An-Nahl 16:60

An-Nahl · from ayah 60

16:60

لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ ۚ— وَلِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰی ؕ— وَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ۟۠لِلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوۡءِ‌ۚ وَلِلّٰهِ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰى‌ ؕ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان ہی کے لیے بری باتیں (شایان) ہیں۔ اور خدا کو صفت اعلیٰ (زیب دیتی ہے) اور وہ غالب حکمت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

For those who do not believe in the Hereafter is the description of evil; and for Allah is the highest attribute. And He is Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 7 of surah · Ruku 13 of juzع

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:60

بری صفات سے متصف کیے جانے کے لائق تو وہ لوگ ہیں جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے رہا اللہ، تو اُس کے لیے سب سے برتر صفات ہیں، وہی تو سب پر غالب اور حکمت میں کامل ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان ہی کے لیے بری باتیں (شایان) ہیں۔ اور خدا کو صفت اعلیٰ (زیب دیتی ہے) اور وہ غالب حکمت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کی ہی بری مثال ہے، اللہ کے لیے تو بہت ہی بلند صفت ہے، وه بڑا ہی غالب اور باحکمت ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بری بری باتیں تو انہی میں ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اور اعلی درجے کی صفات صرف اللہ کی ہیں، اور وہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے انہیں کا بر ا حال ہے، اور اللہ کی شان سب سے بلند، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان لوگوں کی جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے (یہ) نہایت بری صفت ہے، اور بلند تر صفت اللہ ہی کی ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان لوگوں کے لیے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، بری مثال ہے اور اللہ کے لیے سب سے اونچی مثال ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بری مثال تو ان لوگوں کے لئے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اللہ کے لئے تو بلندتر مثال ہے اور وہ ہر چیز پر غالب اور حکمت والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بری تمثیل ان لوگوں کے لیے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اللہ کے لیے اچھی صفتیں ہیں۔ وہ غالب اور حکیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بڑی بری مثال ہے ان لوگوں کی جو ایمان نہیں رکھتے آخرت پر، اور سب سے برتر مثال تو اللہ ہی کے شایان شان ہے، اور وہی ہے زبردست، نہایت حکمت والا،

— مولانا اسحاق مدنی

بری حالت ہے ان لوگوں کی جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اللہ کے لئے اعلی صفات ثابت ہیں۔ اور وہ بڑا زبردست ہے بڑا حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان لوگوں کے لیے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے بری مثال ہے اور اللہ کی صفت نہایت بلند ہے۔ اور وہ زبردست ہے کمال حکمت والا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے انہی کے لیے بری باتیں ہیں اور اللہ کو صفت اعلیٰ زیب دیتی ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Those who do not believe in the Hereafter deserve to be characterized with evil attributes whereas Allah's are the most excellent attributes. He is the Most Mighty, the Most Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those who do not believe in the Hereafter have evil attributes, and to Allah belong the most exalted attributes. He is the Mighty, the Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

Those who do not believe in the Hereafter have evil attributes, and to Allah belong the most exalted attributes. He is the Mighty, the Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

For those who do not believe in the Hereafter is an evil description, and for Allah is the highest description. And He is the All-Mighty, the All-Wise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

For those who believe not in the Hereafter is an evil similitude, and Allah's is the Sublime Similitude. He is the Mighty, the Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

For those who do not believe in the Hereafter is the description of evil; and for Allah is the highest attribute. And He is Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

Those who do not believe in the life to come are evil examples. To God belongs all the exalted attributes; He is the Majestic and the All-wise.

— Muhammad Sarwar

For those who do not believe in the hereafter is an evil attribute, and Allah's is the loftiest attribute; and He is the Mighty, the Wise.

— Muhammad Habib Shakir

For those who believe not in the Hereafter is an evil similitude, and for Allah is the sublime similitude, and He is the Mighty, the Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

To those who believe not in the Hereafter, applies the similitude of evil: to Allah applies the highest similitude: for He is the Exalted in Power, full of Wisdom.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:60

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 56–60

باز پرس لازمی ہوگی مشرکوں کی بےعقلی اور بےڈھنگی بیان ہو رہی ہے کہ دینے والا اللہ ہے سب کچھ اسی کا دیا ہوا اور یہ اس میں سے اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ہوجائے جن کا صحیح علم بھی انہیں نہیں پھر اس میں سختی ایسی کریں کہ اللہ کے نام کا تو چاہے ان کے معبودوں کے ہوجائے لیکن ان کے معبودوں کے نام کیا گیا اللہ کے نام نہ ہو سکے ایسے لوگوں سے ضرور باز پرس ہوگی اور اس افترا کا بدلہ انہیں پورا پورا ملے گا۔ جہنم کی آگ ہوگی اور یہ ہوں گے۔ پھر ان کی دوسری بےانصافی اور حماقت بیان ہو رہی ہے کہ اللہ کے مقرب غلام فرشتے ان کے نزدیک اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ خطا کر کے پھر ان کی عبادت کرتے ہیں جو خطا پر خطا ہے۔ یہاں تین…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 59–63

سورة النَّحْل 52 یعنی اپنے لیے جس بیٹی کو یہ لوگ اس قدر موجب ننگ و عار سمجھتے ہیں، اسی کو خدا کے لیے بلا تامل تجویز کردیتے ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ خدا کے لیے اولاد تجویز کرنا بجائے خود ایک شدید جہالت اور گستاخی ہے، مشرکین عرب کی اس حرکت پر یہاں اس خاص پہلو سے گرفت اس لیے کی گئی ہے کہ اللہ کے متعلق ان کے تصور کی پستی واضح کی جائے اور یہ بتایا جائے کہ مشرکانہ عقائد نے اللہ کے معاملے میں اب جو جس قدر جری اور گستاخ بنادیا ہے اور وہ کس قدر بےحس ہوچکے ہیں کہ اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے کوئی قباحت تک محسوس نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تیسری آیت کے آخیر میں وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے کہ لڑکی پیدا ہونے کو مصیبت وذلت سمجھنا اور چھپتے پھرنا حکمت خداوندی کا مقابلہ کرنا ہے کیونکہ مخلوق میں نرو مادہ کی تخلیق عین قانون حکمت ہے (روح البیان) مسئلہان آیتوں میں واضح اشارہ پایا گیا کہ گھر میں لڑکی پیدا ہونے کو مصیبت وذلت سمجھنا جائز نہیں یہ کفار کا فعل ہے تفسیر روح البیان میں بحوالہ شرعہ لکھا ہے کہ مسلمان کو چاہئے کہ لڑکی پیدا ہونے سے زیادہ خوشی کا اظہار کرے تاکہ اہل جاہلیت کے فعل پر رد ہوجائے اور ایک حدیث میں ہے وہ عورت مبارک ہوتی ہے جس کے پہلے پیٹ سے لڑکی پیدا ہو قرآن کریم کی آیت يَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لِلَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ ۚ وَلِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ یعنی اصل حقیقت تو یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کے لیے بری تمثیل ہے اور اللہ کے لیے اعلی صفتیں ہیں لیکن ان لوگوں نے معاملہ اس کے برعکس کررکھا ہے۔ اللہ کی طرف تو وہ چیزیں منسوب کرتے ہیں جن کو خود اپنے لیے بری سمجھتے ہیں اور اپنے لیے اچھے نتائج اور اچھے انجام کے مدعی ہیں، ویجعلون للہ مایکرھون و تصف الستہم الکذب ان لہم الحسنی (اور وہ اللہ کے لیے وہ چیزیں قرار دیتے ہیں جن کو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں اور ان کی زبانیں جھوٹ دعوی کرتی ہیں کہ ان کے لیے اچھا انجام…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

60۔ 1 یعنی کافروں کے برے اعمال بیان کئے گئے ہیں انھیں کے لئے بری مثال یا صفت ہے یعنی جہل اور کفر کی صفت۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کی جو بیوی اور اولاد یہ ٹھہراتے ہیں، یہ بری مثال ہے جو یہ منکرین آخرت اللہ کے لئے بیان کرتے ہیں۔ 60۔ 2 یعنی اس کی ہر صفت، مخلوق کے مقابلے میں اعلٰی و برتر ہے، مثلاً اس کا علم و سیع ہے، اس کی قدرت لا متناہی ہے، اس کی جود و عطا بےنظیر ہے۔ و علٰی ہذا القیاس یا یہ مطلب ہے کہ وہ قادر ہے، خالق ہے۔ رازق ہے اور سمیع وبصیر ہے وغیرہ (فتح القدیر) یا بری مثال کا مطلب نقص کوتاہی ہے اور مثل اعلی کا مطلب کمال مطلق ہر لحاظ سے اللہ کے لیے ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 57–62

25: مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اول تو اللہ تعالیٰ اولاد کی ضروت سے پاک ہے دوسرے یہ خود اپنے لیے بیٹیوں کو پسند نہیں کرتے، بلکہ بیٹوں کی ولادت کے خواہش مند رہتے ہیں، جو بذات خود بڑی گمراہی کی بات ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہتے ہیں کہ اسکی بیٹیاں ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 60 یہاں شرک کے مسئلے کو مسئلہ انکار آخرت سے ملا دیا جاتا ہے اس لیے کہ دونوں کا سرچشمہ ایک ہے اور دونوں میں ایک ہی قسم کی گمراہی ہے۔ انسانی شعور میں شرک اور انکار آخرت باہم مخلوط ہوتے ہیں اور انسانی شخصیت اور انسانی معاشرے پر ان کے اثرات بھی ایک جیسے ہوتے ہیں۔ جب ہم ان لوگوں کو بات سمجھائیں جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے تو وہ ہر پہلو کے اعتبار سے برے لوگ نظر آئیں گے۔ اپنے شعور ، اپنے طرز عمل اور اپنے عقائد کے اعتبار سے ، غرض وہ ہر پہلو سے برے ہوں گے۔ یہ لوگ زمین و آسمان میں ہر جگہ برے لوگ ہوں گے۔ اللہ کی اگر ہم کوئی مثال دیں گے تو وہ ہر اعتبار سے ایک اعلیٰ مثال ہوگی ۔ اللہ کی ذات اور کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی مشرکین جنہیں اپنے ظلم اور گستاخیوں کے انجام پر یقین نہیں۔ بری مثال یا بری صفت و حالت ان ہی کی ہے وہ ہی اولاد کے محتاج ہیں۔ دکھ اور ضعیفی وغیرہ میں کام آنے کے لیے ان کو لڑکوں کا سہارا چاہیے۔ دفع عار یا افلاس وغیرہ کے ڈر سے لڑکیوں کو ہلاک کرنا ان کا شیوہ ہے۔ آخر میں ظلم و شرک وغیرہ کا جو برا انجام ہونا چاہیے اس سے بھی وہ بچ نہیں سکتے۔ غرض ہر نہج سے بری مثال اور نقص و عیب کی نسبت ان ہی کی طرف ہونی چاہیے۔ حق تعالیٰ کی طرف ان صفات کی نسبت کرنا جو مخلوق کا خاصہ ہیں اور (معاذ اللہ) بیٹے بیٹیاں تجویز کر کے حقیر اور پست مثالیں دینا اس کی شان عظیم و رفیع کے منافی ہے۔ اس کے لیے تو وہ ہی مثالیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَلِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ عقیدۂ آخرت کے حوالے سے یہ حقیقت لائق توجہ ہے کہ یہ عقیدہ دنیوی زندگی میں انسانی اعمال پر تمام عوامل سے بڑھ کر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں آخرت اور ایمان بالآخرت کے بارے میں بہت تکرار پائی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

57 یعنی ایسی گھٹیا صفات تو ان ظالموں کی ہی ہوسکتی ہیں جن کا روز آخرت پر ایمان ہی نہ ہو۔ نہ انھیں یہ معلوم ہے کہ ان کی ایسی ذلیل حرکتوں کی انھیں عبرتناک سزا ملنے والی ہے۔ رہی اللہ کی ذات تو وہ اولاد ہی سے بےنیاز ہے۔ اللہ کی ذات ان کے تصور سے بھی بلند تر اور ماورا ہے اور اس کے لیے ایسی مثالیں اور صفات ثابت کی جاسکتی ہیں جو اعلیٰ سے اعلیٰ اور ہر بلند چیز سے بلند تر ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

86۔ یعنی تمام صفات کمال و جمال، خصوصا قدرت کاملہ اور نزاہت۔ (آیت) ” مثل السوء “۔ دنیا میں بری حالت یہ کہ ایسے شدید جہل وحمق میں مبتلا رہے، اور آخرت میں یہ کہ ہر طرح کی عقوبت وذلت کے شکار ہوں گے۔ 87۔ چناچہ اسم عزیز کے تقاضہ سے ہر وقت سزا دینے پر قادر لیکن اسم حکیم کے تقاضہ سے سزائے شرک کو موت کے وقت تک ملتوی کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–60

آیت نمبر 51 تا 60 ترجمہ : اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے کہ دو معبود نہ بناؤ (اِثْنَیْنِ ) اِلھٰیْنِ کی تاکید ہے معبود تو صرف وہی اکیلا ہے اس کو الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کرنے کے لئے لائے ہیں، پس تم سب میرا ہی خوف (ڈر) رکھو، (یعنی) مجھ ہی سے ڈرو نہ کہ کسی اور سے، اس میں غیبت سے تکلم کی جانب التفات ہے آسمانوں اور زمین میں کو کچھ ہے اسی کا ہے ملک اور مخلوق اور غلام ہونے کے اعتبار سے اور طاعت دائماً اسی کی لازم ہے، واصِبًا، دین ٌ سے حال ہے اور اس میں عامل معنی ظرف ہیں (ای ثَبَتَ لہٗ الدین) کیا پھر بھی تم غیر اللہ سے ڈرتے ہو ؟ معبود برحق وہی ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور استہفام انکار یا تو بیخ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

للذین لا یؤمنون بالاخرۃ مثل السوء جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ‘ ان کی بری حالت ہے۔ مرنے کے بعد بقائے نسل کے محتاج ہیں ‘ اپنی قوت بازو بنانے کیلئے لڑکوں کے ضرورت مند ہیں ‘ لڑکیوں کو برا جانتے ہیں ‘ لڑکیوں کو زندہ دفن کردیتے ہیں۔ یہ سب ان کی بری حالت ہے۔ و اللہ المثل الاعلی اور اللہ کی شان سب سے اونچی ہے۔ وہ واجب الوجود ہے ‘ ہر چیز سے بےنیاز ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ علم ‘ قدرت ‘ بقاء اور تمام جلالی اور جمالی صفات سے متصف ہے۔ مخلوق کی صفات سے پاک ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : مَثَلْ السَّوْٓءِ دوزخ ہے اور مَثَلُ الْاَعَلٰی لا الٰہ الا اللہ کی شہادت ہے۔ وھو العزیز الحکیم اور وہ (سب پر) غالب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(60) جو لوگ مرنے کے بعد زندگی پر یقین نہیں رکھتے ان کے لیے جہنم ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے تو بڑے اعلی درجہ کے صفات یعنی الوہیت، ربوبیت، وحدت ثابت ہیں اور جو اس پر ایمان نہ لائے وہ اس کو سزا دینے میں بڑے زبردست ہیں اور حکمت والے بھی ہیں کہ اس چیز کا حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ اور کسی کی بھی پرستش نہ کی جائے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لِلَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ۔۔ : ”مَثَلُ“ کا معنی کسی چیز کے مشابہ چیز بھی ہے، ضرب المثل، یعنی کہاوت بھی اور صفت اور حال بھی۔ یہاں اکثر مفسرین نے صفت معنی کیا ہے، یعنی وہ مشرکین جن کا اوپر ذکر ہوا، آخرت، حساب کتاب اور جزا و سزا پر ایمان نہ ہونے کی وجہ سے ان کا بہت برا حال ہے جو قباحت کی انتہائی مثال ہے، اسی وجہ سے وہ اتنے بیوقوف اور سنگ دل ہوگئے ہیں کہ فرضی خداؤں کے لیے اپنی آمدنی کا ایک حصہ مقرر کرتے ہیں، بیٹیوں کو نہایت حقارت سے دیکھتے ہیں، انھیں زندہ درگور کردیتے ہیں، حالانکہ بڑھاپے اور کمزوری میں انھی کے محتاج ہوتے ہیں، اپنے لیے بیٹوں کی پیدائش پر فخر کرتے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 60 قولہ تعالیٰ : للذین لا یؤمنون بالاخرۃ یعنی ان لوگوں کیلئے جو اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹیاں بیان کرتے ہیں مثل السوء جہالت اور کفر جیسی بری صفتیں ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ان لوگوں کا اللہ تعالیٰ کو بیوی اور اولاد کے ساتھ متصف کرنا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد عذاب اور جہنم ہے۔ وللہ المثل الاعلی اور اللہ تعالیٰ اعلیٰ صفات کا مالک ہے اور وصف اعلیٰ سے مراد اخلاص اور توحید ہے، یہ حضرت قتادہ نے کہا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : صفۃ علیا اس اعتبار سے ہے کہ وہ خالق ہے، رازق ہے، قادر ہے، اور جزا دینے والا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : مثل السوء اس سے مراد جہنم ہے، اور المثل الاعلی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 57–60

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ویجعلون للہ البنت “ (الآیہ) کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اس کے لئے (یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے) بیٹیوں کو تجویز کرتے ہیں اس کے لئے ان کو پسند کرتے ہیں اور اپنے لئے ان کو پسند نہیں کرتے اور یہ اس وجہ سے کہ زمانہ جاہلیت میں ان میں سے کسی کے گھر میں لڑکی پیدا ہوجاتی تو سوچتا تھا کہ ذلت کے ساتھ اس کو اپنے پاس رکھے یا مٹی میں اس کو زندہ گاڑ دے۔ 2:۔ ابن جریر، ابن منذر ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولھم مایشتھون “ یعنی ان کے لئے بیٹے ہوں (جن کو پسند کرتے ہیں ) لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا حرام ہے : 3:۔ ابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لِلَّذِيْنَ : ان کے لئے جو ] [ لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایمان نہیں لاتے ] [ بِالْاٰخِرَةِ : آخرت پر ] [ مَثَلُ السَّوْءِ ۚ: بُرائی کی مثال ہے ] [ وَللّٰهِ : اور اللہ کے لئے ] [ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى ۭ : بلند ترین مثال ہے ] [ وَهُو : اور وہ ہی ] [ الْعَزِيْزُ : بالادست ہے ] [ الْحَكِيْمُ : حکمت والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَۃِ مَثَلُ السَّوْءِ ) (جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کی بری حالت ہے) (کہ دنیا میں جہالت اور حماقت میں مبتلا ہیں اور آخرت میں عذاب اور ذلت میں مبتلا ہوں گے) (وَ لِلّٰہِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰی) (اور اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ ہیں) اس کا وجود ذاتی ہے اس کی قدرت کاملہ ہے، خالقیت اور مالکیت میں اس کا کوئی شریک اور سہیم نہیں وہ کسی کا محتاج نہیں اولاد اس کے لیے شایان شان نہیں۔ (وَ ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) اور وہ عزت والا غلبہ والا ہے حکمت والا ہے، جو کچھ وجود میں ہے سب کچھ اس کی حکمت کے مطابق ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 56–60

کفار کے چند ناشائستہ اقوال و افعال کا ذکر قال اللہ تعالیٰ : ویجعلون لما لایعلومن نصیبا .... الیٰ .... وھو العزیز الحکیم۔ (ربط) اثبات توحید کے بعد اب ان آیات میں کفار کے چند ناشائستہ اقوال و افعال کا ذکر فرماتے ہیں۔ تاکہ ان کی جہالت اور حماقت ظاہر ہو اور یہ بتلاتے ہیں کہ ان نادانوں نے نادانی سے دو خدا سے بڑھ کر بکثرت معبود بنائے ہوئے ہیں اور طرح طرح سے اعمال شرکیہ میں گرفتار ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ اور ٹھہرا لیتے ہیں یہ مشرک بتوں کے لیے جن کے معبود ہونے کا ان کو مطلق علم نہیں اور نہ ان کے پاس ان کے معبود ہونے کی کوئی سند اور دلیل موجود ہے ہماری دی ہوئی روزی میں سے ان کے لئے حصہ ٹھہرا لیتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

44:۔ یہ ماقبل ہی سے متعلق ہے اور اس میں مشرکین کے قول مذکور کی شفاعت ہی کی طرف اشارہ ہے۔ یہ مشرکین جن کا آخرت پر ایمان نہیں اور جن کے دلوں میں آخرت کی جواب دہی کا ڈر نہیں وہ بہت بری صفتوں کے مالک ہیں۔ مثلاً لڑکوں کو پسند کرنا اور لڑکیوں سے نفرت کرنا اور شرم و عار اور تنگدستی کے ڈر سے ان کو زندہ درگور کرنا لیکن اللہ تعالیٰ بلند صفات کا مالک ہے اور ان گھٹیا صفتوں سے منزہ ہے۔ صفۃ السوء وھی الحاجۃ الی الاولاد الذکور وکراھۃ الاناث و وادھن حشیۃ الاملاق (وللہ المثل الاعلی) وھو الغنی عن العالمین والنزاھۃ عن صفات المخلوقین (مدارک ج 2 ص 223) اللہ تعالیٰ مخلوق کی صفات سے منزہ اور اولاد سے مستغنی ہے۔ اسے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 57–60

(ربط آیات) گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے دو خدا ماننے والے مجوسیوں یا ثنوی فرقے والے مشرکوں کا رد فرمایا ، پھر مطلق شرک کرنے والوں کی مذمت بیان فرمائی کہ وہ اپنی کمائی میں سے غیر اللہ کے تقرب کے لیے ان کے نام کی نذر ونیاز دیتے ہیں ، فرمایا نعمتیں تو ساری کی ساری خدا تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں تو اس میں سے دوسروں کا حصہ نکالنے کا کیا مطلب ؟ تکلیف تو اللہ تعالیٰ دور کرتا ہے مگر نذر ونیاز اغیار کی دی جاتی ہے ، فرمایا یہ لوگ اس چند روزہ زندگی سے فائدہ اٹھالیں ، آگے چل کر انہیں پتہ چل جائے گا جو یہ افتراء کیا کرتے تھے ۔ (خدا کے لیے بیٹیاں) اب اسی ضمن میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی ایک اور قسم کا رد فرمایا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِلَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ ۚ وَلِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ 60؀ۧ أمن والإِيمان يستعمل تارة اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 51–61

ترکیب : اثنین تاکید ہے الہین اور مفعول ثانی لاتتخذوا کا بھی ہوسکتا ہے وفیہ مافیہ۔ واصبا ای وانما حال ہے الذین سے اور عامل اس میں معنی ظرف کے ہیں مابمعنی الذی بکم اس کا صلہ من نعمۃ حال ہے ضمیر سے جو جار میں ہے فمن اللہ خبر دوسری وجہ بھی ممکن ہے۔ تجٔرون ترفعون اصواتکم بالاستغاثۃ سبحانہ جملہ معترضہ مسودًا خبر ظل۔ یتواری حال ہے ضمیر کظیم سے۔ اذاکشف الم اذا شرطیہ اذا فریق فجائیۃ جواب الشرط لیکفروالام کے وقیل لام العاقبۃ۔ تفسیر : پچھلی آیتوں میں یہ ثابت کر کے کہ تمام عالم اس کے قبضہ قدرت میں ہے اسی کے آگے سرتسلیم جھکائے ہوئے ہے۔ قال اللہ سے لے کر فارھبون تک توحید خالص کا حکم دیتا ہے پھر ولہ مافی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لِلَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ مَثَلُ السَّوْئِ ج وَلِلّٰہِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰی ط وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (سورۃ النحل : 60) (ان لوگوں کے لیے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، بری تمثیل ہے، اور اللہ تعالیٰ کے لیے اچھی صفتیں ہیں اور وہی سب پر غالب بڑا دانا ہے۔ ) مشرکین کا ایک اور جرم مثل کا معنی تمثیل بھی ہوتا ہے اور صفت بھی۔ مشرکینِ مکہ بعض دفعہ پروردگار کے لیے تمثیل ایسی پیش کرتے تھے جو خالق کو نہیں مخلوق کو زیب دیتی ہے۔ اور صفات بھی اللہ تعالیٰ کی طرف وہ منسوب کرتے تھے جو انسانوں کی بھی گری ہوئی صفات ہیں۔ اس آیت میں پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ ان کے کس کس جرم کا ذکر کیا جائے،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 57–60

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں دوسروں کو شریک کرنے کے ساتھ بعض مشرک اللہ تعالیٰ کی ذات میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے کئی قسم کا شرک کرتے ہیں۔ مشرکین کا ایک شرک یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں دوسروں کو شریک بناتے ہیں۔ دوسری قسم یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو وحدہ، لاشریک سمجھنے کے بجائے اس کی بیوی اور اولاد ثابت کرتے ہیں۔ جس طرح یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور حضرت مریم اللہ کی بیوی ہے۔ کچھ عیسائی یہ بھی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کافروں کا برا حال ‘ اللہ اعلیٰ شان والے زبردست ہیں : 60: لِلَّذِیْن لَایُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ مَثَلُ السَّوْئِ (جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کی بری حالت ہے) مذکر اولاد کی ضرورت ‘ بنات سے نفرت اور بھوک کے خطرہ سے زندہ درگور کرنا۔ یہ سب مثل السوء کی صفت ہے۔ وَلِلّٰہِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰی (اور اللہ تعالیٰ کی شان سب سے بلند ہے) اور وہ دونوں جہانوں سے بےنیاز ہے۔ اور مخلوق والی خصوصیات وصفات سے پاک ہے وَھُوَ الْعَزِیْزُ (اور وہ زبردست ہے) اپنے ارادوں کو نافذ کرنے میں غالب ہے۔ الْحَکِیْمُ (وہ حکمت والا ہے) بندوں کو مہلت دینے میں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(60)” للذین لا یومنون بالاخرۃ “ یعنی وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ بیٹیوں کو موصوف کرتے تھے اور اپنے لیے بیٹوں کو ” مثل السرئ “ اس کی بری صفت ہے کہ اپنے لیے لڑکوں کے محتاج ہیں اور لڑکیوں سے ناپسندیدگی اختیار کرتے ہیں اور فقر کے خوف سے ان کو قتل کرتے ہیں۔ ” وللہ المثل الاعلیٰ “ بلندی والی صفت وہ کلمہ طیبہ ہے اور وہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ بعض نے کہا کہ مثل الاعلیٰ سے مراد تمام صفات کمالی وجلالی اور علمی اور قدرت اور بقاء والی صفات اسی ذات یکتا میں ہیں۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ مثل السوء سے مراد آگ ہے اور المثل الاعلیٰ سے مراد گواہی دینا ہے کہ

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

60۔ اس سے اوپر کی آیتوں میں اللہ پاک نے یہ بیان کیا تھا کہ مشرکین مکہ لڑکیوں کے پیدا ہونے سے ناک چڑہاتے ہیں اور ان بیچاریوں کو اپنے لئے تنگ و عار سمجھتے ہیں اور ان غریب معصوموں کو زندہ زمین میں دفن کردیتے ہیں اور باوجود اس بات کے اپنی زبان سے یہ کہا کرتے ہیں کہ خدا کی لڑکیاں ہیں اور فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں جانتے ہیں اپنے واسطے تو لڑکیاں پسند نہیں کرتے اور اس خدائے پاک کو جس کے نہ بیوی ہے نہ بچہ بیٹیوں کا ہونا بتلاتے ہیں وہ ان باتوں سے بالکل پاک ہے وہ نہ اولاد کا محتاج اور نہ کسی رشتے کنبے والوں کا پھر اب یہ فرمایا اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے ہیں انہیں اس حساب و کتاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 56–60

آیت : (56-60) اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت ‘ ان کے ظلم اور اللہ تبارک و تعالیٰ پر ان کی افترا پردازی کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ‘ نیز وہ خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے ان بتوں کو۔۔۔۔ جو کوئی نہ علم رکھتے ہیں ‘ نہ کوئی نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔۔۔۔ اس رزق میں حصہ دار بنا تے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کیا اور جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق سے اس کا شریک بنانے میں مدد حاصل کی اور خود ساختہ اور گھڑے ہوئے بتوں کے تقرب کے لئے اللہ تعالیٰ کے اس رزق کو پیش کرتے ہیں ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (وجعلوا للہ مما ذرا من الحرث…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 14–65

زیور کے بارے میں حکم قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

114۔ ایمان سے محروم لوگوں کے لیے بڑی بری مثال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی بری مثال ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان نہیں رکھتے آخرت پر۔ سو ایمان بالآخرت سے محرومی شروفساد کا وہ منبع ومصدر ہے جس سے آگے طرح طرح کی برائیاں پھوٹتی ہیں۔ جس کی ایک مثال ان کا یہی اعتقاد ہے کہ وہ اللہ پاک کے بارے میں بیٹیاں تجویز کرتے ہیں پس یہاں سے معلوم ہوا کہ عقیدہ آخرت سے محرومی ہر شروفساد کی جڑ بنیاد اور اس کا اصل باعث و محرک ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کہ اس محرومی کے نتیجے میں انسان پٹڑی سے اتر جاتا ہے اور وہ راہ راست سے بھٹک کر طرح طرح کی پگڈنڈیوں میں دھکے کھانے اور ذلیل ہونے لگتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور خاص…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 48–60

کائنات کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہے تشریح : یہاں عربوں کی انتہائی بری عادت بیان کی گئی ہے جو کہ ان میں عام طور پر رواج پا چکی تھی۔ اول تو وہ لڑکی ذات کو ہی ناپسند کرتے تھے، پھر جب وہ پیدا ہوجاتی تو اس کو اپنی انتہائی ذلت کا باعث سمجھتے تو اس ذلت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اپنی بچی کو مار دیتے یا زندہ کو ہی دفن کردیتے اور یوں تین گناہ کرتے ایک تو اپنی اولاد پر ظلم کرتے دوسرا قتل کا گناہ کرتے اور تیسرا حکمت الٰہی میں دخل دیتے۔ اس کے علاوہ ایک بہت بڑا گناہ یہ کرتے کہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے، یعنی جس بات کو اپنے لیے باعث شرم سمجھتے اس کو اللہ کے لیے مناسب سمجھتے اور یوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–60

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف اور اللہ کریم کا ارشاد ہے کہ متعدد معبود اختیار نہ کرو بلکہ عبادت کا مستحق اللہ کریم اکیلا ہے لہذا اللہ ہی سے ڈرنا چاہئے کہ نفع کی امید پر یا کسی کے خوف سے اس کی ایسی اطاعت جس میں اللہ جل جلالہ کی نافرمانی ہو عبادت کہلائے گی خواہ ایسا کرنے والا اسے معبود نہ ہی کہتا ہو ، حالانکہ ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ جل جلالہ ہی کا ہے اور سارے اسباب اسی کے پیدا کردہ ہیں جن میں بعض کو کبھی اللہ جل جلالہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کردیا جاتا ہے یا بعض اوقات اسباب ہی کو سب کچھ سمجھ لیا جاتا ہے مگر یہ درست نہیں بلکہ ہمیشہ اور ہر حال میں عبادت کا مل وغیر مشروط اطاعت صرف…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی مشرکین جن کا حال اوپر بیان کیا گیا ہے۔ 7 وہی اولاد کے محتاج ہیں۔ ان ہی کو بڑھاپے اور بیماری میں اولاد کے سہارے کی ضرورت ہے اور انہی کا یہ شیوہ ہے کہ عار یا افلاس کے خوف سے بیٹیوں کو زندہ درگور کر ڈالتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:60) مثل۔ یہاں اس کا معنی صفت ہے۔ السوئ۔ ساء یسوء (نصر) کا مصدر ہے۔ برا ہونا۔ مثل السوئ۔ مضاف مضاف الیہ۔ برائی کی صفت۔ یعنی وہ صرف برائی اور بری اور مذموم صفات سے ہی متصف ہیں کوئی خوبی یا اچھی صفت ان میں نہیں ہے۔ المثل الاعلی۔ موصوف صفت۔ بہت بلند صفت۔ بہت بڑی خوبی۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر یقین وایمان نہیں رکھتے وہ نہایت بری صفات کے مالک ہیں اور باری تعالیٰ اعلیٰ صفات کے مالک ہیں۔ المثل (معرّف باللام) صرف دو جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ اور دونوں جگہ اللہ کی شان میں ہے ایک اس آیت میں اور دوسرا پارہ نمبر 21 میں ولہ المثل الاعلی فی السموت والارض۔ (30:27) اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی شان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 57–60

لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 60 یجعلون وہ بناتے ہیں۔ البنت (البنت) بیٹیاں یشتھون وہ خواشہ رکھتے ہیں، چاہتے ہیں۔ بشر خوش خبری دی گئی۔ الانثیٰ لڑکی۔ ظل گیا۔ وجھ چہرہ۔ مسودا تاریک، سیاہ۔ کظیم وہ کھولنے والا ہے، دم گھٹنے لگتا ہے۔ یتواری (تواری) وہ چھپتا پھرتا ہے۔ سوء برائی۔ ایمس کہ کیا اس کو روکے رکھے۔ ھون توہین، ذلت۔ یدس وہ دباتا ہے۔ التراب مٹی۔ الا سنو، خبردار رہو۔ یحکمون وہ فیصلہ کرتے ہیں۔ مثل السوء بری مثال، بری حالت۔ الاعلیٰ بلندو برتر تشریح : آیت نمبر 57 تا 60 کفار و مشرکین عرب کے اس معاشرہ میں ہاں نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تھا لڑکیوں کو نہایت کم تر، حقیر اور باعث رسوائی سمجھتے تھے اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اس آیت میں فرمایا کہ یہ مشرکین آخڑت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے ہیں۔ انہیں اس حساب وکتاب کے دن کا بلکل خوف نہیں ہے انہیں لوگوں کے واسطے بری مثالیں ہیں ۔ تو یہی ہیں کافر تو یہ خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانا انہیں کا کام ہے، خدا کو آل اولاد کا محتاج بتلانا انہیں کا قول ہے، خدا تو ان باتوں سے بلکل پاک وصاف ہے اس کے واسطے نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی مثالیں ہیں وہ بری باتوں کو بندوں کے حق میں بھی نہیں پسند کرتا ۔ اپنی ذات کے واسطے کیونکر گورا کرے گا۔ وہ تو بڑا غالب ہے ، کوئی اس پر غالب نہیں ہو سکتا اس کی حکمت سب سے بلند ہے۔ وہ بڑا ہی حکمت والا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 59–60

[32] یعنی کفر کے ساتھ کمال بدتمیزی بھی ہے کہ اپنے لئے تو بیٹے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لئے جو مطلقاً اولاد سے پاک ہے اور اس کیلئے اولاد تجویز کرنا عیب لگانا ہے اس کے لئے اولاد بھی وہ تجویز کرتے ہیں جسے اپنے لئے حقیر اور سبب عار جانتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) یعنی اللہ تو بلند ترین نصب العین کا نام ہے ان کے معنی تو یہ ہیں کہ اس کے لئے اعلی ترین صفات کو پیش کیا جائے ، مگر یہ بدبخت ہیں کہ اس کے لئے بری بری مثالیں بیان کرتے ہیں ، کوئی اسے قسم سمجھتا ہے ، کوئی اس کے لئے بیٹے ثابت کرتا ہے ، کوئی جورو کے انتساب سے نہیں شرماتا کوئی اس کے بیٹیاں بتلاتا ہے اس کو اس حقیقت سے آگاہ نہیں کہ اللہ نام ہے بہترین اور مقدس ترین اوصاف وشمائل کے حامل کا اس کا نام بلند ہے ، اس کی صفات بلند ہیں ، اور اس کی خدائی میں اس کا کوئی شریک وسہیم نہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

60 ۔ جو لوگ آخرت پر ایمان اور یقین نہیں رکھتے ان کی بری مثال اور بری حالت ہے اور اللہ تعالیٰ کے لئے بلند ترین اور بڑے اعلیٰ درجے کی صفات ثابت ہیں اور وہ بڑا زبردست اور بڑی حکمت والا ہے۔ یعنی منکرین کی دنیا اور آخرت میں بری حالت ہے ۔ یہاں بیوقوفی اور جہالت میں مبتلا اور وہاں عذاب میں مبتلا ، اللہ تعالیٰ کی یہ لوگ جو صفات بیان کرتے ہیں وہ ان سے بہت بلند صفات کا مالک ہے زبردست کے ساتھ چونکہ کمال حکمت کا مالک ہے بمقتضائے حکمت ان کی جلدی گرفت نہیں کرتا۔ فائدے بجائے ننگ و عار کے۔ بعض مفسرین نے ایمس کہ علی ھون کی تفسیر اس طرح بھی کی ہے کہ اس لڑکی کو ذلت کے ساتھ زندہ کھے یا مٹی میں دبا دے یعنی لڑکی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 60–62

ف 2۔ دنیا میں بھی کہ ایسے جہل میں مبتلا ہیں اور آخرت میں بھی کہ مبتلائے عقوبت وذلت ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آخرت پر یقین نہ رکھنے والے اسی طرح الٹی سیدھی باتیں بناتیں بناتے ہیں : 68۔ جن لوگوں کا آخرت پر یقین نہیں ہوتا تو وہ اسی طرح کی من گھڑت باتیں کرتے آئے ہیں ‘ کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے ۔ دراصل ان کے پاس کوئی مستقل اور ٹھوس نظریہ تو موجود نہیں اس لئے جو ان کے منہ در آتا ہے کہہ دیتے ہیں ۔ اللہ کے لئے اولاد قرار دینا اور پھر وہ بھی لڑکیاں کیوں ؟ اس لئے کہ فرشتوں میں کوئی توالد وتناسل تو ہے نہیں کہ وہ انسانوں کی طرح پیدا ہوتے اور مرتے ہوں اور ساری قومیں آج تک ان طاقتوں اور قوتوں کو مانتی آئی ہیں اور وہ اتنے قرار دیتے ہو تو وہ فورا بول اٹھیں گے کہ اچھا وہ اللہ کی لڑکیاں نہیں تو پھر کیا ہیں ؟ مطلب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 60–65

Also at the end of the third verse (60), in: وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (And He is the Mighty, the Wise), there is a hint that taking the birth of a baby girl to be nuisance and disgrace, and hiding from people because of it, amount to challenging Divine wisdom - as the creation of male and female among the created is the very requisite of wisdom. (Ruh a1-Bayan) Ruling: Clear indications are visible in these verses that taking the birth of a girl in the family to be a disaster or disgrace is not permissible under Islam. This is done by disbelievers. Quoting Shr'ah (شرعہ ) Tafsir Ruh…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 59–63

52. This attitude of contempt towards daughters has been mentioned to bring home to them the height of their folly, ignorance and impudence in regard to God. This is why they did not hesitate to assign daughters to Allah, though they themselves felt that to have daughters was a matter of disgrace for them. Besides this, it shows that they had a very low estimation of Allah, which had resulted from their ways of shirk. So they felt nothing wrong in ascribing such foolish and absurd things to Allah Who is above such things.

Read the full tafseer →