An-Nahl 16:40

An-Nahl · from ayah 40

16:40

اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ ۟۠اِنَّمَا قَوۡلُـنَا لِشَىۡءٍ اِذَاۤ اَرَدۡنٰهُ اَنۡ نَّقُوۡلَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ

جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو ہماری بات یہی ہے کہ اس کو کہہ دیتے ہیں کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, Our word to a thing when We intend it is but that We say to it, "Be," and it is.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 5 of surah · Ruku 11 of juzع

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:40

(رہا اس کا امکان تو) ہمیں کسی چیز کو وجود میں لانے کے لیے اس سے زیادہ کچھ کرنا نہیں ہوتا کہ اسے حکم دیں "ہو جا" اور بس وہ ہو جاتی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو ہماری بات یہی ہے کہ اس کو کہہ دیتے ہیں کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم جب کسی چیز کا اراده کرتے ہیں تو صرف ہمارا یہ کہہ دینا ہوتا ہے کہ ہوجا، پس وه ہوجاتی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ہم کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہماری طرف سے صرف اتنی بات ہوتی ہے کہ ہم اسے کہتے ہیں : ہوجا۔ بس وہ ہوجاتی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جو چیز ہم چاہیں اس سے ہمارا فرمانا یہی ہوتا ہے کہ ہم کہیں ہوجا وہ فوراً ہوجاتی ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہمارا فرمان تو کسی چیز کے لئے صرف اِسی قدر ہوتا ہے کہ جب ہم اُس (کو وجود میں لانے) کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم اُسے فرماتے ہیں: ”ہو جا“ پس وہ ہو جاتی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہمارا کہنا کسی چیز کو، جب ہم اس کا ارادہ کرلیں، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ ہم اسے کہتے ہیں ہو جاتو وہ ہوجاتی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم تو جب کسی چیز کا ارادہ کرلیتے ہیں تو اسے بس اتنا ہی کہہ دیتے ہیں کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو اتنا ہی ہمارا کہنا ہوتا ہے کہ ہم اس کو کہتے ہیں ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور مر کھپ جانے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو ہماری قدرت کے سامنے کچھ مشکل نہ سمجھو، کیونکہ) ہماری شان یہ ہے کہ جب ہم کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ہمیں صرف اتنا کہنا ہوتا ہے کہ ہوجا، پس وہ ہوجاتا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

ہم جب کسی چیز (کے پیدا کرنے) کا ارادہ کرلیتے ہیں تو بس اس سے ہمارا اتنا ہی کہنا ہوتا ہے کہ ہوجا بس وہ ہوجاتی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہمارا قول تو کسی چیز کے بارے میں بس یہ ہوتا ہے جب ہم اس کا ارادہ کرتے ہیں کہ ہم فرماتے ہیں اسے ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو ہماری بات یہی ہے کہ اس کو کہہ دیتے ہیں کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(As for the possibility of resurrection, bear in mind that) whenever We do will something, We have to do no more than say: "Be", and it is.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Whenever We intend to do something, We do no more than say to it, :Be, and it comes to be.

— Muhammad Taqi Usmani

Whenever We intend to do something, We do no more than say to it, :Be, and it comes to be.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, Our Word to a thing when We intend it, is only that We say unto it: "Be!" - and it is.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Our word unto a thing, when We intend it, is only that We say unto it: Be! and it is.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, Our word to a thing when We intend it is but that We say to it, "Be," and it is.

— Saheeh International

When We want to bring something into existence, Our command is, "Exist," and it comes into existence.

— Muhammad Sarwar

Our word for a thing when We intend it, is only that We say to it, Be, and it is.

— Muhammad Habib Shakir

Our only saying unto a thing, when We intend it, is that We say unto it: be, and it becometh.

— Abdul Majid Daryabadi

For to anything which We have willed, We but say the word, "Be", and it is.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:40

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–40

قیامت یقینا قائم ہوگی کیونکہ کافر قیامت کے قائل نہیں اس لئے دوسروں کو بھی اس عقیدے ہٹانے کے لئے وہ پوری کوشش کرتے ہیں ایمان فروشی کر کے اللہ کی تاکیدی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ نہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اللہ کا یہ وعدہ برحق ہے لیکن اکثر لوگ بوجہ اپنی جہالت اور لا علمی کے رسولوں کے خلاف کرتے ہیں، اللہ کی باتوں کو نہیں مانتے اور کفر کے گڑھے میں گرتے ہیں۔ پھر قیامت کے آنے اور جسموں کے دوبارہ زندہ ہونے کی بعض حکمتیں ظاہر فرماتا ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ دنیوی اختلافات میں حق کیا تھا وہ ظاہر ہوجائے، بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا ملے۔ کافروں کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّحْل 36 یعنی لوگ سمجھتے ہیں کہ مرنے کے بعد انسان کو دوبارہ پیدا کرنا اور تمام اگلے پچھلے انسانوں کو بیک وقت جلا اٹھانا کوئی بڑا ہی مشکل کام ہے۔ حالانکہ اللہ کی قدرت کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے کسی ارادے کو پورا کرنے کے لیے کسی سروسامان، کسی سبب اور وسیلے، اور کسی سازگار احوال کی محتاج نہیں ہے۔ اس کا ہر ارادہ محض اس کے حکم سے پورا ہوتا ہے۔ اس کا حکم ہی سروسامان وجود میں لاتا ہے۔ اس کے حکم ہی سے اسباب و وسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس کا حکم ہی اس کی مراد کے عین مطابق احوال تیار کرلیتا ہے۔ اس وقت جو دنیا موجود ہے یہ بھی مجرد حکم سے وجود میں آئی ہے، اور دوسری دنیا بھی آناً فاناً صرف ایک حکم سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 36–40

کیا ہندوستان و پاکستان میں بھی اللہ کا کوئی رسول آیا ہے ؟ (آیت) وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا۔ اس آیت سے نیز دوسری (آیت) وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ سے ظاہرا یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان وپاکستان کے علاقوں میں بھی اللہ کے پیغمبر ضرور آئے ہوں گے۔ خواہ وہ یہیں کے باشندے ہوں یا کسی دوسرے ملک میں ہوں اور ان کے نائب اور مبلغ یہاں پہنچنے ہوں اور آیت لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ سے جو یہ مفہوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ جس امت کی طرف بھیجے گئے ہیں ان کی طرف آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں آیا اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد بظاہر وہ قوم عرب…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اِنَّمَا قَوْلُــنَا لِشَيْءٍ اِذَآ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ۔ یہ اس استبعاد کو رفع فرمایا ہے جس کی بنا پر کفار قیامت کا انکار کرتے تھے۔ فرمایا کہ ہم جب کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کے لیے کسی اہتمام و انتظام کی ضرورت پیش نہیں آتی، ہم تو بس اتنا کہتے ہیں کہ ہوجا اور وہ کام ہوجاتا ہے تو ہمارے لیے لوگوں کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا کیا مشکل ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

40۔ 1 یعنی لوگوں کے نزدیک قیامت کا ہونا، کتنا بھی مشکل یا ناممکن ہو، مگر اللہ کے لئے تو کوئی مشکل نہیں اسے زمین اور آسمان ڈھانے کے لئے مزدوروں، انجینئروں اور مستریوں اور دیگر آلات و وسائل کی ضرورت نہیں۔ اسے تو صرف کن کہنا ہے اس کے لفظ کن سے پلک جھپکتے میں قیامت برپا ہوجائے گی۔ (وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ) 16۔ النحل :77) قیامت کا معاملہ پلک جھپکتے یا اس سے بھی کم مدت میں واقع ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

18: پچھلی آیت میں آخرت کی دوسری زندگی کا مقصد بیان فرمایا تھا اور اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ مرنے کے بعد زندہ ہونے کو تم اس لئے ناممکن سمجھ رہے ہو کہ وہ تمہارے تصور سے باہر ہے ؛ لیکن اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی بھی کام مشکل نہیں ہے، کسی چیز کے پیدا کرنے کے لئے اسے کوئی محنت کرنی نہیں پڑتی، وہ تو ایک حکم دیتا ہے اور وہ چیزپیدا ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 38–40

اب منکرین اور مستکبرین کی تیسری کٹ حجتی :۔ آیت نمبر 38 تا 40 جب سے اللہ نے اپنے رسول بھیجے ہیں اور انہوں نے بعث بعد موت سے ڈرایا ہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام شروع ہوا تو اکثر لوگ بعث بعد الموت کے عقیدے کے بارے میں خلجان میں مبتلا رہے ہیں۔ اہل قریش بھی اللہ کے نام کی سخت سے سخت قسمیں کھا کر یہ کہتے تھے کہ اللہ مرنے کے بعد کسی کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا۔ یہ لوگ اللہ کے وجود کے تو قائل تھے لیکن اس بات کے قائل نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو قبروں سے اپنی اصلی حالت میں دوبارہ اٹھائے گا۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ کام تو بہت ہی مشکل ہے کہ جب انسان گل سڑ کر ذرے ذرے ہوجائے تو پھر کس طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 پھر مردوں کو دوبارہ زندہ کردینا کیا مشکل ہے۔ (تنبیہ) " کُنْ فَیَکُوْنُ " کی بحث پارہ الم رکوع وَقَالَتِ الْیَہُود الخ میں ملاحظہ کرلی جائے غرض صرف اس قدر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارادے سے ایک سیکنڈ کے لیے بھی مراد کا تخلف نہیں ہوسکتا۔ ارادہ کے بعد مراد کا نہایت سہولت و سرعت سے فوراً واقع ہونا اور کسی مانع و عائق کا مزاحمت نہ کر سکنا یہ ہی خلاصہ اس جملہ کا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 40–42

آیت 40 اِنَّمَا قَوْلُــنَا لِشَيْءٍ اِذَآ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے کہ یہ حکم عالم امر کے بارے میں ہے جبکہ عالم خلق میں یوں نہیں ہوتا عالم امر اور عالم خلق کے بارے میں وضاحت اس سورة کی آیت 2 اور سورة الاعراف کی آیت 54 کے ضمن میں گزر چکی ہے۔ عالم امر میں کسی واقعے یا کسی چیز کے ظہور پذیر ہونے کے لیے اسباب وسائل اور وقت درکار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ارادہ فرماکر کن فرماتے ہیں تو وہ چیز وجود میں آجاتی ہے۔ عالم خلق میں بھی کلی اختیار تو اللہ ہی کا ہے مگر اس عالم کو عام طبعی قوانین کے مطابق چلایا جاتا ہے۔ چناچہ عالم خلق میں کسی چیز کو وجود…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

41 کلمہ کن فیکون کی صورت :۔ اللہ کا ارادہ کرلینا ہی اس کا حکم دینا ہے اسے اپنی زبان سے کن کا لفظ ادا کرنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ اس کا ارادہ ہی حکم کا درجہ رکھتا ہے اور جب وہ ارادہ کرتا ہے تو اس کی تکمیل کے لیے اسباب و وسائل از خود ہی مہیا ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور وہ کام ہو کے رہتا ہے کوئی چیز اس میں مزاحم نہیں ہوسکتی۔ اور جتنے عرصہ میں اللہ اسے وجود میں لانا چاہتا ہے اتنے ہی عرصہ میں وہ وجود میں آجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

59۔ (سو ایسے قادر مطلق کو مردہ اجسام میں دوبارہ جان ڈال دینا کیا مشکل ہے ؟ اور اس میں شبہ عقلی ہو ہی کیا سکتا ہے ؟ ) قولنا اور نقول سے یہ لازم نہیں آتا کہ حق تعالیٰ اس کلمہ کن کا (جو خود ایک دو حرفی حادث لفظ ہے) تلفظ بھی کرتا ہو مراد صرف اس قدر ہے کہ چھوٹی بڑی کوئی سی بھی چیز ہو، اس کی تکوین کے لئے، اس کے وجود میں آجانے کے لئے حق تعالیٰ کا محض ارادہ کافی ہے۔ ادھر ارادۂ الہی اس سے متعلق ہوا، اور ادھر معا اور فی الفور وہ شے عدم سے وجود میں آگئی۔ لشیء اور لہ دونوں میں ل تبلیغ کا ہے۔ والظاھر ان اللام فی لشیء وفی لہ للتبلیغ (بحر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 35–40

آیت نمبر 35 تا 40 ترجمہ : اور مکہ کے مشرکوں نے کہا اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرتے اور نہ بحائر اور سوائب میں سے کسی کو اس کی مرضی کے بغیر حرام ٹھہراتے، تو معلوم ہوا کہ ہمارا شرک کرنا اور حرام ٹھہرانا اسی کی مشیت سے ہے اور وہ اس سے راضی ہے، اور اسی طرح ( کی حرکت) ان سے پہلے لوگوں نے کی، یعنی رسول جو حکم لیکر آئے تھے اس میں انہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا، تو کیا رسولوں پر صاف صاف بات پہچانے کے علاوہ اور کوئی ذمہ داری ہے ؟ (یعنی) واضح طور پر پہنچانے کی اور ان پر ہدایت دینے کی ذمہ داری نہیں ہے جس طرح ہم نے ان میں رسول بنا کر بھیجا ہے ہم نے ہر قوم میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انما قولنا لشیء اذا اردنہ ان نقول لہ کن فیکون ہم جس چیز کو پیدا کرنا چاہتے ہیں ‘ اس سے ہمارا اتنا ہی کہنا کافی ہوتا ہے کہ ہوجا ‘ پس وہ فوراً ہوجاتی ہے۔ اِذَآ اَرَدْنَاہٗ یعنی جب ہم کسی چیز کو موجود کرنا چاہتے ہیں خواہ پہلی بار یا دوبارہ۔ اس آیت میں دوسری زندگی کا امکان ثابت کیا گیا ہے۔ خلاصۂ بیان یہ ہے کہ اللہ مخلوق کو محض اپنی قدرت سے پیدا کرتا ہے ‘ کسی اور چیز پر کسی مخلوق کی ہستی موقوف نہیں ورنہ نتائج و اسباب کا تسلسل کہیں ختم نہ ہوگا اور کسی چیز کا وجود ہی نہ ہو سکے گا۔ پھر کسی چیز کی تخلیق وتکوین سے اللہ کو کوئی تھکان یا تکلیف نہیں ہوتی ورنہ اللہ کا عاجز ہونا لازم آئے گا __ اور عجز…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(40) جی یہ کہتے تھے کہ جنت دوزخ، بعث و حساب کچھ نہیں اور ہم قیامت جس وقت قائم کرنا چاہیں گے سو ہمارا اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ تو قائم ہوجا، سو وہ ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّمَا قَوْلُــنَا لِشَيْءٍ۔۔ : یعنی جس کی قدرت کا یہ حال ہو اس کے لیے مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا کچھ مشکل نہیں۔ اس سے اللہ تعالیٰ کا کلام کرنا بھی ثابت ہوا۔ قرآن و حدیث میں بہت سی جگہ اللہ کے کلام کرنے کا صریح الفاظ میں ذکر ہے۔ (دیکھیے نساء : 164۔ توبہ : 6) یونان کے کافرانہ فلسفے سے متاثر لوگوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کلام نہیں کرسکتا، نہ سن سکتا ہے، نہ دیکھتا ہے۔ ہمارے کچھ مسلمانوں نے جو قرآن کو بھی ماننا چاہتے ہیں اور یونانی فلسفے کو بھی، انھوں نے اللہ کے کلام کو مخلوق کہہ دیا اور سننے اور دیکھنے کا معنی یہ کیا کہ وہ جانتا ہے، حالانکہ کلام، خلق، سمع، بصر اور علم سب الگ الگ صفات ہیں اور اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 40 اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کیا کہ اس پر پیدا کرنا کتنا آسان ہے، یعنی جب ہم ارادہ کریں گے کہ اسے ہم دوبارہ زندہ کریں جو ایک بار مرچکا ہے تو وہ ہم پر مشکل نہیں ہوگا اور نہ انہیں زندہ کرنے میں کوئی دقت ہوگی، اور علاوہ ازیں بھی جو کام ہم کرتے ہیں ان میں کوئی مشکل اور دقت نہیں، کیونکہ ہم اس کو کہتے ہیں تو ہوجا وہ ہوجاتا ہے۔ ابن عامر اور کسائی کی قرأت فیکون ہے اور یہ ان نقول پر عطف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور زجاج نے کہا ہے : یہ بھی جائز ہے کہ وہ کن کا جواب ہونے کی بنا پر منصوب ہو۔ اور باقیوں نے ا سے مرفوع پڑھا ہے اس لئے کہ معنی یہ ہے فھو یکون (پس وہ ہوجاتا ہے) اور اس بارے میں مکمل بحث…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 40–42

1:۔ احمد، ترمذی، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں اور لفظ بیہقی کے ہیں (ترمذی نے حسن بھی کہا ہے) ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے اب آدم ! تم میں سے ہر ایک گناہ کرنے والا ہے مگر جس میں عافیت دوں سو تم مجھ سے (گناہوں کی) بخشش مانگو میں تم کو بخش دوں گا اور ہر ایک تم میں فقیر ہے مگر جس کو میں مال دار بنا دوں مجھ سے سوال کرو میں تم کو عطا کروں گا ہر ایک تم میں سے گمراہ ہے مگر جس کو میں ہدایت دوں مجھ سے ہدایت مانگو میں تم کو ہدایت دوں گا اور جو شخص مجھ سے مغفرت طلب کرے گا اور وہ جانتا ہے کہ میں اس کے گناہ معاف کرنے پر قادر ہوں میں اس کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[انمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ قَوْلُــنَا : ہمارا کہنا ہے ] [ لِشَيْءٍ : کسی چیز کے لئے ] [ اِذَآ : جب بھی ] [ اَرَدْنٰهُ : ہم ارادہ کرتے ہیں اس کا ] [ ان : کہ ] [ نَّقُوْلَ : ہم کہتے ہیں ] [ لَهٗ : اس سے ] [ كُنْ : تو ہوجا ] [ فَيَكُوْنُ : تو وہ ہوجاتی ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوتا تھا کہ مرنے کے بعد لوگ کیسے زندہ کیے جائیں گے اللہ جل شانہٗ نے ان کا استبعاد دور فرمایا اور اپنی قدرت کا ملہ بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا (اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَآ اَرَدْنٰہُ اَنْ نَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ) (کہ جب ہم کسی چیز کو وجود میں لانے کا ارادہ کریں تو ہمارا یہ فرما دینا کافی ہے کہ ہوجا لہٰذا وہ چیز وجود میں آجاتی ہے) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کے پیدا فرمانے پر قدرت ہے، کسی بھی چیز کا پیدا کرنا اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے جس نے پہلے سب کو پیدا فرمایا وہ اس بات پر کیسے قادر نہ ہوگا کہ دوبارہ پیدا فرما دے، قیامت اور بعث و نشر کا انکار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–42

چوتھا شبہ قال اللہ تعالیٰ : واقسموا باللہ جھد ایمانھم لایبعث اللہ من یموت .... الیٰ .... وعلی ربھم یتوکلون۔ (ربط) اس آیت میں بھی کافروں کی ایک جہالت کا بیان ہے کہ وہ لوگ قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ جو مرگیا اور ریزہ ریزہ ہو کر خاک میں مل گیا وہ دوبارہ زندہ نہیں ہوسکتا اور جب انسان دوسری زندگی کا قائل نہیں ہوتا تو پھر وہ نیکی اور بدی کی پرواہ نہیں کرتا۔ دنیا کی کامیابی اور بیہودی ہی اس کا مطمح نظر ہوتی ہے جیسا کہ آج کل ہم دیکھ رہے ہیں، اللہ پناہ میں رکھے آمین۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شبہ کا جواب دیا کہ قیامت کا آنا برحق ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا پکا وعدہ ہے حق اور ناحق کے فیصلہ کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

32:۔ یہ مشرکین کے قول ” لَا یَبْعَثُ مَنْ یِّمُوْتُ الخ “ کا رد ہے یعنی ہمارے لیے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں کیونکہ جب ہم کسی کام کو کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو وہ کام ہوجاتا ہے۔ اعلمھم سہولۃ الخلق علیہ ای اذا ارادنا ان نبعث من یموت فلا تعب علینا ولا نصب فی احیائھم ولا فی غیر ذلک مما نحدثہ (قرطبی ج 10 ص 106) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 37–40

(ربط آیات) مشرکین نے اپنے کفر اور شرک کے جواز میں یہ دلیل قائم کی تھی کہ اگر یہ برے افعال ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے روکتا کیوں نہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے اس بیہودہ خیال کا رد فرمایا کہ اللہ کسی کا ہاتھ پکڑ کر اس کو برائی سے نہیں روکتا نہ اس سے برائی کرنے کی طاقت ہی سلب کرلیتا ہے بلکہ اس نے برائی کی رکاوٹ کے لیے ایک نظام قائم کر رکھا ہے اس نے ہر امت میں اپنے رسول بھیجے جنہوں نے لوگوں کو حکم دیا (آیت) ” ان عبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت “۔ عبادت صرف اللہ کی کرو ، اور طاغوت کی پرستش سے بچ جاؤ ، گویا اللہ تعالیٰ نے قانون کے ذریعے لوگوں کو شرک سے روک دیا اس کے بعد لوگ دو گروہوں میں بٹ گئے ، بعض…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّمَا قَوْلُــنَا لِشَيْءٍ اِذَآ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ 40؀ۧ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

انما قولنا الخ یہ دلیل عقلی ہے کہ ہر عاقل یہ بات جانتا ہے کہ اس عالم گوناگوں کو قادرمختار نے بنایا ہے اور نیز وہ کسی بات میں عاجز نہیں جب کسی چیز کا پیدا کرنا چاہتا ہے تو اس کو کن کہتا ہے یعنی ہو سو وہ اسی وقت ہوجاتی ہے۔ اس کے اسباب بھی معاً بہم ہوجاتے ہیں۔ پھر انسان کا باردگر زندہ کرنا اور موجود کرنا اس کے نزدیک کیسا محال ہے ؟ وہ قادر مطلق ہے جس نے انسان کو قطرہ منی سے بنایا وہ اس کو بار دگر بھی بنا سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْ ئٍ اِذَآ اَرَدْنٰـہُ اَنْ نَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ۔ (سورۃ النحل : 40) (جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو اتنا ہی ہمارا کہنا ہوتا ہے کہ ہم اس کو کہتے ہیں ہوجا، تو وہ ہوجاتی ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کا کمال قدرت اس سے پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے کہ مشرکینِ مکہ کے لیے قیامت کا ماننا اس لیے مشکل ہورہا تھا کہ وہ اسے ناممکن الوقوع سمجھتے تھے۔ ان کے تصور میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ تمام کائنات کا ایک دفعہ فنا ہوجانا پھر سب کا ازسرنو وجود میں آنا، صدیوں کے مرے ہوئے انسانوں کا اسی شکل و صورت میں اٹھ کھڑا ہونا اور پھر حشر برپا ہونا ان میں سے کوئی بات بھی وقوع پذیر ہوسکتی ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–40

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ گمراہ لوگوں کو ہدایت اس لیے نصیب نہیں ہوتی کیونکہ یہ اللہ کے حضور پیش ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ ہدایت پانے اور گناہوں سے بچنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ اگر میں ایمان لانے کے بعد اچھے اعمال کروں گا تو میرا رب مجھے آخرت میں اس کی جزادے گا۔ اگر میں نے ایمان لانے سے انکار کیا اور برے اعمال اختیار کیے تو مرنے کے بعد مجھے اس کی سخت سزا دی جائے گی۔ جب آدمی اس عقیدہ کا انکار کرتا ہے تو پھر وہ کفرو شرک اور جرائم کرنے میں دلیر ہوجاتا ہے۔ اسی دلیری کے پیش نظر آخرت کے منکر قسمیں اٹھا اٹھا کے کہتے تھے کہ اللہ کی قسم ! جو مرگیا اللہ تعالیٰ اسے کبھی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قدرتِ عامہ : 40: اِنَّمَا قَوْلُنَالِشَیْئٍ اِذَآ اَرَدْنٰہُ اَنْ نَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ (ہم جب کسی چیز کو پیدا کرنا چاہتے ہیں تو اس سے ہمارا اتنا کہنا کافی ہوتا ہے کہ ہوجا پس وہ فوراً ہوجاتی ہے) یعنی وہ ہوجاتی ہے ای فھو یکون قراءت : شامی اور علی نے نصب سے پڑھا۔ اس طور پر کہ یہ کنؔ کا جواب ہے قولناؔ مبتدا اور ان نقول اس کی خبر ہے۔ اور کن فیکون میں کان تامہ ہے جو کہ وجود اور حدوث کے معنی میں ہے۔ یعنی جب ہم کسی چیز کو وجود دینا چاہتے ہیں تو ہم اس کو اتنا کہتے ہیں کہ وجود میں آ۔ تو وہ بلا توقف وجود میں آجاتی ہے۔ یہ درحقیقت سرعت ایجاد کی تعبیر ہے اور وضاحت ہے کہ کوئی مراد اس پر ممتنع نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(40)” انما قولنا لشیء اذا اردنا ہ ان نقول لہ کن فیکون “ کہ جب ہم مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کو زندہ کرنے میں کسی قسم کی تھکاوٹ نہیں ہوتی اور نہ اس چیز کے پیدا کرنے میں جو فنا ہوچکی ہے ، صرف ہم یہی کہتے ہیں ” کن “ تو وہ ہوجاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بنی آدم نے مجھے جھٹلایا اور اس کے لیے یہ مناسب نہیں تھا اور بنی آدم نے مجھے برا بھلا کہا حالانکہ یہ اس کے مناسب نہ تھا۔ تکذیب تو یہ کی کہ اس نے کہا کہ اللہ نے جیسے شروع میں مجھے پیدا کیا ایسا دوبارہ ہرگز مجھے پیدا نہیں کرے گا حالانکہ ابتدائی تخلیق…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 39–40

39۔ 40۔ اوپر کی آیت میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ کفار اس بات پر قسمیں کھاتے تھے کہ مر کر پھر جینا کوئی چیز نہیں ہے جس کا جواب اللہ پاک نے یہ دیا کہ کیا وجہ ہے جو ایسا نہیں ہوسکتا ضرور ضرور قیامت ہوگی اللہ پاک نے وعدہ کرلیا ہے اور اس کا وعدہ بالکل حق اور سچا ہوتا ہے اس دنیا کے فنا ہوجانے کے بعد پھر اللہ جل شانہ اپنی ساری مخلوق کو زندہ کرے گا یہ مشرک یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا دن اسی واسطے مقرر کیا ہے کہ دنیا میں لوگ جن باتوں میں اختلاف کیا کرتے ہیں کوئی رسول کی تصدیق کرتا ہے اور کوئی جھٹلاتا ہے کوئی بتوں کو پوجتا ہے کوئی خالص اللہ جل شانہ کو یہ سب حال لوگوں پر اس روز کھل جائے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 39–41

آیت 39 اپنے رسولوں کو جھٹلانے والے مشرکین کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (واقسموا باللہ جھد ایمانھم) ” اور یہ اللہ کی بڑی پکی قسمیں کھاتے ہیں۔ “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی تکذیب پر بہت پکی قسمیں کھتاے ہیں اور اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا نہ وہ ان کے مٹی ہوجانے کے بعد ان کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جھٹلاتے ہوئے کہتا ہے : (بلی) ” کیوں نہیں۔ “ اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گا، پھر انہیں ایسے روز اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں (وعداً علیہ حقاً ) ” اس پر وعدہ ہوچکا ہے پکا “ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف کرتا ہے نہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 14–65

زیور کے بارے میں حکم قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

81۔ اللہ تعالیٰ کی شان کن فیکون کا حوالہ وذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت حق جل مجدہ کی شان کن فیکون کی شان ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور انما کے کلمہ حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم جب کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے ہمیں صرف اتنا ہی کہنا ہوتا ہے کہ ہوجاپس وہ ہوجاتا ہے۔ کہ اہل دنیا کی طرح ہم کوئی اسباب و وسائل یا وقت اور مہلت کے محتاج نہیں۔ بلکہ ہماری شان تو کن فیکون کی شان ہے کہ جو چاہا ہوگیا۔ جس کے ہونے کا حکم فرمایا گیا وہ وجود میں آگیا۔ سو اس کی اسی شان اقدس واعلیٰ کے مطابق قیامت اس کے حکم وارشاد کے مطابق پل بھر میں واقع ہوجائیگی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 36–40

ہدایت اور آخرت سے انکار تشریح : پیغمبر کا آنا اور کفار و مشرکین کا عذاب سے تباہ و برباد ہونا یہ سب بڑی تفصیل سے بیان ہوچکا ہے۔ اسی طرح حیات بعد موت کا بھی بیان ہوچکا ہے یہاں پھر وضاحت کی جا رہی ہے کیونکہ کفار اس بات پر قسمیں کھا رہے ہیں کہ ہم دوبارہ زندہ نہ ہوں گے جبکہ قرآن میں اس بات کو بار بار دہرایا جا رہا ہے مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اور قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں، اس وقت وہ تمام جو قبروں میں ہیں پھر سے زندہ کیے جائیں گے۔ ( سورة حج آیات 5 تا 7) ان آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یقینا انسانی جسم کے تمام اجزا مناسب طریقہ سے ملا کر انسان کو دوبارہ زندہ کردیا جائے گا۔ علم الابدان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 35–40

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف ذرا مشرکین کی دلیل دیکھئے کہ اگر ہم اللہ جل جلالہ کی منشاء کے خلاف کر رہے ہیں اور وہ نہیں چاہتا کہ اس کے سوا کسی کی پوجا کی جائے تو ہمیں روک کیوں نہیں دیا جاتا ہم تو اگر وہ روک دے تو نہ کسی اور کی پوجا کرسکیں نہ ہم یا ہمارے باپ دادا بھی اس کی مرضی کے خلاف کوئی رسم ایجاد کرسکیں کہ کسی شے کو حلال قرار دے دیں یا کسی کو حرام گویا ان تمام امور میں اس کی رضا شامل ہے فرمایا یہی نہیں ان سے پہلے گذرنے والے اور تباہ ہونے والے کفار بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے مگر یہ اس قدر بودی بات ہے کہ جواب کے لائق ہی نہیں اور انبیاء کا کام تو اللہ جل جلالہ کا حکم پہنچا دینا ہے جس میں کوئی غلط…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی جس کی قدرت کا یہ حال ہو اس کے لئے مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا کچھ مشکل نہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 39–40

(16:39) لیبین لہم۔ میں لام تعلیل کا ہے اور اس کا تعلق فعل مقدر یبعثہم سے ہے جس پر لفظ بلی دلالت کرتا ہے۔ اور لہم میں ضمیر جمع مذکر غائب من یموت (38) کی طرف راجع ہے اس میں مومن کافر سبھی شامل ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ مردوں کو ضرور بالضرور دوبارہ اٹھائے گا تا کہ ان پر (وہ بات) واضح کردے جس کے متعلق ان میں اختلاف تھا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 38–40

لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 40 اقسموا انہوں نے قسم کھائی۔ جھد ایمان قسموں میں زور دار۔ لایبعث دوبارہ نہیں اٹھائے گا۔ اردنا ہم نے ارادہ کیا۔ تشریح : آیت نمبر 38 تا 40 نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کسی کے جھوٹا ہونے کی سب سے بڑی دل یل یہ ہے کہ وہ بات بات پر قسم کھاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس کو قسمیں کھانے کی عادت پڑجائے وہ بڑی سے بڑی سچائی کو جھٹلانے سے بھی باز نہیں آتا۔ بخاری و مسلم میں ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ ایک صحابی رسول ﷺ کا کسی کافر پر کچھ قرض تھا وہ مسلمان صحابی اس سے قرض واپس کرنے کا مطالبہ کرتے تو وہ ٹال مٹول سے کام لیتا اور آخر کار اس نے قرض واپس کرنے سے انکار کردیا۔ صحابی رسول ﷺ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 39–40

اس آیت میں فرمایا کہ کیا وجہ ہے جو ایسا نہیں ہو سکتا ضرور بضرور قیامت ہوگی۔ اللہ پاک نے وعدہ کرلیا ہے اور اس کا وعدہ بلکل حق اور سچا ہوتا ہے۔ اس دنیا کے فنا ہوجانے کے بعد پھر اللہ تعالیٰ اپنی ساری مخلوق کو زندہ کرے گا۔ کفار کا یہ اعتراض یہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا ممکن نہیں ہے بلکل غلط ہے۔ کیونکہ جس نے پہلے بغیر نمونہ کے ہر شے کی ایجاد کی اس میں کیا قدرت نہیں ہے کہ اس شے کے فنا ہوجانے کے بعد پھر اس کو دوبارہ وجود میں لائے، یلہ بات تو بلکل آسان ہے۔ پھر فرمایا کہ اس کی قدرت اور اس کے اختیار کچھ ایسے ویسے نہیں ہیں اس کا تو ارادہ کرنا ہی کافی ہوتا ہے جب وہ کسی شے کے بنانے کا ارادہ کرتا ہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 37–40

[21] یعنی اللہ کا قانون یہ نہیں ہے کہ جو شخص ہدایت کا طالب نہ ہو اور سرکشی وعناد پر اڑا ہوا ہو اسے جبراً ہدایت یافتہ بنادیا جائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 37–40

(ف 2) اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ پیغمبران خدا انسانوں کی ہدایت کے لئے کس درجہ بےقرار ہوتے ہیں ، ان کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ سب لوگ ہدایت کو قبول کرلیں ، اور اللہ کی آغوش رحمت میں آجائیں ، وہ دن رات شفقت انسانی کی وجہ سے بےچین رہتے ہیں ، انہیں گمراہی اور ضلالت کی وجہ سے روحی تکلیف ہوتی ہے ، اور ان کے دن اور ان کی راتیں کرب و اضطراب میں گزرتی ہیں ، نوع انسانی کی ہمدردی کے لئے وہ اپنے سکھ اور چین کو برباد کرلیتے ہیں ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب فطرتی تقسیم یہ ہے کہ ایک طبقہ طاغوت کا طالب رہے ، حق کو عمدا ترک کر دے ، راہ صواب سے ہٹ جائے تو پھر آپ کی ہمدردی بےسود ہے ، جو شخص گمراہی پر اصرار کرنے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

40 ۔ جب ہم کسی معدوم چیز کو پیدا کرنا چاہتے ہیں تو بس اتنا ہی کہنا ہمارا کافی ہوتا ہے کہ ہم اس کو کہہ دیں کہ ہوجا تو وہ چیز ہوجاتی ہے۔ یعنی کوئی شے ہو یا کوئی کام ہو جب ہم اس کے واقع ہونے اور موجود ہونے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہمارا صرف اسی قدر کہنا کافی ہوتا ہے کہ ہم اس کو کہتے ہیں کہ موجود ہو جاسو وہ اسی وقت موجود ہوجاتی ہے اور ارادے کے تعلق کے ساتھ تا خیر نہیں ہوتی ہم پہلے پارے میں مزید اسکی تشریح کرچکے ہیں ۔ تسہیل القرآن کا مطالعہ کیا جائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مردوں کو جلانا ہمارے پاس مشکل نہیں ۔ 12 خلاصہ۔ یہ ہے کہ جب ہم کو معدوم کا موجود کردینا کچھ مشکل نہیں تو کسی پیدا کردہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 6۔ تو اتنی بڑی قدرت کاملہ کے روبرو بےجان چیزوں میں دو بارہ جان کا پڑجانا کون دشوار ہے جیسا پہلی بار جان ڈل چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب ہم کسی کام کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کو حکم دیتے ہیں اور وہ ہوجاتا ہے : 47۔ لوگوں کو اس قیامت کے متعلق یقین کیوں نہیں آتا ؟ اس لئے کہ ان کے نزدیک ایسا ہونا ناممکن ہے انہیں بتایا گیا ہے کہ قیامت برپا کرنے والا ان جیسا کوئی نہیں ہے جس کا علم بھی ادھورا ہو اور قدرت بھی ناقص ہو بلکہ قیامت کا وقوع اس خداوند ذوالجلال کے حکم سے ہوگا جو ہرچیز پر قادر ہے یعنی اس نے ہرچیز کے لئے ایک بندھن باندھ دیا ہے اور اس کے مطابق کام ہو رہا ہے وہ قانون کیا ہے فرمایا وہ کلمہ ” کن “ ہے کہ وہ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے کہ وہ ہو تو وہ ہوجاتی ہے گویا اس کے علم میں جس چیز کا ہونا طے ہے وہ ممکن نہیں کہ نہ ہو یقینا وہ ہو کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 36–40

Has a Rasul of Allah appeared in India and Pakistan too? From verse 36 in the present Surah: وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّ‌سُولًا (And We did raise a messenger among every people), as well as from verse 24 of Surah Fatir: وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ‌ (And there is no group of people among whom there has not been a warner - 35:24), it outwardly appears that messen-gers may have also been sent to areas now known as India and Pakistan - whether residents of the area, or located in another country whose deputies or emissaries had reached there. Then, there is the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

36. This is the answer to those who imagined that it was the most difficult thing to raise the dead, and that, too, to raise together at once all the people who had died at any time. They have been told that it is an easy thing for Allah, Who has the power to bring into existence anything He desires, merely by His command,“Be,”for He does not stand in need of any provisions, any means and any favorable environment for this. His mere command produces necessary provisions, means and environment. This world was brought into existence by His mere command,“Be,”and likewise the next world will at…

Read the full tafseer →