An-Nahl 16:50

An-Nahl · from ayah 50

16:50Sajda

یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ ۟يَخَافُوۡنَ رَبَّهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ وَيَفۡعَلُوۡنَ مَا يُؤۡمَرُوۡنَ ۩

اور اپنے پروردگار سے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے ہیں اور جو ان کو ارشاد ہوتا ہے اس پر عمل کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They fear their Lord above them, and they do what they are commanded.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 6 of surah · Ruku 12 of juzع

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:50

اپنے رب سے جو اُن کے اوپر ہے، ڈرتے ہیں اور جو کچھ حکم دیا جاتا ہے اسی کے مطابق کام کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اپنے پروردگار سے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے ہیں اور جو ان کو ارشاد ہوتا ہے اس پر عمل کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے، کپکپاتے رہتے ہیں اور جو حکم مل جائے اس کی تعمیل کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ اپنے اس پروردگار سے ڈرتے ہیں جو ان کے اوپر ہے اور وہی کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اپنے اوپر اپنے رب کا خوف کرتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے رہتے ہیں اور جو حکم انہیں دیا جاتا ہے (اسے) بجا لاتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ اپنے رب سے، جو ان کے اوپر ہے، ڈرتے ہیں اور وہ کرتے ہیں جو انھیں حکم دیا جاتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں جو ان کے اوپر ہے اور وہی کام کرتے ہیں جو انھیں حکم دیا جاتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ اپنے اوپر اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جس کا ان کو حکم ملتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ ڈرتے رہتے ہیں اپنے رب سے، جو کہ ان کے اوپر ہے، اور وہ (برضا ورغبت) بجا لاتے ہیں ان احکام کو جو ان کو دئیے جاتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

وہ ڈرتے رہتے ہیں اپنے پروردگار سے جو ان پر بالا دست ہے اور وہ وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم ملتا رہتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ ڈرتے رہتے ہیں اپنے اوپر اپنے رب سے اور وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے ہیں اور جو ان کو کہا جاتا ہے اس پر عمل کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They hold their Lord, Who is above them, in fear, and do as they are bidden.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They fear their Lord above them and do as they are commanded.

— Muhammad Taqi Usmani

They fear their Lord above them and do as they are commanded.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They fear their Lord above them, and they do what they are commanded.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They fear their Lord above them, and do what they are bidden.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They fear their Lord above them, and they do what they are commanded.

— Saheeh International

They (angels) have fear of their Lord above them and fulfill His commands.

— Muhammad Sarwar

They fear their Lord above them and do what they are commanded.

— Muhammad Habib Shakir

They fear their Lord above them and do that which they are commanded.

— Abdul Majid Daryabadi

They all revere their Lord, high above them, and they do all that they are commanded.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:50

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 48–50

عرش سے فرش تک اللہ تعالیٰ ذو الجلال والاکرام کی عظمت و جلالت کبریائی اور بےہمتائی کا خیال کیجئے کہ ساری مخلوق عرش سے فرش تک اس کے سامنے مطیع اور غلام۔ جمادات و حیوانات، انسان اور جنات، فرشتے اور کل کائنات، اس کی فرماں بردار، ہر چیز صبح شام اس کے سامنے ہر طرح سے اپنی عاجزی اور بیکسی کا ثبوت پیش کرنے والی، جھک جھک کر اس کے سامنے سجدے کرنے والی۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں سورج ڈھلتے ہی تمام چیزیں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑتی ہیں ہر ایک رب العالمین کے سامنے ذلیل و پست ہے، عاجز و بےبس ہے۔ پہاڑ وغیرہ کا سجدہ ان کا سایہ ہے، سمندر کی موجیں اس کی نماز ہے۔ انہیں گویا ذوی العقول سمجھ کر سجدے کی نسبت ان کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 49–50

سورة النَّحْل 42 یعنی زمین ہی کی نہیں، آسمانوں کی بھی وہ تمام ہستیاں جن کو قدیم زمانے سے لے کر آج تک لوگ دیوی، دیوتا اور خدا کے رشتہ دار ٹھیراتے آئے ہیں دراصل غلام اور تابعدار ہیں۔ ان میں سے بھی کسی کا خداوندی میں کوئی حصہ نہیں۔ ضمنا اس آیت سے ایک اشارہ اس طرف بھی نکل آیا ہے کہ جاندار مخلوقات صرف زمین ہی میں نہیں ہیں بلکہ عالم بالا کے سیاروں میں بھی ہیں۔ یہی بات سورة شوریٰ آیت 29 میں بھی ارشاد ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–57

خلاصہ تفسیر کیا (ان) لوگوں نے اللہ کی ان پیدا کی ہوئی چیزوں کو نہیں دیکھا (اور دیکھ کر توحید پر استدلال نہیں کیا) جن کے سائے کبھی ایک طرف کو کبھی دوسری طرف کو اس طور پر جھکتے جاتے ہیں کہ (بالکل) خدا کے (حکم کے) تابع ہیں (یعنی سائے کے اسباب کہ آفتاب کی حرکت ہے پھر سایہ کے خواص یہ سب بحکم الہی ہے) اور وہ (سایہ دار) چیزیں بھی (اللہ کے رو برو) عاجز (اور تابع حکم) ہیں اور (جس طرح یہ اشیاء مذکورہ جن میں حرکت ارادیہ نہیں جیسا کہ یتفیئوا کی اسناد ظلال کی طرف اس کا قرینہ ہے کیونکہ متحرک بالارادہ میں سایہ کی حرکت خود اس متحرک بالا رادہ کی حرکت سے ہوتی ہے حکم خدا کے تابع ہیں اسی طرح) اللہ ہی کے مطیع…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

يَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ۔ یعنی باایں ہمہ قرب و اتصال خدا کی بارگاہ عالی سے ان کا مقام بہت نیچے ہے۔ وہ اپنے اوپر خدا سے برابر ڈرتے رہتے ہیں۔ ناز اور تذلل کے فتنہ میں کبھی مبتلا نہیں ہوتے، جو کچھ حکم ملتا ہے فورًا اس کی تعمیل کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

50۔ 1 اللہ کے خوف سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ 50۔ 2 اللہ کے حکم سے سرتابی نہیں کرتے بلکہ جس کا حکم دیا جاتا ہے، بجا لاتے ہیں، جس سے منع کیا جاتا ہے، اس سے دور رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 50–55

23: یہ آیت سجدہ ہے، یعنی جو شخص بھی یہ آیت عربی زبان میں پڑھے، اس پر سجدہ کرنا واجب ہوجاتا ہے، اسے سجدہ تلاوت کہتے ہیں، جو نماز کے سجدے کے علاوہ ہے، البتہ صرف ترجمہ پڑھنے سے یا آیت کو پڑھے بغیر صرف دیکھنے سے سجدہ واجب نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 45–50

آیت نمبر 45 تا 50 یہ بات نہایت تعجب انگیز ہے کہ انسانی سوسائتی کے اندر دست قدرت کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی سخت پکڑ میں آجاتے ہیں۔ وہ مکاریاں اور تدابیر کرتے ہی رہتے ہیں لیکن جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ ایک غالب اور صاحب قوت ہستی کی گرفت ہوتی ہے۔ پھر ان کی قوت ، ان کا مال اور ان کا وسیع علم ان کو بچا نہیں سکتا۔ لیکن اس کے باوجود بقیہ مکار اپنی مکاریاں جاری رکھتے ہیں اور جو اللہ کے عذابوں سے بچ نکلتے ہیں وہ پھر اسی طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ الا یہ کہ ان کے ساتھ یہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ ڈرتے نہیں کہ خدا ان کو بھی پکڑ سکتا ہے۔ ہر وقت وہ اللہ کی گرفت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی فرشتے باوجود اس قدر قرب و وجاہت کے اپنے رب کے جلال سے ڈرتے رہتے ہیں اور جو حکم پاتے ہیں فوراً بجا لاتے ہیں۔ موضح القرآن میں ہے کہ " ہر بندہ کے دل میں ہے کہ میرے اوپر اللہ ہے اپنے آپ کو نیچے سمجھتا ہے، یہ سجدہ فرشتوں کا بھی ہے اور سب کا۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 50–52

آیت 50 يَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ یہ خصوصی طور پر فرشتوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے۔ جیسے سورة التحریم میں فرمایا گیا : لَا یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ ”وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جو حکم وہ انہیں دیتا ہے اور وہی کرتے ہیں جو حکم انہیں دیا جاتا ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

49 جب اس کائنات کی تخلیق اور انتظام میں کسی دوسرے کا کچھ بھی حصہ نہیں تو پھر وہ تمہیں کیسے فائدہ یا نقصان پہنچا سکتے ہیں اور اگر ان دونوں باتوں میں وہ بےبس اور عاجز ہیں تو پھر تمہیں ان سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ ڈرنا تو اس سے چاہیئے جو اس کائنات میں تصرف کرسکتا ہو۔ اور وہ صرف اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا عبادت بھی صرف اسی کی خالصتاً کرنا چاہیے، اپنی تمام تر حاجات کو اسی کے سامنے پیش کرنا چاہیے اور یہی راستہ معقول سمجھا جاسکتا ہے۔ سجدہ تلاوت واجب نہیں :۔ اس آیت پر سجدہ کرنا چاہیے تاہم سجدہ تلاوت واجب نہیں ہے۔ چناچہ ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر تیمی کہتے ہیں کہ ایک دفعہ سیدنا عمر نے جمعہ کے دن منبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

72۔ یہ سب دیوتا پرستی اور ملائکہ پرستی کی تردید میں ارشاد ہورہا ہے۔ (آیت) ” من فوقھم “ فوق سے یہاں کھلی ہوئی مراد فوقیت معنوی یا غلبہ ہے۔ ورنہ محض سمت یا جہت کے فوق سے تو خوف پیدا ہونے کی کوئی صورت نہیں۔ المراد بالفوقیۃ الفوقیۃ بالقھر والقدرۃ لانھاھی الموجبۃ للخوف (کبیر) اے عالیا علیھم بالقھر (جلالین) راغب نے فوق کے استعمال کے چھ موقع بتائے ہیں۔ مکان، زمان، جسم، عدد، منزلت اور انہی میں سے ایک معنی فوقیت بہ اعتبار قہر و غلبہ کے رکھے ہیں، تو ریت موجودہ میں بعض فرشتوں کو عاصی ونافرمان فرشتہ کہہ کر پیش کیا گیا ہے۔ قرآن مجید اس تخیل کی جڑ ہی کاٹے دیتا ہے۔ قرآن فرشتوں کو بار بار تمامتر معصوم ہستی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–50

آیت نمبر 41 تا 50 ترجمہ : اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لئے اہل مکہ کی اذیتوں کے ظلم سہنے کے بعد ترک وطن کیا، اور وہ نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب ہیں، ہم ان کو دنیا میں بہترین ٹھکانہ عطا کریں گے وہ ٹھکانہ مدنیہ ہے، اور آخرت کا اجر یعنی جنت بہت ہی بڑا ہے کاش کافر یا ہجرت نہ کرنے والے اس بات کو جان لیتے کہ مہاجروں کے لئے کس قدر اعزاز ہے تو ضرور مہاجرین کی (ہجرت میں) موافقت کرتے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مشرکوں کی اذیتوں اور اظہار دین کے لئے ہجرت پر صبر کیا اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں تو وہ ان کو ایسے طریقہ سے رزق دیتا ہے کہ ان کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا، اور آپ سے پہلے بھی ہم مردوں ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یخافون ربھم من فوقھم وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں جو کہ ان سے بالا دست ہے یعنی غالب اور قاہر ہے۔ ا اللہ نے دوسری جگہ فرمایا ہے : وَھُوَ الْقَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ ۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں عذاب ان کے اوپر سے نہ نازل ہوجائے۔ ویفعلون ما یؤمرون اور جو کچھ ان کو حکم دیا جاتا ہے ‘ اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ یعنی جیسی تعمیل حکم ان کیلئے مناسب ہے وہی کرتے ہیں۔ یہ جملے بتا رہے ہیں کہ لللّٰہِ یَسْجدُ سے کفار مستثنیٰ ہیں۔ تکبر نہ کرنا ‘ ڈرنا اور تعمیل حکم کرنا تقاضائے کفر کے خلاف ہے۔ ہاں اگر سجود سے عمومی تکوینی اطاعت اور اللہ کی صنعت کا ظہور مراد لیا جائے تو پھر ہُمْ لاَ یَسْتَکْبَرُوْنَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(50) اور وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں جو کہ ان پر بالادست ہے اور فرشتوں کو جو حکم دیا جاتا ہے اس کو وہ کرتے اور پہنچاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ۔۔ : ”مِّنْ فَوْقِهِمْ“ ”رَبَّهُمْ“ سے حال ہے، یعنی وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں، اس حال میں کہ وہ ان کے اوپر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہے اور تمام اہل السنہ کا اس پر اتفاق ہے۔ یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے، درست نہیں، کیونکہ یہ ”اَلرَّحْمٰن عَلیٰ الْعَرْشِ اسْتَویٰ“ کے خلاف ہے۔ ہاں، یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن و حدیث کی رو سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہے، مگر کس طرح ہے، یہ معلوم نہیں، نہ صحابہ میں سے کسی نے رسول اللہ ﷺ سے اس کی کیفیت پوچھی، اس لیے امام مالک ؓ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ کا عرش پر مستوی ہونا معلوم ہے، اس کی کیفیت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 49–50

آیت نمبر 49 تا 50 قولہ تعالیٰ : وللہ یسجد ما فی السموات وما فی الارض من دآبۃ اور اللہ کے لئے سجدہ کر رہی ہے ہر چیز جو آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے یعنی ہر وہ شی وج زمین پر رینگ کر چلتی ہے (مراد ہر قسم کے جاندار ہیں) والملئکۃ یعنی وہ ملائکہ جو زمین میں ہیں، اور ان کے شرف مرتبہ کی وجہ سے ان کی خصوصیت کے پیش نظر ان کا ذکر الگ فرمایا : اور دبیب (رینگنا) کی صفت سے انہیں ذکر کے ساتھ ممتاز کردیا اگرچہ یہ ان میں داخل ہیں ؛ جیسا کہ یہ ارشاد ہے : فیھما فاکھۃ ونخل ورمان۔ (الرحمن) (ان میں میوے ہوں گے اور کھجوریں اور انار ہوں گے) اور یہ بھی کہا گیا ہے : انہیں من جملہ ان جانداروں سے جو رینگتے ہیں یا ہاتھ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 49–56

1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وللہ یسجد مافی السموت وما فی الارض من دآبۃ “ سے مراد ہے کہ کوئی چیز نہیں چھوٹتی اس کی مخلوق میں سے مگر اس کی عبادت کرتی ہے خوشی سے یا نا خوشی سے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ آسمان کی مخلوق خوشی سے سجدہ کرتی ہے اور زمین کی مخلوق بعض خوشی سے اور بعض مجبورا سجدہ کرتی ہے۔ 3:۔ خطیب نے تاریخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یخافون ربہم “ یعنی وہ اللہ کے جلال سے ڈرتے ہیں۔ 4: ابن ابی شیبہ اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے گذرے اور وہ اپنی دو انگلیوں کے ساتھ دعا کررہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يَخَافُوْنَ : وہ ڈرتے ہیں ] [ رَبَّهُمْ : اپنے رب سے ] [ مِّنْ فَوْقِهِمْ : اپنے اوپر سے ] [ وَيَفْعَلُوْنَ : اور وہ کرتے ہیں ] [ مَا : وہ جو ] [ يُؤْمَرُوْنَ : انھیں حکم دیا جاتا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 48–51

ہر مخلوق فرشتے وغیرہ سب اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں ان آیات میں بندوں کو اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل کی طرف متوجہ فرمایا ہے اور اپنی شان خالقیت اور مالکیت بیان فرمائی ہے اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا فرمائی ہیں ان کو کیوں نہیں دیکھتے ؟ ان میں غور کرو اور دیکھو کہ ان کا سایہ دائیں طرف بائیں طرف جو زمین پر پڑتا ہے اس سائے میں بھی اللہ تعالیٰ شانہٗ کی شان خالقیت ظاہر ہو رہی ہے یہ سائے اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہیں اللہ تعالیٰ جس طرف چاہتے ہیں یہ سائے اسی طرف جھکتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں اور اس کے حکم کے سامنے عاجز محض ہیں، اور سایوں پر اور سایہ والی چیزوں پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–50

قال اللہ تعالیٰ : اولم یرو الی ما خلق اللہ من شیء .... الیٰ .... ویفعلون ما یؤمرون۔ (ربط) اب ان آیات میں اپنے آثار جبروت اور آثار ملکوت کو یاد دلاتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ تمام چیزیں اللہ ہی کو سجدہ کرتی ہیں اور ہر چیز اسی کے حکم پر گردن جھکائے ہوئے ہے اور افسوس ہے کہ تم بنی آدم اور اشرف المخلوقات ہو کر اس کی اطاعت سے انحراف کرتے ہو اور غیروں کی عبادت میں سرگرداں ہو اور خداوند ذوالجلال کے قہر اور عذاب سے بےخوف اور نڈر ہوگئے ہو۔ چناچہ فرماتے ہیں کیا نہیں دیکھتے کافر کہ اللہ نے جو چیز پیدا کی ہے کہ اس کا سایہ داہنی جانب سے اور بائیں جانب سے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے جھکتا ہے۔ درآں حالیکہ یہ سب سائے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 48–50

36:۔ توحید پر چوتھی عقلی دلیل۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی پیدا کیا ہے ان کے سائے اللہ کے قانون تکوینی کے تحت گھٹتے بڑھتے ہیں اس طرح کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے تکوینی احکام کی مطیع و فرمانبردار ہے۔ ” عَنِ الْیَمِیْنَ وَاالشَّمَائِلَ الخ “ لفظ مَا صورۃً مفرد ہے اس لیے اس کی رعایت سے یمین مفرد لایا گیا اور مَا معنی جمع ہے کیونکہ اس سے تمام سایہ دار مخلوق مراد ہے اس لیے اس کی رعایت سے شمائل جمع استعمال کیا گیا۔ ” وَ ھُمْ دَاخِرُوْنَ “ اس سے ذوی العقول اور گیر ذوی العقول سب مراد ہیں لیکن تغلیباً ضمیر عقلاء کی استعمال کی گئی ہے۔ ” وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ الخ “ زمین و آسمان کی ہر جاندار مخلوق اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 45–50

(ربط آیات) گذشتہ سے پیوسہ درس میں اللہ تعالیٰ نے شرک کا رد فرمایا اور پھر گذشتہ درس میں ان مومن مہاجرین کی حوصلہ افزئی فرمائی جن پر بڑے مظالم ڈھائے گئے مگر انہوں نے خدا تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے صبر کے دامن کو نہ چھوڑا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو دنیا میں بھی بہتر ٹھکانا میسر آئے گا اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے رسالت کے سابقہ بیان کے تسلسل میں فرمایا کہ ہر قوم میں مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا گیا ، اگر منکرین توحید و رسالت کو اس بارے میں کوئی شک وتردد ہے تو وہ تاریخی واقعات کو یاد رکھنے والوں سے تصدیق کرلیں ، حضور خاتم النبیین ﷺ سے قبل اللہ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ 50؀۞ۧ خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–50

اولم یروا الی ماخلق اللہ الخ اپنا رئوف رحیم ہونا ان آیات میں ظاہر فرماتا ہے کہ جن میں اس کے آثار جبروت اور قدرت کاملہ کا بیان ہے جن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ تمام عالم اس کے آگے مسخر ہے تاکہ یہ بھی معلوم ہوجائے کہ اس کو دفعۃً یا تدریجاً ہلاک کرنے کی بھی قدرت ہے پھر اس سے نڈر ہونا اور باوجودیکہ درختوں اور جمیع سایہ دار چیزوں کے سائے اس کو سجدہ کر رہے ہیں (ان کا زمین پر پڑنا گویا سجدہ کرنا ہے) اور اسی طرح آسمانوں اور زمین کے تمام رہنے والے چارپائے اور فرشتے اس کے آگے سربسجود اور اس کے فرمانبردار اور خائف ہیں پھر بندہ کا نافرمان ہونا اور حجتیں کرنا اور اس کے ہادیوں اور ان کے پیروئوں کو ستانا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 49–50

وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّۃٍ وَّالْمَلٰٓئِکَۃُ وَھُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُوْنَ ۔ یَخَافُوْنَ رَبَّھُمْ مِّنْ فَوْقِھِمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَایُؤْمَرُوْن۔ (سورۃ النحل : 49۔ 50) (اور اللہ تعالیٰ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں جاندار ہیں اور فرشتے بھی۔ وہ سرتابی نہیں کرتے۔ وہ اپنے اوپر اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جس کا ان کو حکم ملتا ہے۔ ) توحید پر مزید زور دیتے ہوئے فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں جتنے بھی جاندار ہیں سب اللہ تعالیٰ ہی کو سجدہ کرتے ہیں حتیٰ کہ فرشتے بھی جن کو مشرکینِ عرب نے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بنا رکھا تھا اور انھیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 48–50

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرکین کو عذاب کی وعید سنانے کے بعد یہ سمجھایا ہے کہ انہیں غور کرنا چاہیے کہ جس کائنات میں یہ رہ رہے ہیں اس کا ذرہ ذرہ اپنے خالق کے سامنے سر بسجود ہے۔ مگر کافر، مشرک اور نافرمان اللہ کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ قرآن مجید بار بار یہ بات انسان کو باور کرواتا ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ پیدا کیا گیا ہے اس کے پیدا کرنے کا ایک مقصد یہ کہ وہ انسان کی خدمت بجا لائے اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم کے مطابق اپنا اپنا کام کرتے رہیں۔ لیکن انسان نہ صرف اپنے رب کی نافرمانی کرتا ہے بلکہ وہ کفرو شرک کا ارتکاب کر کے ذات کبریا کا انکار کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کو توجہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

50: یَخَافُوْنَ رَبَّھُمْ (وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں) ۔ یہ لایستکبرون کی ضمیر سے حال ہے یعنی وہ تکبر نہیں کرتے اس حال میں کہ وہ ڈر رہے ہوتے ہیں۔ مِّنْ فَوْقِھِمْ (اپنے اوپر سے) نمبر 1۔ اگر اس کو یخافون کے متعلق کرو تو اس کا معنی یہ ہوگا۔ وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں وہ ان پر اوپر سے عذاب نہ اتار دے۔ نمبر 2۔ اور اگر بربھم سے حال ہو تو اس کا معنی وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں اس حال میں کہ وہ ان پر غالب و زبردست ہے۔ جیسا کہ اس ارشاد وھوا لقاہر فوق عبادہٖ ] الانعام : 18[ میں ہے وَیَفْعَلُوْنَ مَایُؤْمَرُوْنَ ( اور وہ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم ملتا ہے) نکتہ : اس میں واضح دلیل ہے کہ ملائکہ مکلف ہیں اور امر و نہی کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(50)” یخافون ربھم من فوقھم “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ” وھو القاھر فوق عبادہ “… ویفعلون ما یومرون “ میں ہے کہ وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں عذاب ان کے اوپر سے نازل نہ ہوجائے۔ حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو کچھ میں دیکھتا ہوں تم نہیں دیکھتے اور جو کچھ میں سنتا ہوں تم نہیں سنتے، آسمان خوب چرچرایا اور اس کو خرب چر چرانا ہی چاہیے تھا، قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ ، آسمان میں کہیں بھی چار انگلی کی جگہ ایسی نہیں کہ اس میں کوئی فرشتہ سجدہ میں پیشانی نہ رکھے ہوئے ہو۔ خدا کی قسم جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 49–50

49۔ 50۔ ترمذی میں حضرت عمر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ظہر کی چار سنتیں بڑے ثواب کی چیزیں ہیں ان چار رکعتوں کا ثواب گویا تہجد کا سا ثواب ہے اسی ذکر کے سلسلہ میں آپ نے فرمایا کہ زوال کے بعد سب چیزیں اللہ پاک کے نام کی تسبیح پڑھتی ہیں یہ فرما کر پھر آپ نے اوپر کی آیت پڑھی 1 ؎۔ غرض فرشتے انسان جن پہاڑ درخت دیوار سب کے اوپر اللہ کی عظمت اور بڑائی کا اثر ہے پہاڑ درخت اور سب چیزوں کا سایہ زوال سے پہلے سیدھے ہاتھ کی طرف اور سورج ڈھلنے کے بعد الٹے ہاتھ کی طرف جو آجاتا ہے یہ اللہ تعالیٰ نے سایہ کے لئے سجدہ مقرر کیا ہے اور یہی اس کی عبادت ہے اس حدیث کی روایت میں علی بن عاصم منفرد ہے لیکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 48–50

آیت : (48-50) اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (اولم یرو) ” کیا انہوں نے نہیں دیکھا۔ “ یعنی کیا اپنے رب کی توحید ‘ اس کی عظمت اور اس کے کمال میں شک کرنے والوں نے نہیں دیکھا ؟ (الی ما خلق اللہ من شیء) ” ان چیزوں کی طرف جن کو اللہ نے پیدا کیا “ یعنی تمام مخلوقات کی طرف (یتفیوا ظللہ) کہ ’ انکے سائے لوٹتے رہتے ہیں “ (عنالیمین والشمائل سجدۃ اللہ) ” ان کی دائیں طرف سے یا بائیں طرف سے ‘ اللہ کو وجدہ کرتے ہوئے “ یعنی تمام اشیاء کے سائے ‘ اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کے سامنے نہایت عاجزی کے ساتھ سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ (وھم دخرون) ” اور وہ جھکے رہتے ہیں۔ “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ذلیل ‘ مسخر اور اس کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 14–65

زیور کے بارے میں حکم قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

98۔ فرشتوں کی شان خوف وخشیت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یعنی بایں ہمہ قرب واتصال خداوند قدوس کی بارگہ اقدس واعلیٰ سے ان کا مقام نیچے اور بہت نیچے ہے اور وہ ڈرتے رہتے ہیں اپنے رب سے جو کہ ان کے اوپر ہے۔ اپنی عظمت شان اور جلالت مکان، علم محیط اور قدرت کاملہ کے اعتبار سے، نہ کہ حسی اور ظاہری اعتبار سے کہ وہ مکان اور مکانیات اور اس طرح کی تمام حدود وقیود سے پاک ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس کی یہ فوقیت اس کی قدرت اور اس کے اس غلبہ وقہر کے اعتبار سے ہے جو اس کی شان اقدس واعلیٰ کے لائق ہے۔ اور فرشتوں کا اس سے ڈرنا اس کے اعظام واجلال کی بناء پر ہے نہ کہ اجرام کے لحاظ سے۔ (ابن کثیر، محاسن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 48–60

کائنات کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہے تشریح : یہاں عربوں کی انتہائی بری عادت بیان کی گئی ہے جو کہ ان میں عام طور پر رواج پا چکی تھی۔ اول تو وہ لڑکی ذات کو ہی ناپسند کرتے تھے، پھر جب وہ پیدا ہوجاتی تو اس کو اپنی انتہائی ذلت کا باعث سمجھتے تو اس ذلت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اپنی بچی کو مار دیتے یا زندہ کو ہی دفن کردیتے اور یوں تین گناہ کرتے ایک تو اپنی اولاد پر ظلم کرتے دوسرا قتل کا گناہ کرتے اور تیسرا حکمت الٰہی میں دخل دیتے۔ اس کے علاوہ ایک بہت بڑا گناہ یہ کرتے کہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے، یعنی جس بات کو اپنے لیے باعث شرم سمجھتے اس کو اللہ کے لیے مناسب سمجھتے اور یوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–50

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف ایسے لوگ جنہوں نے اللہ کریم کے لیے وطن چھوڑا کہ وہاں ان پر ظلم ہوتا تھا انہیں ہم دنیا میں بھی بہترین ٹھکانہ دین گے اور آخرت کا انعام تو بہت ہی بڑا ہے ایسے لوگوں کے لیے جو ثابت قدم رہے اور جملہ اسباب اختیار کرکے بھروسہ اللہ پر رکھا یعنی کوئی ایسا سبب اختیار نہ کیا جس میں اللہ جل جلالہ کی نافرمانی ہو اس آیہ مبارکہ میں ہجرت کی فضیلت اور مہاجرین دنیا وآخرت میں انعامات کا وعدہ ہے ہجرت کیا ہے ۔ (ہجرت اور اس پر انعامات کا وعدہ) ہجرت سے مراد ترک وطن ہے اور یہاں فی اللہ کی شرط لگا کر ایسی حالت متعین فرما دی کہ یہ ترک وطن اللہ جل جلالہ کی رضا کے لیے اور دین کے تحفظ کے لیے ہو ،…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی من فوقھم ربھم سے حال ہے۔ ای کونہ تعالیٰ من فوقھم اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یخافون کے متعلق ہو اور مضاف محذوف ہو۔ ای عذاب ربہم اس سے بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ فوق العرش ہے اور تمام اہل حدیث کا اس پر اتفاق ہے (وحیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:50) من فوقہم۔ ان کے اوپر سے۔ خداوند تعالیٰ کی بالادستی اور اس کے علو مرتبت اور فضیلت کے اظہار کے لئے ہے۔ جیسے کہ اور جگہ آیا ہے وھو القاہر فوق عبادہ (6:18) اور وہ اپنے بندوں کے اوپر غالب ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 43–50

لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 50 نوحی ہم وحی کرتے ہیں۔ اسئلوا تم پوچھ لو۔ اھل الذکر یاد رکھنے والے، علم والے۔ البینت (البینۃ) کھلی نشانیاں۔ الزبر (زبور) لکھی ہوئی کتابیں، صحیفے۔ الذکر دھیان دینے کی چیز (قرآن کریم) نزل نازل کیا گیا۔ افامن کیا پھر وہ مطمئن ہوگئے۔ یخسف وہ دھنساتا ہے۔ تقلب چلنا، پھرنا، بھاگ دوڑ معجزین عاجز کرنے والے، بےبس کرنے والے۔ تخوف ڈرنا۔ یتقیوا (فی) ڈھلتے ہیں۔ ظلال (ضل) سائے ۔ الیمین داہنی جانب۔ الشمائل بائیں جانب۔ داخرون ذلیل ہونے والے، عاجزی کرنے والے۔ یسجد سجدہ کرتا ہے۔ دابۃ زمین پر رینگنے ، چلنے والے جان دار۔ لایستکبرون وہ بڑائی، تکبر نہیں کرتے ہیں۔ یخافون وہ خوف رکھتے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 48–50

زمین وآسمان کی کل کائنات مع سایہ کے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے اللہ پاک اس آیت میں اپنی عظمت ودبدبہ کی خبر دیتا ہے کہ باوجود اس بات کے کہ وہ ایسا صاحب عظمت ہے کہ کل چیزیں اس کے حکم کی فرمانبردار ہیں۔ کیا حیوان اور کیا بےجان اسی طرح خواہ فرشتے ہوں خواہ جن ہوں سب اس کے قہر وغصہ کے سامنے مجبور و لاچار ہیں۔ کل وہ چیزیں جن کا سایہ ہے جو جاندار ہوں یا بےجان صبح وشام داہنے بائیں خدائے برتر کے سامنے سجدہ کرتی ہیں۔ غرضیکہ آسمان و زمین والے حتٰی کہ چوپائے بھی سجدہ کرتے ہیں اور اس کے سوا کسی کو بھی قابل عبادت نہیں جانتے اور ملائکہ بھی سجدہ میں مشغول ہیں۔ اور عبادت الہی میں مصروف ملائکہ ہرچند کہ علویات…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 48–50

(ف 1) اس آیت میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے ، کہ بجز انسان کے کائنات کی ہر چیز فطرت کے قوانین کی تابع ہے ، آفتاب سے لے کر ذرہ تک اور ملائکہ سے ادنی قسم کے حیوانات تک سب اطاعت کا دم بھرتے ہیں یعنی قدرت کی جانب سے جو فرائض ان پر عائد کئے گئے ہیں ۔ وہ ان کو پورا کرتے ہیں ، مگر حضرت انسان ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں سرگرم ہے ، پہاڑ اپنی جگہ پر قائم ہیں ، چاند ، سورج ، روزانہ خدا کے حکم کے تحت طلوع و غروب کے فرائض انجام دیتے ہیں ، کائنات کا حقیر سے حقیر ذرہ اپنے وظائف حیات ادا کر رہا ہے ، یہی قرآن کی اصطلاح میں سجدہ ہے ، یہ انسانی کی بدقسمتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہیں کرتا ، اور مذہب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

50 ۔ وہ فرشتے اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں جو ان کے اوپر ہے اور ان پر بالا دست ہے اور وہ فرشتے وہی کام کرتے ہیں جس کا ان کو حکم دیا جاتا ہے ، ان آیتوں میں تمام مخلوق کی فرماں برداری اور تذلل و عاجزی کا ذکر فرمایا اور اس تذلل و عاجزی کو سجدہ سے تعبیر کیا ہے ۔ نیاز مندی کے مختلف طریقے ہیں کوئی قیام میں ہے کوئی رکوع میں ہے کوئی زمین پر رینگ کر سجدے کی حالت پیدا کر رہا ہے اور کچھ نہں تو سایہ سے نیاز مندی کا اظہارہو رہا ہے جو متکبر ہیں اور خداوند کریم کو سجدہ کرنے سے اجتناب کرتے ہیں وہ بھی خدا کے حکم سے باہر نہیں نکل سکتے۔ غرض ! ہر چیز کے حال و قال سے نیاز مندی اور تذلل ٹپک رہی ہے اور یہ ہی اللہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 48–50

ف 7۔ یعنی سایہ کے اسباب کہ آفتاب کا نورانی ہونا اور سایہ دار جسم کا کثیف ہونا ہے اور حرکت سایہ کا سبب کہ آفتاب کی حرکت ہے پھر سایہ کے خواصہ سب بحکم الٰہی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں اور اس کے حکم کے پابند ہیں ۔ 58۔ فرشتوں کی طاقت وقوت اور ماہیت بیان کرتے ہوئے اس طرح ان کی تعریف کی کہ شرک کی جڑیں کاٹ کر رکھ دیں ، مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور ان کا تخیل یہ تھا کہ معاشرہ کے اندر جس طرح بیٹی کی سفارش ساری سفارشوں سے بڑی تسلیم کی گئی ہے اس لئے فرشتے اللہ کی بیٹیاں قرار دے کر ان کے متعلق یہ بیان جاری کیا گیا کہ جو شخص ان طاقتوں اور قوتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے کر ان کو اللہ کے سامنے سفارش کے لئے پیش کرے اللہ ممکن نہیں کہ ان کی سفارش کو قبول نہ کرے لہذا انہوں نے اپنے خیال ہی خیال میں یہ طے کر کے فرشتوں کو اللہ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–57

Even the Punishment of the World is Mercy in Disguise In the verses cited above, after having mentioned various punishments which could seize disbelievers within this world, it was said in the end: فَإِنَّ رَ‌بَّكُمْ لَرَ‌ءُوفٌ رَّ‌حِيمٌ (So, indeed your Lord is Very Kind Very Merciful). First of all, by using the word: رَبّ (Rabb: Lord) here, the hint given is that all these punishments which overtake human beings in this world are there to warn them as part of the dictates of Divine mercy. After that, by introducing the word: رَ‌ءُوفٌ(Ra uf: Kind) headed by the intensifying particle lam)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–50

42. That is, not only all things on the earth alone but also all things in the heavens, including all those whom people have been regarding as gods and goddesses, and considering to be closely related to Allah are subservient to God, and have no share whatsoever in His Godhead. Incidentally, it implies the existence of living creatures not only on the earth but in the planets, too.

Read the full tafseer →