An-Nahl 16:59

An-Nahl · from ayah 59

16:59

یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ ؕ— اَیُمْسِكُهٗ عَلٰی هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِ ؕ— اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ ۟يَتَوَارٰى مِنَ الۡقَوۡمِ مِنۡ سُوۡۤءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ ؕ اَيُمۡسِكُهٗ عَلٰى هُوۡنٍ اَمۡ يَدُسُّهٗ فِى التُّـرَابِ‌ ؕ اَلَا سَآءَ مَا يَحۡكُمُوۡنَ

اور اس خبر بد سے (جو وہ سنتا ہے) لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے) کہ آیا ذلت برداشت کرکے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا زمین میں گاڑ دے۔ دیکھو یہ جو تجویز کرتے ہیں بہت بری ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He hides himself from the people because of the ill of which he has been informed. Should he keep it in humiliation or bury it in the ground? Unquestionably, evil is what they decide.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 7 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:59

لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے کہ اِس بری خبر کے بعد کیا کسی کو منہ دکھائے سوچتا ہے کہ ذلت کے ساتھ بیٹی کو لیے رہے یا مٹی میں دبا دے؟ دیکھو کیسے برے حکم ہیں جو یہ خدا کے بارے میں لگاتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اس خبر بد سے (جو وہ سنتا ہے) لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے) کہ آیا ذلت برداشت کرکے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا زمین میں گاڑ دے۔ دیکھو یہ جو تجویز کرتے ہیں بہت بری ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس بری خبر کی وجہ سے لوگوں سے چھپا چھپا پھرتا ہے۔ سوچتا ہے کہ کیا اس کو ذلت کے ساتھ لئے ہوئے ہی رہے یا اسے مٹی میں دبا دے، آه! کیا ہی برے فیصلے کرتے ہیں؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس خوشخبری کو برا سمجھ کر لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے کہ) ذلت برداشت کر کے اسے اپنے پاس رہنے دے، یا اسے زمین میں گاڑھ دے۔ دیکھو انہوں نے کتنی بری باتیں طے کر رکھی ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

لوگوں سے چھپا پھرتا ہے اس بشارت کی برائی کے سبب، کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبادے گا ارے بہت ہی برا حکم لگاتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ لوگوں سے چُھپا پھرتا ہے (بزعمِ خویش) اس بری خبر کی وجہ سے جو اسے سنائی گئی ہے، (اب یہ سوچنے لگتا ہے کہ) آیا اسے ذلت و رسوائی کے ساتھ (زندہ) رکھے یا اسے مٹی میں دبا دے (یعنی زندہ درگور کر دے)، خبردار! کتنا برا فیصلہ ہے جو وہ کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے، اس خوش خبری کی برائی کی وجہ سے جو اسے دی گئی۔ آیا اسے ذلت کے باوجود رکھ لے، یا اسے مٹی میں دبا دے۔ سن لو ! برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور دی ہوئی خبر سے عار کی وجہ سے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے کہ) آیا اس لڑکی کو ذلت کے باوجود زندہ ہی رہنے دے یا زمین میں گاڑ دے ؟ دیکھو یہ لوگ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ اس منحوس خبر پر لوگوں سے چھپا چھپا پھرتا ہے۔ سوچتا ہے کہ اس کو ذلت کے ساتھ رکھ چھوڑے یا اس کو مٹی میں دفن کردے۔ افسوس، کیا ہی برا فیصلہ ہے جو یہ کرتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ چھپتا پھرتا ہے اس خبر کی برائی سے جو اس کو دی گئی، (پھر سوچتا ہے کہ) کیا وہ اسے زندہ رکھے ذلت کے ساتھ، یا اس کو گاڑ دے مٹی میں، آگاہ رہو کہ بڑے ہی برے ہیں وہ فیصلے جو یہ لوگ کرتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اس بری خبر پر وہ لوگوں سے چھپا چھپا پھرتا ہے آیا اس (مولود) کو ذلت کی حالت میں لئے رہے یا اسے مٹی میں گاڑ دے ؟۔ ہائے کیسی بری تجویز یہ کرتے رہتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اس بری خبر کی وجہ سے جو اسے دی گئی کیا وہ اسے ذلتّ کے باوجود روکے رکھے یا مٹی میں دفن کر دے آگاہ رہو بہت ہی برا ہے جو فیصلہ وہ کرتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور بری خبر جو وہ سنتا ہے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اور سوچتا ہے کہ ذلت برداشت کر کے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا زمین میں گاڑ دے۔ دیکھو یہ جو تجویز کرتے ہیں بہت بری ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and he hides himself from people because of the bad news, thinking: should he keep the child despite disgrace, or should he bury it in dust? How evil is their estimate of Allah!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He hides himself from people because of the (self-presumed) bad news given to him (and wonders): Shall he keep it despite the disgrace (he will face in the society), or put it away into the dust? In fact, evil is what they decide.

— Muhammad Taqi Usmani

He hides himself from people because of the (self-presumed) bad news given to him (and wonders): Shall he keep it despite the disgrace (he will face in the society), or put it away into the dust? In fact, evil is what they decide.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He hides himself from the people because of the evil of what he has been informed. Shall he keep her with dishonor or bury her in the earth Certainly, evil is their decision.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He hideth himself from the folk because of the evil of that whereof he hath had tidings, (asking himself): Shall he keep it in contempt, or bury it beneath the dust. Verily evil is their judgment.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He hides himself from the people because of the ill of which he has been informed. Should he keep it in humiliation or bury it in the ground? Unquestionably, evil is what they decide.

— Saheeh International

They try to hide themselves from the people because of the disgrace of such news. Will they keep their new born despite the disgrace or bury it alive? How sinful is their Judgment!

— Muhammad Sarwar

He hides himself from the people because of the evil of that which is announced to him. Shall he keep it with disgrace or bury it (alive) in the dust? Now surely evil is what they judge.

— Muhammad Habib Shakir

Skulking from the people because of the evil of that which hath been announced unto him: shall he keepit with ignominy or bury it in the dust! Lo'. vile is that which they judge!

— Abdul Majid Daryabadi

With shame does he hide himself from his people, because of the bad news he has had! Shall he retain it on (sufferance and) contempt, or bury it in the dust? Ah! what an evil (choice) they decide on?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:59

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 56–60

باز پرس لازمی ہوگی مشرکوں کی بےعقلی اور بےڈھنگی بیان ہو رہی ہے کہ دینے والا اللہ ہے سب کچھ اسی کا دیا ہوا اور یہ اس میں سے اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ہوجائے جن کا صحیح علم بھی انہیں نہیں پھر اس میں سختی ایسی کریں کہ اللہ کے نام کا تو چاہے ان کے معبودوں کے ہوجائے لیکن ان کے معبودوں کے نام کیا گیا اللہ کے نام نہ ہو سکے ایسے لوگوں سے ضرور باز پرس ہوگی اور اس افترا کا بدلہ انہیں پورا پورا ملے گا۔ جہنم کی آگ ہوگی اور یہ ہوں گے۔ پھر ان کی دوسری بےانصافی اور حماقت بیان ہو رہی ہے کہ اللہ کے مقرب غلام فرشتے ان کے نزدیک اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ خطا کر کے پھر ان کی عبادت کرتے ہیں جو خطا پر خطا ہے۔ یہاں تین…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 59–63

سورة النَّحْل 52 یعنی اپنے لیے جس بیٹی کو یہ لوگ اس قدر موجب ننگ و عار سمجھتے ہیں، اسی کو خدا کے لیے بلا تامل تجویز کردیتے ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ خدا کے لیے اولاد تجویز کرنا بجائے خود ایک شدید جہالت اور گستاخی ہے، مشرکین عرب کی اس حرکت پر یہاں اس خاص پہلو سے گرفت اس لیے کی گئی ہے کہ اللہ کے متعلق ان کے تصور کی پستی واضح کی جائے اور یہ بتایا جائے کہ مشرکانہ عقائد نے اللہ کے معاملے میں اب جو جس قدر جری اور گستاخ بنادیا ہے اور وہ کس قدر بےحس ہوچکے ہیں کہ اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے کوئی قباحت تک محسوس نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری آیت کے آخر میں اَلَا سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ کا مفہوم تفسیر بحرمحیط میں بحوالہ ابن عطیہ یہی دونوں خصلتیں قرار دی ہیں کہ اول تو ان کو یہ فیصلہ ہی برا فیصلہ ہے کہ لڑکیوں کو ایک عذاب اور ذلت سمجھیں دوسرے پھر جس کو اپنے لئے ذلت سمجھیں اسی کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کریں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 58–59

تفسیر آیت 58 تا 59:۔ یعنی خدا کی طرف تو انہوں نے بیٹیاں منسوب کررکھی ہیں در آنحالیکہ بیٹیوں کے معاملے میں خود ان کا اپنا حال یہ ہے کہ اگر ان میں سے کسی کو یہ خبر دی جائے کہ اس کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے تو غم سے اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ ہر وقت رنج والم سے گھٹا گھٹا رہتا ہے، اس کو اپنے لیے ابعث ننگ سمجھ کر لوگوں چھپتا پھرتا ہے اور اس تردد میں پڑجاتا ہے کہ ذلت گوارا کرکے اس کو زندہ رکھے یا اس کو زمین میں دفن کرکے اس ذلت سے چھٹکارا حاصل کرلے۔ اَلَا سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ۔ یعنی جس چیز کو اپنے لیے مکروہ سمجھتے ہیں اسی چیز کو خدا کی طرف یوں بےتکلف منسوب کرتے ہیں، اتنی توفیق بھی نہیں ہوئی کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

59۔ 1 یعنی لڑکی کی ولادت کی خبر سن کر ان کا تو یہ حال ہوتا ہے جو مذکور ہوا، اور اللہ کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔ کیسا برا یہ فیصلہ کرتے ہیں، یہاں یہ نہ سمجھا جائے کہ اللہ تعالیٰ بھی لڑکوں کے مقابلے میں لڑکی کو حقیر اور کم تر سمجھتا ہے، نہیں اللہ کے نزدیک لڑکے اور لڑکی میں کوئی تمیز نہیں ہے نہ جنس کی بنیاد پر حقارت اور برتری کا تصور اس کے ہاں ہے یہاں تو صرف عربوں کی اس ناانصافی اور سراسر غیر معقول رویے کی وضاحت مقصود ہے جو انہوں نے اللہ کے ساتھ اختیار کیا تھا درآں حالیکہ اللہ کی برتری اور فوقیت کے وہ بھی قائل تھے جس کا منطقی نتیجہ تو یہ تھا کہ جو چیز یہ اپنے لیے پسند نہیں کرتے، اللہ کے لیے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 57–62

25: مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اول تو اللہ تعالیٰ اولاد کی ضروت سے پاک ہے دوسرے یہ خود اپنے لیے بیٹیوں کو پسند نہیں کرتے، بلکہ بیٹوں کی ولادت کے خواہش مند رہتے ہیں، جو بذات خود بڑی گمراہی کی بات ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہتے ہیں کہ اسکی بیٹیاں ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 57–59

آیت نمبر 57 تا 59 عقائد کے بارے میں انسان کا فکری انتشار اور فساد صرف عقائد کے حدود تک ہی محدود نہیں رہا کرتا بلکہ یہ زندگی کے پورے طور طریقوں اور رسم و رواج میں سرایت کرجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نظریہ زندگی کے لئے واحد محرک ہوتا ہے۔ چاہے یہ کسی کی زندگی میں یہ نظریہ بادی النظر میں محرک نظر آئے یا پس منظر میں ہو۔ دور جاہلیت کے عرب یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں یعنی فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ لیکن ان کی اپنی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے گھر میں بیٹی کی ولادت کو بہت ہی برا خیال کرتے تھے۔ ان کے خیال میں بیٹیاں اللہ کے لئے ہیں اور وہ چونکہ بیٹوں کو پسند کرتے ہیں اس لیے بیٹے ان کے ہیں۔ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی رسمی ننگ و عار کے تصور سے کہ لڑکی زندہ رہی تو کسی کو داماد بنانا پڑے گا۔ لوگوں کو منہ دکھانا نہیں چاہتا ادھر ادھر چھپتا پھرتا ہے۔ 8 یعنی شب و روز ادھیڑبن میں لگا ہوا ہے اور تجویزیں سوچتا ہے کہ دنیا کی عار قبول کر کے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا زمین میں اتار دے، یعنی ہلاک کر ڈالے۔ جیسا کہ جاہلیت میں بہت سے سنگدل لڑکیوں کو مار ڈالتے تھے یا زندہ زمین میں گاڑ دیتے تھے۔ اسلام نے آکر اس قبیح رسم کو مٹایا اور ایسا قلع قمع کیا کہ اسلام کے بعد سارے ملک میں اس بےرحمی کی ایک مثال بھی پیش نہیں کی جاسکتی۔ بعض نے اَیُمْسِکُہ، عَلٰی ہُوْنٍ کے معنی یوں کیے ہیں " روکے رکھے لڑکی کو ذلیل و خوار کر کے " یعنی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 59 يَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْۗءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ جب اسے خوشخبری دی جاتی ہے کہ وہ ایک بیٹی کا باپ بن گیا ہے تو اسے ایک منحوس خبر خیال کرتا ہے اور یوں محسوس کرتا ہے کہ اب وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔ شرم کے مارے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اور ہر وقت اسی شش و پنج میں رہتا ہے کہ :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

56 لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا :۔ اسی وجہ سے مشرکین عرب میں یہ رواج عام چل نکلا تھا کہ وہ لڑکیوں کے پیدا ہوتے ہی انھیں زندہ درگور کردیتے تھے۔ اَیُمْسِکُہُ عَلٰی ھُوْنٍ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ خود لوگوں کی نظروں میں ذلیل بنا رہے اور لڑکی کو زندہ رہنے دے اور دوسرا یہ کہ اگر لڑکی کو زندہ رہنے دے تو اسے ایسا ذلیل اور مجبور بنا کر رکھے گویا وہ اس کی اولاد ہی نہیں بلکہ آدمی بھی نہیں۔ بالآخر اسلام نے اس قبیح رسم کا خاتمہ کیا اور زندہ درگور کرنے کو قتل ناحق قرار دیا اور معاشرہ میں عورت کو اس کا جائز مقام دلایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

84۔ (یہ سوال مشرک باپ کے دل میں برابر گردش کرتا رہتا ہے) ۔ عرب میں قبیلہ تمیم اس بلا میں خاص طور پر مبتلا تھا، لیکن دنیا کی تاریخ میں مشرک قوموں نے بہ کثرت اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر کردیا ہے۔ ہسٹورینس ہسڑی آف دی ورلڈ میں ہے :۔ ” دختر نوز اد کو زندہ دفن کردینے کا دستور بہت عام رہا ہے۔ “ (جلد 8۔ صفحہ 8) ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ دختر کشی کے اسباب ومحرکات دوگانہ تھے۔ کبھی تو لڑکی کا وجود باعث عار سمجھتے تھے، اور شرم وحیا کے مارے اسے مار ڈالتے تھے، اور کبھی اس کے بارے مصارف کے خیال سے، وھم کانوا یفعلون ذلک تارۃ للغیرۃ والحمیۃ وتارۃ خوفا من الفقر والفاقۃ ولزوم النفقۃ (کبیر) اور یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–60

آیت نمبر 51 تا 60 ترجمہ : اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے کہ دو معبود نہ بناؤ (اِثْنَیْنِ ) اِلھٰیْنِ کی تاکید ہے معبود تو صرف وہی اکیلا ہے اس کو الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کرنے کے لئے لائے ہیں، پس تم سب میرا ہی خوف (ڈر) رکھو، (یعنی) مجھ ہی سے ڈرو نہ کہ کسی اور سے، اس میں غیبت سے تکلم کی جانب التفات ہے آسمانوں اور زمین میں کو کچھ ہے اسی کا ہے ملک اور مخلوق اور غلام ہونے کے اعتبار سے اور طاعت دائماً اسی کی لازم ہے، واصِبًا، دین ٌ سے حال ہے اور اس میں عامل معنی ظرف ہیں (ای ثَبَتَ لہٗ الدین) کیا پھر بھی تم غیر اللہ سے ڈرتے ہو ؟ معبود برحق وہی ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور استہفام انکار یا تو بیخ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یتواری من القوم من سوء ما بشر بہ اور جس چیز (لڑکی) کی اس کو اطلاع دی جاتی ہے ‘ اس کی عار سے لوگوں سے چھپا چھپا پھرتا ہے۔ الْقَوْم سے مراد ہے : اپنے لوگ۔ ایمسکہ علی ھون ام یدسہ فی التراب (تردد میں پڑجاتا ہے) کہ اس کو ذلت کی حالت میں (اپنے پاس) روکے رکھے یا مٹی میں اس کو (زندہ) گاڑ دے۔ یَدُسُّ چھپا دے ‘ دفن کر دے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ قبیلۂ مضر اور بنی خزاعہ اور بنی تمیم لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے۔ ایک تو ان کو ناداری کا اندیشہ ہوتا تھا (کہ لڑکیاں تو صرف کھانے پہننے کی ہیں ‘ لوٹ مار کر کے کہیں سے کچھ لا نہیں سکتیں) دوسرے یہ کہ (ناداری کو دیکھ کر) غیر کفو کہیں ان سے نکاح کرنے کا لالچ نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 58–59

(58۔ 59) اور جب ان میں سے کسی کی بیٹی کی پیدایش کی خبر دی جاتی ہے تو غم وناراضگی میں اس کے چہرے کا نور غائب اور وہ سیاہ چہرے اور دل ہی دل میں کڑہتا رہتا ہے اور لڑکی پیدا ہونے کی جو اس کو خبر دی گئی ہے، اس کے اظہار کو برا سمجھتے ہوئے لوگوں سے چھپائے پھرتا ہے اور سوچتا ہے آیا اس لڑکی کو ذلت وعار کی حالت میں لیے رہے یا اس کو مٹی میں زندہ درگور کر دے، اچھی طرح سن لو، ان کی یہ تجویز بہت ہی بری ہے، کہ اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں اور اپنے لیے لڑکوں کو پسند کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 58–59

وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ۔۔ : بشارت اچھی خبر جس سے بشرے پر خوشی کے آثار ظاہر ہوں، یہاں بطور استہزا ہے، جیسا کہ فرمایا : (فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ) [ آل عمران : 21 ] ”سو انھیں ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دے۔“ ”ظَلَّ کَذَا“ وہ سارا دن اس طرح رہا۔ یہ ”صَارَ“ کے معنی میں بھی آتا ہے کہ وہ اس طرح ہوگیا۔ ”كَظِيْمٌ“ کا معنی ”کَتْمٌ“ (چھپانا) ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ) [ آل عمران : 134 ] ”اور غصے کو پی جانے والے۔“ یہ ”کَظَمَ الْقِرْبَۃَ“ سے لیا گیا ہے۔ جب مشکیزہ پانی سے بھر جائے، پھر اس کا منہ باندھ دیں تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی پھٹ جائے گا، مراد غم سے بھرا ہوا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 59 قولہ تعالیٰ : یتواری من القوم یعنی لوگوں کی نظروں سے چھپتا پھرتا ہے اور غائب رہتا ہے۔ من سوٓء ما بشربہ یعنی اس غم، ندامت اور شرم و حیا کے سبب جوا سے بیٹی کے سبب لاحق ہوگا۔ ایمس کہ ضمیر کو مذکر ذکر کیا کیونکہ وہ ما کی طرف لوٹائی گئی ہے۔ علی ھون یعنی ذلت و رسوائی کے ساتھ (کیا اسے اپنے پاس رکھے) اور اسی طرح عیسیٰ ثقفی نے علی ھوان پڑھا ہے۔ اور الھون اور الھوان لغت قریش کے مطابق ہیں، یہ یزیدی نے کہا ہے، اور اسے ابوعبید نے کسائی سے بیان کیا ہے۔ اور فراء نے کہا ہے : یہ تھوڑا سا لغت تمیم کے مطابق ہے۔ اور کسائی نے کہا ہے : اس سے مراد بلاء (مصیبت و تکلیف) اور مشقت ہے۔ اور حضرت خنساء (رح) نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 57–60

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ویجعلون للہ البنت “ (الآیہ) کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اس کے لئے (یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے) بیٹیوں کو تجویز کرتے ہیں اس کے لئے ان کو پسند کرتے ہیں اور اپنے لئے ان کو پسند نہیں کرتے اور یہ اس وجہ سے کہ زمانہ جاہلیت میں ان میں سے کسی کے گھر میں لڑکی پیدا ہوجاتی تو سوچتا تھا کہ ذلت کے ساتھ اس کو اپنے پاس رکھے یا مٹی میں اس کو زندہ گاڑ دے۔ 2:۔ ابن جریر، ابن منذر ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولھم مایشتھون “ یعنی ان کے لئے بیٹے ہوں (جن کو پسند کرتے ہیں ) لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا حرام ہے : 3:۔ ابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يَتَوَارٰى: وہ چھپتا ہے ] [ مِنَ الْقَوْمِ : لوگوں سے ] [ مِنْ سُوْۗءِ مَا : اس کی برائی (کے سبب) سے ] [ بُشِّرَ؛اس کو خوشخبری دی گئی ] [ بِهٖ ۭ؛جس کی ] [ اَيُمْسِكُهٗ : چاہے وہ تھام لے اس کو ] [ عَلٰي هُوْنٍ : رسوائی کے باوجود ] [ اَمْ يَدُسُّهٗ : یا وہ دھنسا دے اس کو ] [ فِي التُّرَابِ ۭ: مٹی میں ] [ اَلَا : خبردار ] [ سَاۗءَ : کتنا برا ہے ] [ مَا : وہ جو ] [ يَحْكُمُوْنَ : یہ لوگ فیصلہ کرتے ہیں ] د س س [دَسًّا : (ن) کسی چیز کو کسی چیز کے نیچے چھپا دینا۔ کسی چیز میں ٹھونس دینا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 59]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 57–59

مشرکین کی بھونڈی تجویز، اللہ کے لیے بیٹیاں اور اپنے لیے بیٹے تجویز کرتے ہیں خود ان کے یہاں بیٹی پیدا ہونے کی خبر مل جائے تو چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے مشرکین جو شرک کرتے ہیں اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ مال کا کچھ حصہ باطل معبودوں کے لیے مقرر کردیتے ہیں جس کی تفسیر سورة انعام کی آیت (وَ جَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ ) (الی اخر الایۃ) میں گزر چکی ہے۔ مال تو دیا اللہ نے اس میں شریک کردیا باطل معبودوں کو اور اوپر سے یوں کہتے ہیں کہ ایسا کرنا درست ہے اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے، اس لیے فرمایا (تَاللّٰہِ لَتُسْءَلُنَّ عَمَّا کُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ ) (کہ اللہ کی قسم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 56–60

کفار کے چند ناشائستہ اقوال و افعال کا ذکر قال اللہ تعالیٰ : ویجعلون لما لایعلومن نصیبا .... الیٰ .... وھو العزیز الحکیم۔ (ربط) اثبات توحید کے بعد اب ان آیات میں کفار کے چند ناشائستہ اقوال و افعال کا ذکر فرماتے ہیں۔ تاکہ ان کی جہالت اور حماقت ظاہر ہو اور یہ بتلاتے ہیں کہ ان نادانوں نے نادانی سے دو خدا سے بڑھ کر بکثرت معبود بنائے ہوئے ہیں اور طرح طرح سے اعمال شرکیہ میں گرفتار ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ اور ٹھہرا لیتے ہیں یہ مشرک بتوں کے لیے جن کے معبود ہونے کا ان کو مطلق علم نہیں اور نہ ان کے پاس ان کے معبود ہونے کی کوئی سند اور دلیل موجود ہے ہماری دی ہوئی روزی میں سے ان کے لئے حصہ ٹھہرا لیتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 58–59

43:۔ یہ مشرکین کے مذکورہ بالا قول کا الزامی جواب ہے کہ ان کا اپنا حال تو یہ ہے کہ اگر کسی کے گھر لڑکی پیدا ہوجائے تو غم واندوہ کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے۔ ” یتوای من القوم الخ “ اور کئی کئی دن وہ لوگوں سے چھپا رہتا ہے اور مارے شرم کے کسی کو منہ نہیں دکھاتا اور پھر سوچتا ہے کہ کیا ذلت و رسوائی برداشت کر کے اسے زندہ رکھوں یا اسے زندہہی کو زمین میں دفن کردوں۔ ” الا ساء ما یحکمون “ یہ کس قدر بری اور شرمناک بات ہے کہ جس چیز کو وہ خود ناپسند کرتے ہیں اسے اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 57–60

(ربط آیات) گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے دو خدا ماننے والے مجوسیوں یا ثنوی فرقے والے مشرکوں کا رد فرمایا ، پھر مطلق شرک کرنے والوں کی مذمت بیان فرمائی کہ وہ اپنی کمائی میں سے غیر اللہ کے تقرب کے لیے ان کے نام کی نذر ونیاز دیتے ہیں ، فرمایا نعمتیں تو ساری کی ساری خدا تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں تو اس میں سے دوسروں کا حصہ نکالنے کا کیا مطلب ؟ تکلیف تو اللہ تعالیٰ دور کرتا ہے مگر نذر ونیاز اغیار کی دی جاتی ہے ، فرمایا یہ لوگ اس چند روزہ زندگی سے فائدہ اٹھالیں ، آگے چل کر انہیں پتہ چل جائے گا جو یہ افتراء کیا کرتے تھے ۔ (خدا کے لیے بیٹیاں) اب اسی ضمن میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی ایک اور قسم کا رد فرمایا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْۗءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ ۭ اَيُمْسِكُهٗ عَلٰي هُوْنٍ اَمْ يَدُسُّهٗ فِي التُّرَابِ ۭ اَلَا سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ 59؀ وری يقال : وَارَيْتُ كذا : إذا سترته . قال تعالی: قَدْ أَنْزَلْنا عَلَيْكُمْ لِباساً يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] وتَوَارَى: استتر . قال تعالی: حَتَّى تَوارَتْ بِالْحِجابِ [ ص/ 32] وروي أن النبيّ عليه الصلاة والسلام «كان إذا أراد غزوا وَرَّى بِغَيْرِهِ» ، وذلک إذا ستر خبرا وأظهر غيره . ( و ر ی ) واریت کذا ۔ کے معنی کسی چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ قَدْ أَنْزَلْنا عَلَيْكُمْ لِباساً يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] ہم نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 51–61

ترکیب : اثنین تاکید ہے الہین اور مفعول ثانی لاتتخذوا کا بھی ہوسکتا ہے وفیہ مافیہ۔ واصبا ای وانما حال ہے الذین سے اور عامل اس میں معنی ظرف کے ہیں مابمعنی الذی بکم اس کا صلہ من نعمۃ حال ہے ضمیر سے جو جار میں ہے فمن اللہ خبر دوسری وجہ بھی ممکن ہے۔ تجٔرون ترفعون اصواتکم بالاستغاثۃ سبحانہ جملہ معترضہ مسودًا خبر ظل۔ یتواری حال ہے ضمیر کظیم سے۔ اذاکشف الم اذا شرطیہ اذا فریق فجائیۃ جواب الشرط لیکفروالام کے وقیل لام العاقبۃ۔ تفسیر : پچھلی آیتوں میں یہ ثابت کر کے کہ تمام عالم اس کے قبضہ قدرت میں ہے اسی کے آگے سرتسلیم جھکائے ہوئے ہے۔ قال اللہ سے لے کر فارھبون تک توحید خالص کا حکم دیتا ہے پھر ولہ مافی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 58–59

وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُھُمْ بِالْاُنْثٰی ظَلَّ وَجْھُہٗ مُسْوَدًّا وَّھُوَ کَظِیْمٌ۔ یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓئِ مَابُشِّرَبِہٖ ط اَیُمْسِکُہٗ عَلٰی ھُوْنٍ اَمْ یَدُسُّہٗ فِی التُّرَابِ ط اَلاَسَآئَ مَایَحْکُمُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 58۔ 59) (اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ گھٹا گھٹا رہتا ہے۔ اور وہ لوگوں سے چھپا پھرتا ہے اس بری خبر کے بارے جو اسے دی گئی ہے، سوچتا ہے کہ اس کو ذلت کے ساتھ رکھ چھوڑے یا اسے مٹی میں گاڑ دے، آہ ! کتنا برا ہے وہ فیصلہ جو وہ کرتے ہیں۔ ) صنفِ نازک سے متعلق بعض قبائل کا رویہ صنفِ نازک کو مرد کے مقابلے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 57–60

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں دوسروں کو شریک کرنے کے ساتھ بعض مشرک اللہ تعالیٰ کی ذات میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے کئی قسم کا شرک کرتے ہیں۔ مشرکین کا ایک شرک یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں دوسروں کو شریک بناتے ہیں۔ دوسری قسم یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو وحدہ، لاشریک سمجھنے کے بجائے اس کی بیوی اور اولاد ثابت کرتے ہیں۔ جس طرح یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور حضرت مریم اللہ کی بیوی ہے۔ کچھ عیسائی یہ بھی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

59: یَتَوَارٰی مِنَ القَوْمِ مِنْ سُوْٓ ئِ مَابُشِّرَبِہٖ (وہ چھپا پھرتا ہے۔ اس چیز سے جس کی اس کو اطلاع دی جاتی ہے) بری بشارت سے وہ لوگوں میں چھپتا پھرتا ہے۔ ان کے عار دلانے کی وجہ سے۔ وہ اپنے نفس میں کہتا اور دیکھتا ہے۔ اَیُمْسِکُہٗ عَلٰی ھُوْنٍ (اس کو ذلت کی حالت میں روکے رکھے) ذلت و رسوائی کے ساتھ اس کو روک لے جس کی اسے بشارت دی گئی ہے۔ اَمْ یَدُسُّہٗ فِی التُّرَابِ (یا اس کو گاڑ دے مٹی میں) یا اس کو زندہ درگور کر دے۔ اَلَا سَآ ئَ مَا یَحْکُمُوْنَ (خبردار وہ بہت بری تجویز کرتے ہیں) جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کیلئے ایسی اولاد تجویز کرتے ہیں جس کا مرتبہ ان کے ہاں یہ ہے اور اپنے لئے وہ اولاد تجویز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(59)” یتواری “ وہ اس کو چھپاتے پھرتا۔” من القوم من سوء ما بشر بہ “ غم اور عار کی وجہ سے وہ اپنی قوم سے چھپتا۔ پھر وہ اس پر غور و فکر کرتا۔ ” ایمس کہ “ یہاں کنایۃ ذکر کیا گیا ہے یہ ماقبل (ما) کی طرف سے رد ہے۔ ” علی ھون “ اس کو اپنے پاس روکے رکھے۔ ام یدسہ فی التراب کی تفسیر ” ام یدسہ فی التراب “ اس کو چھپائے یا زمین میں زندہ درگور کرلے۔ قبیلہ مضر اور بنی خزاعہ اور بنی تمیم لڑکیوں کو زندہ درگور کردیا کرتے تھے۔ ایک تو ان کو ناداری کا اندیشہ ہوتا تھا کہ لڑکیاں کچھ کما کر نہیں لا سکتیں اور دوسرا خوف ان کو یہ ہوتا تھا کہ غیر کفوان سے کہیں نکاح کرنے کا لالچ نہ کرنے لگیں۔ عرب کے بعض لوگوں کا دستور تھا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 57–59

57۔ 59۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی بےوقوفی اور ان کا بےجان چیزوں سے بھی بدتر ہونا فرما کر اس آیت میں ایک اور بیوقوفی ان کی بیان فرمائی ہے اس بیوقوفی کی دو شاخیں ہیں ایک تو یہ ہے کہ مشرک لوگ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے دوسرے یہ کہ اپنی اولاد میں لڑکی پیدا ہونے سے بہت چڑتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے یہ ایک رسم ٹھہرا رکھی تھی کہ لڑکی پیدا ہو کر چھ برس کے اندر اپنی موت سے مرگئی تو خیر ورنہ جنگل میں ایک گڑھا کھود کر اچھے کپڑے پہنا کر اس لڑکی کو جنگل میں لے جاتے تھے اور اسے گڑھے میں جھانکنے کو کہتے جب وہ جھانکتی تو اس کو گڑھے میں دھکا دیتے تھے اور اوپر سے مٹی ڈال کر اس کو زندہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 56–60

آیت : (56-60) اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت ‘ ان کے ظلم اور اللہ تبارک و تعالیٰ پر ان کی افترا پردازی کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ‘ نیز وہ خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے ان بتوں کو۔۔۔۔ جو کوئی نہ علم رکھتے ہیں ‘ نہ کوئی نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔۔۔۔ اس رزق میں حصہ دار بنا تے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کیا اور جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق سے اس کا شریک بنانے میں مدد حاصل کی اور خود ساختہ اور گھڑے ہوئے بتوں کے تقرب کے لئے اللہ تعالیٰ کے اس رزق کو پیش کرتے ہیں ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (وجعلوا للہ مما ذرا من الحرث…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 14–65

زیور کے بارے میں حکم قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

113۔ برے لوگوں کے برے فیصلے۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑے ہی برے ہیں وہ فیصلے جو یہ لوگ کرتے ہیں کہ بچی کی پیدائش کو اللہ تعالیٰ کی ایک رحمت وبخشش سمجھنے کی بجائے اسے عذاب مصیبت قرار دیتے ہیں۔ اور پھر جس کو یہ خود اپنے لیے گوارا نہیں کرتے اس کو خدائے پاک کے لیے تجویز کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کہ اول تو اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنا ہی بہت برا اور نہایت سنگین جرم ہے کہ وہ ایسے ہر تصور سے پاک اور اعلی وبالا ہے پھر ظلم بالائے ظلم اور حماقت در حماقت کہ اس کے لیے یہ لوگ اولاد بھی وہ تجویز کرتے ہیں جس کو یہ خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے۔ یعنی بیٹیاں۔ والعیاذ باللہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 48–60

کائنات کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہے تشریح : یہاں عربوں کی انتہائی بری عادت بیان کی گئی ہے جو کہ ان میں عام طور پر رواج پا چکی تھی۔ اول تو وہ لڑکی ذات کو ہی ناپسند کرتے تھے، پھر جب وہ پیدا ہوجاتی تو اس کو اپنی انتہائی ذلت کا باعث سمجھتے تو اس ذلت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اپنی بچی کو مار دیتے یا زندہ کو ہی دفن کردیتے اور یوں تین گناہ کرتے ایک تو اپنی اولاد پر ظلم کرتے دوسرا قتل کا گناہ کرتے اور تیسرا حکمت الٰہی میں دخل دیتے۔ اس کے علاوہ ایک بہت بڑا گناہ یہ کرتے کہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے، یعنی جس بات کو اپنے لیے باعث شرم سمجھتے اس کو اللہ کے لیے مناسب سمجھتے اور یوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–60

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف اور اللہ کریم کا ارشاد ہے کہ متعدد معبود اختیار نہ کرو بلکہ عبادت کا مستحق اللہ کریم اکیلا ہے لہذا اللہ ہی سے ڈرنا چاہئے کہ نفع کی امید پر یا کسی کے خوف سے اس کی ایسی اطاعت جس میں اللہ جل جلالہ کی نافرمانی ہو عبادت کہلائے گی خواہ ایسا کرنے والا اسے معبود نہ ہی کہتا ہو ، حالانکہ ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ جل جلالہ ہی کا ہے اور سارے اسباب اسی کے پیدا کردہ ہیں جن میں بعض کو کبھی اللہ جل جلالہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کردیا جاتا ہے یا بعض اوقات اسباب ہی کو سب کچھ سمجھ لیا جاتا ہے مگر یہ درست نہیں بلکہ ہمیشہ اور ہر حال میں عبادت کا مل وغیر مشروط اطاعت صرف…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی خود اپنے لئے تو بیٹی کو اس قدر عار اور ننگ سمجھتے ہیں لیکن خدا کے لئے اسے بلاتامل تجویز کردیتے ہیں حالانکہ خدا کیلئے اولاد تجویز کرنا بجائے خود انتہائی جہالت اور ستاخی ہے تلک اذاً قسمۃ صبری یعنی یہ ایک بھونڈی تقسیم ہے۔ (نجم : 22)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:59) یتواریٰ ۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ تواری (تفاعل) مصدر۔ وہ چھپتا ہے۔ وری اور ورء مادّہ وراء کے معنی آڑ ۔ حدّ فاصل۔ کسی چیز کا آگے پیچھے ہونا۔ علاوہ۔ سوا ۔ من سوئ۔ برائی۔ بری بات۔ عیب۔ سوء ہر وہ چیز جو غم میں ڈال دے۔ ایمس کہ۔ الف استفہامیہ۔ یمسک مضارع واحد مذکر غائب۔ امساک (افعال) سے روکے رکھنا۔ کسی چیز کے ساتھ چمٹ جانا اور رد کے رکھنا۔ ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع ما بشر بہ ہے۔ کیا اس (بچی) کو بحفاظت اپنے پاس رکھے۔ ھون۔ اسم۔ ذلت۔ رسوائی۔ خواری۔ علی ھون یعنی ذلت سہہ کر۔ مطلب یہ کہ۔ کیا قوم کی نظروں میں ذلیل ہونا برداشت کر کے بچی کو زندہ رہنے دے اور اپنے پاس رکھے یا۔۔ یدسہ مضارع…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 57–60

لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 60 یجعلون وہ بناتے ہیں۔ البنت (البنت) بیٹیاں یشتھون وہ خواشہ رکھتے ہیں، چاہتے ہیں۔ بشر خوش خبری دی گئی۔ الانثیٰ لڑکی۔ ظل گیا۔ وجھ چہرہ۔ مسودا تاریک، سیاہ۔ کظیم وہ کھولنے والا ہے، دم گھٹنے لگتا ہے۔ یتواری (تواری) وہ چھپتا پھرتا ہے۔ سوء برائی۔ ایمس کہ کیا اس کو روکے رکھے۔ ھون توہین، ذلت۔ یدس وہ دباتا ہے۔ التراب مٹی۔ الا سنو، خبردار رہو۔ یحکمون وہ فیصلہ کرتے ہیں۔ مثل السوء بری مثال، بری حالت۔ الاعلیٰ بلندو برتر تشریح : آیت نمبر 57 تا 60 کفار و مشرکین عرب کے اس معاشرہ میں ہاں نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تھا لڑکیوں کو نہایت کم تر، حقیر اور باعث رسوائی سمجھتے تھے اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 57–59

مشرکین اپنی لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے ان آیات میں مشرکوں کی دو بےوقوفیوں کا ذکر فرمایا : (1) ایک تو یہ کہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اس کے جوا اب میں ارشاد ہوتا ہے کہ اس کی ذات جمیع عیوب سے پاک ہے، نہ اس کو پسر کی حاجت ہے نہ دختر کی ضرورت ہے۔ یہ بےہودہ باتیں ہمارے احسان کے صلہ میں کرتے ہیں جو ہم ان کی تمنا پوری کرتے ہیں اور خدا کی عطا کردہ جیز سے ناخوش ہونا طریقہ کفار اہل اسلام کا خدا کے عطیہ پر راضی رہنا واجب بلکہ فرض ہے۔ (2) دوسرے کفار کی یہ عادت تھی کہ دختر پیدا ہو کر چھ برس کے اندر اپنی موت آپ مر گئی تو خیر ورنہ جنگل میں گڑھا کھود کر اچھے کپڑے پہنا کر اس لڑکی کو گڑھے میں دبا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 59–60

[32] یعنی کفر کے ساتھ کمال بدتمیزی بھی ہے کہ اپنے لئے تو بیٹے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لئے جو مطلقاً اولاد سے پاک ہے اور اس کیلئے اولاد تجویز کرنا عیب لگانا ہے اس کے لئے اولاد بھی وہ تجویز کرتے ہیں جسے اپنے لئے حقیر اور سبب عار جانتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 57–59

خدا کی صفات میں تنزیہہ لازم ہے ۔ (ف 1) حجاز میں مختلف مذاہب رائج تھے ، کچھ دہریئے تھے ، جو خدا کے قائل ہی نہ تھے ، کچھ مشرک تھے ، مشرکین کی بھی کئی قسمیں تھیں ، کچھ تو بتوں کو پوجتے ، کچھ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے ، ان آیات میں دوسرے گروہ کا ذکر ہے ۔ قبیلہ خزاعہ وکنانہ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ فرشتوں کو بنات اللہ کہتے تھے ۔ قرآن حکیم کہتا ہے ، یہ لوگ بھی عجیب ہیں جس چیز کو اپنے لئے پسند نہیں کرتے ، اسے خدا کی جانب منسوب کرتے ہیں ان کی اپنی کیفیت یہ ہے کہ بچیوں کے انتساب سے گھبراتے ہیں مگر ان سے کوئی کہہ دے کہ تمہارے ہاں لڑکی پیدا ہوئی ہے تو تیور بدل جاتے ہیں چہر سیاہ پڑجاتا ہے ، مارے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

59 ۔ جس چیز کی ولادت کی اس کو خبر دی گئی تھی اس کی برائی اور اس کی عار سے لوگوں سے چھپتا پھرے کہ آیا اس لڑکی کو ذلت گوارہ کرتے ہوئے روکے رکھے یا اس کو مٹی میں دبا دے اور چھپا کی خبر ملی تھی اور جس کے باعث معمول و مکظوم تھا اور شرمندگی کے مارے قوم سے چھپا چھپا پھرتا تھا اسی کی بابت یہ سوچتا ہے یا تو قوم میں رسوا اور ذلیل ہو کر بیٹی کی پرورش کرے یا اس کو قتل کرے یا زندہ ہی کو زمین میں دبا دے اور زندہ درگور کر دے خود تو بیٹیوں سے اس قدر نفرت اور اللہ تعالیٰ جل شانہ ٗ کے ساتھ اولاد کی نسبت کریں اور وہ اولاد بھی بیٹیاں ہوں اس سے بڑھ کر اور کیا احمقانہ تجویز اور برا فیصلہ ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 54–59

ف 1۔ ایک جماعت اس لیے کہا گیا کہ بعض اس حالت کو یاد رکھ کر توحید و ایمان پر قائم ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بیٹی کی خبر سن کر لوگوں سے چھپتے پھرنا کتنی بڑی جہالت ہے : 67۔ مشرکین مکہ نے جن بتوں کے نام لات ‘ منات ‘ عزی وغیرہ رکھا تھا وہ کیا تھے ؟ اللہ کی نیک بندیاں ہی تو تھیں ، جب وہ اس دنیا سے اٹھالی گئیں تو انہوں نے ان کے بت بنا کر رکھ لئے اور ان کی پرستش کرتے ‘ کن کی ؟ ان بتوں کی ، نہیں وہ اس دانیا سے اٹھالی گئیں تو انہوں نے ان کے بت بنا کر رکھ لئے اور ان کی پرستش کرتے ‘ کن کی ؟ ان بتوں کی ۔ نہیں ہرگز نہیں بلکہ ان لوگوں کی جن کے یہ بت بنائے گئے تھے ، ظاہر ہے کہ وہ عورتیں ہی تو تھیں پھر انہوں نے ان کی پرستش کیوں شروع کردی ؟ اس لئے کہ ان کے آباء و اجداد کے تخیل میں وہ اللہ کی بندیاں یا اس کی بیٹیاں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The sense of the sentence: أَلَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ (Beware evil is what they decide) appearing at the end of the second verse (59) actually incorporates these very two traits, as it has been pointed out in Tafsir Al-Bahr a1-Muhit with reference to Ibn ` Atiyyah. It means: (1) That their decision to take girls to be a punishment and a disgrace is by itself an evil decision; and (2) that the thing they would consider a matter of disgrace for their own selves, they would be too ready to attribute to Allah Ta’ ala.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 59–63

52. This attitude of contempt towards daughters has been mentioned to bring home to them the height of their folly, ignorance and impudence in regard to God. This is why they did not hesitate to assign daughters to Allah, though they themselves felt that to have daughters was a matter of disgrace for them. Besides this, it shows that they had a very low estimation of Allah, which had resulted from their ways of shirk. So they felt nothing wrong in ascribing such foolish and absurd things to Allah Who is above such things.

Read the full tafseer →