Explained with ayahs 56–60
باز پرس لازمی ہوگی
مشرکوں کی بےعقلی اور بےڈھنگی بیان ہو رہی ہے کہ دینے والا اللہ ہے سب کچھ اسی کا دیا ہوا اور یہ اس میں سے اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ہوجائے جن کا صحیح علم بھی انہیں نہیں پھر اس میں سختی ایسی کریں کہ اللہ کے نام کا تو چاہے ان کے معبودوں کے ہوجائے لیکن ان کے معبودوں کے نام کیا گیا اللہ کے نام نہ ہو سکے ایسے لوگوں سے ضرور باز پرس ہوگی اور اس افترا کا بدلہ انہیں پورا پورا ملے گا۔ جہنم کی آگ ہوگی اور یہ ہوں گے۔ پھر ان کی دوسری بےانصافی اور حماقت بیان ہو رہی ہے کہ اللہ کے مقرب غلام فرشتے ان کے نزدیک اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ خطا کر کے پھر ان کی عبادت کرتے ہیں جو خطا پر خطا ہے۔ یہاں تین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
سورة النَّحْل 50
مشرکین عرب کے معبودوں میں دیوتا کم تھے، دیویاں زیادہ تھیں، اور ان دیویوں کے متعلق ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ اسی طرح فرشتوں کو بھی وہ خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔
سورة النَّحْل 51
یعنی بیٹے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–57
خلاصہ تفسیر
کیا (ان) لوگوں نے اللہ کی ان پیدا کی ہوئی چیزوں کو نہیں دیکھا (اور دیکھ کر توحید پر استدلال نہیں کیا) جن کے سائے کبھی ایک طرف کو کبھی دوسری طرف کو اس طور پر جھکتے جاتے ہیں کہ (بالکل) خدا کے (حکم کے) تابع ہیں (یعنی سائے کے اسباب کہ آفتاب کی حرکت ہے پھر سایہ کے خواص یہ سب بحکم الہی ہے) اور وہ (سایہ دار) چیزیں بھی (اللہ کے رو برو) عاجز (اور تابع حکم) ہیں اور (جس طرح یہ اشیاء مذکورہ جن میں حرکت ارادیہ نہیں جیسا کہ یتفیئوا کی اسناد ظلال کی طرف اس کا قرینہ ہے کیونکہ متحرک بالارادہ میں سایہ کی حرکت خود اس متحرک بالا رادہ کی حرکت سے ہوتی ہے حکم خدا کے تابع ہیں اسی طرح) اللہ ہی کے مطیع…
Read the full tafseer →وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ ۙ وَلَهُمْ مَّا يَشْتَهُوْنَ۔ یہ ان کے شرک کے دہرے گھنونے پن کو واضح فرمایا ہے کہ اول تو یہی بات نہایت بھونڈی ہے کہ خدا کا کسی کو شریک وسہیم ٹھہرایا جائے پھر ستم بالائے ستم یہ ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں اس کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ خود اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہیں لیکن خدا کے لیے انہوں نے بیٹیاں قرار دے رکھی ہیں یہ امر یہاں واضح رہے کہ مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور اس خیال سے ان کی پوجا کرتے تھے کہ اگر یہ راضی رہیں تو اپنے باپ سے سب کچھ منوا لیتی ہیں۔ سبحنہ یعنی اللہ تعالیٰ اس طرح کی تمام نسبتوں سے پاک و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
57۔ 1 عرب کے بعض قبیلے (خزاعہ اور کنانہ) فرشتوں کی عبادت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یعنی ایک ظلم تو یہ کیا کہ اللہ کی اولاد قرار دی۔ جب کہ اس کی کوئی اولاد نہیں۔ پھر اولاد بھی مونث، جسے وہ اپنے لئے پسند ہی نہیں کرتے اللہ کے لئے اسے پسند کیا، جسے دوسرے مقام پر فرمایا ' کیا تمہارے لئے بیٹے اور اس کے لئے بیٹیاں ؟ یہ تو بڑی بھونڈی تقسیم ہے ' یہاں فرمایا کہ تم تو یہ خواہش رکھتے ہو کہ بیٹے ہوں، بیٹی کوئی نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
25: مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اول تو اللہ تعالیٰ اولاد کی ضروت سے پاک ہے دوسرے یہ خود اپنے لیے بیٹیوں کو پسند نہیں کرتے، بلکہ بیٹوں کی ولادت کے خواہش مند رہتے ہیں، جو بذات خود بڑی گمراہی کی بات ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہتے ہیں کہ اسکی بیٹیاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
آیت نمبر 57 تا 59
عقائد کے بارے میں انسان کا فکری انتشار اور فساد صرف عقائد کے حدود تک ہی محدود نہیں رہا کرتا بلکہ یہ زندگی کے پورے طور طریقوں اور رسم و رواج میں سرایت کرجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نظریہ زندگی کے لئے واحد محرک ہوتا ہے۔ چاہے یہ کسی کی زندگی میں یہ نظریہ بادی النظر میں محرک نظر آئے یا پس منظر میں ہو۔ دور جاہلیت کے عرب یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں یعنی فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ لیکن ان کی اپنی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے گھر میں بیٹی کی ولادت کو بہت ہی برا خیال کرتے تھے۔ ان کے خیال میں بیٹیاں اللہ کے لئے ہیں اور وہ چونکہ بیٹوں کو پسند کرتے ہیں اس لیے بیٹے ان کے ہیں۔
ان…
Read the full tafseer →4 یعنی وہ اس سے پاک ہے کہ اس کے لیے اولاد ثابت کی جائے۔ خاص کر بیٹیاں۔ تعجب ہے یہ لوگ حق تعالیٰ کی نسبت ایسی جرأت کس طرح کرتے ہیں۔ اس آیت میں " بنو خزاعہ " کا رد ہوا جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے (العیاذ باللہ)
5 یعنی خود اپنے لیے بیٹیاں دیے جانے پر رضامند نہیں جب مانگیں گے بیٹا مانگیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
آیت 57 وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ ۙ وَلَهُمْ مَّا يَشْتَهُوْنَ
اللہ تعالیٰ کی اولاد کے طور پر وہ لوگ اس سے بیٹیاں منسوب کرتے ہیں جبکہ خود اپنے لیے وہ بیٹے پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے اللہ کے لیے اولاد تجویز بھی کی تو بیٹیاں تجویز کیں جو خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
54 اہل عرب کی دیویاں ان کے مقام اور ان کے پرستار :۔ ہندی، یونانی اور مصری تہذیبوں کی طرح مشرکین عرب کے بھی دیوتا کماوردیویاں زیادہ تھیں اور ان دیویوں کے متعلق ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں، اسی طرح وہ فرشتوں کو بھی اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ ان کی تین مشہور دیویاں، لات، عزیٰ اور منات تھیں۔ لات الٰہ کی مونث ہے۔ عزیٰ عزیز کی اور منات، منان کی۔ لات کا استھان یا آستانہ طائف میں تھا اور بنو ثقیف اس کے پرستار تھے۔ عزیٰ قریش مکہ کی خاص دیوی تھی اور اس کا استھان یا آستانہ مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں مقام حراص پر واقع تھا۔ چناچہ ابو سفیان سپہ سالار قریش نے احد کے میدان میں جنگ…
Read the full tafseer →82۔ یعنی اولاد نرینہ مطلب یہ ہوا کہ ایک تو حق تعالیٰ کی جانب اولاد کا انتساب خود ہی کیسی جہالت وسفاہت ہے، اور پھر اولاد میں بھی حق تعالیٰ کیلئے وہ صنف، جسے اپنے نزدیک حقیر و ذلیل جانتے ہو یعنی لڑکے کے بجائے لڑکیاں ! اور بیٹوں کو اپنے لئے مخصوص رکھتے ہو ! (آیت) ” ویجعلون للہ البنت “۔ روایتوں میں آتا ہے کہ یہ بلاقریش کے قبائل بنی خزاعہ اور بنی کنانہ میں زائد تھی، وہی ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ ھم خزاعۃ وکنانۃ (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
آیت نمبر 51 تا 60
ترجمہ : اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے کہ دو معبود نہ بناؤ (اِثْنَیْنِ ) اِلھٰیْنِ کی تاکید ہے معبود تو صرف وہی اکیلا ہے اس کو الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کرنے کے لئے لائے ہیں، پس تم سب میرا ہی خوف (ڈر) رکھو، (یعنی) مجھ ہی سے ڈرو نہ کہ کسی اور سے، اس میں غیبت سے تکلم کی جانب التفات ہے آسمانوں اور زمین میں کو کچھ ہے اسی کا ہے ملک اور مخلوق اور غلام ہونے کے اعتبار سے اور طاعت دائماً اسی کی لازم ہے، واصِبًا، دین ٌ سے حال ہے اور اس میں عامل معنی ظرف ہیں (ای ثَبَتَ لہٗ الدین) کیا پھر بھی تم غیر اللہ سے ڈرتے ہو ؟ معبود برحق وہی ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور استہفام انکار یا تو بیخ…
Read the full tafseer →ویجعلون اللہ البنات سبحٰنہ ولھم ما یشتھون اور اللہ کیلئے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔ سبحان اللہ اور اپنے لئے چاہتی چیز (یعنی بیٹے) بنی خزاعہ اور بنی کنانہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ سُبْحَانَہٗ تنزیہ ذات ہے ‘ یعنی اللہ کو میں نسبت اولاد سے پاک سمجھتا ہوں اور اس کی پاکی کا اقرار کرتا ہوں۔ یا سُبْحَانَہٗ صرف اظہار تعجب کیلئے ہے۔
Read the full tafseer →(57) اور یہ لوگ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات تو اولاد اور شریک سے پاک ہے اور یہ لوگ خود اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ۔۔ : یہ ان کے اللہ تعالیٰ پر دو عیب لگانے کا بیان ہے، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد قرار دی، حالانکہ وہ اولاد سے پاک ہے۔ دوسرا عیب یہ کہ فرشتوں کو جو اللہ کے بندے ہیں، اللہ کی اولاد قرار دیا اور اولاد بھی مؤنث، جبکہ وہ اپنے لیے لڑکے پسند کرتے ہیں، لڑکیوں کو اپنے لیے باعث ذلت قرار دیتے ہیں، یہ کتنی بڑی بےانصافی ہے۔ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے ”سُبْحٰنَهٗ“ (وہ پاک ہے) کہہ کر اپنی ذات سے ہر قسم کی اولاد کی نفی فرمائی، خواہ لڑکا ہو یا لڑکی، کیونکہ پھر اس کی بیوی بھی ماننا پڑے گی، جب کہ خاوند بیوی کا محتاج ہوتا ہے اور اولاد باپ کی شریک اور جانشین ہوتی ہے، جب…
Read the full tafseer →آیت نمبر 57
قولہ تعالیٰ : ویجعلون للہ البنت یہ آیت بنی خزاعہ اور کنانہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، کیونکہ وہ یہ گمان کرتے تھے کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، پس وہ کہتے تھے بیٹیوں کو بیٹیوں کے ساتھ ملحق کر دو ۔ سبحنہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی پاکی بیان فرمائی ہے اور اپنے آپ کا اس سے عظیم تر (اور بےنیاز) ہونے کا ذکر کیا ہے جس کی نسبت وہ اس کی طرف کرتے ہیں (یعنی) کسی کو اولاد بنانا۔ ولھم ما یشتھون یعنی اپنے لئے تو وہ بیٹے پسند کرتے ہیں اور بیٹیوں کو ناپسند کرتے ہیں۔ اور ما مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے، اور اس کی خبر لھم ہے اور اللہ تعالیٰ کے قول سبحنہ پر کلام مکمل ہوگئی۔ اور فراء نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ویجعلون للہ البنت “ (الآیہ) کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اس کے لئے (یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے) بیٹیوں کو تجویز کرتے ہیں اس کے لئے ان کو پسند کرتے ہیں اور اپنے لئے ان کو پسند نہیں کرتے اور یہ اس وجہ سے کہ زمانہ جاہلیت میں ان میں سے کسی کے گھر میں لڑکی پیدا ہوجاتی تو سوچتا تھا کہ ذلت کے ساتھ اس کو اپنے پاس رکھے یا مٹی میں اس کو زندہ گاڑ دے۔
2:۔ ابن جریر، ابن منذر ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولھم مایشتھون “ یعنی ان کے لئے بیٹے ہوں (جن کو پسند کرتے ہیں )
لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا حرام ہے :
3:۔ ابن…
Read the full tafseer →[وَيَجْعَلُوْنَ : اور وہ لوگ بناتے ہیں ] [ للّٰهِ : اللہ کے لئے ] [ الْبَنٰتِ : بیٹیاں،] [ سُبْحٰنَهٗ ۙ: پاکیزگی اس کی ہے،] [ وَلَهُمْ : اور ان کے لئے ] [ مَا : وہ ہے جو ] [ يَشْتَهُوْنَ : وہ چاہتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
مشرکین کی بھونڈی تجویز، اللہ کے لیے بیٹیاں اور اپنے لیے بیٹے تجویز کرتے ہیں خود ان کے یہاں بیٹی پیدا ہونے کی خبر مل جائے تو چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے
مشرکین جو شرک کرتے ہیں اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ مال کا کچھ حصہ باطل معبودوں کے لیے مقرر کردیتے ہیں جس کی تفسیر سورة انعام کی آیت (وَ جَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ ) (الی اخر الایۃ) میں گزر چکی ہے۔ مال تو دیا اللہ نے اس میں شریک کردیا باطل معبودوں کو اور اوپر سے یوں کہتے ہیں کہ ایسا کرنا درست ہے اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے، اس لیے فرمایا (تَاللّٰہِ لَتُسْءَلُنَّ عَمَّا کُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ ) (کہ اللہ کی قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
کفار کے چند ناشائستہ اقوال و افعال کا ذکر
قال اللہ تعالیٰ : ویجعلون لما لایعلومن نصیبا .... الیٰ .... وھو العزیز الحکیم۔
(ربط) اثبات توحید کے بعد اب ان آیات میں کفار کے چند ناشائستہ اقوال و افعال کا ذکر فرماتے ہیں۔ تاکہ ان کی جہالت اور حماقت ظاہر ہو اور یہ بتلاتے ہیں کہ ان نادانوں نے نادانی سے دو خدا سے بڑھ کر بکثرت معبود بنائے ہوئے ہیں اور طرح طرح سے اعمال شرکیہ میں گرفتار ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔
اور ٹھہرا لیتے ہیں یہ مشرک بتوں کے لیے جن کے معبود ہونے کا ان کو مطلق علم نہیں اور نہ ان کے پاس ان کے معبود ہونے کی کوئی سند اور دلیل موجود ہے ہماری دی ہوئی روزی میں سے ان کے لئے حصہ ٹھہرا لیتے ہیں۔…
Read the full tafseer →42:۔ یہ زجر ہے مشرکین کے بعض قبائل (خزاعہ اور کنانہ) فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے مگر ان کا اپنا حال یہ تھا کہ وہ خود بیٹیوں کو پسند نہیں کرتے تھے۔ ” سبحنہٗ “ یہ مشرکین کے قول باطل کا رد ہے کہ اللہ تعالیٰ تو بےنیاز اور اولاد سے پاک ہے۔ مشرکین فرشتوں کو خدا کی صلبی بیٹیاں مانتے تھے۔ بلکہ ان کا عقیدہ تھا کہ جس طرح بیٹیاں باپ کو بہت عزیز ہوتی ہیں اور باپ ان کی کوئی بات رد نہیں کرتا اسی طرح فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کو بہت پیارے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی سفارش کو ضرور مان لیتا ہے اور رد نہیں کرتا جیسا کہ ” و یجعلون للہ البنات “ کی تعبیر بتا رہی ہے یعنی وہ اللہ کے لیے بیٹیاں بناتے ہیں۔ علاوہ ازیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
(ربط آیات)
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے دو خدا ماننے والے مجوسیوں یا ثنوی فرقے والے مشرکوں کا رد فرمایا ، پھر مطلق شرک کرنے والوں کی مذمت بیان فرمائی کہ وہ اپنی کمائی میں سے غیر اللہ کے تقرب کے لیے ان کے نام کی نذر ونیاز دیتے ہیں ، فرمایا نعمتیں تو ساری کی ساری خدا تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں تو اس میں سے دوسروں کا حصہ نکالنے کا کیا مطلب ؟ تکلیف تو اللہ تعالیٰ دور کرتا ہے مگر نذر ونیاز اغیار کی دی جاتی ہے ، فرمایا یہ لوگ اس چند روزہ زندگی سے فائدہ اٹھالیں ، آگے چل کر انہیں پتہ چل جائے گا جو یہ افتراء کیا کرتے تھے ۔
(خدا کے لیے بیٹیاں)
اب اسی ضمن میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی ایک اور قسم کا رد فرمایا…
Read the full tafseer →وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ ۙ وَلَهُمْ مَّا يَشْتَهُوْنَ 57
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم،
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔
سبحان
و ( سُبْحَانَ ) أصله مصدر نحو : غفران، قال فَسُبْحانَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–61
ترکیب : اثنین تاکید ہے الہین اور مفعول ثانی لاتتخذوا کا بھی ہوسکتا ہے وفیہ مافیہ۔ واصبا ای وانما حال ہے الذین سے اور عامل اس میں معنی ظرف کے ہیں مابمعنی الذی بکم اس کا صلہ من نعمۃ حال ہے ضمیر سے جو جار میں ہے فمن اللہ خبر دوسری وجہ بھی ممکن ہے۔ تجٔرون ترفعون اصواتکم بالاستغاثۃ سبحانہ جملہ معترضہ مسودًا خبر ظل۔ یتواری حال ہے ضمیر کظیم سے۔ اذاکشف الم اذا شرطیہ اذا فریق فجائیۃ جواب الشرط لیکفروالام کے وقیل لام العاقبۃ۔
تفسیر : پچھلی آیتوں میں یہ ثابت کر کے کہ تمام عالم اس کے قبضہ قدرت میں ہے اسی کے آگے سرتسلیم جھکائے ہوئے ہے۔ قال اللہ سے لے کر فارھبون تک توحید خالص کا حکم دیتا ہے پھر ولہ مافی…
Read the full tafseer →وَیَجْعَلُوْنَ لِلّٰہِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَہٗ لا وَلَھُمْ مَّا یَشْتَھُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 57)
(وہ ٹھہراتے ہیں اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں، وہ ان چیزوں سے پاک ہے اور ان کے لیے تو وہ (بیٹے) ہیں جنھیں وہ پسند کرتے ہیں۔ )
شرک کا دہرا گھناؤنا پن
جو آدمی شرک جیسی گری ہوئی حرکت کرتا ہے وہ مسلسل نیچے گرتا ہی چلا جاتا ہے۔ توحید آدمی کو رفعت آشنا بناتی ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ سے رشتہ جوڑتی ہے اور صرف اسی کے آستانے کا راستہ دکھاتی ہے۔ اور شرک انسان کو پستی کی طرف لے جاتا ہے کیونکہ وہ ہر آستانے پر جھکنا سکھاتا ہے اور بالآخر انسانیت سے بھی گرا دیتا ہے۔ یہ بالکل دو انتہائیں ہیں جو انسان کا امتحان بن جاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں دوسروں کو شریک کرنے کے ساتھ بعض مشرک اللہ تعالیٰ کی ذات میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے کئی قسم کا شرک کرتے ہیں۔ مشرکین کا ایک شرک یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں دوسروں کو شریک بناتے ہیں۔ دوسری قسم یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو وحدہ، لاشریک سمجھنے کے بجائے اس کی بیوی اور اولاد ثابت کرتے ہیں۔ جس طرح یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور حضرت مریم اللہ کی بیوی ہے۔ کچھ عیسائی یہ بھی…
Read the full tafseer →اللہ کے لئے ایسی اولاد تجویز کرتے ہیں جو خود کو ناگوار ہے :
57: وَیَجْعَلُوْنَ لِلّٰہِ الْبَنٰتِ (وہ اللہ تعالیٰ کیلئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں) بنو خزاعہ اور کنانہ کہا کرتے تھے کہ الملائکۃ بنات اللہ کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ سُبْحٰنَہٗ (وہ پاک ہے) اس میں بیٹیوں کی نسبت سے اللہ تعالیٰ کا منزہ ہونا ذکر فرمایا۔ نمبر 2۔ ان کی بات پر تعجب کا اظہار ہے۔ وَلَھُمْ مَّا یَشْتَھُوْنَ (اور ان کے لئے ہے وہ جو وہ پسند کرتے ہیں) یعنی بیٹے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ ما کو ابتداء کی وجہ سے مرفوع مانا جائے۔ اور ولھم کو خبر قرار دیں۔ اور اگر منصوب مانیں تو البنات پر عطف ہوگا اور سبحانہؔ جملہ معترضہ ہوگا۔ جو…
Read the full tafseer →تفسیر (57)” ویجعلون للہ البنات “ اس سے مراد خزاعہ اور کنانہ والے ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ ” سبحانہ ولھم ما یشتھون “ وہ اپنے لیے تو لڑکوں کو پسند کرتے تھے اور (نعوذ باللہ) اللہ کے لیے لڑکیاں۔ بعض حضرات نے کہا کہ یہاں ” ولھم ما “ میں ما محل نصب میں واقع ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ابتداء میں واقع ہو، اس صورت میں یہ مرفوع ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
57۔ 59۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی بےوقوفی اور ان کا بےجان چیزوں سے بھی بدتر ہونا فرما کر اس آیت میں ایک اور بیوقوفی ان کی بیان فرمائی ہے اس بیوقوفی کی دو شاخیں ہیں ایک تو یہ ہے کہ مشرک لوگ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے دوسرے یہ کہ اپنی اولاد میں لڑکی پیدا ہونے سے بہت چڑتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے یہ ایک رسم ٹھہرا رکھی تھی کہ لڑکی پیدا ہو کر چھ برس کے اندر اپنی موت سے مرگئی تو خیر ورنہ جنگل میں ایک گڑھا کھود کر اچھے کپڑے پہنا کر اس لڑکی کو جنگل میں لے جاتے تھے اور اسے گڑھے میں جھانکنے کو کہتے جب وہ جھانکتی تو اس کو گڑھے میں دھکا دیتے تھے اور اوپر سے مٹی ڈال کر اس کو زندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
آیت : (56-60)
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت ‘ ان کے ظلم اور اللہ تبارک و تعالیٰ پر ان کی افترا پردازی کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ‘ نیز وہ خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے ان بتوں کو۔۔۔۔ جو کوئی نہ علم رکھتے ہیں ‘ نہ کوئی نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔۔۔۔ اس رزق میں حصہ دار بنا تے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کیا اور جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق سے اس کا شریک بنانے میں مدد حاصل کی اور خود ساختہ اور گھڑے ہوئے بتوں کے تقرب کے لئے اللہ تعالیٰ کے اس رزق کو پیش کرتے ہیں ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (وجعلوا للہ مما ذرا من الحرث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
112۔ مشرکوں کی مت ماری کا ایک اور نمونہ ومظہر : سو اس سے مشرکوں کی مت ماری اور شرک کے گھناؤنے پن کے ایک اور مظہر و نمونہ کو پیش فرمایا گیا ہے۔ کہ یہ اللہ کے لئے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں مگر اپنے لیے یہ لوگ وہ کچھ مقرر کرتے ہیں جو خود چاہتے۔ یعنی لڑکے۔ سو اس طرح یہ لوگ بدتمیزی پر بدتمیزی کا ارتکاب کرتے ہیں کہ اول تو اس وحدہ لاشریک کے لئے کسی طرح کی اولاد تجویز کرنا ہی کفر وباطل ہے کہ وہ اس طرح کہ ہر تصور سے پاک وبالا ہے۔ سبحانہ تعالیٰ ۔ کہ اس کی شان (لم یلد ولم یولد) کی ہے۔ اور " اس کی نہ کوئی بیوی ہے نہ اولاد ‘۔ (ما اتخذ صاحبۃ ولاولدا) ۔ پھر اس کے لیے اولاد بھی وہ تجویز کرتے ہیں جو انکو خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–60
کائنات کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہے
تشریح : یہاں عربوں کی انتہائی بری عادت بیان کی گئی ہے جو کہ ان میں عام طور پر رواج پا چکی تھی۔ اول تو وہ لڑکی ذات کو ہی ناپسند کرتے تھے، پھر جب وہ پیدا ہوجاتی تو اس کو اپنی انتہائی ذلت کا باعث سمجھتے تو اس ذلت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اپنی بچی کو مار دیتے یا زندہ کو ہی دفن کردیتے اور یوں تین گناہ کرتے ایک تو اپنی اولاد پر ظلم کرتے دوسرا قتل کا گناہ کرتے اور تیسرا حکمت الٰہی میں دخل دیتے۔ اس کے علاوہ ایک بہت بڑا گناہ یہ کرتے کہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے، یعنی جس بات کو اپنے لیے باعث شرم سمجھتے اس کو اللہ کے لیے مناسب سمجھتے اور یوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
اور اللہ کریم کا ارشاد ہے کہ متعدد معبود اختیار نہ کرو بلکہ عبادت کا مستحق اللہ کریم اکیلا ہے لہذا اللہ ہی سے ڈرنا چاہئے کہ نفع کی امید پر یا کسی کے خوف سے اس کی ایسی اطاعت جس میں اللہ جل جلالہ کی نافرمانی ہو عبادت کہلائے گی خواہ ایسا کرنے والا اسے معبود نہ ہی کہتا ہو ، حالانکہ ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ جل جلالہ ہی کا ہے اور سارے اسباب اسی کے پیدا کردہ ہیں جن میں بعض کو کبھی اللہ جل جلالہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کردیا جاتا ہے یا بعض اوقات اسباب ہی کو سب کچھ سمجھ لیا جاتا ہے مگر یہ درست نہیں بلکہ ہمیشہ اور ہر حال میں عبادت کا مل وغیر مشروط اطاعت صرف…
Read the full tafseer →ف 2 نہ اس کا کوئی بیٹا ہے اور نہ بیٹی۔
3 یعنی خدا کے لئے تجیز بھی کرنے لگے ہیں تو بیٹیاں حالانکہ اپنے لئے ان کو ناپسند کرتے ہیں اور جب مانگتے ہیں تو بیٹے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(16:57) سبحنہ۔ جملہ معترضہ ہے ای یجعلون للہ البنت ولہم ما یشتھون ان لوگوں نے اللہ کے لئے تو بیٹیاں تجویز کر رکھی ہیں اور اپنے لئے اپنی پسند کی چیز (یعنی بیٹے) سبحنہ (حالانکہ وہ ذات ان باتوں سے پاک ومنزہ ہے۔ )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 60
یجعلون وہ بناتے ہیں۔
البنت (البنت) بیٹیاں یشتھون وہ خواشہ رکھتے ہیں، چاہتے ہیں۔ بشر خوش خبری دی گئی۔ الانثیٰ لڑکی۔ ظل گیا۔ وجھ چہرہ۔ مسودا تاریک، سیاہ۔ کظیم وہ کھولنے والا ہے، دم گھٹنے لگتا ہے۔ یتواری (تواری) وہ چھپتا پھرتا ہے۔ سوء برائی۔ ایمس کہ کیا اس کو روکے رکھے۔ ھون توہین، ذلت۔ یدس وہ دباتا ہے۔ التراب مٹی۔ الا سنو، خبردار رہو۔ یحکمون وہ فیصلہ کرتے ہیں۔ مثل السوء بری مثال، بری حالت۔ الاعلیٰ بلندو برتر
تشریح : آیت نمبر 57 تا 60
کفار و مشرکین عرب کے اس معاشرہ میں ہاں نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تھا لڑکیوں کو نہایت کم تر، حقیر اور باعث رسوائی سمجھتے تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
مشرکین اپنی لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے
ان آیات میں مشرکوں کی دو بےوقوفیوں کا ذکر فرمایا : (1) ایک تو یہ کہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اس کے جوا اب میں ارشاد ہوتا ہے کہ اس کی ذات جمیع عیوب سے پاک ہے، نہ اس کو پسر کی حاجت ہے نہ دختر کی ضرورت ہے۔ یہ بےہودہ باتیں ہمارے احسان کے صلہ میں کرتے ہیں جو ہم ان کی تمنا پوری کرتے ہیں اور خدا کی عطا کردہ جیز سے ناخوش ہونا طریقہ کفار اہل اسلام کا خدا کے عطیہ پر راضی رہنا واجب بلکہ فرض ہے۔ (2) دوسرے کفار کی یہ عادت تھی کہ دختر پیدا ہو کر چھ برس کے اندر اپنی موت آپ مر گئی تو خیر ورنہ جنگل میں گڑھا کھود کر اچھے کپڑے پہنا کر اس لڑکی کو گڑھے میں دبا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
[31] یعنی بیٹے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
خدا کی صفات میں تنزیہہ لازم ہے ۔
(ف 1) حجاز میں مختلف مذاہب رائج تھے ، کچھ دہریئے تھے ، جو خدا کے قائل ہی نہ تھے ، کچھ مشرک تھے ، مشرکین کی بھی کئی قسمیں تھیں ، کچھ تو بتوں کو پوجتے ، کچھ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے ، ان آیات میں دوسرے گروہ کا ذکر ہے ۔
قبیلہ خزاعہ وکنانہ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ فرشتوں کو بنات اللہ کہتے تھے ۔
قرآن حکیم کہتا ہے ، یہ لوگ بھی عجیب ہیں جس چیز کو اپنے لئے پسند نہیں کرتے ، اسے خدا کی جانب منسوب کرتے ہیں ان کی اپنی کیفیت یہ ہے کہ بچیوں کے انتساب سے گھبراتے ہیں مگر ان سے کوئی کہہ دے کہ تمہارے ہاں لڑکی پیدا ہوئی ہے تو تیور بدل جاتے ہیں چہر سیاہ پڑجاتا ہے ، مارے…
Read the full tafseer →57 ۔ اور یہ مشرک اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں وہ جملہ عیوب سے منزہ ہے اور اپنے لئے وہ تجویز کرتے ہیں جسکو دل چاہے ۔ یعنی معاذ اللہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتاتے ہیں اور اسکے لئے بیٹیاں مقرر کرتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے لئے چاہتی چیز کی خواہش کرتے ہیں یہ کس قدر بھونڈی اور مہمل بات ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اپنے واسطے مانگتے ہیں بیٹا ۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
ف 1۔ ایک جماعت اس لیے کہا گیا کہ بعض اس حالت کو یاد رکھ کر توحید و ایمان پر قائم ہوجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →اللہ کے لئے انہوں نے بیٹیاں ٹھہرا رکھی ہیں حالانکہ وہ اولاد سے پاک ہے :
65۔ مشرکین عرب میں بھی یہ تخیل عام تھا اور خصوصا قریش کے قبیلہ خزاعہ اور کنانہ کے قبیلوں کا یہ اعتقاد تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ‘ ان کا یہ تخیل کیوں اور کیسے پیدا ہوگیا ؟ کفار ومشرکین کے ہاں داماد اور بیٹی کی سفارش ساری سفارشوں سے بڑی سمجھی جاتی تھی لہذا اس تخیل نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں تصور کرلیا گیا کہ ان سے سفارش کا کام لیا جائے اور اللہ تعالیٰ بھی ان کی یعنی بیٹیوں کی سفارش قبول کرنے پر مجبور ہوگا فرمایا (سبحانہ) کہ اللہ اولاد سے پاک ہے اسے نہ بیٹے کی ضرورت ہے اور نہ بیٹی کی لیکن ان سے کہا جا رہا ہے کہ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–57
Even the Punishment of the World is Mercy in Disguise
In the verses cited above, after having mentioned various punishments which could seize disbelievers within this world, it was said in the end: فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ (So, indeed your Lord is Very Kind Very Merciful).
First of all, by using the word: رَبّ (Rabb: Lord) here, the hint given is that all these punishments which overtake human beings in this world are there to warn them as part of the dictates of Divine mercy. After that, by introducing the word: رَءُوفٌ(Ra uf: Kind) headed by the intensifying particle lam)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
50. This refers to a tradition of the ancient Arabs. They regarded their goddesses and angels as daughters of God.
51. That is,“sons.”
Read the full tafseer →