Explained with ayahs 51–55
ہر چیز کا واحد مالک وہی ہے
اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، وہ لا شریک ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، مالک ہے، پالنہار ہے۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے۔ اس کے سو دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا نا خوشی اس کی ماتحت ہے۔ سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے، خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو۔ اسکے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو۔ دین خالص صرف اللہ ہی کا ہے آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے، اسی کے فضل و…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 43
دو خداؤں کی نفی میں دو سے زیادہ خداؤں کی نفی آپ سے آپ شامل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–57
خلاصہ تفسیر
کیا (ان) لوگوں نے اللہ کی ان پیدا کی ہوئی چیزوں کو نہیں دیکھا (اور دیکھ کر توحید پر استدلال نہیں کیا) جن کے سائے کبھی ایک طرف کو کبھی دوسری طرف کو اس طور پر جھکتے جاتے ہیں کہ (بالکل) خدا کے (حکم کے) تابع ہیں (یعنی سائے کے اسباب کہ آفتاب کی حرکت ہے پھر سایہ کے خواص یہ سب بحکم الہی ہے) اور وہ (سایہ دار) چیزیں بھی (اللہ کے رو برو) عاجز (اور تابع حکم) ہیں اور (جس طرح یہ اشیاء مذکورہ جن میں حرکت ارادیہ نہیں جیسا کہ یتفیئوا کی اسناد ظلال کی طرف اس کا قرینہ ہے کیونکہ متحرک بالارادہ میں سایہ کی حرکت خود اس متحرک بالا رادہ کی حرکت سے ہوتی ہے حکم خدا کے تابع ہیں اسی طرح) اللہ ہی کے مطیع…
Read the full tafseer →وَقَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْٓا اِلٰـهَيْنِ اثْـنَيْنِ ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ فَاِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ۔
توحید کے حق میں خدا کی شہادت : یہ توحید کے حق میں خود خدا کی شہادت کا حوالہ ہے جو اس کے انبیاء اور رسولوں، کتابوں اور صحیفوں کے ذریعے سے لوگوں کو پہنچی ہے فرمایا کہ اس نے لوگوں کو اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے یہی تعلیم دی ہے کہ دو معبود نہ بنانا ہمیں ایک ہی معبود ہوں تو مجھی سے ڈرو۔
Read the full tafseer →51۔ 1 کیونکہ اللہ کے سوا کوئی معبود ہے ہی نہیں۔ اگر آسمان و زمین میں دو معبود ہوتے تو نظام عالم قائم ہی نہیں رہ سکتا تھا یہ فساد اور خرابی کا شکار ہوچکا ہوتا۔ جب کائنات کا خالق ایک ہے اور وہی بلا شرکت غیر تمام کائنات کا نظم و نسق چلا رہا ہے تو معبود بھی صرف وہی ہے جو اکیلا ہے۔ دو یا دو سے زیادہ نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
23: یہ آیت سجدہ ہے، یعنی جو شخص بھی یہ آیت عربی زبان میں پڑھے، اس پر سجدہ کرنا واجب ہوجاتا ہے، اسے سجدہ تلاوت کہتے ہیں، جو نماز کے سجدے کے علاوہ ہے، البتہ صرف ترجمہ پڑھنے سے یا آیت کو پڑھے بغیر صرف دیکھنے سے سجدہ واجب نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
درس نمبر 121 ایک نظر میں
مسئلہ توحید کا یہ تسیرا دور ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کائنات کا خدا صرف ایک خدا ہے۔ اس سبق کا آغاز اس مفہوم سے ہوتا ہے کہ اللہ ایک ہے جو وحدہ مالک اور منعم ہے۔ پہلی تین آیات میں یہی مفہوم بیان ہوا ہے۔ یہاں ایک بہترین تمثیل دی گئی ہے کہ ایک مالک ہے ، رازق ہے اور دوسرا شخص غلام اور مملوک اور محتاج ہے۔ جس کا کوئی اختیار نہیں ۔ اور جس کی ملکیت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ تو پھر اللہ جو خالق مالک اور رازق ہے وہ اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کس طرح برابر ہو سکتے ہیں جو نہ مالک ہیں اور نہ رازق۔ کس طرح ہم دونوں کو کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی الٰہ ہے اور…
Read the full tafseer →7 یعنی جب تمام آسمانی و زمینی مخلوق ایک خدا کے سامنے بےاختیار سر بسجود اور عاجز و مقہور ہے، پھر عبادت میں کوئی دوسرا شریک کہاں سے آگیا۔ جو سارے جہان کا مالک ومطاع ہے تنہا اسی کی عبادت ہونی چاہیے اور اسی سے ڈرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
آیت 50 يَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ
یہ خصوصی طور پر فرشتوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے۔ جیسے سورة التحریم میں فرمایا گیا : لَا یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ ”وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جو حکم وہ انہیں دیتا ہے اور وہی کرتے ہیں جو حکم انہیں دیا جاتا ہے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
50 دو خداؤں کا عقیدہ رکھنے والے مجوسی مذہب کا تعارف :۔ عہد نبوی میں ایران میں مجوسی مذہب رائج تھا یہ لوگ سورج پرست اور آتش پرست تھے۔ اپنے آپ کو سیدنا نوح کا پیرو کار بتاتے اور باقی سب نبیوں کے دشمن تھے۔ ان کے عقیدہ کے مطابق خدا ایک نہیں بلکہ دو ہیں۔ ایک خیر اور نور کا خدا جسے وہ یزدان کہتے تھے، دوسرا بدی اور تاریکی کا خدا جسے وہ اہرمن کہتے تھے۔ یہ لوگ اپنی الہامی کتابوں کا نام زند اور اوستا بتاتے تھے اور اہل عرب ان سے متعارف تھے۔ انھیں لوگوں کے عقیدہ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دو الٰہ بنانا چھوڑ دو کیونکہ اس کائنات کا الٰہ صرف ایک ہی ہوسکتا ہے اور دو خدا آپس میں برابر کی چوٹ…
Read the full tafseer →73۔ (جیسا کہ مجوس نے اور بعض اور بددین فرقوں نے قرار دے رکھا ہے۔ قرآن مجید جس طرح شرک کی اور ہر صورت کو مٹا رہا ہے اسی طرح ثنویت کو بھی، مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” وقال اللہ) یعنی اللہ نے اپنی مخلوق کو پیغمبروں کے ذریعہ سے یہ حکم دے رکھا ہے۔
74۔ (کہ میں ہی ہر طرح کے انعام اور عتاب پر قادر ہوں) ھو (صیغہ غائب) کے معا بعد (آیت) ” ایای (صیغہ متکلم) کی طرف انتقال پیدا ہوجاتا ہے۔ وھو من طریقۃ الالتفات وھو ابلغ فی الترھیب من قولہ ایاہ فارھبوہ (کشاف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
آیت نمبر 51 تا 60
ترجمہ : اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے کہ دو معبود نہ بناؤ (اِثْنَیْنِ ) اِلھٰیْنِ کی تاکید ہے معبود تو صرف وہی اکیلا ہے اس کو الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کرنے کے لئے لائے ہیں، پس تم سب میرا ہی خوف (ڈر) رکھو، (یعنی) مجھ ہی سے ڈرو نہ کہ کسی اور سے، اس میں غیبت سے تکلم کی جانب التفات ہے آسمانوں اور زمین میں کو کچھ ہے اسی کا ہے ملک اور مخلوق اور غلام ہونے کے اعتبار سے اور طاعت دائماً اسی کی لازم ہے، واصِبًا، دین ٌ سے حال ہے اور اس میں عامل معنی ظرف ہیں (ای ثَبَتَ لہٗ الدین) کیا پھر بھی تم غیر اللہ سے ڈرتے ہو ؟ معبود برحق وہی ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور استہفام انکار یا تو بیخ…
Read the full tafseer →وقال اللہ لا تتخذوا الھین اثین انما ھو الٰہ واحد اور اللہ نے فرمایا ہے کہ دو معبود نہ قرار دو ‘ بس اللہ ہی ایک معبود ہے۔ یعنی دوئی الوہیت کے منافی ہے (دو اِلٰہ ہو ہی نہیں سکتے) آخری آیت دلالت کر رہی ہے کہ اس جگہ وحدانیت کو ثابت کرنا مقصود ہے ‘ الوہیت کا اثبات مقصود نہیں۔ الوہیت کے لوازم میں سے وحدانیت ہے۔
فایای فارھبون پس خصوصیت کے ساتھ مجھ ہی سے ڈرا کرو۔ (اِیَّای فعل محذوف کا مفعول ہے اور فارْھَبُوْا کا مفعول محذوف ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا : اِیَّایَ اِرْھَبُوْا فَارْھَبُوْنِی تکرار جملہ تاکید حکم کو ظاہر کر رہی ہے) ۔
Read the full tafseer →(51) اللہ تعالیٰ نے فرمایا دو یا زیادہ معبودوں کی پوجا مت کرو، بس ایک ہی معبود وہی وحدہ لاشریک ہے تو ان بتوں کی پوجا کرنی میں مجھ سے خوف کرو۔
Read the full tafseer →وَقَال اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْٓا اِلٰـهَيْنِ اثْـنَيْنِ ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ فَاِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ۔۔ : اوپر بتایا کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز اور اس کی مطیع و فرماں بردار ہیں، اس مناسبت کے ساتھ اب انسانوں کو اس مالک الملک کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانے سے منع فرمایا ہے۔
یہاں ایک سوال ہے کہ ”اِلٰـهَيْنِ“ کا معنی ہی دو معبود ہے، پھر ”اثْـنَيْنِ“ کی کیا ضرورت ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی چیز کی قباحت میں زور پیدا کرنے کے لیے بات تاکید کے ساتھ کی جاتی ہے، یہاں ”اثْـنَيْنِ“ کا مقصد یہی ہے۔ تو جب دو معبود نہیں بن سکتے تو زیادہ کس طرح بن سکتے ہیں ؟…
Read the full tafseer →آیت نمبر 51
قولہ تعالیٰ : وقال اللہ لا تتخذوٓا الھین اثنین کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے تم دو خدا نہ بناؤ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اثنین کا قول تاکید کے لئے آیا ہے۔ اور جب سچا خدا متعدد نہیں ہوسکتا تو پھر ہر وہ جو متعدد ہوگا تو وہ الہ (خدا) نہیں ہے، اور اثنین کے ذکر پر اقتصار کیا گیا ہے، کیونکہ مقصود تعدد کی نفی ہے۔ انما ھو الہ واحد یعنی بلاشبہ اس کی ذات مقدسہ تو فقط ایک ہے۔ اور اس کی وحدانیت پر عقلی اور شرعی دلیل قائم ہوچکی ہے جیسا کہ اس کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے اور ہم نے اسے شرح الاسماء میں اس کے اسم پاک الواحد کے تحت ذکر کیا ہے، والحمدللہ۔ فایای فارھبون یعنی پس تم مجھ سے ہی ڈرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–56
1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وللہ یسجد مافی السموت وما فی الارض من دآبۃ “ سے مراد ہے کہ کوئی چیز نہیں چھوٹتی اس کی مخلوق میں سے مگر اس کی عبادت کرتی ہے خوشی سے یا نا خوشی سے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ آسمان کی مخلوق خوشی سے سجدہ کرتی ہے اور زمین کی مخلوق بعض خوشی سے اور بعض مجبورا سجدہ کرتی ہے۔
3:۔ خطیب نے تاریخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یخافون ربہم “ یعنی وہ اللہ کے جلال سے ڈرتے ہیں۔
4: ابن ابی شیبہ اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے گذرے اور وہ اپنی دو انگلیوں کے ساتھ دعا کررہے…
Read the full tafseer →[وَقَالَ : اور کہا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ لَا تَتَّخِذُوْٓا : تم لوگ مت بنائو ] [ اِلٰـهَيْنِ اثْـنَيْنِ ۚ: دو الٰہ ] [ انمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ هُوَ : وہ ] [ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ : واحد الٰہ ہے ] [ فَاِيَّايَ : پس صرف مجھ سے ہی ] [ فَارْهَبُوْنِ : پھر خوف کرو میرا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
ہر مخلوق فرشتے وغیرہ سب اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں
ان آیات میں بندوں کو اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل کی طرف متوجہ فرمایا ہے اور اپنی شان خالقیت اور مالکیت بیان فرمائی ہے اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا فرمائی ہیں ان کو کیوں نہیں دیکھتے ؟ ان میں غور کرو اور دیکھو کہ ان کا سایہ دائیں طرف بائیں طرف جو زمین پر پڑتا ہے اس سائے میں بھی اللہ تعالیٰ شانہٗ کی شان خالقیت ظاہر ہو رہی ہے یہ سائے اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہیں اللہ تعالیٰ جس طرف چاہتے ہیں یہ سائے اسی طرف جھکتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں اور اس کے حکم کے سامنے عاجز محض ہیں، اور سایوں پر اور سایہ والی چیزوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
قال اللہ تعالیٰ : وقال اللہ لا تتخذو الہین اثنین .... الیٰ .... فسوف تعلمون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ جمیع ماسوا اللہ خواہ وہ عالم اجسام سے ہو یا عالم ارواح سے ہو سب اللہ کے مطیع اور فرماں بردار ہیں اور اس کے آگے سر تسلیم جھکائے ہوئے ہیں اس لیے آئندہ آیت میں توحید خالص کا حکم دیتے ہیں اور شرک سے منع فرماتے ہیں۔ اور یہ بیان کرتے ہیں کہ سب کے سب اللہ ہی کے مملوک اور عبد مطلق ہیں تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ ہماری ہی دی ہوئی ہے اور تم پر جب کوئی مصیبت اور آفت آتی ہے تو تم ہمیں سے فریاد کرتے ہو تو پھر تم غیر اللہ کی کیوں عبادت کرتے ہو مصیبت کے وقت ہم کو پکارنا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
37:۔ یہ دعوی توحید کا دوسری بار اعادہ اور دلائل ماقبل کا حاصل وثمرہ ہے یعنی جب تکوینی طور پر ساری کائنات اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجز و بےبس اور اس کے زیر تصرف و اختیار ہے تو پھر اللہ کے سوا کسی اور کو الہ مت بناؤ۔ الٰہ یعنی کارساز اور مالک و مختار وہی ایک اللہ ہے۔ اسی سے ڈرو اور مصائب و آفات میں صرف اسی کو پکارو ” اِلٰھَیْنِ “ کے بعد ” اِثْنَیْنِ “ اس لیے فرمایا کیونکہ جنس الٰہ کی نفی مقصود نہیں بلکہ تعداد آلہہ کی نفی مقصود ہے۔ ” وَ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ الخ “ یہ چوتھی دلیل سے متلعق ہے اور اسی کا حصہ ہے۔ ” وَاصِباً اي دائما “ (قرطبی) ۔ ربیع بن انس سے منقول ہے واصبا اي خالصا (روح) اور ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے بعثت انبیاء کا ذکر فرما کر مشرکین کے اعتراضات کا مسکت جواب دیا ، ہر نبی نے اپنی امت کو یہی تعلیم دی (آیت) ” ان اعبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت “۔ یعنی صرف اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی پرستش سے بچ جاؤ ، پھر اللہ نے مختلف طریقوں سے توحید کے دلائل سمجھائے ، اور آخر میں فرمایا کہ کائنات میں خدا کی پیدا کردہ تمام چیزیں جو جسم رکھتی ہیں ، اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہیں جس کی صورت یہ ہے کہ ہر ایستادہ چیز کے سائے زمین پر سجدہ کرتے ہیں ، فرمایا آسمانوں کی ہر مخلوق خواہ وہ فرشتے ہوں یا جانور سب اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ، اس کے برخلاف…
Read the full tafseer →وَقَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْٓا اِلٰـهَيْنِ اثْـنَيْنِ ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ فَاِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ 51
أخذ
الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255]
( اخ ذ) الاخذ
۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–61
ترکیب : اثنین تاکید ہے الہین اور مفعول ثانی لاتتخذوا کا بھی ہوسکتا ہے وفیہ مافیہ۔ واصبا ای وانما حال ہے الذین سے اور عامل اس میں معنی ظرف کے ہیں مابمعنی الذی بکم اس کا صلہ من نعمۃ حال ہے ضمیر سے جو جار میں ہے فمن اللہ خبر دوسری وجہ بھی ممکن ہے۔ تجٔرون ترفعون اصواتکم بالاستغاثۃ سبحانہ جملہ معترضہ مسودًا خبر ظل۔ یتواری حال ہے ضمیر کظیم سے۔ اذاکشف الم اذا شرطیہ اذا فریق فجائیۃ جواب الشرط لیکفروالام کے وقیل لام العاقبۃ۔
تفسیر : پچھلی آیتوں میں یہ ثابت کر کے کہ تمام عالم اس کے قبضہ قدرت میں ہے اسی کے آگے سرتسلیم جھکائے ہوئے ہے۔ قال اللہ سے لے کر فارھبون تک توحید خالص کا حکم دیتا ہے پھر ولہ مافی…
Read the full tafseer →وَقَالَ اللّٰہُ لاَ تَتَّخِذُوْٓا اِلٰـھَیْنِ اثْنَیْنِ ج اِنَّمَا ھُوَاِلٰـہٌ وَّاحِدٌ ج فَاِیَّایَ فَارْھَبُوْن۔
(سورۃ النحل : 51)
(اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا دو معبود مت بنائو، وہ تو صرف ایک ہی معبود ہے، پس فقط مجھ ہی سے ڈرو۔ )
توحید ایک حقیقت ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی شہادت
سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے متنوع دلائل سے یہ بات ثابت کردی ہے کہ توحید اس کائنات کی اصل حقیقت ہے۔ شرک ایک عارضہ ہے جو کم علمی، کم عقلی یا دل و دماغ کے بگاڑ سے پیدا ہوتا ہے۔ اور پھر اس کی تائید میں کائنات کی ایک ایک چیز کا حوالہ دیا کہ دیکھو وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
فہم القرآن
ربط کلام : جب زمین و آسمان کی ہر چیز صرف ایک ہی خالق حقیقی کے سامنے سر بسجود اور اس کے حکم کے تابع ہے تو مشرک کو بھی کسی دوسرے الٰہ کا تصور اور اس کی عبادت نہیں کرنی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اے لوگو ! دو الٰہ نہ بناؤ۔ ایرانیوں نے دو خدا بنا رکھے تھے حالانکہ اس حقیقت میں رائی کے دانے کے برابر بھی شبہ نہیں کہ کائنات کا خالق ومالک ایک ہی اِلٰہ ہے۔ اس کا حکم ہے کہ صرف مجھ ہی سے ڈرتے رہو۔ کیونکہ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے۔ اللہ ہی ان کا مالک اور خالق حقیقی ہے۔ اس کے باوجود کسی اور کی تم عبادت کرتے اور اس سے ڈرتے ہو۔ حالانکہ زمین و آسمان اسی کی ملک ہیں اور ہر چیز اسی کی…
Read the full tafseer →51 : وَقَالَ اللّٰہُ لَاتَتَّخِذُوا اِلٰھَیْنِ اثْنَیْنِ اِنَّمَا ھُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ (اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہ بنائو دو معبود۔ فقط اللہ تعالیٰ ہی ایک معبود ہے)
سوال : دو اور ایک سے زائد میں عددو معدود کو جمع کیا جاتا ہے اور کہتے ہیں عندی رجال ثلاثۃ کیونکہ معدود خاص عدد پر دلالت سے عاری ہوتا ہے۔ ایک اور دو میں تو معدود کی خود عدد پر دلالت ہوتی ہے۔ پس رجل واحد اور رجلان اثنان کہنے کی ضرورت نہیں۔
جواب : واحد و تثنیہ کا معنی جس اسم میں ہوتا ہے۔ اس کی دلالت دو چیزوں پر ہوتی ہے۔ نمبر 1۔ جنسیت نمبر 2۔ خاص عدد۔ جب یہ دلالت مراد لیں کہ دونوں کا معنی عدد ہے تو اس کو دوبارہ لاکر تاکید کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →تفسیر (51)” وقال اللہ لا تتخذوا…تا فارھبون “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
51۔ 55۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکوں کی پرچھائیاں بےاختیار اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں اس ذکر کے بعد خود مشرکوں کو یہ ہدایت ہے کہ تم بھی اللہ کے ساتھ اور کسی کو شریک نہ کرو کیونکہ عبادت اور کسی کو لائق نہیں ہے اگر ہے تو اسی خدائے وحدہ لا شریک کو زیبا ہے اور پھر یہ فرمایا کہ سوائے اللہ کے اور کسی سے نہ ڈرو یہ بات اس قابل نہیں ہیں جو ان کا خوف مانا جائے انہیں کوئی قدرت نہیں ہے کہ کسی کو کچھ نقصان پہنچا سکیں البتہ اللہ کے قہر و غضب سے ڈرو کیوں کہ اس کی وہ پکڑ ہے جس کی کوئی پناہ نہیں ہے آسمان و زمین میں جس قدر مخلوق ہے وہ سب اللہ ہی کے تحت حکومت میں ہے ان میں کسی کی ذرہ برابر بھی شراکت نہیں ہے اسی لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
آیت : (51-55)
اللہ تعالیٰ صرف اپنی عبادت کا حکم دیتا ہے کہ وہی یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور اس پر وہ اس بات سے استدلال کرتا ہے کہ نعمتیں عطا کرنے والا صرف وہی اکیلا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (لاتتخذ و الھن الثنین) ” نہ بناؤ تم معبود دو “ یعنی تم ان کو اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک نہ ٹھہراؤ۔ (انما ھو الہ واھد) ” وہ صرف ایک ہی معبود ہے “ وہ اپنی ذات ‘ اپنے اسماء وصفات اور اپنے افعال میں متفرد ہے۔ پس جس طرح وہ اپنی ذات ‘ اپنے اسماء وصفات اور افعال میں ایک ہے ‘ اسی طرح ان کو چاہیے کہ وہ عبادت میں بھی اس کو ایک مانیں۔ اسی لئے فرمایا : (فایای فارھبون) ” پس مجھ ہی سے ڈرو “ میرے حکم کی تعمیل اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →100۔ معبود برحق صرف اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے : اس کے سوادوسرا کوئی بھی معبود نہ ہے، نہ ہوسکتا ہے اس لئے اس نے صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تم سب مجھ ہی سے ڈرو اے لوگو ! کہ سب کچھ میرے ہی قبضہ قدرت میں ہے۔ پس تم میرے سوا اور کسی سے مت ڈرو۔ اور امر واقع یہی ہے کہ جو اس سے ڈرتا ہے وہ اور کسی سے نہیں ڈرتاخواہ وہ کوئی بھی ہو اور کیسا بھی ہو اور کہیں بھی ہو۔ اور اس کے برعکس جو اس سے نہیں ڈرتا وہ ہر کسی سے حتی کہ وہمی اور فرضی چیزوں سے بھی ڈرتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اللہ سے ڈرنے والا انسان ایسا قوی القلب، مطمئن الضمیر اور مرتاح البال ہوجاتا ہے کہ اس کو کسی کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–60
کائنات کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہے
تشریح : یہاں عربوں کی انتہائی بری عادت بیان کی گئی ہے جو کہ ان میں عام طور پر رواج پا چکی تھی۔ اول تو وہ لڑکی ذات کو ہی ناپسند کرتے تھے، پھر جب وہ پیدا ہوجاتی تو اس کو اپنی انتہائی ذلت کا باعث سمجھتے تو اس ذلت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اپنی بچی کو مار دیتے یا زندہ کو ہی دفن کردیتے اور یوں تین گناہ کرتے ایک تو اپنی اولاد پر ظلم کرتے دوسرا قتل کا گناہ کرتے اور تیسرا حکمت الٰہی میں دخل دیتے۔ اس کے علاوہ ایک بہت بڑا گناہ یہ کرتے کہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے، یعنی جس بات کو اپنے لیے باعث شرم سمجھتے اس کو اللہ کے لیے مناسب سمجھتے اور یوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
اور اللہ کریم کا ارشاد ہے کہ متعدد معبود اختیار نہ کرو بلکہ عبادت کا مستحق اللہ کریم اکیلا ہے لہذا اللہ ہی سے ڈرنا چاہئے کہ نفع کی امید پر یا کسی کے خوف سے اس کی ایسی اطاعت جس میں اللہ جل جلالہ کی نافرمانی ہو عبادت کہلائے گی خواہ ایسا کرنے والا اسے معبود نہ ہی کہتا ہو ، حالانکہ ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ جل جلالہ ہی کا ہے اور سارے اسباب اسی کے پیدا کردہ ہیں جن میں بعض کو کبھی اللہ جل جلالہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کردیا جاتا ہے یا بعض اوقات اسباب ہی کو سب کچھ سمجھ لیا جاتا ہے مگر یہ درست نہیں بلکہ ہمیشہ اور ہر حال میں عبادت کا مل وغیر مشروط اطاعت صرف…
Read the full tafseer →ف 7 اور یہ بتایا کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی مطیع اور فرمانبردار ہیں۔ اب اس کے بعد شرک سے منع فرمایا۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(16:51) لا تتخذوا الھین اثنین۔ دو معبود مت اختیار کرو یہ تعدد کی نفی ہے دو کثرت و تعداد کا ادنیٰ درجہ ہے جب دو کی نفی ہوئی تو اس سے زیادہ کی نفی خود بخود ہوگئی ۔
فارھبون۔ امر۔ جمع مذکر حاضر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم محذوف ۔ تم مجھ سے ڈرو۔ (باب سمع) رھبۃ سے۔ بےتابی اور بےچینی کے ساتھ ڈرنا۔
انما ھو الہ واحد فایای فارھبون۔ صیغہ غائب کے معاً بعد صیغہ متکلم کی طرف انتقال صفت ِ التفات کہلاتا ہے۔ اور عربی اسلوب بلاغت میں یہ ایک اعلیٰ صفت ہے اس کی کئی مثالیں ہیں۔ مثلاً اسی سورت کی آیت نمبر 75 ملاحظہ ہو۔ غائب سے متکلم کی طرف التفات اپنی کبریائی اور عنایات کی طرف توجہ دلانا۔ یا ترہیب میں شدت پیدا کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 56
لاتتخذوا تم نہ بناؤ۔ الھین (الہ) دو معبود۔ اثنین دو ۔ واحد ایک۔ ایای مجھ سے ہی۔ رھبوا تم ڈرو۔ واصباً ہمیشہ رہنے والا۔ مابکم جو کچھ تمہارے پاس ہے۔ تجئرون تم فریاد رتے ہو تم چلاتے ہو۔ کشف کھل گیا، دور گیا۔ فریق ایک جماعت ۔ یشرکون وہ شرک کرتے ہیں، شریک کرتے ہیں۔ تمتعوا تم فائدہ حاصل کرو۔ نصیب حصہ۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ تسئلن تم پوچھے جاؤ گے۔ تفترون تم گھیرتے ہو۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 56
قرآن کریم میں سب سے زیادہ جس بات پر زور دیا گیا ہے وہ اللہ کو ایک ماننا اور ان تمام غیر اللہ کی عبادت و بندگی سے منہ موڑنا جن کو کچھ نادانوں نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے ۔ کفار و مشرکین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
مشرکین کو نصیحت : اوپر ذکر تھا کہ کل کائنات زمین وآسمان کی چیزیں مع سایہ کے اللہ تعالیٰ کو ہی سجدہ کرتی ہیں۔ اس ذکرکے بعد مشرکین کو یہ ہدایت ہے کہ تم بھی اللہ کے ساتھ اور کسی کو شریک نہ کرو۔ کیونکہ عبادت اور کسی کو لائق نہیں ہے اگر ہے تو اسی خدائے وحدہ لاشریک کو زیبا ہے ۔ پھر یہ فرمایا کہ سوائے اللہ کے کسی اور سے نہ ڈور یہ بت اس قابل نہیں ہیں جو ان کا خوف مانا جائے انہیں کوئی قدرت نہٰیں ہے۔ آسمان و زمین میں جس قدر مخلوق ہے وہ سب اللہ ہی کے تحت حکومت میں ہے۔ ان میں کسی کی ذرہ برابر بھی شراکت نہیں ہے۔ اسی لئے خالص اسی کی عبادت سزاوار ہے اور ہمیشہ اس کی اطاعت وفرمابرداری زیبا ہے۔ کسی غیر سے کیوں…
Read the full tafseer →[29] جیسا مجوس اور دوسرے بددین فرقوں کا عقیدہ ہے۔ نیز دو معبودوں کی نفی میں دو سے زیادہ معبودوں کی نفی آپ سے آپ شامل ہے۔
Read the full tafseer →ثنویت کا عقیدہ غلط ہے !
(ف 2) اسلام توحید کا دین ہے ، وہ کہتا ہے جب ساری کائنات اللہ کی مطیع ہے ، تو پھر کیونکر دو خداؤں کا تخیل ممکن ہوسکتا ہے ،
ثنویت کا عقیدہ اول اول ایران سے نکلا ہے ، ان کے نزدیک کائنات میں دو قسم کے عناصر ہیں ، شروخیر ، شر کا خدا اور ہے ، خیر کا اور ، قرآن اس مجوسیت کا منکر ہے ، وہ کہتا ہے صرف ایک خدا کا وجود عقلا ممکن ہے ، کیونکہ کائنات میں ایک قانون ایک ارادہ اور ایک مشیت کار فرما ہے ، کائنات کے مظاہر میں اختلاف وثنویت نہیں ۔ لہذا دو خداؤں کا وجود عقل وبصیرت کی رو سے صحیح نہیں ۔
دنیا میں اگر دو خدا ہوں ، یا زیادہ تو پھر لازم آئے گا کہ دو باہم مختلف اراء سے دنیا میں…
Read the full tafseer →51 ۔ اور اللہ تعالیٰ نے بواسطہ یہ حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ دو معبود دو یا زیادہ تجویز نہ کرو بس معبود حقیقی تو صرف وہی ایک ہے پس تم مجھ ہی سے ڈرا کرو ۔ دو معبودوں کی ممانعت مستلزم ہے اور زیادہ کی ممانعت کر اور جب معبود برحق ایک ہی ہے اور وہی تمام اختیارات رکھتا ہے تو اس سے ہی ڈرو۔
Read the full tafseer →ف 8۔ کیونکہ جب الوہیت میرے ساتھ خاص ہے تو جو اس کے لوازم ہیں کمال قدرت وغیرہ وہ بھی میرے ہی ساتھ خاص ہوں گے تو انتقام وغیرہ کا خوف مجھ ہی سے چاہیے اور شرک انتقام کو مستدعی ہے پس شرک نہ کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →تفسیر :
دو معبود نہ بناؤ معبود ایک ہی ہے پس اسی سے ڈرو :
59۔ قرآن کریم جس طرح شرک کی اور ہر صورت کو مٹا رہا ہے اسی طرح ثنویت کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے اور دو خداؤں کی نفی سے تعداد کی نفی مطلوب ہے یعنی وہ ایک ہی ہے دو نہیں اور جب دو نہیں جو کثرت تعداد کا ادنی درجہ ہے تو اس سے زیادہ کیسے ہوسکتے ہیں اور پھر یہ بھی کہ توحید الہی کے کھلے اور روشن دلائل سن لینے کے بعد کسی دوسرے کو خدا سمجھنا انتہائی حماقت ہے جہ جائیکہ سینکڑوں معبود گھڑ لئے جائیں اور ان کی پوجا کی جائے ، اللہ تعالیٰ سے ڈرو کہ واقعی اس کی پکڑ بہت سخت ہے ، دوسری جگہ اس طرح ارشاد فرمایا کہ ” اے پیغمبر اسلام “ ان سے کہو اگر اللہ کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–57
Even the Punishment of the World is Mercy in Disguise
In the verses cited above, after having mentioned various punishments which could seize disbelievers within this world, it was said in the end: فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ (So, indeed your Lord is Very Kind Very Merciful).
First of all, by using the word: رَبّ (Rabb: Lord) here, the hint given is that all these punishments which overtake human beings in this world are there to warn them as part of the dictates of Divine mercy. After that, by introducing the word: رَءُوفٌ(Ra uf: Kind) headed by the intensifying particle lam)…
Read the full tafseer →43. Negation of two gods by itself negates the existence of more than two gods.
Read the full tafseer →