Explained with ayahs 33–34
فرشتوں کا انتظار
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکوں کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ انہیں تو ان فرشتوں کا انتظار ہے جو ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئیں گے تاقیامت کا انتظار ہے اور اس کے افعال و احوال کا۔ ان جیسے ان سے پہلے کے مشرکین کا بھی یہی وطیرہ رہا یہاں تک کہ ان پر عذاب الہٰی آپڑے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حجت پوری کر کے، ان کے عذر ختم کر کے، کتابیں اتار کر، و بال میں گھر گئے۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنا بگاڑ لیا۔ اسی لئے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
سورة النَّحْل 29
یہ چند کلمے بطور نصیحت اور تنبیہ کے فرمائے جا رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جہاں تک سمجھانے کا تعلق تھا، تم نے ایک ایک حقیقت پوری طرح کھول کر سمجھا دی۔ دلائل سے اس کا ثبوت دے دیا۔ کائنات کے پورے نظام سے اس کی شہادتیں پیش کردیں۔ کسی ذی فہم آدمی کے لیے شرک پر جمے رہنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں چھوڑی۔ اب یہ لوگ ایک صاف سیدھی بات کو مان لینے میں کیوں تامل کر رہے ہیں ؟ کیا اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ موت کا فرشتہ سامنے آکھڑا ہو تو زندگی کے آخری لمحے میں مانیں گے ؟ یا خدا کا عذاب سر پر آجائے تو اس کی پہلی چوٹ کھا لینے کے بعد مانیں گے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
خلاصہ تفسیر
اور جو لوگ شرک سے بچتے ہیں ان سے (جو قرآن کے بارے میں) کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز نازل فرمائی ہے وہ کہتے ہیں کہ بڑی خیر (اور برکت کی چیز) نازل فرمائی ہے جن لوگوں نے نیک کام کئے ہیں (جس میں یہ قول مذکور اور تمام اعمال صالحہ آگئے) ان کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے (وہ بھلائی ثواب کا وعدہ و بشارت ہے) اور عالم آخرت تو (بوجہ اس کے کہ وہاں اس وعدہ کا تحقق و ظہور ہوجائے گا) اور زیادہ بہتر (اور موجب سرور) ہے اور واقعی وہ شرک سے بچنے والوں کا اچھا گھر ہے وہ گھر (کیا ہے) ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں یہ داخل ہوں گے ان باغوں کے (اشجار وعمارات کے) نیچے سے نہریں جاری ہوں گی جس چیز کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
آگے کا مضمون۔ آیات 33 تا 47:۔ متکبرین کی کج بحثیوں کی تردید اور اہل ایمان کو کامیابی کی بشارت : آگے انہی مستکبرین کی ان کج بحثیوں کا حوالہ اور ان کی تردید ہے جو وہ اپنے رویہ کی حمایت و مدافعت میں کرتے تھے اور ساتھ ہی پیغمبر ﷺ اور آپ کے صحابہ کو استقامت اور اللہ پر بھروسہ قائم رکھنے کی تلقین کی گئی ہے اور یہ اطمینان دلایا گیا ہے کہ آزمائشوں کے دور سے گزرنے کے بعد بالآخر فتح و کامیابی انہی کا حصہ ہے۔ آیات کی تلاوت کیجیے۔
تفسیر آیات 33 تا 34:۔ هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ اَمْرُ رَبِّكَ ۭ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ وَمَا ظَلَمَهُمُ…
Read the full tafseer →34۔ 1 یعنی جب رسول ان سے کہتے کہ اگر تم ایمان نہیں لاؤ گے تو اللہ کا عذاب آجائے گا۔ تو یہ استہزا کے طور پر کہتے کہ جا اپنے اللہ سے کہہ وہ عذاب بھیج کر ہمیں تباہ کر دے۔ چناچہ اس عذاب نے انھیں گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے، پھر اس سے بچاؤ کا کوئی راستہ ان کے پاس نہیں رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
15: اس سے معلوم ہوا کہ عذاب صرف ان لوگوں کو ہوگا جو کفر کی حالت میں مرے ہوں۔ اگر کوئی مرنے سے پہلے پہلے سچی توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول ہوجاتی ہے اور اسے معاف کردیا جاتا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
آیت نمبر 33 تا 34
لوگ بھی عجیب ہیں ، وہ دیکھتے ہیں کہ ایک راستے پر ان کے پیش رو چلے اور وہ عذاب الٰہی سے دوچار ہوئے ، تباہی و بربادی ان کے حصے میں آئی ، پھر بھی وہ اسی راہ پر چلتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ان لوگوں کا جو حشر ہوا وہ ان کا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ سوچتے نہیں کہ سنت ۔۔۔ ایک ہے اور اس کے نتائج ہمیشہ ایک جیسے ہی نکلتے ہیں۔ یہ کہ مکافات عمل ہمیشہ ایک جیسی ہوتی ہے ، یہ کہ قانون قدرت اور سنن الٰہیہ اٹل ہیں اور وہ کسی سے رو رعایت نہیں کرتیں ، نہ ان میں کسی کے لئے کوئی تخلف ہو سکتا ہے۔
وما ظلمھم اللہ ولکن کانوا انفسھم یظلمون (16 : 33) “ پھر جو کچھ ان کے ساتھ ہوا وہ ان پر اللہ کا ظلم نہ تھا…
Read the full tafseer →2 یعنی اگلے معاندین بھی اسی طرح غرور و غفلت کے نشے میں پڑے رہے تھے۔ باطل پرستی میں تمادی ہوتی رہی، توبہ کے وقت توبہ نہ کی، اخیر تک انبیاء کی تکذیب و مخالفت پر تلے رہے اور ان کی باتوں کی ہنسی اڑاتے رہے۔ آخر جو کیا تھا سامنے آیا اور عذاب الٰہی وغیرہ کی جن خبروں سے ٹھٹھا کیا کرتے تھے وہ آنکھوں سے دیکھ لیں۔ ان کا استہزاء و تمسخر انہی پر الٹ پڑا، بھاگ کر جان بچانے کی کوئی سبیل نہ رہی اپنی شرارتوں کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ جو بویا تھا سو کاٹا۔ خدا کو ان سے کوئی بیر نہ تھا نہ اس کے یہاں ظلم وتعدی کا امکان ہے۔ ان لوگوں نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری کسی کا کیا بگڑا انہی کا نقصان ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
آیت 33 هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ اَمْرُ رَبِّكَ
گزشتہ بارہ برس سے رسول اللہ قریش مکہ کو دعوت دے رہے ہیں ‘ دو تہائی کے قریب قرآن بھی اب تک نازل ہوچکا ہے۔ چناچہ ان لوگوں کو اب مزید کس چیز کا انتظار ہے ؟ اب تو بس یہی مرحلہ باقی رہ گیا ہے کہ فرشتے اللہ کا فیصلہ لے کر پہنچ جائیں اور وہ نقشہ سامنے آجائے جس کی جھلک سورة الفجر میں اس طرح دکھائی گئی ہے : وَجَآءَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِایْٓءَ یَوْمَءِذٍم بِجَہَنَّمَلا یَوْمَءِذٍ یَّتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰی لَہُ الذِّکْرٰی ”اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف بہ صف۔ اور لائی جائے گی اس دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
32 فرشتوں کی آمد کا مطالبہ :۔ یہ بھی منکرین حق کے ایک اعتراض کا جواب ہے جو وہ کہتے تھے کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے جو اس بات کی تصدیق کریں کہ واقعی آپ اللہ کے نبی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا کہ فرشتے ان کے پاس بھی آتے ہیں۔ لیکن اس کی دو ہی صورتیں ہیں۔ ایک ان کی روح قبض کرنے کے لیے اور دوسرے ان پر قہر الٰہی نازل کرنے کے لیے اور یہ اعتراض صرف یہی کفار مکہ ہی نہیں کر رہے تھے۔ اس سے پہلے بھی منکرین حق اپنے اپنے دور میں انبیاء کو ایسی ہی باتیں کہتے چلے آئے ہیں۔ اور ان کا بھی اسی طرح مذاق اڑاتے رہے ہیں۔ بالآخر انھیں اپنی کرتوتوں کی پاداش میں فرشتوں سے دو چار ہونا ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
49۔ (خواہ اسی زندگی میں، خواہ بعد موت، خواہ دونوں جگہ)
50۔ مشرکین کہتے تھے کہ خدا کو اگر ہمارے طریقے ناپسند ہیں تو وہ ہمیں روک ہی کیوں نہیں دیتا، اس نے ہمیں ان چیزوں پر قدرت ہی کیوں دی ؟ یہ احمق حق تعالیٰ کی مشیت تکوینی (یابندوں کی قوت اختیار وآزادی عمل) اور اس کی رضا وحکم کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں کرتے تھے !
51۔ یعنی یہی ضابطہ زمانہ ماضی کے گمراہوں کو بھی پیش آچکا ہے، حالانکہ اگر ذرا بھی سوچیں، تو یہی سوال الٹ کر خود ان پر بھی عائد ہوتا ہے۔ آخر ان کے عقائد کی رو سے بھی تو خدا کو کچھ چیزیں پسند ہیں اور کچھ ناپسند، تو وہ اپنی ناپسندیدہ چیزوں کو واقع ہی کیوں ہونے دیتا ہے ؟
52۔ (اور اس فریضہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
آیت نمبر 26 تا 34
ترجمہ : ان سے پہلے لوگوں نے بھ مکر کیا تھا، اور وہ نمرود تھا جس نے ایک بہت اونچا منارہ بنایا تاکہ اس پر چڑھ کر آسمان والوں سے
قتال کرے، آخر اللہ تعالیٰ نے ان بنیادوں کو جڑ سے اکھاڑدیا کہ ان پر آندھی اور زلزلہ بھیج کر ان کو منہدم کردیا، اور ان کے سروں پر ان کی چھتیں اوپر آپڑیں جس وقت وہ ان کے نیچے تھے اور ان پر عذاب وہاں سے آگیا جہاں کا انھیں وہم و گمان بھی نہ تھا، یعنی ایسی جہت سے کہ ان کے خیال و خواب میں بھ نہ تھا، اور کہا گیا ہے کہ یہ تمثیل ہے ان منصوبوں کو ناکام کرنے کی جن کو انہوں نے رسول کے خلاف استوار کیا تھا، پھر روز قیامت بھی اللہ انھیں رسوا کرے گا اور فرشتوں کے…
Read the full tafseer →فاصابھم سیات ما عملوا وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزء ون آخر ان کے اعمال بد کی ان کو سزائیں ملیں اور جس عذاب (کے بیان) پر وہ ہنستے تھے ‘ ان کو اسی نے آگھیرا۔ سَیِّاٰت سے پہلے مضاف محذوف ہے ‘ یعنی برے اعمال کی سزا ان پر آگئی۔ یا سَیِّاٰت سے مراد ہیں : سزائیں اور مَا عَمِلُوْا سے مراد ہے : کفر و معصیت ‘ یعنی کفر و معصیت کی سزائیں ان کو ملیں۔ حَاقَ بِھِمْ ان پر نازل ہوگیا یا ان کو گھیر لیا۔ مَا کَانُوْا میں مامصدری ہے ‘ یعنی استہزاء (کی سزا) نے ان کو گھیر لیا (اس وقت مضاف محذوف ہوگا) یا مَا موصولہ ہے اور اس سے مراد عذاب ہے۔ کفار بطور مذاق کہتے تھے : لَوْلاَ یُعَذِّبُنَا اللّٰہُ بِمَا تَقُوْلُ ہمارے…
Read the full tafseer →(34) آخر ان کے اعمال بد کی اور ان کی نافرمانیوں کی ان کو سزائیں ملیں اور انبیاء کرام کے ساتھ جو وہ استہزاء کرتے تھے اسی کی سزا نے ان کو پکڑایا یہ کہ جس عذاب کی خبر پانے پر وہ ہنستے تھے، ان کو اسی عذاب نے پکڑا۔
Read the full tafseer →فَاَصَابَهُمْ سَـيِّاٰتُ۔۔ : ”سَـيِّاٰتُ“ کا مضاف محذوف ہے، یعنی ”عَوَاقِبُ“ اس لیے ”سَـيِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا“ کا ترجمہ کیا ہے ”اس کے برے نتائج نے جو انھوں نے کیا۔“
وَحَاقَ بِهِمْ : ”حَاقَ یَحِیْقُ حَیْقًا“ بروزن ”بَاعَ یَبِیْعُ بَیْعًا“ بمعنی احاطہ کیا، گھیر لیا۔ اس کا استعمال برے گھیراؤ ہی کے لیے ہوتا ہے۔ (مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ) ”اس چیز نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے“ ظاہر ہے کہ وہ رسولوں کی رسالت کا، اپنے دوبارہ زندہ ہونے، حساب کتاب ہونے اور عذاب میں گرفتار ہونے کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ عذاب جلدی لاؤ جس کی دھمکیاں تم ہمیں دیتے ہو۔ بتائیے دشمن سے جلد از جلد عذاب…
Read the full tafseer →آیت نمبر 34
قولہ تعالیٰ : فاصابھم سیات ما عملوا کہا گیا ہے : اس میں تقدیم و تاخیر ہے ؛ تقدیر عبارت ہے : کذالک فعل الذین من قبلھم فاصابھم سیئات ما عملوا (اسی طرح انہوں نے کہا جو ان سے پہلے ہوئے ہیں پس انہیں ان کے برے اعمال کی سز املی، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ وہ خود اپنے آپ سے زیادتی کر رہے ہیں۔ پس انہیں ان کے کفر کی سزا اور ان کے خبیث اعمال کا بدلہ ملا ہے۔ وحاق بھم یعنی ان کا احاطہ کرلیا اور انہیں گھیر لیا ما کانوا بہ یستھزءون یعنی ان کے استہزاء کی سز انے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
1:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھل ینظرون الا ان تاتیہم الملٓئکۃ “ سے مراد ہے فرشتے ان کے پاس موت کے ساتھ آئیں اور دوسری آیت میں فرمایا (آیت) ” ولو تری اذ یتوفی الذین کفروا الملئکۃ “ الانفال آیت 5) ان فرشتوں سے مراد ملک الموت اور دوسرے معاون فرشتے ہیں (آیت) ” اویاتی امر ربک “ اور وہ قیامت کا دن (مراد ہے)
2:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھل ینظرون الا ان تاتیہم الملٓئکۃ “ یعنی موت کے وقت (ان کے پاس فرشتے آجائیں) یہاں تک کہ ان کی روح قبض کرلیں۔ (آیت) ” اویاتی امر ربک “ اور یہ ہوگا قیامت کے دن۔
Read the full tafseer →[فَاَصَابَهُمْ : تو لگیں ان کو ] [ سَـيِّاٰتُ مَا : اس کی برائیاں جو ] [ عَمِلُوْا : انھوں نے عمل کیا ] [ وَحَاقَ : اور چھا گیا ] [ بِهِمْ : ان پر ] [ مَا : وہ ] [ كَانوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ : جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
منکرین اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں
اہل کفر دعوت حق کو قبول نہ کرتے تھے اور انہیں برابر کفر پر اصرار تھا، واضح دلائل سامنے آنے پر بھی ہدایت سے اعراض کرتے تھے، ان کے بارے میں فرمایا کہ جب دلائل واضحہ ظاہرہ کو نہیں مانتے تو کس بات کا انتظار ہے، ان کا طریقہ کار تو یہ بتاتا ہے کہ وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ فرشتے آجائیں یا آپ کے رب کا حکم یعنی موت آجائے لیکن اس وقت ایمان قبول نہ ہوگا، جیسا کہ انہیں اپنے کفر پر اصرار ہے ان سے پہلے لوگ بھی ایسا ہی کرتے رہے پھر ان پر عذاب آگیا، عذاب کی باتیں سامنے آتی تھی تو وہ مذاق بناتے تھے پھر جب عذاب نے گھیر لیا تو بچاؤ کا کوئی بھی راستہ نہ پاسکے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
دوسرا شبہ
قال اللہ تعالیٰ : ہل ینظرون الا ان تاتیہم الملئکۃ .... الیٰ .... ما کانوا بہ یستھزء ون۔
(ربط) منکرین کا دوسرا شبہ یہ تھا کہ کوئی فرشتہ آسمان سے نازل ہو کر آپ ﷺ کی صداقت کی شہادت دے اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہ منکرین نبوت اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس موت کے فرشتے آجائیں اور ان کی روحیں قبض کریں یعنی یہ لوگ دلائل وبراہین سے راہ راست پر آنے والے نہیں بلکہ منتظر ہیں کہ جب قبض روح کے ملائکہ آویں تب یقین کریں گے مگر اس وقت کا یقین سود مند نہیں یا یہ معنی ہیں کہ فرشتوں کی آمد کے منتظر ہیں کہ وہ آکر فیصلہ کریں یعنی سب کے سامنے آکر آپ ﷺ کی نبوت کی گواہی دیں اور یہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
26:۔ تخویف دنیوی ہے۔ مسئلہ توحید کو ایسے ٹھوس عقلی دلائل سے واضح اور ثابت کردیا گیا ہے مگر اس کے باوجود یہ معاندین اسے نہیں مانتے بلکہ عذاب مانگتے ہیں کہ ہم نہیں مانتے جس عذاب سے تو ہمیں ڈراتا ہے بیشک وہ عذاب لے آ۔ ” کَذٰلِکَ فَعَلَ الخ “ گذشتہ سرکش اور معاند قوموں نے بھی ایسا ہی کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عذاب نازل کر کے ہلاک کردیا اور یہ ان کے اپنے ہی اعمال کی سزا تھی۔ ” فَاَصَابَھُمْ الخ “ وہ انبیاء (علیہم السلام) کا انکار کرتے، دعوت توحید کو ٹھکراتے اور بطور استہزاء و تمسخر ان سے عذاب کا مطالبہ کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب مسلط کر کے ان کو ان کے مشرکانہ اعمال اور استہزاء و تمسخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
(ربط آیات)
پہلے اللہ نے کافروں اور مشرکوں کا حال بیان کیا کہ جب ان سے قرآن پاک سے متعلق پوچھا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر پر کیا چیز اتاری ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ تو قصے کہانیاں ہیں وہ نہ صرف وحی الہی کا انکار کرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں اور اس کی تردید کرتے ہیں ، اللہ نے ان کا انجام بیان فرمایا کہ قیامت کے دن یہ لوگ نہ صرف اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائیں گے بلکہ ان لوگوں کے گناہوں کا بار بھی ان پر ہوگا جن کو انہوں نے دنیا میں گمراہ کیا ، پھر اللہ نے فرمایا کہ ان لوگوں نے دنیا میں اسلام کے خلاف بڑی منصوبہ بندی کی ، بڑی سکی میں بنائیں ، چال بازیاں کرتے رہے مگر کامیاب نہ ہو…
Read the full tafseer →فَاَصَابَهُمْ سَـيِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ 34ۧ
سَّيِّئَةُ :
الفعلة القبیحة، وهي ضدّ الحسنة، قال : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10]: بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81]
سَّيِّئَةُ :
اور ہر وہ چیز جو قبیح ہو اسے سَّيِّئَةُ :،
، سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اسی لئے یہ لفظ ، ، الحسنیٰ ، ، کے مقابلہ میں آتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ چناچہ قرآن میں ہے اور سیئۃ کے معنی برائی کے ہیں اور یہ حسنۃ کی ضد ہے قرآن میں ہے : بَلى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
ترکیب : ماذا محل نصب میں ہے انزل سے جیسا کہ ماذا کے جواب قالو اخیرا ای انزل خیرا سے معلوم ہوتا ہے جنت عدن مخصوص بالمدح نعم کا یدخلونہا اس سے حال اور ممکن ہے کہ جملہ مستانفہ ہو کہ یدخلونہا اس کی خبر ہو یا محذوف ہو طیبین حال من المفعول وھوالقوی وقیل من الفاعل مقارنۃ اومقدرۃ۔
تفسیر : کافروں کے مقابلہ میں مومنین کا ذکر کرتا ہے وقیل للذین الخ کہ ان سے جو قرآن کا حال پوچھا جاتا ہے تو اس کو بہتر اور عمدہ بتلاتے ہیں۔ مکہ کے مشرکین ایام حج میں بدمعاش لوگوں کو مکہ کے رستوں پر بٹھلا دیتے تھے اور عرب کے قبیلوں میں آنحضرت ﷺ کے دین اور قرآن کا ایک حیرت خیز چرچا پھیلا ہوا تھا۔ وہ اپنے ایلچی ان ایام میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآاَنْ تَاتِیَھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اَوْیَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّکَ ط کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ط وَمَا ظَلَمَھُمُ اللّٰہُ وَلٰـکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ ۔ فَاَصَابَہُمْ سَیِّاٰتُ مَاعَمِلُوْا وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ (سورۃ النحل : 33۔ 34)
(یہ لوگ تو بس اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا آپ کے رب کا (اٹل) حکم آجائے۔ یوں ہی ان لوگوں نے بھی کیا تھا جو ان کے پیشرو تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔ تو ان کو ان کے کیے کی سزائیں پہنچیں اور گھیر لیا انھیں اس عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
فہم القرآن
ربط کلام : متقی حضرات کو خوشخبری سنانے کے بعد خطاب کا رخ مشرکین کی طرف کیا گیا ہے۔
مشرکین اور خدا کے منکر جب حق کے مقابلے میں لا جواب ہوجاتے تو اس بات کا مطالبہ کرتے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اللہ اس نبی کے پاس فرشتے بھیجتا ہے اور ملائکہ ہمارے پاس کیوں نہیں بھیجتا ؟ بسا اوقات وہ اس بات کو یوں بھی کہتے کہ ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک فرشتے آکر ہمارے سامنے اس کی تائید نہ کریں۔ بار بار سمجھانے کے باوجودیہ لوگ سمجھنے کے لیے تیار۔ ان کے ایک اعتراض کا مدلل جواب دیا جاتا ہے تو دوسرا اعتراض جوڑ دیتے۔ جب اس کے بارے میں تشفی کردی جاتی ہے تو تیسرا اعتراض کیے دیتے ہیں ان کا مقصد حق سمجھنا…
Read the full tafseer →برے اعمال کا انجام :
34: فَاَصَابَھُمْ سَیِّاٰتُ مَاعَمِلُوْا (پس ان کو ان کے برے عملوں کی سزائیں ملیں) ان کے برے اعمال کی سزائیں۔ وَحَاقَ
بِھِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ (اور گھیر لیا ان کو اس عذاب نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے) انکے استہزاء کی سزا نے انکو آن گھیرا۔
Read the full tafseer →(34)” فاصابھم سیئات ما عملوا “ ان کے کفر کے سبب اور ان کے برے اعمال کے سبب ” وحاق بھم “ ان پر عذاب نازل ہوا۔ ” ما کانو ا بہ یستھزء ون “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
33۔ 34۔ یہ جواب منکرین نبوت کے دوسرے اعتراض کا فرمایا کہ یہ لوگ آنحضرت ﷺ سے یہ چاہتے ہیں کہ کوئی فرشتہ آسمان سے آکر ان کی نبوت کی تصدیق کرے تو یہ لوگ ایمان لائیں۔ حالانکہ فرشتوں کو اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر ہے اور ایک مطلب یہ ہے کہ جب کفار نے قرآن کی نسبت یہ کہا کہ یہ تو پہلوں کی نقل ہے کوئی نئی بات نہیں ہے تو اللہ پاک نے انہیں ڈرایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے آنے کی راہ دیکھتے ہیں کہ وہ آن کر ان کی ارواح قبض کریں یا اس بات کے منتظر ہیں کہ خدا کا عذاب ان پر آجائے۔ پھر فرمایا کہ اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور خدا نے انہیں ہلاک کیا اور ان کا ہلاک کردینا کوئی خدا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
آیت 33
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : کیا یہ لوگ جن کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیتیں آیں مگر وہ ایمان نہ لائے انہیں نصیحت کی گئی مگر انہوں نے نصیحت نہ پکڑی۔۔۔ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں ؟ (الا ان تاتیھم المآئکۃ) ” کہ فرشتے (ان کی روح قبض کرنے کے لئے) ان کے پاس آئیں۔ “ (اویاتی امر ربک ) ” یا تمہارے رب کا حکم (عذاب) نازل ہوجائے “ کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو عذاب کے وقوع کا مستحق بنا لیا۔ (کذلک فعل الذین من قبلھم ) ” اسی طرح کیا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے “ انہوں نے انبیاء کی تکذیب کی اور ان کا انکار کیا، پھر وہ اس وقت تک ایمان نہ لائے جب تک ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہ ہوا۔ (وما ظلمھم اللہ)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →68۔ برے اعمال کے برے کے برے نتیجے۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار پہنچ کررہے ان لوگوں کو ان کے اعمال کے برے نتائج۔ حق کا انکار کرکے اور اپنے کفر وباطل پر اڑ کر۔ سو کفر وباطل کی راہ بہرحال ہلاکت و تباہی کی راہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور برائی کا نتیجہ بہرحال برا ہے اور اس کے ظہور میں جو تاخیر ہوتی ہے اس سے کسی کو دھوکے میں نہیں پڑھنا چاہئے کہ قدرت نے ہر چیز کا ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ اور اپنے وقت پر بہرحال ظاہر ہو کر رہے گی۔ پس ان بدبخت قوموں پر جو ہولناک اور تباہ کن عذاب آئے وہ ان کے اپنے اعمال کا طبعی نتیجہ تھا۔ جس کو انہوں نے بہرحال بھگتنا تھا۔ اور بالآخر انہوں نے اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
کفار کے حیلے اور بہانے
تشریح : ان آیات میں بھی پہلے بیان کیے گئے مضمون کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ کفار اکثر یہی کہتے ہیں کہ اللہ تو اتنی زیادہ قدرت رکھتا ہے ہمیں بھی گمراہ نہ ہونے دیتا تو الہ العلمین اس کا جواب یہی دیتے ہیں کہ بندوں کی ہدایت کے لیے رسول بھیجے گئے جس نے ان کی بات سنی اور غور کیا، اور پھر عمل کرتے ہوئے سیدھی راہ اختیار کی اس نے نجات پائی، مگر جس نے ہٹ دھرمی سے کام لے کر اپنی عقل و ارادہ کو کام میں نہ لا کر گمراہی کی راہ اختیار کی تو وہ اس کی سزا ضرور پائے گا۔ اس میں نہ تو اللہ پر الزام آتا ہے اور نہ ہی رسول پر الزام آتا ہے۔ اللہ نے ہدایت کے لیے رسول بھیجا اور رسول نے اپنا فرض ادا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
جہاں تک اپنی حفاظت اقتدار اور غلبے کا تعلق ہے جس کے خاطر یہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے سے نہیں چوکتے تو اس کی مثالیں سامنے ہیں کہ ان سے پہلی کافر قوموں نے بہت تدبیریں کی تھیں اور بڑے دنیاوی اسباب جمع کئے تھے مگر تقدیر باری کے سامنے پیش نہ گئی اللہ کریم نے انہیں ایسے برباد کیا کہ بنیادوں تک سے اکھیڑ دیا اور ان کی چھتیں انہی پر گر گئیں یعنی جو تدبیریں حفاظت کیلئے کی تھیں وہی تباہی کا باعث بن گئیں اور عذاب الہی نے ایسا پکڑا کہ وہ سمجھ ہی نہ پائے کہ یہ مصیبت کدھر سے آرہی ہے یہ تو دنیا کا حال تھا اصل خرابی تو میدان حشر میں ہوگی جب انہیں تمام عالم کے روبرو رسوا کیا جائے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ف 5 کفار اپنے شرک اور اعمال کفر مثلاً بحیرہ سائبہ اور وصیلہ وغیرہ کی حرمت کے جواز کے لئے اللہ تعالیٰ کی مشیت کا سہارا لیتے اور اس بہانے سے رسالت پر طعین کرتے اور کہتے کہ اگر یہ شرک اور تحریکات اللہ کی مرضی کے خلاف ہوتے تو ہم نہ کرتے اور ہمیں روک دیا جاتا۔ جب اللہ نے نہیں روکا تو معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ ہم اس کی مشیت کے تحت کر رہے ہیں مگر اولاً تو یہ بات ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کے اس شرک اور اعمال پر راضی ہوتا تو ان سے منع کرنے کے لئے نہ پیغمبر بھیجتا اور نہ کتابیں نازل کرتا۔ جب مسلسل پیغمبروں کے ذریعہ ان باتوں سے منع کیا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ سب چیزیں اس کی مرضی کے خلاف ہیں اور پھر اللہ…
Read the full tafseer →(16:34) حاق ب۔ اس نے گھیر لیا۔ وہ نازل ہوا۔ (باب ضرب) حیق سے جس کے معنی گھیر لینے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ حاق بہم ای احاط بہم۔
سیئات ما عملوا۔ سیئات۔ اعمال ِ بد۔ گناہ۔ برے کام۔ سیئات ما عملوا۔ ای جزاء سیئات اعمالہم۔ ان کے اعمال بد کی سزائیں۔ (اس دنیا میں۔ آخرت میں۔ یا ہر دو جگہ)
ما کانوا بہ یستھزء ون۔ جس (عذاب۔ سزا) پر وہ تمسخر کیا کرتے تھے۔ استھزاء (استفعال) مذاق اڑانا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 34
خیر خیر، بھلائی، دارلاخرۃ آخرت کا گھر۔ نعم اچھا ، بہتر۔ عدن ہمیشہ۔ طیبین پاک صاف۔ امر حکم، فیصلہ۔ یظلمون وہ ظلم اور زیادتی کرتے ہیں۔ اصاب پہنچا۔ حاق گھیر لیا، پہنچ گیا۔
تشریح : آیت نمبر 30 تا 34
گزشتہ آیات میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب کفار و مشرکین سے کوئی اجنبی آدمی یہ سوال کرتا تھا کہ یہ شخص جو نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اور جس قرآن کو وہ سناتے ہیں ان کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ وہ جواب دیتے کہ قرآن کیا ہے (نعوذ باللہ) گذرے ہوئے لوگوں کے کچھ قصے کہانیاں ہیں جو اس کتاب میں بیان کی گئی ہیں۔ قرآن کریم کی حقارت کے ساتھ ساتھ وہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں بھی ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
مشرکین کا ذکر اور ان کے مسخرے پن کا بیان
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب کفار نے قرآن کی نسبت یہ کہا کہ یہ تو پہلوں کی نقل ہے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تو اللہ پاک نے انہیں ڈرایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے آنے کی راہ دیکھتے ہیں کہ وہ آن کر ان کی روح قبض کریں یا اس بات کے منتظر ہیں کہ خدا کا عذاب ان پر آجائے۔ پھر فرمایا کہ اس طرح ان سے پہلے بھی لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور خدا نے انہیں ہلاک کیا اور ان کا ہلاک کردینا کوئی خدا کی طرف سے ظلم نہیں ہوا بلکہ ان لوگوں نے آپ اپنی جانوں پر ظلم کیا کہ انبیاء (علیہ السلام) اور کلام الہی کو جھٹلایا۔ پھر فرمایا کہ ان پہلے لوگوں پر جس طرح عذاب آچکا ہے وہی انجام ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
[17] یعنی موت یا عذاب کے فرشتے آجائیں جس کے بعد ایمان مقبول نہیں ہوتا۔
[18] یعنی قیامت برپا ہوجائے یا عذاب دنیوی نازل ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
(ف 1) آیت کے دو مقصد ہو سکتے ہیں یا تو یہ کہ مکہ والے فرشتوں کو آدمیوں کے روبرو نازل ہونے کو حضور ﷺ کے صدق کا معیار قرار دیتے تھے ، اور کہتے تھے ، کہ اگر آپ حق پر ہیں ۔ اور واقعی فرشتے آپ پر نازل ہوتے ہیں ، تو ہم بھی دیکھیں ، کہ کیونکر فرشتے نازل ہوتے ہیں ؟
قرآن کہتا ہے کہ یہ فرشتوں کے نزول کا انتظار کر رہے ہیں ، اور حق کو ماننے کے لئے تیار نہیں ، اور یا آیت کا مقصد ہے کہ یہ لوگ عذاب کے فرشتوں کا انتظار کر رہے ہیں ، اور کہتے ہیں ، کہ ہمارے گناہوں کی وجہ سے فرشتے نازل ہوں ، اور ہماری بستیوں کو الٹ دیں ، کیونکہ حضور ﷺ فرماتے تھے ، کہ اگر تم حق کا انکار کرو گے ، اور تمہارے انکار وتمرد کا یہی…
Read the full tafseer →34 ۔ آخر کار ان گزشتہ لوگوں کو ان کے برے اعمال کی سزائیں ملیں اور ان کی بد کرداریوں کا بدلا ان کو ملا اور جس عذاب کی ہنسی اڑایا کرتے تھے اسی عذاب نے ان کو آگھیرا اور ان کا احاطہ کرلیا ۔ یعنی ان کے اعمال بد کی سزائیں ان کو دی گئیں اور جس عذاب کی خبر سن کر وہ اس عذاب کا مذاق اڑایا کرتے تھے اسی عذاب نے ان کو ایک دن گھیر لیا اگر کفار مکہ اپنے کرتوت سے باز نہ آئے تو ایک دن ان کا بھی یہی حشر ہونا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
ف 6۔ اوپر ذکر مومنین سے پہلے کفار کے ضلال واضلال کا ذکر تھا، مومنی کا ذکر بمناسبت مقابلہ تتمیم مضمون کے لئے درمیان میں آگیا، اب کفار کے اصرار وعناد پر وعید ہے۔
1۔ یعنی کیا موت کے وقت یا قیامت میں ایمان لاویں گے جبکہ ایمان مقبول نہ ہوگا، گو اس وقت تمام کفار بوجہ انکشاف حقیقت کے توبہ کریں گے۔
Read the full tafseer →جیسے کچھ ان کے اعمال تھے ویسے ہی نتیجے سے وہ دوچار ہوگئے :
41۔ اس طرح ان کے اعمال کی سزائیں ان کو ملیں اور انہیں اس عذاب نے گھیر لیا جس پر وہ تمسخر کرتے تھے ، اس دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی ، انبیائے کرام کے تذکرے پڑھو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ جب بھی کسی نبی کے مخالفین کی ہلاکت کا وقت آیا تو پہلے انکو بتا دیا گیا کہ اب تمہاری ہلاکت کا متعین وقت قریب آچکا ہے اور پھر جو وقت ان کو بتایا گیا اس سے ایک ذرا بھر بھی تاخیر نہ کی اور وہ اپنے کئے کے نتیجہ سے دو چار ہوگئے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–34
Commentary
It will be recalled that, after describing the blessings of Allah and proving that He was unique in the creation of the universe, the text made a pointed reference to how the polytheists chose to stick to their own ways of error. In the present verses, the text describes how they, not content with their own straying, tried that others should also go astray like them. The punishment they would get for doing that has also been stated here. Earlier to that (24), there is a question about the Qur’ an, and the addressees of the question, at this place, are the polytheists. It is their…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
29. This is to admonish the unbelievers to this effect: Why are they still hesitating to accept the message which is very simple and clear? We have tried every method to present each aspect of the truth clearly with arguments and brought witnesses thereof from the whole system of the universe, and have left no room for any man of understanding to stick to shirk. Now what are they waiting for is nothing more than this that the angel of death should come before them and then they will accept the message at the last moment of their lives. Or, do they wait for the scourge of God to overtake them…
Read the full tafseer →