An-Nahl 16:55

An-Nahl · from ayah 55

16:55

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ ؕ— فَتَمَتَّعُوْا ۫— فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۟لِيَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اٰتَيۡنٰهُمۡ‌ؕ فَتَمَتَّعُوۡا‌ ۖ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ

تاکہ جو (نعمتیں) ہم نے ان کو عطا فرمائی ہیں ان کی ناشکری کریں تو (مشرکو) دنیا میں فائدے اٹھالو۔ عنقریب تم کو (اس کا انجام) معلوم ہوجائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

So they will deny what We have given them. Then enjoy yourselves, for you are going to know.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 7 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:55

تاکہ اللہ کے احسان کی ناشکری کرے اچھا، مزے کر لو، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تاکہ جو (نعمتیں) ہم نے ان کو عطا فرمائی ہیں ان کی ناشکری کریں تو (مشرکو) دنیا میں فائدے اٹھالو۔ عنقریب تم کو (اس کا انجام) معلوم ہوجائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہ ہماری دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کریں۔ اچھا کچھ فائده اٹھالو آخر کار تمہیں معلوم ہو ہی جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

تاکہ ہم نے اسے جو نعمت دی تھی اس کی ناشکری کرے۔ اچھا ! کچھ عیش کرلو، پھر عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہ ہماری دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کریں، تو کچھ برت لو (۱۱۱) کہ عنقریب جان جاؤ گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یہ کفر و شرک اس لئے) تاکہ وہ ان (نعمتوں) کی ناشکری کریں جو ہم نے انہیں عطا کر رکھی ہیں، پس (اے مشرکو! چند روزہ) فائدہ اٹھا لو پھر تم عنقریب (اپنے انجام کو) جان لو گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تاکہ وہ اس کی ناشکری کریں جو ہم نے انھیں دیا ہے۔ سو تم فائدہ اٹھالو، پس عنقریب تم جان لوگے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تاکہ اللہ نے جو کچھ انھیں دے رکھا ہے (اس کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے) اس کی ناشکری ہی کریں۔ اچھا (کچھ دیر) مزے اڑا لو۔ عنقریب تمہیں (حقیقت) معلوم ہوجائے گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تاکہ ناشکری کریں اس چیز کی جو ہم نے ان کو بخشی ہے تو چند روزہ عیش کرلو، عنقریب تم جان لوگے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تاکہ (اس طرح) وہ ناشکری کریں ان نعمتوں کی جو ہم نے انکو دی ہوتی ہیں، سو مزے کرلو تم لوگ کچھ عرصہ کیلئے، آگے چل کر تمہیں خود معلوم ہوجائے گا،

— مولانا اسحاق مدنی

حاصل یہ کہ وہ اس کی ناشکری کرتے ہیں جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے۔ سو (خیر) چند روزہ عیش کرلو پھر تو عنقریب تمہیں معلوم ہی ہوا جاتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تا کہ ناشکری کریں ان (نعمتوں) کی جو ہم نے ان کو دی ہیں۔ تو چند روزہ مزے اڑا لو پس عنقریب تم جان لو گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تاکہ جو نعمتیں ہم نے ان کو دی ہیں ان کی ناشکری کریں۔ تو اے مشرکو ! دنیا میں فائدے اٹھا لو۔ عنقریب تمہیں اس کا انجام معلوم ہوجائے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

that they may show ingratitude for the bounties We bestowed upon them. So enjoy yourselves for a while, soon you will come to know (the truth).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Thus, they deny what We have given to them. Well, enjoy yourself (for some time), and soon you will come to know (the fate of your misdeeds).

— Muhammad Taqi Usmani

Thus, they deny what We have given to them. Well, enjoy yourself (for some time), and soon you will come to know (the fate of your misdeeds).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So they are ungrateful for that which We have given them! Then enjoy yourselves but you will soon come to know.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So as to deny that which We have given them. Then enjoy life (while ye may), for ye will come to know.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So they will deny what We have given them. Then enjoy yourselves, for you are going to know.

— Saheeh International

In the end you will reject Our bounties. Enjoy yourselves; you will soon know (the consequences of your deeds).

— Muhammad Sarwar

So that they be ungrateful for what We have given them; then enjoy yourselves; for soon will you know

— Muhammad Habib Shakir

That they may show ingratitude for that which We have vouchsafed unto them. Enjoy then, presently ye shall know.

— Abdul Majid Daryabadi

(As if) to show their ingratitude for the favours we have bestowed on them! then enjoy (your brief day): but soon will ye know (your folly)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:55

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–55

ہر چیز کا واحد مالک وہی ہے اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، وہ لا شریک ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، مالک ہے، پالنہار ہے۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے۔ اس کے سو دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا نا خوشی اس کی ماتحت ہے۔ سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے، خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو۔ اسکے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو۔ دین خالص صرف اللہ ہی کا ہے آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے، اسی کے فضل و…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 54–55

سورة النَّحْل 47 یعنی اللہ کے شکریہ کے ساتھ ساتھ کسی بزرگ یا کسی دیوی یا دیوتا کے شکریے کی بھی نیازیں اور نذریں چڑھانی شروع کردیتا ہے۔ اور اپنی بات بات سے یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کے نزدیک اللہ کی اس مہربانی میں ان حضرات کی مہربانی کا بھی دخل تھا، بلکہ اللہ ہرگز مہربانی نہ کرتا اگر وہ حضرات مہربان ہو کر اللہ کو مہربانی پر آمادہ نہ کرتے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–57

خلاصہ تفسیر کیا (ان) لوگوں نے اللہ کی ان پیدا کی ہوئی چیزوں کو نہیں دیکھا (اور دیکھ کر توحید پر استدلال نہیں کیا) جن کے سائے کبھی ایک طرف کو کبھی دوسری طرف کو اس طور پر جھکتے جاتے ہیں کہ (بالکل) خدا کے (حکم کے) تابع ہیں (یعنی سائے کے اسباب کہ آفتاب کی حرکت ہے پھر سایہ کے خواص یہ سب بحکم الہی ہے) اور وہ (سایہ دار) چیزیں بھی (اللہ کے رو برو) عاجز (اور تابع حکم) ہیں اور (جس طرح یہ اشیاء مذکورہ جن میں حرکت ارادیہ نہیں جیسا کہ یتفیئوا کی اسناد ظلال کی طرف اس کا قرینہ ہے کیونکہ متحرک بالارادہ میں سایہ کی حرکت خود اس متحرک بالا رادہ کی حرکت سے ہوتی ہے حکم خدا کے تابع ہیں اسی طرح) اللہ ہی کے مطیع…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لِيَكْفُرُوْا بِمَآ اٰتَيْنٰهُمْ ۭ فَتَمَتَّعُوْا ۣ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ یہ اس صورت حال کا نتیجہ بیان ہوا ہے کہ اس طرح انسان خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کرتا اور ان کو دوسروں کی طرف منسوب کرتا ہے۔ فتمتعوا یہ دھمکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کی ناشکری کرکے اس کی نعمتوں سے چند روز فائدہ اٹھا لو۔ عنقریب تمہارے سامنے اس کفران نعمت کا نتیجہ آجائے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

55۔ 1 لیکن انسان بھی کتنا ناشکرا ہے کہ تکلیف (بیماری، تنگ دستی اور نقصان وغیرہ) کے دور ہوتے ہی وہ پھر رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔ 55۔ 2 یہ اس طرح ہی ہے جیسے اس سے قبل فرمایا تھا، (قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِيْرَكُمْ اِلَى النَّارِ) 14۔ ابراہیم :30) چند روزہ زندگی میں فائدہ اٹھالو ! بالآخر تمہارا ٹھکانا جہنم ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 50–55

23: یہ آیت سجدہ ہے، یعنی جو شخص بھی یہ آیت عربی زبان میں پڑھے، اس پر سجدہ کرنا واجب ہوجاتا ہے، اسے سجدہ تلاوت کہتے ہیں، جو نماز کے سجدے کے علاوہ ہے، البتہ صرف ترجمہ پڑھنے سے یا آیت کو پڑھے بغیر صرف دیکھنے سے سجدہ واجب نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 51–55

درس نمبر 121 ایک نظر میں مسئلہ توحید کا یہ تسیرا دور ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کائنات کا خدا صرف ایک خدا ہے۔ اس سبق کا آغاز اس مفہوم سے ہوتا ہے کہ اللہ ایک ہے جو وحدہ مالک اور منعم ہے۔ پہلی تین آیات میں یہی مفہوم بیان ہوا ہے۔ یہاں ایک بہترین تمثیل دی گئی ہے کہ ایک مالک ہے ، رازق ہے اور دوسرا شخص غلام اور مملوک اور محتاج ہے۔ جس کا کوئی اختیار نہیں ۔ اور جس کی ملکیت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ تو پھر اللہ جو خالق مالک اور رازق ہے وہ اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کس طرح برابر ہو سکتے ہیں جو نہ مالک ہیں اور نہ رازق۔ کس طرح ہم دونوں کو کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی الٰہ ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 54–55

1 یعنی جہاں سختی دور ہوئی منعم حقیقی کو بھلا بیٹھے اور نہایت بےحیائی سے خدائی کے حصے بخرے کرنے لگے۔ شرم نہ آئی کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے عاجز ہو کر کسے پکار رہے تھے۔ نہ محسن حقیقی کا احسان مانا نہ یہ اندیشہ کیا کہ ناشکری کی سزا میں پکڑے جائیں گے، یا کم از کم کفران نعمت سلب نعمت کا موجب ہوجائے گا۔ گویا خدائے وحدہ لا شریک لہ نے جو انعام فرمایا تھا بالکل اس کے انکار پر تل گئے۔ بہتر ہے چند روز کی انھیں مہلت دی جاتی ہے۔ خوب دنیا کے مزاے اڑالیں آخر معلوم ہوجائے گا کہ اس مشرکانہ کفران نعمت کی کیسی سزا ملتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 55 لِيَكْفُرُوْا بِمَآ اٰتَيْنٰهُمْ ۭ فَتَمَتَّعُوْا ۣ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ کچھ دنوں کی بات ہے دنیا میں تم لوگ مزے اڑا لو۔ بہت جلد اصل حقیقت کھل کر تمہارے سامنے آجائے گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

52 یعنی مصیبت کے وقت مدد تو اللہ نے کی، تکلیف اسی نے دور کی۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتے۔ اسی کی عبادت کرتے۔ اسی کے سامنے اپنی فریادیں پیش کرتے۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ مصیبت کا وقت دور ہوجانے کے بعد پھر انھیں اپنے دوسرے معبود یاد آنے لگتے ہیں اور اللہ کو یکسر بھول جاتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر نمک حرامی کیا ہوسکتی ہے۔ تاہم انھیں دنیا میں فوری سزا نہیں دی جاتی مگر مرتے ہی انھیں سب آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 54–55

78۔ (اپنی نعمتوں میں سے) اور رفع تکلیف تو خود ہی ایک بڑی نعمت ہے۔ (آیت) ” لیکفروا “ َ میں ل عاقبت کا ہے۔ اللام لام العاقبۃ (روح) 79۔ (کہ اس کفر وشرک کا انجام کیا ہوتا ہے) سوف، عنقریب یعنی مرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–60

آیت نمبر 51 تا 60 ترجمہ : اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے کہ دو معبود نہ بناؤ (اِثْنَیْنِ ) اِلھٰیْنِ کی تاکید ہے معبود تو صرف وہی اکیلا ہے اس کو الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کرنے کے لئے لائے ہیں، پس تم سب میرا ہی خوف (ڈر) رکھو، (یعنی) مجھ ہی سے ڈرو نہ کہ کسی اور سے، اس میں غیبت سے تکلم کی جانب التفات ہے آسمانوں اور زمین میں کو کچھ ہے اسی کا ہے ملک اور مخلوق اور غلام ہونے کے اعتبار سے اور طاعت دائماً اسی کی لازم ہے، واصِبًا، دین ٌ سے حال ہے اور اس میں عامل معنی ظرف ہیں (ای ثَبَتَ لہٗ الدین) کیا پھر بھی تم غیر اللہ سے ڈرتے ہو ؟ معبود برحق وہی ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور استہفام انکار یا تو بیخ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لیکفروا بما اتینھم جس کا حاصل یہ ہے کہ جو نعمتیں ہم نے ان کو دی ہیں ‘ ان کی ناشکری کرتے ہیں۔ خصوصاً دفع مصیبت کی نعمت۔ لِیَکْفُرُوْا میں لام نتیجہ کا ہے ‘ یعنی ان کے شرک کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کی۔ دوسروں کی عبادت کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے خداداد نعمتوں کا منعم دوسروں کو قرار دے لیا۔ فتمتعوا فسوف تعلمون خیر (چند روز) عیش اڑا لو ‘ اب جلد ہی خبر ہوجائے گی۔ تَمَتَّعُوْا امر کا صیغہ ہے لیکن مراد ڈرانا ہے (حکم دینا مقصود نہیں ہے) فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ سے تہدید کی مزید شدّت ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(55) جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم نے جو ان کو نعمتیں عطا کی ہیں، اس کی ناشکری کرتے ہیں اور کہنے لگتے ہیں کہ ہمارے بتوں کی سفارش سے ایسا ہوا، خیر کفر و حرام کاموں میں چند روزہ عیش کرلو تمہیں پتہ چل جائے گا کہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 53–55

وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجْــــَٔــرُوْنَ۔۔ :”نِّعْمَةٍ“ (نعمت) نکرہ ہونے کی وجہ سے عام تھی، ”مِّنْ“ کے ساتھ عموم کی مزید تاکید ہوگئی کہ جو بھی نعمت تمہارے پاس ہے، یعنی تمہارا وجود، صحت، عافیت، مال، غرض چھوٹی یا بڑی جو بھی نعمت ہے، وہ سب اللہ کی عطا کردہ ہے۔ ”تَجْــــَٔــرُوْنَ“ ”جَأَرَ یَجْأَرُ جُؤَارًا“ (ف) مدد طلب کرنے کے لیے اونچی آواز نکالنا، گڑ گڑانا۔ اصل میں یہ لفظ جنگلی جانوروں کے چیخنے چلانے کے لیے آتا ہے، جیسا کہ گائے کی آواز کے لیے ”خُوَارٌ“ ، بکری کے لیے ”ثُغَاءٌ“ اونٹ کے لیے ”رُغَاءٌ“ اور بھیڑیے اور کتے کے لیے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 53–55

آیت نمبر 53 تا 55 قولہ تعالیٰ : وما بکم من نعمۃ فمن اللہ فراء نے کہا ہے : ما بمعنی الجزاء ہے۔ اور بکم میں بافعل مضمر کے متعلق ہے، تقدیر عبارت ہے : وما یکن بکم۔ من نعمۃ یعنی جسمانی صحت، وسعت رزق اور اولاد وغیرہ فمن اللہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہیں۔ اور کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے وما بکم من نعمۃ فمن اللہ ہی۔ ثم اذا مسکم الضر یعنی پھر جب تمہیں بیماری، مصیبت اور قحط سالی (غربت وغیرہ) آپہنچتی ہے۔ فالیہ تجئرون تو اسی کی جانب دعا کے ساتھ گڑ گڑاتے ہو۔ کہا جاتا ہے : جأ ریجأ رجؤا رأ اور الجؤار الخوار کی طرح ہے ؛ کہا جاتا ہے : جأر الثور یجأر یعنی بیل نے شور مچایا۔ اور بعض نے عجلا جسدا لہ جؤار۔۔۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 49–56

1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وللہ یسجد مافی السموت وما فی الارض من دآبۃ “ سے مراد ہے کہ کوئی چیز نہیں چھوٹتی اس کی مخلوق میں سے مگر اس کی عبادت کرتی ہے خوشی سے یا نا خوشی سے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ آسمان کی مخلوق خوشی سے سجدہ کرتی ہے اور زمین کی مخلوق بعض خوشی سے اور بعض مجبورا سجدہ کرتی ہے۔ 3:۔ خطیب نے تاریخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یخافون ربہم “ یعنی وہ اللہ کے جلال سے ڈرتے ہیں۔ 4: ابن ابی شیبہ اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے گذرے اور وہ اپنی دو انگلیوں کے ساتھ دعا کررہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لِيَكْفُرُوْا : نتیجۃً وہ ناشکری کرتے ہیں ] [ بِمَآ : اس کی جو ] [ اٰتَيْنٰهُمْ ۭ: ہم نے دیا ان کو ] [ فَتمتَّعُوْا ۣ : تو تم لوگ فائدہ اٹھا لو ] [فَسَوْفَ : پھر عنقریب ] [ تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ جان لو گے ] (آیت۔ 55) لِیَکْفُرُوْا کے لام کو لام کَی کے بجائے لام عاقبت ماننا زیادہ بہتر ہے۔ تَمَتَّعُوْا میں دو امکانات ہیں۔ یہ فعل ماضی میں جمع مذکر غائب کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے اور فعل امر میں جمع مذکر مخاطب کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے۔ آگے تَعْلَمُوْنَ آیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ یہ فعل امر ہے۔ اگر یَعْلَمُوْنَ آتا تو پھر اسے فعل ماضی مانا جاتا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 55–56

اسی لیے فرمایا (فَتَمَتَّعُوْا فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ) یعنی نفع اٹھا لو مزے اڑالو عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ان حرکتوں کا انجام کیا ہے، مرتے وقت اور دم نکلتے ہی جب عذاب میں مبتلا ہوں گے پھر قیامت کے دن دوزخ میں داخل ہوں گے اس وقت شرکیہ کرتوتوں کا نتیجہ سامنے آجائے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–55

قال اللہ تعالیٰ : وقال اللہ لا تتخذو الہین اثنین .... الیٰ .... فسوف تعلمون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ جمیع ماسوا اللہ خواہ وہ عالم اجسام سے ہو یا عالم ارواح سے ہو سب اللہ کے مطیع اور فرماں بردار ہیں اور اس کے آگے سر تسلیم جھکائے ہوئے ہیں اس لیے آئندہ آیت میں توحید خالص کا حکم دیتے ہیں اور شرک سے منع فرماتے ہیں۔ اور یہ بیان کرتے ہیں کہ سب کے سب اللہ ہی کے مملوک اور عبد مطلق ہیں تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ ہماری ہی دی ہوئی ہے اور تم پر جب کوئی مصیبت اور آفت آتی ہے تو تم ہمیں سے فریاد کرتے ہو تو پھر تم غیر اللہ کی کیوں عبادت کرتے ہو مصیبت کے وقت ہم کو پکارنا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

39:۔ لام عاقبت کا ہے یعنی ان کے اس روئیے کا انجام اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری ہے۔” فتمتعوا الخ “ یہ تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے یعنی ہماری نعمتوں سے فائدہ اٹھا لو اور ناشکری کرلو۔ کب تک ایسا کرو گے آخر اپنی تمام بد اعمالیوں کا انجام بد اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے اور اپنی غلطی معلوم کرلوگے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–56

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے بعثت انبیاء کا ذکر فرما کر مشرکین کے اعتراضات کا مسکت جواب دیا ، ہر نبی نے اپنی امت کو یہی تعلیم دی (آیت) ” ان اعبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت “۔ یعنی صرف اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی پرستش سے بچ جاؤ ، پھر اللہ نے مختلف طریقوں سے توحید کے دلائل سمجھائے ، اور آخر میں فرمایا کہ کائنات میں خدا کی پیدا کردہ تمام چیزیں جو جسم رکھتی ہیں ، اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہیں جس کی صورت یہ ہے کہ ہر ایستادہ چیز کے سائے زمین پر سجدہ کرتے ہیں ، فرمایا آسمانوں کی ہر مخلوق خواہ وہ فرشتے ہوں یا جانور سب اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ، اس کے برخلاف…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِيَكْفُرُوْا بِمَآ اٰتَيْنٰهُمْ ۭ فَتَمَتَّعُوْا ۣ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ 55؀ كفر ( ناشکري) الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وكُفْرُ النّعمة وكُفْرَانُهَا : سترها بترک أداء شكرها، قال تعالی: فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] . وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ، فَأَبى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً [ الفرقان/ 50] ويقال منهما : كَفَرَ فهو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 51–61

ترکیب : اثنین تاکید ہے الہین اور مفعول ثانی لاتتخذوا کا بھی ہوسکتا ہے وفیہ مافیہ۔ واصبا ای وانما حال ہے الذین سے اور عامل اس میں معنی ظرف کے ہیں مابمعنی الذی بکم اس کا صلہ من نعمۃ حال ہے ضمیر سے جو جار میں ہے فمن اللہ خبر دوسری وجہ بھی ممکن ہے۔ تجٔرون ترفعون اصواتکم بالاستغاثۃ سبحانہ جملہ معترضہ مسودًا خبر ظل۔ یتواری حال ہے ضمیر کظیم سے۔ اذاکشف الم اذا شرطیہ اذا فریق فجائیۃ جواب الشرط لیکفروالام کے وقیل لام العاقبۃ۔ تفسیر : پچھلی آیتوں میں یہ ثابت کر کے کہ تمام عالم اس کے قبضہ قدرت میں ہے اسی کے آگے سرتسلیم جھکائے ہوئے ہے۔ قال اللہ سے لے کر فارھبون تک توحید خالص کا حکم دیتا ہے پھر ولہ مافی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 54–55

ثُمَّ اِذَا کَشَفَ الضُّرَّعَنْکُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْکُمْ بِرَبِّہِمِ یُشْرِکُوْنَ ۔ لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰتَیْنٰـھُمْ ط فَتَمَتَّـعُوْا قف فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 54۔ 55) (پھر جب وہ تم سے تکلیف دور کردیتا ہے تو تم میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شریک کرنے لگتا ہے۔ تاکہ ناشکری کرے اس چیز کی جو ہم نے ان کو بخشی ہے، پس اے ناشکرو لطف اٹھالو چند روز، تمہیں اپنا انجام معلوم ہوجائے گا۔ ) جب اللہ تعالیٰ تمہارے دعائیں مانگنے اور آہ وزاری کرنے پر تمہاری مصیبت اور مشکل کو دور کردیتا ہے تو کچھ زیادہ وقت نہیں گزرتا کہ تم میں سے ایک گروہ پھر اپنی ڈگر پر لوٹ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 51–55

فہم القرآن ربط کلام : جب زمین و آسمان کی ہر چیز صرف ایک ہی خالق حقیقی کے سامنے سر بسجود اور اس کے حکم کے تابع ہے تو مشرک کو بھی کسی دوسرے الٰہ کا تصور اور اس کی عبادت نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اے لوگو ! دو الٰہ نہ بناؤ۔ ایرانیوں نے دو خدا بنا رکھے تھے حالانکہ اس حقیقت میں رائی کے دانے کے برابر بھی شبہ نہیں کہ کائنات کا خالق ومالک ایک ہی اِلٰہ ہے۔ اس کا حکم ہے کہ صرف مجھ ہی سے ڈرتے رہو۔ کیونکہ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے۔ اللہ ہی ان کا مالک اور خالق حقیقی ہے۔ اس کے باوجود کسی اور کی تم عبادت کرتے اور اس سے ڈرتے ہو۔ حالانکہ زمین و آسمان اسی کی ملک ہیں اور ہر چیز اسی کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

55: لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰتَیْنٰھُمْ (جس کا حاصل یہ ہے کہ جو نعمتیں ہم نے ان کو دی ہیں ان کی ناشکری کرتے ہیں) ان سے عذاب ہٹا لینے والی نعمت کی۔ گویا کہ انہوں نے شرک کا مقصد کفر انِ نعمت بنا رکھا ہے۔ پھر ان کو ڈرایا اور فرمایا فَتَمَتَّعُوْا فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ (پس تم فائدہ اٹھا لو۔ عنقریب تم جان لوگے) یہاں بھی غیبت سے خطاب کی طرف رجوع کیا تاکہ ان کو دھمکایا جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(55)” لیکفروا “ تم ان نعمتوں کی ناشکری کرتے ہو۔ ” بما اتیناھم “ ” لیکفروا “ میں لا م عاقبت کے لیے ہے۔ یعنی ان کے شرک کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کی۔ ” فتمتعوا “ اس دنیا میں خوب عیش و عشرت کرو۔ اس کی بہت جلد ہی تم کو خبر ہوجائے گی۔” فسوف تعلمون “ یہ تمہارے کام کا انجام ہے اور ان کے لیے وعید ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–55

51۔ 55۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکوں کی پرچھائیاں بےاختیار اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں اس ذکر کے بعد خود مشرکوں کو یہ ہدایت ہے کہ تم بھی اللہ کے ساتھ اور کسی کو شریک نہ کرو کیونکہ عبادت اور کسی کو لائق نہیں ہے اگر ہے تو اسی خدائے وحدہ لا شریک کو زیبا ہے اور پھر یہ فرمایا کہ سوائے اللہ کے اور کسی سے نہ ڈرو یہ بات اس قابل نہیں ہیں جو ان کا خوف مانا جائے انہیں کوئی قدرت نہیں ہے کہ کسی کو کچھ نقصان پہنچا سکیں البتہ اللہ کے قہر و غضب سے ڈرو کیوں کہ اس کی وہ پکڑ ہے جس کی کوئی پناہ نہیں ہے آسمان و زمین میں جس قدر مخلوق ہے وہ سب اللہ ہی کے تحت حکومت میں ہے ان میں کسی کی ذرہ برابر بھی شراکت نہیں ہے اسی لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–55

آیت : (51-55) اللہ تعالیٰ صرف اپنی عبادت کا حکم دیتا ہے کہ وہی یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور اس پر وہ اس بات سے استدلال کرتا ہے کہ نعمتیں عطا کرنے والا صرف وہی اکیلا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (لاتتخذ و الھن الثنین) ” نہ بناؤ تم معبود دو “ یعنی تم ان کو اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک نہ ٹھہراؤ۔ (انما ھو الہ واھد) ” وہ صرف ایک ہی معبود ہے “ وہ اپنی ذات ‘ اپنے اسماء وصفات اور اپنے افعال میں متفرد ہے۔ پس جس طرح وہ اپنی ذات ‘ اپنے اسماء وصفات اور افعال میں ایک ہے ‘ اسی طرح ان کو چاہیے کہ وہ عبادت میں بھی اس کو ایک مانیں۔ اسی لئے فرمایا : (فایای فارھبون) ” پس مجھ ہی سے ڈرو “ میرے حکم کی تعمیل اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 14–65

زیور کے بارے میں حکم قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 55–56

106۔ مشرک انسان کی احسان فراموشی اور بےانصافی کا ایک نمونہ ومظہر : کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کرم اور اس کی رحمت و عنایت سے چھٹکارا پاتے ہی شرک کرنے لگتا ہے۔ چناچہ ارشاد فرما گیا کہ پھر یکایک ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔ جس کی بنا پر کوئی اس نعمت کو اپنی کسی دیوی دیوتا اور اپنے بتوں میں سے کسی بت کی طرف منسوب کرتا ہے۔ کوئی اسے اپنی کسی دوسری خود ساختہ سرکار کی کارستانی قرار دیتا ہے۔ کوئی اسے اور کسی درگاہ اور آستانے کا فیض بتاتا ہے اور کوئی اسے اور کسی زندہ یا مردہ ہستی کی حاجت روائی ومشکل کشائی کا ثمرہ قرار دیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور پھر ایسے مشرک لوگ اپنے اس منعم حقیقی اور واہب مطلق۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 48–60

کائنات کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہے تشریح : یہاں عربوں کی انتہائی بری عادت بیان کی گئی ہے جو کہ ان میں عام طور پر رواج پا چکی تھی۔ اول تو وہ لڑکی ذات کو ہی ناپسند کرتے تھے، پھر جب وہ پیدا ہوجاتی تو اس کو اپنی انتہائی ذلت کا باعث سمجھتے تو اس ذلت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اپنی بچی کو مار دیتے یا زندہ کو ہی دفن کردیتے اور یوں تین گناہ کرتے ایک تو اپنی اولاد پر ظلم کرتے دوسرا قتل کا گناہ کرتے اور تیسرا حکمت الٰہی میں دخل دیتے۔ اس کے علاوہ ایک بہت بڑا گناہ یہ کرتے کہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے، یعنی جس بات کو اپنے لیے باعث شرم سمجھتے اس کو اللہ کے لیے مناسب سمجھتے اور یوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–60

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف اور اللہ کریم کا ارشاد ہے کہ متعدد معبود اختیار نہ کرو بلکہ عبادت کا مستحق اللہ کریم اکیلا ہے لہذا اللہ ہی سے ڈرنا چاہئے کہ نفع کی امید پر یا کسی کے خوف سے اس کی ایسی اطاعت جس میں اللہ جل جلالہ کی نافرمانی ہو عبادت کہلائے گی خواہ ایسا کرنے والا اسے معبود نہ ہی کہتا ہو ، حالانکہ ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ جل جلالہ ہی کا ہے اور سارے اسباب اسی کے پیدا کردہ ہیں جن میں بعض کو کبھی اللہ جل جلالہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کردیا جاتا ہے یا بعض اوقات اسباب ہی کو سب کچھ سمجھ لیا جاتا ہے مگر یہ درست نہیں بلکہ ہمیشہ اور ہر حال میں عبادت کا مل وغیر مشروط اطاعت صرف…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:55) لیکفروا۔ میں لام عاقبت کا ہے یعنی شرک سے ان کی غرض اللہ کی نعمت سے انکار تھا۔ کانہم جعلوا غرضہم فی الشرک کفران النعمۃ۔ بما اتینہم۔ جو ہم نے ان کو عطا کیا تھا۔ یعنی نعمت کشف عن الضر تکلیف سے نجات دینے کی نعمت۔ فتمتعوا۔ پس تم فائدہ اٹھا لو۔ تم مزے اڑالو۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تمتح مصدر ۔ آیات 53 ۔ 54 ۔ 55 ۔ میں التفاتِ ضمائر ہے۔ وما بکم سے لے کر اذا کشف الضر تک مخاطبین کے لئے ضمیر جمع مذکر حاضر لائی گئی ہے اس میں اپنی عنایت پروری اور کرم فرمائی کا ذکر مخاطبین سے کیا جارہا ہے لیکن پھر ان کی ناشکری اور کفران نعمت کے سبب اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کے لئے مخاطبین کو اپنی حاضری سے دور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–56

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 56 لاتتخذوا تم نہ بناؤ۔ الھین (الہ) دو معبود۔ اثنین دو ۔ واحد ایک۔ ایای مجھ سے ہی۔ رھبوا تم ڈرو۔ واصباً ہمیشہ رہنے والا۔ مابکم جو کچھ تمہارے پاس ہے۔ تجئرون تم فریاد رتے ہو تم چلاتے ہو۔ کشف کھل گیا، دور گیا۔ فریق ایک جماعت ۔ یشرکون وہ شرک کرتے ہیں، شریک کرتے ہیں۔ تمتعوا تم فائدہ حاصل کرو۔ نصیب حصہ۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ تسئلن تم پوچھے جاؤ گے۔ تفترون تم گھیرتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 56 قرآن کریم میں سب سے زیادہ جس بات پر زور دیا گیا ہے وہ اللہ کو ایک ماننا اور ان تمام غیر اللہ کی عبادت و بندگی سے منہ موڑنا جن کو کچھ نادانوں نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے ۔ کفار و مشرکین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 53–55

اس آیت مبارکہ میں نعمتوں کا پر شکر کرنے کا ارشاد کیا ہے جتنی نعمتیں تمہیں دنیا میں حاصل ہیں وہ سب خدا کی عنایت ہے۔ مال و دولت، آل واولاد ، رزق کی فراخی سب اسی کی دی ہوئی ہے اس لئے کہ بندوں پر واجب ہے کہ اس کا شکر ادا کریں پھر اس کے بعد انسان کی غفلت کو بیان فرمایا کہ جس وقت انسان کو خوشحالی اور فارغ البالی ہوتی ہے اس وقت اللہ کو بھولا رہتا ہے مگر جب کسی مصیبت کا سامنا ہوتا ہے بیماری یا کوئی سختی درپیش ہوتی ہے، تو خدا سے گڑ گڑ کر فریاد کرنے لگتا ہے۔ پھر جب خدا اس کی فریاد سن لیتا ہے اور اس کی مصیبت دور کردیتا ہے تو جو لوگ گمراہ ہیں اللہ کو بلکل بھول جاتے ہیں ۔ پھر فرمایا خیر تم دنیا میں جس طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 52–56

[30] شرک کی بنیاد غیر اللہ کے خوف پر ہوتی ہے۔ مشرک سمجھتا ہے کہ فلاں فلاں طاقتیں ایسی ہیں جو مجھے نقصان پہنچا سکتی ہیں لہذا انھیں راضی رکھنے کے لئے ان کے آگے یوں نذر ماننی چاہئے، یوں بھینٹ چڑھانی چاہئے، وقس علیٰ ہذا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 52–56

(ف 1) یعنی اطاعت وانقیاد کا جذبہ اللہ کے لئے وقف ہے ، اطاعت شعاری اور فرمانبرداری صرف رب السموت کے لئے مختص ہے مسلمان اصلا کسی دوسرے کا محتاج نہیں ہوتا ۔ حل لغات : یتغیؤا : اصل میں فئی کے معنی رجوع کے ہوتے ہیں ، سایہ چونکہ اپنی جگہ چھوڑ دیتا ہے اس لئے اسے بھی فئی کہتے ہیں داخر : ذلیل ، اثنین : کا اعادہ مزید تنفر پیدا کرنے کے لئے ہے ۔ واصبا : وصب کے معنی لازم دائم کے ہیں بیمار کو بھی واصب کہتے ہیں ، کیونکہ بیماری اسے چمٹ جاتی ہے اور اس کے لئے لازم ہوجاتی ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

55 ۔ جس کا انجام یہ ہے کہ جو نعمت ہم نے ان کو عطا کی ہے اس کی نا شکری اور نا سپاسی کریں اچھا تم چند روز مزے اور عیش اڑا لو اور فائدہ اٹھا لو اب عنقریب تم کو معلوم ہوا جاتا ہے۔ عام طریقے سے کافروں کی حالت بیان کی ہے دکھ کے وقت خدا کو پکارتے ہیں اور سکھ کے وقت بتوں کی پوجا کرتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 54–59

ف 1۔ ایک جماعت اس لیے کہا گیا کہ بعض اس حالت کو یاد رکھ کر توحید و ایمان پر قائم ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انعامات الہی کی ناشکری کرتے ہو ‘ اچھا عنقریب تم جان لو گے : 63۔ حاصل کلام کیا ہوا ؟ یہی کہ اللہ کی ناشکری کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو دے رکھا ہے اس کو بہت جلد بھول جاتے ہیں حالانکہ رفع تکلیف سے بڑی نعمت اور کیا ہو سکتی ہے ، اچھا ؟ چند روز عیش اڑا لو عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ تمہاری اس ناشکری کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟ اس طرح گویا ان کو دھمکی دی جاری ہے اور کلام میں زور پیدا کرنے کے لئے غائب کی جگہ اب مخاطب کا صیغہ استعمال فرمایا جا رہا ہے کہ نابکاروا احسان فراموشو ! چند روز مزے اڑا لو ! ابھی تم کو معلوم ہوجائے گا اور تم ہم سے بھاگ کر کہاں جاؤ گے کہ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–57

Even the Punishment of the World is Mercy in Disguise In the verses cited above, after having mentioned various punishments which could seize disbelievers within this world, it was said in the end: فَإِنَّ رَ‌بَّكُمْ لَرَ‌ءُوفٌ رَّ‌حِيمٌ (So, indeed your Lord is Very Kind Very Merciful). First of all, by using the word: رَبّ (Rabb: Lord) here, the hint given is that all these punishments which overtake human beings in this world are there to warn them as part of the dictates of Divine mercy. After that, by introducing the word: رَ‌ءُوفٌ(Ra uf: Kind) headed by the intensifying particle lam)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 54–56

47. That is, at the time of showing gratitude to Allah for removing his affliction, he begins to make offerings also to some god, goddess or saint to show that Allah’s kindness to him was due to the intercession of his patron, for he imagines that otherwise Allah would not have removed his distress.

Read the full tafseer →