Explained with ayahs 35–37
الٹی سوچ
مشرکوں کی الٹی سوچ دیکھئے گناہ کریں، شرک پر اڑیں، حلال کو حرام کریں، جیسے جانوروں کو اپنے معبودوں کے نام سے منسوب کرنا اور تقدیر کو حجت بنائیں اور کہیں کہ اگر اللہ کو ہمارے اور ہمارے بڑوں کے یہ کام برے لگتے تو ہمیں اسی وقت سزا ملتی۔ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ہمارا دستور نہیں، ہمیں تمہارے یہ کام سخت ناپسند ہیں اور ان کی نا پسندیدگی کا اظہار ہم اپنے سچے پیغمبروں کی زبانی کرچکے۔ سخت تاکیدی طور پر تمہیں ان سے روک چکے، ہر بستی، ہر جماعت، ہر شہر میں اپنے پیغام بھیجے، سب نے اپنا فرض ادا کیا۔ بندگان رب میں اس کے احکام کی تبلیغ صاف کردی۔
سب سے کہہ دیا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 30
مشرکین کی اس حجت کو سورة انعام آیات نمبر 148 – 149 میں بھی نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا ہے۔ وہ مقام اور اس کے حواشی اگر نگاہ میں رہیں تو سمجھنے میں زیادہ سہولت ہوگی۔ (ملاحظہ وہ سورة انعام، حواشی نمبر 124 تا نمبر 126)۔
سورة النَّحْل 31
یعنی یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ آج تم لوگ اللہ کی مشیت کو اپنی گمراہی اور بد اعمالی کے لیے حجت بنا رہے ہو۔ یہ تو بڑی پرانی دلیل ہے جسے ہمیشہ سے بگڑے ہوئے لوگ اپنے ضمیر کو دھوکا دینے اور ناصحوں کا منہ بند کرنے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ یہ مشرکین کی حجت کا پہلا جواب ہے۔ اس جواب کا پورا لطف اٹھانے کے لیے یہ بات ذہن میں رہنی ضروری ہے کہ ابھی چند…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور مشرک لوگ یوں کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کو (بطور رضا کے یہ امر) منظور ہوتا (کہ ہم غیر اللہ کی عبادت نہ کریں جو ہمارے طریقہ کے اصول میں سے ہے اور بعض اشیاء کی تحریم نہ کریں جو ہمارے طریقہ کے فروغ میں سے ہے مطلب یہ کہ اگر اللہ ہمارے موجودہ اصول و فروع کو ناپسند کرتے) تو خدا کے سوا کسی چیز کی نہ ہم عبادت کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم اس کے بدون (حکم کے) کسی چیز کو حرام کہہ سکتے (اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارا طریقہ پسند ہے ورنہ ہم کو کیوں کرنے دیتے اے محمد ﷺ آپ ان سے مغموم نہ ہوں کیونکہ یہ بیہودہ مجادلہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ) جو (کافر) ان سے پہلے ہوئے ہیں ایسی…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَيْءٍ نَّحْنُ وَلَآ اٰبَاۗؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَيْءٍ ۭ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ فَهَلْ عَلَي الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ
مشرکین کی بعض کج بحثیوں کا جواب : یہ بھی ان لوگوں کی کج بحثی کی ایک مثال ہے۔ یعنی یہ مشرکین تمہیں زچ کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ ہم جن معبودوں کو پوجتے اور ان کے نام پر جن چیزوں کو حرام ٹھہراتے ہیں یہ سب خدا ہی کی مرضی سے کرتے ہیں، ورنہ خدا کے اختیار میں تو سب کچھ ہے، اگر ہمارے یہ کام اس کی مرضی کے خلاف ہوتے تو وہ ہمیں اپنی قدرت سے ان کاموں…
Read the full tafseer →35۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے ایک وہم اور مغالطے کا ازالہ فرمایا ہے وہ کہتے تھے کہ ہم اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں یا اس کے حکم کے بغیر ہی کچھ چیزوں کو حرام کرلیتے ہیں، اگر ہماری یہ باتیں غلط ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے ہمیں ان چیزوں سے روک کیوں نہیں دیتا، وہ اگر چاہے تو ہم ان کاموں کو کر ہی نہیں سکتے۔ اگر وہ نہیں روکتا تو اس کا مطلب ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں، اس کی مشیت کے مطابق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شبہ کا ازالہ ' رسولوں کا کام صرف پہنچا دینا ہے ' کہہ کر فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارا یہ گمان صحیح نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس سے روکا نہیں ہے۔…
Read the full tafseer →16: ان کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے سراسر ہٹ دھرمی پر مبنی تھا، کیونکہ اس طرح ہر مجرم یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو میں یہ جرم نہ کرتا، ایسی باتیں قابل جواب نہیں ہوتیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دینے کے بجائے صرف یہ فرمادیا کے رسولوں کی ذمہ داری پیغام پہنچانے کی حد تک محدود ہے، ان کی ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ ایسے ضدی لوگ راہ راست پر آہی جائیں، اور انہوں نے جو یہ کہا ہے کہ ہم کوئی چیز حرام قرار نہ دیتے، اس سے ان جانوروں کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے بتوں کے نام پر حرام کر رکھے تھے، اس کی تفصیل سورة ٔانعام (6۔ 139 تا 145) میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
اب مشرکین کے شرکیہ نظریات و افعال پر ان کی جانب سے پیش کردہ نئی دلیل ۔
آیت نمبر 35 تا 36
ان لوگوں کی اس نئی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے شرک ، بتوں کی بندگی اور اپنے آباؤ اجداد کی طرف سے شرک اور بتوں کی بندگی اور بعض حلال چیزوں کو حرام کرنے کے فعل کو اللہ کے ارادے اور مشیت کی طرف موڑتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا اور اس کا ارادہ نہ ہوتا تو نہ ہم یہ خلاف شریعت کام کرتے اور نہ ہمارے آباء کرتے۔ اگر اللہ نہ چاہتا تو یہ سب کام کب ہوتے ؟
دراصل ان لوگوں نے مشیت کے مفہوم کو سمجھا ہی نہیں۔ یہ لوگ انسان سے انسان کی دو اہم امتیازی خصوصیت چھین لینا چاہتے ہیں جو اللہ نے انسان کو بخشی ہے۔
اللہ اپنے بندوں…
Read the full tafseer →3 یہاں سے ان باطل اعذار اور لچر پوچ دلائل کا رد شروع کرتے ہیں جو مشرکین اپنے شرک اور اعمال شرکیہ کا جواز و استحسان ثابت کرنے کے لیے پیش کرتے تھے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگر غیر اللہ کی پرستش یا بعض جانوروں (مثلاً بحیرہ سائبہ وغیرہ) کو حرام ٹھہرا لینا برے اور بےسند کام ہوتے جنہیں خدا پسند نہ کرتا تو ہم کو کرنے کیوں دیتا۔ ضرور تھا کہ جب ہم اس کی مرضی کے خلاف کام کریں تو اس سے روک دے نہ رکیں تو فوراً سزا دے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو یہ دلیل ہے کہ خدا کو وہ کام ناپسند نہیں۔ آٹھویں پارہ کے دوسرے ربع آیت (سَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَآ اَشْرَكْنَا وَلَآ اٰبَاۗؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا…
Read the full tafseer →آیت 35 وَقَالَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَيْءٍ نَّحْنُ وَلَآ اٰبَاۗؤُنَا
ان کی دلیل یہ تھی کہ اس دنیا میں تو جو اللہ چاہتا ہے وہی کچھ ہوتا ہے ‘ وہ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ہے۔ اگر وہ چاہتا کہ ہم کوئی دوسرے معبود نہ بنائیں اور ان کی پرستش نہ کریں ‘ تو کیسے ممکن تھا کہ ہم ایسا کر پاتے ؟ چناچہ اگر اللہ نے ہمیں اس سے روکا نہیں ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اس میں اس کی مرضی شامل ہے اور اس کی طرف سے ہمیں ایسا کرنے کی اجازت ہے۔
فَهَلْ عَلَي الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ
ہمارے رسول اس قسم کی کٹ حجتی اور کج بحثی میں نہیں الجھتے۔ ان کی…
Read the full tafseer →33 اہل کتاب کا اپنے احبارو رہبان کو رب بنا لینے کا مفہوم :۔ اللہ تعالیٰ کی کسی حلال کردہ چیز کو حرام اور حرام کو حلال بنا لینا بھی واضح شرک ہے جیسا کہ سیدنا عدی صبن حاتم نے ( اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ ۚ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰــهًا وَّاحِدًا ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭسُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 31) 9 ۔ التوبہ :31) کی تفسیر رسول اللہ سے پوچھی تھی۔ سیدنا عدی بن حاتم پہلے عیسائی تھے پھر اسلام لائے تھے۔ جب سورة توبہ کی یہ آیت نازل ہوئی تو کہنے لگے : یارسول اللہ ہم اپنے علماء و مشائخ کو رب تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
49۔ (خواہ اسی زندگی میں، خواہ بعد موت، خواہ دونوں جگہ)
50۔ مشرکین کہتے تھے کہ خدا کو اگر ہمارے طریقے ناپسند ہیں تو وہ ہمیں روک ہی کیوں نہیں دیتا، اس نے ہمیں ان چیزوں پر قدرت ہی کیوں دی ؟ یہ احمق حق تعالیٰ کی مشیت تکوینی (یابندوں کی قوت اختیار وآزادی عمل) اور اس کی رضا وحکم کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں کرتے تھے !
51۔ یعنی یہی ضابطہ زمانہ ماضی کے گمراہوں کو بھی پیش آچکا ہے، حالانکہ اگر ذرا بھی سوچیں، تو یہی سوال الٹ کر خود ان پر بھی عائد ہوتا ہے۔ آخر ان کے عقائد کی رو سے بھی تو خدا کو کچھ چیزیں پسند ہیں اور کچھ ناپسند، تو وہ اپنی ناپسندیدہ چیزوں کو واقع ہی کیوں ہونے دیتا ہے ؟
52۔ (اور اس فریضہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
آیت نمبر 35 تا 40
ترجمہ : اور مکہ کے مشرکوں نے کہا اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرتے اور نہ بحائر اور سوائب میں سے کسی کو اس کی مرضی کے بغیر حرام ٹھہراتے، تو معلوم ہوا کہ ہمارا شرک کرنا اور حرام ٹھہرانا اسی کی مشیت سے ہے اور وہ اس سے راضی ہے، اور اسی طرح ( کی حرکت) ان سے پہلے لوگوں نے کی، یعنی رسول جو حکم لیکر آئے تھے اس میں انہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا، تو کیا رسولوں پر صاف صاف بات پہچانے کے علاوہ اور کوئی ذمہ داری ہے ؟ (یعنی) واضح طور پر پہنچانے کی اور ان پر ہدایت دینے کی ذمہ داری نہیں ہے جس طرح ہم نے ان میں رسول بنا کر بھیجا ہے ہم نے ہر قوم میں…
Read the full tafseer →وقال الذین اشرکوا لو شآء اللہ ما عبدنا من دونہ من شیء نحن ولا ابآء نا ولا حرمنا من دونہ من شیء اور مشرک کہتے ہیں کہ اگر اللہ کو منظور ہوتا تو اس کے سوا کسی چیز کی عبادت نہ ہم کرتے ‘ نہ ہمارے باپ دادا اور نہ اس کے (حکم کے) بغیر ہم کسی چیز کو حرام کہتے۔ مشرک بعثت انبیاء اور احکام تشریعی کے منکر تھے اور بطور استہزاء کہتے تھے کہ جب ہر کام اللہ کی مشیّت سے ہوتا ہے تو اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا نہ شرک کرتے ‘ نہ اپنی طرف سے کسی چیز کو حرام قرار دیتے ‘ پھر بعثت پیغمبر اور احکام تکلیفیہ کا فائدہ ہی کیا ہے۔ یا یہ کلام سنجیدگی سے کہتے تھے اور مرضی و مشیّت میں ان کے نزدیک کوئی فرق نہ تھا۔ ہر…
Read the full tafseer →(35) اہل مکہ جو بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں، یوں کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو نہ ہم اور نہ ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا بتوں کی عبادت کرتے اور نہ ہم بغیر حکم الہی کے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام میں سے کسی کو حرام کرتے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو حرام کیا اور اسی نے ہمیں اس بات کا حکم دیا ہے، جیسا کہ آپکی قوم کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف کھیتی اور جانوروں کی حرمت کی افتراء پردازی کرتی ہے، اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے بھی افتراء پردازی کی تھی، سو پیغمبروں کی ذمہ داری تو صرف احکام خداوندی کا واضح ایسی زبان میں پہنچا دینا ہے جس زبان کو ان کی قوم سمجھتی ہو۔
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا۔۔ : کفار اپنے شرک اور کفریہ اعمال، مثلاً بحیرہ، سائبہ اور وصیلہ وغیرہ کو حرام قرار دینے کے جواز کے لیے اللہ تعالیٰ کی مشیت کا سہارا لیتے اور اس بہانے سے رسالت پر طعن کرتے اور کہتے کہ اگر یہ شرک اور تحریمات اللہ کی رضا کے خلاف ہوتے تو ہم نہ کرتے اور ہمیں روک دیا جاتا، جب اللہ نے نہیں روکا تو معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ ہم اس کی مشیت کے تحت کر رہے ہیں، مگر اولاً تو بات یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کے شرک اور برے اعمال پر راضی ہوتا تو ان کاموں سے منع کرنے کے لیے نہ پیغمبر بھیجتا اور نہ کتابیں نازل کرتا، جب مسلسل پیغمبروں کے ذریعے سے ان باتوں سے منع کیا ہے تو معلوم ہوا کہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 35
قولہ تعالیٰ : وقال الذین اشرکوا لوشآء اللہ ما عبدنا من دونہ من شئ ای شیئا (یعنی مشرکوں نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی شے کی عبادت نہ کرتے) اور اس میں من صلہ ہے۔ زجاج نے کہا ہے : انہوں نے یہ قول استہزاء کیا، اور اگر وہ یہ قول اعتقاد اور یقین کے ساتھ کہتے تو وہ مومن ہوتے۔ اس کا معنی اور ترکیب مفصل طور پر سورة الانعام میں گزر چکی ہے لہٰذا اعادہ کی ضرورت نہیں۔ کذلک فعل الذین من قبلھم یعنی اسی تکذیب اور استہزاء کی مثل انہوں نے بھی رسولوں سے کیا جو ان سے پہلے تھے پس وہ ہلاک کر دئیے گئے۔ فھل علی الرسل الا البلغ المبین یعنی رسل علیہم الصلوٰت والتسلیمات پر سوائے تبلیغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
1:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھل ینظرون الا ان تاتیہم الملٓئکۃ “ سے مراد ہے فرشتے ان کے پاس موت کے ساتھ آئیں اور دوسری آیت میں فرمایا (آیت) ” ولو تری اذ یتوفی الذین کفروا الملئکۃ “ الانفال آیت 5) ان فرشتوں سے مراد ملک الموت اور دوسرے معاون فرشتے ہیں (آیت) ” اویاتی امر ربک “ اور وہ قیامت کا دن (مراد ہے)
2:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھل ینظرون الا ان تاتیہم الملٓئکۃ “ یعنی موت کے وقت (ان کے پاس فرشتے آجائیں) یہاں تک کہ ان کی روح قبض کرلیں۔ (آیت) ” اویاتی امر ربک “ اور یہ ہوگا قیامت کے دن۔
Read the full tafseer →[وَقَالَ : اور کہیں گے ] [ الَّذِينَ : وہ لگ جنھوں نے ] [ اَشْرَكُوْا : شرک کیا ] [ لَوْ : اگر ] [ شَاۗءَ؛چاہتا ] [ اللّٰهُ؛اللہ ] [ مَا عَبَدْنَا : تو ہم بندگی نہ کرتے ] [ مِنْ دُوْنِهٖ : اس کے علاوہ ] [ مِنْ شَيْءٍ : کسی بھی چیز کی ] [ نَحْنُ : (نہ) ہم ] [ وَلَآ اٰبَاۗؤُنَا : اور نہ ہی ہمارے آباء اجداد ] [ وَلَا حَرَّمْنَا : اور ہم حرام نہ کرتے ] [ مِنْ دُوْنِهٖ : اس کے (حکم کے) علاوہ ] [ مِنْ شَيْءٍ ۭ: کسی بھی چیز کو ] [ كَذٰلِكَ؛اسی طرح ] [ فَعَلَ؛کیا ] [ الَّذِينَ : انھوں نے جو ] [ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ : ان سے پہلے تھے ] [فَهَلْ : تو کیا ہے ] [ عَلَي الرُّسُلِ : رسولوں پر ] [ اِلَّا : سوائے…
Read the full tafseer →مشرکین کی کٹ حجتی، اور ہر امت کے لیے رسول کی بعثت کا تذکرہ
مشرکین شرک تو کرتے ہی تھے اللہ نے جن چیزوں کو حلال قرار دیا انہیں حرام قرار دیتے تھے، جب توحید کی دعوت دی جاتی تھی تو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو یوں جواب دیتے تھے کہ تمہارا دعویٰ ہے کہ تم اللہ کے رسول ہو اگر تم واقعی اللہ کے رسول ہو تو ہمیں اس بات کا جواب دو کہ ہم جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور حلال چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں بقول تمہارے اللہ تعالیٰ ہمارے اس عمل سے ناراض ہے اگر وہ ناراض ہے تو ہمیں ایسا کیوں کرنے دیتا ہے، جب وہ ہر چیز پر قادر ہے اور کوئی کام اس کی مشیت کے بغیر نہیں ہوسکتا تو ظاہر ہے کہ ہمارے باپ دادوں نے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
تیسرا شبہ
قال اللہ تعالیٰ : وقال الذین اشرکوا لوشاء اللہ ما عبدنا من دونہ من شیء ... الیٰ .... وما لہم من نصرین
(ربط) اس آیت میں مشرکین کے تیسرے شبہ کا ذکر ہے جس کو وہ اپنے اعمال شرکیہ و کفریہ کا جواز اور استحسان ثابت کرنے کے لیے پیش کرتے تھے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کو ہمارا کفر اور شرک اور ہمارے شرکیہ مثلا بحیرہ و سائبہ وغیرہ ناپسند ہوتے تو ہم کو کرنے ہی کیوں دیتا۔ اگر خدا تعالیٰ کو ہماری یہ باتیں ناپسند ہوتیں تو وہ ہمیں ایسی باتیں کرنے سے روک دیتا اور اگر ہم نہ رکتے تو ہم کو فوراً سزا دیتا معلوم ہوا کہ خدا ہمارے اس کفر و شرک سے راضی اور خوش ہے اور باالفاظ دیگر ہم مجبور اور معذور…
Read the full tafseer →27:۔ ” وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا “ تا ” اِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِیْنُ “ شکوہ ہے۔ یعنی ہم نے اس قدر دلائل سے ثابت کردیا کہ غیر اللہ کی عبادت نہ کرو اور حاجات و مشکلات میں مافوق الاسباب غیر اللہ کو مت پکارو مگر یہ احمق ان دلائل قاطعہ کے مقابلہ میں کہتے ہیں کہ اگر اللہ کو منظور ہوتا تو وہ ہمیں غیر اللہ کی عبادت اور غیر اللہ کے لیے تحریمات نہ کرنے دیتا۔ اس سے پہلے نفی شرک فی التصرف پر دلائل ذکر کیے گئے اب یہاں سے اس کے ساتھ نفی شرک فعلی کا ذکر بھی کیا گیا۔ ” کَذٰلِکَ فَعَلَ الخ “ جواب شکوی ہے یعنی یہ کوئی بات نہیں۔ ان سے پہلے مشرکین بھی بطور استہزاء یوں ہی کہا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
(ربط آیات)
ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے وحی الہی کا ذکر کیا ، پھر اپنی وحدانیت کا تذکرہ کیا (آیت) ” الھکم الہ واحد “۔ اور اس کے دلائل بیان فرمائے ، اس کے بعد ان لوگوں کی دو بڑی بیماریوں کا ذکر کیا جو اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہیں لاتے ایک تو وہ آخرت کے منکر ہیں اور دوسرے تکبر کرتے ہیں ، پھر اللہ نے مشرکوں اور متقیوں کے انجام سے آگاہ فرمایا شرک کی تردید اس سورة کا خاص موضوع ہے جو گذشتہ آیات میں بھی بیان ہوا ہے ، اس درس میں بھی آرہا ہے اور آگے مثالوں کے ذریعے بھی اس مسئلہ کی وضاحت کی جائے گی ، بہرحال آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے شرک کے حق میں مشرکین کی ایک نہایت ہی بھونڈی دلیل کا رد فرمایا…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَيْءٍ نَّحْنُ وَلَآ اٰبَاۗؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَيْءٍ ۭ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ فَهَلْ عَلَي الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ
شرك
وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان :
أحدهما : الشِّرْكُ العظیم،
وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ،
والثاني : الشِّرْكُ الصّغير،
وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
ترکیب : نحن تاکید لضمیر عبدنا ‘ دونہ من شیء من الاولی والثانیۃ زائد تان الطاغوت من الطغیان یذکرو یونث ویقع علی الواحد والجمع والمراد بہ کل معبودودون اللہ کا لشیطان والصنم و کل من دعی الی الضلال۔
تفسیر : نبی (علیہ السلام) جب کفار کو ان کی بری باتوں سے منع کرتے اور عذاب الٰہی سے ڈراتے تھے تو وہ یہ بھی جواب دیا کرتے تھے کہ ہمارا یہ شرک کرنا ‘ بت پوجنا اور اسی طرح بتوں کے نام کی چیزوں کو تعظیماً حرام سمجھنا جیسا کہ بحیرہ اور سائبہ ہے کچھ آج سے نہیں بلکہ باپ دادا کے زمانہ دراز سے چلا آتا ہے اگر یہ امر خدا کو منظور نہ ہوتا تو نہ انہیں کرنے دیتا نہ ہمیں خود کرنے دیتا کیونکہ بندہ اس کے بس میں ہے اب…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا لَوْشَآئَ اللّٰہُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَیْ ئٍ نَّحْنُ وَلَآ اٰبَآؤْنَا وَلاَحَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَیْ ئٍ ط کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ج فَھَلْ عَلَی الرُّسُلِ اِلاَّ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ۔ (سورۃ النحل : 35)
(اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے شرک کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی چیز کو نہ پوجتے اور نہ ہمارے آبائواجداد اور نہ ہم اس کے بغیر کسی چیز کو حرام ٹھہراتے، ایسی ہی (بےسروپا) باتیں کیا کرتے تھے، ان کے پیشرو بھی۔ تو رسولوں پر واضح طور پہنچادینے کے سوا اور کوئی ذمہ داری نہیں۔ )
مشرکینِ مکہ کے اعتراض کا جواب
اس…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حق کا انکار کرنے کے لیے مشرکوں کا دوسرابہانہ اور انداز۔
مشرک کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا کہ ہم اور ہمارے آباؤاجداد اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ بنائیں اور نہ ہی اس کے حکم کے سوا کسی چیز کو حرام ٹھہرائیں تو کیا مجال تھی کہ ہم اور ہمارے باپ دادا ایسا کرسکتے ؟ در اصل ہم وہی کچھ کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ یہاں اس کے دو جواب دیے گئے ہیں ایک یہ کہ ایسی بیہودہ باتیں ان سے پہلے لوگ بھی کیا کرتے تھے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ ہمارے رسولوں کے ذمے کسی کو منوانا نہیں ان کا کام حق پہچانا ہے۔ سو یہ کام رسول اللہ ﷺ نے اور آپ سے پہلے انبیاء نے پورے اخلاص اور…
Read the full tafseer →کفار کا مقدمہ یہ شرک اللہ کو پسند ہے :
35: وَقَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا لَوْشَآ ئَ اللّٰہُ مَاعَبَدْنَا مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَیْئٍ نَّحْنُ وَلَآ ٰابَآ ؤُنَا (اور مشرک کہتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی چیز کی عبادت نہ کرتے نہ ہم اور نہ ہی ہمارے آباء و اجداد) یہ کفار نے بطور استہزاء کہا۔ اگر وہ اس کو اعتقاداً کہتے تو بہت بہتر ہوتا۔ وَلَاحَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَیْئٍ (اور نہ حرام کرتے اس کی مشیّت کے بغیر کوئی چیز) یعنی بحیرہ سائبہ اور ان کی طرح جو دوسری تحریمات کر رکھی ہیں ( گویا ان کے ہاں رضا اور مشیت میں کوئی فرق نہیں تھا) کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ…
Read the full tafseer →(35)” وقال الذین اشرکو الو شاء اللہ ما عبدنا من دونہ من شئی … تا … من شئی “ ان سے مراد بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کے علاوہ سے ہم سے راضی ہوگیا تو ہمارے لیے ہدایت یافتہ ہوگا اس کے علاوہ۔” کذلک فعل الذین من قبلھم فھل علی الرسل الا البلاغ المبین “ یہ لوگ ہدایت یافتہ نہیں ہوں گے۔ آپ کے اوپر صرف تبلیغ کرنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
35۔ 37۔ یہ کلام مشرکین مکہ کا مسخراپن کے طور پر تھا آنحضرت ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ جو بیان کرتے ہیں کہ ہر ایک بات خدا کی جانب سے ہوا کرتی ہے تو پھر آپ کی رسالت کی کیا ضرورت ہے۔ آپ آتے یا نہ آتے اگر خدا کو منظور ہوتا تو ہم اس کے سوا کسی بت وغیرہ کی عبادت نہ کرتے اور جس چیز کو اللہ نے ہم پر حلال کیا ہے اپنے اوپر اس کو ہم حرام نہ ٹھہراتے حاصل اس کا یہ ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں بالکل ٹھیک کر رہے ہیں ہم گمراہ نہیں ہیں بتوں کی پرستش جو ہم کر رہے ہیں یہ سب خدا کی مشیت سے ہے اگر وہ نہ چاہتا تو ہرگز ہرگز یہ کام ہم نہیں کرسکتے۔ پھر اللہ پاک نے کفار مکہ کا یہ کلام نقل کر کے آنحضرت ﷺ کو تسلی دی کہ آپ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
آیت 35
مشرکین اپنے شرک پر مشیت الٰہی کو دلیل بناتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو وہ کبھی شرک نہ کرتے اور نہ وہ ان مویشیوں کو حرام ٹھہراتے جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے، مثلاً بحیرہ، وصیلہ اور حام وغیرہ۔۔۔ مگر ان کی یہ دلیل باطل ہے اگر ان کی یہ دلیل صحیح ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان سے پہلے لوگوں کو ان کے شرک کی پاداش میں کبھی عذاب نہ دیتا اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے ان کو سخت عذاب کا مزا چکھایا۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کے شرک کو پسند کرتا تو ان کو کبھی عذاب نہ دیتا۔ درصال حق کو، جسے رسول لے کر آئے، رد کرنے کے سوا ان کا کوئی اور مقصد نہیں ہے ورنہ وہ خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے خلاف ان کے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →70۔ مشرکین کے ایک مغالطے کی ترید : یعنی یہ کہ وہ لوگ اپنے کفر و شرک اور اپنے شرکیہ اعمال کے لئے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے استدلال کرتے تھے، یعنی یہ کہ اگر اللہ نہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ کسی چیز کو از خود حرام ٹھہراتے۔ یعنی " بحیرہ " و " سائبہ " وغیرہ جن چیزوں کو انہوں نے از خود حرام قرار دے رکھا تھا۔ مشرکین کے اس قول باطل کا مدعا ومقصد یہ تھا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں خدا تعالیٰ کے حکم وارشاد اور اس کی رضاء اور مشیت سے کرتے ہیں۔ اور اس پر وہ راضی ہے۔ ورنہ ہم ایسا کیوں کرتے۔ اور وہ ہمیں اس کے لیے یہ چھوٹ کیوں دیتا ؟ حالانکہ مشیت خداوندی اور چیز ہے اور رضائے خداوندی بالکل دوسری چیز۔ اس کی مشیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
کفار کے حیلے اور بہانے
تشریح : ان آیات میں بھی پہلے بیان کیے گئے مضمون کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ کفار اکثر یہی کہتے ہیں کہ اللہ تو اتنی زیادہ قدرت رکھتا ہے ہمیں بھی گمراہ نہ ہونے دیتا تو الہ العلمین اس کا جواب یہی دیتے ہیں کہ بندوں کی ہدایت کے لیے رسول بھیجے گئے جس نے ان کی بات سنی اور غور کیا، اور پھر عمل کرتے ہوئے سیدھی راہ اختیار کی اس نے نجات پائی، مگر جس نے ہٹ دھرمی سے کام لے کر اپنی عقل و ارادہ کو کام میں نہ لا کر گمراہی کی راہ اختیار کی تو وہ اس کی سزا ضرور پائے گا۔ اس میں نہ تو اللہ پر الزام آتا ہے اور نہ ہی رسول پر الزام آتا ہے۔ اللہ نے ہدایت کے لیے رسول بھیجا اور رسول نے اپنا فرض ادا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
ذرا مشرکین کی دلیل دیکھئے کہ اگر ہم اللہ جل جلالہ کی منشاء کے خلاف کر رہے ہیں اور وہ نہیں چاہتا کہ اس کے سوا کسی کی پوجا کی جائے تو ہمیں روک کیوں نہیں دیا جاتا ہم تو اگر وہ روک دے تو نہ کسی اور کی پوجا کرسکیں نہ ہم یا ہمارے باپ دادا بھی اس کی مرضی کے خلاف کوئی رسم ایجاد کرسکیں کہ کسی شے کو حلال قرار دے دیں یا کسی کو حرام گویا ان تمام امور میں اس کی رضا شامل ہے فرمایا یہی نہیں ان سے پہلے گذرنے والے اور تباہ ہونے والے کفار بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے مگر یہ اس قدر بودی بات ہے کہ جواب کے لائق ہی نہیں اور انبیاء کا کام تو اللہ جل جلالہ کا حکم پہنچا دینا ہے جس میں کوئی غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ف 5 کفار اپنے شرک اور اعمال کفر مثلاً بحیرہ سائبہ اور وصیلہ وغیرہ کی حرمت کے جواز کے لئے اللہ تعالیٰ کی مشیت کا سہارا لیتے اور اس بہانے سے رسالت پر طعین کرتے اور کہتے کہ اگر یہ شرک اور تحریکات اللہ کی مرضی کے خلاف ہوتے تو ہم نہ کرتے اور ہمیں روک دیا جاتا۔ جب اللہ نے نہیں روکا تو معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ ہم اس کی مشیت کے تحت کر رہے ہیں مگر اولاً تو یہ بات ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کے اس شرک اور اعمال پر راضی ہوتا تو ان سے منع کرنے کے لئے نہ پیغمبر بھیجتا اور نہ کتابیں نازل کرتا۔ جب مسلسل پیغمبروں کے ذریعہ ان باتوں سے منع کیا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ سب چیزیں اس کی مرضی کے خلاف ہیں اور پھر اللہ…
Read the full tafseer →(16:35) ولا حرمنا۔ نہ ہم حرام ٹھہراتے (کسی چیز کو) من دونہ بغیر اس کے حکم کے۔ حرم یحرم تحریم (تفعیل) سے حرام ٹھہرانا۔
ھل ۔ بمعنی ما نافیہ آیا ہے (پیغمبروں کے ذمہ صرف صاف صاف اور واضح طور پر پیغام کا پہنچا دینا ہی ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 37
ماعبدنا ہم نے عبادت و بندگی نہیں کیا۔ لاحرمنا ہم حرام نہ کرتے۔ البلاغ پہنچا دینا ہے۔ بعثنا ہم نے بھیجا۔ اجتنبوا بچتے رہو۔ الطاغوت شیطان، سرکش۔ حقت ثابت ہوگیا۔ سیروا چلو پھرو۔ عاقبۃ انجام۔ ان تحرص اگر آپ کی شدید خواہش ہے۔
تشریح : آیت نمبر 35 تا 37
بے جا ضد، ہٹ دھرمی اور نافرمانی ایک ایسی بری عادت ہے جو انسان کو ہر خیر اور بھلائی سے اس طرح محروم کردیتی ہے کہ اس کو سامنے کی حقیقت بھی نظر نہیں آتی مثلاً جب کفار و مشرکین سے یہ کہا جاتا تھا کہ وہ اپنے کفر، شرک اور ہر طرح کے گناہوں سے توبہ کرلیں تو وہ یہ کہتے تھے کہ جب تم یہ کہتے ہو کہ اس کائنات میں ساری قدرت و طاقت…
Read the full tafseer →اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ کلام مشرکین مکہ کا مسخرا پن کے طور پر تھا آنحضرت ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ جو بیان کرتے ہیں کہ ہر ایک بات خدا کی جانب سے ہوا کرتی ہے تو پھر آپ کی رسالت کی کیا ضرورت تھی۔ آپ آتے یا نہ آتے اگر خدا کو منظور ہوتا تو ہم اس کے سوا کسی بت وغیرہ کی عبادت نہ کرتے ، نہ حلال کو حرام ٹھہراتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کا یہ کلام نقل کرکے آنحضرت صلی اللہ علیہ کو تسلی دی کہ آپ اپنے دل میں ان کی باتوں کا کچھ خیال نہ کریں ان سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں وہ بھی ایسی ہی باتیں کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
[19] مشرکین کہتے تھے کہ اللہ کو اگر ہمارے طریقے ناپسند ہیں تو ہمیں ان چیزوں پر قدرت ہی کیوں دی، کیوں نہ ہمیں روک دیا ؟ یہ احمق اللہ کی مشیت اور اس کی رضا کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں کرتے تھے۔ خود ان کے عقائد کی رو سے بھی تو اللہ کو کچھ چیزیں پسند ہیں اور کچھ ناپسند، تو وہ اپنی ناپسندیدہ چیزوں کو واقع ہی کیوں ہونے دیتا ہے۔
[20] یعنی اللہ کے رسول اس لئے نہیں آتے کہ لوگوں سے برائی کرنے کی طاقت سلب کرلیں اور انھیں ایسا بنادیں کہ وہ برائی کر ہی نہ سکیں جب کہ اللہ کی مشیت یہی ہوئی کہ انسان کو کسی ایسی حالت پر مجبور نہ کیا جائے بلکہ ہر طرح کی حالت اختیار کرنے کی قدرت دی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
کیا ہم مجبور ہیں ؟ :
(ف 1) مشرکین کو ایک شبہ یہ تھا کہ نبوت کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ جب کہ ہم سب معصیت پر مجبور ہیں ، اگر اللہ تعالیٰ چاہتے کہ ہم شرک کی آلودگیوں میں مبتلا نہ ہوں ، اور اپنی مرضی سے چیزوں کو حلال و حرام نہ ٹھہرائیں ، تو بھلا یہ کب ہو سکتا تھا کہ ہم شرک کا ارتکاب کرتے ، اللہ نہ چاہے اور ہم کریں ، یہ کیونکر ممکن ہے ، گویا مسئلہ جبر کو ان لوگوں نے بربنائے جہالت انکار کا سبب بنایا ۔ اس شبہ کو اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات میں ذکر فرمایا ہے سورة انعام میں ہے (آیت) ” لوشآء اللہ ما اشرکنا ولا ابآء نا “۔ یعنی اگر ہم مشرک ہیں تو معاذ اللہ یہ اللہ کا قصور ہے ، وہ ہمیں موحد پیدا کرتا ، اس نے…
Read the full tafseer →35 ۔ اور جن لوگوں نے شرک کا شیوہ اختیار کر رکھا ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا اور اس کو منظورہوتا تو نہ ہم اسکے سوا کسی کی پرستش کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا کسی اور چیز کی عبادت کرسکتے اور نہ ہم بدون اس کے حکم کے کسی چیز کو حرام ٹھہراتے جس قسم کے افغان شنیعہ یہ کر رہے ہیں اسی طرح کے افعال وہ لوگ بھی کرچکے ہیں جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں سو پیغمبروں کے ذمے سوائے اس کے کہ احکام الٰہی کو صاف صاف پہنچا دیں اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ آٹھویں پارے میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے۔
مشرکوں کا مطلب یہ تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمارے شرک کو ناپسند کرتا ہے اور حرام کو حلال کرنا اور حلال کو حرام کرلینا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
ف 6۔ اوپر ذکر مومنین سے پہلے کفار کے ضلال واضلال کا ذکر تھا، مومنی کا ذکر بمناسبت مقابلہ تتمیم مضمون کے لئے درمیان میں آگیا، اب کفار کے اصرار وعناد پر وعید ہے۔
1۔ یعنی کیا موت کے وقت یا قیامت میں ایمان لاویں گے جبکہ ایمان مقبول نہ ہوگا، گو اس وقت تمام کفار بوجہ انکشاف حقیقت کے توبہ کریں گے۔
Read the full tafseer →مشرکوں کا یہ کہنا کہ اگر ہمارا یہ شرک اللہ کو برا لگتا تو ہم کیسے کرسکتے تھے ؟ :
42۔ مشرکین کہتے تھے کہ اللہ کو اگر ہمارے طریقے ناپسند ہیں تو وہ ہمیں روک نہیں دیتا اس نے ہمیں ان چیزوں پر قدرت ہی کیوں دی ؟ مشرکوں کا یہ قول پیچھے سورة الانعام کی آیت 124 میں گزر چکا ہے اور دوسری جگہوں پر بھی وہ نقل کیا گیا ہے کہ وہ بڑے دھڑلے سے کہتے تھے اگر شرک برائی ہے تو اللہ کیوں ہمیں برائی کرنے دیتا ہے ؟ اگر وہ چاہتا کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کی جائے تو ایسا نہ ہو سکتا کہ ہم اور ہمارے آباء و اجداد ایسی بات کرسکتے اگر وہ چاہے تو اب بھی وہ ہمیں روک سکتا ہے ، اس شور وہنگامہ کی جگہ جو تم نے بپا کر رکھا ہے…
Read the full tafseer →Commentary
The first doubt expressed by these disbelievers was: If Allah does not like our Kufr and Shirk and other unlawful deeds, why would He not stop us from doing so by force?
The absurdity of this doubt was all too evident. Therefore, instead of answering it, just saying words of comfort for the Holy Prophet ﷺ was considered sufficient, so that he does not feel sad about such senseless questions. The reason why their doubt was absurd is also obvious. Allah Ta` ala has set up the system of this world on the basic arrangement that human beings have not been kept under compulsion totally.…
Read the full tafseer →30. In order to understand the significance of this argument the reader should keep in view (Ayats 148-150 and E.N.s 124-126 of Surah Al-Anaam), for this has been cited and answered there.
31. That is, your argument is not a new one but the same old one which had always been offered by erroneous people who went before you. Today you are, like them, excusing yourselves for your deviation and evil conduct, saying that it is the will of God. You know that this is a lame excuse that has been invented to delude yourselves, and to escape from admonition.
This answer also contains a subtle retort to…
Read the full tafseer →