Explained with ayahs 63–65
شیطان کے دوست
اے نبی ﷺ آپ تسلی رکھیں۔ آپ کو آپ کی قوم کا جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں کون سا نبی آیا جو جھٹلایا نہ گیا ؟ باقی رہے جھٹلانے والے وہ شیطان کے مرید ہیں۔ برائیاں انہیں شیطانی وسو اس سے بھلائیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا ولی شیطان ہے وہ انہیں کوئی نفع پہنچانے والا نہیں۔ ہمیشہ کے لئے مصیبت افزا عذابوں میں چھوڑ کر ان سے الگ ہوجائے گا۔ قرآن حق و باطل میں سچ جھوٹ میں تمیز کرانے والی کتاب ہے، ہر جھگڑا اور ہر اختلاف کا فیصلہ اس میں موجود ہے۔ یہ دلوں کے لئے ہدایت ہے اور ایماندار جو اس پر عامل ہیں، ان کے لئے رحمت ہے۔ اس قرآن سے کس طرح مردہ دل جی اٹھتے ہیں، اس کی مثال مردہ زمین اور بارش کی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
سورة النَّحْل 53
دوسرے الفاظ میں، اس کتاب کے نزول سے ان لوگوں کو اس بات کا بہترین موقع ملا ہے کہ اوہام اور تقلیدی تخیلات کی بنا پر جن بیشمار مختلف مسلکوں اور مذہبوں میں یہ بٹ گئے ہیں ان کے بجائے صداقت کی ایک بڑی پائیدار بنیاد پالیں جس پر یہ سب متفق ہو سکیں۔ اب جو لوگ اتنے بیوقوف ہیں کہ اس نعمت کے آجانے پر بھی اپنی پچھلی حالت ہی کو ترجیح دے رہے ہیں وہ تباہی اور ذلت کے سوا اور کوئی انجام دیکھنے والے نہیں ہیں۔ اب تو سیدھا راستہ وہی پائے گا اور وہی برکتوں اور رحمتوں سے مالا مال ہوگا جو اس کتاب کو مان لے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
خلاصہ تفسیر
اور اگر اللہ تعالیٰ (ظالم) لوگوں پر ان کے ظلم (یعنی شرک وکفر) کے سبب (فی الفور دنیا میں پوری) دارو گیر فرماتے تو سطح زمین پر کوئی (حس) و حرکت کرنے والا نہ چھوڑتے (بلکہ سب کو ہلاک کردیتے لیکن (فی الفور داروگیر نہیں فرماتے بلکہ) ایک میعاد معین تک مہلت دے رہے ہیں (تاکہ اگر کوئی توبہ کرنا چاہے تو گنجائش ہو) پھر جب ان کا (وہ) وقت معین (نزدیک) آپہنچے گا اس وقت ایک ساعت نہ (اس سے) پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے (بلکہ فورا سزا ہو جائیگی) اور اللہ تعالیٰ کے لئے وہ امور تجویز کرتے ہیں جن کو خود (اپنے لئے) ناپسند کرتے ہیں (جیسا اوپر آیا ہے (آیت) وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ) اور…
Read the full tafseer →وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُـبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوْا فِيْهِ ۙ وَهُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔
پیغمبر ﷺ کی ذمہ داری کی آخری حد : یہ پیغمبر ﷺ کی ذمہ داری کی حد بتا دی گئی ہے کہ یہ کتاب ہم نے تم پر اس لیے نہیں اتاری کہ لازماً تم اس کو لوگوں سے قبول ہی کرادو، اس کو قبول کرنا یا نہ کرنا لوگوں کی اپنی ذمہ داری ہے، تمہاری ذمہ داری صرف اس قدرت ہے کہ اس کے ذریعہ سے اس دین حق کو اچھی طرح واضح کردو جس میں لوگ مختلف ہوگئے ہیں تاکہ لوگوں کے لیے گمراہی پر جمے رہنے کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ نبی ﷺ احساس فرض کی شدت کے سبب سے بسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
64۔ 1 اس میں نبی کا یہ منصب بیان کیا گیا کہ عقائد و احکام شرعیہ کے سلسلے میں یہود و انصاری کے درمیان اور اسی طرح مجوسیوں اور مشرکین کے درمیان اور دیگر اہل مذاہب کے درمیان جو باہم اختلاف ہے، اس کی اس طرح تفصیل بیان فرمائیں کہ حق اور باطل واضح ہوجائے تاکہ لوگ حق کو اختیار اور باطل سے پرہیز کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
26: یعنی یہ پٹی پڑھائی کہ تم جو اعمال کر رہے ہو وہی بہترین اعمال ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
آیت نمبر 63 تا 64
پس اس آخری رسول اور اس آخری کتاب کا کام یہ ہے کہ وہ ان تمام مسائل کا فیصلہ کر دے جن میں امم سابقہ اور کتب سابقہ کے ماننے والوں کے درمیان اختلافات واقعہ ہوگئے تھے اور وہ طائفہ طائفہ اور فرقہ فرقہ ہوگئے تھے کیونکہ اصل حقیقت تو عقیدۂ توحید ہے اور عقیدۂ توحید کے اوپر جو شبہات ، شرک اور تشبیہات کے رنگ چڑھ گئے وہ سب باطل ہیں۔ قرآن کریم آیا ہی اس لیے ہے کہ وہ ان تمام باطل تصورات کو صاف کر کے رکھ دے اور ان لوگوں کے لئے باعث رحمت و ہدایت ہو جن کے قلوب ایمان و ایقان کے لئے کھلے ہوں اور وہ گوہر ایمان کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوں۔
٭٭٭
یہاں قرآن کریم نے اللہ کی الوہیت اور حاکمیت پر وہ…
Read the full tafseer →3 یعنی قرآن صرف اس لیے اتارا گیا ہے کہ جن سچے اصولوں میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں اور جھگڑے ڈال رہے ہیں (مثلاً توحید و معاد اور احکام حلال و حرام وغیرہ) ان سب کو وضاحت و تحقیق کے ساتھ بیان کر دے۔ کوئی اشکال و خفا باقی نہ رہے۔ گویا نبی کریم ﷺ بذریعہ قرآن تمام نزاعات کا دوٹوک فیصلہ سنا دیں اور بندوں پر خدا کی حجت تمام کردیں۔ آگے ماننا نہ ماننا خود مخاطبین کا کام ہے جسے توفیق ہوگی قبول کرے گا۔ آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
4 یعنی فیصلہ اور بیان تو سب کے لیے ہے لیکن اس کی ہدایت سے منتفع ہونا اور رحمت الٰہی کی آغوش میں آنا انہی کا حصہ ہے جو اس فیصلہ کو صدق دل سے تسلیم کرتے ہیں اور بطوع ورغبت ایمان…
Read the full tafseer →وَهُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ
اس آیت کو پڑھتے ہوئے سورة یونس کی یہ دو آیات بھی ذہن میں رکھیے :
يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ڏ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ 57 قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا ۭ ھُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ
”اے لوگو ! آگئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور تمہارے سینوں کے جو روگ ہیں ان کی شفا اور ہدایت اور اہل ایمان کے حق میں بہت بڑی رحمت۔ اے نبی ! ان سے کہہ دیجیے کہ یہ قرآن اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے نازل ہوا ہے تو چاہیے کہ لوگ اس پر…
Read the full tafseer →61 اختلافات کا خاتمہ کیسے ممکن ہے ؟ کفار مکہ سے اختلاف یہ تھے کہ آیا اللہ اکیلا ہی الٰہ ہے یا اس کے ساتھ دوسرے الٰہ بھی ہونا ضروری ہیں۔ قیامت قائم ہوگی یا یہ محض ایک وہم ہے فلاں حلال چیز کو اللہ نے حرام کیا ہے یا دوسروں نے یا فلاں حرام چیز کو کس نے حلال بنایا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ اور قرآن اس لیے اتارا گیا کہ ایسے سب مسائل کو وضاحت اور تحقیق کے ساتھ بیان کر دے تاکہ کچھ اشکال یا اشتباہ باقی نہ رہے اور رسول اللہ کا یہ کام تھا کہ آپ ایسی تمام اختلافی باتوں کا دو ٹوک فیصلہ سنا کر بندوں پر اللہ کی حجت قائم کردیں یہ تو دور نبوی کے اختلاف تھے اور آج کے اختلافی مسائل ان مسائل سے کچھ ملتے جلتے بھی ہیں اور…
Read the full tafseer →94۔ یعنی یہ کتاب الہی مومنین کے حق میں سراسر ہدایت و رحمت ہے۔ اور آپ ﷺ پر یہ اس لئے نازل ہوئی، کہ آپ ﷺ ان اہل باطل اور اہل حق کے درمیان جو معتقدات نزاعی ہیں، مثلا توحید یا معاد، اس باب میں مسلک حق کی خوب توضیح وتشریح کردیں، (آیت) ” لتبین “۔ نے ایک بار پھر اس حقیقت کو صاف کردیا کہ پیغمبر کا منصب محض من وعن، پیام پہنچا دینے کا نہیں، بلکہ اس کی شرح وترجمانی کردینے کا بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
آیت نمبر 61 تا 65
ترجمہ : اگر معاصی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ لوگوں کی گرفت کرتا تو زمین پر چلنے پر ایک بھی چلنے والا (جاندار) نہ چھوڑتا لیکن وہ ان کو ایک مقررہ وقت تک ڈھیل دیتا ہے، سو جب ان کا وقت (مقرر) آجاتا ہے تو وہ اس سے نہ گھڑی پیچھے ہٹتے ہیں اور نہ آگے بڑھتے ہیں، اور اللہ کے لئے وہ چیز ثابت کرتے ہیں جسے وہ خود اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں، اور وہ چیزیں بیٹیاں اور ریاست میں شرکت اور اھانت رسول ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور وہ یہ کہ ان کے لئے اللہ کے نزدیک اچھا بدلہ ہے یعنی جنت جیسا کہ وہ کہتے ہیں اگر مجھے میرے رب کی طرف لوٹایا گیا تو یقیناً میرے لئے اس کے پاس اچھا بدلہ ہے، اللہ…
Read the full tafseer →وما انزلنا علیک الکتب الا لتبین لھم الذی اختلفوا فیہ وھدی ورحمۃ لقوم یؤمنون : اور ہم نے یہ کتاب آپ پر صرف اسلئے نازل کی ہے کہ جن امور (دین) میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں ‘ آپ عام لوگوں پر اس کو ظاہر فرما دیں اور خاص طور پر ایمان والوں کیلئے ہدایت اور رحمت (بنا کر ہم نے یہ قرآن نازل کیا ہے) ۔
اخْتَلَفُوْا فِیْہِ یعنی توحید ‘ اللہ کی صفات ‘ تقدیر ‘ احوال قیامت ‘ انسانی افعال (کی تخلیق) اور اللہ کے احکام کے بارے میں لوگوں کے جو مختلف خیالات ہیں۔
Read the full tafseer →(64) اور ہم نے آپ پر یہ قرآن حکیم صرف اس لیے نازل کیا ہے کہ جن امور دین میں لوگوں میں اختلاف ہیں آپ لوگوں پر اس کو ظاہر کردیں اور اس پر ایمان لانے والوں کی گمراہیوں سے ہدایت اور عذاب سے رحمت کی غرض سے نازل فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ۔۔ : پہلی امتوں کی طرح اس وقت بھی جو لوگ شیطان کے خوش نما پھندوں میں گرفتار ہیں، ان کے لیے ہر اختلاف کا فیصلہ کرکے اصل حقیقت کھول کر بیان کرنے ہی کے لیے ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے۔ معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ پر کتاب نازل کرنے کا مقصد ان تمام چیزوں کی تبیین و وضاحت بھی ہے جس میں لوگ خود فیصلہ نہیں کرسکتے، اس لیے قرآن کی ہر بات کی تفصیل رسول اللہ ﷺ نے اپنے قول و عمل اور تقریر سے فرمائی، ورنہ اللہ کی عبادت نماز، زکوٰۃ، حج، روزہ غرض سب کچھ اختلاف کی نذر ہوجاتا، لوگ ایک طریقے پر متفق ہی نہ ہوسکتے، نہ کتاب اللہ پر عمل ہوسکتا۔ منکرین حدیث نبی ﷺ کی وضاحت کو ماننے کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 64
قولہ تعالیٰ : وما انزلنا علیک الکتب کتاب سے مراد قرآن کریم ہے۔ الا لتبین لھم الذی اختلفوا فیہ مگر اس لئے کہ آپ ان کے لئے دین اور احکام میں سے وہ بات صاف صاف بیان کردیں جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں پس آپ کے باین سے ان پر حجت قائم ہوجائے گی۔ اور ھدی ورحمۃ کالتبین کے محل پر عطف کیا گیا ہے کیونکہ اس کا محل نصب ہے۔ اور مجاز کلام یہ ہے : وما أنزلنا علیک الکتاب الا تبیانا للناس (اور ہم نے آپ پر کتاب نہیں اتاری مگر لوگوں کو وضاحت سے بیان کرنے کے لئے) ۔ ھدی مراد رشد، راہنمائی ہے۔ ورحمۃ یعنی مومنین کے لئے یہ سراپا ہدایت اور رحمت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
1:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو یواخذ اللہ الناس بظلمہم ما ترک علیھا من دآبۃ “ (اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑ لیتا) تو ان کو بارش (کا پانی) نہ پلاتا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اگر بارش نہ برسے تو زمین پر کوئی جانور باقی نہ رہے سب مرجائیں۔
3:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو یواخذ اللہ الناس بظلمہم ما ترک علیھا من دآبۃ “ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں ایسا کیا تھا نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں جو جانور سوار ہوگئے تھے وہ بچ گئے باقی زمین…
Read the full tafseer →[وَمَآ انزَلْنَا : اور ہم نے نہیں اتارا ] [ عَلَيْكَ : آپ ﷺ پر ] [ الْكِتٰبَ : اس کتاب کو ] [ اِلَّا : مگر اس واسطے ] [ لِتُـبَيِّنَ : کہ آپ ﷺ واضح کردیں ] [ لَهُمُ : ان کے لئے ] [ الَّذِي : اس کو ] [ اخْتَلَفُوْا : انھوں نے اختلاف کیا ] [ فِيْهِ ۙ: جس میں ] [ وَهُدًى: اور ہدایت کے واسطے ] [ وَّرَحْمَةً : اور رحمت کے واسطے ] [ لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لئے ] [ يُّؤْمِنُوْنَ : جو ایمان رکھتے ہیں ]
(آیت۔ 24) ۔ ھُدًی اور رَحْمَۃً کو یہاں حال کے بجائے مفعول لَہٗ ماننا بہتر ہے۔
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا (وَ مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ ) (الآیۃ) اور ہم نے آپ پر قرآن اسی لیے نازل کیا کہ جن چیزوں میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں آپ ان کے سامنے واضح طور پر حق واضح فرما دیں آپ کی تشریف آوری سے پہلے لوگوں میں اختلاف تھا کہ مردے زندہ ہوں گے یا نہیں اور فلاں چیز اللہ کے نزدیک حلال ہے یا حرام اور توحید میں بھی اختلاف رکھتے تھے بعض لوگ توحید کے قائل تھے اور اکثر شرک میں مبتلا تھے، شرک والے بھی اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو واضح طور پر حق بیان فرما دیا اب جو شخص حق کو نہ مانے گا وہ اپنا برا کرے گا۔
(وَ ھُدًی وَّ رَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ) (اور یہ قرآن ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
تسلیہ نبی اکرم ﷺ
قال اللہ تعالیٰ : تاللہ لقد ارسلنا الی امم من قبلک .... الیٰ .... لقوم یؤمنون۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں کفار کی جہالتوں کا ذکر تھا جس سے آنحضرت ﷺ کو تکلیف پہنچتی تھی اس لیے ان آیات میں آپ ﷺ کی تسلی فرماتے ہیں کہ ہم نے آپ ﷺ سے پہلے بھی قوموں کی طرف رسول بھیجے تھے سو شیطان نے ان لوگوں کو ایسا بہکایا کہ بری باتیں ان کی نظروں میں بھلی دکھائی دینے لگیں۔ شیطان ان لوگوں کا رفیق کار بنا رہا بالآخر ان کا جہنم کا راستہ دکھایا یہی حال اس وقت کے گمراہوں اور سرکشوں کا ہے لہٰذا اے نبی (کریم) ﷺ آپ رنجیدہ نہ ہوں اور غمگین نہ ہوں آپ ﷺ صرف ان سے احکام الٰہی بیان کردیا کیجئے۔ چاہے وہ مانیں یا نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
49:۔ زجر مع تخویف اخروی آپ سے پہلے ہم نے امم سابقہ کے پاس بہت سے رسول پیغام توحید دے کر بھیجے، جس طرح آپ کی قوم شیطان کے ورغلانے سے آپ کی تکذیب کر رہی ہے اسی طرح اقوام سابقہ کو بھی شیطان نے بہکایا پھسلایا اور مشرکانہ اعمال کو ان کے سامنے خوبصورت بنا کر پیش کیا اور انہیں انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب پر اکسایا۔ لہذا قیامت کے دن ان سب کا حامی شیطان ہوگا مگر وہ ان کی ذرہ بھر حمایت نہیں کرسکے گا اور وہ سب دردناک عذاب میں مبتلا کردئیے جائیں گے۔ ” و ما انزلنا علیک الخ “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے ہم نے آپ کو کتاب دے کر بھیجا ہے تاکہ آپ مسئلہ توحید اور حشر و نشر وغیرہ کو کھول کر لوگوں تک پہنچائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
(ربط آیات)
گذشتہ رکوع کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے دلائل توحید بیان فرمائے اور دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ دو خدا نہ بناؤ بلکہ معبود برحق تو صرف ایک ہی ہے پھر اللہ نے مشرکوں کی مختلف کارگزاریوں کا ذکر فرمایا ، منجملہ ان کے ایک یہ بھی تھی کہ خدا تعالیٰ کی بیٹیوں کا تصور رکھتے تھے جو کہ اس کی شان میں گستاخی اور سخت بےادبی ہے ، فرمایا کہ اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہو مگر خدا تعالیٰ کی نسبت اپنی ناپسندیدہ مخلوق بیٹیوں کی طرف کرتے ہو ، ان کی حالت یہ تھی کہ اگر کسی شخص کو اس کی بیٹی کی ولادت کی خبر دی جاتی تو غم وغصہ اور ندامت کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا اور پھر وہ سوچنے لگتا کہ اس بیٹی کو ذلت…
Read the full tafseer →وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُـبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوْا فِيْهِ ۙ وَهُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ 64
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض )
اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
تاللّٰہ الخ سے یہ بات بتلاتا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں پہلے بھی ہم نے قوموں کی طرف رسول بھیجے تھے سو شیطان نے ان قوموں کو ایسا بہکایا کہ بری باتوں کو ان کی نظروں میں بھلا کر دکھایا آج کے دن بھی وہی شیطان ان لوگوں کا رفیق بن کر بہکا رہا ہے ‘ جہنم کا رستہ بتا رہا ہے اس لیے ہم نے اے محمد ! تم پر قرآن نازل کیا کہ آپ ان کو مطلع کردیں اور نیز نیکو کاروں کے لیے یہ قرآن ہدایت و رحمت بھی ہے۔
Read the full tafseer →وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ اَلاَّ لِتُبَیِّنَ لَھُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لا وَھُدًی وَّرَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْن۔ (سورۃ النحل : 64)
(اور ہم نے آپ ﷺ پر کتاب صرف اس لیے اتاری ہے تاکہ آپ ﷺ ان پر اچھی طرح اس چیز کو واضح کردیں جس میں وہ مختلف ہوگئے اور یہ کتاب سراپا ہدایت و رحمت ہے، ان لوگوں کے لیے جو اس پر ایمان لائے۔ )
آنحضرت ﷺ کی منصبی ذمہ داری
اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کی منصبی حیثیت کو دو حوالوں سے واضح کرنا مقصود ہے۔ ایک حیثیت یہ کہ آپ ﷺ یقینا اللہ تعالیٰ کے رسول بن کے آئے ہیں اور آپ ﷺ پر اللہ تعالیٰ نے آخری کتاب اتاری ہے جو کتاب ہدایت ہے۔ اور یہ ایسی کتاب ہے جو زمین…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بیشک مشرکوں کے بد عقیدہ ہونے کی وجہ سے ان پر شیطان مسلّط ہوچکا ہے۔ لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ لوگوں کو سمجھاتے رہیں۔
منصب نبّوت کی ذمہ داریوں میں آپ ﷺ کی پہلی ذمہ داری یہ تھی کہ آپ لوگوں کو اللہ کا قرآن سنائیں اور سمجھائیں۔ بیشک اس کے مقابلے میں کتنی ہی مشکلات برداشت کرنا پڑیں۔ بالخصوص عقیدۂ توحید اور ان مسائل کو کھول کر بیان کریں جن میں لوگ اختلاف کرتے ہیں۔ جو لوگ اخلاص نیت سے توحید سمجھنے اور دینی مسائل جاننے کی کوشش کریں گے اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے ضرور ہدایت عنایت فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت بنا کر بھیجا گیا جو اس پر…
Read the full tafseer →قرآن کو رحمت بنا کر ہم نے اتارا :
64: وَمَآ اَنْزَلَنْاَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ (اور ہم نے یہ کتاب آپ پر اس لئے اتاری ہے) الکتاب سے قرآن مجید مراد ہے۔ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ (اسلئے کہ آپ انکے سامنے ظاہر کردیں) ھمؔ سے لوگ مراد ہیں۔ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْہِ (جن امور پر لوگ اختلاف کر رہے ہیں) وہ اختلاف دوبارہ اٹھنے پر ہے۔ کیونکہ ان میں کچھ لوگ وہ تھے جو اس پر یعنی دوبارہ اٹھنے پر ایمان لاتے تھے۔ وَھُدًی وَّرَحْمَۃً (اور ہدایت و رحمت ہے) ۔
نحو : یہ دونوں لِتُبَیِّنَ کے محل پر معطوف ہیں مگر ان دونوں کا نصب مفعولیت کی وجہ سے ہے کیونکہ یہ دونوں اس ذات کے فعل ہیں جس نے کتاب کو نازل کیا اور تبین کا…
Read the full tafseer →(64) ” وما انزلنا علیک الکتاب الا لتبین لھم الذی اختلفوا فیہ “ دین اور احکام میں ان کے ساتھ اختلاف کرتے ہیں۔” وھدی ورحمۃ لقوم یومنون “ جو ہم نے تمہارے اوپر کتاب نازل کی وہ محض واضح، ہدایت اور رحمت ہے۔ عدی اور رحمت کا عطف ” لتبین “ پر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
63۔ 65۔ اللہ پاک نے اپنی ذات مقدس کی قسم کھا کر آنحضرت ﷺ کی تسلی دینے کو یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ تم ان مشرکوں کی باتوں سے تنگ دل نہ ہو ہم نے تم سے پہلے پہلی امتوں میں بھی رسول بھیجے ہیں جنہیں ان لوگوں نے اسی طرح جھٹلایا ہے جس طرح کفار مکہ تم کو جھٹلاتے ہیں اور شیطان نے ان کے کاموں کو ایسی زیب وزینت دی کہ وہ لوگ شیطان کے وسوسہ سے گمراہی میں پڑے رہے اور اپنی عقل و سمجھ سے انہوں نے کچھ کام نہ لیا اس واسطے دنیا میں بھی ان کا ساتھی یہی شیطان ہے جس کے بہکانے میں وہ پڑے رہے اور آخرت میں بھی اسی کے ساتھ بہت سخت عذاب کے سزا وار ہوں گے اللہ پاک نے اپنے کلام پاک کی نسبت فرمایا کہ جو کچھ ہم…
Read the full tafseer →آیت : ( 64)
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ! ﷺ ہم نے آپ پر یہ قرآن صرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ آپ توحید ‘ تقدیر ‘ احکام افعال اور احوال معاذ کے بارے میں ان کے اختلاف کے موقع پر ان کے سامنے حق واضح کردیں تاکہ اللہ تعالیٰ اور اس کی نازل کردہ کتاب پر ایمان رکھنے والوں کے لئے کامل ہدایت اور بےپایاں رحمت ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →122۔ حدیث رسول کے توسط کے بغیر قرآن حکیم کو سمجھنا ممکن نہیں : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہا ہم نے اس قرآن کو آپ کی طرف اس لئے اتارا، تاکہ آپ کھول کر بیان کریں لوگوں کے لئے (اے پیغمبر ﷺ اس کی مراد گو کہ آپ کی تبیین وتعلیم کے بغیر قرآنی مطالب ومعانی تک رسائی کسی کے لئے ممکن نہیں۔ اور پیغمبر کی اس تعلیم و تلقین اور توضیح و تشریح کو حدیث رسول کہا جاتا ہے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ حدیث رسول حجت قطعی ہے۔ اس کے بغیر قرآن پاک کو صحیح طور پر سمجھنا ممکن ہی نہیں۔ سو قطعی گمراہ ہیں وہ لوگ جو حدیث رسول کی حجیت کا انکار کرکے یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم حدیث رسول کے توسط کے بغیر قرآن کو از خود سمجھ سکتے ہیں اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
رحمت الٰہی، کفار کو دردناک عذاب کی وعید اور نزول قرآن کا مقصد
تشریح : اللہ کی رحمتیں بیشمار ہیں اور سب کے لیے ہیں۔ اللہ کا نظام چل رہا ہے ہر کافر و مشرک اور مسلمان اس کی رحمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے مگر جو لوگ اس کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اچھی جزا پائیں گے جو ہدایات سے ہٹ کر بری زندگی گزارتے ہیں وہ بری جزا پائیں گے۔ اور یہ وقت اللہ کے منتخب کیے گئے پروگرام کے مطابق ٹھیک وقت پر ضرور آجائے گا۔ اور اس حقیقت سے ہر عقل مند آدمی خوب اچھی طرح واقف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
یہ لوگ اس قدر ظالم ہیں کہ اگر ان کے مشرکانہ عقاید وافعال پر اللہ جل جلالہ فورا گرفت فرمانے لگے تو ان میں سے کوئی بھی روئے زمین پر باقی نہ رہے اور ان کی گرفت ہوگی بچ نہ سکیں گے صرف انہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دی جاتی ہے اور جب وہ وقت مقررہ آجاتا ہے تو کسی کو مجال نہیں ہوتی کہ گھڑی بھر بھی اسے آگے پیچھے کرسکے ، ذرا گستاخی کی حد تو دیکھو کہ جو چیز خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے یعنی بیٹیاں وہ اللہ جل جلالہ کے لیے تجویز کرتے ہیں اور پھر ساتھ یہ جھوٹ بھی بولتے ہیں کہ اس پر انہیں انعامات نصیب ہوں گے مگر بلاشک ایسے لوگ کے لیے تو آگ ہی ہے جس میں وہ بدستور اضافہ کر رہے ہیں کہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
ف 2 پہلے مردے کی طرح خشک پڑی تھی۔ نہ اس میں زندگی کے کوئی آثار تھے۔ نہ گھاس پھونس نہ پھول پتیاں اور نہ کیڑے مکوڑے۔ اتنے میں بارش ہوئی اور وہ دیکھتے دیکھتے چند دنوں میں ہری بھری اور ترو تازہ ہوگئی اور اس میں ہر قسم کی سرسبزی و شادابی آگئی اور جگہ جگہ پانی کے چشمے پھوٹنے لگے کو یا مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندگی نصیب ہوئی۔
3 اس سے وہ با آسانی سمجھ سکتے ہیں کہ جو خدا زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندگی عطا فرما سکتا ہے وہ انسانوں کو بھی انکے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرسکتا ہے۔ اس کے لئے کوئی چیز مشکل نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
(16:64) لتبین لام تعلیل کا ہے۔ تبین مضارع واحد مذکر حاضر۔ تاکہ تو صاف صاف بیان کرے۔
ھدی ورحمۃ۔ انزلنا کے مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ یعنی ہم نے اسے ہدایت اور رحمت بنا کر نازل کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 65
یواخذ وہ پکڑتا ہے۔ ماترک اس نے نہ چھوڑا (وہ نہ چھوڑے گا) یوخر وہ مہلت دیتا ہے، تاخیر کرتا ہے۔ اجل مدت، موت۔ لایستاخرون نہ پیچھے ہٹ سکیں گے۔ لایستقدمون نہ وہ آگے بڑھیں گے۔ یکرھون وہ ناپسند کرتے ہیں۔ تصف ملوث ہوتے ہیں، کہتے ہیں۔ السنۃ (لسان) زبانیں۔ مفرطون آگے بڑھا رہے ہیں۔ زین خوبصورت بنا دیا۔ احیا اس نے زندگی دی۔ یستمعون وہ سنتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 61 تا 65
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کفار و مشرکین اللہ کی شان میں گستاخی کر گزرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں حالانکہ اللہ ہر عیب سے پاک ہے وہ بیٹا، بیٹی کا محتاج نہیں یہ خود…
Read the full tafseer →یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک کی نسبت فرمایا کہ جو کچھ ہم اتارتے ہیں وہ اس واسطے ہے کہ تم ان لوگوں کے اختلاف کی حقیقت کھول کر بتلا دو کہ توحید اور قیامت کا قائم ہونا اور احکام دین جس کے یہ منکر ہیں اور جو اس پر ایمان رکھتے ہیں ان کا فیصلہ ظاہر ہوجاوے کہ کون ان میں حق پر ہے اور کون جہالت میں پڑا ہوا ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ قرآن پاک اس ایمان دار بندے کے لئے ہدایت اور رحمت ہے جو اس کو پڑھتا ہے اور غور کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
[35] مطلب یہ ہے کہ کسی اخروی زندگی کے اول تو یہ قائل ہی نہیں اور جو قائل ہیں بھی تو وہاں اپنے لئے چین ہی چین سمجھ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
رسول فیصلہ کن تفصیلات بیان کرتا ہے ! :
(ف 1) ان آیات میں یہ بیان کیا ہے کہ پیغمبر خدا کا درجہ ومنصب کیا ہے ، حضور ﷺ سے قبل عقائد کے باب میں کثیر اختلاف تھا ، یہودی اور عیسائی باہم دست وگربیان تھے ، مجوسی اور مشرکین مکہ باہم دشمن تھے اسی طرح دہریوں میں اور دوسرے مذہب والوں میں اختلاف رائے تھا ،
حضور ﷺ کا منصب یہ ہے کہ ان کے درمیان حکم ہوں ، اور تمام اختلافات کو مٹا دیں ، فیصلہ کن تفصیلات سے سب کو آگاہ کردیں ، تاکہ جدال ومناظرہ کی گنجائش باقی نہ رہے ۔
(آیت) ” لتبین لہم “۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی ذمہ تفصیلات کا فرض عائد کیا گیا ہے ، جو لوگ اسوہ رسول کی حجت مسند نہیں سمجھتے ، انہیں اس آیت…
Read the full tafseer →64 ۔ اور اے پیغمبر ہم نے یہ کتاب یعنی قرآن کریم آپ پر صرف اس لئے اتارا ہے کہ جن باتوں میں اور جن امور میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں آپ عام لوگوں کے لئے اس کی حقیقت واضح کردیں اور صاف طور سے بیان کردیں اور اہل ایمان اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ان کے لئے یہ قرآن کریم سبب ہدایت اور سبب رحمت ہو۔ یعنی یوں تو اخلاقی امور مثلاً حلال حرام توحید ، شرک وغیرہ کی حقیقت اس قرآن کریم کے ذریعہ سب پر واضح کردیں یہ تو عام اث رہے اس قرآن کریم کا ۔ رہے مومن تو ان کی خاص ہدایت و رحمت کیلئے نازل فرمایا ہے جو اس سے ہدایت حاصل کرتا ہے اس کے لئے ہدایت و رحمت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
ف 3۔ غرض یہ لاحقین بھی ان سابقین کی طرح کفر کررہے ہیں اور ان ہی کی طرح ان کو سزا بھی ہوگی آپ کیوں غم میں پڑے۔
Read the full tafseer →ان چیزوں کی اچھائی ‘ برائی سمجھانے کے لئے تو ہم نے آپ پر ” ال کتاب “ نازل کی ہے :
74۔ (الکتاب) سے مراد کیا ہے ؟ ” ال کتاب “ سے مراد قرآن کریم ہے اور قرآن کریم کے سوا کسی اور صحیفہ نے یہ دعوی نہیں کیا کہ وہ مکمل ہے اور اس کے ذریعہ سے دین الہی اپنے تمام اصول و فروع ‘ مناسک ومناہج اور شرائع کے لحاظ سے تکمیل کو پہنچ گیا ہے بلکہ گزشتہ مذاہب میں سے ہر ایک نے اپنے وقت میں یہی کہا ہے کہ اس کے بعد ایک اور نبوت آئے گی جو اس کے کام کی تکمیل کرے گی جب کہ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا : ” میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
Also at the end of the third verse (60), in: وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (And He is the Mighty, the Wise), there is a hint that taking the birth of a baby girl to be nuisance and disgrace, and hiding from people because of it, amount to challenging Divine wisdom - as the creation of male and female among the created is the very requisite of wisdom. (Ruh a1-Bayan)
Ruling:
Clear indications are visible in these verses that taking the birth of a girl in the family to be a disaster or disgrace is not permissible under Islam. This is done by disbelievers. Quoting Shr'ah (شرعہ ) Tafsir Ruh…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
53. That is, this Book has afforded them an excellent opportunity to resolve their differences which have been caused by the superstitious creeds of their forefathers, and which have divided, them into warring factions. They can then unite on the permanent basis of the truth presented by the Quran, but those foolish people preferring their former condition even after the coming of this blessing, shall meet with disgrace and torment. On the other hand, only those, who believe in this Book, will find the right way and blessed with mercy and favors from Allah. 65. And Allah sends down from the…
Read the full tafseer →