An-Nahl 16:49

An-Nahl · from ayah 49

16:49

وَلِلّٰهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّالْمَلٰٓىِٕكَةُ وَهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ ۟وَلِلّٰهِ يَسۡجُدُ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ مِنۡ دَآبَّةٍ وَّالۡمَلٰۤئِكَةُ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ

اور تمام جاندار جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب خدا کے آگے سجدہ کرتے ہیں اور فرشتے بھی اور وہ ذرا غرور نہیں کرتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And to Allah prostrates whatever is in the heavens and whatever is on the earth of creatures, and the angels [as well], and they are not arrogant.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 6 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:49

زمین اور آسمانوں میں جس قدر جان دار مخلوقات ہیں اور جتنے ملائکہ ہیں سب اللہ کے آگے سر بسجود ہیں وہ ہرگز سرکشی نہیں کرتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تمام جاندار جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب خدا کے آگے سجدہ کرتے ہیں اور فرشتے بھی اور وہ ذرا غرور نہیں کرتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً آسمان وزمین کے کل جاندار اور تمام فرشتے اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدے کرتے ہیں اور ذرا بھی تکبر نہیں کرتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور آسمانوں اور زمین میں جتنے جاندار ہیں وہ اور سارے فرشتے اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ ذرا تکبر نہیں کرتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں چلنے والا ہے اور فرشتے اور وہ غرور نہیں کرتے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے جملہ جاندار اور فرشتے، اللہ (ہی) کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ (ذرا بھی) غرور و تکبر نہیں کرتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ ہی کے لیے سجدہ کرتی ہے جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، کوئی بھی چلنے والا (جانور) ہو اور فرشتے بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آسمانوں اور زمین میں جتنی جاندار مخلوق ہے اور فرشتے بھی سب اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور کبھی تکبر نہیں کرتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں جاندار ہیں اور فرشتے بھی، وہ سرتابی نہیں کرتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اللہ ہی کے لئے سجدہ کرتی ہے ہر جاندار چیز خواہ وہ آسمان میں ہو، یا زمین میں، اور سب فرشتے بھی، درآنحالیکہ وہ اپنی بڑائی کا کوئی گھمنڈ نہیں رکھتے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اللہ ہی کی مطیع ہیں۔ جتنی چلنے والی چیزیں آسمان میں ہیں اور جتنی زمین میں ہیں اور فرشتے بھی اور وہ (اپنی) بڑائی نہیں کرتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں آسمانوں اور زمین میں جتنے جاندار ہیں اور فرشتے بھی اور وہ تکبر سے کام نہیں لیتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تمام جاندار جو آسمانوں میں ہیں اور زمین میں ہیں سب اللہ کے آگے سجدہ کرتے ہیں اور فرشتے بھی۔ اور وہ ذرا غرور نہیں کرتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

All living creatures and all angels in the heavens and on the earth are in prostration before Allah; and never do they behave in arrogant defiance.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

To Allah prostrates itself whatever creature there is in the heavens and in the earth, and the angels, and they show no arrogance.

— Muhammad Taqi Usmani

To Allah prostrates itself whatever creature there is in the heavens and in the earth, and the angels, and they show no arrogance.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And to Allah prostrate all that are in the heavens and all that are in the earth, the moving creatures and the angels, and they are not proud [i.e. they worship their Lord (Allah) with humility].

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And unto Allah maketh prostration whatsoever is in the heavens and whatsoever is in the earth of living creatures, and the angels (also) and they are not proud.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And to Allah prostrates whatever is in the heavens and whatever is on the earth of creatures, and the angels [as well], and they are not arrogant.

— Saheeh International

Whatever is in the heavens and the earth, the cattle and the angels prostrate themselves before God without pride.

— Muhammad Sarwar

And whatever creature that is in the heavens and that is in the earth makes obeisance to Allah (only), and the angels (too) and they do not show pride.

— Muhammad Habib Shakir

And unto Allah prostrateth itself whatsoever is in the heavens and whatsoever is in the earth of the living creatures and also the angels; and they are not stiff-necked.

— Abdul Majid Daryabadi

And to Allah doth obeisance all that is in the heavens and on earth, whether moving (living) creatures or the angels: for none are arrogant (before their Lord).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 48–50

عرش سے فرش تک اللہ تعالیٰ ذو الجلال والاکرام کی عظمت و جلالت کبریائی اور بےہمتائی کا خیال کیجئے کہ ساری مخلوق عرش سے فرش تک اس کے سامنے مطیع اور غلام۔ جمادات و حیوانات، انسان اور جنات، فرشتے اور کل کائنات، اس کی فرماں بردار، ہر چیز صبح شام اس کے سامنے ہر طرح سے اپنی عاجزی اور بیکسی کا ثبوت پیش کرنے والی، جھک جھک کر اس کے سامنے سجدے کرنے والی۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں سورج ڈھلتے ہی تمام چیزیں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑتی ہیں ہر ایک رب العالمین کے سامنے ذلیل و پست ہے، عاجز و بےبس ہے۔ پہاڑ وغیرہ کا سجدہ ان کا سایہ ہے، سمندر کی موجیں اس کی نماز ہے۔ انہیں گویا ذوی العقول سمجھ کر سجدے کی نسبت ان کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 49–50

سورة النَّحْل 42 یعنی زمین ہی کی نہیں، آسمانوں کی بھی وہ تمام ہستیاں جن کو قدیم زمانے سے لے کر آج تک لوگ دیوی، دیوتا اور خدا کے رشتہ دار ٹھیراتے آئے ہیں دراصل غلام اور تابعدار ہیں۔ ان میں سے بھی کسی کا خداوندی میں کوئی حصہ نہیں۔ ضمنا اس آیت سے ایک اشارہ اس طرف بھی نکل آیا ہے کہ جاندار مخلوقات صرف زمین ہی میں نہیں ہیں بلکہ عالم بالا کے سیاروں میں بھی ہیں۔ یہی بات سورة شوریٰ آیت 29 میں بھی ارشاد ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–57

خلاصہ تفسیر کیا (ان) لوگوں نے اللہ کی ان پیدا کی ہوئی چیزوں کو نہیں دیکھا (اور دیکھ کر توحید پر استدلال نہیں کیا) جن کے سائے کبھی ایک طرف کو کبھی دوسری طرف کو اس طور پر جھکتے جاتے ہیں کہ (بالکل) خدا کے (حکم کے) تابع ہیں (یعنی سائے کے اسباب کہ آفتاب کی حرکت ہے پھر سایہ کے خواص یہ سب بحکم الہی ہے) اور وہ (سایہ دار) چیزیں بھی (اللہ کے رو برو) عاجز (اور تابع حکم) ہیں اور (جس طرح یہ اشیاء مذکورہ جن میں حرکت ارادیہ نہیں جیسا کہ یتفیئوا کی اسناد ظلال کی طرف اس کا قرینہ ہے کیونکہ متحرک بالارادہ میں سایہ کی حرکت خود اس متحرک بالا رادہ کی حرکت سے ہوتی ہے حکم خدا کے تابع ہیں اسی طرح) اللہ ہی کے مطیع…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ مِنْ دَاۗبَّـةٍ وَّالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ۔ فرشتوں کی فروتنی اور فرمانبرداری : یعنی آسمانوں اور زمین میں جتنے بھی جاندار ہیں سب خدا ہی کو سجدہ کرتے ہیں اس لیے کہ سب کی جبلت خدا پرستی ہی ہے۔ فرشتے بھی خدا ہی کو سجدہ کرتے ہیں۔ نادان لوگ ان کو جو چاہیں بنا کر رکھ دیں لیکن وہ خود خدا کے فرمانبردار بندے ہیں وہ اس سے اکڑتے نہیں بلکہ بےچون و چرا اس کے ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 48–49

48۔ 1 اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی اور اس کی جلالت شان کا بیان ہے کہ ہر چیز اس کے سامنے جھکی ہوئی اور مطیع ہے۔ جمادات ہوں یا حیوانات یا جن و انسان اور ملائکہ۔ ہر وہ چیز جس کا سایہ ہے اور اس کا سایہ دائیں بائیں جھکتا ہے تو وہ صبح و شام اپنے سائے کے ساتھ اللہ کو سجدہ کرتی ہے۔ امام مجاہد فرماتے ہیں جب سورج ڈھلتا ہے تو ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–49

22: انسان کتنا بھی مغرور یا متکبر ہوجائے، اس کا سایہ جب زمین پر پڑتا ہے تو وہ عاجزی اور انکساری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کے ساتھ اس کے سائے کی شکل میں ایک ایسی چیز پیدا فرمادی ہے جو اس کے اختیار کے بغیر ہر وقت اللہ تعالیٰ کے آگے سجدہ ریز رہتی ہے۔ یہاں تک کہ جو لوگ سورج کی پوجا کرتے ہیں۔ وہ خود تو سورج کے آگے جھک رہے ہوتے ہیں اور ان کے سائے اس کی مخالف سمت میں سجدہ ریز ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 45–50

آیت نمبر 45 تا 50 یہ بات نہایت تعجب انگیز ہے کہ انسانی سوسائتی کے اندر دست قدرت کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی سخت پکڑ میں آجاتے ہیں۔ وہ مکاریاں اور تدابیر کرتے ہی رہتے ہیں لیکن جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ ایک غالب اور صاحب قوت ہستی کی گرفت ہوتی ہے۔ پھر ان کی قوت ، ان کا مال اور ان کا وسیع علم ان کو بچا نہیں سکتا۔ لیکن اس کے باوجود بقیہ مکار اپنی مکاریاں جاری رکھتے ہیں اور جو اللہ کے عذابوں سے بچ نکلتے ہیں وہ پھر اسی طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ الا یہ کہ ان کے ساتھ یہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ ڈرتے نہیں کہ خدا ان کو بھی پکڑ سکتا ہے۔ ہر وقت وہ اللہ کی گرفت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 پہلے کھڑی چیزوں کا جو سایہ دار ہوں سجدہ بیان ہوا تھا، یہاں عام جانداروں بالخصوص فرشتوں کا سجدہ بیان کر کے متنبہ فرمایا کہ ایسی مقرب و معظم ہستیاں بھی اس کے آگے سربسجود ہیں کوئی شیخی یا غرور ان میں نہیں، جو اپنے مالک کے سامنے سر جھکانے سے رکے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " مغرور لوگوں کو سر رکھنا زمین پر مشکل ہوتا ہے۔ نہیں جانتے کہ بندہ کی بڑائی اسی میں ہے " مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَہُ اللّٰہُ ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 48–49

آیت 48 اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ اس آیت میں ہمارے اردگرد کی اشیاء سے پیدا ہونے والے ماحول کی تصویر کشی کی گئی ہے جسے دیکھتے ہوئے ہم اللہ کی کبریائی کا ایک نقشہ اپنے تصور میں لاسکتے ہیں۔ جب سورج نکلتا ہے تو تمام چیزوں کے سائے زمین پر بچھے ہوئے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پھر سورج کے بلند ہونے کے ساتھ ہی ساتھ یہ سائے سمٹتے چلے جاتے ہیں۔ سورج کے ڈھلنے کے ساتھ دوسری سمت میں پھیلتے ہوئے یہ سایے پھر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

48 فرشتوں کی الوہیت کا رد :۔ تمام مخلوقات میں سے فرشتوں کا بالخصوص الگ ذکر فرمایا۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر ممالک میں اور اسی طرح عرب ممالک میں بھی فرشتوں کو معبود سمجھا جاتا رہا ہے۔ ان فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دیا جاتا اور انھیں اللہ تعالیٰ یا بڑے خدا کا نائب اور کائنات میں بعض خاص امور کے تصرف کرنے والے اور اس کام میں اللہ کے مددگار سمجھا جاتا تھا۔ مصری اور یونانی اور ہندی تہذیب میں انہی فرشتوں کو یا ان کی ارواح کو دیوی دیوتاؤں کے نام سے پکارا جاتا ہے مثلاً بارش کا مالک فلاں دیوتا ہے۔ دولت کی مالک فلاں دیوی ہے اور محبت کی فلاں وغیرہ وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے اس باطل عقیدہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

70۔ (تکوینی طور پر) (آیت) ” یسجدا۔ سجودیہاں اپنے اصل مفہوم، انقیاد واستلام کے معنی میں ہے۔ آیت کا حاصل یہ ہے کہ مخلوق کو چھوٹی یا بڑٰ کوئی سی بھی ہو اور عالم ارواح یا عالم اجسام میں کہیں بھی ہو، سب کی سب عظمت الہی کی مسخر ومنقاد ہیں۔ اے کل ماسوی اللہ سواء کان من عالم الارواح او من عالم الاجسام فھو منقاد خاضع الجلال اللہ تعالیٰ وکبریاۂ (کبیر) 71۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی مطیع ومنقاد جب تکوینی طور پر، زمین و آسمان کی ساری ہی زندہ ومتحرک مخلوق ہے، اور سب سے بڑھ کر خود فرشتے جو ایک لحاظ سے اعظم مخلوقات ہیں اور مشرکوں نے انہی کو دیوی دیوتا قرار دیا اور خدا کا مدمقابل سمجھا ہے، وہ تو خاص طور پر مطیع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–50

آیت نمبر 41 تا 50 ترجمہ : اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لئے اہل مکہ کی اذیتوں کے ظلم سہنے کے بعد ترک وطن کیا، اور وہ نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب ہیں، ہم ان کو دنیا میں بہترین ٹھکانہ عطا کریں گے وہ ٹھکانہ مدنیہ ہے، اور آخرت کا اجر یعنی جنت بہت ہی بڑا ہے کاش کافر یا ہجرت نہ کرنے والے اس بات کو جان لیتے کہ مہاجروں کے لئے کس قدر اعزاز ہے تو ضرور مہاجرین کی (ہجرت میں) موافقت کرتے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مشرکوں کی اذیتوں اور اظہار دین کے لئے ہجرت پر صبر کیا اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں تو وہ ان کو ایسے طریقہ سے رزق دیتا ہے کہ ان کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا، اور آپ سے پہلے بھی ہم مردوں ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واللہ یسجد ما فی السموات وما فی الارض من دآبۃ اور اللہ ہی کے مطیع ہیں جتنی چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چلنے والی چیزیں زمین میں ہیں۔ مَا فِی السَّمٰوٰتِ سے مراد ہے : چاند ‘ سورج ‘ ستارے اور مِنْ دَآبَّۃٍ- مَا فِی الْاَرْضِ کا بیان ہے یا مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ دونوں کا بیان مِنْ دَآبَّۃٍہے ‘ یعنی چلنے والی چیزیں ‘ آسمانوں میں ہوں یا زمین میں۔ دبیب جسمانی حرکت کو کہتے ہیں ‘ آسمان میں ہو یا زمین میں۔ والملئکۃ اور فرشتے بھی۔ وَالْمَلآءِکَۃ کا عطف مَا فِی السَّمٰوٰتِ پر ہے کیونکہ مَا فِی السَّمٰوٰتِ سے آسمانی چیزیں مراد ہیں چاند ‘ سورج ‘ ستارے اور مَا فِی الْاَرْضِ سے مراد زمین…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(49) (اور وہ سایہ دار چیزیں بھی) اللہ تعالیٰ کی مطیع وفرمانبردار ہیں اور چاند وسورج ستارے اور حیوانات و پرندے اور وہ فرشتے بھی جو کہ آسمان و زمین میں ہیں سب اللہ تعالیٰ کے سامنے سربسجود ہیں اور وہ اطاعت خداوندی سے تکبر نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ۔۔ : پہلے ان چیزوں کا سجدہ بیان فرمایا جو زمین میں پائی جاتی ہیں، اب یہاں زمین و آسمان میں پائے جانے والے تمام جان دار، خصوصاً فرشتوں کا سجدہ بیان کرکے متنبہ فرمایا کہ ایسی مقرب ہستیاں بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے سربسجود ہیں اور ان میں کوئی تکبر یا غرور نہیں پایا جاتا، لہٰذا ان کے متعلق یہ سمجھنا قطعی غلط ہے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور ان کا اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں کوئی حصہ ہے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 49–50

آیت نمبر 49 تا 50 قولہ تعالیٰ : وللہ یسجد ما فی السموات وما فی الارض من دآبۃ اور اللہ کے لئے سجدہ کر رہی ہے ہر چیز جو آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے یعنی ہر وہ شی وج زمین پر رینگ کر چلتی ہے (مراد ہر قسم کے جاندار ہیں) والملئکۃ یعنی وہ ملائکہ جو زمین میں ہیں، اور ان کے شرف مرتبہ کی وجہ سے ان کی خصوصیت کے پیش نظر ان کا ذکر الگ فرمایا : اور دبیب (رینگنا) کی صفت سے انہیں ذکر کے ساتھ ممتاز کردیا اگرچہ یہ ان میں داخل ہیں ؛ جیسا کہ یہ ارشاد ہے : فیھما فاکھۃ ونخل ورمان۔ (الرحمن) (ان میں میوے ہوں گے اور کھجوریں اور انار ہوں گے) اور یہ بھی کہا گیا ہے : انہیں من جملہ ان جانداروں سے جو رینگتے ہیں یا ہاتھ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 49–56

1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وللہ یسجد مافی السموت وما فی الارض من دآبۃ “ سے مراد ہے کہ کوئی چیز نہیں چھوٹتی اس کی مخلوق میں سے مگر اس کی عبادت کرتی ہے خوشی سے یا نا خوشی سے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ آسمان کی مخلوق خوشی سے سجدہ کرتی ہے اور زمین کی مخلوق بعض خوشی سے اور بعض مجبورا سجدہ کرتی ہے۔ 3:۔ خطیب نے تاریخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یخافون ربہم “ یعنی وہ اللہ کے جلال سے ڈرتے ہیں۔ 4: ابن ابی شیبہ اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے گذرے اور وہ اپنی دو انگلیوں کے ساتھ دعا کررہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَللّٰهِ : اور اللہ کے لئے ہی ] [ يَسْجُدُ : سجدہ کرتا ہے ] [ مَا : وہ جو ] [ فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [ وَمَا : اور وہ جو ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [ مِنْ دَاۗبَّةٍ : کوئی بھی چلنے والا ] [ وَّالْمَلٰۗىِٕكَةُ : اور فرشتے (بھی)] [ وَهُمْ؛اور وہ سب ] [ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ : بڑائی نہیں چاہتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 48–51

ہر مخلوق فرشتے وغیرہ سب اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں ان آیات میں بندوں کو اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل کی طرف متوجہ فرمایا ہے اور اپنی شان خالقیت اور مالکیت بیان فرمائی ہے اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا فرمائی ہیں ان کو کیوں نہیں دیکھتے ؟ ان میں غور کرو اور دیکھو کہ ان کا سایہ دائیں طرف بائیں طرف جو زمین پر پڑتا ہے اس سائے میں بھی اللہ تعالیٰ شانہٗ کی شان خالقیت ظاہر ہو رہی ہے یہ سائے اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہیں اللہ تعالیٰ جس طرف چاہتے ہیں یہ سائے اسی طرف جھکتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں اور اس کے حکم کے سامنے عاجز محض ہیں، اور سایوں پر اور سایہ والی چیزوں پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–50

قال اللہ تعالیٰ : اولم یرو الی ما خلق اللہ من شیء .... الیٰ .... ویفعلون ما یؤمرون۔ (ربط) اب ان آیات میں اپنے آثار جبروت اور آثار ملکوت کو یاد دلاتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ تمام چیزیں اللہ ہی کو سجدہ کرتی ہیں اور ہر چیز اسی کے حکم پر گردن جھکائے ہوئے ہے اور افسوس ہے کہ تم بنی آدم اور اشرف المخلوقات ہو کر اس کی اطاعت سے انحراف کرتے ہو اور غیروں کی عبادت میں سرگرداں ہو اور خداوند ذوالجلال کے قہر اور عذاب سے بےخوف اور نڈر ہوگئے ہو۔ چناچہ فرماتے ہیں کیا نہیں دیکھتے کافر کہ اللہ نے جو چیز پیدا کی ہے کہ اس کا سایہ داہنی جانب سے اور بائیں جانب سے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے جھکتا ہے۔ درآں حالیکہ یہ سب سائے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 48–50

36:۔ توحید پر چوتھی عقلی دلیل۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی پیدا کیا ہے ان کے سائے اللہ کے قانون تکوینی کے تحت گھٹتے بڑھتے ہیں اس طرح کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے تکوینی احکام کی مطیع و فرمانبردار ہے۔ ” عَنِ الْیَمِیْنَ وَاالشَّمَائِلَ الخ “ لفظ مَا صورۃً مفرد ہے اس لیے اس کی رعایت سے یمین مفرد لایا گیا اور مَا معنی جمع ہے کیونکہ اس سے تمام سایہ دار مخلوق مراد ہے اس لیے اس کی رعایت سے شمائل جمع استعمال کیا گیا۔ ” وَ ھُمْ دَاخِرُوْنَ “ اس سے ذوی العقول اور گیر ذوی العقول سب مراد ہیں لیکن تغلیباً ضمیر عقلاء کی استعمال کی گئی ہے۔ ” وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ الخ “ زمین و آسمان کی ہر جاندار مخلوق اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 45–50

(ربط آیات) گذشتہ سے پیوسہ درس میں اللہ تعالیٰ نے شرک کا رد فرمایا اور پھر گذشتہ درس میں ان مومن مہاجرین کی حوصلہ افزئی فرمائی جن پر بڑے مظالم ڈھائے گئے مگر انہوں نے خدا تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے صبر کے دامن کو نہ چھوڑا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو دنیا میں بھی بہتر ٹھکانا میسر آئے گا اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے رسالت کے سابقہ بیان کے تسلسل میں فرمایا کہ ہر قوم میں مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا گیا ، اگر منکرین توحید و رسالت کو اس بارے میں کوئی شک وتردد ہے تو وہ تاریخی واقعات کو یاد رکھنے والوں سے تصدیق کرلیں ، حضور خاتم النبیین ﷺ سے قبل اللہ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ مِنْ دَاۗبَّـةٍ وَّالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ 49؀ دأب الدَّأْب : إدامة السّير، دَأَبَ في السّير دَأْباً. قال تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دائِبَيْنِ [إبراهيم/ 33] ، والدّأب : العادة المستمرّة دائما علی حالة، قال تعالی: كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ [ آل عمران/ 11] ، أي : کعادتهم التي يستمرّون عليها . ( د ء ب ) الداب کے معنی مسلسل چلنے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ داب السیر دابا ۔ وہ مسلسل چلا ۔ قرآن میں ہے وَسَخّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دائِبَيْنِ [إبراهيم/ 33] اور سورج اور چاند کو تمہارے لئے کام میں لگا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–50

اولم یروا الی ماخلق اللہ الخ اپنا رئوف رحیم ہونا ان آیات میں ظاہر فرماتا ہے کہ جن میں اس کے آثار جبروت اور قدرت کاملہ کا بیان ہے جن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ تمام عالم اس کے آگے مسخر ہے تاکہ یہ بھی معلوم ہوجائے کہ اس کو دفعۃً یا تدریجاً ہلاک کرنے کی بھی قدرت ہے پھر اس سے نڈر ہونا اور باوجودیکہ درختوں اور جمیع سایہ دار چیزوں کے سائے اس کو سجدہ کر رہے ہیں (ان کا زمین پر پڑنا گویا سجدہ کرنا ہے) اور اسی طرح آسمانوں اور زمین کے تمام رہنے والے چارپائے اور فرشتے اس کے آگے سربسجود اور اس کے فرمانبردار اور خائف ہیں پھر بندہ کا نافرمان ہونا اور حجتیں کرنا اور اس کے ہادیوں اور ان کے پیروئوں کو ستانا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 49–50

وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّۃٍ وَّالْمَلٰٓئِکَۃُ وَھُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُوْنَ ۔ یَخَافُوْنَ رَبَّھُمْ مِّنْ فَوْقِھِمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَایُؤْمَرُوْن۔ (سورۃ النحل : 49۔ 50) (اور اللہ تعالیٰ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں جاندار ہیں اور فرشتے بھی۔ وہ سرتابی نہیں کرتے۔ وہ اپنے اوپر اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جس کا ان کو حکم ملتا ہے۔ ) توحید پر مزید زور دیتے ہوئے فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں جتنے بھی جاندار ہیں سب اللہ تعالیٰ ہی کو سجدہ کرتے ہیں حتیٰ کہ فرشتے بھی جن کو مشرکینِ عرب نے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بنا رکھا تھا اور انھیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 48–50

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرکین کو عذاب کی وعید سنانے کے بعد یہ سمجھایا ہے کہ انہیں غور کرنا چاہیے کہ جس کائنات میں یہ رہ رہے ہیں اس کا ذرہ ذرہ اپنے خالق کے سامنے سر بسجود ہے۔ مگر کافر، مشرک اور نافرمان اللہ کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ قرآن مجید بار بار یہ بات انسان کو باور کرواتا ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ پیدا کیا گیا ہے اس کے پیدا کرنے کا ایک مقصد یہ کہ وہ انسان کی خدمت بجا لائے اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم کے مطابق اپنا اپنا کام کرتے رہیں۔ لیکن انسان نہ صرف اپنے رب کی نافرمانی کرتا ہے بلکہ وہ کفرو شرک کا ارتکاب کر کے ذات کبریا کا انکار کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کو توجہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آسمان و زمین کی مخلوقات اطاعت سے سر نہیں اٹھاتیں : 49: وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّۃٍ (اور اللہ تعالیٰ ہی کی مطیع ہیں جتنی چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں چلنے والی ہیں زمین میں) من دابۃؔ یہ مافی السمٰوٰت ومافی الارض تمام کا بیان ہے۔ کہ آسمانوں میں بھی ایسی مخلوق ہے۔ جو اس میں چلتی ہے۔ جیسا کہ زمین میں انسان چلتے ہیں۔ نمبر 2۔ یا ما فی الارض کا صرف بیان ہے۔ اور ماؔ فی السٰموات سے آسمانوں کے ملائکہ مراد ہیں اور وَّالْمَلٰٓپکَۃُ ( اور فرشتے) ملائکہ سے حفظہ مراد ہیں۔ نمبر 2۔ سجود مکلفین سے مراد ان کی اطا عت و عبادت مراد ہے اور دوسروں کے سجدہ سے مراد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(49)” وللہ یسجد ما فی السموت وما فی الارض یہاں پر ان لوگوں کو غلبہ دیا گیا جو لا یعقل ہیں عقل مندوں کو۔ یہاں حکم اغلب کا ہے ۔ جیسا کہ مذکر کو مونث پر غلبہ دیا گیا ہے ( اور مذکر کو ذکر کرتے ہیں مونث کو ذکر نہیں کرتے )…” من دابۃ “ اس سے مراد ہر وہ جانور ہے جو زمین پر رینگ کر چلتا ہے اور اسی طرح کہاجاتا ہے کہ سجدہ طاعات کے لیے بولا جاتا ہے اور تمام اشیاء اللہ تعالیٰ کی مطیع ہیں خواہ وہ حیوانات میں سے ہو یا جمادات میں سے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” قالتا اتینا طائعین “ اور بعض حضرات کے نزدیک ان اشیاء کو سجدہ کرنے سے مراد تذلل اور مسخر ہونا ہے اور بعض نے کہا کہ سجود سے مراد ہے کہ ہر چیز میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 49–50

49۔ 50۔ ترمذی میں حضرت عمر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ظہر کی چار سنتیں بڑے ثواب کی چیزیں ہیں ان چار رکعتوں کا ثواب گویا تہجد کا سا ثواب ہے اسی ذکر کے سلسلہ میں آپ نے فرمایا کہ زوال کے بعد سب چیزیں اللہ پاک کے نام کی تسبیح پڑھتی ہیں یہ فرما کر پھر آپ نے اوپر کی آیت پڑھی 1 ؎۔ غرض فرشتے انسان جن پہاڑ درخت دیوار سب کے اوپر اللہ کی عظمت اور بڑائی کا اثر ہے پہاڑ درخت اور سب چیزوں کا سایہ زوال سے پہلے سیدھے ہاتھ کی طرف اور سورج ڈھلنے کے بعد الٹے ہاتھ کی طرف جو آجاتا ہے یہ اللہ تعالیٰ نے سایہ کے لئے سجدہ مقرر کیا ہے اور یہی اس کی عبادت ہے اس حدیث کی روایت میں علی بن عاصم منفرد ہے لیکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 48–50

آیت : (48-50) اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (اولم یرو) ” کیا انہوں نے نہیں دیکھا۔ “ یعنی کیا اپنے رب کی توحید ‘ اس کی عظمت اور اس کے کمال میں شک کرنے والوں نے نہیں دیکھا ؟ (الی ما خلق اللہ من شیء) ” ان چیزوں کی طرف جن کو اللہ نے پیدا کیا “ یعنی تمام مخلوقات کی طرف (یتفیوا ظللہ) کہ ’ انکے سائے لوٹتے رہتے ہیں “ (عنالیمین والشمائل سجدۃ اللہ) ” ان کی دائیں طرف سے یا بائیں طرف سے ‘ اللہ کو وجدہ کرتے ہوئے “ یعنی تمام اشیاء کے سائے ‘ اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کے سامنے نہایت عاجزی کے ساتھ سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ (وھم دخرون) ” اور وہ جھکے رہتے ہیں۔ “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ذلیل ‘ مسخر اور اس کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 14–65

زیور کے بارے میں حکم قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 48–49

95۔ خلق خدا کے احوال میں غور وفکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ سوچتے اور غور نہیں کرتے اللہ کی پیدا کردہ کسی بھی چیز کے بارے میں۔ اور اس بات میں کہ کس طرح ہر چیز کا سایہ بھی اللہ کے حضور جھکتا ہے ؟ اور خود ان لوگوں کے اپنے سائے بھی جو کہ ان کے پاؤں میں زمین پر پڑے رہتے ہیں اور عاجزانہ طور پر اپنے رب کے حضور جھکے رہتے ہیں۔ تو جب اس کی قدرت کاملہ اور استحقاق عبودیت کا یہ عالم ہے کہ ہر چیز اس کے حضور اس طرح سراپا وعجز ونیاز بن کر جھکی ہوئی ہے تو یہ انسان ضعیف البنیان اپنے اختیار و ارادہ سے اس کے آگے کیوں نہیں جھکتا ؟ تاکہ اس سے ایک طرف تو اس وحدہ لاشریک کی عبادت و بندگی کا حق ادا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 48–60

کائنات کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہے تشریح : یہاں عربوں کی انتہائی بری عادت بیان کی گئی ہے جو کہ ان میں عام طور پر رواج پا چکی تھی۔ اول تو وہ لڑکی ذات کو ہی ناپسند کرتے تھے، پھر جب وہ پیدا ہوجاتی تو اس کو اپنی انتہائی ذلت کا باعث سمجھتے تو اس ذلت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اپنی بچی کو مار دیتے یا زندہ کو ہی دفن کردیتے اور یوں تین گناہ کرتے ایک تو اپنی اولاد پر ظلم کرتے دوسرا قتل کا گناہ کرتے اور تیسرا حکمت الٰہی میں دخل دیتے۔ اس کے علاوہ ایک بہت بڑا گناہ یہ کرتے کہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے، یعنی جس بات کو اپنے لیے باعث شرم سمجھتے اس کو اللہ کے لیے مناسب سمجھتے اور یوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–50

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف ایسے لوگ جنہوں نے اللہ کریم کے لیے وطن چھوڑا کہ وہاں ان پر ظلم ہوتا تھا انہیں ہم دنیا میں بھی بہترین ٹھکانہ دین گے اور آخرت کا انعام تو بہت ہی بڑا ہے ایسے لوگوں کے لیے جو ثابت قدم رہے اور جملہ اسباب اختیار کرکے بھروسہ اللہ پر رکھا یعنی کوئی ایسا سبب اختیار نہ کیا جس میں اللہ جل جلالہ کی نافرمانی ہو اس آیہ مبارکہ میں ہجرت کی فضیلت اور مہاجرین دنیا وآخرت میں انعامات کا وعدہ ہے ہجرت کیا ہے ۔ (ہجرت اور اس پر انعامات کا وعدہ) ہجرت سے مراد ترک وطن ہے اور یہاں فی اللہ کی شرط لگا کر ایسی حالت متعین فرما دی کہ یہ ترک وطن اللہ جل جلالہ کی رضا کے لیے اور دین کے تحفظ کے لیے ہو ،…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 48–49

ف 4 یعنی دنیا کی ہر چیز پہاڑ، درخت اور انسان وغیرہ۔ جس کا سایہ بڑھتا، گھٹتا اور ڈھلتا ہے۔ تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ ہی کی فرمانبرداری میں مصروف ہے اور وہ قانون قدرت سے سرموانحراف نہیں کرسکتی۔ یہاں جملہ ایشیا پر ذوی العقول کو غلبہ دے کر ” داخرون “ فرما ای ہے۔ (از روح) شاہ صاحب اس سجدہ کی کیفیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ہر چیز ٹھیک دوپہر میں کھڑی ہے۔ اس کا سایہ بھی کھڑا ہے۔ جب دن ڈھلا، سایہ بھی جھکا، پھر جھکتے جھکتے شام تک زمین پر پڑگیا جیسے نماز میں کھڑے سے رکوع اور رکوع سے سجدہ اس طرح ہر چیز اپنے سایہ سے نماز ادا کرتی ہے۔ (کذا فی الموضح) 5 پہلے ان چیزوں کا سجدہ بیان فرمایا جو زمین میں پائی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 48–49

(16:48) یتفیئوا۔ مضارع واحد مذکر غائب تفیء (تفعل) مصدر۔ فیء مادہ جھکے جاتے ہیں۔ لوٹتے ہیں۔ الفیء والفیئۃ معنی اچھی حالت کی طرف لوٹ کر آنا کے ہیں۔ مثلاً فان فاء وا۔ (2:226) اگر وہ (اس عرصہ میں قسم سے) رجوع کرلیں۔ اسی سے فاء الظل ہے جس کے معنی سایہ کے (زوال کے بعد) لوٹ آنے کے ہیں۔ اور فیء اس سایہ کو کہا جاتا ہے جو (زوال کے بعد) لوٹ کر آتا ہے۔ سجدا۔ الظلال کا حال ہے۔ سجدہ کرتے ہوئے۔ داخرون۔ دخر۔ سے اسم فاعل جمع مذکر۔ ذلیل و خوار ہونے والے ۔ عاجزی کرنے والے۔ الدخور۔ ای الصغار والذل۔ یعنی عاجزی ودرماندگی۔ وہم داخرون۔ میں وائو حالیہ ہے۔ یعنی اس حال میں کہ وہ اظہار عجز کر رہے ہیں۔ یعنی سائے اپنے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 43–50

لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 50 نوحی ہم وحی کرتے ہیں۔ اسئلوا تم پوچھ لو۔ اھل الذکر یاد رکھنے والے، علم والے۔ البینت (البینۃ) کھلی نشانیاں۔ الزبر (زبور) لکھی ہوئی کتابیں، صحیفے۔ الذکر دھیان دینے کی چیز (قرآن کریم) نزل نازل کیا گیا۔ افامن کیا پھر وہ مطمئن ہوگئے۔ یخسف وہ دھنساتا ہے۔ تقلب چلنا، پھرنا، بھاگ دوڑ معجزین عاجز کرنے والے، بےبس کرنے والے۔ تخوف ڈرنا۔ یتقیوا (فی) ڈھلتے ہیں۔ ظلال (ضل) سائے ۔ الیمین داہنی جانب۔ الشمائل بائیں جانب۔ داخرون ذلیل ہونے والے، عاجزی کرنے والے۔ یسجد سجدہ کرتا ہے۔ دابۃ زمین پر رینگنے ، چلنے والے جان دار۔ لایستکبرون وہ بڑائی، تکبر نہیں کرتے ہیں۔ یخافون وہ خوف رکھتے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 48–50

زمین وآسمان کی کل کائنات مع سایہ کے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے اللہ پاک اس آیت میں اپنی عظمت ودبدبہ کی خبر دیتا ہے کہ باوجود اس بات کے کہ وہ ایسا صاحب عظمت ہے کہ کل چیزیں اس کے حکم کی فرمانبردار ہیں۔ کیا حیوان اور کیا بےجان اسی طرح خواہ فرشتے ہوں خواہ جن ہوں سب اس کے قہر وغصہ کے سامنے مجبور و لاچار ہیں۔ کل وہ چیزیں جن کا سایہ ہے جو جاندار ہوں یا بےجان صبح وشام داہنے بائیں خدائے برتر کے سامنے سجدہ کرتی ہیں۔ غرضیکہ آسمان و زمین والے حتٰی کہ چوپائے بھی سجدہ کرتے ہیں اور اس کے سوا کسی کو بھی قابل عبادت نہیں جانتے اور ملائکہ بھی سجدہ میں مشغول ہیں۔ اور عبادت الہی میں مصروف ملائکہ ہرچند کہ علویات…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 48–50

(ف 1) اس آیت میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے ، کہ بجز انسان کے کائنات کی ہر چیز فطرت کے قوانین کی تابع ہے ، آفتاب سے لے کر ذرہ تک اور ملائکہ سے ادنی قسم کے حیوانات تک سب اطاعت کا دم بھرتے ہیں یعنی قدرت کی جانب سے جو فرائض ان پر عائد کئے گئے ہیں ۔ وہ ان کو پورا کرتے ہیں ، مگر حضرت انسان ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں سرگرم ہے ، پہاڑ اپنی جگہ پر قائم ہیں ، چاند ، سورج ، روزانہ خدا کے حکم کے تحت طلوع و غروب کے فرائض انجام دیتے ہیں ، کائنات کا حقیر سے حقیر ذرہ اپنے وظائف حیات ادا کر رہا ہے ، یہی قرآن کی اصطلاح میں سجدہ ہے ، یہ انسانی کی بدقسمتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہیں کرتا ، اور مذہب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

49 ۔ آگے آسمان اور زمین کی دوسری چیزوں کی اطاعت کا ذکر فرمایا اور جتنی چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جتنے جان دار زمین میں ہیں سب اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور اس کے تابع اور فرماں بردار ہیں اور فرشتے بھی اس کے مطیع اور منقاد ہیں اور اس کے لئے سجدہ ریز ہیں اور وہ فرشتے غرور وتکبر نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 48–50

ف 7۔ یعنی سایہ کے اسباب کہ آفتاب کا نورانی ہونا اور سایہ دار جسم کا کثیف ہونا ہے اور حرکت سایہ کا سبب کہ آفتاب کی حرکت ہے پھر سایہ کے خواصہ سب بحکم الٰہی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب کا سب رب کریم کے آگے سربسجود ہے : 57۔ اس آیت نے اس حقیقت کو واضح کردیا کہ قرآن کریم کے نزدیک اتباع حق کی حقیقت کیا ہے ؟ فرمایا کائنات ہستی میں جس قدر مخلوق ہے سب اللہ کے احکام وقوانین کے آگے جھکی ہوئی ہے ، اجرام سماویہ سے لے کر درختوں اور پتھروں تک کوئی چیز نہیں جس کے لئے اس نے احکام وقوانین نہ ٹھہرا دیئے ہوں اور ان کے مطابق ان کی ہستی کا کارخانہ نہ چل رہا ہو پھر اگر یہاں درخت کے ایک پتہ اور پہاڑ کی ایک چٹان کے لئے بھی کسی کے ٹھہرائے ہوئے احکام ہیں تو کیا انسان کے لئے نہیں ہوں گے جو کرہ ارض کے تمام سلسلہ خلقت کا ماحصل اور تمام کارخانہ تخلیق وتکمیل کا آفرین…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–57

Even the Punishment of the World is Mercy in Disguise In the verses cited above, after having mentioned various punishments which could seize disbelievers within this world, it was said in the end: فَإِنَّ رَ‌بَّكُمْ لَرَ‌ءُوفٌ رَّ‌حِيمٌ (So, indeed your Lord is Very Kind Very Merciful). First of all, by using the word: رَبّ (Rabb: Lord) here, the hint given is that all these punishments which overtake human beings in this world are there to warn them as part of the dictates of Divine mercy. After that, by introducing the word: رَ‌ءُوفٌ(Ra uf: Kind) headed by the intensifying particle lam)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–50

42. That is, not only all things on the earth alone but also all things in the heavens, including all those whom people have been regarding as gods and goddesses, and considering to be closely related to Allah are subservient to God, and have no share whatsoever in His Godhead. Incidentally, it implies the existence of living creatures not only on the earth but in the planets, too.

Read the full tafseer →