Explained with ayahs 35–37
الٹی سوچ
مشرکوں کی الٹی سوچ دیکھئے گناہ کریں، شرک پر اڑیں، حلال کو حرام کریں، جیسے جانوروں کو اپنے معبودوں کے نام سے منسوب کرنا اور تقدیر کو حجت بنائیں اور کہیں کہ اگر اللہ کو ہمارے اور ہمارے بڑوں کے یہ کام برے لگتے تو ہمیں اسی وقت سزا ملتی۔ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ہمارا دستور نہیں، ہمیں تمہارے یہ کام سخت ناپسند ہیں اور ان کی نا پسندیدگی کا اظہار ہم اپنے سچے پیغمبروں کی زبانی کرچکے۔ سخت تاکیدی طور پر تمہیں ان سے روک چکے، ہر بستی، ہر جماعت، ہر شہر میں اپنے پیغام بھیجے، سب نے اپنا فرض ادا کیا۔ بندگان رب میں اس کے احکام کی تبلیغ صاف کردی۔
سب سے کہہ دیا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
سورة النَّحْل 32
یعنی تم اپنے شرک اور اپنی خود مختارانہ تحلیل و تحریم کے حق میں ہماری مشیت کو کیسے سند جواز بنا سکتے ہو، جبکہ ہم نے ہر امت میں اپنے رسول بھیجے اور ان کے ذریعہ سے لوگوں کو صاف صاف بتادیا کہ تمہارا کام صرف ہماری بندگی کرنا ہے، طاغوت کی بندگی کے لیے تم پیدا نہیں کیے گئے ہو۔ اس طرح جبکہ ہم پہلے ہی معقول ذرائع سے تم کو بتا چکے ہیں کہ تمہاری ان گمراہیوں کو ہماری رضا حاصل نہیں ہے تو اس کے بعد ہماری مشیت کی آڑ لے کر تمہارا اپنی گمراہیوں کو جائز ٹھیرانا صاف طور پر یہ معنی رکھتا ہے کہ تم چاہتے تھے کہ ہم سمجھانے والے رسول بھیجنے کے بجائے ایسے رسول بھیجتے جو ہاتھ پکڑ کر تم کو غلط راستوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
کیا ہندوستان و پاکستان میں بھی اللہ کا کوئی رسول آیا ہے ؟
(آیت) وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا۔ اس آیت سے نیز دوسری (آیت) وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ سے ظاہرا یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان وپاکستان کے علاقوں میں بھی اللہ کے پیغمبر ضرور آئے ہوں گے۔ خواہ وہ یہیں کے باشندے ہوں یا کسی دوسرے ملک میں ہوں اور ان کے نائب اور مبلغ یہاں پہنچنے ہوں اور آیت لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ سے جو یہ مفہوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ جس امت کی طرف بھیجے گئے ہیں ان کی طرف آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں آیا اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد بظاہر وہ قوم عرب…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلٰلَةُ ۭ فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ۔
لفظ طاغوت کی تحقیق بقرہ آیت 256 کے تحت گزر چکی ہے۔
اللہ کے ہر رسول نے اللہ ہی کی بندگی کی دعوت دی : آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کے اس قول کا منشا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اسی کفر و شرک کی تعلیم دی ہے جس پر وہ ہیں تو یہ بات بالکل خلاف واقعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہر رسول نے صرف ہی کی بندگی اور طاغوت سے اجتناب کی تعلیم دی ہے تو…
Read the full tafseer →36۔ 1 مذکورہ شبہ کے ازالے کے لئے مزید فرمایا کہ ہم نے تو ہر امت میں رسول بھیجا اور یہ پیغام ان کے ذریعے سے پہنچایا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ لیکن جن پر گمراہی ثابت ہوچکی تھی، انہوں نے اس کی پرواہ ہی نہ کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
17: طاغوت شیطان کو بھی کہتے ہیں اور بتوں کو بھی، لہذا اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شیطان کے پیچھے نہ چلو اور یہ بھی کہ بت پرستی سے اجتناب کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
اب مشرکین کے شرکیہ نظریات و افعال پر ان کی جانب سے پیش کردہ نئی دلیل ۔
آیت نمبر 35 تا 36
ان لوگوں کی اس نئی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے شرک ، بتوں کی بندگی اور اپنے آباؤ اجداد کی طرف سے شرک اور بتوں کی بندگی اور بعض حلال چیزوں کو حرام کرنے کے فعل کو اللہ کے ارادے اور مشیت کی طرف موڑتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا اور اس کا ارادہ نہ ہوتا تو نہ ہم یہ خلاف شریعت کام کرتے اور نہ ہمارے آباء کرتے۔ اگر اللہ نہ چاہتا تو یہ سب کام کب ہوتے ؟
دراصل ان لوگوں نے مشیت کے مفہوم کو سمجھا ہی نہیں۔ یہ لوگ انسان سے انسان کی دو اہم امتیازی خصوصیت چھین لینا چاہتے ہیں جو اللہ نے انسان کو بخشی ہے۔
اللہ اپنے بندوں…
Read the full tafseer →5 یعنی اپنے اپنے وقت پر۔ پھر آخر میں پیغمبر عربی ﷺ کو رسول الثقلین بنا کر بھیجا۔ (تنبیہ) اس آیت سے لازم نہیں آتا کہ ہر قوم اور بستی میں رسول بلاواسطہ بھیجا گیا ہو۔ ہوسکتا ہے کہ ایک نبی کسی قوم میں اٹھایا جائے اور اس کے نائب جنہیں " ہادی " و " نذیر " کہا جاسکتا ہے دوسری اقوام میں بھیجے جائیں۔ ان کا بھیجنا گویا بالواسطہ اسی پیغمبر کا بھیجنا ہے، واللہ اعلم۔
6 حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں سرکش وہ جو ناحق سرداری کا دعویٰ کرے کچھ سند نہ رکھے۔ ایسے کو " طاغوت " کہتے ہیں بت، شیطان اور زبردست ظالم سب اس میں داخل ہیں۔ "
Read the full tafseer →آیت 36 وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ
طاغوت کا لفظ ’ طغٰی ‘ سے مشتق ہے جس کے معنی سرکشی کے ہیں۔ لہٰذا جو کوئی اللہ کی بندگی اور اطاعت سے سرکشی اور سرتابی کر رہا ہو وہ طاغوت ہے چاہے وہ انسان ہو یا جن کسی ریاست کا کوئی ادارہ ہو آئین ہو یا خود ریاست ہو۔ بہر حال جو بھی اللہ کی اطاعت سے سرتابی کر کے اس کی بندگی سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا وہ گویا اللہ کے مقابلے میں حاکمیت کا دعویدار ہوگا اور اسی لیے طاغوت کے زمرے میں شمار ہوگا۔ طاغوت سے کنارہ کشی کا حکم سورة البقرۃ کی آیت 256 میں اس طرح آیا ہے : فَمَنْ یَّکْفُرْ بالطَّاغُوْتِ…
Read the full tafseer →36 طاغوت کے معنی :۔ طاغوت کا اطلاق ہر اس شخص، ادارے، بادشاہ یا حکومت پر ہوسکتا ہے جو اللہ کا نافرمان ہو اور لوگ اس کی اطاعت پر مجبور ہوں۔ ایسا شخص یا ادارہ یا بادشاہ اللہ کا باغی ہوتا ہے اور اپنے زیر اثر لوگوں کو اپنی بات منوانا چاہتا ہے اور یہی کام شیطان کا ہوتا ہے لہذا اس لفظ کا ترجمہ عموماً شیطان سے کردیا جاتا ہے اور اگر انسان اللہ کے احکام کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے ہی نفس کی اتباع کرنے لگے تو اس کے نفس پر بھی طاغوت کا اطلاق ہوسکتا ہے۔
37 تذکیر بایام اللہ :۔ جب بھی کوئی رسول اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا اور اس نے اللہ کی عبادت اور اپنی فرمانبرداری کی دعوت دی تو اس کی قوم دو حصوں میں بٹ جاتی…
Read the full tafseer →53۔ (سو یہ توحید اور دین حق کی تعلیم کوئی نئی تعلیم نہیں، شروع سے چلی آرہی ہے) (آیت) ” رسولا “۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر ملک وقوم میں، مستقلا کوئی رسول ہی (اصطلاحی معنی میں) آیا ہو۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ ہر قوم تک پیغمبر کی تعلیم پہنچ گئی ہو، خواہ اس کے کسی نائب ہی کے ذریعہ سے۔ ہندوستان میں کوئی پیغمبر ہوئے یہاں نہیں ؟ یہ سوال ایک مدت سے چھڑا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں پیغمبر کی بعثت کا امکان تو بہرحال ہے، لیکن جزم ویقین کے ساتھ کسی صاحب کو پیغمبر قرار دے لینا، جب تک کہ ان کی پیغمبری پر کوئی مستقل دلیل نہ مل جائے، زیادتی ہے۔ (آیت) ” الطاغوت “۔ یہ منجملہ ان الفاظ کے ہے، جن کا ترجمہ اردو میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
آیت نمبر 35 تا 40
ترجمہ : اور مکہ کے مشرکوں نے کہا اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرتے اور نہ بحائر اور سوائب میں سے کسی کو اس کی مرضی کے بغیر حرام ٹھہراتے، تو معلوم ہوا کہ ہمارا شرک کرنا اور حرام ٹھہرانا اسی کی مشیت سے ہے اور وہ اس سے راضی ہے، اور اسی طرح ( کی حرکت) ان سے پہلے لوگوں نے کی، یعنی رسول جو حکم لیکر آئے تھے اس میں انہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا، تو کیا رسولوں پر صاف صاف بات پہچانے کے علاوہ اور کوئی ذمہ داری ہے ؟ (یعنی) واضح طور پر پہنچانے کی اور ان پر ہدایت دینے کی ذمہ داری نہیں ہے جس طرح ہم نے ان میں رسول بنا کر بھیجا ہے ہم نے ہر قوم میں…
Read the full tafseer →ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا ان اعبدوا اللہ واجتتنیبوا الطاغوت اور ہم نے ہر امت میں یہ پیام پہنچانے کیلئے پیغمبر کو بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور شیطان سے بچتے رہو۔ یعنی شیطان کی پیروی نہ کرو۔ وہ طاغوت ہے ‘ اللہ کی عبادت سے بہت بڑا طاغی (سرکش) ۔
فمنھم من ھدی اللہ پس ان میں سے بعض کو تو اللہ نے ہدایت یاب کردیا۔ جس کو ہدایت یاب کرنا چاہا ‘ اس کو پیغمبروں کی رہنمائی سے ایمان کی توفیق دے دی۔
ومنھم من حقت علیہ الضللۃ اور ان میں سے بعض لوگوں کیلئے (بقضائے ازلی حسب مشیّت الٰہی) گمراہی محقق ہوگئی (مضبوط ہوگئی) اللہ نے ان کو ایمان کی توفیق نہیں دی اور ان کو ہدایت یاب کرنا نہ چاہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کفر…
Read the full tafseer →(36) جیسا کہ ہم نے آپ کو آپ کی قوم کی طرف بھیجا ہے، اسی طرح ہم نے ہر ایک قوم کی طرف کسی نہ کسی رسول کو بھیجا ہے، اس بات کے لیے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے قائل ہو اور بتوں یا شیطان یا کاہن کی پوجا کو چھوڑو۔
سو جن کی طرف ہم نے رسولوں کو بھیجا تھا ان میں سے بعض ایسے بھی ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دین کی ہدایت کردی اور انہوں نے رسولوں کی دعوت پر لبیک کہی اور کچھ پر گمراہی کا ثبوت ہوگیا، انہوں نے رسولوں کی دعوت ایمانی کو قبول نہیں کیا تو زمین میں سفر کرکے دیکھو کہ پیغمبروں کی تکذیب کرنے والوں کا کیسا برا انجام ہوا۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا۔۔ : ”الطَّاغُوْتَ“ یہ ”طَغٰی یَطْغٰی طَغْوًا“ (ف) سے ہے، آخر میں واؤ اور تاء مبالغہ کے لیے آتی ہیں، جیسا کہ ”ملکوت“ بہت بڑا ملک۔ ”طاغوت“ کا لفظ ”طُغْیَانٌ“ سے مشتق ہے جس کے معنی اپنی حد سے بڑھنے کے ہیں۔ یہ شیطان، معبود باطل اور ہر اس شخص پر بولا جاتا ہے جو گمراہی کی طرف دعوت دینے والا ہو۔ (شوکانی) شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”جو ناحق سرداری کا دعویٰ کرے، کچھ سند نہ رکھے ایسے کو طاغوت کہتے ہیں۔ بت، شیطان اور زبردست ظالم سب ہی طاغوت ہیں۔“ (موضح)
اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ۔۔ : چونکہ مشرکین نے دعویٰ کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے شرک پر راضی ہے، ورنہ وہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 36
قولہ تعالیٰ : ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا ان اعبدوا اللہ (تحقیق ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا (یہ تعلیم دینے کے لئے) کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو) اور اسے واحد و یکتا مانو۔ واجتنبوا الطاغوت یعنی تم اللہ تعالیٰ کے سوا ہر معبود کو چھوڑ دو جیسا کہ شیطان، کاہن، بت اور ہر وہ جو گمراہی کی طرف دعوت دے۔ فمنھم من ھدی اللہ یعنی ان میں سے کچھ وہ لوگ تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے دین اور اپنے عبادت کی طرف ہدایت دی، راہنمائی فرمائی۔ ومنھم من حقت علیہ الضللۃ اور ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جن کے بارے پہلے (گمراہی کا) فیصلہ ہوچکا تھا یہاں تک کہ وہ اپنے کفر پر ہی مرے۔ اور اس سے قدریہ کا رد ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
1:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھل ینظرون الا ان تاتیہم الملٓئکۃ “ سے مراد ہے فرشتے ان کے پاس موت کے ساتھ آئیں اور دوسری آیت میں فرمایا (آیت) ” ولو تری اذ یتوفی الذین کفروا الملئکۃ “ الانفال آیت 5) ان فرشتوں سے مراد ملک الموت اور دوسرے معاون فرشتے ہیں (آیت) ” اویاتی امر ربک “ اور وہ قیامت کا دن (مراد ہے)
2:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھل ینظرون الا ان تاتیہم الملٓئکۃ “ یعنی موت کے وقت (ان کے پاس فرشتے آجائیں) یہاں تک کہ ان کی روح قبض کرلیں۔ (آیت) ” اویاتی امر ربک “ اور یہ ہوگا قیامت کے دن۔
Read the full tafseer →[وَلَقَدْ بَعَثْنَا : اور یقینا ہم نے بھیجا ہے ] [ فِيْ كُلِ اُمَّةٍ؛ہر ایک امت میں ] [ رَّسُوْلًا : ایک رسول ] [ ان : کہ ] [ اعْبُدُوا : تم لوگ بندگی کرو ] [ اللّٰهَ : اللہ کی ] [ وَاجْتَنِبُوا : اور تم لوگ بچو ] [ الطَّاغُوْتَ ۚ : سرکشی کے ذریعوں سے ] [فَمِنْهُمْ مَنْ : تو ان میں وہ بھی ہیں جن کو ] [ هَدَى: ہدایت دی ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ وَمِنْهُمْ مَنْ : اور ان میں وہ بھی ہیں ] [ حَقَّتْ : ثابت ہوئی ] [ عَلَيْهِ : جس پر ] [ الضَّلٰلَةُ ۭ : گمراہی ] [فَسِيْرُوْا : پس تم لوگ چلو پھرو ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ فَانظُرُوْا : پھر دیکھو ] [ كَيْفَ : کیا ] [كَان : تھا ] [عَاقِبَةُ…
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ) (اور ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا اور رسولوں کا یہ پیغام تھا کہ اللہ کی عبادت کرو اور شیطان کے اتباع سے دور رہو) مخاطبین میں دونوں طرح کے لوگ ہوئے بعض کو تو اللہ نے ہدایت دی جنہوں نے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی بات مانی اور ان پر ایمان لائے اس کو فرمایا (فَمِنْھُمْ مَّنْ ھَدَی اللّٰہُ ) اور ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو کفر پر اڑے رہے حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت پر کان نہ دھرا اور ان پر ایمان نہ لائے اسی کو فرمایا (وَمِنْھُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْہِ الضَّلٰلَۃُ ) جن لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
تیسرا شبہ
قال اللہ تعالیٰ : وقال الذین اشرکوا لوشاء اللہ ما عبدنا من دونہ من شیء ... الیٰ .... وما لہم من نصرین
(ربط) اس آیت میں مشرکین کے تیسرے شبہ کا ذکر ہے جس کو وہ اپنے اعمال شرکیہ و کفریہ کا جواز اور استحسان ثابت کرنے کے لیے پیش کرتے تھے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کو ہمارا کفر اور شرک اور ہمارے شرکیہ مثلا بحیرہ و سائبہ وغیرہ ناپسند ہوتے تو ہم کو کرنے ہی کیوں دیتا۔ اگر خدا تعالیٰ کو ہماری یہ باتیں ناپسند ہوتیں تو وہ ہمیں ایسی باتیں کرنے سے روک دیتا اور اگر ہم نہ رکتے تو ہم کو فوراً سزا دیتا معلوم ہوا کہ خدا ہمارے اس کفر و شرک سے راضی اور خوش ہے اور باالفاظ دیگر ہم مجبور اور معذور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
28:۔ یہ توحید پر دلیل نقلی اجمالی ہے نیز جواب شکوی ہے۔ ہم اس سے پہلے ہر امت میں رسول بھیج چکے ہیں اور ہر رسول کو ہم نے یہی وحی بھیجی تھی کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور غیر اللہ کی عبادت اور پکار سے اجتناب کرو۔ جب ہم نے ہر پیغمبر کے پاس اسی مضمون کی وحی بھیجی کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو تو تمہارا یہ کہنا غلط ٹھہرا کہ اگر اللہ کی مرضی ہوتی تو ہم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرتے۔ کیونکہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کی مرضی یہی تھی کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے اور نہ اس کے سوا کسی اور کے لیے تحریمات کی جائیں۔
29:۔ ” طَاغُوْت “ ہر وہ معبود ہے جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے۔ الطاغوت وھو اسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
(ربط آیات)
ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے وحی الہی کا ذکر کیا ، پھر اپنی وحدانیت کا تذکرہ کیا (آیت) ” الھکم الہ واحد “۔ اور اس کے دلائل بیان فرمائے ، اس کے بعد ان لوگوں کی دو بڑی بیماریوں کا ذکر کیا جو اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہیں لاتے ایک تو وہ آخرت کے منکر ہیں اور دوسرے تکبر کرتے ہیں ، پھر اللہ نے مشرکوں اور متقیوں کے انجام سے آگاہ فرمایا شرک کی تردید اس سورة کا خاص موضوع ہے جو گذشتہ آیات میں بھی بیان ہوا ہے ، اس درس میں بھی آرہا ہے اور آگے مثالوں کے ذریعے بھی اس مسئلہ کی وضاحت کی جائے گی ، بہرحال آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے شرک کے حق میں مشرکین کی ایک نہایت ہی بھونڈی دلیل کا رد فرمایا…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلٰلَةُ ۭ فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ 36
بعث
أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال :
بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته، وقوله عزّ وجل : وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] ، أي : يخرجهم ويسيرهم إلى القیامة،
( ب ع ث ) البعث
اصل میں بعث کے معنی کسی چیز کو ابھارنے اور کسی طرف بیجھنا کے ہیں اور انبعث در…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
ترکیب : نحن تاکید لضمیر عبدنا ‘ دونہ من شیء من الاولی والثانیۃ زائد تان الطاغوت من الطغیان یذکرو یونث ویقع علی الواحد والجمع والمراد بہ کل معبودودون اللہ کا لشیطان والصنم و کل من دعی الی الضلال۔
تفسیر : نبی (علیہ السلام) جب کفار کو ان کی بری باتوں سے منع کرتے اور عذاب الٰہی سے ڈراتے تھے تو وہ یہ بھی جواب دیا کرتے تھے کہ ہمارا یہ شرک کرنا ‘ بت پوجنا اور اسی طرح بتوں کے نام کی چیزوں کو تعظیماً حرام سمجھنا جیسا کہ بحیرہ اور سائبہ ہے کچھ آج سے نہیں بلکہ باپ دادا کے زمانہ دراز سے چلا آتا ہے اگر یہ امر خدا کو منظور نہ ہوتا تو نہ انہیں کرنے دیتا نہ ہمیں خود کرنے دیتا کیونکہ بندہ اس کے بس میں ہے اب…
Read the full tafseer →وَلَقَدْبَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلاً اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ج فَمِنْھُمْ مَّنْ ھَدَی اللّٰہُ وَمِنْھُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْہِ الضَّلٰـلَۃُ ط فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (سورۃ النحل : 36)
(اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول اس دعوت کے ساتھ بھیجا کہ اللہ تعالیٰ ہی کی بندگی کرو اور طاغوت سے دور رہو، سو ان میں سے کچھ وہ لوگ تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جن پر گمراہی مسلط ہو کے رہی، تم ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔ )
ہر رسول کی دعوت اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ انبیاء کا کام اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا اور لوگوں پر حجت قائم کرنا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہر امت میں نبی مبعوث فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم اس وقت تک کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کرتے جب تک اس میں رسول مبعوث نہ کیا جائے۔ (بنی اسرائیل : 15)
دوسرے مقام پر یوں ارشاد فرمایا کہ رسول لوگوں کو خوشخبری دینے والے اور برے اعمال کے انجام سے ڈرانے والے تھے۔ تاکہ ان رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت یعنی بہانہ باقی نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ بڑا زبردست اور حکمت والا ہے۔ (النساء : 165)
اسی اصول کے پیش نظر یہاں ارشاد فرمایا کہ ہم نے ہر…
Read the full tafseer →ہر امت کے طاغوت کی عبادت سے روکا گیا :
36: وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ (اور تحقیق ہم نے ہر امت میں رسول کو بھیجا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو) کہ اس کو وحدہٗ لا شریک مانووَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ (اور شیطان سے بچتے رہو) شیطان کی اطاعت سے پرہیز کرو۔ فَمِنْھُمْ مَّنْ ھَدَی اللّٰہُ (ان میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی) اس لئے کہ انہوں نے ہدایت کو اختیار کیا۔ وَمِنْھُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْہِ الضَّلاَ لَۃُ (اور ان میں سے بعض کیلئے گمراہی ثابت ہوگئی) گمراہی ان کے لئے لازم ہوگئی کیونکہ انہوں نے گمراہی کو اختیار کیا فَسِیْرُ وْا فِی الْاَرْضِ…
Read the full tafseer →(36)” ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولاً “ جیسا کہ تم میں ہم نے رسول بنا کر بھیجا۔ ” ان عبدوا اللہ واجتبوا الطاغوت “ وہ معبود ہے اللہ کے سوا۔ ” فمنھم من ھدی اللہ “ اللہ نے ان کو اپنے دین کی طرف رہنمائی کی۔ ” ومنھم من حقت علیہ الضلالۃ “ ان کے لیے گمراہی پختہ ہوگئی۔ یہاں تک کہ وہ کفر پر ہی مرے۔ ” فسیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین “ ان کے کاموں کا انجام کہ ان کے مکانات کو عذاب سے منہدم کردیا اور تمہیں ہلاک کردیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
35۔ 37۔ یہ کلام مشرکین مکہ کا مسخراپن کے طور پر تھا آنحضرت ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ جو بیان کرتے ہیں کہ ہر ایک بات خدا کی جانب سے ہوا کرتی ہے تو پھر آپ کی رسالت کی کیا ضرورت ہے۔ آپ آتے یا نہ آتے اگر خدا کو منظور ہوتا تو ہم اس کے سوا کسی بت وغیرہ کی عبادت نہ کرتے اور جس چیز کو اللہ نے ہم پر حلال کیا ہے اپنے اوپر اس کو ہم حرام نہ ٹھہراتے حاصل اس کا یہ ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں بالکل ٹھیک کر رہے ہیں ہم گمراہ نہیں ہیں بتوں کی پرستش جو ہم کر رہے ہیں یہ سب خدا کی مشیت سے ہے اگر وہ نہ چاہتا تو ہرگز ہرگز یہ کام ہم نہیں کرسکتے۔ پھر اللہ پاک نے کفار مکہ کا یہ کلام نقل کر کے آنحضرت ﷺ کو تسلی دی کہ آپ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
آیت 35
مشرکین اپنے شرک پر مشیت الٰہی کو دلیل بناتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو وہ کبھی شرک نہ کرتے اور نہ وہ ان مویشیوں کو حرام ٹھہراتے جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے، مثلاً بحیرہ، وصیلہ اور حام وغیرہ۔۔۔ مگر ان کی یہ دلیل باطل ہے اگر ان کی یہ دلیل صحیح ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان سے پہلے لوگوں کو ان کے شرک کی پاداش میں کبھی عذاب نہ دیتا اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے ان کو سخت عذاب کا مزا چکھایا۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کے شرک کو پسند کرتا تو ان کو کبھی عذاب نہ دیتا۔ درصال حق کو، جسے رسول لے کر آئے، رد کرنے کے سوا ان کا کوئی اور مقصد نہیں ہے ورنہ وہ خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے خلاف ان کے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →73۔ طاغوت سے اجتناب کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ بندگی کرو ایک اللہ کی اور بچتے رہوطاغوت سے۔ کہ طاغوت سے تعلق اور اس کی بندگی سراسر ہلاکت و تباہی ہے۔ تو پھر مشرکین کا یہ کہنا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے کہ اللہ ہمارے شرک سے راضی ہے ؟ اور " طاغوت "، " طغیان " سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ جس کے عموم میں ہر معبود من دون اللہ داخل ہے۔ خواہ وہ کوئی بھی ہو کہیں کا بھی ہو۔ (معالم، خازن، ابو السعود وغیرہ) لیکن جہاں بھی کسی نے شرک کیا اور غیر اللہ کی پوجا کے جرم کا ارتکاب کیا وہاں اس کے پیچھے شیطان ہی رہا۔ اور شیطان ہی کے اغواواضلال سے ایسے لوگوں کے کفر و شرک وغیرہ جیسے سنگین اور ہولناک جرائم کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
ہدایت اور آخرت سے انکار
تشریح : پیغمبر کا آنا اور کفار و مشرکین کا عذاب سے تباہ و برباد ہونا یہ سب بڑی تفصیل سے بیان ہوچکا ہے۔ اسی طرح حیات بعد موت کا بھی بیان ہوچکا ہے یہاں پھر وضاحت کی جا رہی ہے کیونکہ کفار اس بات پر قسمیں کھا رہے ہیں کہ ہم دوبارہ زندہ نہ ہوں گے جبکہ قرآن میں اس بات کو بار بار دہرایا جا رہا ہے مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
اور قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں، اس وقت وہ تمام جو قبروں میں ہیں پھر سے زندہ کیے جائیں گے۔ ( سورة حج آیات 5 تا 7) ان آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یقینا انسانی جسم کے تمام اجزا مناسب طریقہ سے ملا کر انسان کو دوبارہ زندہ کردیا جائے گا۔
علم الابدان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
ذرا مشرکین کی دلیل دیکھئے کہ اگر ہم اللہ جل جلالہ کی منشاء کے خلاف کر رہے ہیں اور وہ نہیں چاہتا کہ اس کے سوا کسی کی پوجا کی جائے تو ہمیں روک کیوں نہیں دیا جاتا ہم تو اگر وہ روک دے تو نہ کسی اور کی پوجا کرسکیں نہ ہم یا ہمارے باپ دادا بھی اس کی مرضی کے خلاف کوئی رسم ایجاد کرسکیں کہ کسی شے کو حلال قرار دے دیں یا کسی کو حرام گویا ان تمام امور میں اس کی رضا شامل ہے فرمایا یہی نہیں ان سے پہلے گذرنے والے اور تباہ ہونے والے کفار بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے مگر یہ اس قدر بودی بات ہے کہ جواب کے لائق ہی نہیں اور انبیاء کا کام تو اللہ جل جلالہ کا حکم پہنچا دینا ہے جس میں کوئی غلط…
Read the full tafseer →ف 6 لہٰذا اگر کا فریج بحثی یا ہٹ دھرمی کرتے ہیں اور ایمان نہ لائیں تو پیغمبروں سے اس پر باز پرس نہ ہوگی ہدایت و گمراہی کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : یہ نادانوں کی باتیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو فلاں کام برا لگتا تو کیوں کرنے دیتا۔ آخر ہر فرقے کے نزدیک بعض کام برے ہیں پھر وہ کیوں ہوتے ہیں۔ یہاں جواب مجمل فرمایا کہ رسول تو برے کاموں سے منع کرتے آئے ہیں مگر جس کی قسمت تھی اس نے ہدایت پائی جس کو خراب ہونا تھا خراب ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا یوں ہی ہوا ہے۔ (از موضح)
7 طاغوت کا لفظ طغیان سے مشتق ہے جس کے معنی اپنی حد سے بڑھنے کے ہیں۔ یہ شیطان معبود باطل اور ہر اس…
Read the full tafseer →(16:36) ان اعبدوا اللہ ۔ ای کان یقول لہم اعبدوا اللہ۔
اجتنبوا۔ امر جمع مذکر حاضر۔ تم بچو۔ تم پرہیز کرو۔ تم اجتناب کرو۔ (باب افتعال) ۔
الطاغوت۔ شیطان۔ ہر وہ معبود جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا پرستش کی جائے۔ لہٰذا ساحر۔ کاہن۔ سرکش کو طاغوت کہیں گے۔ معبود باطل وداعی الی الضلالۃ۔
حقت علیہ۔ ثبتت۔ وجبت علیہ۔ (اور بعض کے لئے ضلالت) واجب ہوگئی (بوجہ ان کی سرکشی اور پیغام انبیاء سے بےاعتنائی برتنے کے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 37
ماعبدنا ہم نے عبادت و بندگی نہیں کیا۔ لاحرمنا ہم حرام نہ کرتے۔ البلاغ پہنچا دینا ہے۔ بعثنا ہم نے بھیجا۔ اجتنبوا بچتے رہو۔ الطاغوت شیطان، سرکش۔ حقت ثابت ہوگیا۔ سیروا چلو پھرو۔ عاقبۃ انجام۔ ان تحرص اگر آپ کی شدید خواہش ہے۔
تشریح : آیت نمبر 35 تا 37
بے جا ضد، ہٹ دھرمی اور نافرمانی ایک ایسی بری عادت ہے جو انسان کو ہر خیر اور بھلائی سے اس طرح محروم کردیتی ہے کہ اس کو سامنے کی حقیقت بھی نظر نہیں آتی مثلاً جب کفار و مشرکین سے یہ کہا جاتا تھا کہ وہ اپنے کفر، شرک اور ہر طرح کے گناہوں سے توبہ کرلیں تو وہ یہ کہتے تھے کہ جب تم یہ کہتے ہو کہ اس کائنات میں ساری قدرت و طاقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
آنحضرت ﷺ سے ارشاد ہے کہ آپ پر فرض یہی ہے کہ اللہ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیں کہ سوائے خدا کے اور کسی کی بندگی نہ کرو۔ باقی رہی ہدایت وہ خدا کے ہاتھ میں ہے جسے اس کی مشیت مقتضی ہوتی ہے اس کو وہ راہ راست پر لاتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کفار کو یہ بات جتلائی کہ اللہ نے ہر امت اور ہر گروہ میں اپنے رسول بھیجے تاکہ ان کی ہدایت کریں اور یہ بات کہہ دیں کہ تم خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں کی پرستش سے باز آؤ۔ اس پر بہیترے بندے خدا کے ایسے تھے جو ایمان لائے اور اکثر لوگ گمراہی میں پڑے رہے رسول کی ایک نہ سنی۔ پھر کفار مکہ کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
[19] مشرکین کہتے تھے کہ اللہ کو اگر ہمارے طریقے ناپسند ہیں تو ہمیں ان چیزوں پر قدرت ہی کیوں دی، کیوں نہ ہمیں روک دیا ؟ یہ احمق اللہ کی مشیت اور اس کی رضا کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں کرتے تھے۔ خود ان کے عقائد کی رو سے بھی تو اللہ کو کچھ چیزیں پسند ہیں اور کچھ ناپسند، تو وہ اپنی ناپسندیدہ چیزوں کو واقع ہی کیوں ہونے دیتا ہے۔
[20] یعنی اللہ کے رسول اس لئے نہیں آتے کہ لوگوں سے برائی کرنے کی طاقت سلب کرلیں اور انھیں ایسا بنادیں کہ وہ برائی کر ہی نہ سکیں جب کہ اللہ کی مشیت یہی ہوئی کہ انسان کو کسی ایسی حالت پر مجبور نہ کیا جائے بلکہ ہر طرح کی حالت اختیار کرنے کی قدرت دی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
کیا ہم مجبور ہیں ؟ :
(ف 1) مشرکین کو ایک شبہ یہ تھا کہ نبوت کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ جب کہ ہم سب معصیت پر مجبور ہیں ، اگر اللہ تعالیٰ چاہتے کہ ہم شرک کی آلودگیوں میں مبتلا نہ ہوں ، اور اپنی مرضی سے چیزوں کو حلال و حرام نہ ٹھہرائیں ، تو بھلا یہ کب ہو سکتا تھا کہ ہم شرک کا ارتکاب کرتے ، اللہ نہ چاہے اور ہم کریں ، یہ کیونکر ممکن ہے ، گویا مسئلہ جبر کو ان لوگوں نے بربنائے جہالت انکار کا سبب بنایا ۔ اس شبہ کو اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات میں ذکر فرمایا ہے سورة انعام میں ہے (آیت) ” لوشآء اللہ ما اشرکنا ولا ابآء نا “۔ یعنی اگر ہم مشرک ہیں تو معاذ اللہ یہ اللہ کا قصور ہے ، وہ ہمیں موحد پیدا کرتا ، اس نے…
Read the full tafseer →36 ۔ اور بلا شبہ ہم ہر قوم اور ہر امت میں اس مقصد کے لئے رسول بھیجتے رہے ہیں کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور گمراہی کی طرف بلانے والے شیطان کی راہ سے بچتے رہے۔ پس ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت بخشی اور ان کی رہنمائی فرمائی اور ان میں سے کچھ وہ لوگ تھے جن پر گمراہی متحقق اور ثابت ہوچکی ہے پھر اب تم زمین میں چلو پھر و اور چل پھر کر دیکھو کہ پیغمبروں کی تکذیب کرنیوالوں کا انجام کیسا ہوا۔
طاغوت کا ترجمہ حضرت شاہ صاحب (رح) نے ہر ڈنگا کیا ہے چناچہ فرماتے ہیں ہڑ دنگا وہ جو ناحق سرداری کا دعویٰ کرے جو کچھ سند نہ رکھے ایسے کو طاغوت کہتے ہیں شیطان اور بت اور ظالم سردار سب یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ف 2۔ لقد بعثنا فی کل امة رسولا سے ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان والوں کے لئے بھی زمانہ قدیم میں کچھ رسول مبعوث ہوئے ہیں، خواہ ہند ہی میں پیدا ہوئے اور رہے ہوں یا کسی اور ملک میں رہتے ہوں اور یہاں ان کے نائب تبلیغ کے لئے آئے ہوں۔
3۔ مطلب یہ کہ کفار اور انبیاء میں یہ معاملہ اسی طرح چلا آرہا ہے اور ہدایت واضلال کے متعلق اللہ تعالیٰ کا معاملہ بھی یوں ہی جاری ہے کہ مجادلہ کفار کا بھی قدیم، تعلیم انبیاء (علیہم السلام) کی بھی قدیم اور سب کا ہدایت نہ پانا بھی قدی، پھر آپ کو غم کیوں ہو۔
4۔ پس اگر وہ گمراہ نہ تھے تو ان پر عذاب کیوں نازل ہوا، اور واقعات اتفاقیہ ان کو اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ خلاف…
Read the full tafseer →ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو ، لیکن ہدایت پانے والے کم ہی تھے :
43۔ اور بلاشبہ ہم نے ہر ایک امت میں ایک پیغمبر بھیجا ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اور شیطان کی راہ سے بچو اور یہ توحید اور دین حق کی تعلیم کوئی نئی تعلیم نہی شروع سے چلی آرہی ہے کیا ہندوستان میں بھی کوئی رسول آیا ؟ یہ سوال بھی گشت کرتا رہتا ہے اگر ہندوستا میں کوئی قوم بستی تو یقینا رسول آیا ہوگا ؟ کیا ہندوسان میں کسی رسول کا آنا اچنبھا لگتا ہے ؟ بات یہ ہے کہ جن انبیاء کرام کا قرآن کریم میں ذکر آیا ہے ان کو نام کے ساتھ نبی ماننا لازم وضروری ہے لیکن جن انبیاء کا نام نہیں لیا گیا اپنی طرف سے یا تاریخی شہادت سے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
Has a Rasul of Allah appeared in India and Pakistan too?
From verse 36 in the present Surah: وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا (And We did raise a messenger among every people), as well as from verse 24 of Surah Fatir: وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (And there is no group of people among whom there has not been a warner - 35:24), it outwardly appears that messen-gers may have also been sent to areas now known as India and Pakistan - whether residents of the area, or located in another country whose deputies or emissaries had reached there. Then, there is the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
32. That is, you are not justified in excusing yourselves for these sins, saying that it is the will of God for We sent Messengers to every ummat, who told the people in plain words that they should worship Us and none else, and should not follow and obey taghut. Besides this, We have already warned you that We do not approve of your deviations. Why should you then put forward this excuse for your deviations? Do you mean to say that We ought to have sent such Messengers as would have forced you to follow the right way instead of bringing you to it by preaching? Please refer to (E.N. 80 of…
Read the full tafseer →