Explained with ayahs 61–62
وہ بندوں کو مہلت دیتا ہے
اللہ تعالیٰ کے حلم و کرم لطف و رحم کا بیان ہو رہا ہے کہ بندوں کے گناہ دیکھتا ہے اور پھر بھی انہیں مہلت دیتا ہے اگر فوراً ہی پکڑے تو آج زمین پر کوئی چلتا پھرتا نظر نہ آئے۔ انسانوں کی خطاؤں میں جانور بھی ہلاک ہوجائیں۔ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جائے۔ بروں کے ساتھ بھلے بھی پکڑ میں آجائیں۔ لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے حلم و کرم لطف و رحم سے پردہ پوشی کر رہا ہے، در گزر فرما رہا ہے، معافی دے رہا ہے۔ ایک خاص وقت تک کی مہلت دئیے ہوئے ہے، ورنہ کیڑے اور بھنگے بھی نہ بچتے۔ بنی آدم کے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے عذاب الٰہی ایسے آتے کہ سب کو غارت کر جاتے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے سنا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
سورة النَّحْل 52
یعنی اپنے لیے جس بیٹی کو یہ لوگ اس قدر موجب ننگ و عار سمجھتے ہیں، اسی کو خدا کے لیے بلا تامل تجویز کردیتے ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ خدا کے لیے اولاد تجویز کرنا بجائے خود ایک شدید جہالت اور گستاخی ہے، مشرکین عرب کی اس حرکت پر یہاں اس خاص پہلو سے گرفت اس لیے کی گئی ہے کہ اللہ کے متعلق ان کے تصور کی پستی واضح کی جائے اور یہ بتایا جائے کہ مشرکانہ عقائد نے اللہ کے معاملے میں اب جو جس قدر جری اور گستاخ بنادیا ہے اور وہ کس قدر بےحس ہوچکے ہیں کہ اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے کوئی قباحت تک محسوس نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
خلاصہ تفسیر
اور اگر اللہ تعالیٰ (ظالم) لوگوں پر ان کے ظلم (یعنی شرک وکفر) کے سبب (فی الفور دنیا میں پوری) دارو گیر فرماتے تو سطح زمین پر کوئی (حس) و حرکت کرنے والا نہ چھوڑتے (بلکہ سب کو ہلاک کردیتے لیکن (فی الفور داروگیر نہیں فرماتے بلکہ) ایک میعاد معین تک مہلت دے رہے ہیں (تاکہ اگر کوئی توبہ کرنا چاہے تو گنجائش ہو) پھر جب ان کا (وہ) وقت معین (نزدیک) آپہنچے گا اس وقت ایک ساعت نہ (اس سے) پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے (بلکہ فورا سزا ہو جائیگی) اور اللہ تعالیٰ کے لئے وہ امور تجویز کرتے ہیں جن کو خود (اپنے لئے) ناپسند کرتے ہیں (جیسا اوپر آیا ہے (آیت) وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ) اور…
Read the full tafseer →وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا يَكْرَهُوْنَ وَتَصِفُ اَلْسِـنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰى ۭ لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَاَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ۔ افرط الشیء، نسیہ و ترکہ، اس چیز کو بھلا دیا، چھوڑ دیا، یعنی کفار و مشرکین دوزخ میں ڈال کر اسی میں پڑے چھوڑ دیے جائیں گے، پھر ان کی خبر نہیں لی جائے گی۔
مشرکین کی حماقت در حماقت : یہ ان کی حماقت در حماقت کی طرف اشارہ ہے کہ اول تو یہی بات عجیب ہے کہ انہوں نے خدا کی طرف بیٹیاں منسوب کررکھی ہیں جن کی نسبت خود اپنی طرف ان کو گوارا نہیں پھر ان کے اعتماد پر یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ اگر آخرت وغیرہ کا کوئی مرحلہ بالفرض پیش آیا تو ان کی بدولت…
Read the full tafseer →62۔ 1 یعنی بیٹیاں۔ یہ تکرار تاکید کے لئے ہے۔
62۔ 2 یہ ان کی دوسری خرابی کا بیان ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ ناانصافی کا معاملہ کرتے ہیں ان کی زبانیں یہ جھوٹ بولتی ہیں کہ ان کا انجام اچھا ہے، ان کے لئے بھلائیاں ہیں اور دنیا کی طرح ان کی آخرت بھی اچھی ہوگی۔
62۔ 3 یعنی یقیناً ان کا انجام ' اچھا ' ہے اور وہ ہے جہنم کی آگ، جس میں وہ دوزخیوں کے پیش رو پہلے جانے والے ہوں گے۔ فَرَط کے یہی معنی حدیث سے بھی ثابت ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا ' اَ نَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ ' (صحیح بخاری) ' میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا ' ایک دوسرے معنی مفرَطُوْنَ کے یہ کئے گئے ہیں کہ انھیں جہنم میں ڈال کر فراموش کردیا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
25: مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اول تو اللہ تعالیٰ اولاد کی ضروت سے پاک ہے دوسرے یہ خود اپنے لیے بیٹیوں کو پسند نہیں کرتے، بلکہ بیٹوں کی ولادت کے خواہش مند رہتے ہیں، جو بذات خود بڑی گمراہی کی بات ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہتے ہیں کہ اسکی بیٹیاں ہیں۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 62
انداز بیان یوں ہے کہ گویا ان کی زبانیں بذات خود مجسمہ کذب ہیں یا یہ جھوٹ کی تصویر ہیں۔ بذات خود ان کی زبان کے لوتھڑے سے جھوٹ ٹپکتا ہے۔ جیسا کہ ضرب المثل ہے “ اس کا قد خوبصورتی کی تعریف کرتا ہے۔ اور اس کی آنکھ حور کی مدح خواں ہے ”۔ گویا اس کا قد ہی مظہر ہے کہ وہ خوبصورت اور سمارٹ ہے اور اس کی آنکھ اسی طرح ہے جس طرح حورعین۔ اسی انداز بیان کے مطابق کہا گیا کہ “ ان کی زبانیں جھوٹ کی تعریف کر رہی ہیں ”۔ گویا وہ مجسمہ جھوٹ ہیں کیونکہ یہ زبانیں ہر وقت جھوٹ بولتی رہتی ہیں اس لیے وہ بذات خود جھوٹ ہیں۔
ان کا جھوٹ کیا ہے ؟ یہ دعویٰ کہ ان کے لئے کوئی اچھا ہی انجام ہے لیکن عقیدہ یہ ہے کہ جو…
Read the full tafseer →13 یعنی جو چیزیں بری سمجھ کر اپنے لیے پسند نہیں کرتے مثلاً بیٹیاں یا اپنے ملک میں کسی اجنبی کی شرکت یا استہزاء و استخفاف کا معاملہ۔ وہ خداوند قدوس کے لیے ثابت کرتے ہیں۔
14 یعنی باوجود ایسی گستاخیوں کے زبان پر یہ جھوٹا دعویٰ ہے کہ ہم تو دنیا میں بھی بھلی چیزوں کے لائق ہیں اور اگر آخرت وغیرہ کے قصے سچے ہوئے تو وہاں بھی خوب چین اڑائیں گے۔ (وَلَىِٕنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّاۗءَ مَسَّـتْهُ لَيَقُوْلَنَّ ھٰذَا لِيْ ۙ وَمَآ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَاۗىِٕمَةً ۙ وَّلَىِٕنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّيْٓ اِنَّ لِيْ عِنْدَهٗ لَــلْحُسْنٰى) 41 ۔ فصلت :50)
1 یعنی ان گستاخیوں کے ساتھ ایسی باطل…
Read the full tafseer →آیت 62 وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا يَكْرَهُوْنَ
یعنی ان میں سے کوئی بھی خود بیٹی کا باپ بننا پسند نہیں کرتا مگر اللہ کے ساتھ بیٹیاں منسوب کرتے ہوئے یہ لوگ ایسا کچھ نہیں سوچتے۔
وَتَصِفُ اَلْسِـنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰى
یہ لوگ اس زعم میں ہیں کہ دنیا میں انہیں عزت ‘ دولت اور سرداری ملی ہوئی ہے ‘ تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ ان سے خوش ہے اور انہیں یہ خوش فہمی بھی ہے کہ اگر اس نے یہاں انہیں یہ سب کچھ دیا ہے تو آخرت میں بھی وہ ضرور انہیں اپنی نعمتوں سے نوازے گا۔ چناچہ دنیا ہو یا آخرت ان کے لیے تو بھلائی ہی بھلائی ہے۔
لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَاَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ
دنیا…
Read the full tafseer →59 مشرک مکروہ باتیں اللہ کے لئے تجویز کرتے ہیں :۔ یہ مشرک اپنے لیے بیٹیوں کے وجود کو باعث ننگ و عار سمجھتے ہیں مگر اللہ کے لیے وہی تجویز کرتے ہیں۔ خود یہ برداشت نہیں کرتے کہ ان کی جائیداد یا مال و دولت میں کوئی اجنبی آکر شریک ہوجائے لیکن اللہ کی کائنات میں اس کے شریک بنانا پسند کرتے ہیں۔ خود یہ پسند نہیں کرتے کہ ان کا مذاق اڑایا جائے مگر اللہ کی آیات کا مذاق اڑا کر خوش ہوتے ہیں۔ کرتوت تو ان کے یہ ہیں اور زبانی دعوے یہ ہیں کہ اللہ ان پر مہربان ہے تبھی تو اس نے ہمیں خوشحال بنایا ہے اور اگر قیامت قائم ہوئی بھی تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس وقت ہم پر مہربان نہ ہو۔ لہذا ہمارے لیے یہاں دنیا میں بھلائی…
Read the full tafseer →90۔ کسی اخروی زندگی کے اول تو یہ قائل ہی نہیں اور جو قائل ہیں بھی تو وہاں اپنے لئے چین ہی چین سمجھ رہے ہیں۔ (آیت) ” ویجعلون للہ مایکرھون “۔ مشرکانہ مذہبوں پر نظر ہو، تو اندازہ ہو کہ ان لوگوں نے کیسی کیسی پست بلکہ سرتاسر گندی باتیں اپنے دیوی دیوتاؤں بلکہ خود معبود اعظم کے حق میں گڑھ رکھی ہیں !۔
91۔ (دوزخ میں) یعنی یہ لوگ تو دوسرے اہل جہنم کیلئے بہ طور مقدمۃ الجیش کے ہوں گے۔ (آیت) ” مفرطون “۔ فرط اسے کہتے ہیں جو اپنے ساتھیوں سے آگے دوڑ کر انہیں پانی تک پہنچا دے۔ مفرطون اے معجلون قال الواحدی ھو الاختیار ووجھہ ما قال ابو زید وغیرہ فرط الرجل اصحابہ یفرطھم فرطا وفروطا اذا تقدمھم الی الماء الیصلح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
آیت نمبر 61 تا 65
ترجمہ : اگر معاصی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ لوگوں کی گرفت کرتا تو زمین پر چلنے پر ایک بھی چلنے والا (جاندار) نہ چھوڑتا لیکن وہ ان کو ایک مقررہ وقت تک ڈھیل دیتا ہے، سو جب ان کا وقت (مقرر) آجاتا ہے تو وہ اس سے نہ گھڑی پیچھے ہٹتے ہیں اور نہ آگے بڑھتے ہیں، اور اللہ کے لئے وہ چیز ثابت کرتے ہیں جسے وہ خود اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں، اور وہ چیزیں بیٹیاں اور ریاست میں شرکت اور اھانت رسول ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور وہ یہ کہ ان کے لئے اللہ کے نزدیک اچھا بدلہ ہے یعنی جنت جیسا کہ وہ کہتے ہیں اگر مجھے میرے رب کی طرف لوٹایا گیا تو یقیناً میرے لئے اس کے پاس اچھا بدلہ ہے، اللہ…
Read the full tafseer →ویجعلون اللہ ما یکرھون وتصف السنتھم الکذب ان لھم الحسنٰی لا جرم ان لھم النار وانھم مفرطون اور اللہ کیلئے وہ باتیں تجویز کرتے ہیں جن کو خود اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں اور اپنی زبانوں سے جھوٹے وعدے کرتے ہیں کہ ان کے (یعنی ہمارے) لئے ہر طرح کی بھلائی ہے۔ لازمی بات ہے کہ ان کیلئے دوزخ ہے اور بلاشبہ وہ لوگ سب سے پہلے (دوزخ میں) بھیجے جائیں گے۔
مَا یَکْرَھُوْنَ جو خود پسند نہیں کرتے۔ جیسے لڑکیاں ‘ ریاست اور سرداری میں کسی کی شرکت ‘ حقیر ترین مال میں بھی کسی کا ساجھا وغیرہ۔ الْحُسْنٰی ‘ یمان نے کہا : الْحُسْنٰی سے مراد ہے : جنت۔ کافر کہتے تھے کہ محمد ﷺ کے قول کے مطابق اگر قیامت ہوئی بھی تو ہمارے لئے…
Read the full tafseer →(62) (العیاذ باللہ) اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں جن کو خود اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں اور پھر اس پر اپنی زبان سے جھوٹے دعوے کرتے جاتے ہیں کہ ہمارے لیے لڑکے یا یہ کہ ہمارے لیے جنت ہے، ان لوگوں کے لیے جنت کہاں سے ہوتی، یقینی بات ہے کہ ان کے لیے جہنم ہے اور یہ سب سے پہلے اس میں ڈالے جائیں گے یا یہ کہ یہ دوزخ کی طرف منسوب کیے جائیں گے اور یا یہ کہ یہ قول وفعل میں حد سے تجاوز کررہے ہیں۔
Read the full tafseer →وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا يَكْرَهُوْنَ : مثلاً یہ مشرک اپنے لیے پسند نہیں کرتے کہ ان کی ملکیت کا کوئی دوسرا بھی مالک بنے، مگر اللہ کی ملکیت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ (دیکھیے روم : 28) اپنے قاصد کی تکریم چاہتے ہیں مگر اللہ کا پیغام لانے والوں سے ٹھٹھا کرتے ہیں، اپنے لیے گالی برداشت نہیں کرتے مگر اللہ کو گالی دیتے ہیں، مثلاً یہ کہنا کہ اللہ کی اولاد ہے، اس کے لیے گالی ہے اور کئی بدبخت ایسے ہیں کہ اللہ نے انھیں سب کچھ دیا اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کو صاف گالیاں دیتے ہیں، پھر اپنے لیے بیٹے اور اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔ غرض جو کچھ وہ اپنے غلاموں کی طرف سے اپنے لیے پسند نہیں کرتے،…
Read the full tafseer →آیت نمبر 62
قولہ تعالیٰ : ویجعلون للہ ما یکرھون اور وہ اللہ تعالیٰ کے لئے تجویز کرتے ہیں وہ جنہیں وہ اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں یعنی بیٹیاں۔ وتصف السنتھم الکذب یعنی ان کی زبانیں جھوٹ کہتے ہیں۔ ان لھم الحسنی حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : یہ ان کا یہ کہنا ہے کہ ان کے لئے بیٹے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹیاں ہیں۔ الکذب یہ تصف کا مفعول ہے۔ اور ان، الکذب سے بدل ہونے کی بنا پر محل نصب میں ہے، کیونکہ یہ اس کا بیان ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : الحسنی سے مراد اچھی اور بہترین جزا ہے ؛ یہ زجاج نے کہا ہے۔ حضرت ابن عباس، ابو العالیہ، مجاہد، اور ابن محیصن نے الکذب کاف، ذال اور با کے رفع کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
1:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو یواخذ اللہ الناس بظلمہم ما ترک علیھا من دآبۃ “ (اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑ لیتا) تو ان کو بارش (کا پانی) نہ پلاتا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اگر بارش نہ برسے تو زمین پر کوئی جانور باقی نہ رہے سب مرجائیں۔
3:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو یواخذ اللہ الناس بظلمہم ما ترک علیھا من دآبۃ “ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں ایسا کیا تھا نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں جو جانور سوار ہوگئے تھے وہ بچ گئے باقی زمین…
Read the full tafseer →[وَيَجْعَلُوْنَ : اور وہ بناتے ہیں ] [ للّٰهِ : اللہ کے لئے ] [ مَا : وہ جس کو ] [ يَكْرَهُوْنَ : یہ لوگ (خود) ناپسند کرتے ہیں ] [ وَتَصِفُ : اور بیان کرتی ہیں ] [ اَلْسِـنَتُهُمُ : ان کی زبانیں ] [ الْكَذِبَ؛جھوٹ ] [ ان : کہ ] [ لَهُمُ : ان کے لئے ہے ] [ الْحُسْنٰى ۭ: بہترین ] [ لَا جَرَمَ : کوئی شک نہیں ] [ ان : کہ ] [ لَهُمُ : ان کے لئے ] [ النَارَ : آگ ہے ] [ وَانهُمْ : اور یہ کہ وہ لوگ ] [ مُّفْرَطُوْنَ : زیادہ کئے جانے والے ہیں ]
Read the full tafseer →(وَ تَصِفُ اَلْسِنَتُھُمُ الْکَذِبَ اَنَّ لَھُمُ الْحُسْنٰی) اور ان کی زبانیں جھوٹا دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کے لیے بھلائی ہے (یعنی وہ شرک بھی کرتے ہیں اور ساتھ ہی یوں بھی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے خوش ہے اور وہ ہمیں ہمیشہ اچھے حال میں رکھے گا) ایسا کہنے والوں میں وہ لوگ بھی تھے جو کافر تھے لیکن فی الجملہ قیامت قائم ہونے کے بھی قائل تھے جیسا کہ ہندوستان کے ہندو نرگ سرگ کا عقیدہ رکھتے ہیں ایسے لوگوں کا خیال رکھتے ہوئے بعض حضرات نے الحسنی سے جنت بھی مراد لی ہے اور منکرین کا کلام برسبیل فرض بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ کافر یوں کہتے ہیں کہ بالفرض قیامت موت کے بعد اگر جنت و دوزخ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
بیان حلم خداوندی
قال اللہ تعالیٰ : ولو یؤاخذ اللہ الناس یظلمھم .... الیٰ .... وانھم مفرطون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کے اقوال شنیعہ اور افعال فظیعہ کو بیان کیا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بڑے حلیم و کریم ہیں باوجود جرم عظیم کے مؤاخذہ اور گرفت میں جلدی نہیں کرتے بلکہ حلم سے مجرمین کو مہلت دیتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ اور اللہ کی عزت و رفعت اس کو مقتضی ہے کہ ان ظالموں اور گستاخوں کو فورا عذاب سے ہلاک کردیا جائے لیکن اس کا حلم اور حکمت اس کی مقتضی ہے کہ ان ظالموں کو کچھ مہلت دی جائے اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم پر پکڑنے لگے یعنی ان کے کفر و شرک پر فورا پکڑنے لگے تو (زمین پر)…
Read the full tafseer →47:۔ یہ ” و یجعلون للہ البنات “ کا اعادہ برائے بعد عہد ہے۔ مشرکین کے ایک جھوٹے دعوے کی قباحت و شناعت کو واضح کرنے کے لیے ان کی مذکورہ بالا شرارت کو دوبارہ بیان کیا گیا یعنی ایک طرف تو وہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاکیزہ پر اتنا بڑا بہتان باندھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بیٹیاں ہیں حالانکہ خود بیٹیوں کو پسند کرتے یا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں معبود باطلہ کو شریک کرتے ہیں حالانکہ اپنے دائرہ اقتدار میں کسی کی شرکت گوارا نہیں کرتے ” ما یکرھون لانفسہم من البنات و من شرکاء فی ریاستھم الخ “ (مدارک ج 2 ص 224) ۔ اور دوسری طرف یہ جھوٹا دعوی کرتے ہیں کہ وہ جنت کے وارث ہوں گے یعنی اگر بالفرض قیامت آ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
(ربط آیات)
گذشتہ رکوع کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے دلائل توحید بیان فرمائے اور دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ دو خدا نہ بناؤ بلکہ معبود برحق تو صرف ایک ہی ہے پھر اللہ نے مشرکوں کی مختلف کارگزاریوں کا ذکر فرمایا ، منجملہ ان کے ایک یہ بھی تھی کہ خدا تعالیٰ کی بیٹیوں کا تصور رکھتے تھے جو کہ اس کی شان میں گستاخی اور سخت بےادبی ہے ، فرمایا کہ اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہو مگر خدا تعالیٰ کی نسبت اپنی ناپسندیدہ مخلوق بیٹیوں کی طرف کرتے ہو ، ان کی حالت یہ تھی کہ اگر کسی شخص کو اس کی بیٹی کی ولادت کی خبر دی جاتی تو غم وغصہ اور ندامت کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا اور پھر وہ سوچنے لگتا کہ اس بیٹی کو ذلت…
Read the full tafseer →وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا يَكْرَهُوْنَ وَتَصِفُ اَلْسِـنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰى ۭ لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَاَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ 62
كره
قيل : الْكَرْهُ والْكُرْهُ واحد، نحو : الضّعف والضّعف، وقیل : الكَرْهُ : المشقّة التي تنال الإنسان من خارج فيما يحمل عليه بِإِكْرَاهٍ ، والکُرْهُ :
ما يناله من ذاته وهو يعافه، وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [ التوبة/ 33]
( ک ر ہ ) الکرہ
( سخت ناپسند یدگی ) ہم معنی ہیں جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے کہ کرۃ ( بفتح الکاف ) اس مشقت کو کہتے ہیں جو انسان کو خارج سے پہنچے اور اس پر زبر دستی ڈالی جائے ۔ اور کرہ (…
Read the full tafseer →ترکیب : الکذب بالنصب مفعول ہے تصف کا ان لہم الحسنی اس سے بدل۔ الکذب بضم الکاف والذال والباء جمع کذوب جیسا کہ صبور و ” صبرتب یہ السنۃ جمع لسان صفت ہوگا واللسان یذکر ویونث۔ وھدی معطوف ہے لتبین پر۔ ای للتبین والھدایہ والرحمۃ۔
تفسیر : مشرکوں کے قبائح اوراقوال فاسدہ بیان کر کے یہ ظاہر فرماتا ہے کہ ہم صرف اپنی رحمت سے درگزر کرتے ہیں جو دنیا میں عمر معین تک جینے دیتے ہیں اور نعمتیں سلب نہیں کرلیتے ورنہ ان کے گناہوں پر جائیں تو دنیا پر کسی کو بھی زندہ نہ چھوڑیں۔ ان کی نحوست سے بلا آجائے۔ ویجعلون للّٰہ سے اس بیہودہ بات پر کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں باردگر سرزنش فرماتا ہے بالخصوص اس لیے کہ اس نالائق قول و…
Read the full tafseer →وَیَجْعَلُوْنَ لِلّٰہِ مَایَکْرَھُوْنَ وَتَصِفُ اَلْسِنَتُھُمُ الْکَذِبَ اَنَّ لَھُمُ الْحُسْنٰی ط لاَجَرَمَ اَنَّ لَھُمُ النَّارَ وَاَنَّـھُمْ مُّفْرَطُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 62)
(اور یہ اللہ تعالیٰ کے لیے وہ چیز تجویز کرتے ہیں جو خود اپنی لیے ناپسند کرتے ہیں اور ان کی زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں کہ ان کے لیے اچھا انجام ہے، یقینا ان کے لیے آتش جہنم ہے اور انھیں دوزخ میں پہلے بھیجا جائے گا۔ )
مشرکین کی حماقتیں اور خوش فہمیاں
اس آیت کریمہ میں مشرکین کے چند ایسے اعمال کا ذکر کیا گیا ہے جن میں سے ایک ایک اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے کے لیے کافی ہے۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا کرم اور مہربانی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ کافر، مشرک اور مجرم لوگ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے ہیں۔
چاہیے تو یہ تھا کہ کافر، مشرک اور مجرم لوگ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے فائدہ اٹھا کر اپنے عقائد اور جرائم سے توبہ کرتے۔ لیکن یہ لوگ اس مدت سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے بجائے اس قدر دلیر ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں اور اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہیں۔ جو سراسر زیادتی اور جھوٹ ہے۔ اس زیادتی اور کذب بیانی کے باوجود یہ خیال کرتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا کے اسباب و وسائل دے رکھے ہیں۔ اسی طرح آخرت میں…
Read the full tafseer →62: وَیَجْعَلُوْنَ لِلّٰہِ مَایَکْرَھُوْنَ (اور وہ اللہ تعالیٰ کیلئے تجویز کرتے ہیں وہ باتیں جو اپنے لئے وہ ناپسند کرتے ہیں) وہ بیٹیاں جن کو وہ اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں اور اپنی ریاست میں شراکت کو ناپسند کرتے ہیں اور رسولوں کی توہین اور اللہ تعالیٰ کیلئے حقیر اموال اور اپنے اصنام کیلئے اعلی قسم کے اموال کو پسند کرتے ہیں۔ وَتَصِفُ اَلْسِنَتُھُمُ الْکَذِبَ ( اور ان کی زبانیں جھوٹے وعدے کرتی ہیں) اس کے ساتھ یعنی وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ اَنَّ لَھُمُ الْحُسْنٰی (کہ ان کے لئے ہر قسم کی بھلائی ہے) اللہ تعالیٰ کے ہاں۔ اور وہ جنت ہے اگر بعث بعدالموت برحق ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے۔ ولئن رجعت الی ربی ان…
Read the full tafseer →(62)” ویجعلون للہ ما یکرھون “ اپنے لینے بیٹیوں کو ناپسند کرتے ۔” وتصف “ وہ کہتے ہیں ” السنتھم الکذب ان لھم الحسنیٰ “ اس سے مراد لڑکے ہیں ۔ محل نصب میں واقع ہے بدل ہونے کی وجہ سے۔ یمان نے کہا کہ حسنیٰ سے مراد ہے جنت، کافر کہتے تھے کہ محمد ( ﷺ) کے قول کے مطابق اگر قیامت ہوئی بھی تو ہمارے لیے جنت ہوگی۔” لا جرم “ یقیناً ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس کا ترجمہ ہے کیوں نہیں۔” ان لھم النار “ آخرت میں ان کے لیے آگ ہوگی۔ ” وانھم مفرطون “ حضرت نافع نے راء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس کا معنی ہے اسراف کرنے والے۔ ابو جعفر نے راء کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اس کا معنی یہ ہوگا کہ اللہ کے حکم کو ضائع کرنے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
61۔ 62۔ اللہ پاک اس آیت میں اپنے درگزر کا حال بیان فرماتا ہے کہ یہ مشرک لوگ جیسے جیسے فتنہ و فساد برپا کرتے ہیں اگر خدا کو اس فتنہ و فساد کا مواخذہ منظور ہو تو ان کے ساتھ ان کی بدبختی کی وجہ سے ساری دنیا کو ہلاک کر دے اور کوئی جاندار روئے زمین پر باقی نہ چھوڑے 1 ؎۔ صحیح مسلم میں ابن عمر ؓ سے ایک روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی پر عذاب کا ارادہ کرتا ہے تو اس عذاب میں اس قوم کے سارے آدمیوں کو شریک کرتا ہے پھر یہ لوگ اپنی اپنی نیت کے مطابق اٹھائے جائیں گے جس کا مطلب یہ ہے کہ جیسی جس کی نیت اور جیسے جس کے اعتقاد ہوں گے۔ ویسا ہی اس کا حشر ہوگا چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں ایسا ہوچکا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
آیت : (62-63)
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے : (ویجعلون للہ مایکرھون) ” اور وہ کرتے ہیں اللہ کے لئے وہ ‘ جسے خود پسند نہیں کرتے “ یعنی خود بیٹیوں اور دیگر اوصاف قبیحہ کو ناپسند کرتے ہیں۔ اس سے مراد شرک ہے ‘ یعنی عبادت میں بعض ہستیوں کو کیسے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی غلام ہیں۔ (وتصف السنتھم الکذب ان لھم الحسنی) ” اور ان کی زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں کہ ان کے لئے بھلائی ہے۔ “ وہ اس عظیم برائی کے ساتھ ساتھ یہ جھوٹ بھی بولتے ہیں کہ ان کے لئے آخرت کی بھلائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : (لا جرم ان لھم النارو وانھم مفرطون) ” یقیناً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →118۔ مشرکوں کی حماقت و جہالت کا ایک اور نمونہ اور مظہر : کہ یہ لوگ اللہ کے لئے وہ کچھ تجویز کرتے ہیں جو خود اپنے لئے پسند نہیں کرتے۔ جیسے بیٹیاں اور طرح طرح کے شریک۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جبکہ خود اپنے لئے یہ لوگ نہ بیٹیاں پسند کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی حکومت و ریاست اور اپنی ملکیت میں دوسرے کسی کی شرکت گوارا کرتے ہیں۔ سو یہ ان لوگوں کی جہالت در جہالت اور حماقت پر حماقت ہے جس کا ارتکاب یہ اس طرح کرتے ہیں اور اپنی مت ماری کی بناء پر یہ نہیں سمجھ رہے کہ اس طرح یہ لوگ اپنے لئے کتنی بڑی ہلاکت و تباہی کا سامان کررہے ہیں۔ اور اس کا بھگتان ان کو کس قدر ہولناک شکل میں بھگتنا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
رحمت الٰہی، کفار کو دردناک عذاب کی وعید اور نزول قرآن کا مقصد
تشریح : اللہ کی رحمتیں بیشمار ہیں اور سب کے لیے ہیں۔ اللہ کا نظام چل رہا ہے ہر کافر و مشرک اور مسلمان اس کی رحمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے مگر جو لوگ اس کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اچھی جزا پائیں گے جو ہدایات سے ہٹ کر بری زندگی گزارتے ہیں وہ بری جزا پائیں گے۔ اور یہ وقت اللہ کے منتخب کیے گئے پروگرام کے مطابق ٹھیک وقت پر ضرور آجائے گا۔ اور اس حقیقت سے ہر عقل مند آدمی خوب اچھی طرح واقف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
یہ لوگ اس قدر ظالم ہیں کہ اگر ان کے مشرکانہ عقاید وافعال پر اللہ جل جلالہ فورا گرفت فرمانے لگے تو ان میں سے کوئی بھی روئے زمین پر باقی نہ رہے اور ان کی گرفت ہوگی بچ نہ سکیں گے صرف انہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دی جاتی ہے اور جب وہ وقت مقررہ آجاتا ہے تو کسی کو مجال نہیں ہوتی کہ گھڑی بھر بھی اسے آگے پیچھے کرسکے ، ذرا گستاخی کی حد تو دیکھو کہ جو چیز خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے یعنی بیٹیاں وہ اللہ جل جلالہ کے لیے تجویز کرتے ہیں اور پھر ساتھ یہ جھوٹ بھی بولتے ہیں کہ اس پر انہیں انعامات نصیب ہوں گے مگر بلاشک ایسے لوگ کے لیے تو آگ ہی ہے جس میں وہ بدستور اضافہ کر رہے ہیں کہ ہر…
Read the full tafseer →ف 10 جیسے بیٹیاں یا اپنی ملکیت ہیں کسی دوسرے کی شرکت یا گستاخی اور بدتمیزی کا معاملہ۔ (ابن کثیر)
11 کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں بھی چین اور خوشحلای کے حقدار ہیں اور اگر آخرت آئی تو وہاں بھی انعام واکرام کے مستحق ہونگے۔ (ابن کثیر)
12 یا دوزخ میں جھنک دیئے جانے کے بعد انہیں قطعی فراموش کردیا جائیگا۔ اور وہ وہاں پڑے جلتے رہیں گے۔ مفسرین نے مفرطون کے یہ دونوں معنی بیان کئے ہیں اور دونوں میں کسی قسم کی منافات نہیں ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(16:62) تصف السنتہم الکذب۔ ان کی زبانیں جھوٹ بکتی ہیں کہ ان لہم الحسنی کہ ان کے لئے بھلائی ہی مقدر ہے۔
لاجرم۔ یقینا اور حقاً کا ہم معنی ہے۔ ضروری ۔ یقینی۔ ناگزیر۔
مفرطون۔ اسم مفعول ۔ جمع مذکر۔ افراط (افعال) مصدر۔ آگے بھیجے ہوئے۔ آگے روانہ کئے جانے والے۔
فرط یفرط (باب نصر) آگے بڑھ جانا۔ اور افرط فلان اعجلہ۔ کسی کو آگے جلدی بھیجنا۔ مفرطون۔ ای مقدمون ومعجلون۔ جلدی آگے بھیجے جانے والے۔ وانہم مفرطون۔ اور ان کو (دوزخ میں) پہلے بھیجا جائے گا۔
افراط (باب افعال) زیادتی کرنا۔ عمداً وقصداً آگے بڑھنا۔ تجاوز کرنا۔ اور باب تفعیل سے تفریط کوتاہی کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 65
یواخذ وہ پکڑتا ہے۔ ماترک اس نے نہ چھوڑا (وہ نہ چھوڑے گا) یوخر وہ مہلت دیتا ہے، تاخیر کرتا ہے۔ اجل مدت، موت۔ لایستاخرون نہ پیچھے ہٹ سکیں گے۔ لایستقدمون نہ وہ آگے بڑھیں گے۔ یکرھون وہ ناپسند کرتے ہیں۔ تصف ملوث ہوتے ہیں، کہتے ہیں۔ السنۃ (لسان) زبانیں۔ مفرطون آگے بڑھا رہے ہیں۔ زین خوبصورت بنا دیا۔ احیا اس نے زندگی دی۔ یستمعون وہ سنتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 61 تا 65
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کفار و مشرکین اللہ کی شان میں گستاخی کر گزرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں حالانکہ اللہ ہر عیب سے پاک ہے وہ بیٹا، بیٹی کا محتاج نہیں یہ خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
اللہ کے درگزر کا حال
اس آیت میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان لوگوں کو ڈھیل دے رکھی ہے اور ایک وعدہ مقررہ تک ان کا ہلاک کرنا منظور نہیں ہے۔ جب وہ وقت آ جاوے گا تو پھر گھڑی بھر کی بھی مہلت نہیں ملے گی اور اس میں بھی خدا کی حکمت ہے کہ یہ لوگ اپنے کفر اور سرکشی سے شرمسار ہو کر دین اسلام میں داخل ہوجائیں اور ان کی نسل سے جو اولاد پیدا ہو وہ اہل اہمان ہو پھر فرمایا کہ جن باتوں سے کفار کو عار ہے ، اور جو باتیں اپنے واسطے پسند نہیں کرتے مثلاً لڑکیوں کا ہونا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حق میں یوں کہتے ہیں کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں، اور خدا کے ساھت بتوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ خود ان کو یہ گوارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
[35] مطلب یہ ہے کہ کسی اخروی زندگی کے اول تو یہ قائل ہی نہیں اور جو قائل ہیں بھی تو وہاں اپنے لئے چین ہی چین سمجھ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
(ف 1) غرض یہ ہے کہ انسان کے گناہ ناقابل شمار ہیں یہ اللہ کا کرم ہے کہ اسے ڈھیل دیتا ہے تاکہ یہ اپنے کئے پر پشیمان اور حق کی جانب رجوع ہو ، اگر وہ اغماض اور چشم پوشی سے کام نہ لے تو ہم یہاں دنیا میں ایک لمحہ کے لئے زندہ و برقرار نہ رہ سکیں ۔
Read the full tafseer →62 ۔ اور اللہ تعالیٰ کے لئے وہ امور اور وہ چیزیں تجویز کرتے ہیں جن کو اپنا جی نہ چاہے اور جن کو خود ناپسند کرتے ہیں اور اس پر ان کی زبانیں یہ جھوٹا دعویٰ کرتی ہیں اور جھوٹی جھوٹی باتیں بنائیں ہیں کہ ان کے لئے ہر طرح کی خوبی اور بھلائی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے کہ ان کے لئے بھلائی کہاں رکھی ہے ان کے لئے تو قیامت میں جہنم ہے اور بلا شبہ یہ اس میں سب سے پہلے بڑھائے جائیں گے۔ یعنی ایسی تو باتیں کرتے ہیں کہ بیٹی کو خود پسند نہ کریں اور خدا پر بیٹیوں کا الزام لگائیں سڑ ی گلی چیزیں اور باسی روٹی خدا کی راہ میں دیں پھر یہ توقع کریں کہ اگر قیامت آئی تو ہم کو وہاں بھی بھلائی ملے یعنی قیامت کا یقین تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
ف 2۔ دنیا میں بھی کہ ایسے جہل میں مبتلا ہیں اور آخرت میں بھی کہ مبتلائے عقوبت وذلت ہوں گے۔
Read the full tafseer →اللہ کیلئے وہ باتیں ٹھہراتے ہیں جنہیں خود پسند نہیں کرتے اور جھوٹ انکی گھٹی میں پڑا ہے :
71۔ فرضی تقسیموں میں کیا ہوتا ہے ؟ جو کسی کے دل میں آیا وہ کہہ دیا ، یہی ڈھنگ مشرکین کا ہے کہ وہ اللہ کے بارے میں بالکل فرضی باتیں بناتے ہیں کسی دلیل سے کوئی بات نہیں کرتے بزعم خویش بٹائی کرتے ہیں اور جو ردی اور خسیس چیز ہوتی ہے اس کو اللہ تعالیٰ کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں کہ یہ اللہ کا حصہ ہے ایسا ہی انہوں نے یہاں بھی کیا ان کا ذہن لڑکیوں کو ردی تسلیم کرتا ہے اور لڑکوں کو کار آمد شے تصور کرتے ہیں اس لئے انہوں نے فرشتوں کو لڑکیاں تصور کرکے اللہ کے حصے میں ڈال دیا اور لڑکے ان کو پسند تھے اس لئے وہ اپنے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
Also at the end of the third verse (60), in: وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (And He is the Mighty, the Wise), there is a hint that taking the birth of a baby girl to be nuisance and disgrace, and hiding from people because of it, amount to challenging Divine wisdom - as the creation of male and female among the created is the very requisite of wisdom. (Ruh a1-Bayan)
Ruling:
Clear indications are visible in these verses that taking the birth of a girl in the family to be a disaster or disgrace is not permissible under Islam. This is done by disbelievers. Quoting Shr'ah (شرعہ ) Tafsir Ruh…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
52. This attitude of contempt towards daughters has been mentioned to bring home to them the height of their folly, ignorance and impudence in regard to God. This is why they did not hesitate to assign daughters to Allah, though they themselves felt that to have daughters was a matter of disgrace for them. Besides this, it shows that they had a very low estimation of Allah, which had resulted from their ways of shirk. So they felt nothing wrong in ascribing such foolish and absurd things to Allah Who is above such things.
Read the full tafseer →