An-Nahl 16:53

An-Nahl · from ayah 53

16:53

وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَیْهِ تَجْـَٔرُوْنَ ۟ۚوَمَا بِكُمۡ مِّنۡ نّـِعۡمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ‌ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيۡهِ تَجْئَرُوۡنَ‌ۚ‏

اور جو نعمتیں تم کو میسر ہیں سب خدا کی طرف سے ہیں۔ پھر جب تم کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے چلاتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And whatever you have of favor - it is from Allah. Then when adversity touches you, to Him you cry for help.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 7 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:53

تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے اللہ ہی کی طرف سے ہے پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اُسی کی طرف دوڑتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو نعمتیں تم کو میسر ہیں سب خدا کی طرف سے ہیں۔ پھر جب تم کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے چلاتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اسی کی دی ہوئی ہیں، اب بھی جب تمہیں کوئی مصیبت پیش آجائے تو اسی کی طرف نالہ وفریاد کرتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تم کو جو نعمت بھی حاصل ہوتی ہے، وہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی سے فریادیں کرتے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تمہارے پاس جو نعمت ہے سب اللہ کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی طرف پناہ لے جاتے ہو، ف۱۰۹)

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تمہیں جو نعمت بھی حاصل ہے سو وہ اللہ ہی کی جانب سے ہے، پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو تم اسی کے آگے گریہ و زاری کرتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے، پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی طرف تم گڑگڑاتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تمہیں جو نعمت بھی مل رہی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے چیخ و پکار کرتے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تمہارے پاس جو نعمت بھی ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے، پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی سے تم فریاد کرتے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو بھی کوئی نعمت تمہیں حاصل ہے، (اے لوگو) یہ سب اللہ ہی کی طرف سے ہے، پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے، تو تم سب اسی کی طرف دوڑتے ہو چلاتے (اور فریاد کرتے) ہوئے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور تمہارے پاس جو بھی کوئی نعمت ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی (اللہ) سے فریاد کرتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو نعمت بھی تمہیں میسر ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے سامنے تم فریاد کرتے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو نعمتیں تمہیں ملی ہوئی ہیں سب اللہ کی طرف سے ہیں، پھر جب تم کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے فریاد کرتے ہو ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Every bounty that you enjoy is from Allah; and whenever any misfortune strikes you, it is to Him that you cry for the removal of your distress.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Whatever blessing you have is from Allah. Then, once you are touched by distress, to Him alone you cry for help.

— Muhammad Taqi Usmani

Whatever blessing you have is from Allah. Then, once you are touched by distress, to Him alone you cry for help.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And whatever of blessings and good things you have, it is from Allah. Then, when harm touches you, unto Him you cry aloud for help.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And whatever of comfort ye enjoy, it is from Allah. Then, when misfortune reacheth you, unto Him ye cry for help.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And whatever you have of favor - it is from Allah. Then when adversity touches you, to Him you cry for help.

— Saheeh International

Whatever bounties you have are from God. When hardship befalls you, you begin to cry out to Him.

— Muhammad Sarwar

And whatever favor is (bestowed) on you it is from Allah; then when evil afflicts you, to Him do you cry for aid.

— Muhammad Habib Shakir

And whatsoever of favours is with you is from Allah; then when distress toucheth you, unto Him ye cry out.

— Abdul Majid Daryabadi

And ye have no good thing but is from Allah: and moreover, when ye are touched by distress, unto Him ye cry with groans;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:53

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–55

ہر چیز کا واحد مالک وہی ہے اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، وہ لا شریک ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، مالک ہے، پالنہار ہے۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے۔ اس کے سو دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا نا خوشی اس کی ماتحت ہے۔ سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے، خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو۔ اسکے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو۔ دین خالص صرف اللہ ہی کا ہے آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے، اسی کے فضل و…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّحْل 46 یعنی یہ توحید کی ایک صریح شہادت تمہارے اپنے نفس میں موجود ہے۔ سخت مصیبت کے وقت جب تمام من گھڑت تصورات کا زنگ ہٹ جاتا ہے تو تھوڑی دیر کے لیے تمہاری اصل فطرت ابھر آتی ہے جو اللہ کے سوا کسی الٰہ، کسی رب، اور کسی مالک ذی اختیار کو نہیں جانتی۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة انعام حواشی نمبر 29 و نمبر 41۔ یونس، 31)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–57

خلاصہ تفسیر کیا (ان) لوگوں نے اللہ کی ان پیدا کی ہوئی چیزوں کو نہیں دیکھا (اور دیکھ کر توحید پر استدلال نہیں کیا) جن کے سائے کبھی ایک طرف کو کبھی دوسری طرف کو اس طور پر جھکتے جاتے ہیں کہ (بالکل) خدا کے (حکم کے) تابع ہیں (یعنی سائے کے اسباب کہ آفتاب کی حرکت ہے پھر سایہ کے خواص یہ سب بحکم الہی ہے) اور وہ (سایہ دار) چیزیں بھی (اللہ کے رو برو) عاجز (اور تابع حکم) ہیں اور (جس طرح یہ اشیاء مذکورہ جن میں حرکت ارادیہ نہیں جیسا کہ یتفیئوا کی اسناد ظلال کی طرف اس کا قرینہ ہے کیونکہ متحرک بالارادہ میں سایہ کی حرکت خود اس متحرک بالا رادہ کی حرکت سے ہوتی ہے حکم خدا کے تابع ہیں اسی طرح) اللہ ہی کے مطیع…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجْــــَٔــرُوْنَ۔ جار جاوا و جوارا کے معنی تضرع اور فریاد کرنے کے ہیں۔ توحید کی انفسی دلیل : یہ توحید کی انفسی دلیل بیان ہوئی ہے کہ جتنی نعمتیں بھی تمہیں حاصل ہیں سب اللہ ہی کی بخشی ہوئی ہیں اور جب کبھی تمہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو تم خدا ہی کو پکارتے ہو۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اصل فطرت کے اندر صرف ایک ہی خدا کا شعو ہے، یہ دوسرے دیوی دیوتا جو تم نے بنا رکھے ہیں اصل فطرت کے اندر ان کی کوئی جگہ نہیں چناچہ جب کسی حقیقی پریشانی کا وقت آتا ہے تو یہ سارے بناوٹی دیوی دیوتا غائب ہوجاتے ہیں، صرف ایک ہی خدا باقی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 53–54

53۔ 1 جب سب نعمتوں کا دینے والا صرف ایک اللہ ہے تو پھر عبادت کسی اور کی کیوں ؟ 53۔ 2 اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ایک ہونے کا عقیدہ قلب وجدان کی گہرائیوں میں راسخ ہے جو اس وقت ابھر کر سامنے آجاتا ہے جب ہر طرف سے مایوسی کے بادل گہرے ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 50–55

23: یہ آیت سجدہ ہے، یعنی جو شخص بھی یہ آیت عربی زبان میں پڑھے، اس پر سجدہ کرنا واجب ہوجاتا ہے، اسے سجدہ تلاوت کہتے ہیں، جو نماز کے سجدے کے علاوہ ہے، البتہ صرف ترجمہ پڑھنے سے یا آیت کو پڑھے بغیر صرف دیکھنے سے سجدہ واجب نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 51–55

درس نمبر 121 ایک نظر میں مسئلہ توحید کا یہ تسیرا دور ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کائنات کا خدا صرف ایک خدا ہے۔ اس سبق کا آغاز اس مفہوم سے ہوتا ہے کہ اللہ ایک ہے جو وحدہ مالک اور منعم ہے۔ پہلی تین آیات میں یہی مفہوم بیان ہوا ہے۔ یہاں ایک بہترین تمثیل دی گئی ہے کہ ایک مالک ہے ، رازق ہے اور دوسرا شخص غلام اور مملوک اور محتاج ہے۔ جس کا کوئی اختیار نہیں ۔ اور جس کی ملکیت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ تو پھر اللہ جو خالق مالک اور رازق ہے وہ اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کس طرح برابر ہو سکتے ہیں جو نہ مالک ہیں اور نہ رازق۔ کس طرح ہم دونوں کو کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی الٰہ ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی سب بھلائیاں اور نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں اور ہر ایک برائی یا سختی کا دفع کرنا بھی اسی کے قبضہ میں ہے۔ چناچہ جب کوئی سخت مصیبت انسان کو چھو جاتی ہے تو کٹر سے کٹر مشرک بھی اس وقت سب سہارے چھوڑ کر خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ گویا فطرت انسانی شہادت دیتی ہے کہ مصائب اور سختیوں سے بچانا خدائے واحد کے سوا کسی کا کام نہیں ہوسکتا۔ پھر جس کے قبضہ میں ہر ایک نعمت و نقمت اور ہر قسم کا نفع و ضرر ہے، دوسرا کون ہے جو اس کی الوہیت میں حصہ دار بن سکے۔ یا جس سے انسان خوف کھائے اور امیدیں باندھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 53–54

آیت 53 وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجْــــَٔــرُوْنَ تکلیف کی کیفیت میں تم اللہ کو ہی یاد کرتے ہو اسی کی جناب میں گڑ گڑاتے آہ وزاری کرتے اور دعائیں مانگتے ہو۔ اس حالت میں تمہیں کوئی دوسرا معبود یاد نہیں آتا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 53–54

51 صرف اللہ تعالیٰ کے حاجت روا اور مشکل کشا ہونے کی یہ صریح شہادت تمہارے اپنے اندر موجود ہے۔ سخت مصیبت کے وقت جب ہر قسم کے سہارے ٹوٹتے نظر آتے ہیں اور تھوڑی دیر کے لیے تمہاری اصل فطرت ابھر آتی ہے تو تم خالصتاً اللہ ہی کو پکارتے اور اسی کے سامنے فریاد کرنے لگتے ہو۔ کیونکہ انسان کی اصل فطرت اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کو مالک ذی اختیار نہیں جانتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

77۔ (اس کے رفع کرنے کو) یہاں اس حقیقت کو یاد دلادیا ہے کہ جو اور جس قسم کی بھی نعمت انسان کو حاصل ہے، اس کا سر چشمہ ذات خداوندی ہی ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ انسان کو خود بھی اس کا احساس ہے، چناچہ جب اس پر مصیبت پڑتی ہے، تو وہ بےساختہ خدا ہی کو یاد کرنے لگتا ہے۔ فخرالمفسرین رازی (رح) آیت کے تحت میں لکھتے ہیں کہ آج یکم محرم 602 ؁ ہجری کو جب میں اس آیت کی تفسیر لکھ رہا ہوں، صبح کے وقت شدید زلزلہ آیا، اور لوگ دعاوتضرع میں مصروف ہوگئے، لیکن جب زلزلہ ختم ہوگیا، تو اسے بھول بھال کر پھر غفلت میں پڑگئے، اور اپنے کام کاج میں لگ گئے۔ (آیت) ” تجزؤن “ یعنی گڑ گڑاتے ہو، دہائی دیتے ہو، فریاد کرتے ہو، جوار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–60

آیت نمبر 51 تا 60 ترجمہ : اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے کہ دو معبود نہ بناؤ (اِثْنَیْنِ ) اِلھٰیْنِ کی تاکید ہے معبود تو صرف وہی اکیلا ہے اس کو الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کرنے کے لئے لائے ہیں، پس تم سب میرا ہی خوف (ڈر) رکھو، (یعنی) مجھ ہی سے ڈرو نہ کہ کسی اور سے، اس میں غیبت سے تکلم کی جانب التفات ہے آسمانوں اور زمین میں کو کچھ ہے اسی کا ہے ملک اور مخلوق اور غلام ہونے کے اعتبار سے اور طاعت دائماً اسی کی لازم ہے، واصِبًا، دین ٌ سے حال ہے اور اس میں عامل معنی ظرف ہیں (ای ثَبَتَ لہٗ الدین) کیا پھر بھی تم غیر اللہ سے ڈرتے ہو ؟ معبود برحق وہی ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور استہفام انکار یا تو بیخ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما بکم من نعمۃ فمن اللہ اور تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے ‘ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ نعمت سے مراد ہے : صحت ‘ عافیت ‘ دولت ‘ خوش حالی ‘ ارزانی وغیرہ۔ ثم اذا مسکم الضر فالیہ تجرون پھر جب تم پر (بیماری ناداری ‘ قحط وغیرہ کی کوئی) مصیبت آتی ہے تو عاجزی اور زاری کے ساتھ اللہ ہی کی طرف تم رجوع کرتے ہو۔ یعنی سوائے اس کے کسی سے دفع مصیبت کیلئے زاری نہیں کرتے۔ جوار اونچی آوازی سے دعا کرنا اور فریاد کرنا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(53) اور تمہارے پاس جو کچھ نعمت ہے وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے، ان بتوں کی طرف سے نہیں، پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ سے فریاد اور اس کے سامنے آہ وزاری کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 53–55

وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجْــــَٔــرُوْنَ۔۔ :”نِّعْمَةٍ“ (نعمت) نکرہ ہونے کی وجہ سے عام تھی، ”مِّنْ“ کے ساتھ عموم کی مزید تاکید ہوگئی کہ جو بھی نعمت تمہارے پاس ہے، یعنی تمہارا وجود، صحت، عافیت، مال، غرض چھوٹی یا بڑی جو بھی نعمت ہے، وہ سب اللہ کی عطا کردہ ہے۔ ”تَجْــــَٔــرُوْنَ“ ”جَأَرَ یَجْأَرُ جُؤَارًا“ (ف) مدد طلب کرنے کے لیے اونچی آواز نکالنا، گڑ گڑانا۔ اصل میں یہ لفظ جنگلی جانوروں کے چیخنے چلانے کے لیے آتا ہے، جیسا کہ گائے کی آواز کے لیے ”خُوَارٌ“ ، بکری کے لیے ”ثُغَاءٌ“ اونٹ کے لیے ”رُغَاءٌ“ اور بھیڑیے اور کتے کے لیے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 53–55

آیت نمبر 53 تا 55 قولہ تعالیٰ : وما بکم من نعمۃ فمن اللہ فراء نے کہا ہے : ما بمعنی الجزاء ہے۔ اور بکم میں بافعل مضمر کے متعلق ہے، تقدیر عبارت ہے : وما یکن بکم۔ من نعمۃ یعنی جسمانی صحت، وسعت رزق اور اولاد وغیرہ فمن اللہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہیں۔ اور کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے وما بکم من نعمۃ فمن اللہ ہی۔ ثم اذا مسکم الضر یعنی پھر جب تمہیں بیماری، مصیبت اور قحط سالی (غربت وغیرہ) آپہنچتی ہے۔ فالیہ تجئرون تو اسی کی جانب دعا کے ساتھ گڑ گڑاتے ہو۔ کہا جاتا ہے : جأ ریجأ رجؤا رأ اور الجؤار الخوار کی طرح ہے ؛ کہا جاتا ہے : جأر الثور یجأر یعنی بیل نے شور مچایا۔ اور بعض نے عجلا جسدا لہ جؤار۔۔۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 49–56

1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وللہ یسجد مافی السموت وما فی الارض من دآبۃ “ سے مراد ہے کہ کوئی چیز نہیں چھوٹتی اس کی مخلوق میں سے مگر اس کی عبادت کرتی ہے خوشی سے یا نا خوشی سے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ آسمان کی مخلوق خوشی سے سجدہ کرتی ہے اور زمین کی مخلوق بعض خوشی سے اور بعض مجبورا سجدہ کرتی ہے۔ 3:۔ خطیب نے تاریخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یخافون ربہم “ یعنی وہ اللہ کے جلال سے ڈرتے ہیں۔ 4: ابن ابی شیبہ اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے گذرے اور وہ اپنی دو انگلیوں کے ساتھ دعا کررہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَا : اور جو ] [ بِكُمْ : تمہارے لئے ہے ] [ مِّنْ نِّعْمَةٍ : کوئی بھی نعمت ] [ فَمِنَ اللّٰهِ : تو (وہ) اللہ (کے پاس) سے ہے ] [ ثُمَّ : پھر ] [ اِذَا : جب بھی ] [ مَسَّكُمُ : چھوتی ہے تمہیں ] [ الضُّرُّ : سختی ] [ فَاِلَيْهِ : تو اس کی طرف ہی ] [ تَجْــــَٔــرُوْنَ : تم لوگ گڑ گڑاتے ہو ] ج ء ر [جَأْرًا : (ف) وحشی جانور کا گھبراہٹ میں زور سے آواز نکالنا۔ چلانا۔ گڑ گڑانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 53 ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَ مَا بِکُمْ مِّنْ نِّعْمَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ) (اور جو کچھ نعمتیں تمہارے پاس ہیں سب اللہ کی طرف سے ہیں) (ثُمَّ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فَاِلَیْہِ تَجْءَرُوْنَ ) (پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو اسی کی طرف متوجہ ہو کر گڑگڑاتے ہو اور فریاد کرتے ہو) جب ساری نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں اور دکھ تکلیف بھی اس کے سوا کوئی دور کرنے والا نہیں تو شرک کیوں کرتے ہو ؟ اس کے علاوہ دوسروں کی پوجا کرکے ہلاکت میں مبتلا نہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–55

قال اللہ تعالیٰ : وقال اللہ لا تتخذو الہین اثنین .... الیٰ .... فسوف تعلمون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ جمیع ماسوا اللہ خواہ وہ عالم اجسام سے ہو یا عالم ارواح سے ہو سب اللہ کے مطیع اور فرماں بردار ہیں اور اس کے آگے سر تسلیم جھکائے ہوئے ہیں اس لیے آئندہ آیت میں توحید خالص کا حکم دیتے ہیں اور شرک سے منع فرماتے ہیں۔ اور یہ بیان کرتے ہیں کہ سب کے سب اللہ ہی کے مملوک اور عبد مطلق ہیں تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ ہماری ہی دی ہوئی ہے اور تم پر جب کوئی مصیبت اور آفت آتی ہے تو تم ہمیں سے فریاد کرتے ہو تو پھر تم غیر اللہ کی کیوں عبادت کرتے ہو مصیبت کے وقت ہم کو پکارنا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 53–54

38:۔ یہ امتنان ہے بطور زجر۔ چاہئے تو یہ تھا کہ تمہاری امیدیں اور تمہارا خوف اللہ تعالیٰ ہی سے وابستہ ہوتا۔ کیونکہ دلائل سے ثابت ہوگیا کہ سب کچھ کرنیوالا اور سب کچھ دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے تم غور کرو تمہارے پاس جس قدر بھی نعمتیں ہیں وہ سب کی سب اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں اور جب تم پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہو۔ ” ” ثُمَّ اِذَا كشَف الخ “ پھر جب وہ اپنی مہربانی سے تمہاری مشکلات آسان اور اور تمہاری تکالیف دور فرما دیتا ہے تو تم میں سے بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے لگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کو غیر اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔ اگر اللہ نے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–56

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے بعثت انبیاء کا ذکر فرما کر مشرکین کے اعتراضات کا مسکت جواب دیا ، ہر نبی نے اپنی امت کو یہی تعلیم دی (آیت) ” ان اعبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت “۔ یعنی صرف اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی پرستش سے بچ جاؤ ، پھر اللہ نے مختلف طریقوں سے توحید کے دلائل سمجھائے ، اور آخر میں فرمایا کہ کائنات میں خدا کی پیدا کردہ تمام چیزیں جو جسم رکھتی ہیں ، اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہیں جس کی صورت یہ ہے کہ ہر ایستادہ چیز کے سائے زمین پر سجدہ کرتے ہیں ، فرمایا آسمانوں کی ہر مخلوق خواہ وہ فرشتے ہوں یا جانور سب اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ، اس کے برخلاف…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجْــــَٔــرُوْنَ 53؀ۚ نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 51–61

ترکیب : اثنین تاکید ہے الہین اور مفعول ثانی لاتتخذوا کا بھی ہوسکتا ہے وفیہ مافیہ۔ واصبا ای وانما حال ہے الذین سے اور عامل اس میں معنی ظرف کے ہیں مابمعنی الذی بکم اس کا صلہ من نعمۃ حال ہے ضمیر سے جو جار میں ہے فمن اللہ خبر دوسری وجہ بھی ممکن ہے۔ تجٔرون ترفعون اصواتکم بالاستغاثۃ سبحانہ جملہ معترضہ مسودًا خبر ظل۔ یتواری حال ہے ضمیر کظیم سے۔ اذاکشف الم اذا شرطیہ اذا فریق فجائیۃ جواب الشرط لیکفروالام کے وقیل لام العاقبۃ۔ تفسیر : پچھلی آیتوں میں یہ ثابت کر کے کہ تمام عالم اس کے قبضہ قدرت میں ہے اسی کے آگے سرتسلیم جھکائے ہوئے ہے۔ قال اللہ سے لے کر فارھبون تک توحید خالص کا حکم دیتا ہے پھر ولہ مافی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا بِکُمْ مِّنْ نِّعْمَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ثُمَّ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّفَاِلَیْہِ تَجْـَٔرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 53) (اور تمہارے پاس جو نعمت بھی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی سے تم فریاد کرتے ہو۔ ) توحید پر انفسی دلیل اس آیت کریمہ کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصے میں مشرکین کی بےعقلی اور حماقت پر تعریض کی گئی ہے اور دوسرے جملے میں توحید پر انفسی دلیل قائم کی گئی ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ تم اگر اپنی عقل پر تھوڑا سا زور دو تو باور کرلو گے کہ تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔ تمہارا اپنا جسم اور اس کی توانائی، تمہارا دماغ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 51–55

فہم القرآن ربط کلام : جب زمین و آسمان کی ہر چیز صرف ایک ہی خالق حقیقی کے سامنے سر بسجود اور اس کے حکم کے تابع ہے تو مشرک کو بھی کسی دوسرے الٰہ کا تصور اور اس کی عبادت نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اے لوگو ! دو الٰہ نہ بناؤ۔ ایرانیوں نے دو خدا بنا رکھے تھے حالانکہ اس حقیقت میں رائی کے دانے کے برابر بھی شبہ نہیں کہ کائنات کا خالق ومالک ایک ہی اِلٰہ ہے۔ اس کا حکم ہے کہ صرف مجھ ہی سے ڈرتے رہو۔ کیونکہ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے۔ اللہ ہی ان کا مالک اور خالق حقیقی ہے۔ اس کے باوجود کسی اور کی تم عبادت کرتے اور اس سے ڈرتے ہو۔ حالانکہ زمین و آسمان اسی کی ملک ہیں اور ہر چیز اسی کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

53: وَمَابِکُمْ مِّنْ نِّعْمَۃٍ (اور تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے) یعنی جو چیز بھی تمہارے ساتھ نعمت و عافیت کی صورت میں متصل ہے۔ اسی طرح غناء و خوشحالی ہے۔ فَمِنَ اللّٰہِ ( پس وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے) ای فھو من اللّٰہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ ثُمَّ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ (پھر جب تمہیں کوئی تکلیف آلیتی ہے) الضُّر سے مرض، فقر، قحط مراد ہے۔ فَاِلَیْہِ تَجْئَرُوْنَ (پس اسی ہی کی طرف تم رجوع کرتے ہو) تو اسی کی طرف گڑ گڑاتے ہو۔ الجؤار کے معنی دعا و استغاثہ میں آواز بلند کرنا ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(53)” وما بکم من نعمۃ فمن اللہ “ یعنی جو کچھ تمہیں نعمتیں عطا کی گئی ہیں وہ اللہ کی طرف سے ہیں۔ ” ثم اذا مسکم الضر “ اس سے مراد قحط اور مرض ہے۔ ” فالیہ تجئرون “ یعنی دعا کے وقت تم اللہ تعالیٰ سے عاجزی اور زاری کرو اور اللہ کی طرف رجوع کرو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–55

51۔ 55۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکوں کی پرچھائیاں بےاختیار اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں اس ذکر کے بعد خود مشرکوں کو یہ ہدایت ہے کہ تم بھی اللہ کے ساتھ اور کسی کو شریک نہ کرو کیونکہ عبادت اور کسی کو لائق نہیں ہے اگر ہے تو اسی خدائے وحدہ لا شریک کو زیبا ہے اور پھر یہ فرمایا کہ سوائے اللہ کے اور کسی سے نہ ڈرو یہ بات اس قابل نہیں ہیں جو ان کا خوف مانا جائے انہیں کوئی قدرت نہیں ہے کہ کسی کو کچھ نقصان پہنچا سکیں البتہ اللہ کے قہر و غضب سے ڈرو کیوں کہ اس کی وہ پکڑ ہے جس کی کوئی پناہ نہیں ہے آسمان و زمین میں جس قدر مخلوق ہے وہ سب اللہ ہی کے تحت حکومت میں ہے ان میں کسی کی ذرہ برابر بھی شراکت نہیں ہے اسی لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–55

آیت : (51-55) اللہ تعالیٰ صرف اپنی عبادت کا حکم دیتا ہے کہ وہی یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور اس پر وہ اس بات سے استدلال کرتا ہے کہ نعمتیں عطا کرنے والا صرف وہی اکیلا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (لاتتخذ و الھن الثنین) ” نہ بناؤ تم معبود دو “ یعنی تم ان کو اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک نہ ٹھہراؤ۔ (انما ھو الہ واھد) ” وہ صرف ایک ہی معبود ہے “ وہ اپنی ذات ‘ اپنے اسماء وصفات اور اپنے افعال میں متفرد ہے۔ پس جس طرح وہ اپنی ذات ‘ اپنے اسماء وصفات اور افعال میں ایک ہے ‘ اسی طرح ان کو چاہیے کہ وہ عبادت میں بھی اس کو ایک مانیں۔ اسی لئے فرمایا : (فایای فارھبون) ” پس مجھ ہی سے ڈرو “ میرے حکم کی تعمیل اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 14–65

زیور کے بارے میں حکم قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 53–54

104۔ ہر نعمت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے : سو ارشاد فرمایا گیا اور جو بھی کوئی نعمت تمہیں حاصل ہے (اے لوگو) وہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔ خواہ کوئی ظاہری نعمت ہو یا باطنی۔ حسی یا معنوی۔ چھوٹی ہو یا بڑی۔ تمہیں معلوم ہو یا نہ ہو کہ کتنی ہی نعمتیں اس کائنات میں اور خودہمارے جسموں کے اندر ایسی ہیں جن کا انسان کو علم بھی نہیں تھا۔ اور جوں جوں اس کا علم و تجربہ ترقی کرتا گیا اس کو ان کا علم ہوتا گیا۔ سو کتنی ہی نعمتیں اور عظیم الشان نعمتیں ایسی ہیں جن کا علم و ادراک انسان کو ماضی میں نہیں تھا مگر آج وہ ان کو اپنے علم و تجربے کی بناء پر جانتا اور اس سے طرح طرح متمتع و مستفید ہورہا ہے۔ اور نت نئے انکشافات…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 48–60

کائنات کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہے تشریح : یہاں عربوں کی انتہائی بری عادت بیان کی گئی ہے جو کہ ان میں عام طور پر رواج پا چکی تھی۔ اول تو وہ لڑکی ذات کو ہی ناپسند کرتے تھے، پھر جب وہ پیدا ہوجاتی تو اس کو اپنی انتہائی ذلت کا باعث سمجھتے تو اس ذلت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اپنی بچی کو مار دیتے یا زندہ کو ہی دفن کردیتے اور یوں تین گناہ کرتے ایک تو اپنی اولاد پر ظلم کرتے دوسرا قتل کا گناہ کرتے اور تیسرا حکمت الٰہی میں دخل دیتے۔ اس کے علاوہ ایک بہت بڑا گناہ یہ کرتے کہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے، یعنی جس بات کو اپنے لیے باعث شرم سمجھتے اس کو اللہ کے لیے مناسب سمجھتے اور یوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–60

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف اور اللہ کریم کا ارشاد ہے کہ متعدد معبود اختیار نہ کرو بلکہ عبادت کا مستحق اللہ کریم اکیلا ہے لہذا اللہ ہی سے ڈرنا چاہئے کہ نفع کی امید پر یا کسی کے خوف سے اس کی ایسی اطاعت جس میں اللہ جل جلالہ کی نافرمانی ہو عبادت کہلائے گی خواہ ایسا کرنے والا اسے معبود نہ ہی کہتا ہو ، حالانکہ ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ جل جلالہ ہی کا ہے اور سارے اسباب اسی کے پیدا کردہ ہیں جن میں بعض کو کبھی اللہ جل جلالہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کردیا جاتا ہے یا بعض اوقات اسباب ہی کو سب کچھ سمجھ لیا جاتا ہے مگر یہ درست نہیں بلکہ ہمیشہ اور ہر حال میں عبادت کا مل وغیر مشروط اطاعت صرف…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 53–54

ف 9 بعض اپنے مالک کا شکر بجالانے کے ساتھ ساتھ کسی دیوی دیوتا یا کسی بزرگ کے شکر یہ کی بھی نیازیں اور نذریں چڑھانا شروع کردیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:53) وما بکم من نعمۃ اور جو کچھ تمہارے پاس ہے نعمتوں میں سے۔ یعنی تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں۔ تجئرون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ جأر یجئر (فتح) جؤار۔ الجؤار کے اصلی معنی جنگلی جانوروں کے چلاّنے کے ہیں۔ بلند آواز سے مدد کے لئے پکارنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جأر (ج ء ر) مادہ۔ تجئرون تم گڑ گڑا کر چیخ چیخ کر مدد کے لئے اس کو پکارتے ہو۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے لا تجئروا الیوم انکم منا لا تنصرون (23:45) آج چلا چلا کر مدد کے لئے مت پکارو۔ ہماری طرف سے تمہاری مطلق مدد نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–56

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 56 لاتتخذوا تم نہ بناؤ۔ الھین (الہ) دو معبود۔ اثنین دو ۔ واحد ایک۔ ایای مجھ سے ہی۔ رھبوا تم ڈرو۔ واصباً ہمیشہ رہنے والا۔ مابکم جو کچھ تمہارے پاس ہے۔ تجئرون تم فریاد رتے ہو تم چلاتے ہو۔ کشف کھل گیا، دور گیا۔ فریق ایک جماعت ۔ یشرکون وہ شرک کرتے ہیں، شریک کرتے ہیں۔ تمتعوا تم فائدہ حاصل کرو۔ نصیب حصہ۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ تسئلن تم پوچھے جاؤ گے۔ تفترون تم گھیرتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 56 قرآن کریم میں سب سے زیادہ جس بات پر زور دیا گیا ہے وہ اللہ کو ایک ماننا اور ان تمام غیر اللہ کی عبادت و بندگی سے منہ موڑنا جن کو کچھ نادانوں نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے ۔ کفار و مشرکین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 53–55

اس آیت مبارکہ میں نعمتوں کا پر شکر کرنے کا ارشاد کیا ہے جتنی نعمتیں تمہیں دنیا میں حاصل ہیں وہ سب خدا کی عنایت ہے۔ مال و دولت، آل واولاد ، رزق کی فراخی سب اسی کی دی ہوئی ہے اس لئے کہ بندوں پر واجب ہے کہ اس کا شکر ادا کریں پھر اس کے بعد انسان کی غفلت کو بیان فرمایا کہ جس وقت انسان کو خوشحالی اور فارغ البالی ہوتی ہے اس وقت اللہ کو بھولا رہتا ہے مگر جب کسی مصیبت کا سامنا ہوتا ہے بیماری یا کوئی سختی درپیش ہوتی ہے، تو خدا سے گڑ گڑ کر فریاد کرنے لگتا ہے۔ پھر جب خدا اس کی فریاد سن لیتا ہے اور اس کی مصیبت دور کردیتا ہے تو جو لوگ گمراہ ہیں اللہ کو بلکل بھول جاتے ہیں ۔ پھر فرمایا خیر تم دنیا میں جس طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 52–56

[30] شرک کی بنیاد غیر اللہ کے خوف پر ہوتی ہے۔ مشرک سمجھتا ہے کہ فلاں فلاں طاقتیں ایسی ہیں جو مجھے نقصان پہنچا سکتی ہیں لہذا انھیں راضی رکھنے کے لئے ان کے آگے یوں نذر ماننی چاہئے، یوں بھینٹ چڑھانی چاہئے، وقس علیٰ ہذا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 52–56

(ف 1) یعنی اطاعت وانقیاد کا جذبہ اللہ کے لئے وقف ہے ، اطاعت شعاری اور فرمانبرداری صرف رب السموت کے لئے مختص ہے مسلمان اصلا کسی دوسرے کا محتاج نہیں ہوتا ۔ حل لغات : یتغیؤا : اصل میں فئی کے معنی رجوع کے ہوتے ہیں ، سایہ چونکہ اپنی جگہ چھوڑ دیتا ہے اس لئے اسے بھی فئی کہتے ہیں داخر : ذلیل ، اثنین : کا اعادہ مزید تنفر پیدا کرنے کے لئے ہے ۔ واصبا : وصب کے معنی لازم دائم کے ہیں بیمار کو بھی واصب کہتے ہیں ، کیونکہ بیماری اسے چمٹ جاتی ہے اور اس کے لئے لازم ہوجاتی ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

53 ۔ اور تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے اور جو نعمت بھی تم کو میسر ہے سو وہ اللہ تعالیٰ کی ہی طرف سے ہے پھر جب تم کو ذرا سی کوئی تکلیف اور سختی مس کرتی ہے اور پہنچتی ہے تو تم اسی کے آگے روتے اور گڑ گڑاتے ہو اور تم اسی سے فریاد کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 01۔ یعنی جیسا ڈرنے کے قابل سواخدا کے کوئی نہیں ایسا ہی نعمت دینے والا اور امید کے قابل بھی بجز خدا کے کوئی نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سب نعمتیں تو اللہ ہی کی دی ہوئی ہیں اور تکلیفیں دور کرنے والا بھی وہی ہے : 61۔ نعمتوں میں سے جو کچھ تمہارے پاس ہے سب اللہ ہی کی طرف سے ہے اور جب بھی تم کو کوئی دکھ پہنچتا ہے تو اس کے آگے آہ وزاری کرتے ہو تاکہ وہ اس دکھ کو رفع کر دے ، اس جگہ اس حقیقت کو یاد دلایا ہے جس طرح کی نعمتیں بھی انسان کو حاصل ہیں ان کا سرچشمہ ذات خداوندی ہی ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ انسان کو خود بھی اس کا احساس ہے چناچہ اس پر جب بھی کوئی مصیبت پڑتی ہے تو وہ بےساختہ اللہ ہی کو یاد کرنے لگتا ہے ، فطرت انسانی بھی بڑی عجیب چیز ہے کہ ذرا پھنس گئے تو خدا یاد آگیا اور پھر جب تک کام چلتا رہا کبھی بھول کر بھی خدا یاد نہ آیا اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–57

Even the Punishment of the World is Mercy in Disguise In the verses cited above, after having mentioned various punishments which could seize disbelievers within this world, it was said in the end: فَإِنَّ رَ‌بَّكُمْ لَرَ‌ءُوفٌ رَّ‌حِيمٌ (So, indeed your Lord is Very Kind Very Merciful). First of all, by using the word: رَبّ (Rabb: Lord) here, the hint given is that all these punishments which overtake human beings in this world are there to warn them as part of the dictates of Divine mercy. After that, by introducing the word: رَ‌ءُوفٌ(Ra uf: Kind) headed by the intensifying particle lam)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

46. That is, the fact, that you run to Allah for help in your distress and not to anyone else, is a clear proof of the Oneness of Allah, which has been embedded in your own hearts. At the time of your affliction, your true nature, which had been suppressed by the gods you had forged, involuntarily comes to the surface and invokes Allah, for it knows no other god or lord or master, having any real power. (For further details please refer to (E.Ns 29 and 41 of Surah Al-Anaam).

Read the full tafseer →