Explained with ayahs 35–37
الٹی سوچ
مشرکوں کی الٹی سوچ دیکھئے گناہ کریں، شرک پر اڑیں، حلال کو حرام کریں، جیسے جانوروں کو اپنے معبودوں کے نام سے منسوب کرنا اور تقدیر کو حجت بنائیں اور کہیں کہ اگر اللہ کو ہمارے اور ہمارے بڑوں کے یہ کام برے لگتے تو ہمیں اسی وقت سزا ملتی۔ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ہمارا دستور نہیں، ہمیں تمہارے یہ کام سخت ناپسند ہیں اور ان کی نا پسندیدگی کا اظہار ہم اپنے سچے پیغمبروں کی زبانی کرچکے۔ سخت تاکیدی طور پر تمہیں ان سے روک چکے، ہر بستی، ہر جماعت، ہر شہر میں اپنے پیغام بھیجے، سب نے اپنا فرض ادا کیا۔ بندگان رب میں اس کے احکام کی تبلیغ صاف کردی۔
سب سے کہہ دیا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
سورة النَّحْل 32
یعنی تم اپنے شرک اور اپنی خود مختارانہ تحلیل و تحریم کے حق میں ہماری مشیت کو کیسے سند جواز بنا سکتے ہو، جبکہ ہم نے ہر امت میں اپنے رسول بھیجے اور ان کے ذریعہ سے لوگوں کو صاف صاف بتادیا کہ تمہارا کام صرف ہماری بندگی کرنا ہے، طاغوت کی بندگی کے لیے تم پیدا نہیں کیے گئے ہو۔ اس طرح جبکہ ہم پہلے ہی معقول ذرائع سے تم کو بتا چکے ہیں کہ تمہاری ان گمراہیوں کو ہماری رضا حاصل نہیں ہے تو اس کے بعد ہماری مشیت کی آڑ لے کر تمہارا اپنی گمراہیوں کو جائز ٹھیرانا صاف طور پر یہ معنی رکھتا ہے کہ تم چاہتے تھے کہ ہم سمجھانے والے رسول بھیجنے کے بجائے ایسے رسول بھیجتے جو ہاتھ پکڑ کر تم کو غلط راستوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
کیا ہندوستان و پاکستان میں بھی اللہ کا کوئی رسول آیا ہے ؟
(آیت) وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا۔ اس آیت سے نیز دوسری (آیت) وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ سے ظاہرا یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان وپاکستان کے علاقوں میں بھی اللہ کے پیغمبر ضرور آئے ہوں گے۔ خواہ وہ یہیں کے باشندے ہوں یا کسی دوسرے ملک میں ہوں اور ان کے نائب اور مبلغ یہاں پہنچنے ہوں اور آیت لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ سے جو یہ مفہوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ جس امت کی طرف بھیجے گئے ہیں ان کی طرف آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں آیا اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد بظاہر وہ قوم عرب…
Read the full tafseer →اِنْ تَحْرِصْ عَلٰي هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ يُّضِلُّ وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ۔
پیغمبر ﷺ کو تسلی : یہ پیغمبر ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ آپ کو اپنی قوم کی ہدایت کی شدید تمنا تھی اس وجہ سے آپ ان کے پیچھے انے رات دن ایک کیے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ جو لوگ خدا کے قانون ضلالت کی زد میں آچکے ہیں اب ان کو ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔ ایسوں کا کوئی مددگار نہیں بنتا۔ خدا ہدایت انہی لوگوں کو بخشتا ہے جو اپنی فطری صلاحیتیں اس کے لیے اسعمال کرتے اور اس کے طلب گار بنتے ہیں۔
Read the full tafseer →37۔ 1 اس میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے۔ اے پیغمبر ! تیری خواہش یقیناً یہی ہے کہ یہ سب ہدایت کا راستہ اپنا لیں لیکن قوانین الہیہ کے تحت جو گمراہ ہوگئے ہیں، ان کو ہدایت کے راستے پر نہیں چلا سکتا، یہ تو اپنے آخری انجام کو پہنچ کر ہی رہیں گے، جہاں ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
17: طاغوت شیطان کو بھی کہتے ہیں اور بتوں کو بھی، لہذا اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شیطان کے پیچھے نہ چلو اور یہ بھی کہ بت پرستی سے اجتناب کرو۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 37
ہدایت و ضلالت کا مدار اس پر نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس پر زیادہ حریص ہیں یا نہیں ہیں کیونکہ رسول کا کام تو صرف ابلاغ ہے۔ رہی ہدایت و ضلالت تو وہ سنت الٰہیہ کے مطابق ملتی ہے اور یہ سنت ایسی ہے کہ اس کے نتائج کو روکا نہیں جاسکتا۔ جس کو اللہ گمراہ کرتا ہے تو وہ اسے سنت الٰہیہ کے مطابق گمراہ کرتا ہے۔ جو شخص سنت الٰہیہ کے مطابق گمراہ ہوجائے اسے اللہ ہدایت نہیں دیتا کیونکہ سنت الٰہیہ اپنے نتائج ظاہر کرتی رہتی ہے۔ یہ سنت دائرہ مشیت الٰہیہ کے اندر ہے اور واللہ فعال لما یشاء ” اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے “۔ وما لھم من نصرین (16 : 37) ” ان کے لئے کوئی مدد گار نہ ہوگا “۔ یعنی اللہ کی مشیت کے…
Read the full tafseer →7 یعنی جس کو قصور استعداد اور سوء اختیار کی بناء پر خدا گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت نہیں کرسکتا نہ اسے خدائی سزا سے کوئی بچا سکتا ہے۔ آپ کا ان کی ہدایت پر حریص ہونا بھی کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ پھر آپ ان کے غم میں اپنے کو اس قدر کیوں گھلاتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 37 اِنْ تَحْرِصْ عَلٰي هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ يُّضِلُّ وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ
اس سلسلے میں اللہ کا قانون اٹل ہے۔ اللہ کی طرف سے لوگوں تک حق کی دعوت پہنچانے کا پورا بندوبست کیا جاتا ہے ان پر ہدایت منکشف کی جاتی ہے اور بار بار انہیں موقع دیا جاتا ہے کہ وہ سیدھے راستے پر آجائیں۔ لیکن اگر کوئی شخص حق کو واضح طور پر پہچان لینے کے بعد ہر بار اسے رد کر دے تو اس سے ہدایت کی توفیق سلب کرلی جاتی ہے۔ پھر وہ حق کو پہچاننے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے اور اس کی گمراہی پر مہر تصدیق ثبت ہوجاتی ہے۔ ایسے لوگوں ہی کے متعلق سورة البقرۃ کی آیت 7 میں فرمایا گیا ہے : خَتَمَ اللّٰهُ…
Read the full tafseer →38 یعنی جو لوگ نہ پیغمبروں کی دعوت کو قبول کریں نہ اللہ تعالیٰ کی کائنات میں ہر سو بکھری ہوئی قدرتوں میں غور کریں اور نہ ہی اقوام سابقہ کے انجام سے کچھ عبرت حاصل کریں تو سمجھ لیجئے کہ گمراہی ان کے لیے مقدر ہوچکی۔ آپ ان کے ایمان لانے کی خواہ کتنی ہی آرزو کریں کوئی بات اب انھیں ایمان لانے کی طرف مائل نہیں کرسکتی۔
Read the full tafseer →55۔ (سو آپ صبر سے کام لیجئے) اب پھر خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے، آپ ﷺ کی افراط شفقت علی الخلق کی بنا پر آپ ﷺ کو اس حقیقت پر توجہ دلائی جارہی ہے کہ جو لوگ خود اپنی ہدایت کی پروا نہیں رکھتے، ان کے لئے قانون تکوینی بدلا نہیں جائے گا “۔ وہ بدستور یوں ہی گمراہی میں پڑا رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
آیت نمبر 35 تا 40
ترجمہ : اور مکہ کے مشرکوں نے کہا اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرتے اور نہ بحائر اور سوائب میں سے کسی کو اس کی مرضی کے بغیر حرام ٹھہراتے، تو معلوم ہوا کہ ہمارا شرک کرنا اور حرام ٹھہرانا اسی کی مشیت سے ہے اور وہ اس سے راضی ہے، اور اسی طرح ( کی حرکت) ان سے پہلے لوگوں نے کی، یعنی رسول جو حکم لیکر آئے تھے اس میں انہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا، تو کیا رسولوں پر صاف صاف بات پہچانے کے علاوہ اور کوئی ذمہ داری ہے ؟ (یعنی) واضح طور پر پہنچانے کی اور ان پر ہدایت دینے کی ذمہ داری نہیں ہے جس طرح ہم نے ان میں رسول بنا کر بھیجا ہے ہم نے ہر قوم میں…
Read the full tafseer →ان تحرص علی ھدھم فان اللہ لا یھدی من یضل وما لھم من نصرین ان کے راہ راست پر آنے کی آپ کتنی ہی تمنا کریں ‘ اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت یاب نہیں کرتا جن کو گمراہ کرنا اس کو مقصود ہوتا ہے اور ان کا کوئی حمایتی نہ ہوگا۔
یعنی اللہ جس کو گمراہ رکھنا ہی چاہے ‘ اس کو پھر ہدایت یاب نہ کرتا۔ آیت لِمَنْ حَقَّتْ عَلَیْہِ الضَّلٰلَۃُ کا جو مفہوم ہے ‘ وہ مَنْ یُّضِلُّ کا مفہوم ہے۔
مَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ کا یہ مطلب ہے کہ جن کو اللہ ہی گمراہ کر دے ‘ ان کی مدد کرنے والا اور حکم خدا کو نافذ ہونے سے روکنے والا اور اللہ کے مقرر کردہ عذاب کو ٹالنے والا کوئی نہیں ہوسکتا۔
حاصل کلام یہ ہے کہ محمد ﷺ ! اگر آپ ان کو…
Read the full tafseer →(37) اور اگر آپ کو ان کے توحید کے قائل ہونے کی خواہش ہو تو اللہ تعالیٰ اپنے دین کی ایسے شخص کی ہدایت نہیں کیا کرتا ہے جو مخلوق کو دین الہی سے گمراہ کرے اور وہ دین خداوندی کا اہل نہ ہو اور کفار مکہ یاد ررکھیں کہ عذاب الہی سے انکو کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →اِنْ تَحْرِصْ عَلٰي هُدٰىهُمْ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے تو ہدایت اور گمراہی کے دونوں راستے واضح کردیے، اب جو لوگ اس کی عطا کردہ استعداد سے کام نہ لیں اور حق پر باطل کو ترجیح دیں اور اللہ تعالیٰ انھیں باطل میں پڑے رہنے کی سزا دے تو آپ کا ان پر حرص کرنا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ اس آیت میں نبی ﷺ کی لوگوں کی ہدایت کے لیے حرص بھی ظاہر ہو رہی ہے۔ دیکھیے سورة توبہ (128)۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 37
قولہ تعالیٰ : ان تحرص علی ھدھم یعنی اے محمد ! ﷺ اگر آپ اپنی جدوجہد اور کوشش کے ساتھ ان کے ہدایت یافتہ ہونے کی خواہش اور طلب کریں۔ فان اللہ لا یھدی من یضل تو بیشک اللہ تعالیٰ اسے ہدایت نہیں دیتا جسے وہ گمراہ کر دے، یعنی جس کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے پہلے گمراہی کا فیصلہ ہوچکا ہو وہ اسے ہدایت نہیں دیتا۔ یہ حضرت ابن مسعود ؓ اور اہل کوفہ کی قرأت ہے۔ پس یھدی فعل مستقبل ہے اور اس کا ماضی ھدی ہے۔ اور من، یھدی کے سبب محل نصب میں ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ ھدی یھدی بمعنی اھتدی یھتدی ہو، اسے ابو عبید نے فراء سے روایت کیا ہے اس نے کہا : جیسا کہ امن لا یھدی الا ان یھدی (یونس : 35) بمعنی…
Read the full tafseer →1:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا۔ (آیت) ” فان اللہ لا یھدی من یضل “ یھدی یاء کے فتحہ کے ساتھ (اور) ” من یضل “ یاء کے ضمہ کے ساتھ۔
2:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو شعبی (رح) نے کہا اے سلیمان یہ حرف آپ کس طرح پڑھتے ہیں ؟ میں نے کہا (آیت) ” لا یھدی من یضل “ اور فرمایا اسی طرح میں نے علقمہ ؓ کو پڑھتے ہوئے سنا۔
3:۔ سعید بن منصور اور ابن منذر نے علقمہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” لا یھدی من یضل “
4:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” لا یھدی من یضل “۔
5:۔…
Read the full tafseer →[ان : اگر ] [ تَحْرِصْ : آپ ﷺ شدید خواہش کریں ] [ عَلٰي هُدٰىهُمْ : ان لوگوں کو ہدایت پر ] [ فَان : تو بیشک ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ لَا يَهْدِيْ : ہدایت نہیں دیتا ] [ مَنْ : اس کو جس کو ] [ يُّضِلُّ : وہ گمراہ کرتا ہے ] [ وَمَا لَهُمْ : اور ان کے لئے نہیں ہے ] [ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ : کوئی بھی مدد کرنے والا ]
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک میں اس بات کا بہت زیادہ تقاضا تھا کہ جن لوگوں کے سامنے حق کی دعوت پیش کر رہا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف بلا رہا ہوں یہ لوگ ایمان قبول کر ہی لیں، لیکن سارے انسانوں کا اسلام قبول کرلینا اللہ تعالیٰ کے قضا و قدر میں نہیں ہے اس لیے ارشاد فرمایا (اِنْ تَحْرِصْ عَلٰی ھُدٰیھُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ ) (اگر آپ حرص کریں تو اللہ تعالیٰ اسے ہدایت نہیں دیتا جسے گمراہ فرماتا ہے۔ )
آپ اپنا کام کرتے رہیں جسے ایمان نہیں لانا وہ ایمان نہ لائے گا۔ (وَ مَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ) اور جو لوگ گمراہی اختیار کریں گے اور اس کی وجہ سے آخرت کے عذاب میں مبتلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
تیسرا شبہ
قال اللہ تعالیٰ : وقال الذین اشرکوا لوشاء اللہ ما عبدنا من دونہ من شیء ... الیٰ .... وما لہم من نصرین
(ربط) اس آیت میں مشرکین کے تیسرے شبہ کا ذکر ہے جس کو وہ اپنے اعمال شرکیہ و کفریہ کا جواز اور استحسان ثابت کرنے کے لیے پیش کرتے تھے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کو ہمارا کفر اور شرک اور ہمارے شرکیہ مثلا بحیرہ و سائبہ وغیرہ ناپسند ہوتے تو ہم کو کرنے ہی کیوں دیتا۔ اگر خدا تعالیٰ کو ہماری یہ باتیں ناپسند ہوتیں تو وہ ہمیں ایسی باتیں کرنے سے روک دیتا اور اگر ہم نہ رکتے تو ہم کو فوراً سزا دیتا معلوم ہوا کہ خدا ہمارے اس کفر و شرک سے راضی اور خوش ہے اور باالفاظ دیگر ہم مجبور اور معذور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
28:۔ یہ توحید پر دلیل نقلی اجمالی ہے نیز جواب شکوی ہے۔ ہم اس سے پہلے ہر امت میں رسول بھیج چکے ہیں اور ہر رسول کو ہم نے یہی وحی بھیجی تھی کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور غیر اللہ کی عبادت اور پکار سے اجتناب کرو۔ جب ہم نے ہر پیغمبر کے پاس اسی مضمون کی وحی بھیجی کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو تو تمہارا یہ کہنا غلط ٹھہرا کہ اگر اللہ کی مرضی ہوتی تو ہم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرتے۔ کیونکہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کی مرضی یہی تھی کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے اور نہ اس کے سوا کسی اور کے لیے تحریمات کی جائیں۔
29:۔ ” طَاغُوْت “ ہر وہ معبود ہے جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے۔ الطاغوت وھو اسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
(ربط آیات)
مشرکین نے اپنے کفر اور شرک کے جواز میں یہ دلیل قائم کی تھی کہ اگر یہ برے افعال ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے روکتا کیوں نہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے اس بیہودہ خیال کا رد فرمایا کہ اللہ کسی کا ہاتھ پکڑ کر اس کو برائی سے نہیں روکتا نہ اس سے برائی کرنے کی طاقت ہی سلب کرلیتا ہے بلکہ اس نے برائی کی رکاوٹ کے لیے ایک نظام قائم کر رکھا ہے اس نے ہر امت میں اپنے رسول بھیجے جنہوں نے لوگوں کو حکم دیا (آیت) ” ان عبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت “۔ عبادت صرف اللہ کی کرو ، اور طاغوت کی پرستش سے بچ جاؤ ، گویا اللہ تعالیٰ نے قانون کے ذریعے لوگوں کو شرک سے روک دیا اس کے بعد لوگ دو گروہوں میں بٹ گئے ، بعض…
Read the full tafseer →اِنْ تَحْرِصْ عَلٰي هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ يُّضِلُّ وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ 37
حرص
الحِرْص : فرط الشّره، وفرط الإرادة . قال عزّ وجلّ : إِنْ تَحْرِصْ عَلى هُداهُمْ
[ النحل/ 37] ، أي : إن تفرط إرادتک في هدایتهم، وقال تعالی: وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلى حَياةٍ [ البقرة/ 96] ،
( ح ر ص ) الحرص
شدت آزیا شرط ارادہ ۔ قرآن میں ہے ۔ إِنْ تَحْرِصْ عَلى هُداهُمْ [ النحل/ 37] یعنی ان کی ہدایت کے لئے تمہارے دل میں شدید آزر اور خواہش ہو وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلى حَياةٍ [ البقرة/ 96] بلکہ ان کو تم اور لوگوں سے زندگی پر کہیں زیادہ حریص دیکھو…
Read the full tafseer →ترکیب : ان تحرص شرط، لاتقدر جواب محذوف فان اللہ اس کی جگہ قائم ہے۔ من یضل مفعول ہے لایہدی کا۔ لیبین یبعث مقدر سے متعلق قولنا مبتدا لشیء موصوف اردناہ صفت قولنا سے متعلق ان نقول خبر۔ جہد ایمانہم الجہد الجیم المشقۃ وبضمہا الطاقۃ ونصبہ علی المصدریۃ والمعنی حلفواجاہدین غایۃ اجتہاد ہم وذالک انہم کانو ایقسمون بآبائھم والھتھم فاذاکان الامرعظیما اقسمواباللہ تعالیٰ وعدا مصدر مو کد لماول علیہ بلٰی۔
تفسیر : پچھلی آیتوں میں ظالموں اور نبی کے منکروں کا انجام کار بیان فرمایا تھا اب آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ کی ہدایت و تلقین میں کوئی قصور نہیں لیکن جس طرح پہلے زمانہ میں ازلی گمراہ ہدایت پر نہ آئے…
Read the full tafseer →اِنْ تَحْرِصْ عَلٰی ھُدٰھُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ لاَیَھْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ۔
(سورۃ النحل : 37)
(آپ خواہ کتنے ہی حریص ہوں ان کے ہدایت یافتہ ہونے پر مگر اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا جنھیں وہ (پیہم سرکشی کے باعث) گمراہ کردیتا ہے اور ان کے لیے کوئی مدد کرنے والا نہیں۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
قریشِ مکہ کے مسلسل طرز عمل سے یقینا آنحضرت ﷺ کو بہت آزردگی ہوتی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ہر نبی اپنی امت کی ہدایت کے لیے نہایت حریص ہوتا ہے اور آنحضرت ﷺ چونکہ آخری رسول تھے اس لیے ان کی ہدایت کے لیے آپ ﷺ کی حرص اور حد سے بڑھی ہوئی خواہش ایک مثال کی حیثیت رکھتی تھی۔ قریش مکہ ہر طرح کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ انبیاء کا کام اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا اور لوگوں پر حجت قائم کرنا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہر امت میں نبی مبعوث فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم اس وقت تک کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کرتے جب تک اس میں رسول مبعوث نہ کیا جائے۔ (بنی اسرائیل : 15)
دوسرے مقام پر یوں ارشاد فرمایا کہ رسول لوگوں کو خوشخبری دینے والے اور برے اعمال کے انجام سے ڈرانے والے تھے۔ تاکہ ان رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت یعنی بہانہ باقی نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ بڑا زبردست اور حکمت والا ہے۔ (النساء : 165)
اسی اصول کے پیش نظر یہاں ارشاد فرمایا کہ ہم نے ہر…
Read the full tafseer →اللہ کا گمراہ کردہ ہدایت نہیں پاسکتا :
37: اِنْ تَحْرِصْ عَلی ھُدٰھُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ (تم ان کے راہ راست پر آنے کی کتنی ہی حرص اور تمنا کرو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت یاب نہیں کرتا جن کو گمراہ کرنا مقصود ہوتا ہے) قراءت : یاء ؔ مفتوح اور دال مکسور یَھْدِی کوفی نے پڑھا۔ باقی قراء یائے ؔ مضموم اور دال مفتوح پڑھتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مَنْ یُّضِلُ مبتدا اور لا یُھْدٰی اس کی خبر ہے۔ وَمَالَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ (اور ان کے لئے کوئی مددگار نہ ہوگا) جو اللہ تعالیٰ کا حکم ان پر لاگو ہے اس سے ان کو بچا سکے اور اس کے اس عذاب کو ان سے دور کرسکے جو ان کے لئے تیار…
Read the full tafseer →(37)” ان تحرص علی ھداھم “ اے محمد ! (ﷺ) آپ ان کے متعلق کتنی ہی تمنا کریں۔ ” فان اللہ لا یھدی من یضل “ اہل مکہ کے قراء نے ” یھدی “ یاء کے فتحہ اور دال کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی اللہ جس کو گمراہ رکھنا چاہے اس کو کوئی ہدایت نہیں دیتا۔ دوسرے قراء نے یاء کے ضمہ اور دال کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرما ” من یضلل فلا ھادی لہ “…” وما لھم من ناصرین “ ان کو عذاب سے کوئی نہیں روک سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
35۔ 37۔ یہ کلام مشرکین مکہ کا مسخراپن کے طور پر تھا آنحضرت ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ جو بیان کرتے ہیں کہ ہر ایک بات خدا کی جانب سے ہوا کرتی ہے تو پھر آپ کی رسالت کی کیا ضرورت ہے۔ آپ آتے یا نہ آتے اگر خدا کو منظور ہوتا تو ہم اس کے سوا کسی بت وغیرہ کی عبادت نہ کرتے اور جس چیز کو اللہ نے ہم پر حلال کیا ہے اپنے اوپر اس کو ہم حرام نہ ٹھہراتے حاصل اس کا یہ ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں بالکل ٹھیک کر رہے ہیں ہم گمراہ نہیں ہیں بتوں کی پرستش جو ہم کر رہے ہیں یہ سب خدا کی مشیت سے ہے اگر وہ نہ چاہتا تو ہرگز ہرگز یہ کام ہم نہیں کرسکتے۔ پھر اللہ پاک نے کفار مکہ کا یہ کلام نقل کر کے آنحضرت ﷺ کو تسلی دی کہ آپ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
آیت 37
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ تمام قوموں میں اس کی حجت قائم ہوچکی ہے، نیز یہ کہ متقدمین یا متاخرین میں کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے کوئی رسول مبعوث نہ فرمایا ہو اور تمام رسول ایک دعوت اور ایک دین پر متفق تھے اور وہ ہے صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا، (ان اعبدو اللہ واجتنبوا الطاغوت) ” صرف اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت (غیر اللہ کی عبادت) سے بچو۔ “ پس قومیں، انبیاء کی دعوت کو قبول کرنے اور رد کرنے کی بنیاد پر دو گروہوں میں منقسم ہوگئیں۔ (فمنھم من ھدی اللہ) ” بعض ان میں سے وہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی “ پس انہوں نے علم و عمل کے لحاظ سے رسولوں کی اتباع کی (ومنھم من حقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →77۔ پیغمبر کے لئے تسکین وتسلیہ کا سامان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر آپ ان کی ہدایت کی حرص اور طمع بھی کریں تو بھی انہوں نے ہدایت قبول نہیں کرنی کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جن کو وہ گمراہی میں ڈال دیتا ہے، پس اب یہ لوگ ہدایت لانے والے نہیں ہیں کہ یہ اپنے خبث باطن اور سوء اختیار کی بناء پر اللہ تعالیٰ کے قانون ضلالت کی زد میں آچکے ہیں۔ اب یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ پس آپ کو ان کی وجہ سے پریشان ہونے اور غم کھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ پس آپ ان بدبختوں کی محرومی اور پیغام حق و ہدایت سے ان کے اعراض واستکبار اور روگردانی پر افسوس نہ کریں کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
ہدایت اور آخرت سے انکار
تشریح : پیغمبر کا آنا اور کفار و مشرکین کا عذاب سے تباہ و برباد ہونا یہ سب بڑی تفصیل سے بیان ہوچکا ہے۔ اسی طرح حیات بعد موت کا بھی بیان ہوچکا ہے یہاں پھر وضاحت کی جا رہی ہے کیونکہ کفار اس بات پر قسمیں کھا رہے ہیں کہ ہم دوبارہ زندہ نہ ہوں گے جبکہ قرآن میں اس بات کو بار بار دہرایا جا رہا ہے مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
اور قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں، اس وقت وہ تمام جو قبروں میں ہیں پھر سے زندہ کیے جائیں گے۔ ( سورة حج آیات 5 تا 7) ان آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یقینا انسانی جسم کے تمام اجزا مناسب طریقہ سے ملا کر انسان کو دوبارہ زندہ کردیا جائے گا۔
علم الابدان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
ذرا مشرکین کی دلیل دیکھئے کہ اگر ہم اللہ جل جلالہ کی منشاء کے خلاف کر رہے ہیں اور وہ نہیں چاہتا کہ اس کے سوا کسی کی پوجا کی جائے تو ہمیں روک کیوں نہیں دیا جاتا ہم تو اگر وہ روک دے تو نہ کسی اور کی پوجا کرسکیں نہ ہم یا ہمارے باپ دادا بھی اس کی مرضی کے خلاف کوئی رسم ایجاد کرسکیں کہ کسی شے کو حلال قرار دے دیں یا کسی کو حرام گویا ان تمام امور میں اس کی رضا شامل ہے فرمایا یہی نہیں ان سے پہلے گذرنے والے اور تباہ ہونے والے کفار بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے مگر یہ اس قدر بودی بات ہے کہ جواب کے لائق ہی نہیں اور انبیاء کا کام تو اللہ جل جلالہ کا حکم پہنچا دینا ہے جس میں کوئی غلط…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی اللہ تعالیٰ نے تو ہدایت اور گمراہی کے دونوں راستے واضح کردیئے۔ اب جو لوگ اس کی عطا کردہ استعداد سے کام نہ لیں اور حق پر باطل کو ترجیح دیں اور اللہ انہیں باطل میں پڑا رہنے کی سزا دے تو آپ کا ان کی ہدایت پر حرص کرنا انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔
Read the full tafseer →(16:37) تحرص۔ مضارع واحد مذکر حاضر مجزوم بوجہ عمل ان (شرطیہ) (باب ضرب) سے ان تحرص۔ اگر تو چاہتا ہے ۔ اگر تو حریص ہے۔ اگر تیری تمنا ہے۔ اگر تجھ کو خواہش ہے۔
الحرص۔ شدتِ خواہش ۔ فرطِ آرزو۔ اصل میں یہ حرص القصار الثوب کے محاورہ سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی ہیں دھوبی نے کپڑے کو پتھر پر مار مار کر (اس کو دھونے کی آرزو میں) پھاڑ دیا۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے۔ وما اکثر الناس ولو حرصت بمؤمنین (12:103) گو تم کتنی ہی خواہش کرو بہت سے آدمی ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 37
ماعبدنا ہم نے عبادت و بندگی نہیں کیا۔ لاحرمنا ہم حرام نہ کرتے۔ البلاغ پہنچا دینا ہے۔ بعثنا ہم نے بھیجا۔ اجتنبوا بچتے رہو۔ الطاغوت شیطان، سرکش۔ حقت ثابت ہوگیا۔ سیروا چلو پھرو۔ عاقبۃ انجام۔ ان تحرص اگر آپ کی شدید خواہش ہے۔
تشریح : آیت نمبر 35 تا 37
بے جا ضد، ہٹ دھرمی اور نافرمانی ایک ایسی بری عادت ہے جو انسان کو ہر خیر اور بھلائی سے اس طرح محروم کردیتی ہے کہ اس کو سامنے کی حقیقت بھی نظر نہیں آتی مثلاً جب کفار و مشرکین سے یہ کہا جاتا تھا کہ وہ اپنے کفر، شرک اور ہر طرح کے گناہوں سے توبہ کرلیں تو وہ یہ کہتے تھے کہ جب تم یہ کہتے ہو کہ اس کائنات میں ساری قدرت و طاقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
آنحضرت ﷺ سے ارشاد ہے کہ آپ پر فرض یہی ہے کہ اللہ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیں کہ سوائے خدا کے اور کسی کی بندگی نہ کرو۔ باقی رہی ہدایت وہ خدا کے ہاتھ میں ہے جسے اس کی مشیت مقتضی ہوتی ہے اس کو وہ راہ راست پر لاتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کفار کو یہ بات جتلائی کہ اللہ نے ہر امت اور ہر گروہ میں اپنے رسول بھیجے تاکہ ان کی ہدایت کریں اور یہ بات کہہ دیں کہ تم خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں کی پرستش سے باز آؤ۔ اس پر بہیترے بندے خدا کے ایسے تھے جو ایمان لائے اور اکثر لوگ گمراہی میں پڑے رہے رسول کی ایک نہ سنی۔ پھر کفار مکہ کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
[21] یعنی اللہ کا قانون یہ نہیں ہے کہ جو شخص ہدایت کا طالب نہ ہو اور سرکشی وعناد پر اڑا ہوا ہو اسے جبراً ہدایت یافتہ بنادیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
(ف 2) اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ پیغمبران خدا انسانوں کی ہدایت کے لئے کس درجہ بےقرار ہوتے ہیں ، ان کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ سب لوگ ہدایت کو قبول کرلیں ، اور اللہ کی آغوش رحمت میں آجائیں ، وہ دن رات شفقت انسانی کی وجہ سے بےچین رہتے ہیں ، انہیں گمراہی اور ضلالت کی وجہ سے روحی تکلیف ہوتی ہے ، اور ان کے دن اور ان کی راتیں کرب و اضطراب میں گزرتی ہیں ، نوع انسانی کی ہمدردی کے لئے وہ اپنے سکھ اور چین کو برباد کرلیتے ہیں ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب فطرتی تقسیم یہ ہے کہ ایک طبقہ طاغوت کا طالب رہے ، حق کو عمدا ترک کر دے ، راہ صواب سے ہٹ جائے تو پھر آپ کی ہمدردی بےسود ہے ، جو شخص گمراہی پر اصرار کرنے…
Read the full tafseer →37 ۔ اے پیغمبر ﷺ ! اگر آپ ان کافروں کے راہ راست پر آنے کی تمنا اور خواہش کریں تو بھی کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کسی کو اس کی سرکشی اور عناد کی وجہ سے گمراہ کرتا ہے تو اس کو ہدایت نہیں کرتا اور اس کی رہنمائی نہیں فرماتا اور نہ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ پر ان کا کوئی حمایتی اور مدد گار ہوگا ۔ یعنی جب کسی عادی مجرم پر اس کے جرائم کے باعث مہر کردی جاتی ہے تو پھر اس کی ہدایت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا خواہ پیغمبر ان کی ہدایت کا کتنا ہی خواہش مند ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ف 2۔ لقد بعثنا فی کل امة رسولا سے ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان والوں کے لئے بھی زمانہ قدیم میں کچھ رسول مبعوث ہوئے ہیں، خواہ ہند ہی میں پیدا ہوئے اور رہے ہوں یا کسی اور ملک میں رہتے ہوں اور یہاں ان کے نائب تبلیغ کے لئے آئے ہوں۔
3۔ مطلب یہ کہ کفار اور انبیاء میں یہ معاملہ اسی طرح چلا آرہا ہے اور ہدایت واضلال کے متعلق اللہ تعالیٰ کا معاملہ بھی یوں ہی جاری ہے کہ مجادلہ کفار کا بھی قدیم، تعلیم انبیاء (علیہم السلام) کی بھی قدیم اور سب کا ہدایت نہ پانا بھی قدی، پھر آپ کو غم کیوں ہو۔
4۔ پس اگر وہ گمراہ نہ تھے تو ان پر عذاب کیوں نازل ہوا، اور واقعات اتفاقیہ ان کو اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ خلاف…
Read the full tafseer →آپ ﷺ ان لوگوں کی ہدایت کے کتنے ہی حریص ہوں لیکن راہ ہدایت ان کو نہیں ملے گی :
44۔ فرمایا اے پیغمبر اسلام ! ان لوگوں کی ہٹ دھرمی کا عجیب حال ہے تمہاری نبوت کی آزمائش کے لئے بہت سوچ سمجھ کر اور مشورے کرکے جو مطالبہ انہوں نے کیا تھا اسے تم نے بھری محفل میں برجستہ پورا کردیا اب شاید تم متوقع ہوگئے کہ اس کے بعد تو انہیں یہ تسلیم کرلینے میں کوئی تامل نہیں رہے گا کہ تم یہ قرآن خود تصنیف نہیں کرتے بلکہ واقعی تم پر وحی آتی ہے مگر یقین جانو کہ یہ لوگ اب بھی نہیں مانیں گے اور اپنے انکار پر جمے رہنے کے لئے کوئی دوسرا بہانہ ڈھونڈ نکالیں گے کیونکہ ان کے نہ ماننے کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ تمہاری صداقت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
Has a Rasul of Allah appeared in India and Pakistan too?
From verse 36 in the present Surah: وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا (And We did raise a messenger among every people), as well as from verse 24 of Surah Fatir: وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (And there is no group of people among whom there has not been a warner - 35:24), it outwardly appears that messen-gers may have also been sent to areas now known as India and Pakistan - whether residents of the area, or located in another country whose deputies or emissaries had reached there. Then, there is the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
32. That is, you are not justified in excusing yourselves for these sins, saying that it is the will of God for We sent Messengers to every ummat, who told the people in plain words that they should worship Us and none else, and should not follow and obey taghut. Besides this, We have already warned you that We do not approve of your deviations. Why should you then put forward this excuse for your deviations? Do you mean to say that We ought to have sent such Messengers as would have forced you to follow the right way instead of bringing you to it by preaching? Please refer to (E.N. 80 of…
Read the full tafseer →