Explained with ayahs 63–65
شیطان کے دوست
اے نبی ﷺ آپ تسلی رکھیں۔ آپ کو آپ کی قوم کا جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں کون سا نبی آیا جو جھٹلایا نہ گیا ؟ باقی رہے جھٹلانے والے وہ شیطان کے مرید ہیں۔ برائیاں انہیں شیطانی وسو اس سے بھلائیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا ولی شیطان ہے وہ انہیں کوئی نفع پہنچانے والا نہیں۔ ہمیشہ کے لئے مصیبت افزا عذابوں میں چھوڑ کر ان سے الگ ہوجائے گا۔ قرآن حق و باطل میں سچ جھوٹ میں تمیز کرانے والی کتاب ہے، ہر جھگڑا اور ہر اختلاف کا فیصلہ اس میں موجود ہے۔ یہ دلوں کے لئے ہدایت ہے اور ایماندار جو اس پر عامل ہیں، ان کے لئے رحمت ہے۔ اس قرآن سے کس طرح مردہ دل جی اٹھتے ہیں، اس کی مثال مردہ زمین اور بارش کی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
سورة النَّحْل 52
یعنی اپنے لیے جس بیٹی کو یہ لوگ اس قدر موجب ننگ و عار سمجھتے ہیں، اسی کو خدا کے لیے بلا تامل تجویز کردیتے ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ خدا کے لیے اولاد تجویز کرنا بجائے خود ایک شدید جہالت اور گستاخی ہے، مشرکین عرب کی اس حرکت پر یہاں اس خاص پہلو سے گرفت اس لیے کی گئی ہے کہ اللہ کے متعلق ان کے تصور کی پستی واضح کی جائے اور یہ بتایا جائے کہ مشرکانہ عقائد نے اللہ کے معاملے میں اب جو جس قدر جری اور گستاخ بنادیا ہے اور وہ کس قدر بےحس ہوچکے ہیں کہ اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے کوئی قباحت تک محسوس نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
خلاصہ تفسیر
اور اگر اللہ تعالیٰ (ظالم) لوگوں پر ان کے ظلم (یعنی شرک وکفر) کے سبب (فی الفور دنیا میں پوری) دارو گیر فرماتے تو سطح زمین پر کوئی (حس) و حرکت کرنے والا نہ چھوڑتے (بلکہ سب کو ہلاک کردیتے لیکن (فی الفور داروگیر نہیں فرماتے بلکہ) ایک میعاد معین تک مہلت دے رہے ہیں (تاکہ اگر کوئی توبہ کرنا چاہے تو گنجائش ہو) پھر جب ان کا (وہ) وقت معین (نزدیک) آپہنچے گا اس وقت ایک ساعت نہ (اس سے) پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے (بلکہ فورا سزا ہو جائیگی) اور اللہ تعالیٰ کے لئے وہ امور تجویز کرتے ہیں جن کو خود (اپنے لئے) ناپسند کرتے ہیں (جیسا اوپر آیا ہے (آیت) وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ) اور…
Read the full tafseer →تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔
کفار کو دھمکی، پیغمبر ﷺ کو تسلی : یہ کفار کو دھمکی اور پیغمبر ﷺ کے لی تسلی ہے کہ آج جو کچھ تمہیں پیش آرہا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ کچھ تم سے پہلے آنے والے رسولوں، ان کی قوموں کی طرف سے، پیش آچکا ہے۔ ہم نے اپنے رسوسل بھیجے کہ لوگ ان کے ذریعے سے ہدایت کی راہ اختیار کریں لیکن لوگوں نے رسولوں کے بجائے شیطان ہی کو اپنا رہنما بنایا۔ اس نے ان کی نگاہوں میں ان کے اعمال کھبا دیے اور وہ اپنی گمراہیوں سے نکلنے پر راضی نہ ہوئے۔ نتیجہ یہ نکلا…
Read the full tafseer →63۔ 1 جس کی وجہ سے انہوں نے بھی رسولوں کی تکذیب کی جس طرح پیغمبر قریش مکہ تیری تکذیب کر رہے ہیں۔
63۔ 2 اَلْیَوْمَ سے یا تو زمانہ دنیا مراد ہے، جیسا کہ ترجمے سے واضح ہے، یا اس سے مراد آخرت ہے کہ وہاں بھی یہ ان کا ساتھی ہوگا۔ یعنی یہی شیطان جس نے پچھلی امتوں کو گمراہ کیا، آج وہ ان کفار مکہ کا دوست ہے اور انھیں تکذیب رسالت پر مجبور کر رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
26: یعنی یہ پٹی پڑھائی کہ تم جو اعمال کر رہے ہو وہی بہترین اعمال ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
آیت نمبر 63 تا 64
پس اس آخری رسول اور اس آخری کتاب کا کام یہ ہے کہ وہ ان تمام مسائل کا فیصلہ کر دے جن میں امم سابقہ اور کتب سابقہ کے ماننے والوں کے درمیان اختلافات واقعہ ہوگئے تھے اور وہ طائفہ طائفہ اور فرقہ فرقہ ہوگئے تھے کیونکہ اصل حقیقت تو عقیدۂ توحید ہے اور عقیدۂ توحید کے اوپر جو شبہات ، شرک اور تشبیہات کے رنگ چڑھ گئے وہ سب باطل ہیں۔ قرآن کریم آیا ہی اس لیے ہے کہ وہ ان تمام باطل تصورات کو صاف کر کے رکھ دے اور ان لوگوں کے لئے باعث رحمت و ہدایت ہو جن کے قلوب ایمان و ایقان کے لئے کھلے ہوں اور وہ گوہر ایمان کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوں۔
٭٭٭
یہاں قرآن کریم نے اللہ کی الوہیت اور حاکمیت پر وہ…
Read the full tafseer →2 کفار مکہ کی گستاخیوں اور لغو و بیہودہ دعاوی کا ذکر کر کے پیغمبر (علیہ السلام) کو تسلی دیتے ہیں کہ آپ ان کی حرکتوں سے دلگیر اور رنجیدہ نہ ہوں۔ ہم نے آپ سے پہلے بھی مختلف امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے ہیں لیکن ہمیشہ یہ ہی ہوا کہ شیطان لعین مکذبین کو ان کے عمل اچھے کر کے دکھاتا رہا۔ اور وہ برابر شرارت میں بڑھتے رہے۔ آج وہ سب خدائی عذاب کے نیچے ہیں۔ اور شیطان جو ان کا رفیق ہے کچھ کام نہیں آتا۔ نہ ان کی فریاد کو پہنچ سکتا ہے۔ یہ ہی انجام آپ کے مکذبین کا ہوگا۔ بعض نے " فَہُوَ وَلِیُّہُمُ الْیَوْمَ " کا یہ مطلب لیا ہے کہ شیطان جس نے اگلوں کو بہکایا تھا وہ ہی آج ان کفار مکہ کا رفیق بنا ہوا ہے۔ لہذا جو…
Read the full tafseer →آیت 63 تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ
شیطان کے بہکاوے کے سبب وہ لوگ اس خوش فہمی میں رہے کہ ان کا کلچر ان کی تہذیب اور ان کی روایات سب سے اعلیٰ ہیں۔
Read the full tafseer →60 پہلے رسولوں کی امتوں کو بھی یہی کچھ سوجھتا رہا۔ وہ بھی دنیا کی دل فریبیوں اور دلچسپیوں میں مگن اور مست ہوگئے اور شیطان انھیں بھی یہی پٹی پڑھاتا رہا کہ تمہارا پروردگار اس وقت تم پر بڑا مہربان ہے لیکن بالآخر وہ اللہ کی گرفت میں آگئے اور ان کا نام و نشان بھی صفحہ ئہستی سے مٹ گیا۔ اور آج شیطان ان مکہ کے کافروں کو یہی کچھ سجھا رہا ہے اور جو کچھ یہ ظلم اور زیادتیاں مسلمانوں سے کر رہے ہیں، انھیں نہایت اچھے کام بناکر ان کا جی خوش کر رہا ہے لیکن انجام ان کا بھی وہی ہونے والا ہے جو پہلے لوگوں کا ہوا تھا۔ اس آیت میں الیوم سے مراد قیامت کا دن بھی لیا جاسکتا ہے۔ یعنی قیامت کے دن بھی شیطان ہی ان کا لیڈر…
Read the full tafseer →92۔ (اس لئے وہ لوگ پیغمبروں کی تعلیمات سے غیر متاثر رہ کر اپنے کفریات ہی کو پسند کرتے رہے) (آیت) ” زین۔۔۔ اعمالھم “۔ شیطانی تحریک اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ ایسی چیزوں کو جو واقعی حسن و زیبائی سے خالی ہیں، ظاہری اور عارضی خوشنمائی دے دیتی ہے۔ چناچہ جتنے بھی شیطانی اعمال ہیں، ان کا جائزہ لے ڈالیے، سب میں یہی چیز مشترک ملے گی، شرابی کو فوری اور عارضی لذت شراب میں محسوس ہوتی ہے، سینما باز کو سینما میں، جواری کو جوئے میں، وقس علی ھذہ۔ اس سے بچنے کا آسان اور مؤثر طریقہ صرف عقل اور قوت فکر کا صحیح استعمال ہے۔ جہان انسان نے غور وتأمل سے کام لیا، اور اشیاء کا اصلی حسن وقبح اس کی نظر میں ظاہر ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
آیت نمبر 61 تا 65
ترجمہ : اگر معاصی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ لوگوں کی گرفت کرتا تو زمین پر چلنے پر ایک بھی چلنے والا (جاندار) نہ چھوڑتا لیکن وہ ان کو ایک مقررہ وقت تک ڈھیل دیتا ہے، سو جب ان کا وقت (مقرر) آجاتا ہے تو وہ اس سے نہ گھڑی پیچھے ہٹتے ہیں اور نہ آگے بڑھتے ہیں، اور اللہ کے لئے وہ چیز ثابت کرتے ہیں جسے وہ خود اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں، اور وہ چیزیں بیٹیاں اور ریاست میں شرکت اور اھانت رسول ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور وہ یہ کہ ان کے لئے اللہ کے نزدیک اچھا بدلہ ہے یعنی جنت جیسا کہ وہ کہتے ہیں اگر مجھے میرے رب کی طرف لوٹایا گیا تو یقیناً میرے لئے اس کے پاس اچھا بدلہ ہے، اللہ…
Read the full tafseer →تا اللہ لقد ارسلنا الی امم من قبلک فزین لھم الشیطن اعمالھم بخدا ! آپ سے پہلے جو امتیں ہو گذری ہیں ‘ ان کے پاس بھی ہم نے رسولوں کو بھیجا تھا ‘ سو ان کو بھی شیطان نے ان کے (کفریہ) اعمال خوبصورت (پسندیدہ) بنا کر دکھائے۔ لَھُمْ یعنی اکثر امتوں کو۔ اعمال سے مراد ہیں : کفریہ اعمال ‘ شرک باللہ اور پیغمبروں کی تکذیب۔ شیطان نے اعمال کفر کو ان کی نظر میں پسندیدہ بنا دیا ‘ اسلئے وہ اپنے برے اعمال پر جمے رہے۔
فھو ولیھم الیوم ولھم عذاب الیم پس وہی شیطان آج (اس دنیا میں) ان (کفار قریش) کا (بھی) رفیق ہے اور قیامت کے دن ان کیلئے دردناک عذاب ہوگا۔ وَلِیُّھُم کی ضمیر کفار قریش کی طرف لوٹ رہی ہے۔ کلام کی رفتار…
Read the full tafseer →(63) بخدا آپ سے پہلے بھی دیگر امتوں کو شیطان نے ان کے اعمال کفریہ مستحسن کرکے دکھلائے اور وہ انبیاء کرام پر ایمان نہ لائے، وہ دنیا میں بھی ان کا رفیق تھا اور دوزخ میں بھی ان کے ساتھ ہوگا اور ان کے لیے آخرت میں دردناک عذاب مقرر ہے۔
Read the full tafseer →تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک کی قسم کھا کر فرمایا اور اپنی عظمت کے اظہار کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کیا کہ ”ہم“ نے رسول بھیجے، ورنہ اللہ تعالیٰ تو ایک ہے۔
فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ : تو شیطان جو ازلی دشمن تھا، اس نے ان کے وہی برے اعمال جو وہ کرتے تھے، مثلاً کفر و شرک اور دوسری کمینگیاں، وہ ان کے لیے ایسے خوش نما اور خوبصورت بنا دیے کہ انھوں نے سمجھا ہم بہت اچھے کام کر رہے ہیں، چناچہ اسی دھوکے میں انھوں نے رسولوں کی بات ماننے سے انکار کردیا۔
فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ۔۔ : تو وہی جو ہمیشہ کا دشمن تھا آج ان کا دوست بن گیا اور ظاہر ہے کہ جہاں ان…
Read the full tafseer →آیت نمبر 63
قولہ تعالیٰ : تاللہ لقد ارسلنا الی امم من قبلک فزین لھم الشیطن اعمالھم یعنی شیطان نے ان کے برے اعمال کو ان کے لئے آراستہ کردیا۔ یہ حضور نبی مکرم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ جو انبیاء (علیہم السلام) آپ سے پہلے تشریف لائے ہیں ان کی قوم نے ان کے ساتھ کفر کیا ہے۔ فھو ولیھم الیوم یعنی ان کے گمان کے مطابق وہی دنیا میں ان کا معاون و مددگار ہے۔ ولھم عذاب الیم اور ان کے لئے آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : فھو ولیھم پس وہی جہنم میں ان کا ساتھی ہوگا۔ الیوم مراد قیامت کا دن ہے، اور اس کے مشہور ہونے کی وجہ سے اس پر اسم الیوم کا اطلاق کیا گیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
1:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو یواخذ اللہ الناس بظلمہم ما ترک علیھا من دآبۃ “ (اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑ لیتا) تو ان کو بارش (کا پانی) نہ پلاتا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اگر بارش نہ برسے تو زمین پر کوئی جانور باقی نہ رہے سب مرجائیں۔
3:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو یواخذ اللہ الناس بظلمہم ما ترک علیھا من دآبۃ “ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں ایسا کیا تھا نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں جو جانور سوار ہوگئے تھے وہ بچ گئے باقی زمین…
Read the full tafseer →[تَاللّٰهِ : اللہ کی قسم ] [ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ : ہم یقینا بھیج چکے ہیں (رسولوں کو)] [ اِلٰٓى اُمَمٍ : کچھ امتوں کی طرف ] [ مِّنْ قَبْلِكَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [ فَزَيَّنَ : پھر مزیّن کیا ] [ لَهُمُ : ان کے لئے ] [ الشَّيْطٰنُ : شیطان نے ] [ اَعْمَالَهُمْ : ان کے اعمال کو ] [ فَهُوَ : تو وہ ہی ] [ وَلِيُّهُمُ : ان کا کارساز ہے ] [ الْيَوْمَ : آج کے دن (بھی)] [ وَلَهُمْ : اور ان سب کے لئے ] [ عَذَابٌ اَلِيْمٌ: ایک دردناک عذاب ہے ]
ترکیب : (آیت۔ 63) اَرْسَلْنَا کا مفعول رُسُلًا محذوف ہے۔
Read the full tafseer →پھر فرمایا (تَاللّٰہِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلآی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ ) (الآیۃ) اللہ کی قسم ہم نے امتوں کی طرف آپ سے پہلے رسول بھیجے جنہوں نے حق کی دعوت دی، شیطان نے ان کے اعمال کو مزین کرکے پیش کیا اور ان کے دلوں میں کفر و شرک کو اچھا کر دکھایا (لہٰذا انہوں نے شیطان ہی کی بات مانی اور حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ساتھ بری طرح پیش آئے، جس طرح ان حضرات نے صبر کیا آپ بھی صبر کریں اور یہ جان لیں کہ اللہ کے رسولوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ )
جب شیطان کی بات مانی تو وہ ہی دنیا میں ان کا ولی بنا اور آخرت میں بھی وہی ولی ہوگا اور اس کی دوستی انہیں لے ڈوبے گی اور اس کے ساتھ درد ناک عذاب میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
تسلیہ نبی اکرم ﷺ
قال اللہ تعالیٰ : تاللہ لقد ارسلنا الی امم من قبلک .... الیٰ .... لقوم یؤمنون۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں کفار کی جہالتوں کا ذکر تھا جس سے آنحضرت ﷺ کو تکلیف پہنچتی تھی اس لیے ان آیات میں آپ ﷺ کی تسلی فرماتے ہیں کہ ہم نے آپ ﷺ سے پہلے بھی قوموں کی طرف رسول بھیجے تھے سو شیطان نے ان لوگوں کو ایسا بہکایا کہ بری باتیں ان کی نظروں میں بھلی دکھائی دینے لگیں۔ شیطان ان لوگوں کا رفیق کار بنا رہا بالآخر ان کا جہنم کا راستہ دکھایا یہی حال اس وقت کے گمراہوں اور سرکشوں کا ہے لہٰذا اے نبی (کریم) ﷺ آپ رنجیدہ نہ ہوں اور غمگین نہ ہوں آپ ﷺ صرف ان سے احکام الٰہی بیان کردیا کیجئے۔ چاہے وہ مانیں یا نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
49:۔ زجر مع تخویف اخروی آپ سے پہلے ہم نے امم سابقہ کے پاس بہت سے رسول پیغام توحید دے کر بھیجے، جس طرح آپ کی قوم شیطان کے ورغلانے سے آپ کی تکذیب کر رہی ہے اسی طرح اقوام سابقہ کو بھی شیطان نے بہکایا پھسلایا اور مشرکانہ اعمال کو ان کے سامنے خوبصورت بنا کر پیش کیا اور انہیں انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب پر اکسایا۔ لہذا قیامت کے دن ان سب کا حامی شیطان ہوگا مگر وہ ان کی ذرہ بھر حمایت نہیں کرسکے گا اور وہ سب دردناک عذاب میں مبتلا کردئیے جائیں گے۔ ” و ما انزلنا علیک الخ “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے ہم نے آپ کو کتاب دے کر بھیجا ہے تاکہ آپ مسئلہ توحید اور حشر و نشر وغیرہ کو کھول کر لوگوں تک پہنچائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
(ربط آیات)
گذشتہ رکوع کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے دلائل توحید بیان فرمائے اور دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ دو خدا نہ بناؤ بلکہ معبود برحق تو صرف ایک ہی ہے پھر اللہ نے مشرکوں کی مختلف کارگزاریوں کا ذکر فرمایا ، منجملہ ان کے ایک یہ بھی تھی کہ خدا تعالیٰ کی بیٹیوں کا تصور رکھتے تھے جو کہ اس کی شان میں گستاخی اور سخت بےادبی ہے ، فرمایا کہ اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہو مگر خدا تعالیٰ کی نسبت اپنی ناپسندیدہ مخلوق بیٹیوں کی طرف کرتے ہو ، ان کی حالت یہ تھی کہ اگر کسی شخص کو اس کی بیٹی کی ولادت کی خبر دی جاتی تو غم وغصہ اور ندامت کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا اور پھر وہ سوچنے لگتا کہ اس بیٹی کو ذلت…
Read the full tafseer →تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 63
رسل
وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ،
( ر س ل ) الرسل
اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
تاللّٰہ الخ سے یہ بات بتلاتا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں پہلے بھی ہم نے قوموں کی طرف رسول بھیجے تھے سو شیطان نے ان قوموں کو ایسا بہکایا کہ بری باتوں کو ان کی نظروں میں بھلا کر دکھایا آج کے دن بھی وہی شیطان ان لوگوں کا رفیق بن کر بہکا رہا ہے ‘ جہنم کا رستہ بتا رہا ہے اس لیے ہم نے اے محمد ! تم پر قرآن نازل کیا کہ آپ ان کو مطلع کردیں اور نیز نیکو کاروں کے لیے یہ قرآن ہدایت و رحمت بھی ہے۔
Read the full tafseer →تَاللّٰہِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَزَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَھُمْ فَھُوَ وَلِیُّھُمُ الْیَوْمَ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (سورۃ النحل : 63)
(اللہ تعالیٰ کی قسم ہم نے آپ سے پہلے بھی مختلف قوموں کی طرف رسول بھیجے تو شیطانوں نے ان کے اعمال ان کی نگاہوں میں آراستہ کردیے تو اب وہی ان کا ولی ہے اور ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو مزید تسلی
اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی بھی دی گئی ہے کیونکہ قریش مکہ کی مخالفتوں اور ان کی ہدایت کو قبول نہ کرنے کے رویئے نے آنحضرت ﷺ کو بہت آزردہ کر رکھا تھا، تو آپ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ کافر، مشرک اور مجرم لوگ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے ہیں۔
چاہیے تو یہ تھا کہ کافر، مشرک اور مجرم لوگ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے فائدہ اٹھا کر اپنے عقائد اور جرائم سے توبہ کرتے۔ لیکن یہ لوگ اس مدت سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے بجائے اس قدر دلیر ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں اور اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہیں۔ جو سراسر زیادتی اور جھوٹ ہے۔ اس زیادتی اور کذب بیانی کے باوجود یہ خیال کرتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا کے اسباب و وسائل دے رکھے ہیں۔ اسی طرح آخرت میں…
Read the full tafseer →امتوں کی طرف رسول آئے مگر لوگ شیطان کے پیچھے چلے :
63: تَاللّٰہِ لَقَدْ اَرْسَلْنَا اِلٰٓی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ (اللہ کی قسم ہم نے آپ سے پہلی امتوں کی طرف رسول بھیجے) یعنی ہم نے آپ سے پہلی امتوں کی طرف رسول بھیجے۔ فَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَھُمْ (شیطان نے ان کے لئے ان کے اعمال کو مزین کیا) اعمال سے مراد کفر اور تکذیب رسل ہے۔ فَھُوَ وَلِیُّھُمُ الْیَوْمَ (وہی آج انکا دوست ہے) دنیا میں انکا ساتھی اور دھوکے کے ساتھ ان کے گمراہ کرنے کا ذمہ دار ہے۔ نمبر 2۔ ضمیر کا مرجع مشرکین قریش ہیں یعنی ان کفار کیلئے جو ان سے پہلے ہوئے شیطان نے ان کے لئے ان کے اعمال کو مزین کیا وہی شیطان آج انکادوست…
Read the full tafseer →(63)” تاللہ لقدر ارسلنا الی امم من قبلک “ جیسا کہ ہم نے بھیجا اس امت کی طرف۔” فزین لھم الشیطان اعمالھم “ اس سے برے اعمال مراد ہیں۔ ” فھو ولیھم “ ان کے مددگار ہوں گے۔” الیوم “ شیطان ان کا ولی تھا ان کے طاعت کے عوض۔ ” ولھم عذاب الیم “ ان کے لیے آخرت میں دردناک عذاب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
63۔ 65۔ اللہ پاک نے اپنی ذات مقدس کی قسم کھا کر آنحضرت ﷺ کی تسلی دینے کو یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ تم ان مشرکوں کی باتوں سے تنگ دل نہ ہو ہم نے تم سے پہلے پہلی امتوں میں بھی رسول بھیجے ہیں جنہیں ان لوگوں نے اسی طرح جھٹلایا ہے جس طرح کفار مکہ تم کو جھٹلاتے ہیں اور شیطان نے ان کے کاموں کو ایسی زیب وزینت دی کہ وہ لوگ شیطان کے وسوسہ سے گمراہی میں پڑے رہے اور اپنی عقل و سمجھ سے انہوں نے کچھ کام نہ لیا اس واسطے دنیا میں بھی ان کا ساتھی یہی شیطان ہے جس کے بہکانے میں وہ پڑے رہے اور آخرت میں بھی اسی کے ساتھ بہت سخت عذاب کے سزا وار ہوں گے اللہ پاک نے اپنے کلام پاک کی نسبت فرمایا کہ جو کچھ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
آیت : (62-63)
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے : (ویجعلون للہ مایکرھون) ” اور وہ کرتے ہیں اللہ کے لئے وہ ‘ جسے خود پسند نہیں کرتے “ یعنی خود بیٹیوں اور دیگر اوصاف قبیحہ کو ناپسند کرتے ہیں۔ اس سے مراد شرک ہے ‘ یعنی عبادت میں بعض ہستیوں کو کیسے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی غلام ہیں۔ (وتصف السنتھم الکذب ان لھم الحسنی) ” اور ان کی زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں کہ ان کے لئے بھلائی ہے۔ “ وہ اس عظیم برائی کے ساتھ ساتھ یہ جھوٹ بھی بولتے ہیں کہ ان کے لئے آخرت کی بھلائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : (لا جرم ان لھم النارو وانھم مفرطون) ” یقیناً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →121۔ اہل کفر وباطل کے لئے شیطان کی تزیین وتسویل ذکر وبیان۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پہلی امتوں کو بھی انبیائے رسل کے ذریعے حق کی دعوت دی گئی مگر شیطان نے ایسا خوشنما بنادیا ان کے لئے ان کے اعمال کو یہ وہ قبول حق کے لئے تیار نہ ہوئے۔ معلوم ہوا کہ برائی کو اچھائی کی شکل میں دکھانا شیطان کا کام اور اس کا پرانا اور معروف حربہ ہے۔ خواہ وہ جنوں میں ہوں یا انسانوں میں سے۔ سو اس سے ان اہل زیغ وضلال اور اصحاب فتنہ و فساد کو اپنے بارے میں سوچنا اور غور کرنا چاہئے جو کہ طرح طرح کی بدعات و خرافات اور شرکیات کو دین ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کی تحریفات وتلبیسات سے کام لیتے ہیں۔ اور انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
رحمت الٰہی، کفار کو دردناک عذاب کی وعید اور نزول قرآن کا مقصد
تشریح : اللہ کی رحمتیں بیشمار ہیں اور سب کے لیے ہیں۔ اللہ کا نظام چل رہا ہے ہر کافر و مشرک اور مسلمان اس کی رحمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے مگر جو لوگ اس کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اچھی جزا پائیں گے جو ہدایات سے ہٹ کر بری زندگی گزارتے ہیں وہ بری جزا پائیں گے۔ اور یہ وقت اللہ کے منتخب کیے گئے پروگرام کے مطابق ٹھیک وقت پر ضرور آجائے گا۔ اور اس حقیقت سے ہر عقل مند آدمی خوب اچھی طرح واقف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
یہ لوگ اس قدر ظالم ہیں کہ اگر ان کے مشرکانہ عقاید وافعال پر اللہ جل جلالہ فورا گرفت فرمانے لگے تو ان میں سے کوئی بھی روئے زمین پر باقی نہ رہے اور ان کی گرفت ہوگی بچ نہ سکیں گے صرف انہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دی جاتی ہے اور جب وہ وقت مقررہ آجاتا ہے تو کسی کو مجال نہیں ہوتی کہ گھڑی بھر بھی اسے آگے پیچھے کرسکے ، ذرا گستاخی کی حد تو دیکھو کہ جو چیز خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے یعنی بیٹیاں وہ اللہ جل جلالہ کے لیے تجویز کرتے ہیں اور پھر ساتھ یہ جھوٹ بھی بولتے ہیں کہ اس پر انہیں انعامات نصیب ہوں گے مگر بلاشک ایسے لوگ کے لیے تو آگ ہی ہے جس میں وہ بدستور اضافہ کر رہے ہیں کہ ہر…
Read the full tafseer →ف 13 یعنی کفر و شرک کے جن برے کاموں کا وہ ارتکاب کر رہے تھے۔
14 وہ سمجھے کہ بہت اچھے کام کر رہے ہیں چناچہ اس گھمنڈ میں آ کر انہوں نے انبیاء کی بات ماننے سے انکار کردیا۔
1 جو ان کے کسی کام نہیں آسکتا اور نہ ان کی فریاد کو پہنچ سکتا ہے۔ بعض مفسرین نے فھم ولیھم الیوم میں ھم ضمیر کا سرمرجع مکہ کو قرار دے کر اس جملہ کا یہ مطلب لیا ہے کہ شیطان جس نے پچھلے لوگوں کو بہکایا تھا وہی آج ان کفار مکہ کا رفیق ہے لہٰذا جو حشر ان کا ہوا وہی ان کا بھی ہوگا۔ اس آیت سے مقصد آنحضرت کو تسلی دینا ہے کہ آپ ان کفار کی حرکتوں سے نجیدہ اور کبیدہ خاطر نہ ہوں۔ (روح)
Read the full tafseer →(16:63) ارسلنا الی امم۔ ای ارسلنا رسلا الی امم۔ ہم نے رسولوں کو مختلف قوموں کی طرف بھیجا۔
اعمالہم۔ ای اعمال الکفرو التکذیب۔ انکار اور تکذیب کے اعمال۔
الیوم۔ سے مراد آج بھی ہوسکتا ہے یعنی رسول ِ اکرم کا زمانہ۔ اور اس سے مراد مطلقاً زمانہ دنیا بھی ہوسکتا ہے اور اس سے مراد ” آج قیامت کے دن “ بھی ہوسکتا ہے۔
ولہم عذاب الیم۔ ای ولہم عذاب الیم فی الاخرۃ اور (آخرت کے دن ) ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 65
یواخذ وہ پکڑتا ہے۔ ماترک اس نے نہ چھوڑا (وہ نہ چھوڑے گا) یوخر وہ مہلت دیتا ہے، تاخیر کرتا ہے۔ اجل مدت، موت۔ لایستاخرون نہ پیچھے ہٹ سکیں گے۔ لایستقدمون نہ وہ آگے بڑھیں گے۔ یکرھون وہ ناپسند کرتے ہیں۔ تصف ملوث ہوتے ہیں، کہتے ہیں۔ السنۃ (لسان) زبانیں۔ مفرطون آگے بڑھا رہے ہیں۔ زین خوبصورت بنا دیا۔ احیا اس نے زندگی دی۔ یستمعون وہ سنتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 61 تا 65
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کفار و مشرکین اللہ کی شان میں گستاخی کر گزرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں حالانکہ اللہ ہر عیب سے پاک ہے وہ بیٹا، بیٹی کا محتاج نہیں یہ خود…
Read the full tafseer →آنحضرت ﷺ کو تسلی : اللہ پاک نے اپنی ذات مقدس کی قسم کھا کر آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کو یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ تم ان مشرکون کی باتون سے تنگ دل نہ ہو، ہم نے تم سے پہلے پہلی امتوں میں بھی رسول بھییجے ہیں جنہیں ان لوگوں نے اسی طرح جھٹلایا ہے جس طرح کفار مکہ تم کو جھٹلاتے ہیں۔ اور شیطان نے ان کے کاموں کو ایسی زیب وزینت دی کہ وہ لوگ شیطان کے وسوسہ سے گمراہی میں پڑے رہے۔ اپنی عقل وسمجھ سے انہوں نے کچھ کام نہیں لیا اسی واسطے آخرت میں بھی اسی کے ساتھ بہت سخت عذاب کے سزاوار ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
[35] مطلب یہ ہے کہ کسی اخروی زندگی کے اول تو یہ قائل ہی نہیں اور جو قائل ہیں بھی تو وہاں اپنے لئے چین ہی چین سمجھ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →(ف 2) غرض یہ ہے انکار وتمرد کی عادت بہت پرانی ہے ان کفار مکہ سے قبل بھی لوگوں نے دعوت حق کو جھٹلایا ہے ، شیطان نے اس سے پہلے بھی اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے ، اس لیے آج اگر یہ لوگ اپنے آباؤ و اجداد کے نقش قدم پر جارہے ہیں تو تعجب کی کونسی بات ہے ۔
ہو سکتا ہے (آیت) ” ولیھم الیوم “۔ سے مراد قیامت کا دن ہو ، یعنی دنیا میں جب ان لوگوں نے شیطان کے ورغلانے پر گناہوں کا ارتکاب کیا ہے تو آج بھی انہیں شیطان ہی کی رفاقت حاصل ہوگی ۔
حل لغات :
کظیم : یعنی جس کا دل غصے اور غم سے معمور ہے ۔
یدسہ : گاڑ دے ، دھنسا دے ۔
المثل الاعلی : بلند مثال ۔
تاللہ : اصل میں واللہ تھا واو قسمیہ کو تا سے بدل دیا…
Read the full tafseer →63 ۔ اور اے پیغمبر ! اللہ تعالیٰ کی قسم ہم نے ان قوموں کی جانب بھی رسول بھیجے تھے جو آپ سے پہلے ہوچکی ہیں پھر شیطان نے ان لوگوں کو ان کے اعمال قبیحہ کو خوف آراستہ اور خوش منظر کر کے دکھایا وہی شیطان آج بھی ان کا رفیق اور سرپرست بنا ہوا ہے اور ان کے لئے قیامت میں درد ناک عذاب مقرر ہے ۔ یعنی مختلف امتوں کی طرف رسولوں کا آنا پہلے ہی سے جاری ہے پھر جس چیز نے ان کو گمراہ کیا اور کفر پر قائم رکھا وہی شیطان ان کفار مکہ کو بھی گمراہ اور تباہ و برباد کررہا ہے دنیا میں تویوں نقصان پہنچا رہا ہے کہ کفر کی باتیں ان کو مستحسن اور خوش نما کر کے دکھا رہا ہے اور آخر میں یوں تباہی ہوگی کہ ان کے لئے سخت درد ناک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
ف 3۔ غرض یہ لاحقین بھی ان سابقین کی طرح کفر کررہے ہیں اور ان ہی کی طرح ان کو سزا بھی ہوگی آپ کیوں غم میں پڑے۔
Read the full tafseer →شیطان کا کام ہے کہ وہ ان کی بدعملیوں کو اچھائیوں کی صورت دکھاتا ہے :
73۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کوئی نئے رسول نہیں بھیجے گئے کہ آپ ﷺ سے پہلے بھی رسول بھیجے گئے تھے اس لئے ہم آپ ﷺ کو بتا رہے ہیں کہ آج جو کچھ تیری قوم تجھ سے کر رہی ہے اور جو کچھ یہ لوگ بیا کر رہے ہیں ان سے پہلے لوگوں نے بالکل یہی کچھ کیا تھا شیطان نے ان کے اعمال بھی اچھے کر دکھائے تھے اور آج تمہاری قوم کے ساتھ بھی وہ وہی کچھ کر رہا ہے ان قوموں کو بھی ان کے اندر ہی کے شیطان نے سب کچھ سکھایا تھا اور آپ کے لوگوں کو بیھ ان کے اندر ہی کے شیطان نے ان باتوں پر اکسایا ہے اور وہ اس طرح کی باتیں بنا رہے ہیں جس طرح پہلے لوگ دنیا میں شیطان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
Also at the end of the third verse (60), in: وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (And He is the Mighty, the Wise), there is a hint that taking the birth of a baby girl to be nuisance and disgrace, and hiding from people because of it, amount to challenging Divine wisdom - as the creation of male and female among the created is the very requisite of wisdom. (Ruh a1-Bayan)
Ruling:
Clear indications are visible in these verses that taking the birth of a girl in the family to be a disaster or disgrace is not permissible under Islam. This is done by disbelievers. Quoting Shr'ah (شرعہ ) Tafsir Ruh…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
52. This attitude of contempt towards daughters has been mentioned to bring home to them the height of their folly, ignorance and impudence in regard to God. This is why they did not hesitate to assign daughters to Allah, though they themselves felt that to have daughters was a matter of disgrace for them. Besides this, it shows that they had a very low estimation of Allah, which had resulted from their ways of shirk. So they felt nothing wrong in ascribing such foolish and absurd things to Allah Who is above such things.
Read the full tafseer →