An-Nahl 16:52

An-Nahl · from ayah 52

16:52

وَلَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَهُ الدِّیْنُ وَاصِبًا ؕ— اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ ۟وَلَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَلَهُ الدِّيۡنُ وَاصِبًا‌ ؕ اَفَغَيۡرَ اللّٰهِ تَـتَّـقُوۡنَ‏

اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت لازم ہے۔ تو تم خدا کے سوا اوروں سے کیوں ڈرتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And to Him belongs whatever is in the heavens and the earth, and to Him is [due] worship constantly. Then is it other than Allah that you fear?

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 7 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:52

اُسی کا ہے وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، اور خالصاً اُسی کا دین (ساری کائنات میں) چل رہا ہے پھر کیا اللہ کو چھوڑ کر تم کسی اور سے تقویٰ کرو گے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت لازم ہے۔ تو تم خدا کے سوا اوروں سے کیوں ڈرتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت ﻻزم ہے، کیا پھر تم اس کے سوا اوروں سے ڈرتے ہو؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے، اور اسی کی اطاعت ہر حال میں لازم ہے۔ کیا پھر بھی تم اللہ کے سوا اوروں سے ڈرتے ہو ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کی فرمانبرداری لازم ہے، تو اللہ کے سوا کسی دوسرے سے ڈرو گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اسی کا ہے اور (سب کے لئے) اسی کی فرمانبرداری واجب ہے۔ تو کیا تم غیر اَز خدا (کسی) سے ڈرتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور عبادت بھی ہمیشہ اسی کی ہے، پھر کیا اللہ کے غیر سے ڈرتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت لازم ہے۔ پھر کیا تم اللہ کے علاوہ دوسروں سے ڈرتے ہو ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کی اطاعت ہمیشہ لازم ہے تو کیا تم تم غیر اللہ سے ڈرتے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اسی (وحدہ، لاشریک) کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین کے اندر (موجود) ہے اور اسی کا حق ہے لازمی اطاعت (و فرمانبرداری) تو کیا پھر بھی تم لوگ اللہ کے سوا اوروں سے ڈرتے ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اسی کا دین واجب الاطاعت ہے۔ تو کیا (پھر بھی) غیر اللہ سے ڈرتے ہو ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کے لیے اطاعت ہے ہمیشہ ہمیش تو کیا تم اللہ کے سوا کسی اور کا تقویٰ اختیار کرتے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت لازم ہے تو تم اللہ کے سوا اوروں سے کیوں ڈرتے ہو ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

His is whatever is in the heavens and the earth, and obedience to Him inevitably pervades the whole universe. Will you, then, hold in awe any other than Allah?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And to Him belongs what is in the heavens and the earth, and it is only He who deserves obedience as ever due. Would you, then, fear someone other than Allah?

— Muhammad Taqi Usmani

And to Him belongs what is in the heavens and the earth, and it is only He who deserves obedience as ever due. Would you, then, fear someone other than Allah?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

To Him belongs all that is in the heavens and the earth and the religion. Will you then fear any other than Allah

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Unto Him belongeth whatsoever is in the heavens and the earth, and religion is His for ever. Will ye then fear any other than Allah?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And to Him belongs whatever is in the heavens and the earth, and to Him is [due] worship constantly. Then is it other than Allah that you fear?

— Saheeh International

To Him belongs all that is in the heavens and the earth. God's retribution is severe. Should you then have fear of anyone other than God?

— Muhammad Sarwar

And whatever is in the heavens and the earth is His, and to Him should obedience be (rendered) constantly; will you then guard against other than (the punishment of) Allah?

— Muhammad Habib Shakir

And His is whatsoever is in the heavens and the earth, and unto Him is obedience due perpetually; will ye then fear any other than Allah?

— Abdul Majid Daryabadi

To Him belongs whatever is in the heavens and on earth, and to Him is duty due always: then will ye fear other than Allah?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:52

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–55

ہر چیز کا واحد مالک وہی ہے اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، وہ لا شریک ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، مالک ہے، پالنہار ہے۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے۔ اس کے سو دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا نا خوشی اس کی ماتحت ہے۔ سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے، خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو۔ اسکے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو۔ دین خالص صرف اللہ ہی کا ہے آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے، اسی کے فضل و…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّحْل 44 دوسرے الفاظ میں اسی کی اطاعت پر اس پورے کارخانہ ہستی کا نظام قائم ہے۔ سورة النَّحْل 44 دوسرے الفاظ میں اسی کی اطاعت پر اس پورے کارخانہ ہستی کا نظام قائم ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–57

خلاصہ تفسیر کیا (ان) لوگوں نے اللہ کی ان پیدا کی ہوئی چیزوں کو نہیں دیکھا (اور دیکھ کر توحید پر استدلال نہیں کیا) جن کے سائے کبھی ایک طرف کو کبھی دوسری طرف کو اس طور پر جھکتے جاتے ہیں کہ (بالکل) خدا کے (حکم کے) تابع ہیں (یعنی سائے کے اسباب کہ آفتاب کی حرکت ہے پھر سایہ کے خواص یہ سب بحکم الہی ہے) اور وہ (سایہ دار) چیزیں بھی (اللہ کے رو برو) عاجز (اور تابع حکم) ہیں اور (جس طرح یہ اشیاء مذکورہ جن میں حرکت ارادیہ نہیں جیسا کہ یتفیئوا کی اسناد ظلال کی طرف اس کا قرینہ ہے کیونکہ متحرک بالارادہ میں سایہ کی حرکت خود اس متحرک بالا رادہ کی حرکت سے ہوتی ہے حکم خدا کے تابع ہیں اسی طرح) اللہ ہی کے مطیع…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَلَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَهُ الدِّيْنُ وَاصِبًا ۭ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ۔ دین کے معنی یہاں اطاعت کے اور واصب کے معنی دائم کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا ہے۔ وہی اطاعت کا حق دار ہے ہمیشہ۔ یعنی اس دنیا میں بھی اسی کی اطاعت ہونی چاہیے اور آخرت میں بھی اسی کی اطاعت ہوگی۔ اگر تم خدا کے سوا کسی اور سے ڈرتے ہو تو یہ سرتاسر تمہاری جہالت ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

52۔ 1 اسی کی عبادت و اطاعت دائمی اور لازم ہے واصب کے معنی ہمیشگی کے ہیں ' ان کے لئے عذاب ہے ہمیشہ کا ' اور اس کا وہی مطلب ہے جو دوسرے مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ ' پس اللہ کی عبادت کرو، اسی کے لئے بندگی کو خالص کرتے ہوئے، خبردار ! اسی کے لئے خالص بندگی ہے '۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 50–55

23: یہ آیت سجدہ ہے، یعنی جو شخص بھی یہ آیت عربی زبان میں پڑھے، اس پر سجدہ کرنا واجب ہوجاتا ہے، اسے سجدہ تلاوت کہتے ہیں، جو نماز کے سجدے کے علاوہ ہے، البتہ صرف ترجمہ پڑھنے سے یا آیت کو پڑھے بغیر صرف دیکھنے سے سجدہ واجب نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 51–55

درس نمبر 121 ایک نظر میں مسئلہ توحید کا یہ تسیرا دور ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کائنات کا خدا صرف ایک خدا ہے۔ اس سبق کا آغاز اس مفہوم سے ہوتا ہے کہ اللہ ایک ہے جو وحدہ مالک اور منعم ہے۔ پہلی تین آیات میں یہی مفہوم بیان ہوا ہے۔ یہاں ایک بہترین تمثیل دی گئی ہے کہ ایک مالک ہے ، رازق ہے اور دوسرا شخص غلام اور مملوک اور محتاج ہے۔ جس کا کوئی اختیار نہیں ۔ اور جس کی ملکیت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ تو پھر اللہ جو خالق مالک اور رازق ہے وہ اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کس طرح برابر ہو سکتے ہیں جو نہ مالک ہیں اور نہ رازق۔ کس طرح ہم دونوں کو کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی الٰہ ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی تکوینی طور پر ہر چیز خالص اسی کی عبادت اور اطاعت پر مجبول ہے (اَفَغَيْرَ دِيْنِ اللّٰهِ يَبْغُوْنَ وَلَهٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْھًا وَّاِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ ) 3 ۔ آل عمران :83) یا یہ مطلب ہے کہ ہمیشہ اسی کی عبادت کرنا لازم ہے (اَلَا لِلّٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ ) 39 ۔ الزمر :3) اور بعض نے " دین " کو " جزائ " کے معنی میں لیا ہے۔ یعنی نیک و بد کا دائمی بدلہ اسی ایک خدا کی طرف سے ملے گا۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 50–52

آیت 50 يَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ یہ خصوصی طور پر فرشتوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے۔ جیسے سورة التحریم میں فرمایا گیا : لَا یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ ”وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جو حکم وہ انہیں دیتا ہے اور وہی کرتے ہیں جو حکم انہیں دیا جاتا ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 51–52

50 دو خداؤں کا عقیدہ رکھنے والے مجوسی مذہب کا تعارف :۔ عہد نبوی میں ایران میں مجوسی مذہب رائج تھا یہ لوگ سورج پرست اور آتش پرست تھے۔ اپنے آپ کو سیدنا نوح کا پیرو کار بتاتے اور باقی سب نبیوں کے دشمن تھے۔ ان کے عقیدہ کے مطابق خدا ایک نہیں بلکہ دو ہیں۔ ایک خیر اور نور کا خدا جسے وہ یزدان کہتے تھے، دوسرا بدی اور تاریکی کا خدا جسے وہ اہرمن کہتے تھے۔ یہ لوگ اپنی الہامی کتابوں کا نام زند اور اوستا بتاتے تھے اور اہل عرب ان سے متعارف تھے۔ انھیں لوگوں کے عقیدہ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دو الٰہ بنانا چھوڑ دو کیونکہ اس کائنات کا الٰہ صرف ایک ہی ہوسکتا ہے اور دو خدا آپس میں برابر کی چوٹ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

75۔ (پھر اس میں کسی دوسرے دین کی شرکت کے کیا معنی) واصب کے معنی واجب وثابت کے ہیں۔ الواصب الواجب الثابت (کشاف) اور دین واصب سے جزائے دائمی بھی مراد لی گئی ہے یعنی عذاب وثواب۔ والہ الجزاء ثابتہ دائما سرمدا لایزال یعنی والثواب والعقاب (کشاف) اے لہ تعالیٰ الجزاء دائما لاینقطع ثوابہ للمطیع و عقابہ للعاصی (روح) 76۔ شرک کی اصل وبنیاد عموما اسی غیر اللہ کے خوف پر ہوتی ہے۔ مشرک انسان سمجھتا یہ ہے کہ فلاں فلاں طاقتیں ایسی ہیں جو مجھے نقصان پہنچا سکتی ہیں سوا نہیں رکھنے کے لئے ان کے آگے یوں نذر ماننی چاہیے، یوں بھینٹ چڑھانا چاہیے، وقس علی ہذا۔ (ملاحظہ ہو حاشیہ انگریزی تفسیر القرآن) قرآن نے اسی پر ضرب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–60

آیت نمبر 51 تا 60 ترجمہ : اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے کہ دو معبود نہ بناؤ (اِثْنَیْنِ ) اِلھٰیْنِ کی تاکید ہے معبود تو صرف وہی اکیلا ہے اس کو الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کرنے کے لئے لائے ہیں، پس تم سب میرا ہی خوف (ڈر) رکھو، (یعنی) مجھ ہی سے ڈرو نہ کہ کسی اور سے، اس میں غیبت سے تکلم کی جانب التفات ہے آسمانوں اور زمین میں کو کچھ ہے اسی کا ہے ملک اور مخلوق اور غلام ہونے کے اعتبار سے اور طاعت دائماً اسی کی لازم ہے، واصِبًا، دین ٌ سے حال ہے اور اس میں عامل معنی ظرف ہیں (ای ثَبَتَ لہٗ الدین) کیا پھر بھی تم غیر اللہ سے ڈرتے ہو ؟ معبود برحق وہی ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور استہفام انکار یا تو بیخ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولہ ما فی السموت والارض اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے۔ یعنی اللہ ہی ہر چیز کا خالق اور مالک ہے ‘ اس کی شان میں ظلم کا تصور بھی نہیں ہوسکتا (وہ اپنی ملک میں ہر طرح کا تصرف کرسکتا ہے ‘ اس کیلئے کسی قسم کا تصرف ظلم نہیں ہوسکتا) ظلم تو دوسرے کی ملک میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرنے کا نام ہے۔ بغیر اجازت کے دوسرے کی چیز میں تصرف جائز نہیں (اپنی ملک میں تصرف تو کسی صورت میں اور کسی بھی حالت میں ظلم ہو ہی نہیں سکتا) فرقۂ معتزلہ انسان کو اپنے افعال کا خالق کہتا ہے ‘ اس کے مسلک کی تردید اس آیت سے ہوتی ہے۔ ولہ الدین واصبا اور اسی کو حق ہے کہ اس کی اطاعت لازمی طور پر اور ہمیشہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(52) تمام مخلوقات اور یہ عجیب چیزیں اسی کو ملک ہیں اور لازمی طور پر ہمیشہ خلوص کے ساتھ اطاعت بجالانا اسی کا حق ہے۔ کیا پھر بھی اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کی پوجا کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔۔ :”الدِّيْنُ“ کا معنی یہاں فرماں برداری، مطیع ہونا اور عبادت ہے۔ ”وَاصِباً“ (ہمیشہ) ”وَصَبَ یَصِبُ (وَعَدَ یَعِدُ) وُصُوْبًا“ جیسے فرمایا : (دُحُوْرًا وَّلَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ) [ الصافات : 9 ] ”بھگانے کے لیے اور ان کے لیے ہمیشہ رہنے والا عذاب ہے۔“ یعنی آسمان و زمین صرف اللہ کے پیدا کردہ اور اس کی ملکیت ہیں اور اطاعت و عبادت بھی اسی کا دائمی حق ہے تو پھر ہر چیز کے مالک اللہ کے بجائے اس کے غیر سے ڈرتے ہو ؟ کس قدر نادانی اور حماقت کی بات ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 52 قولہ تعالیٰ : ولہ ما فی السموت والارض ولہ الدین واصبا اس میں الدین کا معنی طاعت اور اخلاص ہے۔ اور واصبا اس کا معنی ہے دائما (ہمیشہ) یہ فراء نے کہا ہے، اسے جوہری نے بیان کیا ہے۔ وصب الشئ یصب وصوبا، یعنی شے دائمی ہے۔ اور وصب الرجل علی الامر (کہا جاتا ہے) جب کوئی آدمی کسی کام پر مواظبت اختیار کرے اور اس کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہمیشہ واجب ہے۔ اور جنہوں نے واصبا کا معنی دائما بیان کیا ہے وہ حضرت حسن، مجاہد، قتادہ اور ضحاک ہیں۔ اور اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی ہے : ولھم عذاب واصب۔ یعنی ان کے لیے دائمی عذاب ہے۔ اور دؤلی نے کہا ہے : لا أبتغی الحمد القلیل بقاؤہ بذم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 49–56

1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وللہ یسجد مافی السموت وما فی الارض من دآبۃ “ سے مراد ہے کہ کوئی چیز نہیں چھوٹتی اس کی مخلوق میں سے مگر اس کی عبادت کرتی ہے خوشی سے یا نا خوشی سے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ آسمان کی مخلوق خوشی سے سجدہ کرتی ہے اور زمین کی مخلوق بعض خوشی سے اور بعض مجبورا سجدہ کرتی ہے۔ 3:۔ خطیب نے تاریخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یخافون ربہم “ یعنی وہ اللہ کے جلال سے ڈرتے ہیں۔ 4: ابن ابی شیبہ اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے گذرے اور وہ اپنی دو انگلیوں کے ساتھ دعا کررہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَهٗ : اور اس کا ہی ہے ] [ مَا : وہ جو ] [ فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [ وَالْاَرْضِ : اور زمین میں ہے ] [ وَلَهُ : اور اس کے لئے ہی ہے ] [ الدِّيْنُ : مکمل نظام حیات ] [ وَاصِبًا : لازمی ہوتے ہوئے ] [ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ : تو کیا اللہ کے علاوہ (کسی) سے ] [ تَتَّقُوْنَ : تم لوگ ڈرتے ہو ] و ص ب [وُصُوْبًا : (ض) دائمی ہونا۔ لازم ہونا۔] [ وَِاصِبٌ فاعل کے وزن پر صفت ہے۔ دائمی۔ لازمی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 52] ترکیب : (آیت۔ 52) اَفَغَیْرَ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ تَتَّقُوْنَ کا مفعول مقدم ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

معبود صرف ایک ہی ہے ہر نعمت اسی کی طرف سے ہے اسی سے ڈرو ان آیات میں اول تو اللہ تعالیٰ نے یوں ارشاد فرمایا کہ دو معبود مت بناؤ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہ تنہا معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں، آسمان میں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اسی کی مخلوق اور مملوک ہے (مخلوق اور مملوک اپنے خالق اور مالک کے برابر نہیں ہوسکتے لہٰذا معبود بھی نہیں ہوسکتے) جب سب کچھ اسی کی ملکیت ہے تو ہمیشہ اسی کی فرمانبرداری کرنا لازم ہے لازمی طور پر ہمیشہ اسی کی عبادت کرو جب اس کی اطاعت لازم ہے تو اس کے علاوہ کسی دوسرے سے ڈرنے کا کوئی موقع نہیں اسی کو فرمایا (اَفَغَیْرَ اللّٰہِ تَتَّقُوْنَ ) اس میں مشرکین کو تنبیہ ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–55

قال اللہ تعالیٰ : وقال اللہ لا تتخذو الہین اثنین .... الیٰ .... فسوف تعلمون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ جمیع ماسوا اللہ خواہ وہ عالم اجسام سے ہو یا عالم ارواح سے ہو سب اللہ کے مطیع اور فرماں بردار ہیں اور اس کے آگے سر تسلیم جھکائے ہوئے ہیں اس لیے آئندہ آیت میں توحید خالص کا حکم دیتے ہیں اور شرک سے منع فرماتے ہیں۔ اور یہ بیان کرتے ہیں کہ سب کے سب اللہ ہی کے مملوک اور عبد مطلق ہیں تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ ہماری ہی دی ہوئی ہے اور تم پر جب کوئی مصیبت اور آفت آتی ہے تو تم ہمیں سے فریاد کرتے ہو تو پھر تم غیر اللہ کی کیوں عبادت کرتے ہو مصیبت کے وقت ہم کو پکارنا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 51–52

37:۔ یہ دعوی توحید کا دوسری بار اعادہ اور دلائل ماقبل کا حاصل وثمرہ ہے یعنی جب تکوینی طور پر ساری کائنات اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجز و بےبس اور اس کے زیر تصرف و اختیار ہے تو پھر اللہ کے سوا کسی اور کو الہ مت بناؤ۔ الٰہ یعنی کارساز اور مالک و مختار وہی ایک اللہ ہے۔ اسی سے ڈرو اور مصائب و آفات میں صرف اسی کو پکارو ” اِلٰھَیْنِ “ کے بعد ” اِثْنَیْنِ “ اس لیے فرمایا کیونکہ جنس الٰہ کی نفی مقصود نہیں بلکہ تعداد آلہہ کی نفی مقصود ہے۔ ” وَ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ الخ “ یہ چوتھی دلیل سے متلعق ہے اور اسی کا حصہ ہے۔ ” وَاصِباً اي دائما “ (قرطبی) ۔ ربیع بن انس سے منقول ہے واصبا اي خالصا (روح) اور ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–56

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے بعثت انبیاء کا ذکر فرما کر مشرکین کے اعتراضات کا مسکت جواب دیا ، ہر نبی نے اپنی امت کو یہی تعلیم دی (آیت) ” ان اعبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت “۔ یعنی صرف اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی پرستش سے بچ جاؤ ، پھر اللہ نے مختلف طریقوں سے توحید کے دلائل سمجھائے ، اور آخر میں فرمایا کہ کائنات میں خدا کی پیدا کردہ تمام چیزیں جو جسم رکھتی ہیں ، اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہیں جس کی صورت یہ ہے کہ ہر ایستادہ چیز کے سائے زمین پر سجدہ کرتے ہیں ، فرمایا آسمانوں کی ہر مخلوق خواہ وہ فرشتے ہوں یا جانور سب اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ، اس کے برخلاف…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَهُ الدِّيْنُ وَاصِبًا ۭ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ 52؀ دين والدِّينُ يقال للطاعة والجزاء، واستعیر للشریعة، والدِّينُ کالملّة، لكنّه يقال اعتبارا بالطاعة والانقیاد للشریعة، قال إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] ( د ی ن ) دين الدین کے معنی طاعت اور جزا کے کے آتے ہیں اور دین ملت کی طرح ہے لیکن شریعت کی طاعت اور فرمانبردار ی کے لحاظ سے اسے دین کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے ۔ وصب الوَصَبُ : السّقمُ اللّازم، وقد وَصِبَ فلانٌ فهو وَصِبٌ ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 51–61

ترکیب : اثنین تاکید ہے الہین اور مفعول ثانی لاتتخذوا کا بھی ہوسکتا ہے وفیہ مافیہ۔ واصبا ای وانما حال ہے الذین سے اور عامل اس میں معنی ظرف کے ہیں مابمعنی الذی بکم اس کا صلہ من نعمۃ حال ہے ضمیر سے جو جار میں ہے فمن اللہ خبر دوسری وجہ بھی ممکن ہے۔ تجٔرون ترفعون اصواتکم بالاستغاثۃ سبحانہ جملہ معترضہ مسودًا خبر ظل۔ یتواری حال ہے ضمیر کظیم سے۔ اذاکشف الم اذا شرطیہ اذا فریق فجائیۃ جواب الشرط لیکفروالام کے وقیل لام العاقبۃ۔ تفسیر : پچھلی آیتوں میں یہ ثابت کر کے کہ تمام عالم اس کے قبضہ قدرت میں ہے اسی کے آگے سرتسلیم جھکائے ہوئے ہے۔ قال اللہ سے لے کر فارھبون تک توحید خالص کا حکم دیتا ہے پھر ولہ مافی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَہٗ الدِّیْنُ وَاصِبًا ط اَفَغَیْرَاللّٰہِ تَتَّقُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 52) (اور اسی کا جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کی اطاعت ہمیشہ لازم ہے، تو کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا غیروں سے ڈرتے ہو۔ ) وَاصِبکا معنی آیت میں وَاصِبًا کا لفظ آیا ہے، اس کا معنی ہے ہمیشہ۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب کسی کام کو ہمیشہ کیا جاتا ہے تو وہ لازمی ہوجاتا ہے ورنہ ہمیشہ کرنے کا کوئی مفہوم ہی نہیں۔ اس لیے اس کا ترجمہ لازم سے بھی کیا جاتا ہے۔ توحید پر دلیل سابقہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے جس بات پر گواہی دی ہے یہ اس کی دلیل ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ کائنات میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 51–55

فہم القرآن ربط کلام : جب زمین و آسمان کی ہر چیز صرف ایک ہی خالق حقیقی کے سامنے سر بسجود اور اس کے حکم کے تابع ہے تو مشرک کو بھی کسی دوسرے الٰہ کا تصور اور اس کی عبادت نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اے لوگو ! دو الٰہ نہ بناؤ۔ ایرانیوں نے دو خدا بنا رکھے تھے حالانکہ اس حقیقت میں رائی کے دانے کے برابر بھی شبہ نہیں کہ کائنات کا خالق ومالک ایک ہی اِلٰہ ہے۔ اس کا حکم ہے کہ صرف مجھ ہی سے ڈرتے رہو۔ کیونکہ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے۔ اللہ ہی ان کا مالک اور خالق حقیقی ہے۔ اس کے باوجود کسی اور کی تم عبادت کرتے اور اس سے ڈرتے ہو۔ حالانکہ زمین و آسمان اسی کی ملک ہیں اور ہر چیز اسی کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

سب نعمتیں اسی سے جس کو دن میں پکارتے ہیں تو عبادت کا بھی وہی حقدار ہے : 52: ولَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَہُ الدِّیْنُ وَاصِبًا (اور اسی ہی کیلئے ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اور اس کی اطاعت ہمیشہ اور لازمی ہے) الدین یہاں طاعت کے معنی میں ہے واصباؔ ثابت وواجب کے معنی میں ہے کیونکہ ہر نعمت اسی ہی کی طرف سے ہے۔ اس کی اطاعت ہر انعام یافتہ پر لازم ہے۔ نحو : واصبًا یہ حال ہے اس میں ظرف نے عمل کیا ہے۔ نمبر 2۔ ولَہ الجزاء دائمًا۔ الجزاء سے ثواب و عقاب مراد ہیں۔ اَفَغَیْرَ اللّٰہِ تَتَّقُوْنَ (کیا پس اللہ تعالیٰ کے سوا اور سے تم ڈرتے ہو)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(52)” ولہ ما فی السموت والارض ولہ الدین “ اس سے مراد اطاعت اور اخلاص ہے۔” واصباً “ دائم اور ثابت ہے۔ کسی شخص کے لیے ایسا نہیں کہ وہ اطاعت کے بغیر ہلاکت اور فنا سے بچ جائے کیونکہ اطاعت ایسی ہے کہ اس سے نہ زوال آتا ہے اور نہ ہی وہ منقطع ہوتی ہے۔ ” افغیر اللہ تتقون “ کیا تم ڈرتے ہو اللہ کے سوا کسی اور سے۔ استفہام انکار کے معنی میں ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–55

51۔ 55۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکوں کی پرچھائیاں بےاختیار اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں اس ذکر کے بعد خود مشرکوں کو یہ ہدایت ہے کہ تم بھی اللہ کے ساتھ اور کسی کو شریک نہ کرو کیونکہ عبادت اور کسی کو لائق نہیں ہے اگر ہے تو اسی خدائے وحدہ لا شریک کو زیبا ہے اور پھر یہ فرمایا کہ سوائے اللہ کے اور کسی سے نہ ڈرو یہ بات اس قابل نہیں ہیں جو ان کا خوف مانا جائے انہیں کوئی قدرت نہیں ہے کہ کسی کو کچھ نقصان پہنچا سکیں البتہ اللہ کے قہر و غضب سے ڈرو کیوں کہ اس کی وہ پکڑ ہے جس کی کوئی پناہ نہیں ہے آسمان و زمین میں جس قدر مخلوق ہے وہ سب اللہ ہی کے تحت حکومت میں ہے ان میں کسی کی ذرہ برابر بھی شراکت نہیں ہے اسی لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–55

آیت : (51-55) اللہ تعالیٰ صرف اپنی عبادت کا حکم دیتا ہے کہ وہی یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور اس پر وہ اس بات سے استدلال کرتا ہے کہ نعمتیں عطا کرنے والا صرف وہی اکیلا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (لاتتخذ و الھن الثنین) ” نہ بناؤ تم معبود دو “ یعنی تم ان کو اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک نہ ٹھہراؤ۔ (انما ھو الہ واھد) ” وہ صرف ایک ہی معبود ہے “ وہ اپنی ذات ‘ اپنے اسماء وصفات اور اپنے افعال میں متفرد ہے۔ پس جس طرح وہ اپنی ذات ‘ اپنے اسماء وصفات اور افعال میں ایک ہے ‘ اسی طرح ان کو چاہیے کہ وہ عبادت میں بھی اس کو ایک مانیں۔ اسی لئے فرمایا : (فایای فارھبون) ” پس مجھ ہی سے ڈرو “ میرے حکم کی تعمیل اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 14–65

زیور کے بارے میں حکم قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

101۔ کائنات ساری اللہ وحدہ لاشریک ہی کی ہے : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حصروقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ خلق وملک اور حکم وتصرف کے اعتبار سے کہ سب کا خالق بھی وہی وحدہ لاشریک ہے مالک بھی وہی۔ اور اس پر تصرف اور حکم بھی اسی کا اور صرف اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور جب یہ شان اس وحدہ لاشریک کی ہے اور اس میں کوئی بھی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ پس عبادت کی ہر شکل اور اس کی ہر قسم اسی کا حق اور اس کا اختصاص ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ پس سب کا خالق ومالک بھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 48–60

کائنات کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہے تشریح : یہاں عربوں کی انتہائی بری عادت بیان کی گئی ہے جو کہ ان میں عام طور پر رواج پا چکی تھی۔ اول تو وہ لڑکی ذات کو ہی ناپسند کرتے تھے، پھر جب وہ پیدا ہوجاتی تو اس کو اپنی انتہائی ذلت کا باعث سمجھتے تو اس ذلت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اپنی بچی کو مار دیتے یا زندہ کو ہی دفن کردیتے اور یوں تین گناہ کرتے ایک تو اپنی اولاد پر ظلم کرتے دوسرا قتل کا گناہ کرتے اور تیسرا حکمت الٰہی میں دخل دیتے۔ اس کے علاوہ ایک بہت بڑا گناہ یہ کرتے کہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے، یعنی جس بات کو اپنے لیے باعث شرم سمجھتے اس کو اللہ کے لیے مناسب سمجھتے اور یوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–60

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف اور اللہ کریم کا ارشاد ہے کہ متعدد معبود اختیار نہ کرو بلکہ عبادت کا مستحق اللہ کریم اکیلا ہے لہذا اللہ ہی سے ڈرنا چاہئے کہ نفع کی امید پر یا کسی کے خوف سے اس کی ایسی اطاعت جس میں اللہ جل جلالہ کی نافرمانی ہو عبادت کہلائے گی خواہ ایسا کرنے والا اسے معبود نہ ہی کہتا ہو ، حالانکہ ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ جل جلالہ ہی کا ہے اور سارے اسباب اسی کے پیدا کردہ ہیں جن میں بعض کو کبھی اللہ جل جلالہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کردیا جاتا ہے یا بعض اوقات اسباب ہی کو سب کچھ سمجھ لیا جاتا ہے مگر یہ درست نہیں بلکہ ہمیشہ اور ہر حال میں عبادت کا مل وغیر مشروط اطاعت صرف…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:52) واصبا۔ اسم فاعل واحد مذکر منصوب۔ دوامی ۔ ہمیشہ۔ جاودانی۔ لازوال۔ قائم رہنے والا۔ الدین ضمیر کا حال ہے۔ یہاں الدین سے مراد اطاعت ہے۔ ولہ الدین واصبا ط۔ اطاعت ہمیشہ اسی کو سزاوار ہے۔ واصبا وصوب سے مشتق ہے۔ (باب ضرب) اور اگر بذریعہ علی مصدر سمع ہو تو بیمار ہونا کے معنی ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں پہلے معنی ہی میں مستعمل ہے۔ افغیر اللہ تتقون (تو کیا اللہ کے سوا غیروں سے ڈرتے ہو) میں الف استفہامیہ ہے اور تعجب اور توبیخ کے لئے ہے۔ معنی یہ ہیں کہ : کیا اس ذات حق سبحانہ وتعالیٰ کی وحدانیت کے علم کے باوجود اور اس علم کے باوجود کہ وہی حاجت روا ہے تم دوسرے معبودانِ باطل سے ڈرتے ہو ؟

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–56

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 56 لاتتخذوا تم نہ بناؤ۔ الھین (الہ) دو معبود۔ اثنین دو ۔ واحد ایک۔ ایای مجھ سے ہی۔ رھبوا تم ڈرو۔ واصباً ہمیشہ رہنے والا۔ مابکم جو کچھ تمہارے پاس ہے۔ تجئرون تم فریاد رتے ہو تم چلاتے ہو۔ کشف کھل گیا، دور گیا۔ فریق ایک جماعت ۔ یشرکون وہ شرک کرتے ہیں، شریک کرتے ہیں۔ تمتعوا تم فائدہ حاصل کرو۔ نصیب حصہ۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ تسئلن تم پوچھے جاؤ گے۔ تفترون تم گھیرتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 56 قرآن کریم میں سب سے زیادہ جس بات پر زور دیا گیا ہے وہ اللہ کو ایک ماننا اور ان تمام غیر اللہ کی عبادت و بندگی سے منہ موڑنا جن کو کچھ نادانوں نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے ۔ کفار و مشرکین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–52

مشرکین کو نصیحت : اوپر ذکر تھا کہ کل کائنات زمین وآسمان کی چیزیں مع سایہ کے اللہ تعالیٰ کو ہی سجدہ کرتی ہیں۔ اس ذکرکے بعد مشرکین کو یہ ہدایت ہے کہ تم بھی اللہ کے ساتھ اور کسی کو شریک نہ کرو۔ کیونکہ عبادت اور کسی کو لائق نہیں ہے اگر ہے تو اسی خدائے وحدہ لاشریک کو زیبا ہے ۔ پھر یہ فرمایا کہ سوائے اللہ کے کسی اور سے نہ ڈور یہ بت اس قابل نہیں ہیں جو ان کا خوف مانا جائے انہیں کوئی قدرت نہٰیں ہے۔ آسمان و زمین میں جس قدر مخلوق ہے وہ سب اللہ ہی کے تحت حکومت میں ہے۔ ان میں کسی کی ذرہ برابر بھی شراکت نہیں ہے۔ اسی لئے خالص اسی کی عبادت سزاوار ہے اور ہمیشہ اس کی اطاعت وفرمابرداری زیبا ہے۔ کسی غیر سے کیوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 52–56

[30] شرک کی بنیاد غیر اللہ کے خوف پر ہوتی ہے۔ مشرک سمجھتا ہے کہ فلاں فلاں طاقتیں ایسی ہیں جو مجھے نقصان پہنچا سکتی ہیں لہذا انھیں راضی رکھنے کے لئے ان کے آگے یوں نذر ماننی چاہئے، یوں بھینٹ چڑھانی چاہئے، وقس علیٰ ہذا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 52–56

(ف 1) یعنی اطاعت وانقیاد کا جذبہ اللہ کے لئے وقف ہے ، اطاعت شعاری اور فرمانبرداری صرف رب السموت کے لئے مختص ہے مسلمان اصلا کسی دوسرے کا محتاج نہیں ہوتا ۔ حل لغات : یتغیؤا : اصل میں فئی کے معنی رجوع کے ہوتے ہیں ، سایہ چونکہ اپنی جگہ چھوڑ دیتا ہے اس لئے اسے بھی فئی کہتے ہیں داخر : ذلیل ، اثنین : کا اعادہ مزید تنفر پیدا کرنے کے لئے ہے ۔ واصبا : وصب کے معنی لازم دائم کے ہیں بیمار کو بھی واصب کہتے ہیں ، کیونکہ بیماری اسے چمٹ جاتی ہے اور اس کے لئے لازم ہوجاتی ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

52 ۔ اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کی مملوک ہے اور لازمی طور پر عبادت کا وہی مستحق ہے اور اسی کی عبادت لازم ہے تو کیا پھر بھی تم اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں سے ڈرتے ہو ۔ یعنی ایسا مالک جو ہر چیز کا مالک ہے اسی کی عبادت لازم اور اسی کا انصاف دائم ہے پھر غیر سے کیوں ڈرتے ہو اور ڈر کر دوسروں کی پوجا کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اس ایک ہی کے لئے ہے : 60۔ شرک کی ساری حقیقت اس آیت میں کھول کر رکھ دی ، فرمایا یاد رکھو کہ شرک کی اصل بنیاد عموما اس غیر اللہ کے خوف پر ہوتی ہے مشرک انسان یہ سمجھتا ہے کہ فلاں فلاں طاقتیں ایسی ہیں جو مجھے نقصان پہنچا سکتی ہیں اور فلاں فلاں ایسی ہیں جو مجھے نفع دے سکتی ہیں سو انہیں راضی رکھنے کے لئے ان کے آگے یون نذر ماننی چاہیے اور اس طرح بھینٹ چڑھانا چاہئے ، قرآن کریم نے اس نظریہ پر کاری ضرب لگائی اور ان کو کھلے الفاظ میں بتا دیا کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور خالصتا اس کا دین ساری کائنات میں چل رہا ہے ، دوسرے الفاظ میں اس کی اطاعت پر اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–57

Even the Punishment of the World is Mercy in Disguise In the verses cited above, after having mentioned various punishments which could seize disbelievers within this world, it was said in the end: فَإِنَّ رَ‌بَّكُمْ لَرَ‌ءُوفٌ رَّ‌حِيمٌ (So, indeed your Lord is Very Kind Very Merciful). First of all, by using the word: رَبّ (Rabb: Lord) here, the hint given is that all these punishments which overtake human beings in this world are there to warn them as part of the dictates of Divine mercy. After that, by introducing the word: رَ‌ءُوفٌ(Ra uf: Kind) headed by the intensifying particle lam)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

44. In other words it means that the entire system of the universe exists on its obedience to Him. 45. That is, when it is so, will you then make the fear of any other than God the basis of the system of your life?

Read the full tafseer →