Explained with ayahs 41–42
دین کی پاسبانی میں ہجرت
جو لوگ اللہ کی راہ میں ترک وطن کر کے، دوست، احباب، رشتے دار، کنبے تجارت کو اللہ کے نام پر ترک کر کے دین ربانی کی پاسبانی میں ہجرت کر جاتے ہیں ان کے اجر بیان ہو رہے ہیں کہ دونوں جہان میں یہ اللہ کے ہاں معزز و محترم ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ سبب نزول اس کا مہاجرین حبش ہوں جو مکہ میں مشرکین کی سخت ایذائیں سہنے کے بعد ہجرت کر کے حبش چلے گئے کہ آزادی سے دین حق پر عامل رہیں۔ ان کے بہترین لوگ یہ تھے حضرت عثمان بن عفان ؓ آپ کے ساتھ آپ کی بیوی صاحبہ حضرت رقیہ ؓ بھی تھیں جو رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی تھیں اور حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ جو رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی تھے اور حضرت ابو سلمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
سورة النَّحْل 37
یہ اشارہ ہے ان مہاجرین کی طرف جو کفار کے ناقابل برداشت مظالم سے تنگ آکر مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ منکرین آخرت کی بات کا جواب دینے کے بعد یکایک مہاجرین حبشہ کا ذکر چھیڑ دینے میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے۔ اس سے مقصود کفار مکہ کو متنبہ کرنا ہے کہ ظالمو ! یہ جفاکاریاں کرنے کے بعد اب تم سمجھتے ہو کہ کبھی تم سے باز پرس اور مظلوموں کی داد رسی کا وقت ہی نہ آئے گا۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور جن لوگوں نے اللہ کے واسطے اپنا وطن (مکہ) چھوڑ دیا (اور حبشہ چلے گئے) بعد اس کے کہ ان پر (کفار کی طرف سے) ظلم کیا گیا (کیونکہ ایسی مجبوری میں وطن چھوڑنا بڑا شاق گذرتا ہے ہم ان کو دنیا میں ضرور اچھا ٹھکانا دیں گے (یعنی ان کو مدینہ پہنچا کر خوب امن و راحت دیں گے چناچہ بعد چندے مدینہ میں اللہ تعالیٰ نے پہنچا دیا اور اس کو وطن اصلی قرار دیا گیا اس لئے اس کو ٹھکانا کہا اور ہر طرح کی وہاں ترقی ہوئی اس لئے حسنہ کہا گیا اور حبشہ کا قیام عارضی تھا اس لئے اس کا ٹھکانا نہیں فرمایا) اور آخرت کا ثواب (اس سے) بدرجہا بڑا ہے (کہ خیر بھی ہے اور ابقیٰ بھی) کاش (اس اجر آخرت کی) ان (بےخبر کافروں)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
تفسیر آیت 41 تا 42:۔ وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِي اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَـنَةً ۭ وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ ۘ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ۔ الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَعَلٰي رَبِّهِمْ یتَوَكَّلُوْنَ۔ مہاجرین حبشہ کی تحسین : یہ بات بھی یہاں قیامت کی ضرورت اور اس کے مقاصد کے تحت ہی بیان ہوئی ہے مطلب یہ ہے کہ آخر خدا کے بندے وہ بھی تو ہیں جو آج اس کی راہ میں، اس کے دین کی خاطر، طرح طرح کے مصائب و شداید کا ہدف بنے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ وہ مجبور ہو کر محض اپنے دین کو بچانے کی خاطر، اپنے وطن اور گھر در کو چھوڑ کر ایک غیر ملک حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
41۔ 1 ہجرت کا مطلب ہے اللہ کے دین کے لئے اللہ کی رضا کی خاطر اپنا وطن، اپنے رشتہ دار اور دوست احباب چھوڑ کر ایسے علاقے میں چلے جانا جہاں آسانی سے اللہ کے دین پر عمل ہو سکے۔ اس آیت میں ان ہی مہاجرین کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے، یہ آیت عام ہے جو تمام مہاجرین کو شامل ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ ان مہاجرین کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنی قوم کی ایذاؤں سے تنگ آ کر حبشہ ہجرت کر گئے تھے۔ ان کی تعداد عورتوں سمیت ایک سو یا اس سے زیادہ تھی، جن میں حضرت عثمان غنی اور ان کی زوجہ۔ دختر رسول حضرت رقیہ بھی تھیں۔
41۔ 2 اس سے رزق طیب اور بعض نے مدینہ مراد لیا ہے، جو مسلمانوں کا مرکز بنا، امام ابن کثیر فرماتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
19: جیسا کہ اس سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، یہ آیت ان صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو کفار کے ظلم سے تنگ آکر حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ البتہ اس میں جو عام الفاظ استعمال ہوئے ہیں، وہ ہر اس شخص کو شامل ہیں جو اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر اپنا وطن چھوڑ کر ہجرت کرے۔ اور آخر میں جو فرمایا گیا کہ ”کاش یہ لوگ جان لیتے“۔ اس سے مراد بظاہر یہ مہاجرین ہی ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کو اس اجر کا علم ہوجائے تو بےوطن ہونے سے انہیں جو تکلیف ہو رہی ہے وہ بالکل باقی نہ رہے۔ اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ان سے مراد کافر لوگ ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ کاش اس حقیقت کا علم ان کافروں کو بھی ہوجائے تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
منکرین اور مکذبین کے بالمقابل ذرا مومنین صادقین کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے جو نہ صرف اپنے نظریہ حیات پر پختہ ایمان رکھتے ہیں بلکہ اس کے لئے اپنا مال اور اپنا ملک چھوڑ کر ہجرت بھی کرتے ہیں اور یہ کام وہ صرف رضائے الٰہی کی خاطر کرتے ہیں۔
آیت نمبر 41 تا 42
یہ لوگ جنہوں نے اپنے ملک و مال کو چھوڑ کر ہجرت کی ، اپنی جائیداد اور محبب آبائی وطن سے دستکش ہوگئے۔ انہوں نے ملک ، رشتہ داروں اور اپنی محبوب یادوں کی قربانی دی۔ یہ لوگ دار آخرت میں عوضانہ کے مستحق ہیں۔ انہوں نے جو جو قربانیاں دیں اس کا اجر تو انہیں ملنا چاہئے۔ پھر یہ مال اور ملک انہوں نے خوشی سے نہیں چھوڑا بلکہ ظلم سے تنگ آکر چھوڑا۔ اگر…
Read the full tafseer →5 یعنی سلسلہ مجازات (طاعت و معصیت کا پورا نتیجہ ظاہر کرنے) کے لیے بعث بعد الموت ضروری ہے۔ بہت سے خدا کے وفادار بندے مصائب و شدائد جھیلتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں، کیا ان کی قربانیاں ضائع کی جاسکتی ہیں ؟ ہرگز نہیں جن لوگوں نے حق کی حمایت اور خدا کی رضا جوئی کے لیے ظالموں کی سختیاں برداشت کیں اور انواع و اقسام کے ظلم و ستم اٹھائے حتی کہ مجبور ہو کر گھر بار، خویش و اقارب اور عزت و راحت سب چیزوں کو خدا کے راستہ میں تج دیا، ان کی محنت و وفاداری کا صلہ یقینا مل کر رہے گا۔ اول تو ان میں سے جو جیتے بچیں گے دنیا ہی میں اپنی قربانیوں کا تھوڑا سا پھل چکھ لیں گے۔ یعنی گھر چھوڑنے والوں کو بہترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
آیت 40 اِنَّمَا قَوْلُــنَا لِشَيْءٍ اِذَآ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ
اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے کہ یہ حکم عالم امر کے بارے میں ہے جبکہ عالم خلق میں یوں نہیں ہوتا عالم امر اور عالم خلق کے بارے میں وضاحت اس سورة کی آیت 2 اور سورة الاعراف کی آیت 54 کے ضمن میں گزر چکی ہے۔ عالم امر میں کسی واقعے یا کسی چیز کے ظہور پذیر ہونے کے لیے اسباب وسائل اور وقت درکار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ارادہ فرماکر کن فرماتے ہیں تو وہ چیز وجود میں آجاتی ہے۔ عالم خلق میں بھی کلی اختیار تو اللہ ہی کا ہے مگر اس عالم کو عام طبعی قوانین کے مطابق چلایا جاتا ہے۔ چناچہ عالم خلق میں کسی چیز کو وجود…
Read the full tafseer →42 ہجرت حبشہ :۔ یہ سورت چونکہ مکی ہے لہذا یہاں مہاجرین سے مراد صرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور یہ اسی (80) کے قریب صحابہ کرام ؓ تھے جن پر قریش مکہ کی طرف سے مظالم ڈھائے جاتے رہے اور وہ مقدور بھر صبر سے برداشت کرتے رہے لیکن بالآخر قریش مکہ نے انھیں اس قدر نشانہ ستم بنایا کہ وہ اپنا گھر بار، مال و جائیداد اور عزیز و اقارب سب کچھ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے اور اللہ کے دین کی خاطر اپنے وطن مکہ کو چھوڑ کر حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ پھر یہی لوگ حبشہ سے دوبارہ ہجرت کرکے مدینہ اس وقت پہنچے جب خیبر فتح ہوچکا تھا۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے فضل اور اپنی رحمت سے نوازا اور یہی لوگ ان مشرکوں اور…
Read the full tafseer →60۔ (مشرکین معاندین کی طرف سے) (آیت) ” من بعد ما ظلموا “۔ ہجرت یعنی اپنے وطن کی سرزمین کو معہ وہاں کے دوستوں، عزیزوں وغیرہ بیشمار مرغوبات ومالوفات کے چھوڑ دینا ہمیشہ ہی نفس پر شاق گزرتا ہے، شدید مظلومیت وبیچارگی کے بعد تو نفس پر یہ دشواری کئی گنی اور بڑھ جاتی ہے۔ (آیت) ” فی اللہ “۔ یعنی اللہ کے واسطے یا اللہ کی راہ میں۔ لاقامۃ دینہ (جلالین) فی حقہ ولوجھہ (مدارک۔ بیضاوی) (آیت) ” والذین ھاجروا “۔ یہاں ذکر ان مومنین سابقین وصادقین کا ہے، جنہوں نے کفار مکہ کے مظالم سے تنگ آکر رسول اللہ ﷺ کے حکم سے، نہ صرف شہر مکہ بلکہ ملک حجاز اور سارے علاقہ عرب کو چھوڑ کر، ایک دوردراز ملک حبشہ کی جانب ہجرت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
آیت نمبر 41 تا 50
ترجمہ : اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لئے اہل مکہ کی اذیتوں کے ظلم سہنے کے بعد ترک وطن کیا، اور وہ نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب ہیں، ہم ان کو دنیا میں بہترین ٹھکانہ عطا کریں گے وہ ٹھکانہ مدنیہ ہے، اور آخرت کا اجر یعنی جنت بہت ہی بڑا ہے کاش کافر یا ہجرت نہ کرنے والے اس بات کو جان لیتے کہ مہاجروں کے لئے کس قدر اعزاز ہے تو ضرور مہاجرین کی (ہجرت میں) موافقت کرتے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مشرکوں کی اذیتوں اور اظہار دین کے لئے ہجرت پر صبر کیا اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں تو وہ ان کو ایسے طریقہ سے رزق دیتا ہے کہ ان کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا، اور آپ سے پہلے بھی ہم مردوں ہی…
Read the full tafseer →والذین ھاجروا فی اللہ من بعد ما ظلموا اور جن لوگوں نے اللہ کے واسطے اپنا وطن چھوڑ دیا بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا۔
فِی اللہ یعنی اللہ کی راہ میں ‘ اللہ کے معاملہ میں ‘ اللہ (کو ماننے) کی وجہ سے۔ ظُلِمُوْا بعد اس کے کہ ان کو سخت دکھ دئیے گئے اور ایذائیں پہنچائی گئیں۔ عبدالرزاق اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس اور داؤد بن ہند کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت ابو جندل بن سہیل کے متعلق ہوا۔ مشرکوں نے کہ میں آپ کو قید کر رکھا تھا اور دکھ پہنچائے تھے۔ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم اور عبد بن حمید نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول چند صحابہ کے متعلق ہوا جن پر مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(41۔ 42) اور جن حضرات نے اطاعت خداوندی میں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی، بعد اس کے کہ ان کو مکہ والوں نے طرح طرح کی تکالیف دیں جیسا کہ حضرت عمار بن یاسر ؓ ، حضرت بلال ؓ ، حضرت صہیب ؓ اور ان کے ساتھی رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ ہم ان کو مدینہ منورہ میں ضرور خوب اچھا امن وامان اور غنیمت والا ٹھکانا دیں گے اور آخرت کا ثواب اس دنیاوی ثواب سے کئی درجے بہتر ہے، کاش یہ کفار بھی اس کو سمجھتے اور حضرت عمار بن یاسر ؓ اور ان کے ساتھی ایسے ہیں کہ کافر کی تکالیف پر صبر کرتے ہیں اور اپنے پروردگار کے علاوہ کسی دوسرے پر بھروسا نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِي اللّٰهِ۔۔ : ”هَاجَرُوْا“ ”ھَجَرَ یَھْجُرُ“ سے باب مفاعلہ ہے۔ ”ھَجَرَ“ اور ”ھَاجَرَ“ کے مفہوم میں فرق ہے۔ ”ھَجَرَ الْمَکَانَ“ ”اس نے فلاں جگہ چھوڑ دی“ ہوسکتا ہے اسے وہ پسند نہ رہی ہو اور وہ اپنے خیال میں اس سے بہتر جگہ چلا گیا ہو، جگہ نے اسے جانے پر مجبور نہیں کیا، وہ اپنی مرضی سے اسے چھوڑ گیا ہے، لیکن ”ھَاجَرَ“ یعنی باب مفاعلہ میں مقابلہ پایا جاتا ہے، یعنی قوم کی طرف سے مزاحمت اور مقابلے نے اسے وطن چھوڑنے پر مجبور کیا، وہ اپنی جگہ چھوڑنے پر ازخود راضی نہ تھا۔ (شعراوی)
3 اللہ کی توحید اور قیامت پر ایمان لانے والوں کا توحید اور قیامت کے منکروں کے ساتھ خوشی سے مل جل…
Read the full tafseer →آیت نمبر 41
قولہ تعالیٰ : والذین ھاجروا فی اللہ من بعد ما ظلموا ہجرت کا معنی سورة النساء میں گزر چکا ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر یا اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر اپنے وطن، اہل خانہ اور قرابتداروں کو چھوڑنا ہے، اور برائیوں اور گناہوں کو ترک کرنا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فی بمعنی لام ہے یعنی ھاجروا للہ۔ من بعد ما ظلموا یعنی اس کے بعد کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں طرح طرح کا عذاب دیا گیا یہ آیت حضرت صہیب، حضرت بلال، حضرت خباب اور حضرت عمار ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اہل مکہ نے انہیں اذیتیں دیں حتیٰ کہ انہوں نے ان کو وہ کہا جس کا انہوں نے ارادہ کیا، پس جب انہوں نے انہیں چھوڑ دیا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
1:۔ احمد، ترمذی، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں اور لفظ بیہقی کے ہیں (ترمذی نے حسن بھی کہا ہے) ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے اب آدم ! تم میں سے ہر ایک گناہ کرنے والا ہے مگر جس میں عافیت دوں سو تم مجھ سے (گناہوں کی) بخشش مانگو میں تم کو بخش دوں گا اور ہر ایک تم میں فقیر ہے مگر جس کو میں مال دار بنا دوں مجھ سے سوال کرو میں تم کو عطا کروں گا ہر ایک تم میں سے گمراہ ہے مگر جس کو میں ہدایت دوں مجھ سے ہدایت مانگو میں تم کو ہدایت دوں گا اور جو شخص مجھ سے مغفرت طلب کرے گا اور وہ جانتا ہے کہ میں اس کے گناہ معاف کرنے پر قادر ہوں میں اس کو…
Read the full tafseer →[وَالَّذِينَ : اور وہ لوگ جنھوں نے ] [ هَاجَرُوْا : ہجرت کی ] [ فِي اللّٰهِ : اللہ (کی راہ) میں ] [ مِنْۢ بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ جو ] [ ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ : ہم لازماً ٹھکانہ دیں گے ان کو ] [ فِي الدُّنْيَا : دنیا میں ] [ حَسَـنَةً ۭ : ایک اچھے (گھر) کا ] [ وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ : اور یقینا آخرت کا بدلہ ] [ اَكْبَرُ ۘ: سب سے بڑا ہے ] [ لَوْ : کاش ] [ كَانوْا يَعْلَمُوْنَ : وہ لوگ جانتے ہوتے ]
ترکیب : (آیت۔ 41) لَنُبَوِّئَنَّ کا مفعول اوّل ھُمْ کی ضمیر ہے اور اس کا مفعول ثانی محذوف ہے جو کہ دَارًا ہوسکتا ہے۔ حَسَنَۃً اس کی صفت ہے۔ یَعْلَمُوْنَ کی ضمیر فاعلی، آیت۔ 39 میں مذکور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
فی سبیل اللہ ہجرت کرنے والوں سے دنیا و آخرت کی خیر و خوبی کا وعدہ
مکہ معظمہ میں جب رسول اللہ ﷺ نے توحید کی دعوت دینا شروع کی تو مشرکین مکہ کو بہت زیادہ ناگوار ہوا یہ لوگ آپ کے بھی دشمن ہوگئے اور جو لوگ اسلام قبول کرتے تھے ان سے بھی دشمنی کرتے تھے، شروع میں عموماً ایسے لوگوں نے اسلام قبول کیا جو دنیاوی اعتبار سے بڑے نہیں سمجھے جاتے تھے یہ لوگ پردیسی تھے مالی اعتبار سے کمزور تھے اور ان میں بعض غلام تھے مکہ کے مشرک انہیں مارتے پیٹتے تھے اور بہت تکلیف پہنچاتے تھے۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ نے صحابہ ؓ کو حبشہ جانے کی اجازت دے دی، حبشہ میں نصرانی حکومت تھی یہ حضرات وہاں پہنچے آرام سے رہنے لگے لیکن مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
چوتھا شبہ
قال اللہ تعالیٰ : واقسموا باللہ جھد ایمانھم لایبعث اللہ من یموت .... الیٰ .... وعلی ربھم یتوکلون۔
(ربط) اس آیت میں بھی کافروں کی ایک جہالت کا بیان ہے کہ وہ لوگ قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ جو مرگیا اور ریزہ ریزہ ہو کر خاک میں مل گیا وہ دوبارہ زندہ نہیں ہوسکتا اور جب انسان دوسری زندگی کا قائل نہیں ہوتا تو پھر وہ نیکی اور بدی کی پرواہ نہیں کرتا۔ دنیا کی کامیابی اور بیہودی ہی اس کا مطمح نظر ہوتی ہے جیسا کہ آج کل ہم دیکھ رہے ہیں، اللہ پناہ میں رکھے آمین۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شبہ کا جواب دیا کہ قیامت کا آنا برحق ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا پکا وعدہ ہے حق اور ناحق کے فیصلہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
33:۔ مہاجرین کے لیے بشارت دنیوی واخروی ہے۔ اس سے مہاجرین صحابہ ؓ مراد ہیں جنہیں محض توحید کی وجہ سے مشرکین مکہ نے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا اور وہ حبشہ اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ ھم رسول اللہ و اصحابہ ظلمھم اھل مکۃ ففروا بدینھم الی اللہ منھم من ھاجر الی الحبشۃ ثم الی المدینۃ فجمع بین الھجرین ومنھم من ھاجر الی المدینۃ (مدارک ج 2 ص 221) اللہ تعالیٰ نے مہاجرین ؓ کو دنیا میں بھی باعزت اور پرشوکت زندگی عطا فرمائی اور آخرت کا اجر وثواب اس سے کہیں بڑھ کر ہوگا۔ ” اَلَّذِیْنَ صَبَرُوْا الخ “ یہ ” اَلَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا “ کی صفت ہے۔ یہ گویا مذکور الصدر اجر وثواب کا سبب ہے یعنی انہوں نے مشرکین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
(ربط آیات)
گذشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اس باطل عقیدے کا رد فرمایا کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے یعنی وہ ہمیں زبردستی شرک سے روک دیتا اور اگر نہیں روکا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس کی پسند کا کام کر رہے ہیں ، پھر اللہ نے ہر امت میں رسول بھیجنے کا ذکر کیا جنہوں نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور طاغوت کی پرستش سے اجتناب کریں ، اس کے بعد اللہ نے نافرمانوں کے انجام کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو لو کہ جھٹلانے والوں کا کتنا عبرتناک انجام ہوا ۔
پھر گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے لیے تسلی کا مضمون بیان فرمایا اور آپ کو…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِي اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَـنَةً ۭ وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ ۘ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ 41ۙ
هجر
الهَجْرُ والهِجْرَان : مفارقة الإنسان غيره، إمّا بالبدن، أو باللّسان، أو بالقلب . قال تعالی:
وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضاجِعِ [ النساء/ 34] كناية عن عدم قربهنّ ، وقوله تعالی: إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هذَا الْقُرْآنَ مَهْجُوراً [ الفرقان/ 30] فهذا هَجْر بالقلب، أو بالقلب واللّسان . وقوله :
وَاهْجُرْهُمْ هَجْراً جَمِيلًا [ المزمل/ 10] يحتمل الثلاثة، ومدعوّ إلى أن يتحرّى أيّ الثلاثة إن أمكنه مع تحرّي المجاملة، وکذا قوله…
Read the full tafseer →ترکیب : والذین الخ مبتداء لنبوئنہم خبر حسنۃ لنبوئنہم کا مفعول ثانی کیونکہ لنبوئنہم بمعنی اعطینھم ہے۔ اور ممکن ہے کہ بمعنی ننزلنھم ہو فالتقدیر نیزلنھم فی الدنیا واراحسنۃ۔ الذین صبروا موضع رفع میں ہے علی اضمارھم۔ بالبینات متعلق ہے ارسلنا محذوف سے۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں تھا کہ کفار قسم کھا کر قیامت کا انکار کرتے ہیں پھر جب دار جزا سے ان کو اس قدر انکار تھا تو ایسی حالت میں کہ مکہ میں انہیں کا غلبہ اور زور تھا دیندار مسلمانوں پر کیا کچھ ظلم و ستم نہ کرتے ہوں گے۔ چناچہ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ یہ آیت چھ صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی جو قریش مکہ کے غلام تھے اور اسلام لانے کی وجہ سے ان پر بڑا ظلم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
وَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا فِی اللّٰہِ مِنْ م بَعْدِمَا ظُلِمُوْٓا لَنُبَوِّئَنَّھُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنۃً ط وَلَاَجْرُالْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ م لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ۔ الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ۔
(سورۃ النحل : 41۔ 42)
(اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کی اس کے بعد کہ ان پر (طرح طرح کے) ظلم توڑے گئے، ہم ضرور ان کو دنیا میں بھی بہتر ٹھکانہ دیں گے اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے، کاش یہ جان لیتے۔ (یہ ان مہاجرین کے لیے ہے) جنھوں نے استقامت دکھائی اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ )
قیامت کے لیے ایک اخلاقی مثال
منکرینِ قیامت کا ذکر کرنے کے بعد ان لوگوں کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
جب انسان آخرت کا منکر ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کی قوت و سطوت کا فکری یا عملی طور پر انکار کردے تو وہ ظالم بن جاتا ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ ظالم لوگ توحید کا عقیدہ رکھنے والے اور صاحب کردار لوگوں پر ظلم کیا کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مظلوم ہجرت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
جب سے دنیا معرض وجود میں آئی ہے اسی وقت سے توحید و رسالت اور آخرت کا عقیدہ رکھنے والوں پر مظالم ڈھائے جاتے رہے یہاں تک کہ انہیں اپنا گھر بار چھوڑنا پڑاصاحب عزیمت لوگوں نے سب کچھ برداشت کرلیا۔ مگر حق پر قائم اور دائم رہے۔ ان کو خوشخبری سنائی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ضرور انہیں دنیا میں سرخرو کرنے کے…
Read the full tafseer →مہاجرین کے ساتھ وعدہ :
41: وَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا فِی اللّٰہِ (اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر ہجرت کی) اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں اور اس کی رضامندیوں کی خاطر۔ مِنْ 0 بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا ( اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا) وہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب ہیں جن پر اہل مکہ نے ظلم کیا۔ وہ اپنا دین لیکر اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آئے۔ ان میں سے بعض نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ پھر مدینہ منورہ کی طرف اور بعض ان میں سے انہوں نے دونوں ہجرتیں اپنے لئے جمع کرلیں۔ اور بعض نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔
لَنُبَوِّئَنَّھُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً (ہم ان کو دنیا میں اچھا ٹھکانہ دیں گے) حسنۃً یہ مصدر کی صفت…
Read the full tafseer →آیت والذین ھاجروا کا شان نزول
(41)” والذین ھاجروا فی اللہ من بعد ما ظلموا “ اللہ کے معاملے میں ان کو عذاب دیا گیا اور تکلیفیں دی گئیں۔ اس آیت کا نزول حضرت بلال، حضرت صہیب، حضرت خباب، حضرت عمار، عابس، جبیر، ابی جندل بن سہل رضوال اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بارے میں ہوا۔ مشرکین مکہ نے ان کو پکڑ کر بہت اذیتیں پہنچائیں۔
قتادہ کا (رح) کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول چند صحابہ ؓ کے متعلق ہوا جن پر مکہ والوں نے مظالم ڈھائے تھے اور ان کو گھروں سے نکال کر باہر کردیا انہی مظلوموں میں سے ایک جماعت ملک حبشہ کو چلی گئی۔ پھر اللہ نے ان کو مدینہ میں ٹھکانہ دے دیا۔ مدینہ کو ان کے لیے دارالحجرت بنادیا اور کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
41۔ 42۔ اس آیت میں اللہ پاک نے ان لوگوں کی جزا کی خبر دی جنہوں نے محض خدا کے واسطے اپنے گھر بار خویش اقارب سب کو چھوڑ اس لئے فرمایا کہ ان ہجرت کرنے والوں کو ہم دنیا ہی میں بہت اچھا بدلہ دیں گے اور بہت ہی اطمینان کی جگہ ان کے رہنے کو عطا کریں گے۔ قتادہ کے موافق یہ آیت ان مہاجروں کی شان میں اتری ہے جو اول اول مکہ سے ہجرت کر کے ملک حبش میں جارہے تھے جن کی تعداد کل مرد و عورت ملا کر اسی کی تھی ان کے حق میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا کہ انہیں اچھی جگہ بسنے کو دیں گے۔ لنبوئنھم فی الدنیا حسنۃ کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مدینہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کی ایذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
آیت 39
اپنے رسولوں کو جھٹلانے والے مشرکین کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (واقسموا باللہ جھد ایمانھم) ” اور یہ اللہ کی بڑی پکی قسمیں کھاتے ہیں۔ “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی تکذیب پر بہت پکی قسمیں کھتاے ہیں اور اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا نہ وہ ان کے مٹی ہوجانے کے بعد ان کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جھٹلاتے ہوئے کہتا ہے : (بلی) ” کیوں نہیں۔ “ اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گا، پھر انہیں ایسے روز اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں (وعداً علیہ حقاً ) ” اس پر وعدہ ہوچکا ہے پکا “ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف کرتا ہے نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →82۔ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کے لئے عمدہ ٹھکانے کا وعدہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی، اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا ان کو ہم ضرور عمدہ ٹھکانا دینگے دنیا میں بھی اور آخرت کا اجروثواب تو یقینا اس سے کہیں بڑھ کر ہے، سو اس میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کے لئے صاف اور صریح طور پر عمدہ ٹھکانے سے نوازنے کا وعدہ فرمایا گیا ہے اور بالفعل ایسا ہوا بھی۔ جیسا کہ حضور کے صحابہ کرام کو مدینہ طیبہ میں ٹھکانہ دیا۔ اور اس کے علاوہ دنیا میں آج تک بھی جگہ جگہ اور طرح طرح سے اس سے مظاہر نظر آتے ہیں۔ بشرطیکہ ہجرت دین کیوجہ سے اور دین کی خاطر اور خالص اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
مہاجرین کا اجروثواب
تشریح : ہجرت کے فضائل یہاں بیان کیے گئے ہیں۔ ہجرت کی تفصیلات سورة نساء کی آیت 97 میں بیان ہوچکی ہیں یہاں تو اللہ کے ان وعدوں کا ذکر ہے جو مہاجرین سے کیے گئے۔
پہلا یہ کہ مہاجرین کو دنیا و آخرت میں بہترین اجر ملے گا۔ جیسا کہ ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ سے مسلمان ہر قسم کی فتح و کامرانی اور عزت ووقار سے مالا مال ہوگئے۔
دوسرا یہ کہ دنیا و آخرت میں بھلائی کا وعدہ تمام مسلمان مہاجرین کے لیے ہے۔ پھر ہجرت کے خالص ہونے کی کچھ شرائط ہیں۔
پہلا : ہجرت کا مقصد خالصتاً اللہ کی رضا حاصل کرنا ہو۔
دوسرا : مظلوم ہونا۔ تیسرا۔ تکالیف پر صبر کرنا۔ چوتھا اللہ پر مکمل بھروسا ہونا۔
اسی طرح ہجرت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
ایسے لوگ جنہوں نے اللہ کریم کے لیے وطن چھوڑا کہ وہاں ان پر ظلم ہوتا تھا انہیں ہم دنیا میں بھی بہترین ٹھکانہ دین گے اور آخرت کا انعام تو بہت ہی بڑا ہے ایسے لوگوں کے لیے جو ثابت قدم رہے اور جملہ اسباب اختیار کرکے بھروسہ اللہ پر رکھا یعنی کوئی ایسا سبب اختیار نہ کیا جس میں اللہ جل جلالہ کی نافرمانی ہو اس آیہ مبارکہ میں ہجرت کی فضیلت اور مہاجرین دنیا وآخرت میں انعامات کا وعدہ ہے ہجرت کیا ہے ۔
(ہجرت اور اس پر انعامات کا وعدہ)
ہجرت سے مراد ترک وطن ہے اور یہاں فی اللہ کی شرط لگا کر ایسی حالت متعین فرما دی کہ یہ ترک وطن اللہ جل جلالہ کی رضا کے لیے اور دین کے تحفظ کے لیے ہو ،…
Read the full tafseer →ف 6 مراد ہیں وہ مسلمان جو کفار کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ (شوکانی)
7 چناچہ اللہ تعالیٰ نے انناتواں اور غریب الوطن مہاجرین کو دنیا میں عزت، شرف، عظمت، حکومت، دولت ہر چیز عنایت فرمائی۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(16:41) لنبوئنہم۔ مضارع بلام تاکید ونون ثقیلہ جمع متکلم۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب یوء یبوء تبوئۃ (باب تفعیل) سے ہم ان کو ضرور جگہ دیں گے۔ ہم ان کو ضرور ٹھہرائیں گے۔ ہم ان کو ضرور اتاریں گے۔
اور جگہ آیا ہے : ولقد بوأنا بنی اسرائیل مبوأ صدق۔ (10:93) اور ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کے لئے عمدہ جگہ دی۔
لو کانوا یعلمون۔ میں ضمیر فاعل جمع مذکر غائب کافروں کی طرف راجع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 42
ھاجروا جنہوں نے ہجرت کی۔ ظلموا ظلم کیا گیا۔ نبوء ہم ٹھکانا دیں گے۔ اکبر بڑا، بڑھ کر۔ یتوکلون وہ بھروسہ کرتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 41 تا 42
نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی دلی خواہش اور تمنا تھی کہ تمام کفار و مشرکین اس غلط راستے کو چھوڑ کر ایمان قبول کرلیں۔ اس کے لئے آپ دن رات جدوجہد فرماتے تھے صبح ہو یا شام آپ کو جہاں اور جیسے موقع ملتا آپ ہر ایک کو سمجھاتے رہتے۔ دوسری طرف کفار عرب اپنی ضد ، ہٹ دھرمی اور شیطانی اعمال میں اس قدر آگے جا چکے تھے کہ وہ حق و صداقت کی کسی بات کو سمجھنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے شروع شروع میں تو آپ ﷺ کا مذاق اڑایا۔ جملے کسے، ہر طرح کی غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
ہجرت کا اجر
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی خبر دی جنہوں نے محض خدا کے واسطے اپنے گھر بار خویش و اقارب سب کو چھوڑا، اس لئے فرمایا کہ ان ہجرت کرنے والوں کو ہم دنیا میں بہت اچھا بدلہ دیں گے اور بہت ہی اطمینان کی جگہ ان کے رہنے کو عطا کریں گے۔ یہ آیت ان مہاجرین کی شان میں اتری ہے جو اول اول مکہ سے ہجرت کر کے ملک حبشہ میں جا رہے تھے جن کی تعداد کل مردو عورت ملا کر اسی نفر کی تھی۔ ان کے حق میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ انہیں اچھی جگہ بسنے کو دیں گے یعنی ہمیشہ کے لئے رہنے کا انتظام اس بستی میں فرما دے گا جس کا نام مدینہ ہے۔ جہاں خوشحالی ، عزت ، حکومت سب چیزیں ان کو مل جاویں گی۔ پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
[22] یہاں ذکر ان مومنین صادقین کا ہے جنہوں نے کفار مکہ کے ظلم سے تنگ آ کر رسول اللہ ﷺ کے حکم سے حبش کی جانب ہجرت کی تھی۔
[23] یعنی اجر آخرت کے تفصیلی حالات جان لیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
ضمیر وقلب کی مظلومیت ناقابل برداشت ہے :
(ف 1) یہ آیت حضرت صہیب ‘ بلال ، عمار ، خباب ، عابس ، اور عمیر کے حق میں نازل ہوئی ، بات یہ تھی ، مکہ والوں نے اسلام قبول کرنے پر ان لوگوں کو بہت سخت سزائیں دیں ، بلال ؓ کی پیٹھ پر دہکتے ہوئے کوئلے رکھے ، حضرت عمار ؓ کی تکلیفوں کو دیکھ کر حضور نے فرمایا صبرا یا آل یاسر ۔ صہیب نے اپنی ساری جائداد دے دی جب جاکر شدائد سے رہائی حاصل کی ۔
جب ان لوگوں پر حد سے زیادہ سختیاں ہونے لگیں اور مسلمان مظلومیت کی زندگی بسر کرنے لگے ، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ لوگ مکہ چھوڑ دیں ، اور اپنے لئے کوئی وطن اختیار کرلیں ، کیونکہ اسلام میں ضمیر کی مظلومیت ومجبوری ناقابل برداشت…
Read the full tafseer →41 ۔ اور جن لوگوں نے بعد اس کے کہ ان پر ہر قسم کے مظالم کئے گئے انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے ترک وطن کیا اور مکہ سے ہجرت کی ہم ان کو دنیا میں یقینا اچھا ٹھکانہ عطا فرمائیں گے اور دنیا میں جو کچھ دیا جائے گا آخرت کا ثواب اس سے یقینا بہت بڑا ہے کاش یہ منکر اس ثواب کی حقیقت کو جانتے ۔ یعنی جن صحابہ ؓ نے ابتدائے اسلام میں مختلف مظالم سہے اور آخر کو ترک وطن کر کے حبشہ چلے گئے ان کو بشارت ہے چناچہ تھوڑے سے عرصہ کے بعد مدینہ منورہ دارالہجرت قرار پایا اور سب لوگ وہاں آ کر آباد ہوئے اور ہر قسم کی ترقی پائی۔
کاش ! اگر یہ کافر بھی اس ثواب کو جانتے تو مسلمانوں کو تکلیف نہ پہنچاتے بلکہ مسلمان ہوجاتے اور…
Read the full tafseer →ف 7۔ حبشہ کو چلے گئے۔
1۔ یعنی ان کو مدینہ پہنچا کر خوب امن و راحت دیں گے چناچہ بعد چندے اللہ تعالیٰ نے پہنچا دیا اور اس کو اصلی وطن قرار دیا گیا اس لیے اس کو ٹھکانا کہا اور ہر طرح کی وہاں سے ترقی ہوئی اس لیے حسنہ کہا گیا اور حبشہ کا قیام عارضی تھا اس لیے اس کو ٹھکانا نہیں کہا۔
2۔ اور اس کے حاصل کرنے کی رغبت سے مسلمان ہوجاتے۔
Read the full tafseer →جن لوگوں نے ظلم کو برداشت کیا اور ہجرت کی اللہ ان کو ٹھکانا دے گا یہ اس کا وعدہ ہے :
48۔ گزشتہ آیت میں جس ارادہ کا ذکر کیا تھا زیر نظر آیت میں اس ارادہ کے پورا کرنے کی ایک حتمی بات بتا دی اور اس کا قبل از وقت اعلان کردیا تاکہ دنیا کے سارے لوگ مل کر کوشش کرلیں کہ اس کے ارادہ کو کوئی ٹال سکتا ہے تو ٹال کر دیکھ لے اور اپنا زور آزما لے شاید اس طرح ہی اس کو یقین آجائے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ارادہ اپنے کسی اصول کے خلاف نہیں جس کا اس نے پہلے ہی سے اعلان کردیا ہو ، فرمایا سن رکھو ہمارا قانون یہ ہے کہ وہ لوگ جو ہم پر ایمان لانے کے جرم کی پاداش میں قوم کے ظلم وستم کا نشانہ بنے یہاں تک کہ انہیں ان کے…
Read the full tafseer →Commentary
The verb: هَاجَرُوا (hajaru) is a derivation from hijrat (pausal : hijrah) which literally means to leave one's homeland. The leaving of one's home-land done for the sake of Allah is an act of great obedience and worship in Islam. The Holy Prophet ﷺ said: اَلھِجرۃ تَھدَمُ مَا کَانَ قَبلَھَا ('Hijrah demolishes all sins that were before it' ).
This Hijrah is Farcl (obligatory) and Wajib (necessary) under some situations while it is recommended as desirable and better (Mustahabb) under some others. Related injunctions have appeared in details under comments on verse 97 of Surah…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
37. This is to comfort the Muslim emigrants from Makkah to Habash, who were forced to leave their homes because of the unbearable persecution they suffered at the hands of the disbelievers. The change of the scene from the disbelievers to the emigrants to Habash contains a subtle warning to the disbelievers that they should not remain under any delusion that they would get off free from punishment for their cruel behavior towards those Muslims, so as to say: O cruel people! There shall be Resurrection to reward the oppressed believers and to punish you for your persecution of them.
Read the full tafseer →