the created is the very requisite of wisdom. (Ruh a1-Bayan)
Ruling:
Clear indications are visible in these verses that taking the birth of a girl in the family to be a disaster or disgrace is not permissible under Islam. This is done by disbelievers. Quoting Shr'ah (شرعہ ) Tafsir Ruh…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
53. That is, this Book has afforded them an excellent opportunity to resolve their differences which have been caused by the superstitious creeds of their forefathers, and which have divided, them into warring factions. They can then unite on the permanent basis of the truth presented by the Quran, but those foolish people preferring their former condition even after the coming of this blessing, shall meet with disgrace and torment. On the other hand, only those, who believe in this Book, will find the right way and blessed with mercy and favors from Allah. 65. And Allah sends down from the…
Read the full tafseer →