Explained with ayahs 56–60
باز پرس لازمی ہوگی
مشرکوں کی بےعقلی اور بےڈھنگی بیان ہو رہی ہے کہ دینے والا اللہ ہے سب کچھ اسی کا دیا ہوا اور یہ اس میں سے اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ہوجائے جن کا صحیح علم بھی انہیں نہیں پھر اس میں سختی ایسی کریں کہ اللہ کے نام کا تو چاہے ان کے معبودوں کے ہوجائے لیکن ان کے معبودوں کے نام کیا گیا اللہ کے نام نہ ہو سکے ایسے لوگوں سے ضرور باز پرس ہوگی اور اس افترا کا بدلہ انہیں پورا پورا ملے گا۔ جہنم کی آگ ہوگی اور یہ ہوں گے۔ پھر ان کی دوسری بےانصافی اور حماقت بیان ہو رہی ہے کہ اللہ کے مقرب غلام فرشتے ان کے نزدیک اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ خطا کر کے پھر ان کی عبادت کرتے ہیں جو خطا پر خطا ہے۔ یہاں تین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
سورة النَّحْل 50
مشرکین عرب کے معبودوں میں دیوتا کم تھے، دیویاں زیادہ تھیں، اور ان دیویوں کے متعلق ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ اسی طرح فرشتوں کو بھی وہ خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔
سورة النَّحْل 51
یعنی بیٹے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور جب ان میں کسی کو بیٹی (پیدا ہونے) کی خبر دی جائے (جس کو اللہ کے لئے تجویز کرتے ہیں) تو (اس قدر ناراض ہو کہ) سارے دن اس کا چہرہ بےرونق رہے اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا رہے (اور) جس چیز کی اس کو خبر دی گئی ہے (یعنی تولد دختر) اس کی عار سے لوگوں سے چھپا چھپا پھرے (اور دل میں اتار چڑھاؤ کرے کہ) آیا اس (مولود و جدید) کو ذلت (کی حالت) پر لئے رہے یا اس کو (زندہ یا مار کر) مٹی میں گاڑ دے خوب سن لو ان کی یہ تجویز بہت بری ہے (کہ اول تو خدا کے لئے ثابت کرنا یہی کس قدر بری بات ہے پھر اولاد بھی وہ جس کو خود اس قدر ذلیل وموجب عار سمجھیں پس) جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کی بری حالت ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
تفسیر آیت 58 تا 59:۔ یعنی خدا کی طرف تو انہوں نے بیٹیاں منسوب کررکھی ہیں در آنحالیکہ بیٹیوں کے معاملے میں خود ان کا اپنا حال یہ ہے کہ اگر ان میں سے کسی کو یہ خبر دی جائے کہ اس کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے تو غم سے اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ ہر وقت رنج والم سے گھٹا گھٹا رہتا ہے، اس کو اپنے لیے ابعث ننگ سمجھ کر لوگوں چھپتا پھرتا ہے اور اس تردد میں پڑجاتا ہے کہ ذلت گوارا کرکے اس کو زندہ رکھے یا اس کو زمین میں دفن کرکے اس ذلت سے چھٹکارا حاصل کرلے۔ اَلَا سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ۔ یعنی جس چیز کو اپنے لیے مکروہ سمجھتے ہیں اسی چیز کو خدا کی طرف یوں بےتکلف منسوب کرتے ہیں، اتنی توفیق بھی نہیں ہوئی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
57۔ 1 عرب کے بعض قبیلے (خزاعہ اور کنانہ) فرشتوں کی عبادت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یعنی ایک ظلم تو یہ کیا کہ اللہ کی اولاد قرار دی۔ جب کہ اس کی کوئی اولاد نہیں۔ پھر اولاد بھی مونث، جسے وہ اپنے لئے پسند ہی نہیں کرتے اللہ کے لئے اسے پسند کیا، جسے دوسرے مقام پر فرمایا ' کیا تمہارے لئے بیٹے اور اس کے لئے بیٹیاں ؟ یہ تو بڑی بھونڈی تقسیم ہے ' یہاں فرمایا کہ تم تو یہ خواہش رکھتے ہو کہ بیٹے ہوں، بیٹی کوئی نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
25: مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اول تو اللہ تعالیٰ اولاد کی ضروت سے پاک ہے دوسرے یہ خود اپنے لیے بیٹیوں کو پسند نہیں کرتے، بلکہ بیٹوں کی ولادت کے خواہش مند رہتے ہیں، جو بذات خود بڑی گمراہی کی بات ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہتے ہیں کہ اسکی بیٹیاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
آیت نمبر 57 تا 59
عقائد کے بارے میں انسان کا فکری انتشار اور فساد صرف عقائد کے حدود تک ہی محدود نہیں رہا کرتا بلکہ یہ زندگی کے پورے طور طریقوں اور رسم و رواج میں سرایت کرجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نظریہ زندگی کے لئے واحد محرک ہوتا ہے۔ چاہے یہ کسی کی زندگی میں یہ نظریہ بادی النظر میں محرک نظر آئے یا پس منظر میں ہو۔ دور جاہلیت کے عرب یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں یعنی فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ لیکن ان کی اپنی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے گھر میں بیٹی کی ولادت کو بہت ہی برا خیال کرتے تھے۔ ان کے خیال میں بیٹیاں اللہ کے لئے ہیں اور وہ چونکہ بیٹوں کو پسند کرتے ہیں اس لیے بیٹے ان کے ہیں۔
ان…
Read the full tafseer →6 یعنی ان میں سے کسی کو اگر خبر دی جائے کہ تیرے گھر میں لڑکی پیدا ہوئی ہے تو نفرت و غم سے تیوری چڑھ جائے اور دن بھر ناخوشی سے چہرہ بےرونق اور دل گھٹتا رہے کہ یہ ناشدنی مصیبت کہاں سے سر پر آئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
آیت 57 وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ ۙ وَلَهُمْ مَّا يَشْتَهُوْنَ
اللہ تعالیٰ کی اولاد کے طور پر وہ لوگ اس سے بیٹیاں منسوب کرتے ہیں جبکہ خود اپنے لیے وہ بیٹے پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے اللہ کے لیے اولاد تجویز بھی کی تو بیٹیاں تجویز کیں جو خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
54 اہل عرب کی دیویاں ان کے مقام اور ان کے پرستار :۔ ہندی، یونانی اور مصری تہذیبوں کی طرح مشرکین عرب کے بھی دیوتا کماوردیویاں زیادہ تھیں اور ان دیویوں کے متعلق ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں، اسی طرح وہ فرشتوں کو بھی اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ ان کی تین مشہور دیویاں، لات، عزیٰ اور منات تھیں۔ لات الٰہ کی مونث ہے۔ عزیٰ عزیز کی اور منات، منان کی۔ لات کا استھان یا آستانہ طائف میں تھا اور بنو ثقیف اس کے پرستار تھے۔ عزیٰ قریش مکہ کی خاص دیوی تھی اور اس کا استھان یا آستانہ مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں مقام حراص پر واقع تھا۔ چناچہ ابو سفیان سپہ سالار قریش نے احد کے میدان میں جنگ…
Read the full tafseer →83۔ (کہ کیسی عار وننگ کی چیزخاندان میں آئی) لڑکی سے عارآنے کی بلاقبائل قریش کے علاوہ، یوں بھی دنیائے شرک میں عام رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
آیت نمبر 51 تا 60
ترجمہ : اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے کہ دو معبود نہ بناؤ (اِثْنَیْنِ ) اِلھٰیْنِ کی تاکید ہے معبود تو صرف وہی اکیلا ہے اس کو الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کرنے کے لئے لائے ہیں، پس تم سب میرا ہی خوف (ڈر) رکھو، (یعنی) مجھ ہی سے ڈرو نہ کہ کسی اور سے، اس میں غیبت سے تکلم کی جانب التفات ہے آسمانوں اور زمین میں کو کچھ ہے اسی کا ہے ملک اور مخلوق اور غلام ہونے کے اعتبار سے اور طاعت دائماً اسی کی لازم ہے، واصِبًا، دین ٌ سے حال ہے اور اس میں عامل معنی ظرف ہیں (ای ثَبَتَ لہٗ الدین) کیا پھر بھی تم غیر اللہ سے ڈرتے ہو ؟ معبود برحق وہی ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور استہفام انکار یا تو بیخ…
Read the full tafseer →واذا بشر احدھم بالانثی ظل وجھہ مسودا وھو کظیم اور ان میں سے کسی کو بیٹی ہونے کی خبر دی جاتی ہے تو سارے دن اس کا چہرہ بدرونق رہتا ہے اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا ہے۔
مُسْوَدًّا سیاہ ‘ بدرونق یعنی شرم ‘ رنج اور غم کی وجہ سے اس کا چہرہ بدرونق ہوجاتا ہے اور دن بھر بدرونق رہتا ہے۔ باوجودیکہ دن ایسی چیز ہے کہ اس میں خوشی بھی ہوتی ہے اور غم بھی ‘ مگر اس پر رنج ہی سوار رہتا ہے۔ کَظِیْم دل میں غم ‘ رنج گھٹا ہوا کہ اس کو اندر ہی اندر روکے رکھتا ہے ‘ ظاہر نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
(58۔ 59) اور جب ان میں سے کسی کی بیٹی کی پیدایش کی خبر دی جاتی ہے تو غم وناراضگی میں اس کے چہرے کا نور غائب اور وہ سیاہ چہرے اور دل ہی دل میں کڑہتا رہتا ہے اور لڑکی پیدا ہونے کی جو اس کو خبر دی گئی ہے، اس کے اظہار کو برا سمجھتے ہوئے لوگوں سے چھپائے پھرتا ہے اور سوچتا ہے آیا اس لڑکی کو ذلت وعار کی حالت میں لیے رہے یا اس کو مٹی میں زندہ درگور کر دے، اچھی طرح سن لو، ان کی یہ تجویز بہت ہی بری ہے، کہ اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں اور اپنے لیے لڑکوں کو پسند کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ۔۔ : بشارت اچھی خبر جس سے بشرے پر خوشی کے آثار ظاہر ہوں، یہاں بطور استہزا ہے، جیسا کہ فرمایا : (فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ) [ آل عمران : 21 ] ”سو انھیں ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دے۔“ ”ظَلَّ کَذَا“ وہ سارا دن اس طرح رہا۔ یہ ”صَارَ“ کے معنی میں بھی آتا ہے کہ وہ اس طرح ہوگیا۔ ”كَظِيْمٌ“ کا معنی ”کَتْمٌ“ (چھپانا) ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ) [ آل عمران : 134 ] ”اور غصے کو پی جانے والے۔“ یہ ”کَظَمَ الْقِرْبَۃَ“ سے لیا گیا ہے۔ جب مشکیزہ پانی سے بھر جائے، پھر اس کا منہ باندھ دیں تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی پھٹ جائے گا، مراد غم سے بھرا ہوا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 58
قولہ تعالیٰ : واذا بشر احدھم بالانثی یعنی جب ان میں سے کسی کو بچی کی ولادت کی خبر دی جاتی ہے۔ ظلل وجھہ مسودا تو اس کا چہرہ متغیر ہوجاتا ہے، اور یہاں سواد (سیاہی) سے مراد وہ نہیں ہے جو بیاض (سفیدی) کی ضد ہے، بلکہ یہ اس کی بچی کے سبب غمزدہ اور پریشان ہونے سے کنایہ ہے۔ اور ہر وہ آدمی جسے کوئی مکروہ اور ناپسندیدہ شے لاحق ہو اس کے لئے عرب کہتے ہیں : قد اسود وجھہ غما وحزنا۔ (تحقیق اس کا چہرہ غم اور پریشانی کے سبب سیاہ ہوگیا) ؛ یہ زجاج نے کہا ہے۔ اور ماوردی نے بیان کیا ہے کہ مراد رنگ کا سیاہ ہونا ہی ہے، فرمایا : یہی جمہور کا قول ہے۔ وھو کظیم اور وہ غم اور رنج سے بھر جاتا ہے۔ اور حضرت ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ویجعلون للہ البنت “ (الآیہ) کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اس کے لئے (یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے) بیٹیوں کو تجویز کرتے ہیں اس کے لئے ان کو پسند کرتے ہیں اور اپنے لئے ان کو پسند نہیں کرتے اور یہ اس وجہ سے کہ زمانہ جاہلیت میں ان میں سے کسی کے گھر میں لڑکی پیدا ہوجاتی تو سوچتا تھا کہ ذلت کے ساتھ اس کو اپنے پاس رکھے یا مٹی میں اس کو زندہ گاڑ دے۔
2:۔ ابن جریر، ابن منذر ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولھم مایشتھون “ یعنی ان کے لئے بیٹے ہوں (جن کو پسند کرتے ہیں )
لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا حرام ہے :
3:۔ ابن…
Read the full tafseer →[وَاِذَا؛اور جب کبھی ] [ بُشِّرَ : خوشخبری دی جاتی ہے ] [ اَحَدُهُمْ؛ان کے کسی ایک کو ] [ بِالْانثٰى: مؤنث (یعنی بیٹی) کی ] [ ظَلَّ؛تو ہوجاتا ہے ] [ وَجْهُهٗ : اس کا چہرہ ] [ مُسْوَدًّا؛سیاہ ] [ وَّهُوَ؛اور وہ ] [ كَظِيْمٌ: غم زدہ ہے ]
نوٹ۔ 1: تفسیر روح البیان میں ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ لڑکی پیدا ہونے سے زیادہ خوشی کا اظہار کرے تاکہ اہل جاہلیت کے فعل پر ردّ ہوجائے۔ ایک حدیث میں ہے کہ وہ عورت مبارک ہوتی ہے جس کے پہلے پیٹ سے لڑکی پیدا ہو۔ آیت نمبر۔ 42:49 میں بیٹوں سے پہلے بیٹیوں کا ذکر کرنے سے اس کی طرف اشارہ پایاجاتا ہے کہ پہلے لڑکی پیدا ہونا افضل ہے (معارف القرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
مشرکین کی بھونڈی تجویز، اللہ کے لیے بیٹیاں اور اپنے لیے بیٹے تجویز کرتے ہیں خود ان کے یہاں بیٹی پیدا ہونے کی خبر مل جائے تو چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے
مشرکین جو شرک کرتے ہیں اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ مال کا کچھ حصہ باطل معبودوں کے لیے مقرر کردیتے ہیں جس کی تفسیر سورة انعام کی آیت (وَ جَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ ) (الی اخر الایۃ) میں گزر چکی ہے۔ مال تو دیا اللہ نے اس میں شریک کردیا باطل معبودوں کو اور اوپر سے یوں کہتے ہیں کہ ایسا کرنا درست ہے اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے، اس لیے فرمایا (تَاللّٰہِ لَتُسْءَلُنَّ عَمَّا کُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ ) (کہ اللہ کی قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
کفار کے چند ناشائستہ اقوال و افعال کا ذکر
قال اللہ تعالیٰ : ویجعلون لما لایعلومن نصیبا .... الیٰ .... وھو العزیز الحکیم۔
(ربط) اثبات توحید کے بعد اب ان آیات میں کفار کے چند ناشائستہ اقوال و افعال کا ذکر فرماتے ہیں۔ تاکہ ان کی جہالت اور حماقت ظاہر ہو اور یہ بتلاتے ہیں کہ ان نادانوں نے نادانی سے دو خدا سے بڑھ کر بکثرت معبود بنائے ہوئے ہیں اور طرح طرح سے اعمال شرکیہ میں گرفتار ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔
اور ٹھہرا لیتے ہیں یہ مشرک بتوں کے لیے جن کے معبود ہونے کا ان کو مطلق علم نہیں اور نہ ان کے پاس ان کے معبود ہونے کی کوئی سند اور دلیل موجود ہے ہماری دی ہوئی روزی میں سے ان کے لئے حصہ ٹھہرا لیتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
43:۔ یہ مشرکین کے مذکورہ بالا قول کا الزامی جواب ہے کہ ان کا اپنا حال تو یہ ہے کہ اگر کسی کے گھر لڑکی پیدا ہوجائے تو غم واندوہ کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے۔ ” یتوای من القوم الخ “ اور کئی کئی دن وہ لوگوں سے چھپا رہتا ہے اور مارے شرم کے کسی کو منہ نہیں دکھاتا اور پھر سوچتا ہے کہ کیا ذلت و رسوائی برداشت کر کے اسے زندہ رکھوں یا اسے زندہہی کو زمین میں دفن کردوں۔ ” الا ساء ما یحکمون “ یہ کس قدر بری اور شرمناک بات ہے کہ جس چیز کو وہ خود ناپسند کرتے ہیں اسے اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
(ربط آیات)
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے دو خدا ماننے والے مجوسیوں یا ثنوی فرقے والے مشرکوں کا رد فرمایا ، پھر مطلق شرک کرنے والوں کی مذمت بیان فرمائی کہ وہ اپنی کمائی میں سے غیر اللہ کے تقرب کے لیے ان کے نام کی نذر ونیاز دیتے ہیں ، فرمایا نعمتیں تو ساری کی ساری خدا تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں تو اس میں سے دوسروں کا حصہ نکالنے کا کیا مطلب ؟ تکلیف تو اللہ تعالیٰ دور کرتا ہے مگر نذر ونیاز اغیار کی دی جاتی ہے ، فرمایا یہ لوگ اس چند روزہ زندگی سے فائدہ اٹھالیں ، آگے چل کر انہیں پتہ چل جائے گا جو یہ افتراء کیا کرتے تھے ۔
(خدا کے لیے بیٹیاں)
اب اسی ضمن میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی ایک اور قسم کا رد فرمایا…
Read the full tafseer →وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّهُوَ كَظِيْمٌ 58ۚ
بشر
واستبشر :
إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] . ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ، وقال تعالی: لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] ، وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–61
ترکیب : اثنین تاکید ہے الہین اور مفعول ثانی لاتتخذوا کا بھی ہوسکتا ہے وفیہ مافیہ۔ واصبا ای وانما حال ہے الذین سے اور عامل اس میں معنی ظرف کے ہیں مابمعنی الذی بکم اس کا صلہ من نعمۃ حال ہے ضمیر سے جو جار میں ہے فمن اللہ خبر دوسری وجہ بھی ممکن ہے۔ تجٔرون ترفعون اصواتکم بالاستغاثۃ سبحانہ جملہ معترضہ مسودًا خبر ظل۔ یتواری حال ہے ضمیر کظیم سے۔ اذاکشف الم اذا شرطیہ اذا فریق فجائیۃ جواب الشرط لیکفروالام کے وقیل لام العاقبۃ۔
تفسیر : پچھلی آیتوں میں یہ ثابت کر کے کہ تمام عالم اس کے قبضہ قدرت میں ہے اسی کے آگے سرتسلیم جھکائے ہوئے ہے۔ قال اللہ سے لے کر فارھبون تک توحید خالص کا حکم دیتا ہے پھر ولہ مافی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُھُمْ بِالْاُنْثٰی ظَلَّ وَجْھُہٗ مُسْوَدًّا وَّھُوَ کَظِیْمٌ۔ یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓئِ مَابُشِّرَبِہٖ ط اَیُمْسِکُہٗ عَلٰی ھُوْنٍ اَمْ یَدُسُّہٗ فِی التُّرَابِ ط اَلاَسَآئَ مَایَحْکُمُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 58۔ 59)
(اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ گھٹا گھٹا رہتا ہے۔ اور وہ لوگوں سے چھپا پھرتا ہے اس بری خبر کے بارے جو اسے دی گئی ہے، سوچتا ہے کہ اس کو ذلت کے ساتھ رکھ چھوڑے یا اسے مٹی میں گاڑ دے، آہ ! کتنا برا ہے وہ فیصلہ جو وہ کرتے ہیں۔ )
صنفِ نازک سے متعلق بعض قبائل کا رویہ
صنفِ نازک کو مرد کے مقابلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں دوسروں کو شریک کرنے کے ساتھ بعض مشرک اللہ تعالیٰ کی ذات میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے کئی قسم کا شرک کرتے ہیں۔ مشرکین کا ایک شرک یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں دوسروں کو شریک بناتے ہیں۔ دوسری قسم یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو وحدہ، لاشریک سمجھنے کے بجائے اس کی بیوی اور اولاد ثابت کرتے ہیں۔ جس طرح یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور حضرت مریم اللہ کی بیوی ہے۔ کچھ عیسائی یہ بھی…
Read the full tafseer →58: وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُھُمْ بِالْاُنْثٰی ظَلَّ وَجْھُہٗ مُسْوَدًّا (اور ان میں کسی کو اگر بیٹی ہونے کی خبر دی جاتی ہے تو سارا دن اس کا چہرہ بدرونق رہتا ہے) صار، ظل، امسٰی، اصبح، بات یہ صیرورت کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں کیونکہ اکثر وضع حمل کا اتفاق رات کو ہوتا ہے۔ پس وہ دن غم کے مارے گزارتا ہے۔ کہ اس کے چہرے پر اکتاہٹ کی سیاہی چھائی ہوتی ہے اور لوگوں سے حیاء کرتے دن گزارتا ہے۔ وَّھُوَکَظِیْمٌ (وہ دل ہی دل میں گھٹتا ہے) عورت پر بغض و غصہ سے پُر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →(58)” واذا بشراحدھم بالا نثی ظل وجھہ مسوداً “ ان کا چہرہ غم اور ناپسندیدگی سے متغیر ہوجاتا۔ ” وھو کظیم “ وہ غصے کی وجہ سے اور غم کی وجہ سے سرخ ہوجاتے نہ تو وہ غصے کی وجہ سے اپنے اوپر قابو پاسکتے تھے اور نہ اس کو ظاہر کرسکتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
57۔ 59۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی بےوقوفی اور ان کا بےجان چیزوں سے بھی بدتر ہونا فرما کر اس آیت میں ایک اور بیوقوفی ان کی بیان فرمائی ہے اس بیوقوفی کی دو شاخیں ہیں ایک تو یہ ہے کہ مشرک لوگ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے دوسرے یہ کہ اپنی اولاد میں لڑکی پیدا ہونے سے بہت چڑتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے یہ ایک رسم ٹھہرا رکھی تھی کہ لڑکی پیدا ہو کر چھ برس کے اندر اپنی موت سے مرگئی تو خیر ورنہ جنگل میں ایک گڑھا کھود کر اچھے کپڑے پہنا کر اس لڑکی کو جنگل میں لے جاتے تھے اور اسے گڑھے میں جھانکنے کو کہتے جب وہ جھانکتی تو اس کو گڑھے میں دھکا دیتے تھے اور اوپر سے مٹی ڈال کر اس کو زندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
آیت : (56-60)
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت ‘ ان کے ظلم اور اللہ تبارک و تعالیٰ پر ان کی افترا پردازی کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ‘ نیز وہ خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے ان بتوں کو۔۔۔۔ جو کوئی نہ علم رکھتے ہیں ‘ نہ کوئی نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔۔۔۔ اس رزق میں حصہ دار بنا تے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کیا اور جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق سے اس کا شریک بنانے میں مدد حاصل کی اور خود ساختہ اور گھڑے ہوئے بتوں کے تقرب کے لئے اللہ تعالیٰ کے اس رزق کو پیش کرتے ہیں ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (وجعلوا للہ مما ذرا من الحرث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
112۔ مشرکوں کی مت ماری کا ایک اور نمونہ ومظہر : سو اس سے مشرکوں کی مت ماری اور شرک کے گھناؤنے پن کے ایک اور مظہر و نمونہ کو پیش فرمایا گیا ہے۔ کہ یہ اللہ کے لئے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں مگر اپنے لیے یہ لوگ وہ کچھ مقرر کرتے ہیں جو خود چاہتے۔ یعنی لڑکے۔ سو اس طرح یہ لوگ بدتمیزی پر بدتمیزی کا ارتکاب کرتے ہیں کہ اول تو اس وحدہ لاشریک کے لئے کسی طرح کی اولاد تجویز کرنا ہی کفر وباطل ہے کہ وہ اس طرح کہ ہر تصور سے پاک وبالا ہے۔ سبحانہ تعالیٰ ۔ کہ اس کی شان (لم یلد ولم یولد) کی ہے۔ اور " اس کی نہ کوئی بیوی ہے نہ اولاد ‘۔ (ما اتخذ صاحبۃ ولاولدا) ۔ پھر اس کے لیے اولاد بھی وہ تجویز کرتے ہیں جو انکو خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–60
کائنات کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہے
تشریح : یہاں عربوں کی انتہائی بری عادت بیان کی گئی ہے جو کہ ان میں عام طور پر رواج پا چکی تھی۔ اول تو وہ لڑکی ذات کو ہی ناپسند کرتے تھے، پھر جب وہ پیدا ہوجاتی تو اس کو اپنی انتہائی ذلت کا باعث سمجھتے تو اس ذلت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اپنی بچی کو مار دیتے یا زندہ کو ہی دفن کردیتے اور یوں تین گناہ کرتے ایک تو اپنی اولاد پر ظلم کرتے دوسرا قتل کا گناہ کرتے اور تیسرا حکمت الٰہی میں دخل دیتے۔ اس کے علاوہ ایک بہت بڑا گناہ یہ کرتے کہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے، یعنی جس بات کو اپنے لیے باعث شرم سمجھتے اس کو اللہ کے لیے مناسب سمجھتے اور یوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
اور اللہ کریم کا ارشاد ہے کہ متعدد معبود اختیار نہ کرو بلکہ عبادت کا مستحق اللہ کریم اکیلا ہے لہذا اللہ ہی سے ڈرنا چاہئے کہ نفع کی امید پر یا کسی کے خوف سے اس کی ایسی اطاعت جس میں اللہ جل جلالہ کی نافرمانی ہو عبادت کہلائے گی خواہ ایسا کرنے والا اسے معبود نہ ہی کہتا ہو ، حالانکہ ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ جل جلالہ ہی کا ہے اور سارے اسباب اسی کے پیدا کردہ ہیں جن میں بعض کو کبھی اللہ جل جلالہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کردیا جاتا ہے یا بعض اوقات اسباب ہی کو سب کچھ سمجھ لیا جاتا ہے مگر یہ درست نہیں بلکہ ہمیشہ اور ہر حال میں عبادت کا مل وغیر مشروط اطاعت صرف…
Read the full tafseer →ف 4 کہ یہ بن بلائی مصیبت کہاں سے آن پڑی ہے۔
Read the full tafseer →(16:58) ظل وجھہ مسودا۔ اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے۔ ظل فعل ناقص ہے۔ ظللت وظلت اصل میں اس کام کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو دن کے وقت کیا جائے جس طرح بات یبیت کا استعمال رات گذارنے یا رات کے وقت میں کسی کام کو کرنے کے لئے ہے۔ ظل وظلول مصدر باب سمع وفتح سے آتا ہے یہاں ظل بمعنی صار ہے ۔ ہوگیا۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ لیکن یہاں مضارع کے معنی دیتا ہے ” ہوجاتا ہے “۔
مسودا۔ اسم مفعول ۔ واحد مذکر۔ اسوداد مصدر (باب افعلال۔ سیاہ۔ غم کی وجہ سے) رنگ بگڑا ہوا۔
کظیم۔ صفت مشبہ۔ کظم و کظوم مصدر۔ سخت غمگین جو اپنے غم کو دبا کر رکھے اور ظاہر نہ کرے۔
الکاظم۔ روکنے والا۔ دبانے والا۔ کا ظم الغیظ غصہ کو پی جانے والا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 60
یجعلون وہ بناتے ہیں۔
البنت (البنت) بیٹیاں یشتھون وہ خواشہ رکھتے ہیں، چاہتے ہیں۔ بشر خوش خبری دی گئی۔ الانثیٰ لڑکی۔ ظل گیا۔ وجھ چہرہ۔ مسودا تاریک، سیاہ۔ کظیم وہ کھولنے والا ہے، دم گھٹنے لگتا ہے۔ یتواری (تواری) وہ چھپتا پھرتا ہے۔ سوء برائی۔ ایمس کہ کیا اس کو روکے رکھے۔ ھون توہین، ذلت۔ یدس وہ دباتا ہے۔ التراب مٹی۔ الا سنو، خبردار رہو۔ یحکمون وہ فیصلہ کرتے ہیں۔ مثل السوء بری مثال، بری حالت۔ الاعلیٰ بلندو برتر
تشریح : آیت نمبر 57 تا 60
کفار و مشرکین عرب کے اس معاشرہ میں ہاں نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تھا لڑکیوں کو نہایت کم تر، حقیر اور باعث رسوائی سمجھتے تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
مشرکین اپنی لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے
ان آیات میں مشرکوں کی دو بےوقوفیوں کا ذکر فرمایا : (1) ایک تو یہ کہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اس کے جوا اب میں ارشاد ہوتا ہے کہ اس کی ذات جمیع عیوب سے پاک ہے، نہ اس کو پسر کی حاجت ہے نہ دختر کی ضرورت ہے۔ یہ بےہودہ باتیں ہمارے احسان کے صلہ میں کرتے ہیں جو ہم ان کی تمنا پوری کرتے ہیں اور خدا کی عطا کردہ جیز سے ناخوش ہونا طریقہ کفار اہل اسلام کا خدا کے عطیہ پر راضی رہنا واجب بلکہ فرض ہے۔ (2) دوسرے کفار کی یہ عادت تھی کہ دختر پیدا ہو کر چھ برس کے اندر اپنی موت آپ مر گئی تو خیر ورنہ جنگل میں گڑھا کھود کر اچھے کپڑے پہنا کر اس لڑکی کو گڑھے میں دبا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
[31] یعنی بیٹے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
خدا کی صفات میں تنزیہہ لازم ہے ۔
(ف 1) حجاز میں مختلف مذاہب رائج تھے ، کچھ دہریئے تھے ، جو خدا کے قائل ہی نہ تھے ، کچھ مشرک تھے ، مشرکین کی بھی کئی قسمیں تھیں ، کچھ تو بتوں کو پوجتے ، کچھ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے ، ان آیات میں دوسرے گروہ کا ذکر ہے ۔
قبیلہ خزاعہ وکنانہ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ فرشتوں کو بنات اللہ کہتے تھے ۔
قرآن حکیم کہتا ہے ، یہ لوگ بھی عجیب ہیں جس چیز کو اپنے لئے پسند نہیں کرتے ، اسے خدا کی جانب منسوب کرتے ہیں ان کی اپنی کیفیت یہ ہے کہ بچیوں کے انتساب سے گھبراتے ہیں مگر ان سے کوئی کہہ دے کہ تمہارے ہاں لڑکی پیدا ہوئی ہے تو تیور بدل جاتے ہیں چہر سیاہ پڑجاتا ہے ، مارے…
Read the full tafseer →58 ۔ اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا چہرہ سیاہ اور بےرونق رہتا ہے اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا رہتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسے گستاخ ہیں کہ اس کی طرف بیٹیاں منسوب کرتے ہیں اور خود ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان میں سے کسی کو یہ خبر دی جائے کہ تمہارے ہاں بیٹی ہوئی ہے تو مارے رنج کے دن بھر اس کا منہ بگڑا رہتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹتا رہتا ہے اور سوچتا رہتا ہے کہ اب کیا کرنا چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
ف 1۔ ایک جماعت اس لیے کہا گیا کہ بعض اس حالت کو یاد رکھ کر توحید و ایمان پر قائم ہوجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →ان کی حال یہ ہے کہ بیٹی کی خبر پا کر ان کا چہرہ اتر جاتا ہے :
66۔ وہ فرشتوں کو تو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے لیکن خود عورتوں کی جنس کے لئے ان کے تصورات کیا تھے ؟ یہ کہ زیادہ سے زیادہ ذلیل و حقیر مخلوق ہے ، جب کسی کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی تو اسے غم گینی اور بدنصیبی کی بات سمجھتا یہاں تک کہ بعض قبائل جنہیں اپنے نسلی شرف کا بڑا گھمنڈ تھا یعنی بیٹی کے باپ ہونے میں ایسی ذلت سمجھتے کہ اکثر حالتوں میں اسے خود اپنے ہاتھ سے زندہ گاڑ دیتے اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی پیدا ہونے کی خبر ملتی تو مارے شرم کے لوگوں کے سامنے نہ آتا اور سوچنے لگتا کہ یہ ذلت گوارا کرکے بیٹی والا بن جائے یا اسے ایک باعزت آدمی کی…
Read the full tafseer →Commentary
In these verses, two peculiar traits of the disbelievers of Arabia have been censured. To begin with, they would take the birth of a baby girl to be so bad that they would go about hiding from people to avoid being disgraced before them. This predicament would then throw them into a fix as to what they should do about it. Should they swallow their pride, em-brace the disgrace of becoming the father of a baby girl and resign to the disaster with patience, or just ditch it alive into the dust and get rid of it? Then, on top of it, they had turned so irrational that the child they did…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
50. This refers to a tradition of the ancient Arabs. They regarded their goddesses and angels as daughters of God.
51. That is,“sons.”
Read the full tafseer →