An-Nahl 16:39

An-Nahl · from ayah 39

16:39

لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ ۟لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِىۡ يَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ وَ لِيَـعۡلَمَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰذِبِيۡنَ

تاکہ جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں وہ ان پر ظاہر کردے اور اس لیے کہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[It is] so He will make clear to them [the truth of] that wherein they differ and so those who have disbelieved may know that they were liars.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 5 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:39

اور ایسا ہونا اس لیے ضروری ہے کہ اللہ اِن کے سامنے اُس حقیقت کو کھول دے جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں اور منکرین حق کو معلوم ہو جائے کہ وہ جھوٹے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تاکہ جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں وہ ان پر ظاہر کردے اور اس لیے کہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس لیے بھی کہ یہ لوگ جس چیز میں اختلاف کرتے تھے اسے اللہ تعالیٰ صاف بیان کر دے اور اس لیے بھی کہ خود کافر اپنا جھوٹا ہونا جان لیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(دوبارہ زندہ کرنے کا یہ وعدہ اللہ نے اس لیے کیا ہے) تاکہ وہ لوگوں کے سامنے ان باتوں کو اچھی طرح واضح کردے جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں اور تاکہ کافر لوگ جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس لیے کہ انہیں صاف بتادے جس بات میں جھگڑتے تھے اور اس لیے کہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(مُردوں کا اٹھایا جانا اس لئے ہے) تاکہ ان کے لئے وہ (حق) بات واضح کر دے جس میں وہ لوگ اختلاف کرتے ہیں اور یہ کہ کافر لوگ جان لیں کہ حقیقت میں وہی جھوٹے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تاکہ وہ ان کے لیے وہ چیز واضح کر دے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں اور تاکہ جن لوگوں نے کفر کیا جان لیں کہ یقینا وہ جھوٹے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ اٹھانا اس لئے (ضروری ہے) کہ اللہ ان پر وہ حقیقت واضح کردے جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں۔ اور اس لیے (بھی ضروری ہے) کہ کافر جان لیں کہ وہی جھوٹے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ اس لیے ہے کہ یہ جس چیز میں اختلاف کررہے ہیں اس کو وہ اچھی طرح واضح کردے اور تاکہ جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (دوبارہ زندہ ہونا اس لئے بھی ضروری ہے) تاکہ اللہ ان کے سامنے کھول کر رکھ دے ان تمام حقائق کو جن کے بارے میں یہ لوگ اختلاف کیا کرتے تھے، اور (اس لئے بھی) تاکہ کافر لوگ یقینی طور پر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے،

— مولانا اسحاق مدنی

(اور یہ دوبارہ اٹھانا اس لئے ہوگا) کہ جس امر کے باب میں یہ لوگ اختلاف کرتے تھے اس کا ان کے روبرو اظہار کردے اور تاکہ اہل کفر یقین کرلیں کہ وہ (واقعی) جھوٹے ہی تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تاکہ وہ واضح کر دے ان پر وہ تمام چیزیں جن میں وہ لوگ اختلاف کرتے تھے اور اس لیے بھی کہ کفار جان لیں کہ وہی جھوٹے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تاکہ جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں وہ ان پر ظاہر کر دے اور اس لیے کہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(That is bound to happen in order that) He may make clear to them the reality regarding the matters on which they differ and that the unbelievers may realize that they were liars.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(He will resurrect all of them,) so that He discloses for them what they have been disputing about, and so that those who disbelieve may know that they were liars.

— Muhammad Taqi Usmani

(He will resurrect all of them,) so that He discloses for them what they have been disputing about, and so that those who disbelieve may know that they were liars.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

In order that He may make clear to them what they differed over, and so that those who disbelieved may know that they were liars.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That He may explain unto them that wherein they differ, and that those who disbelieved may know that they were liars.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[It is] so He will make clear to them [the truth of] that wherein they differ and so those who have disbelieved may know that they were liars.

— Saheeh International

(Through the resurrection) God wants to make a clear distinction between right and wrong and make the unbelievers know that they were liars.

— Muhammad Sarwar

So that He might make manifest to them that about which they differ, and that those who disbelieve might know that they were liars.

— Muhammad Habib Shakir

This will be in order that he may manifest unto them that wherein they differ, and that those who disbelieved should come to know that they had been liars.

— Abdul Majid Daryabadi

(They must be raised up), in order that He may manifest to them the truth of that wherein they differ, and that the rejecters of Truth may realise that they had indeed (surrendered to) Falsehood.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:39

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–40

قیامت یقینا قائم ہوگی کیونکہ کافر قیامت کے قائل نہیں اس لئے دوسروں کو بھی اس عقیدے ہٹانے کے لئے وہ پوری کوشش کرتے ہیں ایمان فروشی کر کے اللہ کی تاکیدی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ نہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اللہ کا یہ وعدہ برحق ہے لیکن اکثر لوگ بوجہ اپنی جہالت اور لا علمی کے رسولوں کے خلاف کرتے ہیں، اللہ کی باتوں کو نہیں مانتے اور کفر کے گڑھے میں گرتے ہیں۔ پھر قیامت کے آنے اور جسموں کے دوبارہ زندہ ہونے کی بعض حکمتیں ظاہر فرماتا ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ دنیوی اختلافات میں حق کیا تھا وہ ظاہر ہوجائے، بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا ملے۔ کافروں کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّحْل 35 یہ حیات بعد الموت اور قیام حشر کی عقلی اور اخلاقی ضرورت ہے۔ دنیا میں جب سے انسان پیدا ہوا ہے، حقیقت کے بارے میں بیشمار اختلاف رونما ہوئے ہیں۔ انہی اختلافات کی بنا پر نسلوں اور قوموں اور خاندانوں میں پھوٹ پڑی ہے۔ انہی کی بنا پر مختلف نظریات رکھنے والوں نے اپنے الگ مذہب، الگ معاشرے، الگ تمدن بنائے یا اختیار کیے ہیں۔ ایک ایک نظریے کی حمایت اور وکالت میں ہزاروں لاکھوں آدمیوں نے مختلف زمانوں میں جان، مال، آبرو، ہر چیز کی بازی لگا دی ہے۔ اور بیشمار مواقع پر ان مختلف نظریات کے حامیوں میں ایسی سخت کشاکش ہوئی ہے کہ ایک نے دوسرے کو بالکل مٹا دینے کی کوشش کی ہے، اور مٹنے والے نے مٹتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 36–40

کیا ہندوستان و پاکستان میں بھی اللہ کا کوئی رسول آیا ہے ؟ (آیت) وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا۔ اس آیت سے نیز دوسری (آیت) وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ سے ظاہرا یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان وپاکستان کے علاقوں میں بھی اللہ کے پیغمبر ضرور آئے ہوں گے۔ خواہ وہ یہیں کے باشندے ہوں یا کسی دوسرے ملک میں ہوں اور ان کے نائب اور مبلغ یہاں پہنچنے ہوں اور آیت لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ سے جو یہ مفہوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ جس امت کی طرف بھیجے گئے ہیں ان کی طرف آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں آیا اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد بظاہر وہ قوم عرب…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لِيُـبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِيْ يَخْتَلِفُوْنَ فِيْهِ وَلِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِيْنَ۔ یہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی ضرورت واضح فرمائی ہے کہ یہ اس لیے ہوگا کہ جن چیزوں کے بارے میں آج وہ اختلاف کر رہے ہیں ان میں امر حق اچھی طرح واضح ہوجائے اور جن لوگوں نے جانتے بوجھتے دھاندلیا مچائی ہیں وہ اپنے کیے کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ وَلِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِيْنَ ، اور یہ اس لیے بھی ہوگا کہ جو لوگ آج قسمیں کھا کھا کے لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ قیامت نہیں ہے وہ اچھی طرح جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے اور انہوں نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

39۔ 1 یہ وقوع قیامت کی حکمت و علت بیان کی جا رہی ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ ان چیزوں میں فیصلہ فرمائے گا جن میں لوگ دنیا میں اختلاف کرتے تھے اور اہل حق اور اہل تقویٰ کو اچھی جزا اور اہل کفر و فسق کو ان کے برے عملوں کی سزا دے گا۔ نیز اس دن اہل کفر پر بھی یہ بات واضح ہوجائے گی کہ قیامت کے عدم وقوع پر جو قسمیں کھاتے تھے ان میں وہ جھوٹے تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 36–39

17: طاغوت شیطان کو بھی کہتے ہیں اور بتوں کو بھی، لہذا اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شیطان کے پیچھے نہ چلو اور یہ بھی کہ بت پرستی سے اجتناب کرو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 38–40

اب منکرین اور مستکبرین کی تیسری کٹ حجتی :۔ آیت نمبر 38 تا 40 جب سے اللہ نے اپنے رسول بھیجے ہیں اور انہوں نے بعث بعد موت سے ڈرایا ہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام شروع ہوا تو اکثر لوگ بعث بعد الموت کے عقیدے کے بارے میں خلجان میں مبتلا رہے ہیں۔ اہل قریش بھی اللہ کے نام کی سخت سے سخت قسمیں کھا کر یہ کہتے تھے کہ اللہ مرنے کے بعد کسی کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا۔ یہ لوگ اللہ کے وجود کے تو قائل تھے لیکن اس بات کے قائل نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو قبروں سے اپنی اصلی حالت میں دوبارہ اٹھائے گا۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ کام تو بہت ہی مشکل ہے کہ جب انسان گل سڑ کر ذرے ذرے ہوجائے تو پھر کس طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی معاد (قیامت وغیرہ کا آنا) عین حکمت ہے۔ اگر موت کے بعد دوسری زندگی نہ ہو تو دنیا میں جو مختلف اعمال و احوال پائے جاتے ہیں ان کے صاف اور مکمل نتائج کیسے ظاہر ہوں گے۔ یہاں کے جھگڑوں کا دو ٹوک فیصلہ تو وہیں ہوگا اور اس وقت منکرین معلوم کرلیں گے کہ قسمیں کھا کر جن باتوں کا انکار کرتے تھے وہ سچی تھیں۔ اور قسم کھانے والے جھوٹے تھے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی اس جہان میں بہت باتوں کا شبہ رہا اور کسی نے اللہ کو مانا کوئی منکر رہا تو دوسرا جہان ہونا لازم ہے کہ جھگڑے تحقیق ہوں، سچ اور جھوٹ جدا ہو اور مطیع و منکر اپنا کیا پائیں۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 39 لِيُـبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِيْ يَخْتَلِفُوْنَ فِيْهِ وَلِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِيْنَ اللہ تعالیٰ پوری نوع انسانی کے ایک ایک فرد کو دوبارہ اٹھائے گا اور انہیں ایک جگہ جمع کرے گا۔ پھر ان کے تمام اختلافی نظریات و عقائد کے بارے میں حتمی طور پر انہیں بتادیا جائے گا۔ چناچہ اس وقت تمام منکرین حق کو اقرار کیے بغیر چارہ نہ رہے گا کہ ان کے خیالات و نظریات واقعی جھوٹ اور باطل پر مبنی تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

40 روز آخرت کا قیام ضروری ہونے کی دو وجوہ :۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے اس دعویٰ کا نقلی جواب یہ دیا کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے جسے وہ پورا کرکے رہے گا۔ اور یہ وعدہ سابقہ انبیاء کی زبان سے لوگوں کو بتایا گیا اور تمام الہامی کتابوں میں موجود ہے اور مشرکین مکہ کو بھی اہل کتاب کا یہ عقیدہ اچھی طرح معلوم تھا۔ اور عقلی جواب یہ دیا کہ بھلا جو ہستی پہلی بار کائنات کا یہ وسیع سلسلہ وجود میں لاچکی ہے اس کے لیے تمہیں دوبارہ پیدا کرنا یا ایسا ہی کائنات کا دوبارہ نظام وجود میں لانا کیا مشکل ہے ؟ لہذا وہ اس بات کی پوری قدرت رکھتا ہے۔ پھر بعث بعد الموت کی دو وجوہ اور بھی ہیں۔ ایک یہ کہ آزادی و اختلاف رائے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

58۔ (اور انبیاء ومومنین ہی سچے تھے) ارشاد ہورہا ہے کہ یہ وقوع معاد تو عین حکمت ہے۔ وہیں تو ان کافروں پر پوری طرح ظاہر ہو کر رہے گا کہ اس دار ابتلاء میں جن جن مسائل کے باب میں وہ اہل حق سے لڑتے جھگڑتے رہتے تھے، ان میں وہ کس قدر ناحق پر تھے، اور وہیں ان پر شہودا وعیانا یہ روشن ہو کر رہے گا، کہ وہ خود سرتا سر باطل پر، اور انبیاء ومومنین حق پر تھے۔ (آیت) ’ لیبین “۔ میں ل کا تعلق فعل مقدر نبعثھم سے ہے۔ لھم کی ضمیر جمع غائب ہر مرنے والے کافر و مومن پر شامل ہے۔ اے من یموت وھو شامل للمومنین والکفار (بحر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 35–40

آیت نمبر 35 تا 40 ترجمہ : اور مکہ کے مشرکوں نے کہا اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرتے اور نہ بحائر اور سوائب میں سے کسی کو اس کی مرضی کے بغیر حرام ٹھہراتے، تو معلوم ہوا کہ ہمارا شرک کرنا اور حرام ٹھہرانا اسی کی مشیت سے ہے اور وہ اس سے راضی ہے، اور اسی طرح ( کی حرکت) ان سے پہلے لوگوں نے کی، یعنی رسول جو حکم لیکر آئے تھے اس میں انہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا، تو کیا رسولوں پر صاف صاف بات پہچانے کے علاوہ اور کوئی ذمہ داری ہے ؟ (یعنی) واضح طور پر پہنچانے کی اور ان پر ہدایت دینے کی ذمہ داری نہیں ہے جس طرح ہم نے ان میں رسول بنا کر بھیجا ہے ہم نے ہر قوم میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لیبین لھم الذی یختلفون فیہ (وہ قیامت قائم کرے گا) تاکہ ان پر وہ امر (حق) واضح کر دے جس کے متعلق وہ (دنیا میں) اختلاف کرتے تھے۔ لَھُمْ کی ضمیر مرنے والوں کی طرف لوٹ رہی ہے خواہ کافر ہوں یا مؤمن۔ ولیعلم الذین کفروا انھم کانوا کذبین اور تاکہ (قیامت کے دن) کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔ کافر کہتے تھے کہ جو مرگیا ‘ اللہ دوبارہ اس کو زندہ کر کے نہیں اٹھائے گا۔ لِیُبَیِّنَ اور لِیَعْلَمَ میں قیامت قائم کرنے کی علت اور حکمت بیان فرمائی ہے۔ حق و باطل اور حق پرست و باطل پرست میں تمیز کردینا اور ہر فریق کو سزا یا جزا دینا تقاضائے حکمت ہے جس کا ظہور قیامت کے دن ہوگا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لِیُبَیِّنَ کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(39) تاکہ دین کے متعلق جس چیز میں اہل مکہ اختلاف کیا کرتے تھے، ان کے روبرو اس چیز کا اظہار کردے اور تاکہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم اور قیامت کے منکرین کو پورا یقین ہوجائے گا کہ دنیا میں ہم ہی جھوٹ کہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِيْنَ : یعنی وہ کافر اپنا جھوٹا ہونا جان لیں جو قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے اور یہ کہ حساب کتاب، جنت و دوزخ سب بےحقیقت چیزیں ہیں۔ مطلب یہ کہ جب دنیا میں سب باتوں کا فیصلہ نہیں ہوتا تو سب اختلافات کو دور کرنے کے لیے دوسرے جہاں، یعنی آخرت کا ہونا ”لابد“ (جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں) ہے، تاکہ حق و باطل میں امتیاز ہوجائے اور منکرین اپنا کیا پائیں۔ ”كَانُوْا كٰذِبِيْنَ“ لفظ ”كَانُوْا“ میں، یعنی زمانۂ ماضی میں دوام اور استمرار پایا جاتا ہے، اس کے بجائے ”اِنَّھُمْ کَذَبُوْا“ یا ”إِنَّھُمْ کَاذِبُوْنَ“ میں یہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 39 قولہ تعالیٰ : لیبین لھم تاکہ وہ ان کے لئے ظاہر کر دے، واضح کر دے۔ الذی یختلفون فیہ دوبارہ زندہ کئے جانے کا معاملہ جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔ ولیعلم الذین کفروا تاکہ خوب جان لیں وہ جنہوں نے دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کیا اور اس پر قسمیں کھائیں۔ انھم کانوا کذبین کہ بلاشبہ وہی چھوٹے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے تحقیق ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا تاکہ وہ ان کے لئے اس بات کی وضاحت کرے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، اور وہ جس میں مشرکوں اور مسلمانوں نے اختلاف کیا ہے وہ کئی امور ہیں : ان میں سے دوبارہ زندہ کرنا ہے، بتوں کی عبادت کرنا ہے، اور ان میں سے ایک قوم کا اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 38–39

1:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی کا قرضہ تھا مشرکین میں سے ایک آدمی پر وہ اس کے پاس آیا اور اس سے (اپنے قرضے کا) تقاضہ کیا اور اس درمیان اس نے یہ بات کہہ دی کہ مجھے امید ہے کہ مرنے کے بعد ایسا ایسا ہوگا مشرک نے اس سے کہا (کیا) البتہ تو گمان کرتا ہے کہ تو موت کے بعد اٹھایا جائے گا اور میں اللہ کی پختہ قسم کھاکر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کو نہیں اٹھائے گا جو مرجائے گا تو اللہ تعالیٰ نے (اس پر یہ آیت) نازل فرمائی (آیت) ” واقسمو باللہ جھدایمانہم لا یبعث اللہ من یموت “۔ 2:۔ ابن مردویہ نے حضرت علی ؓ سے (آیت) ” واقسمو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لِيُـبَيِّنَ : تاکہ وہ واضح کر دے ] [ لَهُمُ الَّذِي : ان کے لئے جو ] [ يَخْتَلِفُوْنَ : اختلاف کرتے ہیں ] [ فِيْهِ : اس (اٹھائے جانے) میں ] [ وَلِيَعْلَمَ : اور تاکہ جان لیں ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [ كَفَرُوْٓا : انکار کیا ] [ انهُمْ : کہ وہ ہی ] [ كَانوْا كٰذِبِيْنَ : جھوٹے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 38–39

منکرین کا قسم کھانا کہ اللہ تعالیٰ موت کے بعد زندہ کرکے نہ اٹھائے گا، ان کی اس بات کی تردید اور اس کا اثبات کہ اللہ تعالیٰ کے ” کن “ فرما دینے سے ہر چیز وجود میں آجاتی ہے گزشتہ آیات میں مشرکین کا ذکر تھا جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو بھی عبادت میں شریک کرتے تھے اور توحید کے منکر تھے، حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) نے ان کو سمجھایا لیکن وہ نہ مانے پھر تکذیب کے نتیجہ میں ہلاک ہوئے، ان آیات میں منکرین بعث کا ذکر ہے۔ مشرکین اور دوسرے کفار بعث اور حشر یعنی قیامت کا انکار کرتے تھے اور انکار بھی سطحی انداز میں نہیں بلکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی زور دار قسم کھا کر یوں کہا کہ جو لوگ مرجاتے ہیں اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–42

چوتھا شبہ قال اللہ تعالیٰ : واقسموا باللہ جھد ایمانھم لایبعث اللہ من یموت .... الیٰ .... وعلی ربھم یتوکلون۔ (ربط) اس آیت میں بھی کافروں کی ایک جہالت کا بیان ہے کہ وہ لوگ قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ جو مرگیا اور ریزہ ریزہ ہو کر خاک میں مل گیا وہ دوبارہ زندہ نہیں ہوسکتا اور جب انسان دوسری زندگی کا قائل نہیں ہوتا تو پھر وہ نیکی اور بدی کی پرواہ نہیں کرتا۔ دنیا کی کامیابی اور بیہودی ہی اس کا مطمح نظر ہوتی ہے جیسا کہ آج کل ہم دیکھ رہے ہیں، اللہ پناہ میں رکھے آمین۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شبہ کا جواب دیا کہ قیامت کا آنا برحق ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا پکا وعدہ ہے حق اور ناحق کے فیصلہ کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 38–39

31:۔ یہ بھی شکوہ ہے یعنی یہ مشرکین ایک طرف شرک کرتے اور غیر اللہ کو متصرف و کارساز جان کر غائبانہ پکارتے ہیں اور ساتھ ہی بڑے شد و مد کے ساتھ حشر و نشر کا بھی انکار کرتے ہیں۔ ” بَلیٰ وَعْدًا عَلَیْهِ الخ “ یہ مشرکین کے قول کا رد ہے فرمایا کیوں نہیں وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا وعدہ فرما چکا ہے جسے وہ لامحالہ پورا کرے گا۔ ” لِیُبَیِّنَ لَھُمْ الخ “ اس میں حشر و نشر اور بعثت اخروی کی حکمت بیان کی گئی ہے کہ حشر و نشر اس لیے ہوگا تاکہ حق و باطل کے اختلاف کا آخری اور قطعی فیصلہ کیا جاسکے کیونکہ جب اہل حق کو جنت میں اور اہل شرک کو دوزخ میں داخل کردیا جائے گا۔ تو اس وقت توحید کے حق ہونے اور شرک…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 37–40

(ربط آیات) مشرکین نے اپنے کفر اور شرک کے جواز میں یہ دلیل قائم کی تھی کہ اگر یہ برے افعال ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے روکتا کیوں نہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے اس بیہودہ خیال کا رد فرمایا کہ اللہ کسی کا ہاتھ پکڑ کر اس کو برائی سے نہیں روکتا نہ اس سے برائی کرنے کی طاقت ہی سلب کرلیتا ہے بلکہ اس نے برائی کی رکاوٹ کے لیے ایک نظام قائم کر رکھا ہے اس نے ہر امت میں اپنے رسول بھیجے جنہوں نے لوگوں کو حکم دیا (آیت) ” ان عبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت “۔ عبادت صرف اللہ کی کرو ، اور طاغوت کی پرستش سے بچ جاؤ ، گویا اللہ تعالیٰ نے قانون کے ذریعے لوگوں کو شرک سے روک دیا اس کے بعد لوگ دو گروہوں میں بٹ گئے ، بعض…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِيُـبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِيْ يَخْتَلِفُوْنَ فِيْهِ وَلِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِيْنَ 39؀ الاختلافُ والمخالفة والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] ( خ ل) الاختلاف والمخالفۃ الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری ہوتا ہے مگر مختلفین کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 38–39

واقسمواباللہ جہد ایمانہم یہ ان کی ضلالت ازلی کی ایک بڑی بھاری بات تھی کہ جس کا ذکر کرنا یہاں مناسب تھا وہ یہ کہ ان کو قیامت کا سخت انکار تھا وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ مر کر کوئی زندہ نہ ہوگا اس خیال کو اس کوتاہ فہمی نے اور بھی قوی کر رکھا تھا کہ جب آدمی مرگیا اور اس کے اجزائِ بدن ریزے ریزے ہو کر خاک میں اس طرح مل گئے کہ جن کا بہم کرنا ان کے خیال میں محال در محال تھا۔ پھر ان کا جمع کرنا اور روح ڈالنا ناممکن تھا اور جب انسان کو یہ خیال پیدا ہوجائے کہ مر کر نیست ہوجاتا ہے تو پھر نیکی اور بدی کی اس کو کچھ بھی پروا نہیں رہتی۔ دنیا ہی کی کامیابی اور ناکامی کو یہ نجات اور عذاب سمجھتے لگتا ہے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لِیُبَیِّنَ لَھُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْہِ وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنَّھُمْ کَانُوْا کٰذِبِیْنَ ۔ (سورۃ النحل : 39) (یہ اس لیے ہے تاکہ وہ واضح کردے ان پر اس چیز کو جس میں یہ اختلاف کررہے ہیں اور تاکہ جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ خوب جان لیں کہ بلاشبہ وہی جھوٹے تھے۔ ) قیامت کی عقلی و اخلاقی ضرورت اس آیت کریمہ میں حیات بعدالموت اور قیام قیامت کی عقلی اور اخلاقی دلیلیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ عقل یہ جاننا چاہتی ہے کہ انسانوں نے ہر دور میں خیر و شر اور حق و باطل کے حوالے سے بیشمار نقطہ ہائے نگاہ اختیار کیے ہیں۔ ہر نقطہ نگاہ کی وکالت میں بیشمار شخصیتوں نے اپنا رول ادا کیا پھر اپنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–40

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ گمراہ لوگوں کو ہدایت اس لیے نصیب نہیں ہوتی کیونکہ یہ اللہ کے حضور پیش ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ ہدایت پانے اور گناہوں سے بچنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ اگر میں ایمان لانے کے بعد اچھے اعمال کروں گا تو میرا رب مجھے آخرت میں اس کی جزادے گا۔ اگر میں نے ایمان لانے سے انکار کیا اور برے اعمال اختیار کیے تو مرنے کے بعد مجھے اس کی سخت سزا دی جائے گی۔ جب آدمی اس عقیدہ کا انکار کرتا ہے تو پھر وہ کفرو شرک اور جرائم کرنے میں دلیر ہوجاتا ہے۔ اسی دلیری کے پیش نظر آخرت کے منکر قسمیں اٹھا اٹھا کے کہتے تھے کہ اللہ کی قسم ! جو مرگیا اللہ تعالیٰ اسے کبھی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

39 : لِیُبَیِّنَ لَھُمُ (تاکہ ان کے سامنے واضح کر دے) یہ بھی اس کے متعلق ہے جس پر بلٰی دلالت کر رہا ہے ای یبعثھم لیبین لھم نحو : اور منؔ کی ضمیر من یموتؔ کی طرف لوٹ رہی ہے جس میں مومن و کافر دونوں شامل ہیں۔ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْہِ (اس کو جس کے متعلق وہ اختلاف کرتے تھے) کہ وہ برحق ہے وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَنَّھُمْ کَانُوْ ا کٰذِبِیْنَ ( اور تاکہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے) اپنے اس قول لا یبعث اللّٰہ من یموت میں کہ بعث بعد الموت نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(39)” لیبین لھم الھذین یختلفون “ تاکہ ان پر وہ امر واضح کردے جس کے متعلق وہ اختلاف کرتے ہیں۔ ” فیہ ولبعلم الذین کفروا انھم کانواکاذبین “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 39–40

39۔ 40۔ اوپر کی آیت میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ کفار اس بات پر قسمیں کھاتے تھے کہ مر کر پھر جینا کوئی چیز نہیں ہے جس کا جواب اللہ پاک نے یہ دیا کہ کیا وجہ ہے جو ایسا نہیں ہوسکتا ضرور ضرور قیامت ہوگی اللہ پاک نے وعدہ کرلیا ہے اور اس کا وعدہ بالکل حق اور سچا ہوتا ہے اس دنیا کے فنا ہوجانے کے بعد پھر اللہ جل شانہ اپنی ساری مخلوق کو زندہ کرے گا یہ مشرک یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا دن اسی واسطے مقرر کیا ہے کہ دنیا میں لوگ جن باتوں میں اختلاف کیا کرتے ہیں کوئی رسول کی تصدیق کرتا ہے اور کوئی جھٹلاتا ہے کوئی بتوں کو پوجتا ہے کوئی خالص اللہ جل شانہ کو یہ سب حال لوگوں پر اس روز کھل جائے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 39–41

آیت 39 اپنے رسولوں کو جھٹلانے والے مشرکین کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (واقسموا باللہ جھد ایمانھم) ” اور یہ اللہ کی بڑی پکی قسمیں کھاتے ہیں۔ “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی تکذیب پر بہت پکی قسمیں کھتاے ہیں اور اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا نہ وہ ان کے مٹی ہوجانے کے بعد ان کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جھٹلاتے ہوئے کہتا ہے : (بلی) ” کیوں نہیں۔ “ اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گا، پھر انہیں ایسے روز اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں (وعداً علیہ حقاً ) ” اس پر وعدہ ہوچکا ہے پکا “ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف کرتا ہے نہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 14–65

زیور کے بارے میں حکم قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

80۔ اختلافات کا آخری فیصلہ قیامت کے دن ہی ہوگا : سواختلافات کا آخری اور عملی فیصلہ قیامت کے یوم فصل ہی میں ہوسکے گا۔ یعنی عملی طور پر اور ان کی آخری شکل میں، ورنہ علمی طور پر تو وہ حق اور حقیقت کو اس دنیا ہی میں آشکارا فرما چکا ہے۔ اور اپنے اس آخری اور ابدی کلام حق کو جو قول فصل بنا کر اتارا ہے تو اس کے بعد تو اس بارے کوئی خفاء وغموض باقی رہ ہی نہیں جاتا۔ حق وباطل سب کچھ پوری طرح واضح ہو کر اور نکھر کر سامنے آگیا ہے۔ لیکن کتنی دنیا ہے کہ حق کو پھر بھی نہیں مانتی اور اس کے بارے میں طرح طرح کی حجت بازیوں سے کام لیکر وہ اس سے گریز و فرار پر اڑی ہوئی ہے۔ سو اس سب کا فیصلہ آخری اور عملی طور پر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 36–40

ہدایت اور آخرت سے انکار تشریح : پیغمبر کا آنا اور کفار و مشرکین کا عذاب سے تباہ و برباد ہونا یہ سب بڑی تفصیل سے بیان ہوچکا ہے۔ اسی طرح حیات بعد موت کا بھی بیان ہوچکا ہے یہاں پھر وضاحت کی جا رہی ہے کیونکہ کفار اس بات پر قسمیں کھا رہے ہیں کہ ہم دوبارہ زندہ نہ ہوں گے جبکہ قرآن میں اس بات کو بار بار دہرایا جا رہا ہے مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اور قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں، اس وقت وہ تمام جو قبروں میں ہیں پھر سے زندہ کیے جائیں گے۔ ( سورة حج آیات 5 تا 7) ان آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یقینا انسانی جسم کے تمام اجزا مناسب طریقہ سے ملا کر انسان کو دوبارہ زندہ کردیا جائے گا۔ علم الابدان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 35–40

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف ذرا مشرکین کی دلیل دیکھئے کہ اگر ہم اللہ جل جلالہ کی منشاء کے خلاف کر رہے ہیں اور وہ نہیں چاہتا کہ اس کے سوا کسی کی پوجا کی جائے تو ہمیں روک کیوں نہیں دیا جاتا ہم تو اگر وہ روک دے تو نہ کسی اور کی پوجا کرسکیں نہ ہم یا ہمارے باپ دادا بھی اس کی مرضی کے خلاف کوئی رسم ایجاد کرسکیں کہ کسی شے کو حلال قرار دے دیں یا کسی کو حرام گویا ان تمام امور میں اس کی رضا شامل ہے فرمایا یہی نہیں ان سے پہلے گذرنے والے اور تباہ ہونے والے کفار بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے مگر یہ اس قدر بودی بات ہے کہ جواب کے لائق ہی نہیں اور انبیاء کا کام تو اللہ جل جلالہ کا حکم پہنچا دینا ہے جس میں کوئی غلط…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 جو قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے اور یہ کہ حساب و کتاب جنت و دوزخ سب بےحقیقت چیزیں ہیں۔ مطلب یہ کہ جب دنیا میں سب باتوں کا فیصلہ نہیں ہوتا تو سب اختلاف کو دور کرنے کے لئے دوسرے جہان یعنی آخرت کا ہونا لا ابدی ہے کہ حق و باطل میں امتیاز ہوجائے اور منکرین اپنا کیا پاویں۔ (کذافی الموضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 39–40

(16:39) لیبین لہم۔ میں لام تعلیل کا ہے اور اس کا تعلق فعل مقدر یبعثہم سے ہے جس پر لفظ بلی دلالت کرتا ہے۔ اور لہم میں ضمیر جمع مذکر غائب من یموت (38) کی طرف راجع ہے اس میں مومن کافر سبھی شامل ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ مردوں کو ضرور بالضرور دوبارہ اٹھائے گا تا کہ ان پر (وہ بات) واضح کردے جس کے متعلق ان میں اختلاف تھا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 38–40

لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 40 اقسموا انہوں نے قسم کھائی۔ جھد ایمان قسموں میں زور دار۔ لایبعث دوبارہ نہیں اٹھائے گا۔ اردنا ہم نے ارادہ کیا۔ تشریح : آیت نمبر 38 تا 40 نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کسی کے جھوٹا ہونے کی سب سے بڑی دل یل یہ ہے کہ وہ بات بات پر قسم کھاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس کو قسمیں کھانے کی عادت پڑجائے وہ بڑی سے بڑی سچائی کو جھٹلانے سے بھی باز نہیں آتا۔ بخاری و مسلم میں ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ ایک صحابی رسول ﷺ کا کسی کافر پر کچھ قرض تھا وہ مسلمان صحابی اس سے قرض واپس کرنے کا مطالبہ کرتے تو وہ ٹال مٹول سے کام لیتا اور آخر کار اس نے قرض واپس کرنے سے انکار کردیا۔ صحابی رسول ﷺ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 39–40

اس آیت میں فرمایا کہ کیا وجہ ہے جو ایسا نہیں ہو سکتا ضرور بضرور قیامت ہوگی۔ اللہ پاک نے وعدہ کرلیا ہے اور اس کا وعدہ بلکل حق اور سچا ہوتا ہے۔ اس دنیا کے فنا ہوجانے کے بعد پھر اللہ تعالیٰ اپنی ساری مخلوق کو زندہ کرے گا۔ کفار کا یہ اعتراض یہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا ممکن نہیں ہے بلکل غلط ہے۔ کیونکہ جس نے پہلے بغیر نمونہ کے ہر شے کی ایجاد کی اس میں کیا قدرت نہیں ہے کہ اس شے کے فنا ہوجانے کے بعد پھر اس کو دوبارہ وجود میں لائے، یلہ بات تو بلکل آسان ہے۔ پھر فرمایا کہ اس کی قدرت اور اس کے اختیار کچھ ایسے ویسے نہیں ہیں اس کا تو ارادہ کرنا ہی کافی ہوتا ہے جب وہ کسی شے کے بنانے کا ارادہ کرتا ہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 37–40

[21] یعنی اللہ کا قانون یہ نہیں ہے کہ جو شخص ہدایت کا طالب نہ ہو اور سرکشی وعناد پر اڑا ہوا ہو اسے جبراً ہدایت یافتہ بنادیا جائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 37–40

(ف 2) اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ پیغمبران خدا انسانوں کی ہدایت کے لئے کس درجہ بےقرار ہوتے ہیں ، ان کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ سب لوگ ہدایت کو قبول کرلیں ، اور اللہ کی آغوش رحمت میں آجائیں ، وہ دن رات شفقت انسانی کی وجہ سے بےچین رہتے ہیں ، انہیں گمراہی اور ضلالت کی وجہ سے روحی تکلیف ہوتی ہے ، اور ان کے دن اور ان کی راتیں کرب و اضطراب میں گزرتی ہیں ، نوع انسانی کی ہمدردی کے لئے وہ اپنے سکھ اور چین کو برباد کرلیتے ہیں ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب فطرتی تقسیم یہ ہے کہ ایک طبقہ طاغوت کا طالب رہے ، حق کو عمدا ترک کر دے ، راہ صواب سے ہٹ جائے تو پھر آپ کی ہمدردی بےسود ہے ، جو شخص گمراہی پر اصرار کرنے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

39 ۔ یہ دوسری زندگی اس لئے ہوگی تا کہ جن باتوں میں یہ لوگ اختلاف کیا کرتے تھے ان باتوں کی حقیقت ان پر واضح کر دے اور ان کے روبرو بیان کر دے اور اس لئے تا کہ منکر اس امر کو جان لیں کہ واقعی وہ جھوٹے تھے۔ پہلی آیت میں وقوع قیامت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی تاکید ہے اور دوسری آیت میں وقوع قیامت کی وجہ سے ہے اور عقل کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ایک دن ایسا ہونا چاہئے جس میں تمام امور مختلفہ کا اظہار ہوجائے اور منکروں کو ان دعاوی کی تکذیب معلوم ہوجائے جو دعویٰ وہ کیا کرتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس جہان میں بہت باتوں کا شبہ رہا اور کسی نے اللہ تعالیٰ کو مانا اور کوئی منکر رہا تو…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جن باتوں میں لوگ شک کرتے ہیں انہی کو کھولنے کے لئے قیامت قائم ہوگی : 46۔ زیر نظر آیت حیات بعد الموت اور قیام حشر کی عقلی اور اخلاقی ضرورت ہے ، دنیا میں جب سے انسان پیدا ہوا ہے ، ۔ حقیقت کے بارے میں بیشمار اختلافات رونما ہوئے نہیں اختلافات کی بنا پر نسلوں اور قوموں اور خاندانوں میں پھوٹ پڑی ہے ، انہی کی بناء پر مختلف نظریات رکھنے والوں نے اپنے الگ مذہب ‘ الگ معاشرے ‘ الگ تمدن بنائے یا اختیار کئے ہیں ایک ایک نظرئیے کی حمایت اور وکالت میں ہزاروں لاکھوں آدمیوں نے مختلف زمانوں میں جان ‘ مال آبرو ‘ ہرچیز کی بازی لگا دی ہے اور بیشمار مواقع پر ان مختلف نظریات کے حامیوں میں ایسا سخت کشاکشی ہوئی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 36–40

Has a Rasul of Allah appeared in India and Pakistan too? From verse 36 in the present Surah: وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّ‌سُولًا (And We did raise a messenger among every people), as well as from verse 24 of Surah Fatir: وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ‌ (And there is no group of people among whom there has not been a warner - 35:24), it outwardly appears that messen-gers may have also been sent to areas now known as India and Pakistan - whether residents of the area, or located in another country whose deputies or emissaries had reached there. Then, there is the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

35. In (Ayat 39)those two things have been stated which rationally and morally require that there must be Resurrection and life after death, that is: (1) To reveal what the reality was, and (2) To reward or punish people in accordance with the right or wrong stand they took about it in this world. It is common knowledge that since the creation of man on the earth there have been many differences regarding the reality which have been sowing dissension between families, nations and races. These have also led to the formation of many different societies, cultures and creeds on different…

Read the full tafseer →