Explained with ayahs 61–62
وہ بندوں کو مہلت دیتا ہے
اللہ تعالیٰ کے حلم و کرم لطف و رحم کا بیان ہو رہا ہے کہ بندوں کے گناہ دیکھتا ہے اور پھر بھی انہیں مہلت دیتا ہے اگر فوراً ہی پکڑے تو آج زمین پر کوئی چلتا پھرتا نظر نہ آئے۔ انسانوں کی خطاؤں میں جانور بھی ہلاک ہوجائیں۔ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جائے۔ بروں کے ساتھ بھلے بھی پکڑ میں آجائیں۔ لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے حلم و کرم لطف و رحم سے پردہ پوشی کر رہا ہے، در گزر فرما رہا ہے، معافی دے رہا ہے۔ ایک خاص وقت تک کی مہلت دئیے ہوئے ہے، ورنہ کیڑے اور بھنگے بھی نہ بچتے۔ بنی آدم کے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے عذاب الٰہی ایسے آتے کہ سب کو غارت کر جاتے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے سنا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
سورة النَّحْل 52
یعنی اپنے لیے جس بیٹی کو یہ لوگ اس قدر موجب ننگ و عار سمجھتے ہیں، اسی کو خدا کے لیے بلا تامل تجویز کردیتے ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ خدا کے لیے اولاد تجویز کرنا بجائے خود ایک شدید جہالت اور گستاخی ہے، مشرکین عرب کی اس حرکت پر یہاں اس خاص پہلو سے گرفت اس لیے کی گئی ہے کہ اللہ کے متعلق ان کے تصور کی پستی واضح کی جائے اور یہ بتایا جائے کہ مشرکانہ عقائد نے اللہ کے معاملے میں اب جو جس قدر جری اور گستاخ بنادیا ہے اور وہ کس قدر بےحس ہوچکے ہیں کہ اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے کوئی قباحت تک محسوس نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
خلاصہ تفسیر
اور اگر اللہ تعالیٰ (ظالم) لوگوں پر ان کے ظلم (یعنی شرک وکفر) کے سبب (فی الفور دنیا میں پوری) دارو گیر فرماتے تو سطح زمین پر کوئی (حس) و حرکت کرنے والا نہ چھوڑتے (بلکہ سب کو ہلاک کردیتے لیکن (فی الفور داروگیر نہیں فرماتے بلکہ) ایک میعاد معین تک مہلت دے رہے ہیں (تاکہ اگر کوئی توبہ کرنا چاہے تو گنجائش ہو) پھر جب ان کا (وہ) وقت معین (نزدیک) آپہنچے گا اس وقت ایک ساعت نہ (اس سے) پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے (بلکہ فورا سزا ہو جائیگی) اور اللہ تعالیٰ کے لئے وہ امور تجویز کرتے ہیں جن کو خود (اپنے لئے) ناپسند کرتے ہیں (جیسا اوپر آیا ہے (آیت) وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ) اور…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 61 تا 64:۔ مشرکین کو تنبیہ، پیغمبر ﷺ کو تسلی : آگے مشرکین کو تنبیہ ہے کہ خدا نے اگر تم کو مہلت دے رکھی ہے تو اس لیے دے رکھی ہے کہ اس کے ہاں ہر چیز کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجائے گا تو پھر انہ اس سے پیچھے ہٹ سکوگے نہ آگے بڑھ سکوگے۔ ساتھ ہی پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ جو کچھ تمہیں پیش آ رہا ہے یہی کچھ تم سے پہلے رسولوں کو بھی پیش آچکا ہے۔ تمہارا کام لوگوں کو مومن و موحد بنا دینا نہیں ہے بلکہ لوگوں پر صرف اللہ کی حجت تمام کردینا ہے۔
وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى…
Read the full tafseer →61۔ 1 یہ اس کی نرم دلی ہے اور اس کی حکمت و مصلحت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی نافرمانیاں دیکھتا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنی نعمتیں سلب کرتا ہے نہ فوری مواخذہ ہی کرتا ہے حالانکہ اگر ارتکاب معصیت کے ساتھ ہی وہ مواخذہ کرنا شروع کر دے تو ظلم اور معصیت اور کفر اور شرک اتنا عام ہے کہ روئے زمین پر کوئی جاندار باقی نہ رہے کیونکہ جب برائی عام ہوجائے تو پھر عذاب عام میں نیک لوگ بھی ہلاک کردیئے جاتے ہیں تاہم آخرت میں وہ عند اللہ سرخرو رہیں گے جیسا کہ حدیث میں وضاحت آتی ہے (ملاحظۃ ہو صحیح بخاری۔ نمبر 2118۔
61۔ 2 یہ اس کی حکمت کا بیان ہے جس کے تحت وہ ایک خاص وقت تک مہلت دیتا ہے تاکہ ایک تو ان کے لئے کوئی عذر باقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
25: مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اول تو اللہ تعالیٰ اولاد کی ضروت سے پاک ہے دوسرے یہ خود اپنے لیے بیٹیوں کو پسند نہیں کرتے، بلکہ بیٹوں کی ولادت کے خواہش مند رہتے ہیں، جو بذات خود بڑی گمراہی کی بات ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہتے ہیں کہ اسکی بیٹیاں ہیں۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 61
اللہ ہی ہے جس نے اس تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے ، خصوصاً انسانوں کو۔ پھر ان پر وسیع انعامات کئے ، لیکن انسان ہی وہ واحد مخلوق ہے کہ وہ ظلم بھی کرتا ہے اور فساد فی الارض کی مرتکب بھی ہوتا ہے اور اس کا سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ وہ عقیدۂ توحید سے انحراف کر کے شرک کرتا ہے۔ پھر دوسرا ظلم یہ ہے کہ انسان ایک دوسرے پر بھی ظلم کرتے ہیں۔ پھر وہ دوسری مخلوقات کو بھی اذیت دیتے ہیں۔ لیکن ان تمام مظالم کے باوجود اللہ تعالیٰ صبر کرتا ہے ، ان پر رحم کرتا ہے اور ان کو مہلت دیتا ہے۔ لیکن آخرکار ان کو یونہی چھوڑ نہ دیا جائے گا بلکہ ان سے اس مہلت کے اختتام پر اس سے حساب لیا جائے گا۔ اللہ کی قوت حکیمانہ ہے…
Read the full tafseer →12 یعنی اگر خدا تعالیٰ لوگوں کی گستاخی اور ناانصافی پر دنیا میں فوراً پکڑنا اور سزا دینا شروع کردے تو چند گھنٹے بھی زمین کی یہ آبادی نہیں رہ سکتی، کیونکہ دنیا میں بڑا حصہ ظالموں اور بدکاروں کا ہے۔ اور چھوٹی چھوٹی خطا و قصور سے تو کوئی خالی ہوگا ؟ (کُلُّکُمْ خَطَّاءُوْنَ ) جب خاطی و بدکار فوراً ہلاک کردیے گئے تو صرف معصوم انبیاء کے زمین پر بھیجنے کی بھی ضرورت نہیں رہتی، بلکہ ان کا ملائکہ معصومین کے ساتھ رہنا موزوں ہے۔ جب نیک و بد انسان دونوں زمین پر نہ رہے تو دوسرے حیوانات کا رکھنا بےفائدہ ہوگا، کیونکہ وہ سب بنی آدم کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ نیز فرض کیجیے خدا نے انسانوں کے ظلم وعدوان پر بارش…
Read the full tafseer →آیت 61 وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى
یہ اللہ کی خاص رحمت ہے کہ وہ لوگوں کے ظلم و معصیت کی پاداش میں فوری طور پر ان کی گرفت نہیں کرتا بلکہ ڈھیل دے کر انہیں اصلاح کا پورا پورا موقع دیتا ہے۔
Read the full tafseer →58 ظالموں اور مشرکوں کو نیست ونابود کرنا اللہ کی مشیئت کے خلاف ہے :۔ عذاب کی جو بھی صورت ہو وہ بالآخر تمام مخلوق کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے۔ ایک معمولی سی مثال یہ لیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ بارش برسانا بند کردے۔ تو انسان کو پانی پینے کو ملے نہ حیوانات کو، نہ سبزی اور گھاس وغیرہ اگیں اور نہ پھلدار درخت اور چند ہی دنوں میں تمام مخلوق بھوک سے مرجائے اور دنیا ویران اور سنسان بن جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جتنے مشرک اور ظالم قسم کے انسان ہیں صرف انہی پر اللہ کا قہر نازل ہو اور باقی صرف نیک لوگ رہ جائیں۔ زمین میں ایسی آبادی بھی اللہ کی مشیئت نہیں اور ایسی مخلوق جو نیک ہی ہوں وہ تو پہلے سے ہی فرشتوں کی…
Read the full tafseer →88۔ یعنی بدکار تو بہرحال اپنی بدی کے پاداش میں ہلاک کر ہی دیے جاتے، اور جب وہ باقی ہی نہ رہ جاتے، تو نیک کاروں کا وجود بھی بےمعنی رہ جاتا، اگر دنیا میں ظلم اور ظالم کا وجود نہ باقی رہے تو کوئی انصاف کس کے مقابلہ میں کرے گا ؟ دنیا میں کوئی مفلس نہ باقی رہے، تو صفت فیاضی کے ظہور کی کیا صورت باقی رہے گی ؟ مصیبت زدوں کے وجود سے دنیا خالی ہوجائے، تو کوئی ہمدردی اور شفقت کیلئے کس کو تلاش کرے گا ؟۔ غرض انسانی آبادی تو ساری کی ساری یوں ختم ہوجاتی۔ اور جب کوئی انسان نہ زندہ رہتا، تو پھر حیوانات کی بھی ضرورت نہ رہ جاتی جو تمامتر انسان ہی کی خدمت کے لئے ہیں۔ (آیت) ” دآبۃ “۔ کے معنی انسان کے لئے بھی لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
آیت نمبر 61 تا 65
ترجمہ : اگر معاصی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ لوگوں کی گرفت کرتا تو زمین پر چلنے پر ایک بھی چلنے والا (جاندار) نہ چھوڑتا لیکن وہ ان کو ایک مقررہ وقت تک ڈھیل دیتا ہے، سو جب ان کا وقت (مقرر) آجاتا ہے تو وہ اس سے نہ گھڑی پیچھے ہٹتے ہیں اور نہ آگے بڑھتے ہیں، اور اللہ کے لئے وہ چیز ثابت کرتے ہیں جسے وہ خود اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں، اور وہ چیزیں بیٹیاں اور ریاست میں شرکت اور اھانت رسول ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور وہ یہ کہ ان کے لئے اللہ کے نزدیک اچھا بدلہ ہے یعنی جنت جیسا کہ وہ کہتے ہیں اگر مجھے میرے رب کی طرف لوٹایا گیا تو یقیناً میرے لئے اس کے پاس اچھا بدلہ ہے، اللہ…
Read the full tafseer →ولو یؤاخذ اللہ الناس بظلمھم ما ترک علیھا من دآبۃ اگر اللہ لوگوں کی بےجا حرکتوں کے سبب ان کی (فوری) گرفت کرتا تو زمین پر کسی (حس و) حرکت کرنے والے کو نہ چھوڑتا۔
مواخذہ کرنے سے مراد ہے : فوری سزا دینا۔ النَّاس سے مراد کفار ہیں۔ لفظ مواخذہ اور ظلم اسی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ ظلم سے مراد ہے : کفر اور معصیت۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ النَّاس سے مراد سب لوگ ہیں (مؤمن ہوں یا کافر) عبارت کی رفتار اسی کی غمازی کر رہی ہے لیکن اس سے یہ نہ سمجھ لینا چاہئے کہ سب ہی لوگ یہاں تک کہ انبیاء بھی ظالم قرار پاجائیں گے کیونکہ گروہ انسانی کے اکثر افراد سے چونکہ کفر و معصیت کا صدور ہو رہا ہے ‘ اسلئے جماعت کی طرف ظلم کی…
Read the full tafseer →(61) اور اگر اللہ تعالیٰ ان کے کفر پر پکڑ کریں تو سطح زمین پر جن وانس میں سے کسی کو نہ چھوڑیں، لیکن ان کو ان کی متعین زندگیوں تک مہلت دے رہے ہیں، پھر جب ان کی ہلاکت کا وقت معین آپہنچے گا، اس وقت ایک گھڑی نہ اس سے پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے کہ وقت سے پہلے ہلاک ہوجائیں۔
Read the full tafseer →وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ۔۔ : ”يُؤَاخِذُ“ یہاں ”یَأْخُذُ“ کے معنی میں ہے، باب مفاعلہ اس لیے استعمال کیا ہے کہ اس میں پوچھ گچھ کا مفہوم بھی واضح ہوتا ہے۔ ظلم سے مراد کسی چیز کو اس کی جگہ کے علاوہ رکھنا ہے، سب سے بڑا ظلم شرک ہے، پھر اللہ کی کسی حد سے تجاوز کرنا اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کرنا ظلم کی مختلف صورتیں ہیں۔ یہی بات سورة فاطر کی آخری آیت میں بیان فرمائی ہے۔
”النَّاسَ“ سے مراد یا تو کافر و مشرک ہیں، یا سارے ہی انسان مراد ہیں، خواہ کتنے نیک ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر اور اس کے احکام کی پوری ادائیگی کوئی بھی نہ کرسکا ہے نہ کرسکتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (ۭكَلَّا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 61
قولہ تعالیٰ : ولو یؤاخذ اللہ الناس بظلمھم اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے کفر اور ان کے بہتان تراشی کے سبب جلدی پکڑ لیا کرتا ما ترک علیھا تو زمین پر کسی کو نہ چھوڑتا، پس یہ غیر مذکور سے کنایہ ہے، لیکن اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : من دآبۃ کیونکہ جاندار زمین پر ہی چلتا، رینگتا ہے۔ اور اس کا معنی ہے کہ من دآبۃ سے مراد کافرۃ (کفر کرنے والا) ہے، پس یہ خاص ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ آباء کو ان کے کفر کے سبب ہلاک کردیتا تو بیٹے بھی نہ ہوتے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آیت سے مراد عموم ہے، یعنی اگر اللہ تعالیٰ مخلوق کو ان کے کرتوتوں کے باعث پکڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
1:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو یواخذ اللہ الناس بظلمہم ما ترک علیھا من دآبۃ “ (اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑ لیتا) تو ان کو بارش (کا پانی) نہ پلاتا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اگر بارش نہ برسے تو زمین پر کوئی جانور باقی نہ رہے سب مرجائیں۔
3:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو یواخذ اللہ الناس بظلمہم ما ترک علیھا من دآبۃ “ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں ایسا کیا تھا نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں جو جانور سوار ہوگئے تھے وہ بچ گئے باقی زمین…
Read the full tafseer →[وَلَوْ : اور اگر ] [ يُؤَاخِذُ : پکڑے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ النَاسَ : لوگوں کو ] [ بِظُلْمِهِمْ : ان ظلم کے سبب سے ] [ مَا تَرَكَ : تو وہ نہ چھوڑے ] [ عَلَيْهَا : اس پر ] [ مِنْ دَاۗبَّةٍ : کوئی بھی چلنے والا ] [ وَّلٰكِنْ : اور لیکن ] [ يُّؤَخِّر : وہ مہلت دیتا ہے ] [ُهُمْ؛ان کو ] [ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ: ایک معین مدت تک ] [ فَاِذَا؛پھر جب ] [ جَاۗءَ؛آ جائے ] [ اَجَلُهُمْ؛ان کا وقت ] [ لَا يَسْتَاْخِرُوْنَ : تو وہ لوگ پیچھے نہیں ہوں گے ] [ سَاعَةً : ایک گھڑی (لمحہ) بھر ] [ وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ : اور نہ ہی آگے ہوں گے ]
Read the full tafseer →لوگوں کے ظلم کی وجہ سے اللہ گرفت فرماتا تو زمین پر چلنے والوں میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑتا
مشرک اور کافر اپنے عقائد اور اعمال کی وجہ سے جو سراپا ظلم ہے عذاب کے مستحق ہیں اللہ تعالیٰ شانہٗ اگر چاہتا تو فوراً عذاب دیتا اور ہلاک فرما دیتا لیکن اس کی عادت اس طرح نہیں ہے بلکہ وہ مہلت عطا فرماتا ہے اور جس قوم کی ہلاکت ہوتی ہے وہ میعاد مقرر تک پہنچ جاتی ہے جب میعاد معین آجاتی ہے یعنی آنے کے قریب ہوتی ہے تو اس وقت نہ آگے بڑھ سکتے ہیں نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ شانہ لوگوں کے مظالم کی وجہ سے فوری مواخذہ نہیں فرماتا، اگر وہ فوری مواخذہ فرماتا تو زمین پر کسی بھی چلنے پھرنے والے کو نہ چھوڑتا۔ مذکورہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
بیان حلم خداوندی
قال اللہ تعالیٰ : ولو یؤاخذ اللہ الناس یظلمھم .... الیٰ .... وانھم مفرطون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کے اقوال شنیعہ اور افعال فظیعہ کو بیان کیا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بڑے حلیم و کریم ہیں باوجود جرم عظیم کے مؤاخذہ اور گرفت میں جلدی نہیں کرتے بلکہ حلم سے مجرمین کو مہلت دیتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ اور اللہ کی عزت و رفعت اس کو مقتضی ہے کہ ان ظالموں اور گستاخوں کو فورا عذاب سے ہلاک کردیا جائے لیکن اس کا حلم اور حکمت اس کی مقتضی ہے کہ ان ظالموں کو کچھ مہلت دی جائے اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم پر پکڑنے لگے یعنی ان کے کفر و شرک پر فورا پکڑنے لگے تو (زمین پر)…
Read the full tafseer →45:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ مشرکین کفر و افتراء میں انتہاء کو پہنچ چکے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ پکڑنے میں عجلت سے کام نہیں لیتا اگر وہ لوگوں کو ان کے گناہوں پر فورًا پکڑ لیتا تو اب تک زمین پر کوئی جاندار زندہ باقی نہ رہتا اور سب ہلاک ہوچکے ہوتے اور زمین زندگی سے خالی ہوچکی ہوتی، کیونکہ معصوم تو صرف انبیاء (علیہم السلام) ہیں باقی سب لوگ (مومن و کافر) کسی نہ کسی درجہ میں ظالم و خطا کار ہیں، جب تمام بدکار اور خطاکار لوگ ہلاک کردئیے گئے تو اب انبیاء معصومین کو زمین پر بھیجنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں رہتی جب زمین تمام نیک و بد انسانوں سے خالی ہوگئی تو پھر دیگر حیوانات کو زمین پر رکھنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
(ربط آیات)
گذشتہ رکوع کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے دلائل توحید بیان فرمائے اور دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ دو خدا نہ بناؤ بلکہ معبود برحق تو صرف ایک ہی ہے پھر اللہ نے مشرکوں کی مختلف کارگزاریوں کا ذکر فرمایا ، منجملہ ان کے ایک یہ بھی تھی کہ خدا تعالیٰ کی بیٹیوں کا تصور رکھتے تھے جو کہ اس کی شان میں گستاخی اور سخت بےادبی ہے ، فرمایا کہ اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہو مگر خدا تعالیٰ کی نسبت اپنی ناپسندیدہ مخلوق بیٹیوں کی طرف کرتے ہو ، ان کی حالت یہ تھی کہ اگر کسی شخص کو اس کی بیٹی کی ولادت کی خبر دی جاتی تو غم وغصہ اور ندامت کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا اور پھر وہ سوچنے لگتا کہ اس بیٹی کو ذلت…
Read the full tafseer →وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُهُمْ لَا يَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ 61
ظلم
وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه،
قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ:
الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی،
وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13]
والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس،
وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–61
ترکیب : اثنین تاکید ہے الہین اور مفعول ثانی لاتتخذوا کا بھی ہوسکتا ہے وفیہ مافیہ۔ واصبا ای وانما حال ہے الذین سے اور عامل اس میں معنی ظرف کے ہیں مابمعنی الذی بکم اس کا صلہ من نعمۃ حال ہے ضمیر سے جو جار میں ہے فمن اللہ خبر دوسری وجہ بھی ممکن ہے۔ تجٔرون ترفعون اصواتکم بالاستغاثۃ سبحانہ جملہ معترضہ مسودًا خبر ظل۔ یتواری حال ہے ضمیر کظیم سے۔ اذاکشف الم اذا شرطیہ اذا فریق فجائیۃ جواب الشرط لیکفروالام کے وقیل لام العاقبۃ۔
تفسیر : پچھلی آیتوں میں یہ ثابت کر کے کہ تمام عالم اس کے قبضہ قدرت میں ہے اسی کے آگے سرتسلیم جھکائے ہوئے ہے۔ قال اللہ سے لے کر فارھبون تک توحید خالص کا حکم دیتا ہے پھر ولہ مافی…
Read the full tafseer →وَلَوْیُؤَاخِذُاللّٰہُ النَّاسَ بِظُلْمِھِمْ مَّا تَرَکَ عَلَیْھَا مِنْ دَآبَّۃٍ وَّلٰـکِنْ یُّؤَخِّرُھُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ج فَاِذَا جَآئَ اَجَلُھُمْ لاَ یَسْتَاخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلاَیَسْتَقْدِمُوْنَ ۔
(سورۃ النحل : 61)
(اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی حق تلفی پر فوراً پکڑ لیا کرتا تو زمین پر کسی جاندار کو نہیں چھوڑتا لیکن وہ انھیں ایک وقت مقرر تک مہلت دیتا ہے اور جب ان کا مقرر وقت آجائے گا تو وہ ایک لمحہ پیچھے ہوسکتے ہیں اور نہ آگے ہوسکتے ہیں۔ )
مطالبہ عذاب کا جواب اور آنحضرت ﷺ کو تسلی
سیاقِ کلام سے یہ بات واضح ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جب قریش مکہ کو دیکھا کہ وہ کسی طرح بھی آپ کی دعوت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات میں کسی کو شریک کرنا اور فرشتوں کو اس کی بیٹیاں قرار دینا بدترین ظلم ہے مگر اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق ظالموں کی فی الفور گرفت نہیں کرتا۔
کفار، مشرک اور مجرم پیشہ لوگوں کو جب ان کے کفرو شرک اور ان کے مظالم کے بارے میں سمجھایا جائے تو وہ اپنے آپ کو سچاثابت کرنے کے لیے یہ دلیل بھی دیتے ہیں۔ کہ اگر اللہ کو ہمارے عقائد اور اعمال اتنے ہی ناپسند ہیں تو پھر وہ ہماری گرفت کیوں نہیں کرتا ؟ بسا اوقات ضعیف الایمان لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں کہ آخر کوئی سبب تو ہے جس کی بنا پر کفر و شرک اور جرائم کے مرتکب لوگوں کو کھلی…
Read the full tafseer →گناہ پر فوری پکڑ نہیں بلکہ مقررہ وقت تک مہلت ہے :
61: وَلَوْ یُؤَا خِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِظُلْمِھِمْ (اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کی بےجا حرکتوں کے سبب ان پر گرفت کرتا) ان کے کفر اور ان کے گناہوں کی وجہ سے۔ مَّا تَرَکَ عَلَیْھَا (تو زمین پر نہ چھوڑتا) مِنْ دَآبَّۃٍ (کسی حرکت کرنے والے کو) بالکل تمام کو ظالموں کے ظلم کی نحوست سے ہلاک کرڈالتا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حباری پرندہ اپنے گھونسلے میں ظالم کے ظلم کی وجہ سے مرتا ہے۔ ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ابن آدم کے گناہوں کی وجہ سے اپنے سوراخ میں مکوڑے ہلاک ہوتے ہیں۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ دابہ سے مراد مشرک ہے جو چلتا ہے زمین پر۔ وَّ لٰکِنْ…
Read the full tafseer →تفسیر (61)” ولو یواخذ اللہ الناس بظلمھم “ ان کو سزا دینے میں جلدی کرے یا مواخذہ کرنے میں جلدی کرے ان کے کفر کی وجہ سے اور نافرمانی کی وجہ سے ” ماترک علیھا “ زمین پر یہ کنایۃ ذکر کیا گیا ہے جو مذکور نہیں ہے۔” من دابتۃ “ حضرت قتادہ نے اس آیت کے متعلق لکھا ہے کہ ایسا حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں ہوچکا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں جو جانور چڑھ گئے وہ بچ گئے اور باقی ہلاک کردئیے گئے۔
ظلم کی وجہ سے چڑیاں بھی اپنے گھونسلے میں بھوکی مرجاتی ہیں
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ظالم صرف اپنے نفس کو ہی ضد پہنچاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
61۔ 62۔ اللہ پاک اس آیت میں اپنے درگزر کا حال بیان فرماتا ہے کہ یہ مشرک لوگ جیسے جیسے فتنہ و فساد برپا کرتے ہیں اگر خدا کو اس فتنہ و فساد کا مواخذہ منظور ہو تو ان کے ساتھ ان کی بدبختی کی وجہ سے ساری دنیا کو ہلاک کر دے اور کوئی جاندار روئے زمین پر باقی نہ چھوڑے 1 ؎۔ صحیح مسلم میں ابن عمر ؓ سے ایک روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی پر عذاب کا ارادہ کرتا ہے تو اس عذاب میں اس قوم کے سارے آدمیوں کو شریک کرتا ہے پھر یہ لوگ اپنی اپنی نیت کے مطابق اٹھائے جائیں گے جس کا مطلب یہ ہے کہ جیسی جس کی نیت اور جیسے جس کے اعتقاد ہوں گے۔ ویسا ہی اس کا حشر ہوگا چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں ایسا ہوچکا ہے…
Read the full tafseer →آیت : (61)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ظالموں کی افترا پردازی بیان کرنے کے بعد اپنا کامل حلم و صبر ذکر کرتے ہوئے فرمایا (ولو یؤاخذ اللہ الناس بظلمھم) ” اگر پکڑے اللہ لوگوں کو ان کی بےانصافی پر “ بغیر کسی کمی یا زیادتی کے (ما ترک علیھا من دابۃ) ” نہ چھوڑے وہ زمین پر ایک بھی چلنے والا “ یعنی معصیت کا ارتکاب کرنے والوں کے علاوہ چوپایوں اور حیوانات میں سے بھی کچھ نہبچتا ‘ کیونکہ گناہوں کی نحوست کھیتوں اور نسل کو ہلاک کردیتی ہے۔ (ولکن یوخرھم) ” لیکن وہ ان کو ڈھیل دیتا ہے “ یعنی انہیں جلدی سزا نہیں دیتا ‘ بلکہ ایک مقرر مدت یعنی قیامت کے روز تک موخر کردیتا ہے (فاذاجاء اجلھم یا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →116۔ اللہ تعالیٰ کی شان عفو و درگذر کا ایک نمونہ ومظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو ان کے ظلم پر پکڑنے لگتا تو زمین پر چلنے والے ایک جاندار کو بھی باقی نہ چھوڑتا۔ مگر وہ ایسے نہیں کرتا بلکہ لوگوں کو ڈھیل پر ڈھیل دئے جارہا ہے جو محض اس کا کرم ہے۔ ورنہ ایساکون ہے جو قصور وعیب سے پاک ومبرا ہو ؟ پس یہ اس کا کرم واحسان اور عفو وحلم ہے کہ اس نے سب کو چھوڑا ہوا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو یہ اس وحدہ لاشریک کی شان کرم اور عفو و درگزر کا ایک عظیم الشان نمونہ ومظہر ہے جس کے شکر میں بندوں کو دل وجان سے اس کے حضور جھک جانا چاہیے۔ اور ظالموں اور سرکشوں کو اس کے اقبال سے کبھی کسی غلط فہمی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
رحمت الٰہی، کفار کو دردناک عذاب کی وعید اور نزول قرآن کا مقصد
تشریح : اللہ کی رحمتیں بیشمار ہیں اور سب کے لیے ہیں۔ اللہ کا نظام چل رہا ہے ہر کافر و مشرک اور مسلمان اس کی رحمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے مگر جو لوگ اس کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اچھی جزا پائیں گے جو ہدایات سے ہٹ کر بری زندگی گزارتے ہیں وہ بری جزا پائیں گے۔ اور یہ وقت اللہ کے منتخب کیے گئے پروگرام کے مطابق ٹھیک وقت پر ضرور آجائے گا۔ اور اس حقیقت سے ہر عقل مند آدمی خوب اچھی طرح واقف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
یہ لوگ اس قدر ظالم ہیں کہ اگر ان کے مشرکانہ عقاید وافعال پر اللہ جل جلالہ فورا گرفت فرمانے لگے تو ان میں سے کوئی بھی روئے زمین پر باقی نہ رہے اور ان کی گرفت ہوگی بچ نہ سکیں گے صرف انہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دی جاتی ہے اور جب وہ وقت مقررہ آجاتا ہے تو کسی کو مجال نہیں ہوتی کہ گھڑی بھر بھی اسے آگے پیچھے کرسکے ، ذرا گستاخی کی حد تو دیکھو کہ جو چیز خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے یعنی بیٹیاں وہ اللہ جل جلالہ کے لیے تجویز کرتے ہیں اور پھر ساتھ یہ جھوٹ بھی بولتے ہیں کہ اس پر انہیں انعامات نصیب ہوں گے مگر بلاشک ایسے لوگ کے لیے تو آگ ہی ہے جس میں وہ بدستور اضافہ کر رہے ہیں کہ ہر…
Read the full tafseer →ف 9 اللہ تعالیٰ حلم اور پردہ پوشی سے کام لیتا ہے۔ یہاں ” داب 1“ سے مراد یا تو کافر اور گنہگار لوگ ہیں اور یا یہ ہر جاندار چیز کو شامل ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بنی آدم کے گناہوں کی نحوست کا اثر دوسرے جانوروں پر بھی پڑتا ہو جیسا کہ بعض آثار سے ثابت ہے اور یا دوسرے جانوروں پر ہلاکت انسان کے بالتبیع ہو (کذافی ابن کثیر)
9 یعنی جب تک ان کے لئے اس دنیا میں رہنا مقصدر ہے۔
Read the full tafseer →(16:61) دآبۃ۔ جاندار۔ جانور۔ چلنے والا۔ رینگنے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 65
یواخذ وہ پکڑتا ہے۔ ماترک اس نے نہ چھوڑا (وہ نہ چھوڑے گا) یوخر وہ مہلت دیتا ہے، تاخیر کرتا ہے۔ اجل مدت، موت۔ لایستاخرون نہ پیچھے ہٹ سکیں گے۔ لایستقدمون نہ وہ آگے بڑھیں گے۔ یکرھون وہ ناپسند کرتے ہیں۔ تصف ملوث ہوتے ہیں، کہتے ہیں۔ السنۃ (لسان) زبانیں۔ مفرطون آگے بڑھا رہے ہیں۔ زین خوبصورت بنا دیا۔ احیا اس نے زندگی دی۔ یستمعون وہ سنتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 61 تا 65
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کفار و مشرکین اللہ کی شان میں گستاخی کر گزرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں حالانکہ اللہ ہر عیب سے پاک ہے وہ بیٹا، بیٹی کا محتاج نہیں یہ خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
اللہ کے درگزر کا حال
اس آیت میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان لوگوں کو ڈھیل دے رکھی ہے اور ایک وعدہ مقررہ تک ان کا ہلاک کرنا منظور نہیں ہے۔ جب وہ وقت آ جاوے گا تو پھر گھڑی بھر کی بھی مہلت نہیں ملے گی اور اس میں بھی خدا کی حکمت ہے کہ یہ لوگ اپنے کفر اور سرکشی سے شرمسار ہو کر دین اسلام میں داخل ہوجائیں اور ان کی نسل سے جو اولاد پیدا ہو وہ اہل اہمان ہو پھر فرمایا کہ جن باتوں سے کفار کو عار ہے ، اور جو باتیں اپنے واسطے پسند نہیں کرتے مثلاً لڑکیوں کا ہونا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حق میں یوں کہتے ہیں کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں، اور خدا کے ساھت بتوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ خود ان کو یہ گوارہ…
Read the full tafseer →[33] یعنی بدکار تو بہرحال بدی کی پاداش میں ہلاک کر ہی دیئے جاتے اور جب وہ باقی ہی نہ رہ جاتے تو
نیکوکاروں کا وجود بھی بےمعنی رہ جاتا کیونکہ اگر دنیا میں ظلم اور ظالم کا وجود باقی نہ رہے تو کوئی انصاف کس کے مقابلے میں کرے گا ؟ دنیا میں کوئی مفلس باقی نہ رہے تو صفت فیاضی کے ظہور کی کیا صورت باقی رہے گی ؟ مصیبت زدوں کے وجود سے دنیا خالی ہوجائے تو کوئی ہمدردی اور شفقت کے لئے کس کو تلاش کرے گا ؟ غرض انسانی آبادی تو ساری کی ساری یوں ختم ہوجاتی اور جب کوئی انسان زندہ نہ رہتا تو پھر حیوانات کی ضرورت بھی باقی نہ رہ جاتی جو تمام تر انسان ہی کی خدمت کے لئے ہیں۔
[34] یعنی اللہ کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
(ف 1) غرض یہ ہے کہ انسان کے گناہ ناقابل شمار ہیں یہ اللہ کا کرم ہے کہ اسے ڈھیل دیتا ہے تاکہ یہ اپنے کئے پر پشیمان اور حق کی جانب رجوع ہو ، اگر وہ اغماض اور چشم پوشی سے کام نہ لے تو ہم یہاں دنیا میں ایک لمحہ کے لئے زندہ و برقرار نہ رہ سکیں ۔
Read the full tafseer →61 ۔ اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم اور ناانصافی کی وجہ سے پکڑنے لگے تو روئے زمین پر کسی چلنے والے اور حرکت کرنیوالے کو نہ چھوڑے لیکن وہ ایک وقت مقررہ اور وقت موعود تک لوگوں کو مہلت دیتا ہے پھر جب ان کا وہ وقت آجائے گا تو وہ اس وقت مقررہ سے نہ گھڑی بھر پیچھے رہ سکیں گے اور نہ گھڑ ی بھر اس وقت مقررہ سے آگے بڑھ سکیں گے۔ یعنی جب عذاب آئے تو سب ہی ہلاک ہوں مگر جو وقت گرفت کا مقرر ہے اس سے پہلے در گزر فرماتے رہتے ہیں جس زمانے میں جیسے گناہ بڑھتے ہیں اسی طرح کا عذاب بھی شدید ہوتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی لوگوں کو سزا دے تو مینہ بند کرے اس میں جانور بھی مریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
ف 2۔ دنیا میں بھی کہ ایسے جہل میں مبتلا ہیں اور آخرت میں بھی کہ مبتلائے عقوبت وذلت ہوں گے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ اگر ان لوگوں کو فورا پکڑ لیتا تو آج تک ان کا قصہ پاک ہوگیا ہوتا :
69۔ (دابہ) کا لفظ قرآن کریم میں 14 بار آیا ہے اور اس کے متعلق کہا گیا ہے کہ دابہ : اسم لکل حیوان ذکرا کان انشی عاقلا اوغیر عاقل ‘ وغلب علی غیر عاقل ‘۔ (دابہ) کا لفظ اسم ہے ہر ایک جانور کا وہ مذکر ہو یا مؤنث ‘ عاقل ہو یا غیر عاقل ، ناطق ہو یا غیر ناطق اور زیادہ تر غیر ناطق اور غیر عاقل پر استعمال ہوتا ہے ۔ (دابہ) میں ۃ واحد کی ہے اور اس کی جمع دواب ہے ، پاؤں پرچلنے والا ، رینگنے والا ، اور عرف عام میں یہ لفظ گھوڑے کے لئے بولا جاتا ہے اور قرآن کریم میں (دابہ الارض) ایک خاص جانور پر بھی بولا گیا ہے جس کی تشریح احادیث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
Also at the end of the third verse (60), in: وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (And He is the Mighty, the Wise), there is a hint that taking the birth of a baby girl to be nuisance and disgrace, and hiding from people because of it, amount to challenging Divine wisdom - as the creation of male and female among the created is the very requisite of wisdom. (Ruh a1-Bayan)
Ruling:
Clear indications are visible in these verses that taking the birth of a girl in the family to be a disaster or disgrace is not permissible under Islam. This is done by disbelievers. Quoting Shr'ah (شرعہ ) Tafsir Ruh…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–63
52. This attitude of contempt towards daughters has been mentioned to bring home to them the height of their folly, ignorance and impudence in regard to God. This is why they did not hesitate to assign daughters to Allah, though they themselves felt that to have daughters was a matter of disgrace for them. Besides this, it shows that they had a very low estimation of Allah, which had resulted from their ways of shirk. So they felt nothing wrong in ascribing such foolish and absurd things to Allah Who is above such things.
Read the full tafseer →