Explained with ayahs 45–47
اللہ عز و جل کا غضب
اللہ تعالیٰ خالق کائنات اور مالک ارض و سماوات اپنے حلم کا باوجود علم کے باوجود اور اپنی مہربانی کا باوجود غصے کے بیان فرماتا ہے کہ وہ اگر چاہے اپنے گنہگار بد کردار بندوں کو زمین میں دھنسا سکتا ہے۔ بیخبر ی میں ان پر عذاب لاسکتا ہے لیکن اپنی غایت مہربانی سے درگزر کئے ہوئے ہے جیسے سورة تبارک میں فرمایا اللہ جو آسمان میں ہے کیا تم اس کے غضب سے نہیں ڈرتے ؟ کہ کہیں زمین کو دلدل بنا کر تمہیں اس میں دھنسا نہ دے کہ وہ تمہیں ہچکو لے ہی لگاتی رہا کرے کیا تمہیں آسمانوں والے اللہ سے ڈر نہیں لگتا کہ کہیں وہ تم پر آسمان سے پتھر نہ برسا دے۔ اس وقت تمہیں معلوم ہوجائے کہ میرا ڈرانا کیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
سورة النَّحْل 40
تشریح و توضیح صرف زبان ہی سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے بھی، اور اپنی رہنمائی میں ایک پوری مسلم سوسائٹی کی تشکیل کر کے بھی، اور ”ذکر الہٰی“ کے منشاء کے مطابق اس کے نظام کو چلا کر بھی۔
اس طرح اللہ تعالیٰ نے وہ حکمت بیان کردی ہے جس کا تقاضا یہ تھا کہ لازما ایک انسان ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا جائے۔ ”ذکر“ فرشتوں کے ذریعہ سے بھی بھیجا جاسکتا تھا۔ براہ راست چھاپ کر ایک ایک انسان تک بھی پہنچایا جاسکتا تھا۔ مگر محض ذکر بھیج دینے سے وہ مقصد پورا نہیں ہوسکتا تھا جس کے لیے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت اور ربوبیت اس کی تنزیل کی متقاضی تھی۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے ضروری تھا کہ اس ”ذکر“ کو ایک…
Read the full tafseer →دنیا کا عذاب بھی ایک طرح کی رحمت
آیات مذکورہ میں دنیا کے مختلف اقسام عذاب کا ذکر کرنے کے بعد خاتمہ آیات پر فرمایا فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ اس میں اول تو لفظ رب سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کی دنیا کے عذاب انسان کو متنبہ کرنے کے لئے شان ربوبیت کے تقاضے سے ہیں پھر لام تاکید کے ساتھ حق تعالیٰ کا مشفق و مہربان ہونا بتلا کر اس طرف اشارہ فرما دیا کہ دنیا کی تنبیہات درحقیقت شفقت و رحمت ہی کے داعیہ سے ہیں تاکہ غافل انسان متنبہ ہو کر اپنے اعمال کی اصلاح کرلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
تفسیر آیات 45 تا 47:۔ اَفَاَمِنَ الَّذِيْنَ مَكَرُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ يَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ يَاْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُوْنَ 45ۙاَوْ يَاْخُذَهُمْ فِيْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 46ۙاَوْ يَاْخُذَهُمْ عَلٰي تَخَــوُّفٍ ۭ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ 47۔
مطالبۂ عذاب پر اظہارِ تعجب : یہ ان کے مطالبۂ عذاب پر اظہار تعجب اور ان کو ملامت ہے کہ اگر وہ عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں تو کس برتے پر کر رہے ہیں ؟ خدا جہاں سے چاہے ان کو پکڑ لے۔ اس کی پکڑ سے بچنے کا انہوں نے کیا سامان کر رکھا ہے ؟ اگر خدا چاہے تو ان کے سمیت زمین کو دھنسا دے یا ان پر…
Read the full tafseer →47۔ 1 نخوف کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ پہلے سے ہی دل میں عذاب اور مواخذے کا ڈر ہو۔ جس طرح بعض دفعہ انسان کسی بڑے گناہ کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے، تو خوف محسوس کرتا ہے کہ کہیں اللہ میری گرفت نہ کرلے چناچہ بعض دفعہ اس طرح مؤاخذہ ہوتا ہے۔
47۔ 2 کہ وہ گناہوں پر فوراً مواخذہ نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا ہے اور اس مہلت سے بہت سے لوگوں کو توبہ و استغفار کی توفیق بھی نصیب ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →20: یعنی ایک دم سے تو عذاب آکر انہیں ہلاک نہ کرے، لیکن اپنی بد عملی کی سزا میں دھیرے دھیرے ان کی افرادی قوت اور ان کا مال و دولت گھٹتا چلا جائے۔ یہ تفسیر روح المعانی میں متعدد صحابہ اور تابعین سے منقول ہے۔
21: اس ”کیونکہ“ کا تعلق بےخوف ہونے سے ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ شفیق اور مہربان ہے۔ اس لیے اس نے کافروں کو مہلت دی ہوئی ہے اور فوری طور پر انہیں عذاب میں نہیں پکڑا، اس لیے یہ کافر لوگ بےخوف ہوگئے ہیں، حالانکہ پچھلی امتوں کے واقعات سے سبق لے کر انہیں بےخوف نہیں ہونا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
آیت نمبر 45 تا 50
یہ بات نہایت تعجب انگیز ہے کہ انسانی سوسائتی کے اندر دست قدرت کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی سخت پکڑ میں آجاتے ہیں۔ وہ مکاریاں اور تدابیر کرتے ہی رہتے ہیں لیکن جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ ایک غالب اور صاحب قوت ہستی کی گرفت ہوتی ہے۔ پھر ان کی قوت ، ان کا مال اور ان کا وسیع علم ان کو بچا نہیں سکتا۔ لیکن اس کے باوجود بقیہ مکار اپنی مکاریاں جاری رکھتے ہیں اور جو اللہ کے عذابوں سے بچ نکلتے ہیں وہ پھر اسی طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ الا یہ کہ ان کے ساتھ یہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ ڈرتے نہیں کہ خدا ان کو بھی پکڑ سکتا ہے۔ ہر وقت وہ اللہ کی گرفت میں…
Read the full tafseer →2 یعنی اچانک نہ پکڑے۔ بلکہ آگاہ کرنے اور مبادئ عذاب بھیجنے کے بعد ایسی حالت میں پکڑ لے جب کہ لوگ اطلاع پا کر اور آثار عذاب دیکھ کر طبعاً خوف کھا رہے ہوں یا آس پاس کے لوگوں کو آفات سماویہ میں مبتلا دیکھ کر ڈر رہے ہوں لیکن یہ خوف محض طبعی ہو۔ ندامت اور توبہ کے ساتھ نہ ہو جو دافع عذاب ہوسکتا ہے۔ بعض نے " تخوف " کے معنی " تنقص " (آہستہ آہستہ کم کرنے) کے لیے ہیں۔ یعنی یہ بھی ممکن ہے کہ دفعتاً ہلاک نہ کرے آہستہ آہستہ تم کو گھٹائے اور پست کرتا رہے۔
3 یعنی خدا سب کچھ کرسکتا ہے مگر کیوں نہیں کرتا، اس کی نرمی اور مہربانی مانع ہے کہ مجرمین پر فوراً عذاب نازل کر دے، اس کی رافت و رحمت مقتضی ہے کہ مجرمین…
Read the full tafseer →آیت 47 اَوْ يَاْخُذَهُمْ عَلٰي تَخَــوُّفٍ ۭ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ
اگرچہ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں کو اچانک بھی پکڑ سکتا ہے مگر چونکہ وہ بہت شفیق اور نہایت رحم فرمانے والا ہے اس لیے اس کا عذاب یونہی بیخبر ی میں نہیں آتا بلکہ متعلقہ قوم کو پہلے پوری طرح آگاہ کیا جاتا ہے ان پر اتمام حجت کے تمام تقاضے پورے کیے جاتے ہیں تب کہیں جا کر عذاب کا فیصلہ ہوتا ہے۔ جیسے سورة بنی اسرائیل میں فرمایا گیا : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً ”اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ ہم رسول نہ بھیجیں“۔ یعنی ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے کہ لوگوں کی ہدایت کے لیے رسول بھیجا گیا جس نے…
Read the full tafseer →46 تخو ّف کے معنی کی تحقیق عذاب کی قسم :۔ ایک دفعہ سیدنا عمر نے بر سر منبر تخوف کے معنی پوچھے تو قبیلہ بنو ہذیل کے ایک آدمی نے جواب میں کہا کہ ہماری لغت میں تخوف کا لفظ تنقص (آہستہ آہستہ گھٹاتے جانا) کے معنی میں آتا ہے پھر ثبوت کے طور پر ایک شعر بھی پڑھا تو سیدنا عمر نے فرمایا : جاہلیت کے اشعار یاد رکھو کیونکہ اس میں تمہاری کتاب کی تفسیر ہے ( الموافقات للشاطبی ج 1 مترجم اردو ص 78) نیز سیدنا ابن عباس ؓ نے بھی علی تخوف کے معنی تنقص ہی بیان فرمائے ہیں (بخاری، کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة نہل)
ان تین آیات میں عذاب الٰہی کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک عذاب ایسا ہے جو دفعتاً آن پڑتا ہے خواہ وہ…
Read the full tafseer →68۔ (چنانچہ فورا عذاب کی گرفت میں نہیں لے لیتا، بلکہ رجوع و توبہ کے لئے بار بار مہلت دیتا ہے) والمعنی انہ یمھل فی اکثر الامر لانہ رؤف رحیم فلا یعاجل بالعذاب (کبیر) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو ہر طرح انسان کی ہلاکت و بربادی پر قادر ہے، چاہے اس کا ظاہر ذریعہ کوئی طبعی سبب مثل زلزلہ وغیرہ کے ہو، چاہے وہ کسی قوی وزبردست دشمن کو مسلط کردے، چاہے وہ یونہی چلتے پھرتے ہلاک کردے، اور چاہے پہلے جتا کر، بتلا کر، متنبہ کرکے کوئی سامان ہلاکت کا پیدا کردے۔ (آیت) ” یاخذھم علی تخوف “۔ یعنی بار بار بلائیں لاکر، تدریحا لوگوں کو ہلاک کردے، اے یاخذھم علی ان ینقصھم شیئا بعد شیء فی انفسھم واموالھم حتی یھلکوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
آیت نمبر 41 تا 50
ترجمہ : اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لئے اہل مکہ کی اذیتوں کے ظلم سہنے کے بعد ترک وطن کیا، اور وہ نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب ہیں، ہم ان کو دنیا میں بہترین ٹھکانہ عطا کریں گے وہ ٹھکانہ مدنیہ ہے، اور آخرت کا اجر یعنی جنت بہت ہی بڑا ہے کاش کافر یا ہجرت نہ کرنے والے اس بات کو جان لیتے کہ مہاجروں کے لئے کس قدر اعزاز ہے تو ضرور مہاجرین کی (ہجرت میں) موافقت کرتے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مشرکوں کی اذیتوں اور اظہار دین کے لئے ہجرت پر صبر کیا اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں تو وہ ان کو ایسے طریقہ سے رزق دیتا ہے کہ ان کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا، اور آپ سے پہلے بھی ہم مردوں ہی…
Read the full tafseer →او یاخذھم علی تخوف یا گھٹاتے گھٹاتے سب کو پکڑ لے۔ تَخَوُّفٍ کا معنی ہے : گھٹانا۔ تخوِفۃٌ میں نے اس کو کم کردیا۔ تخوفہ الدہر زمانے نے اس کو جسمانی و مالی نقصان پہنچایا۔ بغوی نے لکھا ہے : تَخَوُّفٍ کا یہ معنی قبیلۂ بنی ہذیل کے محاورہ میں آیا ہے۔ گھٹانے کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو آج ‘ کسی کو کل ‘ کسی کو پرسوں اللہ ہلاک کر دے اور اسی طرح سب کو ختم کر دے۔ ضحاک اور کلبی نے کہا : تَخَوُّفٍ کا معنی خوف ہی ہے۔ میں کہتا ہوں : اس صورت میں آیت کا مقصد یہ ہوگا کہ جب دوسرے ہلاک کر دئیے جائیں تو ان کی ہلاکت کو دیکھ کر لوگ خوف زدہ ہوجائیں اور اسی خوف کی حالت میں ان پر بھی ہلاکت آجائے۔ یا یہ مطلب ہے کہ پہلے…
Read the full tafseer →(47) یا ان کے سردار اور ان کے ساتھیوں کو گھٹاتے گھٹاتے ان کو پکڑے، اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے پر مہربان ہے یا کہ عذاب کے موخر کرنے میں مہربان ہے۔
Read the full tafseer →اَوْ يَاْخُذَهُمْ عَلٰي تَخَــوُّفٍ ۭ : ”تَخَــوُّفٍ“ کا ایک معنی خوف زدہ ہونا ہے اور ایک معنی ”تَنَقُّص“ یعنی آہستہ آہستہ کم ہونا ہے۔ یعنی عذاب کی ایک صورت یہ ہے کہ انھیں پہلے ہی سے نظر آ رہا ہو کہ عذاب آ رہا ہے، جس کے آنے سے وہ ہر وقت خوف زدہ رہیں اور اس کے نتیجے میں دن بدن ان کی جانیں، مال اور پیداوار کم ہوتی چلی جائیں، حتیٰ کہ دیکھتے دیکھتے وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی گرفت میں آجائیں۔ یہ بھی عذاب کی نہایت تکلیف دہ صورت ہے، کیونکہ انسان خوف کی وجہ سے نہ جیتا ہے نہ مرتا ہے، بلکہ گھلتا چلا جاتا ہے۔ اس تفسیر میں ”تَخَــوُّفٍ“ اور ”تَنَقُّص“ (خوف زدہ ہونا اور آہستہ آہستہ کم ہونا) دونوں معنی آگئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
آیت نمبر 45 تا 47
قولہ تعالیٰ : افا من الذین مکرو والسیات ای بالسیات (کیا بےخوف (اور نڈر) ہوگئے وہ لوگ جنہوں نے برائی اور گناہوں کے ساتھ مکرو فریب کئے، یہ ان مشرکوں کے لئے وعید ہے جنہوں نے اسلام کو باطل قرار دینے اور اسے مٹانے کے حیلے اور کوشش کیں۔ ان یخسف اللہ بھم الارض (کہ مبادا اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں گاڑ دے) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جیسا کہ قاروں کو زمین میں دھنسا دیا گیا، کہا جاتا ہے : خسف المکان یخسف خسوفا مکان زمین میں چلا گیا، دھنس گیا۔ اور خسف اللہ بہ الأرض خسوفا یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں غیب کردیا، اور اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا قول ہے : فخسفنا بہ وبدارہ الارض (القصص :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا تو عرب کے لوگوں نے اس کا انکار کیا اور ان میں سے جنہوں نے انکار کیا تو انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بلند تر ہے کہ ان کا رسول ایک بشر ہو محمد ﷺ کی طرح تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” اکان للناس عجبا ان اوحینا الی رجل منہم “ (یونس آیت 2) نازل فرمائی اور (مزید) فرمایا (آیت) ” وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیہم فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون “ یعنی پوچھ لوجاننے والوں سے اور پہلے کتابوں کے حاملین سے کیا رسول بشر تھے جو ان کے پاس آئے یا فرشتے تھے ؟ اگر وہ فرشتے تھے تو تمہارے پاس بھی…
Read the full tafseer →اَوْ : یا ] [ يَاْخُذَهُمْ : یہ کہ وہ پکڑے ان کو ] [ عَلٰي تَخَــوُّفٍ ۭ : خوف زدہ ہونے کے باوجود ] [فَان : تو بیشک ] [ رَبَّكُمْ : تم لوگوں کا رب ] [ لَرَءُوْفٌ: یقینا بےانتہاء شفقت کرنے والا ہے ] [ رَّحِيْمٌ: ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
معاندین اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بےخوف نہ ہوں
ان آیات میں معاندین کو تنبیہ فرمائی ہے کہ اپنے عناد اور سرکشی کی وجہ سے جو حق کو آگے بڑھنے سے روکنے کی تدبیریں کرتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ حق کو نہ خود مانیں نہ دوسروں کو قبول کرنے دیں یہ لوگ دنیا کی تھوڑی سی کھانے پینے والی اور آرام و راحت والی زندگی سے دھوکہ نہ کھائیں یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے باہر ہیں، کیا یہ لوگ اس بات سے نڈر ہیں کہ انہیں زمین میں دھنسا دیا جاوے یا ان پر ایسی جگہ سے عذاب آجائے جس کی انہیں خبر بھی نہ ہو یا اللہ تعالیٰ ان کو زمین میں چلتے پھرتے پکڑلے یا ان کی اس طرح گرفت فرما دے کہ ان کی جانوں کی تعداد کم ہوتی چلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
تہدید اہل مکر بانواع اقسام قہر
قال اللہ تعالیٰ ۔ افا من الذین مکرو السیات .... الیٰ .... فان ربکم لرء وف رحیم۔
(ربط) اب ان آیتوں میں اول سرکشوں کو جو دین حق کے مقابلہ میں مکرو فریب کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ ان کو اپنے قسم قسم کے قہر اور عذاب سے ڈراتا دھمکاتا ہے اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کا ذکر فرمایا ہے۔
(1) کیا تم کو اطمینان ہوگیا ہے کہ اللہ تم کو زمین میں دھنسا دے ان یخسف اللہ بھم الارض جیسے پہلے بہت سی قوموں پر زلزلہ آیا اور زمین پھٹ گی اور وہ زمین میں دھنس گئے جیسے قارون۔ تو کیا تمہارے لیے یہ ممکن نہیں۔
(2) دوم یہ کہ ان پر ناگہانی طور پر کوئی عذاب آجائے جس کی پہلے سے ان کو خبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
35:۔ ترغیب الی القرآن ہے یعنی ہم نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے تاکہ آپ مسئلہ توحید ان کو کھول کر بتائیں اور ان کو خوب سمجھائیں۔ ” اَ فَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَکَرُوْا الخ “ ازالہ شبہ اور ترغیب کے بعد معاندین کو تخویف دنیوی سنائی۔ یعنی جو لوگ اسلام کو مٹانے کے درپے ہیں اور اس مقصد کے لیے ہر وقت نئے نئے پروگرام اور منصوبے بناتے رہتے ہیں وہ ہمارے عذاب سے بےخوف اور مطمئن نہ ہوجائیں۔ انہیں ڈرنا چاہئے کہ مبادا انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے۔ اچانک کسی طرف سے ان پر کوئی آسمانی آفت ٹوٹ پڑے، کسی سفر ہی میں عذاب الٰہی انہیں گھیر لے یا مال مویشی اور زراعت کی تباہی سے انہیں نقصان اٹھانا پڑے۔ ” فَاِنَّ رَبَّکُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
(ربط آیات)
گذشتہ سے پیوسہ درس میں اللہ تعالیٰ نے شرک کا رد فرمایا اور پھر گذشتہ درس میں ان مومن مہاجرین کی حوصلہ افزئی فرمائی جن پر بڑے مظالم ڈھائے گئے مگر انہوں نے خدا تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے صبر کے دامن کو نہ چھوڑا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو دنیا میں بھی بہتر ٹھکانا میسر آئے گا اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے رسالت کے سابقہ بیان کے تسلسل میں فرمایا کہ ہر قوم میں مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا گیا ، اگر منکرین توحید و رسالت کو اس بارے میں کوئی شک وتردد ہے تو وہ تاریخی واقعات کو یاد رکھنے والوں سے تصدیق کرلیں ، حضور خاتم النبیین ﷺ سے قبل اللہ نے…
Read the full tafseer →اَوْ يَاْخُذَهُمْ عَلٰي تَخَــوُّفٍ ۭ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ 47
تخوف
ظهور الخوف من الإنسان، قال : أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلى تَخَوُّفٍ [ النحل/ 47] .
( خ و) تخوف
التخوف ( تفعیل ) کسی انسان کا اظہار خوف کرنا تخوفنا ھم ۔ ہم نے انہیں اتنا کم کیا جسقدر کہ خوف اس کا مقتضی تھا ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلى تَخَوُّفٍ [ النحل/ 47] یا جب ان کو عذاب کا ڑد پیدا ہو اس وقت پکڑے ۔
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل،…
Read the full tafseer →(4) اویاخذھم علی تخوف تفعل ہے خوف سے (یقال خوفت الشیء وتخوفتہ) یہ معنی کہ دفعۃً بلا نازل نہ کرے بلکہ اس کے پہلے علامات و آثار نمایاں کرے اور لوگوں میں ہلاکت سے پہلے خوف اور پریشانی پیدا ہو پھر ہلاک ہوجائیں جیسا کہ قحط شدید اور وباء یا دشمنوں کے غلبہ میں ہوتا ہے مگر خدا رؤف ہے اس لیے مہلت دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَکَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰہُ بِہِمُ الْاَرْضَ اَوْیَاْتِیَھُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ اَوْ یَاْخُذَھُمْ فِیْ تَقَلُّبِھِمْ فَمَا ھُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ۔ اَوْ یَاْخُذَھُمْ عَلٰی تَخَوُّفٍ ط فَاِنَّ رَبَّکُمْ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔
(سورۃ النحل : 45۔ 46۔ 47)
(کیا وہ لوگ جو بری بری چالیں چل رہے ہیں اس بات سے بےخوف اور نڈر ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے سمیت زمین کو دھنسا دے یا ان پر عذاب وہاں سے آھمکے جہاں سے ان لوگوں کو گمان بھی نہ ہو۔ یا انھیں چلتے پھرتے پکڑ لے تو وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز کرنے والے نہیں ہیں یا انھیں پکڑ لے جبکہ وہ خوفزدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
فہم القرآن
ربط کلام : توحید و رسالت اور عقیدہ آخرت کا انکار کرنے والوں کو زبر دست انتباہ۔
توحید و رسالت اور عقیدہ آخرت کے مختصر دلائل دینے کے بعد ان لوگوں کو انتباہ کیا جا رہا ہے جو توحید کا انکار، نبوت کے خلاف سازشیں اور قیامت برپا ہونے کا مذاق اڑاتے ہیں۔
اللہ کا فرمان ہے، کیا یہ لوگ اس بات سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ان پر اس وقت عذاب نازل کرے جس وقت انہیں وہم و گمان بھی نہ ہو ؟ یا پھر انہیں چلتے پھرتے اور کام کاج کرتے ہوئے عذاب آلے جسے ٹالنے کی یہ کسی طرح بھی طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر ایسا مسلط کر دے جس کے بارے میں انہوں نے کبھی سوچا تک نہ ہو۔
یہاں چار قسم کے…
Read the full tafseer →47: اَوْ یَاْ خُذَھُمْ عَلٰی تَخَوُّفٍ (یا ان کو گھٹاتے گھٹاتے پکڑ لے) ڈرانے کی حالت میں اور وہ اس طرح ہے کہ ان سے پہلے ایک جماعت کو ہلاک کردیا جائے پس وہ خوف زدہ ہوجائیں پھر اچانک ان کو عذاب آپکڑے اس حالت میں کہ ڈرائے ہوئے اور امید لگائے بیٹھے ہوں۔ یہ من حیث لا یشعرون کے برخلاف دوسری حالت ہے۔ فَاِنَّ رَبَّکُمْ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ (بیشک تمہارا رب نرمی والا مہربان ہے) اس طرح کہ وہ تمہارے متعلق بردباری اختیار فرماتے ہیں۔ اور تمہارے توھین آمیز رویے کے باوجود وہ جلدی سزا نہیں دیتے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ تمہاری استحقاق عذاب والی حرکات کے باوجود نہیں پکڑتا تو اس کی نرمی ہی تمہیں بچاتی اور اس کی…
Read the full tafseer →(47)” اویا خذھم علی تخوف “ تخوف کا معنی ہے گھٹانا ان کے اطراف اور ان کے مختلف قبیلے بعد از دیگرے کاٹے گئے یہاں تک کہ سب کو ہلاک کردیا گیا۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” تخوفہ الدھر “ زمانے نے اس کو جسمانی و مالی نقصان پہنچایا۔ یہ بنو ہذیل کی لغت میں ہے۔ ضحاک اور کلبی رحمہما اللہ کا بیان ہے اس کا معنی خوف ہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ان میں سے ایک جماعت کو ہلاک کردیا گیا تاکہ بعد میں آنے والے اس سے خوف زدہ ہوجائیں کہ ان کو بھی وہی ہلاکت پہنچ سکتی ہے جس طرح ان کو پہنچتی ہے۔ ” فان ربکم لرئوف رحیم “ اسی وجہ سے وہ جلدی نہیں کرتا عذاب دینے میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
45۔ 47۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ اپنی بردباری اور علم کا حال بیان کرتا ہے کہ یہ لوگ جو برے داؤں کر رہے ہیں کیا اپنے گمان میں بےخوف ہیں جو طرح طرح کے مکر آنحضرت ﷺ کے ساتھ کر رہے ہیں اور قرآن کے ساتھ مسخرا پن کرتے ہیں مسلمانوں کو اذیتیں پہنچا رہے ہیں ان کو کچھ بھی خدا کا خوف نہیں یہ اس بات سے نہیں ڈرتے کہ خدا ان پر اس طرح عذاب نازل کرے کہ زمین میں ان کو دھنسا دے جس طرح قارون کو غرق زمین کردیا یا ایسا عذاب ان پر بھیج دے کہ ان کو خبر بھی نہ ہو جس طرح لوط (علیہ السلام) کی قوم پر اچانک عذاب بھیج کر ہلاک کردیا یا اس طرح عذاب ان پر اتارے کہ یہ چلتے پھرتے ہوں سفر میں ہوں یا بازاروں میں آتے جاتے ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
آیت : (45-47)
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انکار کرنے والوں ‘ جھٹلانے والوں اور گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لئے تخویف ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ کا عذاب انہیں غفلت میں نہ آپکڑے اور انہیں شعور تک نہ ہو۔ یہ عذاب ان پر یا تو اوپر سے نازل ہو ‘ یا نیچے سے پھوٹ پڑے ‘ جیسے زمین میں دھنس جانے یا کسی اور صورت میں ظاہر ہو یا یہ عذاب ان پر اس وقت نازل ہو ‘ جب وہ زمین پر چل پھر رہے ہوں اور اپنے کاروبار میں مصروف ہوں اور عذاب کا نازل ہونا ان کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو یا اس حال میں ان پر عذاب نازل ہو کہ وہ عذاب سے خائف ہوں۔ پس وہ کسی بھی حالت میں اللہ تعالیٰ کو بےبس نہیں کرسکتے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے قبضہء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →93۔ اللہ کا عذاب خوف درخوف کی حالت میں۔ والعیاذ باللہ : یعنی اللہ اس طرح بھی پکڑ سکتا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ان کو پکڑے ایسے حال میں کہ یہ خوف پر خوف کھا رہے ہیں عذاب کے آثار و نشانات دیکھ کر۔ یا ایک کے سامنے دوسری قوموں کو ہلاک کرکے کہ اس طرح عذاب کی شدت اور سختی کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر اور المعارف وغیرہ) یعنی اللہ کا عذاب کسی بھی صورت میں آسکتا ہے۔ بالکل اچانک بغیر کسی اثر ونشان کے جیسا کہ زلزلوں وغیرہ میں مختلف صورتوں میں اب تک ہوتا رہتا ہے اور وقتا فوقتا اور جابجا اس کے مظاہر اور نمونے سامنے آتے رہتے ہیں۔ والعیاذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
مکار لوگوں کے لیے مختلف عذابوں کی وعید
تشریح : اسی مضمون کی آیات پہلے بھی گزر چکی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کفار نبی کی مخالفت اور کفر و شرک میں اتنی زیادہ مصروفیت کا اظہار کر رہے ہیں۔ گویا وہ اللہ کی پکڑ سے بالکل آزاد ہیں۔ حالانکہ اللہ ان کو فوراً عذاب صرف اس لیے نہیں دیتا کہ شاید وہ سمجھ جائیں اور ہدایت پائیں جبکہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اور ہر قسم کا عذاب دینے پر پوری قدرت رکھتا ہے، مگر یہ تو اس کے رحیم وکریم ہونے کی نشانی ہے کہ وہ ہوشیار کرنے کے لیے ہلکی پھلکی سزا دیتا ہے پھر فراخی دیتا ہے، لیکن جب انسان ہر طرح سے غافل اور اپنے اعمال بد پر ڈٹ کر کفر و شرک کرتا چلا جائے تو پھر سوائے تباہی و بربادی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
ایسے لوگ جنہوں نے اللہ کریم کے لیے وطن چھوڑا کہ وہاں ان پر ظلم ہوتا تھا انہیں ہم دنیا میں بھی بہترین ٹھکانہ دین گے اور آخرت کا انعام تو بہت ہی بڑا ہے ایسے لوگوں کے لیے جو ثابت قدم رہے اور جملہ اسباب اختیار کرکے بھروسہ اللہ پر رکھا یعنی کوئی ایسا سبب اختیار نہ کیا جس میں اللہ جل جلالہ کی نافرمانی ہو اس آیہ مبارکہ میں ہجرت کی فضیلت اور مہاجرین دنیا وآخرت میں انعامات کا وعدہ ہے ہجرت کیا ہے ۔
(ہجرت اور اس پر انعامات کا وعدہ)
ہجرت سے مراد ترک وطن ہے اور یہاں فی اللہ کی شرط لگا کر ایسی حالت متعین فرما دی کہ یہ ترک وطن اللہ جل جلالہ کی رضا کے لیے اور دین کے تحفظ کے لیے ہو ،…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی جب غفلت کی حالت نہ ہو بلکہ انہیں عذاب کے آنے کا کھٹکا لگا ہوا ہو اور وہ اس سے چونکتے ہوں مثلاً پہلے سخت آندھی یا زلزلہ آئے جس سے خوف زدہ ہوجائیں اور پھر اس حالت میں ان پر عذاب بھیج دے۔ بعض نے ” تخوف “ کے معنی ” تنقص “ آہستہ آہستہ کم کرنے) کے کئے ہیں۔ یعنی یہ بھی ممکن ہے کہ وہ انہیں اچانک نہ پکڑے بلکہ ان کی جانوں، مالوں اور پیداوار کو آہستہ آہستہ کم کرتا رہے یہاں تک کہ وہ بالکل تباہ ہوجائیں۔ یہ تفسیر حضرت ابن عباس سے منقول ہے اور حضرت عمر نے اپنے ایک خطبہ میں اس معنی کو پسند فرمایا تھا۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ ہرحال میں ان پر عذاب بھیج سکتا ہے۔ (روح)
3 کہ تم گناہ کرتے رہتے ہو مگر بایں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
(16:46) تقلبہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی آمدوشد۔ ان کا چلنا پھرنا۔ ان کے سفر۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے۔ فلا یغررک تقلبہم فی البلاد۔ (40:4) سو ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا یعنی سفر کرنا تجھے دھوکہ میں نہ ڈال دے۔ تقلب (تفعل) سے۔
(ان) یأخذہم فی تقلبہم۔ وہ ان کو چلتے پھرتے میں پکڑ لے۔
معجزین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ عاجز بنا دینے والے ۔ ناکام کردینے والے۔
تخوف۔ (تفعل) ڈرانا۔ خوف دلانا۔ خوف ظاہر کرنا۔ اس کا تعدیہ بذریعہ علی آیا ہے۔
باب تفعل کی خاصیتوں میں سے ایک خاصیت تدریج بھی ہے یعنی کسی چیز کو درجہ بدرجہ کرنا جیسے تجرع زید۔ زید نے گھونٹ گھونٹ کر پیا۔ یہاں بھی انہی معنوں میں آیا ہے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–50
لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 50
نوحی ہم وحی کرتے ہیں۔ اسئلوا تم پوچھ لو۔ اھل الذکر یاد رکھنے والے، علم والے۔ البینت (البینۃ) کھلی نشانیاں۔ الزبر (زبور) لکھی ہوئی کتابیں، صحیفے۔ الذکر دھیان دینے کی چیز (قرآن کریم) نزل نازل کیا گیا۔ افامن کیا پھر وہ مطمئن ہوگئے۔ یخسف وہ دھنساتا ہے۔ تقلب چلنا، پھرنا، بھاگ دوڑ معجزین عاجز کرنے والے، بےبس کرنے والے۔ تخوف ڈرنا۔ یتقیوا (فی) ڈھلتے ہیں۔ ظلال (ضل) سائے ۔ الیمین داہنی جانب۔ الشمائل بائیں جانب۔ داخرون ذلیل ہونے والے، عاجزی کرنے والے۔ یسجد سجدہ کرتا ہے۔ دابۃ زمین پر رینگنے ، چلنے والے جان دار۔ لایستکبرون وہ بڑائی، تکبر نہیں کرتے ہیں۔ یخافون وہ خوف رکھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
اللہ تعالیٰ کی بردباری
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ اپنی بردباری اور حلم کا حال بیان کرتا ہے کہ یہ لوگ برے داؤ کر رہے ہیں کیا اپنے گمان میں بےخوف ہیں جو طرح طرح کے مکر آنحضرت ﷺ کے ساتھ کر رہے ہیں۔ اور قرآن کے ساتھ مسخرا پن کرتے ہیں مسلمانوں کو اذیتیں پہنچا رہے ہیں ان کو کچھ بھی خدا کا خوف نہیں ہے۔ یہ اس بات سے نہیں ڈرتے کہ خدا ان پر اس طرح عذاب نازل کرے کہ زمین میں دھنسا دے، جس طرح قارون کو غرق زمین کردیا۔ جس طرح لوط کی قوم پر اچانک عذاب بھیج کر ہلاک کردیا۔ اس طرح عذاب ان پر اتارے کہ یہ چلتے پھرتے ہوں، سفر میں ہوں یا بازاروں میں آتے جاتے ہوں اور یک بیک ان پر عذاب نازل کر دے۔ وہ ہر طرح سے قادر ہے…
Read the full tafseer →[26] یعنی یہ اس کی شفقت و رحمت ہے کہ وہ فوراً عذاب کی گرفت میں نہیں لے لیتا بلکہ رجوع و توبہ کے لئے بار بار مہلت دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–47
(ف 1) مکہ والوں کا خیال تھا کہ انبیاء کو فوق البشر ہونا چاہئے انسان اس قابل نہیں کہ نبوت کے خلعت کو زیب تن کرسکیں ، اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں بار بار اس اعتراض کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے کہ انبیاء ہمیشہ بشر اور انسان ہوتے ہیں چناچہ اس آیت کا مقصد بھی یہی ہے ، کہ تاریخ رشد وہدایت میں پیغمبر انسانی لباس میں آتے ہیں ، اہل کتاب سے پوچھو ، دلائل وبراہین کی روشنی میں غور کرو ، تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اس حقیقت میں کس قدر صداقت ہے ،
(آیت) ” لتبین للناس “۔ سے معلوم ہوا کہ تفصیلات کو دوسروں تک پہنچانا ضروری ہے ، اور تفصیلات کا پہنچانا حضور ﷺ کے ذمے ہے ، قرآن احکام الہی کو بیان کرتا ہے اور اسوہ…
Read the full tafseer →47 ۔ یا اللہ ان کو ڈرانے دھمکانے اور کمزور کرنے کے بعد پکڑ لے پس اس میں شک نہیں کہ تمہارا پروردگار یقینا بڑ ی شفقت کرنے والا مہربانی کرنے والا ہے۔ دلائل بیان کرنے کے بعد دین حق کے محافظوں کو تنبیہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بےخوف نہ ہو جائو جس طرح مختلف گوشوں سے مہربانی اور کرم کا اظہار ہوتا ہے اسی طرح اسکی گرفت کے مختلف طریقے ہیں ۔ زمین میں دھنسا دینا جیسے زلزلے میں ہوتا ہے یا پانی میں غرق ہوجانا یا دلدل میں پھنس جانا یا اچانک اور بےگمان کہیں سے عذاب ا آ پڑنا، آتے جاتے چلتے پھرتے ، سفر میں یا حضر میں۔
تخوف کا یہ مطلب ہے کہ ابتداء ً دو چار مرتبہ معمولی پکڑ ہوئی پھر ہلاکت کے عذاب میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
ف 6۔ جیسے جنگ بدر میں ایسے بےسروسامان مسلمانوں کے ہاتھ سے ان کو سزاملی کہ کبھی انکواس کا احتمال عقلی بھی نہ ہوتا کہ یہ ہم پر غالب آسکیں گے۔
Read the full tafseer →ممکن ہے کہ ان کو ڈرتے وقت ہی پکڑ لیا جائے کیونکہ بچے رہنا اس کی رحمت ہی کا نتیجہ ہے :
54۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ انہیں گھٹاتے گھٹاتے پکڑ لے اور اگر وہ مہلت پر مہلت دیئے جا رہے ہیں تو یہ تو اس کی سراسر شفقت ورحمت ہی کا نتیجہ ہے (تخوف) خوف سے ہے اور خوف کے معنی ڈر کے بھی ہیں اور تنقص کم ہونے بھی اور دونوں معنوں میں اس (تخوف) کا لفظ صحیح ہے یعیک ممکن ہے کہ پہلے عذاب کی نشانیاں نمودار ہوں جس سے وہ خوفزدہ ہوجائیں اور پھر ان پر عذاب اترے جو ان کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہیں پہلے کاروبار میں نقصان ہو اور کھیتی باڑی سے برکت اٹھ جائے اور سب کچھ ہونے کے باوجود ان کی غیر یقینی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–57
Even the Punishment of the World is Mercy in Disguise
In the verses cited above, after having mentioned various punishments which could seize disbelievers within this world, it was said in the end: فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ (So, indeed your Lord is Very Kind Very Merciful).
First of all, by using the word: رَبّ (Rabb: Lord) here, the hint given is that all these punishments which overtake human beings in this world are there to warn them as part of the dictates of Divine mercy. After that, by introducing the word: رَءُوفٌ(Ra uf: Kind) headed by the intensifying particle lam)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
40. In this connection, it is worthwhile to note that this duty of making plain and explaining the teachings of the Book was to be performed by Prophet not only by word of mouth but also practically. It was required that he should organize, under his own guidance, a Muslim community and establish it in accordance with the principles of the Book. This duty of the Prophet (peace be upon him) has been stated here especially to show the wisdom of sending a man as a Messenger, for, otherwise the Book could have been sent through the angels or could have been printed and sent directly to each man.…
Read the full tafseer →