An-Nahl 16:48

An-Nahl · from ayah 48

16:48

اَوَلَمْ یَرَوْا اِلٰی مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَالشَّمَآىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ ۟اَوَلَمۡ يَرَوۡا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنۡ شَىۡءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الۡيَمِيۡنِ وَالشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلَّهِ وَهُمۡ دٰخِرُوۡنَ

کیا ان لوگوں نے خدا کی مخلوقات میں سے ایسی چیزیں نہیں دیکھیں جن کے سائے دائیں سے (بائیں کو) اور بائیں سے (دائیں کو) لوٹتے رہتے ہیں (یعنی) خدا کے آگے عاجز ہو کر سجدے میں پڑے رہتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Have they not considered what things Allah has created? Their shadows incline to the right and to the left, prostrating to Allah, while they are humble.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 6 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:48

اور کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضور سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں گرتا ہے؟ سب کے سب اِس طرح اظہار عجز کر رہے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا ان لوگوں نے خدا کی مخلوقات میں سے ایسی چیزیں نہیں دیکھیں جن کے سائے دائیں سے (بائیں کو) اور بائیں سے (دائیں کو) لوٹتے رہتے ہیں (یعنی) خدا کے آگے عاجز ہو کر سجدے میں پڑے رہتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا انہوں نے اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو بھی نہیں دیکھا؟ کہ اس کے سائے دائیں بائیں جھک جھک کر اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود ہوتے اور عاجزی کا اﻇہار کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے اس کے سائے اللہ کو سجدے کرتے ہوئے دائیں اور بائیں جھکے رہتے ہیں اور وہ سب عاجزی کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ جو چیز اللہ نے بنائی ہے اس کی پرچھائیاں دائیں اور بائیں جھکتی ہیں اللہ کو سجدہ کرتی اور وہ اس کے حضور ذلیل ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا انہوں نے ان (سایہ دار) چیزوں کی طرف نہیں دیکھا جو اللہ نے پیدا فرمائی ہیں (کہ) ان کے سائے دائیں اور بائیں اَطراف سے اللہ کے لئے سجدہ کرتے ہوئے پھرتے رہتے ہیں اور وہ (درحقیقت) طاعت و عاجزی کا اظہار کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کیا انھوں نے اس کو نہیں دیکھا جسے اللہ نے پیدا کیا ہے، جو بھی چیز ہو کہ اس کے سائے دائیں طرف سے اور بائیں طرفوں سے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے ڈھلتے ہیں، اس حال میں کہ وہ عاجز ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا ان لوگوں نے اللہ کی پیدا کردہ اشیاء میں سے کسی چیز کو بھی نہیں دیکھا کہ اس کا سایہ کیسے دائیں سے (بائیں) اور بائیں سے۔ (دائیں) اللہ کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے ڈھلتا رہتا ہے اور یہ سب چیزیں انتہائی عجز کا اظہار کر رہی ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ خدا نے جو چیز بھی پیدا کی ہے ان کے سائے دہنے اور بائیں سے منقلب ہوتے ہیں اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے اور ان پر فروتنی ہوتی ہوتی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی بھی چیز کو نہیں دیکھتے ؟ کہ (کس طرح) جھکتے ہیں اس کے سائے، دائیں اور بائیں سجدہ کرتے ہوئے اللہ کے حضور، سراپا عجز (و نیاز) بن کر،

— مولانا اسحاق مدنی

کیا انہوں نے اللہ کی پیدا کی ہوئی ان چیزوں کو نہیں دیکھا جن کے سائے داہنی طرف اور با ہیں طرف جھکتے ہیں تابع ہیں وہ اللہ کے اور (اللہ کے روبرو) عاجز ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں اللہ کی پیدا کی ہوئی ہر شے کی طرف کہ جھکتے ہیں اس کے سائے دائیں اور بائیں اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے اور وہ سب عاجزی (کی کیفیت) میں ہوتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا ان لوگوں نے اللہ کی مخلوقات میں سے ایسی چیزیں نہیں دیکھیں جن کے سائے دائیں سے (بائیں کو) اور بائیں سے (دائیں کو) لوٹتے رہتے ہیں یعنی اللہ کے آگے عاجز ہو کر سجدے میں پڑے رہتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do the people not see how the objects Allah has created cast their shadows right and left, prostrating themselves in utter submission to Allah?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Have they not observed the things Allah has created, their shadows inclining from the right and the left prostrating themselves before Allah, while they are humble?

— Muhammad Taqi Usmani

Have they not observed the things Allah has created, their shadows inclining from the right and the left prostrating themselves before Allah, while they are humble?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Have they not observed things that Allah has created: (how) their shadows shift from right to left, prostrating to Allah while they are humble

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Have they not observed all things that Allah hath created, how their shadows incline to the right and to the left, making prostration unto Allah, and they are lowly?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Have they not considered what things Allah has created? Their shadows incline to the right and to the left, prostrating to Allah, while they are humble.

— Saheeh International

Can they not see that the shadows of whatever God has created turn to the right and to the left in prostration and submission to Him?

— Muhammad Sarwar

Do they not consider every thing that Allah has created? Its (very) shadows return from right and left, making obeisance to Allah while they are in utter abasement.

— Muhammad Habib Shakir

Have they not observed the things which Allah hath created? shadows thereof turn themselves on the right and on the left. prostrating themselves unto Allah, and they are lowly.

— Abdul Majid Daryabadi

Do they not look at Allah's creation, (even) among (inanimate) things,- How their (very) shadows turn round, from the right and the left, prostrating themselves to Allah, and that in the humblest manner?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:48

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 48–50

عرش سے فرش تک اللہ تعالیٰ ذو الجلال والاکرام کی عظمت و جلالت کبریائی اور بےہمتائی کا خیال کیجئے کہ ساری مخلوق عرش سے فرش تک اس کے سامنے مطیع اور غلام۔ جمادات و حیوانات، انسان اور جنات، فرشتے اور کل کائنات، اس کی فرماں بردار، ہر چیز صبح شام اس کے سامنے ہر طرح سے اپنی عاجزی اور بیکسی کا ثبوت پیش کرنے والی، جھک جھک کر اس کے سامنے سجدے کرنے والی۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں سورج ڈھلتے ہی تمام چیزیں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑتی ہیں ہر ایک رب العالمین کے سامنے ذلیل و پست ہے، عاجز و بےبس ہے۔ پہاڑ وغیرہ کا سجدہ ان کا سایہ ہے، سمندر کی موجیں اس کی نماز ہے۔ انہیں گویا ذوی العقول سمجھ کر سجدے کی نسبت ان کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّحْل 41 یعنی تمام جسمانی اشیاء کے سائے اس بات کی علامت ہیں کہ پہاڑ ہوں یا درخت، جانور ہوں یا انسان، سب کے سب ایک ہمہ گیر قانون کی گرفت میں جکڑے ہوئے ہیں، سب کی پیشانی پر بندگی کا داغ لگا ہوا ہے، الوہیت میں کسی کا کوئی ادنی حصہ بھی نہیں ہے۔ سایہ پڑنا ایک چیز کے مادی ہونے کی کھلی علامت ہے، اور مادی ہونا بندہ و مخلوق ہونے کا کھلا ثبوت۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–57

خلاصہ تفسیر کیا (ان) لوگوں نے اللہ کی ان پیدا کی ہوئی چیزوں کو نہیں دیکھا (اور دیکھ کر توحید پر استدلال نہیں کیا) جن کے سائے کبھی ایک طرف کو کبھی دوسری طرف کو اس طور پر جھکتے جاتے ہیں کہ (بالکل) خدا کے (حکم کے) تابع ہیں (یعنی سائے کے اسباب کہ آفتاب کی حرکت ہے پھر سایہ کے خواص یہ سب بحکم الہی ہے) اور وہ (سایہ دار) چیزیں بھی (اللہ کے رو برو) عاجز (اور تابع حکم) ہیں اور (جس طرح یہ اشیاء مذکورہ جن میں حرکت ارادیہ نہیں جیسا کہ یتفیئوا کی اسناد ظلال کی طرف اس کا قرینہ ہے کیونکہ متحرک بالارادہ میں سایہ کی حرکت خود اس متحرک بالا رادہ کی حرکت سے ہوتی ہے حکم خدا کے تابع ہیں اسی طرح) اللہ ہی کے مطیع…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون۔ آیات 48 تا 60:۔ توحید کی آفاقی و انفسی دلیلیں : آگے کی آیات میں توحید کی بعض آفاقی اور انفسی دلیلیں بیان ہوئی ہیں اور مقصود ان کے بیان کرنے سے تنبیہ کے اس مضمون کو مؤکد کرنا ہے جو اوپر کی آیات 54 تا 47 میں گزرا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب کے لیے جلدی مت مچاؤ، اگر خدا کا عذاب آگیا تو اس سے نجات دینے والا خدا کے سوا کوئی اور نہیں بن سکتا۔ اگر کسی کو اپنے دیویوں دیوتاؤں پر اعتماد ہے تو یہ واضح رہنا چاہیے کہ خدا کا کوئی شریک نہیں ہے۔ وہ وحدہ لا شریک ہے۔ کسی کی مجال نہیں ہے کہ اس کے کسی ارادے میں مزاحم یا مخل ہوسکے۔ اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 48–49

48۔ 1 اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی اور اس کی جلالت شان کا بیان ہے کہ ہر چیز اس کے سامنے جھکی ہوئی اور مطیع ہے۔ جمادات ہوں یا حیوانات یا جن و انسان اور ملائکہ۔ ہر وہ چیز جس کا سایہ ہے اور اس کا سایہ دائیں بائیں جھکتا ہے تو وہ صبح و شام اپنے سائے کے ساتھ اللہ کو سجدہ کرتی ہے۔ امام مجاہد فرماتے ہیں جب سورج ڈھلتا ہے تو ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–49

22: انسان کتنا بھی مغرور یا متکبر ہوجائے، اس کا سایہ جب زمین پر پڑتا ہے تو وہ عاجزی اور انکساری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کے ساتھ اس کے سائے کی شکل میں ایک ایسی چیز پیدا فرمادی ہے جو اس کے اختیار کے بغیر ہر وقت اللہ تعالیٰ کے آگے سجدہ ریز رہتی ہے۔ یہاں تک کہ جو لوگ سورج کی پوجا کرتے ہیں۔ وہ خود تو سورج کے آگے جھک رہے ہوتے ہیں اور ان کے سائے اس کی مخالف سمت میں سجدہ ریز ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 45–50

آیت نمبر 45 تا 50 یہ بات نہایت تعجب انگیز ہے کہ انسانی سوسائتی کے اندر دست قدرت کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی سخت پکڑ میں آجاتے ہیں۔ وہ مکاریاں اور تدابیر کرتے ہی رہتے ہیں لیکن جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ ایک غالب اور صاحب قوت ہستی کی گرفت ہوتی ہے۔ پھر ان کی قوت ، ان کا مال اور ان کا وسیع علم ان کو بچا نہیں سکتا۔ لیکن اس کے باوجود بقیہ مکار اپنی مکاریاں جاری رکھتے ہیں اور جو اللہ کے عذابوں سے بچ نکلتے ہیں وہ پھر اسی طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ الا یہ کہ ان کے ساتھ یہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ ڈرتے نہیں کہ خدا ان کو بھی پکڑ سکتا ہے۔ ہر وقت وہ اللہ کی گرفت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی جب تکوینی طور پر ہر چیز خدا کے سامنے عاجز اور مطیع و منقاد ہے۔ حتی کہ سایہ دار چیزوں کا سایہ بھی اسی کے حکم اور قانون قدرت کے موافق گھٹتا بڑھتا اور ادھر یا ادھر رہتا ہے پھر ایسے قدرت والے خدا کو عذاب بھیجنے سے کون سی طاقت روک سکتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ باختیار خود اس کے احکام تشریعیہ کے سامنے گردن جھکا دے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " ہر چیز ٹھیک دوپہر میں کھڑی ہے اس کا سایہ بھی کھڑا ہے۔ جب دن ڈھلا، سایہ جھکا، پھر جھکتے جھکتے شام تک زمین پر پڑگیا، جیسے نماز میں کھڑے سے رکوع، رکوع سے سجدہ اسی طرح ہر چیز آپ کھڑی ہے اپنے سایہ سے نماز کرتی ہے۔ کسی ملک میں کسی موسم میں داہنی طرف جھکتا ہے کہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 48–49

آیت 48 اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ اس آیت میں ہمارے اردگرد کی اشیاء سے پیدا ہونے والے ماحول کی تصویر کشی کی گئی ہے جسے دیکھتے ہوئے ہم اللہ کی کبریائی کا ایک نقشہ اپنے تصور میں لاسکتے ہیں۔ جب سورج نکلتا ہے تو تمام چیزوں کے سائے زمین پر بچھے ہوئے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پھر سورج کے بلند ہونے کے ساتھ ہی ساتھ یہ سائے سمٹتے چلے جاتے ہیں۔ سورج کے ڈھلنے کے ساتھ دوسری سمت میں پھیلتے ہوئے یہ سایے پھر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

46۔ الف مثلاً پہلے پہر اگر آپ جنوب کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوں تو سایہ آپ کی دائیں جانب ہوگا اور شمال کی طرف منہ کریں تو بائیں جانب پھر جب سورج سر پر آجائے گا تو آپ کا سایہ آپ کے قدموں میں آجائے گا اور سردیوں میں شمال کی جانب سیدھ میں آجائے گا۔ اور پچھلے پہر سمت بالکل برعکس ہوجائے گی۔ اس آیت میں دائیں جانب کے لیے تو اللہ نے واحد کا صیغہ (یمین) استعمال فرمایا اور بائیں جانب کے لیے جمع کا (شمائل واحد شمال) یہ بھی عرب کا محاورہ اور ان کی فصاحت کی ایک قسم ہے۔ اہل عرب جب دو صیغے جمع کے لانا چاہتے ہیں تو ایک کو مفرد کرکے لاتے ہیں۔ قرآن میں اس کی دوسری مثال یہ ہے (خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

69۔ یعنی کیا یہ لوگ اس پر غور نہیں کرتے کہ تکوینی طور پر اس کائنات کی ایک ایک چیز، یہاں تک کہ سایہ دار چیزوں کے سائے بھی، حکم الہی کے مطیع ومنقاد ہیں۔ مشرک جاہلی قوموں میں سایہ دار چیزیں قانون الہی میں ہی کی محکوم ہیں۔ (آیت) ” ظللہ “۔ مفسرین قدیم نے لکھا ہے کہ سایہ کے موجبات ومسببات، حرکت سایہ کے اسباب، پھر سایہ کے خواص یہ سب حکم الہی ہی سے ہیں۔ (آیت) ” سجدا للہ۔ سجدا “ یہاں اپنے اصلی معنی میں ہے، یعنی فرمانبردار، جیسا کہ ہر مخلوق کو اپنے خالق اور فاعل حکیم کے روبرو ہونا ہی چاہیے۔ ھذا سجود تسخیر وھو الدلالۃ الصامتۃ الناطقۃ المنبھۃ علی کونھا مخلوقۃ وانھا خلق فاعل حکیم (راغب) المراد بھذا لسجود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–50

آیت نمبر 41 تا 50 ترجمہ : اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لئے اہل مکہ کی اذیتوں کے ظلم سہنے کے بعد ترک وطن کیا، اور وہ نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب ہیں، ہم ان کو دنیا میں بہترین ٹھکانہ عطا کریں گے وہ ٹھکانہ مدنیہ ہے، اور آخرت کا اجر یعنی جنت بہت ہی بڑا ہے کاش کافر یا ہجرت نہ کرنے والے اس بات کو جان لیتے کہ مہاجروں کے لئے کس قدر اعزاز ہے تو ضرور مہاجرین کی (ہجرت میں) موافقت کرتے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مشرکوں کی اذیتوں اور اظہار دین کے لئے ہجرت پر صبر کیا اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں تو وہ ان کو ایسے طریقہ سے رزق دیتا ہے کہ ان کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا، اور آپ سے پہلے بھی ہم مردوں ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اولم یروا الی ما خلق اللہ من شیء کیا انہوں نے اللہ کی پیدا کی ہوئی ان چیزوں کو نہیں دیکھا ؟ اگر دیکھا ہے تو اللہ کی قدرت کاملہ اور ہمہ گیر غلبہ کا ادراک ان کو کیوں نہیں ہوا اور کیوں اس کے عذاب سے نڈر ہوگئے۔ یتفیو ظللہ عن الیمین والشمائل سجدا اللہ ھم واخرون جن کے سائے کبھی ایک طرف کو کبھی دوسری طرف کو جھکتے جاتے ہیں کہ (بالکل) اللہ کے حکم کے تابع ہیں اور وہ (چیزیں) بھی عاجز ہیں۔ یعنی کیا انہوں نے ان چیزوں کو نہیں دیکھا جن کے سائے سورج کے چڑھنے ‘ اترنے یا مشرق و مغرب کے اختلاف کی وجہ سے دائیں بائیں یعنی دونوں طرف بحکم الٰہی جھکتے ہیں۔ سُجَّدًا میں سجدہ سے مراد ہے : اطاعت ‘ اختیاری ہو یا فطری۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(48) کیا مکہ والوں نے اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ان درختوں اور ان جانوروں کو نہیں دیکھا کہ جن کے سائے صبح کو دائیں جانب کو اور شام کو بائیں جانب کو اس طور پر جھک جاتے ہیں گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سربسجود ہیں اور ان کے سائے بھی صبح وشام اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ۔۔ : ”يَّتَفَيَّؤُا“ ”فَاءَ یَفِیْئُ فَیْءًا“ (لوٹنا) سے باب تفعل ہے۔ سایوں کے لوٹنے سے مراد سورج نکلنے کے بعد ایک جگہ سے دوسری جگہ حتیٰ کہ زوال کے بعد بالکل ہی دوسری طرف منتقل ہونا ہے۔ ”دٰخِرُوْنَ“ ”دَخِرَ یَدْخَرُ دُخُوْرًا“ (ع) سے ہے، ”دَخِرَ فُلَانٌ لِفُلَانٍ“ فلاں شخص دوسرے کا بالکل مطیع اور اس کے سامنے عاجز اور ذلیل ہوگیا۔”اَوَلَمْ يَرَوْا“ میں استفہام پوچھنے کے لیے نہیں بلکہ ڈانٹنے کے لیے ہے کہ کیا ان مشرکوں کو نظر نہیں آتا، یقیناً یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز اور عاجز و مطیع ہے، مگر یہ اللہ کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 48 حمزہ، کسائی، خلف، یحییٰ اور اعمش نے ترواتا کے ساتھ پڑھا ہے، اس بنا پر کہ یہ خطاب تمام لوگوں کو ہے۔ اور باقیوں نے یا کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ الذین مکروا السیات کے بارے خبر ہے اور یہی مختار ہے۔ من شیء یعنی ایسے کھڑے جسم کی طرف جس کا سایہ ہے چاہے وہ درخت ہو یا پہاڑ، (کیا انہوں نے اس کی طرف نہیں دیکھا) ۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے، اگرچہ تمام کی تمام اشیاء اللہ تعالیٰ کا حکم سننے والی اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے والی ہیں۔ یتفیؤا ظللہ ابو عمرو اور یعقوب وغیرہ نے اسے تا کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ ظلال مونث ہے۔ اور باقیوں نے یا کے ساتھ پڑھا ہے، اور اسے ابو عبیدہ نے اختیار کیا ہے، یعنی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 43–48

1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا تو عرب کے لوگوں نے اس کا انکار کیا اور ان میں سے جنہوں نے انکار کیا تو انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بلند تر ہے کہ ان کا رسول ایک بشر ہو محمد ﷺ کی طرح تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” اکان للناس عجبا ان اوحینا الی رجل منہم “ (یونس آیت 2) نازل فرمائی اور (مزید) فرمایا (آیت) ” وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیہم فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون “ یعنی پوچھ لوجاننے والوں سے اور پہلے کتابوں کے حاملین سے کیا رسول بشر تھے جو ان کے پاس آئے یا فرشتے تھے ؟ اگر وہ فرشتے تھے تو تمہارے پاس بھی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَوَلَمْ يَرَوْا : اور کیا انھوں نے غور ہی نہیں کیا ] [ اِلٰى مَا : اس کی طرف جو ] [ خَلَقَ اللّٰهُ : پیدا کیا اللہ نے ] [ مِنْ شَيْءٍ : کوئی بھی چیز ] [ يَّتَفَيَّؤُا : (کہ) ڈھلتے ہیں ] [ ظِلٰلُهٗ : ان کے سائے ] [ عَنِ الْيَمِيْنِ : دا ہنی طرف سے ] [ وَالشَّمَاۗىِٕلِ : اور بائیں طرفوں سے ] [ سُجَّدًا : سجدہ کرنے والے ہوتے ہوئے ] [ للّٰهِ : اللہ کے لئے ] [ وَهُمْ : اور وہ سب ] [ دٰخِرُوْنَ : حقیر ہونے والے ہوتے ہیں ] د خ ر [دَخْرًا : (ف۔ س) ذلیل ہونا۔ حقیر ہونا۔] [ دَاخِرٌ اسم الفاعل ہے۔ ذلیل و حقیر ہونے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 48]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 48–51

ہر مخلوق فرشتے وغیرہ سب اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں ان آیات میں بندوں کو اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل کی طرف متوجہ فرمایا ہے اور اپنی شان خالقیت اور مالکیت بیان فرمائی ہے اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا فرمائی ہیں ان کو کیوں نہیں دیکھتے ؟ ان میں غور کرو اور دیکھو کہ ان کا سایہ دائیں طرف بائیں طرف جو زمین پر پڑتا ہے اس سائے میں بھی اللہ تعالیٰ شانہٗ کی شان خالقیت ظاہر ہو رہی ہے یہ سائے اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہیں اللہ تعالیٰ جس طرف چاہتے ہیں یہ سائے اسی طرف جھکتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں اور اس کے حکم کے سامنے عاجز محض ہیں، اور سایوں پر اور سایہ والی چیزوں پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–50

قال اللہ تعالیٰ : اولم یرو الی ما خلق اللہ من شیء .... الیٰ .... ویفعلون ما یؤمرون۔ (ربط) اب ان آیات میں اپنے آثار جبروت اور آثار ملکوت کو یاد دلاتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ تمام چیزیں اللہ ہی کو سجدہ کرتی ہیں اور ہر چیز اسی کے حکم پر گردن جھکائے ہوئے ہے اور افسوس ہے کہ تم بنی آدم اور اشرف المخلوقات ہو کر اس کی اطاعت سے انحراف کرتے ہو اور غیروں کی عبادت میں سرگرداں ہو اور خداوند ذوالجلال کے قہر اور عذاب سے بےخوف اور نڈر ہوگئے ہو۔ چناچہ فرماتے ہیں کیا نہیں دیکھتے کافر کہ اللہ نے جو چیز پیدا کی ہے کہ اس کا سایہ داہنی جانب سے اور بائیں جانب سے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے جھکتا ہے۔ درآں حالیکہ یہ سب سائے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 48–50

36:۔ توحید پر چوتھی عقلی دلیل۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی پیدا کیا ہے ان کے سائے اللہ کے قانون تکوینی کے تحت گھٹتے بڑھتے ہیں اس طرح کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے تکوینی احکام کی مطیع و فرمانبردار ہے۔ ” عَنِ الْیَمِیْنَ وَاالشَّمَائِلَ الخ “ لفظ مَا صورۃً مفرد ہے اس لیے اس کی رعایت سے یمین مفرد لایا گیا اور مَا معنی جمع ہے کیونکہ اس سے تمام سایہ دار مخلوق مراد ہے اس لیے اس کی رعایت سے شمائل جمع استعمال کیا گیا۔ ” وَ ھُمْ دَاخِرُوْنَ “ اس سے ذوی العقول اور گیر ذوی العقول سب مراد ہیں لیکن تغلیباً ضمیر عقلاء کی استعمال کی گئی ہے۔ ” وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ الخ “ زمین و آسمان کی ہر جاندار مخلوق اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 45–50

(ربط آیات) گذشتہ سے پیوسہ درس میں اللہ تعالیٰ نے شرک کا رد فرمایا اور پھر گذشتہ درس میں ان مومن مہاجرین کی حوصلہ افزئی فرمائی جن پر بڑے مظالم ڈھائے گئے مگر انہوں نے خدا تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے صبر کے دامن کو نہ چھوڑا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو دنیا میں بھی بہتر ٹھکانا میسر آئے گا اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے رسالت کے سابقہ بیان کے تسلسل میں فرمایا کہ ہر قوم میں مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا گیا ، اگر منکرین توحید و رسالت کو اس بارے میں کوئی شک وتردد ہے تو وہ تاریخی واقعات کو یاد رکھنے والوں سے تصدیق کرلیں ، حضور خاتم النبیین ﷺ سے قبل اللہ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ 48؀ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–50

اولم یروا الی ماخلق اللہ الخ اپنا رئوف رحیم ہونا ان آیات میں ظاہر فرماتا ہے کہ جن میں اس کے آثار جبروت اور قدرت کاملہ کا بیان ہے جن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ تمام عالم اس کے آگے مسخر ہے تاکہ یہ بھی معلوم ہوجائے کہ اس کو دفعۃً یا تدریجاً ہلاک کرنے کی بھی قدرت ہے پھر اس سے نڈر ہونا اور باوجودیکہ درختوں اور جمیع سایہ دار چیزوں کے سائے اس کو سجدہ کر رہے ہیں (ان کا زمین پر پڑنا گویا سجدہ کرنا ہے) اور اسی طرح آسمانوں اور زمین کے تمام رہنے والے چارپائے اور فرشتے اس کے آگے سربسجود اور اس کے فرمانبردار اور خائف ہیں پھر بندہ کا نافرمان ہونا اور حجتیں کرنا اور اس کے ہادیوں اور ان کے پیروئوں کو ستانا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَوَلَمْ یَرَوْا اِلٰی مَاخَلَقَ اللّٰہُ مِنْ شَیْ ئٍ یَّتَفَیَّؤْا ظِلٰـلُہٓ عَنِ الْیَمِیْنِ وَالشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰہِ وَھُمْ دٰخِرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 48) (کیا انھوں نے اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ان چیزوں کو نہیں دیکھا جن کے سائے داہنی طرف اور بائیں طرف جھکتے ہیں۔ تابع ہیں اللہ تعالیٰ کے اور اللہ تعالیٰ کے روبرو عاجز ہیں۔ ) توحید پر ایک تکوینی دلیل گزشتہ آیات میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ہمہ گیری کا عالم یہ ہے کہ وہ اس بستی ہوئی دنیا کو جب چاہیے تہہ وبالا کردے، دھرتی کو الٹ دے یا اور مختلف طریقوں سے اہل زمین کو اپنی گرفت میں لے لے۔ اب اس آیت میں مشرکین کو مزید توجہ دلاتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 48–50

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرکین کو عذاب کی وعید سنانے کے بعد یہ سمجھایا ہے کہ انہیں غور کرنا چاہیے کہ جس کائنات میں یہ رہ رہے ہیں اس کا ذرہ ذرہ اپنے خالق کے سامنے سر بسجود ہے۔ مگر کافر، مشرک اور نافرمان اللہ کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ قرآن مجید بار بار یہ بات انسان کو باور کرواتا ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ پیدا کیا گیا ہے اس کے پیدا کرنے کا ایک مقصد یہ کہ وہ انسان کی خدمت بجا لائے اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم کے مطابق اپنا اپنا کام کرتے رہیں۔ لیکن انسان نہ صرف اپنے رب کی نافرمانی کرتا ہے بلکہ وہ کفرو شرک کا ارتکاب کر کے ذات کبریا کا انکار کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کو توجہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ہر چیز خالق کائنات کے سامنے عاجز ہے : 48: اَوَلَمْ یَرَوْا (کیا انہوں نے نہیں دیکھا) قراءت : حمزہ، علی، ابوبکر نے تاء سے پڑھا ہے۔ اِلٰی مَاخَلَقَ اللّٰہُ (ان چیزوں کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیں) ماؔ موصولہ ہے اور یہ مبہم ہے اس کی وضاحت من شیء سے فرمائی۔ مِنْ شَیْئٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُہٗ ( جن کے سائے جھکتے ہیں) یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں۔ قراءت : بصری نے یتفیّئوا کو تاء سے پڑھا ہے۔ عَنِ الْیَمِیْنِ (دائیں سے) دائیں طرف سے۔ وَالشَّمَآپلِ (بائیں سے) شمائل جمع شمال کی ہے سُجَّدًا لِلّٰہِ (اس حال میں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے) ۔ یہ ظلالؔ سے حال ہے حضرت مجاہد (رح) کہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (48)” اولم یروا الی ما خلق اللہ من شئی “ حمزہ اور کسائی نے ” تروا “ تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اسی طرح سورة عنکبوت میں ذکر کیا ہے اور دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” یتفیوا “ ابو عمر اور یعقوب نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” ظلالہ “ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں اور ایک طرف سے دوسری طرف وہ چکر لگاتے ہیں، دن کے اول حصے میں ایک طرف کو جھکتے ہیں اور دن کے آخری وقت میں دوسری جانب جھکتے ہیں اور یہ دونوں طرف بحکم الٰہی جھکتے ہیں۔ ان کا ایک طرف سے دوسری طرف میلان ہونا گویا اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنا ہے اور اسی سے کہاجاتا ہے شام کے وقت سایہ مغرب سے مشرق کی طرف لوٹتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

48۔ اللہ پاک اس آیت میں اپنی عظمت و دبدبہ کی خبر دیتا ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ ایسا صاحب عظمت ہے کہ کل چیزیں اس کے حکم کی فرمانبردار ہیں کیا حیوان اور کیا بےجان اسی طرح خواہ فرشتے ہوں خواہ جن ہوں سب اس کے قہر و غلبہ کے سامنے مجبور و لاچار ہیں کل وہ چیزیں جن کا سایہ ہے جاندار ہوں یا بےجان صبح و شام داہنے بائیں خدا برتر کے سامنے سجدہ کرتی ہیں مجاہد کا قول ہے کہ جب سورج ڈھلتا ہے تو ہر چیز اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے۔ اور کل مخلوق خدا کے سامنے حقیر ہے۔ کسی کی حقیقت و ہستی اس کے آگے نہیں ہے وہ سب سے بڑا صاحب شوکت ہے ترمذی کے حوالہ سے حضرت عمر کی حدیث جو آگے آتی وہ بھی گویا اس کی تفسیر ہے جس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 48–50

آیت : (48-50) اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (اولم یرو) ” کیا انہوں نے نہیں دیکھا۔ “ یعنی کیا اپنے رب کی توحید ‘ اس کی عظمت اور اس کے کمال میں شک کرنے والوں نے نہیں دیکھا ؟ (الی ما خلق اللہ من شیء) ” ان چیزوں کی طرف جن کو اللہ نے پیدا کیا “ یعنی تمام مخلوقات کی طرف (یتفیوا ظللہ) کہ ’ انکے سائے لوٹتے رہتے ہیں “ (عنالیمین والشمائل سجدۃ اللہ) ” ان کی دائیں طرف سے یا بائیں طرف سے ‘ اللہ کو وجدہ کرتے ہوئے “ یعنی تمام اشیاء کے سائے ‘ اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کے سامنے نہایت عاجزی کے ساتھ سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ (وھم دخرون) ” اور وہ جھکے رہتے ہیں۔ “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ذلیل ‘ مسخر اور اس کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 14–65

زیور کے بارے میں حکم قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 48–49

95۔ خلق خدا کے احوال میں غور وفکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ سوچتے اور غور نہیں کرتے اللہ کی پیدا کردہ کسی بھی چیز کے بارے میں۔ اور اس بات میں کہ کس طرح ہر چیز کا سایہ بھی اللہ کے حضور جھکتا ہے ؟ اور خود ان لوگوں کے اپنے سائے بھی جو کہ ان کے پاؤں میں زمین پر پڑے رہتے ہیں اور عاجزانہ طور پر اپنے رب کے حضور جھکے رہتے ہیں۔ تو جب اس کی قدرت کاملہ اور استحقاق عبودیت کا یہ عالم ہے کہ ہر چیز اس کے حضور اس طرح سراپا وعجز ونیاز بن کر جھکی ہوئی ہے تو یہ انسان ضعیف البنیان اپنے اختیار و ارادہ سے اس کے آگے کیوں نہیں جھکتا ؟ تاکہ اس سے ایک طرف تو اس وحدہ لاشریک کی عبادت و بندگی کا حق ادا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 48–60

کائنات کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہے تشریح : یہاں عربوں کی انتہائی بری عادت بیان کی گئی ہے جو کہ ان میں عام طور پر رواج پا چکی تھی۔ اول تو وہ لڑکی ذات کو ہی ناپسند کرتے تھے، پھر جب وہ پیدا ہوجاتی تو اس کو اپنی انتہائی ذلت کا باعث سمجھتے تو اس ذلت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اپنی بچی کو مار دیتے یا زندہ کو ہی دفن کردیتے اور یوں تین گناہ کرتے ایک تو اپنی اولاد پر ظلم کرتے دوسرا قتل کا گناہ کرتے اور تیسرا حکمت الٰہی میں دخل دیتے۔ اس کے علاوہ ایک بہت بڑا گناہ یہ کرتے کہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے، یعنی جس بات کو اپنے لیے باعث شرم سمجھتے اس کو اللہ کے لیے مناسب سمجھتے اور یوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–50

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف ایسے لوگ جنہوں نے اللہ کریم کے لیے وطن چھوڑا کہ وہاں ان پر ظلم ہوتا تھا انہیں ہم دنیا میں بھی بہترین ٹھکانہ دین گے اور آخرت کا انعام تو بہت ہی بڑا ہے ایسے لوگوں کے لیے جو ثابت قدم رہے اور جملہ اسباب اختیار کرکے بھروسہ اللہ پر رکھا یعنی کوئی ایسا سبب اختیار نہ کیا جس میں اللہ جل جلالہ کی نافرمانی ہو اس آیہ مبارکہ میں ہجرت کی فضیلت اور مہاجرین دنیا وآخرت میں انعامات کا وعدہ ہے ہجرت کیا ہے ۔ (ہجرت اور اس پر انعامات کا وعدہ) ہجرت سے مراد ترک وطن ہے اور یہاں فی اللہ کی شرط لگا کر ایسی حالت متعین فرما دی کہ یہ ترک وطن اللہ جل جلالہ کی رضا کے لیے اور دین کے تحفظ کے لیے ہو ،…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 48–49

ف 4 یعنی دنیا کی ہر چیز پہاڑ، درخت اور انسان وغیرہ۔ جس کا سایہ بڑھتا، گھٹتا اور ڈھلتا ہے۔ تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ ہی کی فرمانبرداری میں مصروف ہے اور وہ قانون قدرت سے سرموانحراف نہیں کرسکتی۔ یہاں جملہ ایشیا پر ذوی العقول کو غلبہ دے کر ” داخرون “ فرما ای ہے۔ (از روح) شاہ صاحب اس سجدہ کی کیفیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ہر چیز ٹھیک دوپہر میں کھڑی ہے۔ اس کا سایہ بھی کھڑا ہے۔ جب دن ڈھلا، سایہ بھی جھکا، پھر جھکتے جھکتے شام تک زمین پر پڑگیا جیسے نماز میں کھڑے سے رکوع اور رکوع سے سجدہ اس طرح ہر چیز اپنے سایہ سے نماز ادا کرتی ہے۔ (کذا فی الموضح) 5 پہلے ان چیزوں کا سجدہ بیان فرمایا جو زمین میں پائی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 48–49

(16:48) یتفیئوا۔ مضارع واحد مذکر غائب تفیء (تفعل) مصدر۔ فیء مادہ جھکے جاتے ہیں۔ لوٹتے ہیں۔ الفیء والفیئۃ معنی اچھی حالت کی طرف لوٹ کر آنا کے ہیں۔ مثلاً فان فاء وا۔ (2:226) اگر وہ (اس عرصہ میں قسم سے) رجوع کرلیں۔ اسی سے فاء الظل ہے جس کے معنی سایہ کے (زوال کے بعد) لوٹ آنے کے ہیں۔ اور فیء اس سایہ کو کہا جاتا ہے جو (زوال کے بعد) لوٹ کر آتا ہے۔ سجدا۔ الظلال کا حال ہے۔ سجدہ کرتے ہوئے۔ داخرون۔ دخر۔ سے اسم فاعل جمع مذکر۔ ذلیل و خوار ہونے والے ۔ عاجزی کرنے والے۔ الدخور۔ ای الصغار والذل۔ یعنی عاجزی ودرماندگی۔ وہم داخرون۔ میں وائو حالیہ ہے۔ یعنی اس حال میں کہ وہ اظہار عجز کر رہے ہیں۔ یعنی سائے اپنے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 43–50

لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 50 نوحی ہم وحی کرتے ہیں۔ اسئلوا تم پوچھ لو۔ اھل الذکر یاد رکھنے والے، علم والے۔ البینت (البینۃ) کھلی نشانیاں۔ الزبر (زبور) لکھی ہوئی کتابیں، صحیفے۔ الذکر دھیان دینے کی چیز (قرآن کریم) نزل نازل کیا گیا۔ افامن کیا پھر وہ مطمئن ہوگئے۔ یخسف وہ دھنساتا ہے۔ تقلب چلنا، پھرنا، بھاگ دوڑ معجزین عاجز کرنے والے، بےبس کرنے والے۔ تخوف ڈرنا۔ یتقیوا (فی) ڈھلتے ہیں۔ ظلال (ضل) سائے ۔ الیمین داہنی جانب۔ الشمائل بائیں جانب۔ داخرون ذلیل ہونے والے، عاجزی کرنے والے۔ یسجد سجدہ کرتا ہے۔ دابۃ زمین پر رینگنے ، چلنے والے جان دار۔ لایستکبرون وہ بڑائی، تکبر نہیں کرتے ہیں۔ یخافون وہ خوف رکھتے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 48–50

زمین وآسمان کی کل کائنات مع سایہ کے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے اللہ پاک اس آیت میں اپنی عظمت ودبدبہ کی خبر دیتا ہے کہ باوجود اس بات کے کہ وہ ایسا صاحب عظمت ہے کہ کل چیزیں اس کے حکم کی فرمانبردار ہیں۔ کیا حیوان اور کیا بےجان اسی طرح خواہ فرشتے ہوں خواہ جن ہوں سب اس کے قہر وغصہ کے سامنے مجبور و لاچار ہیں۔ کل وہ چیزیں جن کا سایہ ہے جو جاندار ہوں یا بےجان صبح وشام داہنے بائیں خدائے برتر کے سامنے سجدہ کرتی ہیں۔ غرضیکہ آسمان و زمین والے حتٰی کہ چوپائے بھی سجدہ کرتے ہیں اور اس کے سوا کسی کو بھی قابل عبادت نہیں جانتے اور ملائکہ بھی سجدہ میں مشغول ہیں۔ اور عبادت الہی میں مصروف ملائکہ ہرچند کہ علویات…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[27] جو چیز ٹھیک دوپہر کے وقت کھڑی ہے اس کا سایہ بھی کھڑا ہے۔ جب دن ڈھلا سایہ جھکا، پھر جھکتے جھکتے شام تک زمین پر پڑگیا جیسے نماز میں کھڑے سے رکوع اور رکوع سے سجدہ۔ اسی طرح ہر چیز آپ کھڑی ہے اور اپنے سایہ سے نماز ادا کر رہی ہے۔ کسی ملک میں اور کسی موسم میں سایہ داہنی طرف جھکتا ہے اور کہیں بائیں طرف۔ مطلب یہ ہے کہ تمام جسمانی اشیاء کے سائے اس بات کی علامت ہیں کہ سب کے سب حکم الٰہی کے مطیع ہیں۔ ان میں کسی کا اللہ کی بادشاہی میں کوئی حصہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 48–50

(ف 1) اس آیت میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے ، کہ بجز انسان کے کائنات کی ہر چیز فطرت کے قوانین کی تابع ہے ، آفتاب سے لے کر ذرہ تک اور ملائکہ سے ادنی قسم کے حیوانات تک سب اطاعت کا دم بھرتے ہیں یعنی قدرت کی جانب سے جو فرائض ان پر عائد کئے گئے ہیں ۔ وہ ان کو پورا کرتے ہیں ، مگر حضرت انسان ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں سرگرم ہے ، پہاڑ اپنی جگہ پر قائم ہیں ، چاند ، سورج ، روزانہ خدا کے حکم کے تحت طلوع و غروب کے فرائض انجام دیتے ہیں ، کائنات کا حقیر سے حقیر ذرہ اپنے وظائف حیات ادا کر رہا ہے ، یہی قرآن کی اصطلاح میں سجدہ ہے ، یہ انسانی کی بدقسمتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہیں کرتا ، اور مذہب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

48 ۔ کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ان چیزوں کو نہیں دیکھا جن کے سائے کبھی دائیں جانب کبھی بائیں جانب کبھی ایک طرف کبھی دوسری طرف جھکتے اور پھرتے رہتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے سجدہ ریزہ اور اس کے حکم کے بالکل فرماں بردار ہیں اور وہ سایہ دار چیزیں بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے ذلیل و عاجز ہیں ۔ یعنی یہ چیزیں بھی اس قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ان سے استدلال کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ زوال کے بعد سایہ کو کہا جاتا ہے لیکن یہاں شاید عام مراد ہے ، آفتاب کو نور عطا کرنا اور سایہ دارچیزوں کو کثیف بنانا یہ سب اسی وحدہٗ لا شریک کا کیا ہوا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہر چیز ٹھیک دوپہر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 48–50

ف 7۔ یعنی سایہ کے اسباب کہ آفتاب کا نورانی ہونا اور سایہ دار جسم کا کثیف ہونا ہے اور حرکت سایہ کا سبب کہ آفتاب کی حرکت ہے پھر سایہ کے خواصہ سب بحکم الٰہی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سایہ کے گھنٹے بڑھنے اور دائیں بائیں آنے جانے سے الوہیت پر دلیل : 55۔ فرمایا قوانین الہی کی عجائب آفرینیوں میں سے ایک عجیب و غریب منظر (ظل) یعنی اجسام کے سایے کا ہے نظام شمس کے تمام کرشمے ہم اس چیز میں دیکھ سکتے ہیں ، یہ ہمارے جسم کے ساتھ ساتھ رہتا ہے اور ساتھ ساتھ چلتا ہے لیکن لاکھوں میل فاصلہ کی خبر دیتا ہے ، سورج کا طلوع ‘ عروج زوال ‘ غروب کی ساری حالتیں ہم اس آئینہ میں دیکھ سکتے ہیں ، یہ کبھی گھٹتا ہے کبھی بڑھتا ہے ‘ کبھی ابھرتا ہے اور کبھی غائب ہوجاتا ہے ، کبھی کھڑا ہوتا ہے کبھی جھکتا ہے ‘ کبھی داہنے ہوتا ہے کبھی بائیں ، اس کی ان تمام حالتوں کا قانون اس درجہ قطعی ‘ اس درجہ یکساں اس درجہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–57

Even the Punishment of the World is Mercy in Disguise In the verses cited above, after having mentioned various punishments which could seize disbelievers within this world, it was said in the end: فَإِنَّ رَ‌بَّكُمْ لَرَ‌ءُوفٌ رَّ‌حِيمٌ (So, indeed your Lord is Very Kind Very Merciful). First of all, by using the word: رَبّ (Rabb: Lord) here, the hint given is that all these punishments which overtake human beings in this world are there to warn them as part of the dictates of Divine mercy. After that, by introducing the word: رَ‌ءُوفٌ(Ra uf: Kind) headed by the intensifying particle lam)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

41. The argument is this: The fact that everything a man, an animal, a tree or a mountain casts its shadow, is a clear proof of its material nature, and everything which is made of matter, is a creation of Allah and is subject to a universal law. In this case the law is that every material thing casts its shadow, which is symbolical of its servitude, and it cannot have any share whatsoever in Godhead.

Read the full tafseer →