Explained with ayahs 56–60
باز پرس لازمی ہوگی
مشرکوں کی بےعقلی اور بےڈھنگی بیان ہو رہی ہے کہ دینے والا اللہ ہے سب کچھ اسی کا دیا ہوا اور یہ اس میں سے اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ہوجائے جن کا صحیح علم بھی انہیں نہیں پھر اس میں سختی ایسی کریں کہ اللہ کے نام کا تو چاہے ان کے معبودوں کے ہوجائے لیکن ان کے معبودوں کے نام کیا گیا اللہ کے نام نہ ہو سکے ایسے لوگوں سے ضرور باز پرس ہوگی اور اس افترا کا بدلہ انہیں پورا پورا ملے گا۔ جہنم کی آگ ہوگی اور یہ ہوں گے۔ پھر ان کی دوسری بےانصافی اور حماقت بیان ہو رہی ہے کہ اللہ کے مقرب غلام فرشتے ان کے نزدیک اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ خطا کر کے پھر ان کی عبادت کرتے ہیں جو خطا پر خطا ہے۔ یہاں تین…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 48
یعنی جن کے متعلق کسی مستند ذریعہ علم سے انہیں یہ تحقیق نہیں ہوا ہے کہ اللہ میاں نے ان کو واقعی شریک خدا نامزد کر رکھا ہے، اور اپنی خدائی کے کاموں میں سے کچھ کام یا اپنی سلطنت کے علاقوں میں سے کچھ علاقے ان کو سونپ رکھے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–57
خلاصہ تفسیر
کیا (ان) لوگوں نے اللہ کی ان پیدا کی ہوئی چیزوں کو نہیں دیکھا (اور دیکھ کر توحید پر استدلال نہیں کیا) جن کے سائے کبھی ایک طرف کو کبھی دوسری طرف کو اس طور پر جھکتے جاتے ہیں کہ (بالکل) خدا کے (حکم کے) تابع ہیں (یعنی سائے کے اسباب کہ آفتاب کی حرکت ہے پھر سایہ کے خواص یہ سب بحکم الہی ہے) اور وہ (سایہ دار) چیزیں بھی (اللہ کے رو برو) عاجز (اور تابع حکم) ہیں اور (جس طرح یہ اشیاء مذکورہ جن میں حرکت ارادیہ نہیں جیسا کہ یتفیئوا کی اسناد ظلال کی طرف اس کا قرینہ ہے کیونکہ متحرک بالارادہ میں سایہ کی حرکت خود اس متحرک بالا رادہ کی حرکت سے ہوتی ہے حکم خدا کے تابع ہیں اسی طرح) اللہ ہی کے مطیع…
Read the full tafseer →وَيَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا يَعْلَمُوْنَ نَصِيْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ ۭ تَاللّٰهِ لَتُسْـــَٔـلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ۔
شرک خدا پر افتراء ہے : یعنی جن دیویوں دیوتاؤں کے بارے میں ان کے پاس کوئی دلیل و ثبوت نہیں۔ محض وہم و گمان کی بنا پر انہوں نے ان کو خدا کا شریک بنا رکھا ہے۔ ان کو خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں میں حصہ دار بناتے ہیں۔ ان کے نام کے حصے بھی نکالتے ہیں اور بہت سی چیزوں کو ان کی طرف منسوب بھی کرتے ہیں کہ یہ ان کے فضل و کرم سے ان کو حاصل ہوئی ہیں۔ تَاللّٰهِ لَتُسْـــَٔـلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ۔ یہ اپنی ذات کی قسم کھا کر ان کو دھمکی دی کہ یہ افتراٗ جو تم خدا پر کررہے ہو…
Read the full tafseer →56۔ 1 یعنی جن کو یہ حاجت روا، مشکل کشا اور معبود سمجھتے ہیں، وہ پتھر کی مورتیاں ہیں یا جنات و شیاطین ہیں، جن کی حقیقت کا ان کو علم ہی نہیں۔ اسی طرح قبروں میں مدفون لوگوں کی حقیقت بھی کوئی نہیں جانتا کہ ان کے ساتھ وہاں کیا معاملہ ہو رہا ہے ؟ وہ اللہ کے پسندیدہ افراد میں ہیں یا کسی دوسری فہرست میں ؟ ان باتوں کو کوئی نہیں جانتا لیکن ان ظالم لوگوں نے ان کی حقیقت سے ناآشنا ہونے کے باوجود، انھیں اللہ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے ان کے لیے بھی نذر ونیاز کے طور پر حصہ مقرر کرتے ہیں بلکہ اللہ کا حصہ رہ جائے تو بیشک رہ جائے ان کے حصے میں کمی نہیں کرتے جیسا کہ سورة الانعام میں…
Read the full tafseer →24: عرب کے مشرکین اپنی زرعی پیداوار اور جانوروں کا ایک حصہ بتوں کے نام پر نذر کردیتے تھے۔ اس کی طرف اشارہ ہے کہ جن بتوں کی نہ حقیقت ان کو معلوم ہے نہ ان کے وجود کی کوئی دلیل ان کے پاس ہے، اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے رزق کو ان کے لیے نذر کردیتے ہیں۔ اس رسم کی تفصیل سورة انعام آیت 136 میں گذری ہے۔
Read the full tafseer →مثلا یہ لوگ اپنے اوپر بعض جانوروں کو حرام قرار دیتے ہیں۔ نہ ان پر سوار ہوتے ہیں اور نہ ان کا گوشت چکھتے ہیں یا بعض جانوروں کے گوشت کو مردوں کے لئے مخصوص کرتے ہیں اور عورتوں پر وہ حرام تصور ہوتے ہیں اور یہ کام وہ اپنے نام نہاد الہٰوں کے نام پہ کرتے ہیں۔ ان کے ان مزعومات کی تفصیلات ہم نے سورة انعام میں دے دی ہیں۔ اور جن الہوں کے نام پر یہ لوگ شرک کرتے ہیں ان کے بارے میں ان لوگوں کو کوئی علم نہیں ہے یہ ان کے موروثی تصورات ہیں جو جاہلیت سے ان کے ہاں نقل ہوتے چلے آئے ہیں۔ حالانکہ یہ نعمتیں ان کو اللہ نے دی ہیں جو وحدہ لا شریک ہے اور جن الہوں کی طرف یہ ان کو منسوب کرتے ہیں ان کے بارے میں خد ان کو…
Read the full tafseer →2 یہ ان کو فرمایا جو اپنے کھیت میں، مویشی میں، تجارت میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کی نیاز ٹھہراتے ہیں (موضح القرآن) جیسا کہ مشرکین عرب کا دستور تھا جس کا ذکر آٹھویں پارہ کے تیسرے رکوع میں گزر چکا " مالا یعلمون " سے مراد وہ ہی اصنام وغیرہ ہیں جنہیں مشرکین جہالت اور بیخبر ی سے معبود یا مالک نفع و ضرر سمجھتے تھے، حالانکہ اس کی کوئی دلیل یا سند ان کے پاس نہ تھی، پھر شرکاء بھی تجویز کیے گئے پتھر کے بت جو ہر قسم کے علم و شعور سے کورے ہیں۔ اِنَّ ہٰذَا لَشَیْ ءٌ عُجَابٌ۔
3 یعنی قیامت میں ان افتراء پردازیوں کی تم سے ضرور باز پرس ہوگی۔ خدا کے دیے ہوئے مال میں کیا حق تھا کہ دوسروں کو شریک وسہیم بناؤ۔ (باقی…
Read the full tafseer →آیت 56 وَيَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا يَعْلَمُوْنَ نَصِيْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ
اللہ تعالیٰ ہی کے عطا کردہ رزق میں سے وہ لوگ اللہ کے ان شریکوں کے لیے بھی حصے نکالتے تھے جن کے بارے میں کوئی علمی سند یا واضح دلیل بھی ان کے پاس موجود نہیں تھی۔ یہ مضمون سورة الانعام کی آیت 136 میں بھی آچکا ہے کہ وہ لوگ اپنی کھیتیوں کی پیداوار اور جانوروں میں سے جہاں اللہ کے لیے حصہ نکالتے تھے وہاں اپنے جھوٹے معبودوں کے حصے کے لیے بھی خاص اہتمام کرتے تھے۔
Read the full tafseer →53 یعنی یہ مشرک اپنے صدقات و خیرات میں اللہ کا شریک اور حصہ دار ان چیزوں کو بناتے ہیں جو بےجان بت ہیں یا قبروں میں پڑے ہوئے ہیں جو نہ سن سکتے ہیں، نہ بول سکتے ہیں، نہ جواب دے سکتے ہیں۔ انھیں یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ کوئی انھیں پکار رہا ہے اور نہ ہی وہ اپنی جگہ سے حرکت کرسکتے ہیں اور اس جملہ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کو اپنے ان خود ساختہ معبودوں کے متعلق کسی مستند ذریعہ علم سے یہ تحقیق نہیں ہوا ہے کہ اللہ میاں نے واقعی ان معبودوں کو اپنا شریک بنا رکھا ہے اور نظام کائنات کے کچھ کام یا اپنی سلطنت کے کچھ علاقے انھیں سونپ رکھے ہیں۔ پھر بھی یہ لوگ انھیں معبود بنائے رکھنے پر مصر ہیں اور سمجھتے…
Read the full tafseer →80۔ یعنی یہ مشرکین ہماری ان نعمتوں میں جو ہم نے انہیں دے رکھی ہیں، ان معبودوں کا بھی حصہ لگاتے ہیں، جن کے معبود ہونے ہی پر کوئی دلیل ان کے پاس نہیں۔ ذکر مشرکین عرب کا ہورہا ہے۔ ان کی ان خصوصیات کا ذکر سورة الانعام (پارہ نمبر 8) میں آچکا ہے۔ (آیت) ” لما لایعلمون “۔ وہ جن کی بابت ان کے پاس نہ کوئی علم ہے نہ ثبوت ہے نہ تحقیق ہے۔ بس بلادلیل وحجت اندھا دھند انہیں اپنا دیوتا مانے جاتے ہیں۔
81۔ (اے مشرکو ! ) موقع تہدید پر صیغہ ایک طرف تو غائب سے مخاطب ہوا اور دوسری طرف متکلم سے غائب کا ہوگیا۔ (آیت) ” تاللہ “۔ زور وتاکید کے موقع پر قسم کا لانا عربی اسلوب بیان کی ایک صناعت ہے (آیت) ” تاللہ “۔ حرف قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
آیت نمبر 51 تا 60
ترجمہ : اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے کہ دو معبود نہ بناؤ (اِثْنَیْنِ ) اِلھٰیْنِ کی تاکید ہے معبود تو صرف وہی اکیلا ہے اس کو الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کرنے کے لئے لائے ہیں، پس تم سب میرا ہی خوف (ڈر) رکھو، (یعنی) مجھ ہی سے ڈرو نہ کہ کسی اور سے، اس میں غیبت سے تکلم کی جانب التفات ہے آسمانوں اور زمین میں کو کچھ ہے اسی کا ہے ملک اور مخلوق اور غلام ہونے کے اعتبار سے اور طاعت دائماً اسی کی لازم ہے، واصِبًا، دین ٌ سے حال ہے اور اس میں عامل معنی ظرف ہیں (ای ثَبَتَ لہٗ الدین) کیا پھر بھی تم غیر اللہ سے ڈرتے ہو ؟ معبود برحق وہی ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور استہفام انکار یا تو بیخ…
Read the full tafseer →ویجعلون لما لا یعلمون نصیبا مما رزقنھم اور یہ لوگ ہماری دی ہوئی چیزوں میں ان (جھوٹے معبودوں) کا حصہ لگاتے ہیں جن کے متعلق ان کو کچھ علم نہیں۔ یعنی جن معبودوں کا حصہ لگایا جا رہا ہے ‘ وہ عبادت کے مستحق ہیں اور نفع یا ضرر پنچانے والے ہیں۔ یہ کافر ان کو ایسا نہیں خیال کرتے ‘ فقط اپنی نادانی کی وجہ سے ان کو معبود اور نفع و نقصان پہنچانے والے کہہ دیتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ کافر ان معبودوں کو حق نہیں سمجھتے ‘ یونہی حصہ لگا دیتے ہیں۔ یا مَا لاَ یَعْلَمُوْنَ سے مراد بت ہیں اور یَعْلَمُوْن کا فاعل بت ہیں۔ یعنی بت بےعلم ہیں ‘ جماد ہیں اور کافر ایسے پتھروں کا حصہ لگا دیتے ہیں۔ مَا رَزَقْنٰھُمْ سے مراد…
Read the full tafseer →(56) اور ہم نے جو ان کو کھیتیاں اور جانور دیئے ہیں یہ ان میں ان بتوں کا حصہ لگاتے ہیں جن کے معبود ہونے کا ان کو کچھ علم نہیں اور پھر اس میں سے صرف مردوں کا کھانے کی اجازت دیتے ہیں، قسم ہے اللہ کی تم سے تمہاری ان جھوٹوں کی قیامت کے دن بالضرور باز پرس ہوگی۔
Read the full tafseer →وَيَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا يَعْلَمُوْنَ۔۔ :”لَا يَعْلَمُوْنَ“ کے دو معنی ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی مراد ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ مشرک لوگ ہمارے دیے ہوئے رزق کا حصہ ان خداؤں کے لیے مقرر کردیتے ہیں جو کچھ بھی نہیں جانتے، کیونکہ عالم الغیب والشہادہ تو صرف اللہ ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ ان کے لیے مقرر کردیتے ہیں جن کے متعلق یہ کچھ نہیں جانتے۔ نہ انھیں ان کی حقیقت معلوم ہے نہ ان کا بےاختیار ہونا، محض گمان اور سنی سنائی باتوں پر بنیاد رکھ کر ہمارا دیا ہوا ان کے نام کردیتے ہیں۔ دیکھیے سورة انعام (36 تا 38) اور سورة یونس (66) شروع آیت میں ان مشرکین کا ذکر سارے کا سارا غائب کے صیغوں کے ساتھ کرنے کے بعد آخر میں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 56
قولہ تعالیٰ : ویجعلون لما لا یعلمون نصیبا مما رزقنھم ان کی جہالت کی دوسری نوع کا ذکر کیا ہے، اور وہ یہ کہ وہ مقرر کرتے ہیں اپنے مالوں میں سے کچھ حصہ ان کے لئے جن کے بارے وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ کوئی نقصان اور نفع دے سکتے ہیں اور وہ بت ہیں (صرف اس لئے) تاکہ وہ اس کے سبب ان کے قریب ہوجائیں ؛ یہ حضرت مجاہد (رح) اور حضرت قتادہ (رح) وغیرہ نے کہا ہے، پس اس معنی کے مطابق یعلمون مشرکین کے لئے ہوگا (یعنی وہ نہیں جانتے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بتوں کے لئے ہے، اور اسے واؤ، نون کے ساتھ ذکر کرکے انہیں قائم مقام ذوالعقول کے رکھا ہے، اور یہ ضمیر ما کی طرف لوٹ رہی ہے اور یعلم کا مفعول محذوف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–56
1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وللہ یسجد مافی السموت وما فی الارض من دآبۃ “ سے مراد ہے کہ کوئی چیز نہیں چھوٹتی اس کی مخلوق میں سے مگر اس کی عبادت کرتی ہے خوشی سے یا نا خوشی سے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ آسمان کی مخلوق خوشی سے سجدہ کرتی ہے اور زمین کی مخلوق بعض خوشی سے اور بعض مجبورا سجدہ کرتی ہے۔
3:۔ خطیب نے تاریخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یخافون ربہم “ یعنی وہ اللہ کے جلال سے ڈرتے ہیں۔
4: ابن ابی شیبہ اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے گذرے اور وہ اپنی دو انگلیوں کے ساتھ دعا کررہے…
Read the full tafseer →[وَيَجْعَلُوْنَ : اور وہ بناتے ہیں ] [ لِمَا : اس کے لئے جس کا ] [ لَا يَعْلَمُوْنَ : وہ لوگ علم نہیں رکھتے ] [ نَصِيْبًا : ایک حصہ ] [ مِّمَا : اس میں سے جو ] [ رَزَقْنٰهُمْ ۭ : ہم نے روزی دی ان کو ] [ تَاللّٰهِ : اللہ کی قسم ] [ لَتُسْـــَٔـلُنَّ : تم لوگوں سے لازماً پوچھا جائے گا ] [ عَمَا : اس کے بارے میں جو ] [ كُنْتم تَفْتَرُوْنَ : تم لوگ گھڑا کرتے تھے ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 56 میں ” لَا یَعْلَمُوْنَ “ کے حقیقی مفہوم تک رسائی حاصل کرنے کے لئے ذہن میں کچھ باتیں واضح ہونا ضروری ہیں۔ مادہ ” ع ل م “ سے مختلف اسماء و افعال قرآن مجید میں بکثرت استعمال ہوئے ہیں۔ اور یہ زیادہ تر لغوی مفہوم کے بجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
اسی لیے فرمایا (فَتَمَتَّعُوْا فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ) یعنی نفع اٹھا لو مزے اڑالو عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ان حرکتوں کا انجام کیا ہے، مرتے وقت اور دم نکلتے ہی جب عذاب میں مبتلا ہوں گے پھر قیامت کے دن دوزخ میں داخل ہوں گے اس وقت شرکیہ کرتوتوں کا نتیجہ سامنے آجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
کفار کے چند ناشائستہ اقوال و افعال کا ذکر
قال اللہ تعالیٰ : ویجعلون لما لایعلومن نصیبا .... الیٰ .... وھو العزیز الحکیم۔
(ربط) اثبات توحید کے بعد اب ان آیات میں کفار کے چند ناشائستہ اقوال و افعال کا ذکر فرماتے ہیں۔ تاکہ ان کی جہالت اور حماقت ظاہر ہو اور یہ بتلاتے ہیں کہ ان نادانوں نے نادانی سے دو خدا سے بڑھ کر بکثرت معبود بنائے ہوئے ہیں اور طرح طرح سے اعمال شرکیہ میں گرفتار ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔
اور ٹھہرا لیتے ہیں یہ مشرک بتوں کے لیے جن کے معبود ہونے کا ان کو مطلق علم نہیں اور نہ ان کے پاس ان کے معبود ہونے کی کوئی سند اور دلیل موجود ہے ہماری دی ہوئی روزی میں سے ان کے لئے حصہ ٹھہرا لیتے ہیں۔…
Read the full tafseer →40:۔ یہ زجر ہے اور اس میں دوسری بار نفی شرک فعلی کا ذکر ہے۔ یعنی تم غیر اللہ کو متصرف و کارساز سمجھتے ہو اور ان کی خاطر نذریں دیتے اور تحریمات کرتے ہو۔ اور جو نعمتیں ہم نے تمہیں دی ہیں ان میں سے غیر اللہ کے لیے حصے نکالتے ہو شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں ” یہ ان کو فرمایا جو اپنے کھیت میں، مواشی میں، تجارت میں اللہ کے سوا کسی کی نیاز ٹھہراتے ہیں سب مال اللہ کا ہے اور کسی کا حق نہیں۔ مگر اللہ کی راہ میں دے اپنے ثواب کو۔ پھر اپنے بدلے ثواب کسی اور کو دلوادے “۔ المراد من ھذا النصیب البحیرۃ والسائبۃ والوصیلۃ والحام وھو قول الحسن (کبیر ج 5 ص 473) ۔
41:۔ یہ تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے یعنی اس شرک فعلی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے بعثت انبیاء کا ذکر فرما کر مشرکین کے اعتراضات کا مسکت جواب دیا ، ہر نبی نے اپنی امت کو یہی تعلیم دی (آیت) ” ان اعبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت “۔ یعنی صرف اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی پرستش سے بچ جاؤ ، پھر اللہ نے مختلف طریقوں سے توحید کے دلائل سمجھائے ، اور آخر میں فرمایا کہ کائنات میں خدا کی پیدا کردہ تمام چیزیں جو جسم رکھتی ہیں ، اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہیں جس کی صورت یہ ہے کہ ہر ایستادہ چیز کے سائے زمین پر سجدہ کرتے ہیں ، فرمایا آسمانوں کی ہر مخلوق خواہ وہ فرشتے ہوں یا جانور سب اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ، اس کے برخلاف…
Read the full tafseer →وَيَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا يَعْلَمُوْنَ نَصِيْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ ۭ تَاللّٰهِ لَتُسْـــَٔـلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ 56
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
نَّصِيبُ :
الحَظُّ المَنْصُوبُ. أي : المُعَيَّنُ. قال تعالی: أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ [ النساء/ 53]
( ن ص ب ) نصیب
و النصیب کے معنی معین حصہ کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ [ النساء/ 53] کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے ۔
رزق
الرِّزْقُ يقال للعطاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–61
ترکیب : اثنین تاکید ہے الہین اور مفعول ثانی لاتتخذوا کا بھی ہوسکتا ہے وفیہ مافیہ۔ واصبا ای وانما حال ہے الذین سے اور عامل اس میں معنی ظرف کے ہیں مابمعنی الذی بکم اس کا صلہ من نعمۃ حال ہے ضمیر سے جو جار میں ہے فمن اللہ خبر دوسری وجہ بھی ممکن ہے۔ تجٔرون ترفعون اصواتکم بالاستغاثۃ سبحانہ جملہ معترضہ مسودًا خبر ظل۔ یتواری حال ہے ضمیر کظیم سے۔ اذاکشف الم اذا شرطیہ اذا فریق فجائیۃ جواب الشرط لیکفروالام کے وقیل لام العاقبۃ۔
تفسیر : پچھلی آیتوں میں یہ ثابت کر کے کہ تمام عالم اس کے قبضہ قدرت میں ہے اسی کے آگے سرتسلیم جھکائے ہوئے ہے۔ قال اللہ سے لے کر فارھبون تک توحید خالص کا حکم دیتا ہے پھر ولہ مافی…
Read the full tafseer →وَیَجْعَلُوْنَ لِمَا لاَ یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰـھُمْ ط تَاللّٰہِ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا کُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 56)
(اور مقرر کرتے ہیں حصہ ان کے لیے جن کو یہ جانتے ہی نہیں ان چیزوں میں سے جو ہم نے ان کو دیں، اللہ تعالیٰ کی قسم تم سے ضرور پوچھا جائے گا اس کے متعلق جو تم بہتان باندھا کرتے تھے۔ )
اللہ تعالیٰ پر افترا
آیتِ کریمہ میں لاَ یَعْلَمُوْنَ کا فعل استعمال ہوا ہے۔ اس کے فاعل دو طرح سے ہوسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس کا فاعل بت ہوں تو پھر اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ یہ مشرک لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جن بتوں کو شریک کرتے ہیں ان بتوں کو خبر بھی نہیں کیونکہ وہ زندگی نہیں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ مشرک اللہ کی ذات اور صفات میں دوسروں کو شریک کرتا ہے۔ اس بنا پر اس کا عقیدہ ہوتا ہے کہ اگر میں نے فلاں مزار یا بت کے لیے نذرانہ پیش نہ کیا تو وہ میرا رزق کم کر دے گا۔ اس لیے کچھ لوگ اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کے ساتھ مزارات کے نام پر بھی صدقہ کرتے ہیں تاکہ مدفون بزرگ خوش ہو کر ہمارے رزق میں اضافہ کریں۔
مشرک کا عقیدہ ہوتا ہے کہ جو کچھ مجھے ملا اور مل رہا ہے یہ بزرگوں کی طفیل اور انکی حرمت کے واسطے مل رہا ہے۔ بت پرست بتوں کی طفیل اور واسطے سے اور قبر پرست صاحب قبر کی طفیل سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کسی بت یا صاحب قبر کی طفیل نہیں دیتا۔ وہ انسان کو براہ…
Read the full tafseer →56: وَیَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰھُمْ ( اور یہ لوگ ہماری دی ہوئی چیزوں میں (اپنے معبودوں کا) حصہ لگاتے ہیں جن کے متعلق ان کو کچھ علم نہیں) ماؔ سے مراد ان کے ٰالہہ ہیں۔ لا یعلمون کا مطلب یہ ہے کہ جن کو یہ الہہ کہتے ہیں۔ اور ان کے متعلق اعتقاد یہ ہے کہ وہ نقصان و نفع کی طاقت رکھتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے ہاں زبردستی سفارش سے چھڑا لیں گے۔ حالانکہ اس طرح نہیں کیونکہ یہ بت و جماد محض ہیں جو نہ نقصان دیتے ہیں اور نہ نفع۔
نمبر 2۔ لا یعلمون کی ضمیراٰلہہ کی طرف لوٹتی ہے۔ ان چیزوں کیلئے جو علم سے موصوف نہیں اور نہ شعور رکھتے ہیں۔ کیا انہوں نے انکا حصہ اپنے چوپایوں اور…
Read the full tafseer →(56)” و یجعلون لما لا یعلمون “ اس سے مراد بت ہیں۔ ” نصیباً رزقناھم “ اس سے مراد کھیتی، مویشی، پھل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے ان بتوں کے لیے حصے مقرر کر رکھے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ حصہ اللہ کے لیے ہے اور اس میں ہمارے بت شریک ہیں۔ ” تاللہ لتسئلن “ قیامت کے دن تم سے ضرور بضرور پوچھاجائے گا۔ ” عما کنتم تفترون “ ان کو تم نے دنیا میں جو معبود بنا رکھا تھا۔
Read the full tafseer →56۔ اوپر ذکر تھا کہ جو بلائیں اور بیماریاں ان لوگوں کو پہنچتی ہیں اور یہ خدا سے گڑ گڑانے لگتے ہیں اور خداوند عالم محض اپنی شان رحیمی سے فضل کرتا ہے اور وہ ضرر ان سے دفعہ کردیتا ہے تو بجائے اس کے شکریہ کے طرح طرح کی ناشکریاں ان سے سرزد ہونے لگتی ہیں اس آیت میں فرمایا یہ بت جو بالکل بیخبر پتھر ہیں ان کے واسطے اللہ کی دی ہوئی روزی میں سے یہ لوگ حصہ مقرر کرتے ہیں ان بتوں کو اس کی مطلق خبر بھی نہیں ہے نہ جاندار ہیں نہ انہیں آنکھیں ہیں نہ کان۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ یہ بت جن کو کسی شئی کے سمجھنے بوجھنے کی قوت نہیں کفار اپنے مال میں سے ان کا حصہ ٹھہراتے ہیں مجاہد کا یہ قول ہے کہ کفار جانتے ہیں کہ حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
آیت : (56-60)
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت ‘ ان کے ظلم اور اللہ تبارک و تعالیٰ پر ان کی افترا پردازی کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ‘ نیز وہ خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے ان بتوں کو۔۔۔۔ جو کوئی نہ علم رکھتے ہیں ‘ نہ کوئی نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔۔۔۔ اس رزق میں حصہ دار بنا تے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کیا اور جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق سے اس کا شریک بنانے میں مدد حاصل کی اور خود ساختہ اور گھڑے ہوئے بتوں کے تقرب کے لئے اللہ تعالیٰ کے اس رزق کو پیش کرتے ہیں ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (وجعلوا للہ مما ذرا من الحرث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
106۔ مشرک انسان کی احسان فراموشی اور بےانصافی کا ایک نمونہ ومظہر : کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کرم اور اس کی رحمت و عنایت سے چھٹکارا پاتے ہی شرک کرنے لگتا ہے۔ چناچہ ارشاد فرما گیا کہ پھر یکایک ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔ جس کی بنا پر کوئی اس نعمت کو اپنی کسی دیوی دیوتا اور اپنے بتوں میں سے کسی بت کی طرف منسوب کرتا ہے۔ کوئی اسے اپنی کسی دوسری خود ساختہ سرکار کی کارستانی قرار دیتا ہے۔ کوئی اسے اور کسی درگاہ اور آستانے کا فیض بتاتا ہے اور کوئی اسے اور کسی زندہ یا مردہ ہستی کی حاجت روائی ومشکل کشائی کا ثمرہ قرار دیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور پھر ایسے مشرک لوگ اپنے اس منعم حقیقی اور واہب مطلق۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–60
کائنات کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہے
تشریح : یہاں عربوں کی انتہائی بری عادت بیان کی گئی ہے جو کہ ان میں عام طور پر رواج پا چکی تھی۔ اول تو وہ لڑکی ذات کو ہی ناپسند کرتے تھے، پھر جب وہ پیدا ہوجاتی تو اس کو اپنی انتہائی ذلت کا باعث سمجھتے تو اس ذلت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اپنی بچی کو مار دیتے یا زندہ کو ہی دفن کردیتے اور یوں تین گناہ کرتے ایک تو اپنی اولاد پر ظلم کرتے دوسرا قتل کا گناہ کرتے اور تیسرا حکمت الٰہی میں دخل دیتے۔ اس کے علاوہ ایک بہت بڑا گناہ یہ کرتے کہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے، یعنی جس بات کو اپنے لیے باعث شرم سمجھتے اس کو اللہ کے لیے مناسب سمجھتے اور یوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
اور اللہ کریم کا ارشاد ہے کہ متعدد معبود اختیار نہ کرو بلکہ عبادت کا مستحق اللہ کریم اکیلا ہے لہذا اللہ ہی سے ڈرنا چاہئے کہ نفع کی امید پر یا کسی کے خوف سے اس کی ایسی اطاعت جس میں اللہ جل جلالہ کی نافرمانی ہو عبادت کہلائے گی خواہ ایسا کرنے والا اسے معبود نہ ہی کہتا ہو ، حالانکہ ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ جل جلالہ ہی کا ہے اور سارے اسباب اسی کے پیدا کردہ ہیں جن میں بعض کو کبھی اللہ جل جلالہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کردیا جاتا ہے یا بعض اوقات اسباب ہی کو سب کچھ سمجھ لیا جاتا ہے مگر یہ درست نہیں بلکہ ہمیشہ اور ہر حال میں عبادت کا مل وغیر مشروط اطاعت صرف…
Read the full tafseer →ف 1 یا جن کی حقیقت انہیں معلوم نہیں ہے مراد میں مٹی اور پتھر کے وہ بت جنہیں مشرکین عرب اپنی جہالت اور لاعلمی سے اپنا معبود دیا اپنے نفع و نقصان کا مالک تصور کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساتھ اپنے مویشویں اور اپنی کمائیوں سے ان کے نام کی منت اور نذر چڑھایا کرتے تھے حالانکہ مال سب اللہ کا ہے جس میں دوسرے کا حق نہیں اور پھر ان کے پاس اس چیز کی کوئی دلیل بھی نہ تھی۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →(16:56) ویجعلون اس کا عطف یشرکون پر ہے۔
بما لا یعلمون میں ما موصولہ ہے جو اکثر غیر ذوی العقول کے لئے مستعمل ہوتا ہے۔ مراد اس سے وہ اوثان۔ بُت۔ معبودانِ باطل ہیں جن کو مشرکین نے الوہیّت کا درجہ و مرتبہ دے رکھا تھا اور ان کا اعتقاد تھا کہ یہ ان کے نفع نقصان پر قدرت رکھتے ہیں حالانکہ یہ حقیقت نہ تھی وہ تو محض خود ساختہ۔ بےجان۔ بےشعور چیزیں تھیں۔
یا ضمیر فاعل کا مرجع مشرکین ہیں جو نہیں جانتے تھے کہ یہ بت محض بےجان چیزیں ہیں اور کچھ نہیں کرسکتے۔
ویجعلون لما لا یعلمون نصیبا مما رزقنہم۔ اور یہ لوگ اس رزق میں سے جو ہم نے انہیں دیا ہے ایک حصہ ان چیزوں (معبودان باطل ) کے لئے مخصوص کرتے ہیں۔ جو کچھ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 56
لاتتخذوا تم نہ بناؤ۔ الھین (الہ) دو معبود۔ اثنین دو ۔ واحد ایک۔ ایای مجھ سے ہی۔ رھبوا تم ڈرو۔ واصباً ہمیشہ رہنے والا۔ مابکم جو کچھ تمہارے پاس ہے۔ تجئرون تم فریاد رتے ہو تم چلاتے ہو۔ کشف کھل گیا، دور گیا۔ فریق ایک جماعت ۔ یشرکون وہ شرک کرتے ہیں، شریک کرتے ہیں۔ تمتعوا تم فائدہ حاصل کرو۔ نصیب حصہ۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ تسئلن تم پوچھے جاؤ گے۔ تفترون تم گھیرتے ہو۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 56
قرآن کریم میں سب سے زیادہ جس بات پر زور دیا گیا ہے وہ اللہ کو ایک ماننا اور ان تمام غیر اللہ کی عبادت و بندگی سے منہ موڑنا جن کو کچھ نادانوں نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے ۔ کفار و مشرکین…
Read the full tafseer →قیامت میں سوال ہوگا
اس آیت میں فرمایا کہ بت جو بلکل بیخبر پتھر ہیں۔ ان کے واسطے اللہ کی دی ہوئی روزی میں سے یہ لوگ حصہ مقرر کرتے ہیں اور ان بتوں کو اس کی مطلق خبر بھی نہیں ہے۔ نہ جاندار ہیں نہ ان کی آنکھیں ہیں نہ کان، غرضیکہ اس بات پر اللہ پاک نے اپنی ذات کی قسم کھائی کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ضرور ان لوگوں سے پوچھے گا کہ (1) تمام عمر کن کامون میں گزاری اور (2) جوانی میں کیا کیا (3) اور روپیہ پیسہ کیونکر کمایا اور (4) کہاں خرچ کیا۔ علم دین کی نصیحت پر کیا عمل کیا۔ حاصلی یہ ہے مشرکوں نے جو کچھ عمر بھر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے ان چار باتوں کی جواب دہی میں وہ سب کھل جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
[30] شرک کی بنیاد غیر اللہ کے خوف پر ہوتی ہے۔ مشرک سمجھتا ہے کہ فلاں فلاں طاقتیں ایسی ہیں جو مجھے نقصان پہنچا سکتی ہیں لہذا انھیں راضی رکھنے کے لئے ان کے آگے یوں نذر ماننی چاہئے، یوں بھینٹ چڑھانی چاہئے، وقس علیٰ ہذا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
(ف 1) یعنی اطاعت وانقیاد کا جذبہ اللہ کے لئے وقف ہے ، اطاعت شعاری اور فرمانبرداری صرف رب السموت کے لئے مختص ہے مسلمان اصلا کسی دوسرے کا محتاج نہیں ہوتا ۔
حل لغات :
یتغیؤا : اصل میں فئی کے معنی رجوع کے ہوتے ہیں ، سایہ چونکہ اپنی جگہ چھوڑ دیتا ہے اس لئے اسے بھی فئی کہتے ہیں داخر : ذلیل ، اثنین : کا اعادہ مزید تنفر پیدا کرنے کے لئے ہے ۔
واصبا : وصب کے معنی لازم دائم کے ہیں بیمار کو بھی واصب کہتے ہیں ، کیونکہ بیماری اسے چمٹ جاتی ہے اور اس کے لئے لازم ہوجاتی ہے ۔
Read the full tafseer →56 ۔ اور ہم نے ان دین حق کے منکروں کو جو کچھ دیا ہے یہ منکر اس میں سے ان معبودان باطل کا حصہ مقرر کرتے ہیں جن کے معبود ہونے کا ان کو صحیح علم بھی نہیں ۔ خدا کی قسم تم جو افترا پردازیاں کر رہے ہو قیامت میں تم سے ان کی ضرور باز پرس ہوگی ۔ یعنی جن معبود ان باطلہ کی حقیقت سے بیخبر ہیں نہ ان کے پاس ان کے معبود ہونے کی کوئی دلیل اور سند ہے اور باوجود اس بےعلمی کے خدا کے دیئے میں سے ان کا حصہ تجویز کرتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ ان کو فرمایا جو اپنے کھیت میں مواشی میں تجارت میں اللہ کے سوائے کسی کی نیاز ٹھہراتے ہیں سب مال اللہ کا ہے اور کسی کا حق نہیں مگر اللہ کی راہ میں دے اپنے ثواب کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
ف 1۔ ایک جماعت اس لیے کہا گیا کہ بعض اس حالت کو یاد رکھ کر توحید و ایمان پر قائم ہوجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں غیروں کا حصہ بھی مقرر کرنے لگتے ہیں :
64۔ مشرکین کی حالت یہ ہے کہ ہماری ان نعمتوں میں سے جو ہم نے ان کو دے رکھی ہیں ان معبودوں کا بھی حصہ لگاتے ہیں جن کے معبود ہونے ہی پر کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ، قرآن کریم میں ہر قسم کے شرک کی تردید کی جاتی ہے اور بار بار کی جاتی ہے گویا یہ اتنی ضرر رساں چیز ہے کہ اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی چیز ضرر رساں نہیں ہے ، شرک کا اصل ضرر کیا ہے ؟ شرک کا اصل ضرر یہ ہے کہ خدا سے انسان کو جس درجہ کا تعلق ‘ جس قسم کا عجزو نیاز ‘ جس مرتبہ کی محبت ‘ جس درجہ کی التجا درکار ہے اس کا رخ دوسری جانب بدل جاتا ہے ہزاروں ‘ لاکھوں آدمی ہیں جو اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–57
Even the Punishment of the World is Mercy in Disguise
In the verses cited above, after having mentioned various punishments which could seize disbelievers within this world, it was said in the end: فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ (So, indeed your Lord is Very Kind Very Merciful).
First of all, by using the word: رَبّ (Rabb: Lord) here, the hint given is that all these punishments which overtake human beings in this world are there to warn them as part of the dictates of Divine mercy. After that, by introducing the word: رَءُوفٌ(Ra uf: Kind) headed by the intensifying particle lam)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
47. That is, at the time of showing gratitude to Allah for removing his affliction, he begins to make offerings also to some god, goddess or saint to show that Allah’s kindness to him was due to the intercession of his patron, for he imagines that otherwise Allah would not have removed his distress.
Read the full tafseer →