An-Nahl 16:67

An-Nahl · from ayah 67

16:67

وَمِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَالْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّرِزْقًا حَسَنًا ؕ— اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ۟وَمِنۡ ثَمَرٰتِ النَّخِيۡلِ وَالۡاَعۡنَابِ تَتَّخِذُوۡنَ مِنۡهُ سَكَرًا وَّرِزۡقًا حَسَنًا ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ

اور کھجور اور انگور کے میووں سے بھی (تم پینے کی چیزیں تیار کرتے ہو کہ ان سے شراب بناتے ہو) اور عمدہ رزق (کھاتے ہو) جو لوگ سمجھ رکھتے ہیں ان کے لیے ان (چیزوں) میں (قدرت خدا کی) نشانی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And from the fruits of the palm trees and grapevines you take intoxicant and good provision. Indeed in that is a sign for a people who reason.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 9 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:67

(اسی طرح) کھجور کے درختوں اور انگور کی بیلوں سے بھی ہم ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں جسے تم نشہ آور بھی بنا لیتے ہو اور پاک رزق بھی یقیناً اس میں ایک نشانی ہے عقل سے کام لینے والوں کے لیے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کھجور اور انگور کے میووں سے بھی (تم پینے کی چیزیں تیار کرتے ہو کہ ان سے شراب بناتے ہو) اور عمدہ رزق (کھاتے ہو) جو لوگ سمجھ رکھتے ہیں ان کے لیے ان (چیزوں) میں (قدرت خدا کی) نشانی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور کھجور اور انگور کے درختوں کے پھلوں سے تم شراب بنا لیتے ہو اور عمده روزی بھی۔ جو لوگ عقل رکھتے ہیں ان کے لیے تو اس میں بہت بڑی نشانی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور کھجور کے پھلوں اور انگوروں سے بھی (ہم تمہیں ایک مشروب عطا کرتے ہیں) جس سے تم شراب بھی بناتے ہو، اور پاکیزہ رزق بھی بیشک اس میں بھی ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کھجور اور انگور کے پھلوں میں سے کہ اس سے نبیذ بناتے ہو اور اچھا رزق بیشک اس میں نشانی ہے عقل والوں کو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور کھجور اور انگور کے پھلوں سے تم شکّر اور (دیگر) عمدہ غذائیں بناتے ہو، بیشک اس میں اہلِ عقل کے لئے نشانی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں سے بھی، جس سے تم نشہ آور چیز اور اچھا رزق بناتے ہو۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا ایک نشانی ہے جو سمجھتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز کھجور اور انگور کے پھلوں سے بھی (ہم تمہیں ایک مشروب پلاتے ہیں) جسے تم نشہ آور بھی بنا لیتے ہو اور عمدہ رزق بھی۔ اہل دانش کے لئے اس میں بھی ایک نشانی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں سے بھی، تم ان سے نشہ کی چیزیں بھی بناتے ہو اور کھانے کی اچھی چیزیں بھی۔ بیشک اس کے اندر بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (اسی طرح) کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں سے بھی (تمہارے لئے کھانے اور پینے کا بندوبست کرتے ہیں، مگر) تم لوگ اس سے نشہ آور چیز بھی بناتے ہو، اور اچھی غذا بھی، بلاشبہ اس میں بھی بڑی بھاری نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں میں (بھی تمہارے لئے سبق ہے) تم ان سے نشہ کی چیزیں اور کھانے کی عمدہ چیزیں بناتے ہو بیشک اس میں (بڑی) نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں سے بھی ان سے تم نشہ آور چیزیں بھی بناتے ہو اور اچھا رزق بھی یقیناً اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کھجور و انگور کے میوں سے (بھی تم پینے کی چیزیں تیار کرتے ہو) کہ ان سے شراب بناتے ہو اور عمدہ رزق کھاتے ہو۔ جو لوگ سمجھ رکھتے ہیں ان کے لیے ان چیزوں میں (اللہ کی قدرت کی) نشانی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And out of the fruits of date-palms and grapes you derive intoxicants as well as wholesome sustenance. Surely there is a sign for those who use reason.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And from the fruits of date palms and grape vines, you obtain intoxicants, and good provision. Surely, in that there is a sign for a people who understand.

— Muhammad Taqi Usmani

And from the fruits of date palms and grape vines, you obtain intoxicants, and good provision. Surely, in that there is a sign for a people who understand.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And from the fruits of date palms and grapes, you derive strong drink and a goodly provision. There is indeed a sign in this for those of reason.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And of the fruits of the date-palm, and grapes, whence ye derive strong drink and (also) good nourishment. Lo! therein is indeed a portent for people who have sense.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And from the fruits of the palm trees and grapevines you take intoxicant and good provision. Indeed in that is a sign for a people who reason.

— Saheeh International

The fruit of palm trees and vines which provide you with sugar and delicious food also provide a lesson and evidence (of the Truth) for the people of understanding.

— Muhammad Sarwar

And of the fruits of the palms and the grapes-- you obtain from them intoxication and goodly provision; most surely there is a sign in this for a people who ponder.

— Muhammad Habib Shakir

And also a lesson for you in the fruits of the date-palms and the grapes whereof ye take a liquor and a provision goodly; verily therein is a sign far a people who understand.

— Abdul Majid Daryabadi

And from the fruit of the date-palm and the vine, ye get out wholesome drink and food: behold, in this also is a sign for those who are wise.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:67

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 66–67

خوشگوار دودھ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا گواہ ہے اونٹ گائے بکری وغیرہ بھی اپنے خالق کی قدرت و حکمت کی نشانیاں ہیں۔ بطونہ میں ضمیر کو یا تو نعمت کے معنی پر لوٹایا ہے یا حیوان پر چوپائے بھی حیوان ہی ہیں۔ ان حیوانوں کے پیٹ میں جو الا بلا بھری ہوئی ہوتی ہے۔ اسی میں سے پروردگار عالم تمہیں نہایت خوش ذائقہ لطیف اور خوشگوار دودھ پلاتا ہے۔ دوسری آیت میں بطونہا ہے دونوں باتیں جائز ہیں۔ جیسے آیت (كَلَّآ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ 11ۚ فَمَنْ شَاۗءَ ذَكَرَهٗ 12ۘ) 80۔ عبس :1211) میں ہے اور جیسے آیت (وَاِنِّىْ مُرْسِلَةٌ اِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ 35؀) 27۔ النمل :35) میں ہے پس جاء…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّحْل 55 اس میں ایک ضمنی اشارہ اس مضمون کی طرف بھی کہ پھلوں کے اس عرق میں وہ مادہ بھی موجود ہے جو انسان کے لیے حیات بخش غذا بن سکتا ہے، اور وہ مادہ بھی موجود ہے جو سڑ کر الکوہل میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اب یہ انسان کی اپنی قوت انتخاب پر منحصر ہے کہ وہ اس سرچشمے سے پاک رزق حاصل کرتا ہے یا عقل و خرد زائل کردینے والی شراب۔ ایک اور ضمنی اشارہ شراب کی حرمت کی طرف بھی ہے کہ وہ پاک رزق نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور (نیز) کھجور اور انگوروں (کی حالت میں غور کرنا چاہئے کہ ان) کے پھلوں سے تم لوگ نشہ کی چیز اور عمدہ کھانے کی چیزیں (جیسے خرمائے خشک وکشمش اور شربت اور سرکہ) بناتے ہو بیشک اس میں (بھی توحید اور منعم ہونے کی) ان لوگوں کے لئے بڑی دلیل ہے جو عقل (سلیم) رکھتے ہیں۔ معارف و مسائل پچھلی آیتوں میں حق تعالیٰ کی ان نعمتوں کا ذکر تھا جو انسانی غذائیں پیدا کرنے میں عجیب و غریب صنعت وقدرت کا مظہر ہیں اس میں پہلے دودھ کا ذکر کیا جس کو قدرت نے حیوان کے پیٹ میں خون اور فضلہ کی آلائشوں سے الگ کر کے صاف ستہری غذاء انسان کے لئے عطاء کردی جس میں انسان کو کسی مزید صنعت کی ضرورت نہیں اسی لئے یہاں لفظ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَمِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِيْلِ وَالْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّرِزْقًا حَسَـنًا ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ۔ بعض اور نشانیوں کی طرف اشارہ : یعنی جس طرح اس نے چوپایوں سے تمہارے لیے دودھ پیدا کیا ہے اسی طرح کھجور اور انگور سے بھی تمہارے لیے غذا فراہم کی، تم ان سے نشہ کی چیزیں بھی بناتے ہو اور پاکیزہ غذا بھی حاصل کرتے ہو۔ یہاں " رزقا " کے ساتھ " حسنا " کی صفت لگا کر ضمناً اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کردیا کہ کھجور اور انگور اور اس طرح کی چیزوں سے نشہ آور چیزیں تیار کرنا ان کا صحیح استعمال نہیں ہے بلکہ یہ ان چیزوں کا سوء استعمال ہے۔ ان کا صحیح استعمال یہی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

67۔ 1 یہ آیت اس وقت اتری تھی جب شراب حرام نہیں تھی، اس لئے حلال چیزوں کے ساتھ اس کا بھی ذکر کیا گیا ہے، لیکن اس میں سَکَرً ا کے بعد رِزْقًا حَسَنًا ہے، جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شراب رزق حسن نہیں ہے۔ نیز یہ سورت مکی ہے۔ جس میں شراب کے بارے ناپسندیدگی کا اظہار ہے۔ پھر مدنی سورتوں میں بتدریج اس کی حرمت نازل ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

27: یہ سورت مکی ہے۔ جب یہ نازل ہوئی تو اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی، لیکن اسی آیت میں شراب کو پاکیزہ رزق کے مقابلے میں ذکر فرماکر ایک لطیف اشارہ اس طرف کردیا گیا تھا کہ شراب پاکیزہ رزق نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 67 یہ پھل جو اس تروتازگی اور نباتاتی حیات سے پیدا ہوتے ہیں جو آسمانوں سے پانی برسنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ، ان سے تم شراب بناتے ہو (اس وقت تک شراب حرام نہ ہوئی تھی ) اور رزق حسن بناتے ہو۔ اس آیت میں بہرحال اشارہ کردیا گیا ہے کہ رزق حسن شراب سے کوئی الگ چیز ہے اور یہ کہ شراب رزق حسن نہیں ہے۔ یہ دراصل تمہید تھی اس حکم کے لئے جو بعد میں تحریم شراب کے بارے میں نازل ہوا۔ اس آیت میں صرف واقعاتی تجربہ ہے کہ کھجوروں اور انگور اللہ نے پیدا کئے اور تم اس سے یہ یہ مصنوعات تیار کرتے ہو ، یہاں کسی چیز کی حلت اور حرمت سے بہرحال بحث نہیں ہے اگرچہ یہ حرمت کے لئے تمہید ضرور ہے ان فی ذلک لایۃ لقوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی ان میووں سے نشہ لانے والی شراب کشید کرتے ہو۔ اور کھانے پینے کی دوسری عمدہ چیزیں مثلاً شربت، نبیذ، سرکہ اور خشک خرمایا کشمش وغیرہ ان سے حاصل کرتے ہو۔ (تنبیہ) یہ آیت مکی ہے شراب مکہ میں حرام نہ ہوئی تھی، پینے والے اس وقت تک بےتکلف پیتے تھے۔ ہجرت کے بعد حرام ہوئی پھر کسی مسلمان نے ہاتھ نہیں لگایا۔ تاہم اس مکی آیت میں بھی " سکرًا " کے بعد " ورزقاً حسنًا " فرما دیا کہ جو چیز آئندہ حرام ہونے والی ہے اس پر " رزق حسن " کا اطلاق کرنا موزوں نہیں۔ 10 یہاں " یَعْقِلُوْنَ " کا لفظ جو عقل سے مشتق ہے " سکرًا " کے تذکرہ سے خاص مناسبت رکھتا ہے۔ چونکہ نشہ عقل کو زائل کردیتا ہے۔ اس لیے اشارہ فرما دیا کہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 66–67

آیت 66 وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً چوپایوں کی تخلیق میں بھی تمہارے لیے بڑا سبق ہے۔ ان کو دیکھو غور کرو اور اللہ کی حکمتوں کو پہچانو !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

64 مکی دور میں شراب کی ناپسندیدگی پر اشارہ :۔ چار قسم کے مشروب ہیں جو اللہ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں اور یہ مشروب انسان کو اللہ نے اس دنیا میں عطا فرمائے ہیں اور اہل جنت کو جنت میں بھی بافراط عطا فرمائے گا۔ ایک پانی، دوسرے دودھ، تیسرے شراب چوتھے شہد (47: 15) ان میں سے دو کا ذکر پہلی دو آیات میں گزر چکا ہے۔ اس آیت میں شراب کا ذکر اور اس سے بعد کی آیت میں شہد کا۔ اس آیت میں کھجور اور انگور کا ذکر اس لیے ہوا کہ یہی پھل عرب میں زیادہ تر پائے جاتے تھے ورنہ اور بھی کئی قسم کے پھلوں اور غلوں سے شراب کشید کی جاتی ہے اور جن چیزوں سے یہ شراب تیار کی جاتی ہے خواہ پھل ہوں یا غلے ہوں۔ سب پاکیزہ قسم کا رزق ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

98۔ (کہ ایک ہی مادہ سے کہاں ایک طرف مسکرات جیسی گندی چیزیں تیار کردیں اور کہاں دوسری طرف لطیف وپاکیزہ مشروبات وماکولات، عرق، شربت، مربے وغیرہ) (آیت) ” سکرا ورزقا حسنا “۔ گویا ایک ہی مادہ میں سم وتریاق دونوں کی خاصیتیں رکھ دیں۔ (آیت) ” النخیل والاعناب “۔ انگور اور کھجور دونوں کی شرابیں مشہور شرابیں ہیں، عرب میں بھی مشہور تھیں، اور آج یورپ میں بھی مشہور ہیں۔ (آیت) ” سکرا “۔ سکر کے لفظ پر سوال پیدا ہوا ہے کہ نشہ کا ذکر محل مدح پر قرآن مجید نے کیسے کردیا ؟۔ جواب یہ ہے کہ اول تو یہاں مقصود مدح نہیں۔ بلکہ ذکر صرف اس کا ہے کہ خرمے اور انگور سے فلاں فلاں کام لئے جاسکتے ہیں، اور مخاطب صرف مومنین نہیں،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 66–70

آیت نمبر 66 تا 70 ترجمہ : اور امر واقعہ یہ ہے کہ چوپایوں میں (بھی) تمہارے لئے بڑی عبرت ہے چوپایوں کے پیٹ میں جو کچھ ہے ہم اسی گوبر (یعنی) معدہ کے فضلے اور خون کے درمیان سے، (نسقیکم) عبرہ کا بیان ہے، مِنْ ابتدائیہ ہے نسقیکم کے متعلق ہے، ہم پینے والون کو خوشگوار (خوش ذائقہ) صاف دودھ پلاتے ہیں جو حلق میں بآسانی اترنے والا اور حلق میں نہ پھنسنے والا ہے، جس میں نہ گوبر اور خون کے مزے کی آمیزش ہے اور نہ رنگ وبو کی، حالانکہ وہ ان دونوں کے درمیان ہوتا ہے اور انگوروں اور کھجوروں کے پھلوں میں بھی (تمہارے لئے عبرت ہے) کہ جن سے تم شراب بناتے ہو، جو نشہ آور ہوتی ہے خمر کا نام سَکَر (بطور مبالغہ) مصدر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن ثمرٰت النخیل والاعناب تتخذون منہ سکرا ورزقا حسنا اور (نیز) کھجور اور انگوروں کے پھلوں سے تم لوگ نشہ کی چیز اور عمدہ کھانے کی چیزیں بناتے ہو۔ (حضرت مفسر نے لکھا ہے) نسقی فعل محذوف ہے اور ثمرات سے مراد ہے : کھجور و انگور کا شیرہ عرق ‘ یعنی ہم تم کو پینے کیلئے شیرۂ کھجور و انگور دیتے ہیں۔ تَتَّخِذُوْنَ مِنْہُ سے جملہ علیحدہ ہے۔ یا مِنْ ثَمَرَات کا تعلق تَتَّخِذُوْنَ سے ہے (اسی کے موافق ترجمہ کیا گیا ہے) سَکَرَ نشہ آور چیز ‘ یا مصدر ہے بمعنی صفت یعنی شراب۔ قاموس میں ہے : سَکِرَ (بیہوش ہوگیا) ہوش کی ضد ہے۔ سُکْر ‘ سُکُر ‘ سَکْر ‘ سَکَر ‘ سکران یہ سب مصدر ہیں۔ سُکُر بضمتین شراب اور اس نبیذ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(67) اور کھجور اور انگوروں کے پھلوں سے تم لوگ نشہ کی چیز (اب یہ منسوخ ہے) اور عمدہ پاکیزہ کھانے کی چیز بناتے ہو جیسا کہ سرکہ، خرمائے خشک، کشمش وغیرہ ان مذکورہ باتوں میں ان کے لیے توحید کی بڑی دلیل ہے جو کہ تصدیق کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِيْلِ وَالْاَعْنَابِ۔۔ : ”النَّخِيْلِ“ اور ”اَلنَّخْلُ“ اسم جنس ہیں، کھجور کا درخت۔ اگر ایک درخت واضح کرنا ہو تو ”تاء“ لگا دیتے ہیں، ”نَخِیْلَۃٌ“ اور ”نَخْلَۃٌ“۔ ”نَخَلَ یَنْخُلُ“ کا معنی ہے چھان کر عمدہ حصہ الگ کرنا، چھاننا۔ اس لیے بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ چونکہ کھجور پھلوں میں منتخب ترین پھل ہے، اس لیے اسے ”نَخِیْلٌ“ کہتے ہیں۔ اس کے پھل کے مختلف وقتوں کے لحاظ سے الگ الگ نام ہیں، ”اَلْبَلَحُ“ پھر ”اَلْبُسْرُ“ پھر ”اَلرُّطَبُ“ پھر ”اَلتَّمْرُ“۔ اس لیے اس کے درخت کا نام لیا اور انگور کے پھل کا نام جمع کے ساتھ ”وَالْاَعْنَابِ“ لیا، کیونکہ انگور کی بیشمار قسمیں ہیں، البتہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 67 اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : ومن ثمرت النخیل علامہ طبری نے کہا ہے : تقدیر کلام ہے ومن ثمرات النخیل والأعناب ما تتخذون (یعنی کھجور اور انگور کے پھلوں سے جو کچھ تم بناتے ہو) پس ماکو حذف کردیا گیا ہے اور اس کے حذف پر دلیل قوی باری تعالیٰ : منہ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس میں محذوف شئ ہے، اور امر قریب ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : منہ کا معنی ہے ای من المذکور (یعنی ان سے کن کا ذکر کیا گیا ہے) ۔ پس کلام میں حذف نہ ہوگا اور یہی أولیٰ ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ قول باری تعالیٰ : ومن ثمرت کا عطف الانعام پر ہو یعنی اور تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں میں عبرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 61–67

1:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو یواخذ اللہ الناس بظلمہم ما ترک علیھا من دآبۃ “ (اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑ لیتا) تو ان کو بارش (کا پانی) نہ پلاتا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اگر بارش نہ برسے تو زمین پر کوئی جانور باقی نہ رہے سب مرجائیں۔ 3:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو یواخذ اللہ الناس بظلمہم ما ترک علیھا من دآبۃ “ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں ایسا کیا تھا نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں جو جانور سوار ہوگئے تھے وہ بچ گئے باقی زمین…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِيْلِ وَالْاَعْنَابِ : انگور اور کھجور کے پھلوں سے ] [ تَتَّخِذُوْنَ : تم لوگ بناتے ہو ] [ مِنْهُ : جس سے ] [ سَكَرًا : کچھ نشہ آور چیز ] [ وَّرِزْقًا حَسَـنًا ۭ: اور کچھ اچھا رزق ] [ ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [ لَاٰيَةً : یقینا ایک نشانی ہے ] [ لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لئے ] [ يَّعقلوْنَ : جو عقل سے کام لیتے ہیں ] نوٹ۔ 2: آیت 67 ۔ میں نشہ اور رزق حسن کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے نشہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ چناچہ مکہ میں جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابۂ کرام میں سے تاڑنے والے تاڑ گئے تھے کہ نشہ نے حرام ہونا ہے۔ چناچہ مدینہ میں اس کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

دودھ کا تذکرہ فرمانے کے بعد نخیل اور اعناب کے پھلوں کا تذکرہ فرمایا یعنی ہم نے تمہیں کھجور اور انگور کے پھل عطا کیے جن سے تم سکر اور عمدہ کھانے کی چیزیں بناتے ہو، کھجوروں اور انگوروں کی مٹھاس اور غذائیت کو لوگ عام طور سے جانتے ہیں ان دونوں سے عمدہ چیزیں بناتے ہیں اچھا رزق تیار کرکے کھاتے ہیں، اس میں جو لفظ ” سکر “ وارد ہوا ہے۔ بعض حضرات نے اس کا ترجمہ نشہ والی چیز کیا ہے اور یہ جو سوال پیدا ہوتا ہے کہ نشہ تو حرام ہے جو چیز حرام ہے اور اس کا استعمال کرنا ممنوع ہے اس کو مقام امتنان میں یعنی احسان کرنے کے بیان میں کیسے ذکر فرمایا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سورة نحل مکی ہے اس وقت تک نشہ والی چیزیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–83

رجور بسوئے دلائل توحید بتذکیر انعامات خداوند حمید قال اللہ تعالیٰ : واللہ انزل من السماء .... الیٰ .... واکثرھم ھم الکفرون۔ (ربط) اوپر سے بہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کا ذکر چلا آرہا ہے اور پھر اسی طرح سے یہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کو بیان فرماتے ہیں اور یہ دلائل معاد بھی ہیں اور دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل ہدایت بھی ہیں اور دلائل رحمت بھی ہیں۔ دور تک اسی طرح سلسلہ کلام چلا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کے انعامات کو ذکر فرمایا جو علاوہ نعمت ہونے کے اس کے کمال علم اور کمال قدرت اور حکمت کے دلائل بھی ہیں۔ (1) چناچہ واللہ انزل من السماء ماء سے اپنی قدرت کا بیان شروع فرمایا کہ آسمان سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

51:۔ کھجور اور انگور سے تم شراب کشید کرتے ہو جو تمہارا بہت ہی مرغوب اور دلپسند مشروب ہے اور اس کے علاوہ ان میووں سے تم کھانے پینے کی عمدہ اور اچھی چیزیں بھی تیار کرتے ہو مثلاً شربت، نبیذ اور سرکہ وغیرہ۔ یہ سورت مکی ہے جب یہ آیت نازل ہوئی اس وقت شراب کی حرمت نازل نہیں ہوئی تھی مدینہ منورہ میں جب شراب کی حرمت کا اعلان ہوگیا تو پھر کسی مسلمان نے شراب کو ہاتھ بھی نہ لگایا۔ ” سکرًا “ کے بعد ” رزقًا حسنًا “ کا علیحدہ ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ شراب رزق حسن نہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ مشروب نہیں۔ الایۃ سابقۃ علی تحریم الخمر تکون منسوخۃ (مدارک ج 2 س 224) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 66–67

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے باطل عقائد کا رد فرمایا اور ان کے برے انجام کا ذکر کیا ، رسالت کے ضمن میں فرمایا کہ رسول کی امت کے برے اعمال کو شیطان نے انہیں مزین کرکے دکھایا وہ اپنے شرکیہ عقائد اور باطل رسومات پر ہی جمے رہے اور رسولوں کی بات کو نہ مانا پھر آخری دور میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر آخر الزمان پر کتاب یعنی قرآن نازل فرمائی تاکہ آپ اس کی اچھی طرح وضاحت کردیں اور وہ تمام چیزیں واضح ہوجائیں جن میں لوگ اختلاف کرتے ہیں ، پھر فرمایا کہ یہ کتاب ہدایت اور رحمت ہے مگر اہل ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر پر یہ کتاب نازل فرما کر انسان کی روحانی زندگی کا سامان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِيْلِ وَالْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّرِزْقًا حَسَـنًا ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ 67؀ ثمر الثَّمَرُ اسم لكلّ ما يتطعم من أحمال الشجر، الواحدة ثَمَرَة، والجمع : ثِمَار وثَمَرَات، کقوله تعالی: أَنْزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَراتِ رِزْقاً لَكُمْ [ البقرة/ 22] ( ث م ر ) الثمر اصل میں درخت کے ان اجزاء کو کہتے ہیں جن کو کھایا جاسکے اس کا واحد ثمرۃ اور جمع ثمار وثمرات آتی ہے قرآن میں ہے :۔ أَنْزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَراتِ رِزْقاً لَكُمْ [ البقرة/ 22] اور آسمان سے مبینہ پرسا کر تمہارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 65–67

ترکیب : لعبرۃ اسم ان لکم خبر بطونہ بطون جمع بطن بمعنی شکم بطونہ کی ضمیر انعام کی طرف راجع ہے کیونکہ انعام 1 ؎ مذکر بھی ہے اور مونث بھی۔ من بین من للابتداء متعلق ہے نسقیکم سے لبنا مفعول ثانی ہے نسقیکم کا خالصًا سائغًا اس کی صفت و من ثمرات الخ محذوف سے متعلق ہے ای نسقیکم من ثمرات الخ تتخذون جملہ مستانفہ یا صفت ہے محذوف کی تقدیرہ شیئًا تتخذون منہ ای وان من ثمرات النخیل شیئًا۔ 1 ؎ ھو اسم جمع لاجمع ولذلک عدہ سیبویہ فی المفردات المبنیۃ علی افعال کا خلاق و اکباش۔ تفسیر : قرآن مجید کا دستور ہے کہ وہ ایک اصول میں گفتگو کر کے دوسرے اصول کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ الہیات کے بعد معاد اور کبھی نبوات اور کبھی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَالْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْہُ سَکَرًا وَّرِزْقًا حَسَنًا ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 67) (اور ہم کھلاتے ہیں کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں سے بھی، تم ان سے نشہ کی چیزیں بھی بناتے ہو اور کھانے کی خوش ذائقہ اور عمدہ چیزیں بھی، بیشک اس میں بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو سمجھ سے کام لیتے ہیں۔ ) ربوبیت کے کچھ اور مظاہر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس طرح ہم نے پانی کو زندگی کا ذریعہ بنایا اور غذا کے لیے دودھ جیسی نعمت عطا فرمائی، اسی طرح ہم نے نباتات میں سے کھجور اور انگور جیسے پھل بخشے۔ یہ دونوں اپنے لطف و لذت اور تاثیر اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کی قدرت کے مزید دلائل بشرطیکہ لوگ عقل و فکر سے کام لیں۔ معزز قاری کی سہولت کے لیے انگور کے بارے میں فہم القرآن جلد دوم کی معلومات درج کی جاتی ہیں۔ انگور : قرآنی نام : عِنَبٌ، اَعْنَابٌ (جمع) دیگر نام : Grape (انگریزی) ، فرشک، انگور (فارسی) ، عنب (عربی ) ، انگور (اردو، فارسی) قرآن مجید میں انگور کا تذکرہ : 1۔ البقرۃ، آیت : 266 2۔ الانعام، آیت : 100 3۔ الرعد، آیت : 4 4۔ النحل، آیت : 11 5۔ النحل، آیت : 67 6۔ بنی اسرائیل، آیت : 91 7۔ الکہف، آیت : 32 8۔ المؤمنون، آیت : 19 9۔ یٰس ٓ، آیت : 34 10۔ النباء، آیت : 31۔ 32 11۔ عبس، آیت : 27۔ 28 انگور کا شمار قدرت کی بہترین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

احسان و عتاب کو جمع کیا : 67: وَمِنْ ثَمٰرٰتِ النَّخِیْلِ وَالْاَعْنَابِ (اور کھجور اور انگور کے پھلوں سے) یہ محذوف کے متعلق ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے ونسقیکم من ثمرات النخیل والاعناب یعنی من عصیر ھا کو نسقیکم جو اس سے قبل موجود ہے اس کی دلالت کی وجہ سے حذف کردیا۔ مطلب یہ ہے (کھجور اور انگور کے عصیر سے ہم تمہیں پلاتے ہیں) تَتَّخِذُوْنَ مِنْہُ سَکَرًا (تم اس سے نشہ کی چیز بناتے ہو) اس میں پلانے کی حقیقت بیان کی۔ نمبر 2۔ تَتَّخِذُوْنَ اور منہؔ میں تکریر ظرف تاکید کیلئے کیا گیا اور منہ کی ضمیر مضاف محذوف کی طرف راجع ہے اور وہ مضاف عصیرؔ ہے۔ السُکرؔ شراب کے معنی میں ہے۔ یہاں مصدر بول کر نام مراد لیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(67)” ومن ثمرات النخیل والاعناب “ اور تمہارے لیے اس میں عبرت ہے جس میں تمہیں پلاتے ہیں اور تمہیں رزق دیتے ہیں ۔ کھجوروں کے پھلوں اور انگور کے شیروں سے۔ ” تتخذون منہ “ یہ ضمیر ما مخذوفہ کی طرف راجع ہے۔ عبارت یہ بنے گی ” ما تتخذون منہ… سکرا ورزقاً حسناً رزقاً حسنا ً کی تفسیر بعض لوگوں نے کہا کہ سکر سے مراد خمر ہے اور رزق حسن حسن سرکہ، چھوہارے اور کشمکش۔ یہ حکم خمر کی حرمت سے پہلے کا ہے۔ یہ حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، سعید جبیر ؓ حسن اور مجاہد رحمہما اللہ کا قول ہے اور شعی (رح) کا قول ہے کہ سکر سے پینے کی چیز مراد ہے اور رزق حسن سے کھانے کی چیز مراد ہے اور عوف کی روایت جو ابن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

67۔ اوپر دودھ کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے یہ دوسرا احسان اپنے بندوں پر جتلایا کہ کھجور اور انگور کے پھلوں سے تم اپنے واسطے نشہ کی چیز تیار کرتے ہو اور اس سے دوسری حلال روزی بناتے ہو جیسے سرکہ وغیرہ۔ اگرچہ مفسروں کا قول یہ ہے کہ آیت شراب کے حرام ہونے کے حکم انما الخمر والمیسر سے منسوخ ہے۔ لیکن اس تفسیر میں یہ بات ایک جگہ گزر چکی ہے کہ ناسخ منسوخ امر و نہی کی آیتوں میں ہوتا ہے خبر کی آیتوں میں نہیں ہوتا کیونکہ ایک کام کے کرنے یا نہ کرنے کو کہا جا کر پھر اس کو ملتوی کیا جاسکتا ہے برخلاف خبر کے کہ اس میں ایک خبر کے بعد پھر دوسری خبر دی جاوے تو پہلی خبر جھوٹی ٹھہرتی ہے اسی واسطے حافظ ابو جعفر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 66–67

آیت : (66-67) (وان لکمفیالانعام) ” اور بیشک تمہارے لئے چوپایوں میں “ جن کو اللہ تعالٰ نے تمہارے فوائد کے لئے مسخر کیا (لعبرۃ) ” سوچنے کی جگہ ہے “ جس سے تم اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور وسعت احسان پر استدلال کرسکتے ہو کیونکہ اس نے تمہیں ان مویشیوں کے پیٹ سے (دودھ) پلایا جس کا مادہ گوبر اور خون پر مشتمل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے گوبر اور خون سے ایسا دودھ نکالا جو ہر قسم کی آلائش سے پاک اور اپنی لذت کی بنا پر پینے والوں کے لئے انتہائی خوش ذائقہ ہے ‘ نیزیہ کہ اس کو پیا جاتا ہے اور اس سے غذا حاصل کی جاتی ہے۔ کیا یہ سب کچھ طبیعی امور کی بجائے قدرت الہیہ نہیں ہے ؟ اس عالم طبیعیات میں کونسی چیز ہے جو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 67–68

سکر یعنی نشہ آور مشروب قول باری ہے (ومن ثمرات النخیل والاعناب تتخذون منہ سکراو رزقا حسنا) ۔ اسی طرح کھجور کے درختوں اور انگور کے بیلوں سے بھی جسے تم نشہ آور بھی بنا لیتے ہو اور پاک رزق بھی) آیت میں وارد لفظ سکر کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حسن اور سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ دونوں نے فرمایا کھجور کے درختوں اور انگور کی بیلوں میں سے حاصل ہونے والا رس اور شیرہ اگر حرام ہے تو وہ سکر کہلائے گا اور اگر حلال ہے تو وہ رزق حسن ہوگا۔ ابراہیم نخعی، شعبی اور ابو رزین سے مروی ہے کہ سکر شراب کو کہتے ہیں۔ جریر نے مغیرہ سے انہوں نے ابراہیم سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

128۔ کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں میں دعوت غور و فکر : سو یہ دونوں عظیم المنافع اور کثیر الفوائد پھل بھی اسی وحدہ لاشریک نے پیدا فرمائے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ساتھ انسانی برتاؤکی دو صورتیں ہیں۔ جائز اور ناجائز۔ اور ان دونوں کا نتیجہ وانجام بھی مختلف ہے۔ یعنی ان عظیم الشان اور پاکیزہ نعمتوں کے استعمال کرنے کیلئے تمہارے سامنے دو صورتیں تھیں۔ ایک یہ کہ تم ان کو پاکیزہ روزی کے طور پر استعمال کرکے دل وجان سے اس واہب مطلق کا شکر بجالاتے۔ تو یہ نعمتیں تمہارے لئے نور علی نور کا مصداق بن جاتیں۔ اور دوسری صورت ان کے استعمال کی یہ تھی کہ تم ان سے نشہ آور چیزیں بناکر اپنی خواہشات اور نفس پرستی کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

پھلوں کی نعمت تشریح : یہاں اللہ کی دی گئی نعمتوں میں سے کھجور اور انگور کا ذکر کیا گیا ہے۔ دونوں پھل اپنی افادیت (فائدے) کے لحاظ سے بالکل منفرد پھل ہیں ان میں بیشمار وٹامنز اور بہترین غذائیت بھری ہوتی ہے۔ ان دونوں پھلوں کو تازہ بھی کھاتے ہیں خشک کرکے بھی کھاتے ہیں اور ان سے بیشمار مفید مشروب بھی بنائے جاتے ہیں۔ آیت میں سکراً کا لفظ آیا ہے جس کا مطلب ہے نشہ، یعنی شراب۔ ضیاء القرآن میں مولانا صاحب بحر قرطبی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں ” دوسرے علماء نے کہا ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ اپنے احسانات کا ذکر فرما رہا ہے ایسے مقام پر کسی پلید اور نجس چیز کا ذکر کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ ان کی رائے میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 66–70

(رکوع نمبر 9) اسرارومعارف ذرا جانوروں ہی کی تخلیق پر غور کرلو کہ ان کے معدے گوبر اور خون سے بھرے ہوتے ہیں مگر انہیں مادوں میں سے ایک حصے کو دودھ بنا دیتا ہے ان کے اندر ایسا نظام بنا دیا ہے کہ خون اور فضلات میں سے صاف ستھرا اور خوشگوار دودھ الگ ہو ، پینے والوں کے لیے ایک بہترین نعمت کی صورت میں نکلتا ہے یعنی ایسی عجیب شئے کہ بہترین غذا بھی ہے اور دوا بھی کہ قدرت نے ہر حیوان کی پہلی غذا یہی مقرر کردی ہے اس لیے حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ دودھ پیو دعا کرو ” اللھم بارک لنا فیہ وزدنامنہ “۔ کہ اے اللہ ہمارے لیے اس میں برکت دے اور یہ نعمت اور زیادہ عطا فرما ، (اچھا اور لذیذ کھانا) اور اس آیہ مبارکہ سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 66–67

ف 4 یعنی انکے پھلوں سے تم نشہ آور شراب بھی کشید کرتے ہو اور کھانے پینے کی دوسری عمدہ چیزیں بھی جیسے شربت سرکہ اور شکر وغیرہ واضح رہے کہ یہ آیت مکی ہے اور شراب مکہ میں حرام نہ ہوئی تھی بلکہ ہجرت کے بعد مدینہ میں حرام ہوئی تھی نزول آیت کے وقت لوگ اسے بلاتامل استعمال کرتے تھے۔ تاہم دوسری عمدہ چیزوں سے اس کا الگ ذکر کر کے اور اس کے لئے لفظ سکر استعمال کر کے متنبہ فرما دیا ہے کہ اس کا استعمال اچھا نہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:67) ومن ثمرات النخیل محذوف سے متعلق ہے تقدیر کلام ہے ونسقیکم من ثمرات النخیل۔۔ یا تتخذون سے متعلق ہے اس صورت میں منہ کا تکرار تاکید کے لئے ہے۔ پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا (ہم پلاتے ہیں تمہیں) کھجور اور انگور کے پھلوں سے۔ تم بناتے ہو اس سے میٹھا رس۔ دوسری صورت میں ترجمہ ہوگا۔ اور تم کھجور اور انگور کے پھلوں سے میٹھا رس بناتے ہو۔ ای تتخذون من ثمرات النخیل والاعناب سکرا۔۔ سکرا۔ لغت میں شراب کو کہتے ہیں جس چیز سے نشہ ہو۔ نبیذ۔ لیکن بعض علماء کے نزدیک سکر سے مراد کھجور اور انگور کا میٹھا رس ہے۔ السکر العصیر الحلو۔ سکر بمعنی میٹھا رس۔ الاتقان جلد اول (نوع 38) میں آیا ہے : ابن مردویہ نے عوفی کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 66–67

لغات القرآن آیت نمبر 66 تا 67 الانعام چوپائے، مویشی جانور۔ نسقیکم ہم تمہیں پلاتے ہیں، سیراب کرتے ہیں۔ بطون (لبطن) پیٹ۔ بین درمیان۔ فرث گوبر، جانور کی لید۔ دم خون۔ لبن دودھ، لسی۔ سائغ (سوغ) خوش گوار۔ شاربین پینے والے۔ تشریح : آیت نمبر 66 تا 67 کتاب و سنت میں اللہ تعالیٰ کی بےانتہا صفتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان ہی میں سے یہ صفت بھی ہے کہ وہ ” حی وقیوم “ ہے یعنی وہ زندہ ہے اور ہر چیز کو تھامے ہوئے ہے۔ اس کائنات میں انسان جتنا بھی غور کرتا ہے وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اس حی وقیوم ذات نے اس پورے نظام کائنات کو سنبھالا ہوا ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے اپنی اس کائنات اور اس کے نظام کو چلاتا ہے۔ چاند، سورج،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اس آیت میں ارشاد ہے کہ کھجور اور انگور کے پھلوں سے تم رس یعنی سرکہ بناتے ہو۔ سرکہ سے مراد شراب ہے۔ چونکہ خطاب قریش مکہ کی طرف ہے اور نیز مکہ میں شراب حرام بھی نہیں ہوئی تھی بلکہ مدینہ میں آکر ہوئی ہے، پھر کسی مسلمان نے ہاتھ نہیں لگایا۔ اس لئے ان لوگوں کے ان کے فوائد بتائے ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ سکر سے مراد نبیذ ہے یعنی کھجور یا انگور کا شیرہ جس کو یہاں تک جوش دیا جائے کہ دو حصے جل جائیں۔ چونکہ اس میں نشہ نہیں ہے یہ حلال ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 67–68

[37] اس میں ایک ضمنی اشارہ شراب کی حرمت کا بھی ہے کہ وہ پاک رزق نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) یعنی اللہ تعالیٰ قطب ماہیت پر قادر ہیں ، وہ چاہیں تو کفر وعناد کو محیت وعقیدتمندی سے بدل دیں ، انکار وکفر کو دم میں ایمان یقین کا لباس پہنا دیں ، وہ بنجر اور شور زمینوں کو زندہ کردیتا ہے خشک کھیت اور باغات بارش کی وجہ سے لہلہا اٹھتے ہیں ، گوشت اور خون میں سے سفید دودھ جیسی لطیف شے پیدا کردیتا ہے ، کھجور اور انگور میں طرح طرح کے مزے اور غذائیت رکھی ہیں ، اسی طرح یہ ممکن ہے کہ وہ دلوں کے خبث کو ایمان کی لطافت سے تبدیل کر دے ، ” سکرا “ کے معنی عام مترجمین نے شراب کے کئے ہیں اور کہا ہے کہ بعد کی آیات میں اسے منسوخ قرار دیا ہے ، مگر یہاں مشکل یہ ہے کہ ” سکرا “ کے لفظ کو بطور اظہار نعمت کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

67 ۔ اور کھجور اور انگور کے پھلوں کی کیفیت اور حالت میں بھی غور کرنا چاہئے جن سے نشہ کی چیزیں بناتے اور عمدہ ورزی حاصل کرتے ہو ۔ بلا شبہ اس بات میں ان لوگوں کے لئے توحید اور انعامات خداوندی کی بڑی دلیل ہے جو صحیح عقل رکھتے ہیں ۔ یعنی کھجور اور انگور کے پھل بھی قابل عبرت اور لائق غور ہیں انگور سے شراب بناتے ہو اور پھلوں سے رزق کا کام لینا تو ظاہر ہی ہے اس سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے منعم حقیقی ہونے پر اہل عقل کے لئے دلیل ہے۔ یہ آیت مکی ہے اس وقت تک شراب کی حرمت نازل نہیں ہوئی تھی پھر بھی رزق کے ساتھ حسن کی قید لگائی تا کہ معلوم ہو کہ پھلوں سے مقصود روزی کا حاصل کرنا ہے اور وہ ایک عمدہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 67–70

ف 3۔ نشہ کی چیز اس میں دو قول ہیں اول یہ کہ نزول آیت کے وقت مسکرات حرام نہ تھے کیونکہ آیت مکی ہے اس لیے امتنان فرمایا لیکن چونکہ حرام ہونے والے تھے اس لیے اس کو حسن وغیرہ کے ساتھ موصوف نہ کیا جیسا رزق کو کیا ہے دوسرا قول یہ کہ گونزول آیت کے وقت مسکرات حرام بھی ہوگئے ہوں اس احتمال پر کہ شاید یہ آیت مدنی ہو لیکن یہاں امتنان حسی مقصود نہیں تاکہ حلت پر موقوف ہو بلکہ امتنان معنوی یونی استدلال علی التوحید ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھلوں پر غور کرو کہ ان میں تمہارے لئے کیا کیا غذائیت رکھی گئی ہے : 77۔ عربوں کے پاس اس وقت زیادہ پھل ‘ کھجور اور انگور ہی تھے اس لئے قرآن کریم نے انہیں پھلوں کا نام زیادہ تر لیا ہے اور ان کے بعد زیتوں اور انار تھے اس لئے ان کا نام بھی پہلے دونوں پھلوں کے بعد آتا ہے لیکن اس وقت ماشاء اللہ دنیا میں پھلوں کی اتنی کثرت ہے کہ اگر کوئی شخص ان کو گننا چاہے تو شاید ہی گن سکے اور آیت سے ہر طرح کے پھل مراد ہیں اور اس جگہ خاص کر جو ان کا نام لیا گیا ہے اس میں یہ اشارہ بھی پایا جاتا ہے کہ یہی دونوں پھل ہیں جن سے زیادہ تر شراب سکر چیزیں تیار کی جاتی ہیں بلاشبہ مسکر چیزوں کا استعمال ہے لیکن آیت میں تفہیم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Described in the previous verses were blessings of Allah Ta’ ala which manifest the stunning marvel of Divine power and creativity. Of these, the first to be mentioned was milk which nature has gifted human beings with after having made it go through its own processing in the bellies of animals separating it from feces and blood and delivering it as a finished product, pure and pleasant, food and drink in one. No subsequent human effort or artifice is needed here. Therefore, the word used in the text is: n نُسقِیکُم (nusqikum: We provided you with milk to drink).' The stress is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

55. Incidentally it implies that the juice of the fruits of date palms and vines contains two things. One is that which is pure and wholesome food for man and the other is that which turns into alcohol after it becomes rotten. But it has been left to the choice of man to obtain pure healthy food from this providence or to drink it as intoxicant wine to excite him and make him lose his self control. This also contains a hint as to the prohibition of wine.

Read the full tafseer →