Explained with ayahs 30–32
متقیوں کے لیے بہترین جزا
بروں کے حالات بیان فرما کر نیکوں کے حالات جو ان کے بالکل برعکس ہیں۔ بیان فرما رہا ہے برے لوگوں کا جواب تو یہ تھا کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب صرف گزرے لوگوں کے فسانے کی نقل ہے لیکن یہ نیک لوگ جواب دیتے ہیں کہ وہ سراسر برکت اور رحمت ہے جو بھی اسے مانے اور اس پر عمل کرے وہ برکت و رحمت سے مالا مال ہوجائے۔ پھر خبر دیتا ہے کہ میں اپنے رسولوں سے وعدہ کرچکا ہوں کہ نیکوں کو دونوں جہان کی خوشی حاصل ہوگی۔ جیسے فرمان ہے کہ جو شخص نیک عمل کرے، خواہ مرد ہو خواہ عورت۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ وہ مومن ہو تو ہم اسے بڑی پاک زندگی عطا فرمائیں گے اور اس کے بہترین اعمال کا بدلہ بھی ضرور دیں گے،…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 27
یعنی مکہ سے باہر کے لوگ جب خدا سے ڈرنے والے اور راستباز لوگوں سے نبی ﷺ اور آپ کی لائی ہوئی تعلیم کے بارے میں سوال کرتے ہیں، تو ان کا جواب جھوٹے اور بددیانت کافروں کے جواب سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ وہ جھوٹا پروپیگنڈا نہیں کرتے۔ وہ عوام کو بہکانے اور غلط فہمیوں میں ڈالنے کی کوشش نہیں کرتے۔ وہ حضور کی اور آپ کی لائی ہوئی تعلیم کی تعریفیں کرتے ہیں اور لوگوں کو صحیح صورت حال سے آگاہ کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
خلاصہ تفسیر
اور جو لوگ شرک سے بچتے ہیں ان سے (جو قرآن کے بارے میں) کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز نازل فرمائی ہے وہ کہتے ہیں کہ بڑی خیر (اور برکت کی چیز) نازل فرمائی ہے جن لوگوں نے نیک کام کئے ہیں (جس میں یہ قول مذکور اور تمام اعمال صالحہ آگئے) ان کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے (وہ بھلائی ثواب کا وعدہ و بشارت ہے) اور عالم آخرت تو (بوجہ اس کے کہ وہاں اس وعدہ کا تحقق و ظہور ہوجائے گا) اور زیادہ بہتر (اور موجب سرور) ہے اور واقعی وہ شرک سے بچنے والوں کا اچھا گھر ہے وہ گھر (کیا ہے) ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں یہ داخل ہوں گے ان باغوں کے (اشجار وعمارات کے) نیچے سے نہریں جاری ہوں گی جس چیز کو…
Read the full tafseer →وَقِيْلَ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا مَاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ قَالُوْا خَيْرًا ۭ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةٌ ۭ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ ۭ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِيْنَ۔
متکبرین کے بالمقابل متقین کا رویہ : اب یہ متکبرین کے مقابل میں، ان لوگوں کا رویہ بیان ہو رہا ہے جو خدا سے ڈرنے والے تھے۔ فرمایا کہ جب پوچھنے والے ان سے پوچھتے ہیں کہ خدا نے کیسی چیز اتاری ہے تو وہ اس کی نہایت تحسین کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ نہایت خوب چیز اتاری ہے۔ للذین احسنوا الایۃ یہ ان متقیوں اور خوب کاروں کا وہ صلہ بیان ہوا ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں ان کو ملنے والا ہے۔ فرمایا کہ ان کے لیے دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
29۔ 1 امام ابن کثیر فرماتے ہیں، ان کی موت کے فوراً بعد سب کی روحیں جہنم میں چلی جاتی ہیں اور ان کے جسم قبر میں رہتے ہیں (جہاں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے جسم و روح میں بعد کے باوجود، ان میں ایک گونہ تعلق پیدا کر کے ان کو عذاب دیتا ہے، (اور صبح شام ان پر آگ پیش کی جاتی ہے) پھر جب قیامت برپا ہوگی تو ان کی روحیں ان کے جسموں میں لوٹ آئیں گی اور ہمیشہ کے لئے یہ جہنم میں داخل کردیئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
15: اس سے معلوم ہوا کہ عذاب صرف ان لوگوں کو ہوگا جو کفر کی حالت میں مرے ہوں۔ اگر کوئی مرنے سے پہلے پہلے سچی توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول ہوجاتی ہے اور اسے معاف کردیا جاتا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
آیت نمبر 30 تا 32
متقین اس بات کو سمجھتے ہیں کہ دعوت اسلامی کا بنیادی عنصر خیر ہے۔ اللہ نے جو کلام نازل کیا ہے ، جو امرونہی اور ہدایت و قانون پر مشتمل ہے ، اس کی روح انسان کی بھلائی ہے ۔ یہ لوگ پوری داستان کو ایک لفظ کے کوزے میں بند کردیتے ہیں۔ ان سے جب پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے تو کہتے ہیں (خیرا) اور اس کے بعد وہ اس خیر کی تشریح اپنے علم و فضل کے مطابق کرتے ہیں۔
للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنۃ (16 : 30) “ اس طرح کے نیکو کاروں کے لئے اس دنیا میں بھلائی ہے ”۔ بہترین زندگی ، بہترین سازو سامان اور بہترین مقام و مرتبہ۔
ولدار الاخرۃ خیر ( 16 : 30) “ اور آخرت کا گھر تو ضرور ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
6 یہ مستکبرین کے مقابلہ میں متقین (پرہیزگاروں) کا حال بیان فرمایا کہ جب ان سے قرآن کے متعلق دریافت کیا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری تو نہایت عقیدت و ادب سے کہتے ہیں کہ " نیک بات جو سراپا خیر و برکت ہے " ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جس نے بھلائی کی دنیا میں اسے بھلائی کا خوشگوار پھل مل کر رہے گا۔ خدا کے یہاں کسی کی محنت اور ذرہ برابر نیکی ضائع نہیں جاتی۔
7 یعنی آخرت کی بھلائیوں اور نعمتوں کا تو پوچھنا ہی کیا ہے۔ دنیا و مافیا کی نعمتیں وہاں کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے مقابلہ میں ہیچ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
آیت 30 وَقِيْلَ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا مَاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ
دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں جن کے دلوں میں اخلاقی حس بیدار اور جن کی روحیں زندہ ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ محمد رسول اللہ جو کلام آپ لوگوں کو سناتے ہیں وہ کیا ہے ؟
قَالُوْا خَیْرًا
یعنی یہ کلام خیرہی خیر ہے اور ہماری ہی بھلائی کے لیے نازل ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
30 قرآن سراسر بھلائی ہے :۔ کفار مکہ سے جب آس پاس کے لوگ یہی سوال کرتے تو وہ کہتے کہ وہ تو بس پہلی قوموں کے قصے کہانیاں ہی ہیں جو ہم پہلے ہی بہت سن چکے ہیں لیکن وہی بیرونی لوگ جب یہی سوال کسی ایمان لانے والے اور متقی شخص سے کرتے ہیں تو ان کا جواب کفار مکہ کے جواب کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ نبی پر جو تعلیم نازل ہوئی ہے اس میں دنیا اور آخرت کی بھلائیاں ہی بھلائیاں ہیں۔ پھر یہ لوگ صرف زبان سے ہی ان باتوں کا اقرار نہیں کرتے بلکہ اللہ کی اس نازل کردہ تعلیم کو اپنے آپ پر نافذ بھی کرتے ہیں۔ اور جن کاموں کے کرنے کا انھیں حکم ہوتا ہے وہ احسن طور پر بجا لاتے ہیں اور جن کاموں سے منع کیا…
Read the full tafseer →42۔ یعنی ایسا کلام جو سرتا سر خیروبرکت ہی ہے۔ (آیت) ” للذین اتقوا “۔ یعنی وہ لوگ جو کفر وشرک سے بچے رہتے ہیں۔ قال اصحابنا یرید الذین اتقوا الشرک وایقنوا انہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ (کبیر) یعنی المومنین (بیضاوی) آیت نمبر 24 میں ابھی مکذبین قرآن کا ذکر آچکا ہے کہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا چیزاتری ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اساطیر الاولین۔ اب ٹھیک ان کے مقابل گروہ مومنین کا ذکر ہے، کہ جب ان سے قرآن کی بابت سوال کیا جاتا ہے، تو وہ جواب میں اسے سرتاسرخیروبرکت بتاتے ہیں۔
43۔ اس دنیا کی بھلائی سے تو مراد یہاں کی کل نعمتیں ہوسکتی ہیں، مثلا فتح ومال غنیمت، نیک نامی، فارغ البالی، اطمینان قلب، وغیرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
آیت نمبر 26 تا 34
ترجمہ : ان سے پہلے لوگوں نے بھ مکر کیا تھا، اور وہ نمرود تھا جس نے ایک بہت اونچا منارہ بنایا تاکہ اس پر چڑھ کر آسمان والوں سے
قتال کرے، آخر اللہ تعالیٰ نے ان بنیادوں کو جڑ سے اکھاڑدیا کہ ان پر آندھی اور زلزلہ بھیج کر ان کو منہدم کردیا، اور ان کے سروں پر ان کی چھتیں اوپر آپڑیں جس وقت وہ ان کے نیچے تھے اور ان پر عذاب وہاں سے آگیا جہاں کا انھیں وہم و گمان بھی نہ تھا، یعنی ایسی جہت سے کہ ان کے خیال و خواب میں بھ نہ تھا، اور کہا گیا ہے کہ یہ تمثیل ہے ان منصوبوں کو ناکام کرنے کی جن کو انہوں نے رسول کے خلاف استوار کیا تھا، پھر روز قیامت بھی اللہ انھیں رسوا کرے گا اور فرشتوں کے…
Read the full tafseer →وقیل للذین اتقوا ما ذا انزل ربکم قالوا خیرا اور جو لوگ (گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے سے) بچے رہے ‘ ان سے کہا گیا کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا تو انہوں نے کہا : بڑی بہتر چیز نازل کی۔ یعنی ایسا کلام نازل کیا جس میں دنیا و دین کی بھلائی ہے۔
للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنۃ جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک کام (افکار و اعمال) کئے ‘ ان کیلئے (اس دنیا میں بھی) بھلائی ہے۔ حضرت ابن عباس کے نزدیک حَسَنَۃ سے مراد ہے : ثواب کو دس گنا تک بڑھا دینا۔ ضحاک نے کہا : اس سے فتح و نصرت مراد ہے۔ مجاہد نے اچھی روزی مراد لی ہے۔ میں کہتا ہوں : حَسَنَۃ سے مراد ایسی پاکیزہ زندگی ہے جو خالق کی نظر میں بھی پسندیدہ ہو اور…
Read the full tafseer →(30) اور جو حضرات کفر وشرک اور تمام فواحش سے بچتے ہیں جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور دیگر صحابہ کرام ؓ ان سے کہا جاتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے تمہارے سامنے تمہارے پروردگار کا کیا پیغام بیان کیا تو وہ کہتے ہیں کہ توحید اور صلہ رحمی بیان کی اور جو حضرات توحید خداوندی پر کار بند ہیں، ان کو قیامت کے دن جنت ملے گی اور جنت تو پھر دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے کئی درجے بہتر ہے، اور واقعی جنت کفر وشرک اور فواحش سے بچنے والوں کے لیے اچھا گھر ہے۔
Read the full tafseer →وَقِيْلَ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا۔۔ : ”خَيْرًا“ ”خَیْرٌ“ اور ”شَرٌّ“ اصل میں اسم تفضیل کے صیغے ہیں، یعنی ”أَخْیَرُ“ اور اَشَرّ“ ، تخفیف کے لیے ”خَیْرٌ“ اور ”شَرٌّ“ بنادیا گیا، اس لیے ترجمہ کیا ہے ”بہترین بات“ یعنی سب سے اچھی بات۔ یہاں زمخشری نے ایک نکتہ بیان کیا ہے کہ یہی سوال اس سورت کی آیت (24) میں کفار سے کیا گیا تو ان کا جواب تھا ”اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ“ جو مرفوع ہے اور یہاں متقین سے یہی سوال ہوا تو انھوں نے کہا ”خَيْرًا“ جو منصوب ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ”اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ“ مبتدا ”ھِيَ“ کی خبر ہے، اس لیے مرفوع ہے، یعنی کفار نے مانا ہی نہیں کہ رب تعالیٰ نے کچھ نازل فرمایا، ورنہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
آیت نمبر 30 تا 32
قولہ تعالیٰ : وقیل للذین اتقوا ماذا انزل ربکم قالوا خیرا یعنی انہوں نے کہا : سراپا خیر نازل کیا اور کلام مکمل ہوگئی۔ اور ماذا اس بنا پر واحد اسم ہے۔ عرب سے کوئی آدمی ایام حج میں مکہ مکرمہ آتا تھا اور مشرکوں سے حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے مکیں پوچھتا تو وہ کہتے : ساحر ہے یا شاعر ہے یا کاہن ہے یا مجنون ہے۔ اور وہ مومنوں سے پوچھتا تو وہ کہتے : اللہ تعالیٰ نے ان پر خیر اور ہدایت نازل کی ہے، اور اس سے مراد قرآن کریم ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک قیامت کے دن یہ اہل ایمان کو کہا جائے گا۔ ثعلبی (رح) نے کہا ہے : پس اگر کہا جائے : اس قول باری تعالیٰ : اساطیر الاولین میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
1:۔ عبدبن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقیل للذین اتقوا “ سے مراد مومنین ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے ” ما ذا انزل ربکم “ (تمہارے رب نے کیا اتارا) تو وہ کہتے ہیں خیر کو اتارا (آیت) ” للذین احسنوا “ ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر اور اس کی کتابوں پر اور جنہوں نے اطاعت کی اور اللہ کے بندوں کو نیکی پر آمادہ کیا اور ان کو اس کی طرف بلایا۔
Read the full tafseer →[وَقِيْلَ؛اور (جب) کہا جاتا ہے ] [ لِلَّذِيْنَ : ان سے جنھوں نے ] [ اتَّقَوْا : تقوٰی اختیار کیا ] [ مَاذَآ : کیا ] [ انزَلَ : اتارا ] [ رَبُّكُمْ : تمہارے رب نے ] [ قَالُوْا : تو وہ کہتے ہیں ] [ خَيْرًا ۭ: (اس نے اتارا) بہترین کو ] [ لِلَّذِيْنَ : ان کے لئے جنھوں نے ] [ اَحْسَنُوْا : بلا کم وکاست کام کیا،] [ فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا : اس دنیا میں ] [ حَسَـنَةٌ ۭ: (ان کے لئے) ایک بھلائی ہے ] [ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ : اور یقینا آخرت کا گھر (تو)] [ خَيْرٌ ۭ: سب سے بہتر ہے ] [ وَلَنِعْمَ : اور یقینا کتنا اچھا ہے ] [ دَارُ الْمُتَّقِيْنَ : تقوٰی کرنے والوں کا گھر ]
ترکیب : (آیت۔ 30) خَیْرًا کی نصب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
اہل تقویٰ کا اچھا انجام، انہیں جنت کے باغوں میں وہ سب کچھ نصیب ہوگا جو ان کی خواہش ہوگی
گزشتہ آیات میں کافروں کے مکر اور آخرت میں جو انہیں عذاب ہوگا اور رسوائی ہوگی اس کا ذکر تھا اور اس بات کا بھی ذکر تھا کہ فرشتے ایسی حالت میں ان کی جانیں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں، ان آیات میں اہل ایمان کے اچھے اعمال اور اچھے اقوال کا تذکرہ فرمایا اور انہیں بشارت دی کہ وہ ایسے باغوں میں داخل ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اور ان باغیچوں میں ان کی خواہش کے مطابق سب کچھ موجود ہوگا جو بھی چاہیں گے وہ سب ملے گا، سورة زخرف میں فرمایا (وَفِیْہَا مَا تَشْتَہِیْہِ الْاَنْفُسُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
قال اللہ تعالیٰ : قد مکر الذین من قبلہم .... الیٰ .... ادخلوا الجنۃ بما کنتم تعملون۔
(ربط) ان آیات میں اول متکبرین کی اس دنیا وہ تباہی اور بربادی کا بیان ہے جو پہلے کافروں پر ناگہانی طور پر نازل ہوئی اس کے بعد الذین تتوفھم الملئکۃ ظالمی انفسھم۔ میں متکبرین کے اخروی عذاب کا بیان ہے یہ سب غرور اور تکبر کا نتیجہ ہے اور مقصود یہ ہے کہ جس طرح اگلے کافر اور متکبر ناگہانی بلاؤں میں مبتلا ہوئے جن کا پہلے سے کہیں وہم و گمان بھی نہ تھا اسی طرح تمہارا بھی یہی حال اور مآل ہوگا اور گزشتہ متکبرین کی طرح تم کو بھی غرور اور تکبر کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔ اور اس کے بعد وقیل للذین اتقوا الخ میں بطور مقابلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
25:۔ کفار کا حال اور ان کے لیے تخویف اخروی ذکر کرنے کے بعد اب مؤمنین کا حال اور ان کے لیے بشارت دنیوی و اخروی کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جب مؤمنین سے قرآن کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ اسے سراپا خیر و برکت قرار دیتے ہیں۔ ” لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا “ خبر مقدم۔ ” حَسَنَةٌ“ مبتداء مؤخر۔ یہ بشارت دنیوی ہے ” وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ “ یہ بشارت اخروی ہے۔ ” اَّلَّذِیْنَ تَتَوَفّٰھُمْ الخ “ یہ ادخال الٰہی ہے۔ ” طَیِّبِیْنَ “ یہ ضمیر مفعول سے حال ہے یعنی در آنحالیکہ وہ شرک کی نجاست سے پاک تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
(ربط آیات)
پہلے اللہ نے کافروں اور مشرکوں کا حال بیان کیا کہ جب ان سے قرآن پاک سے متعلق پوچھا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر پر کیا چیز اتاری ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ تو قصے کہانیاں ہیں وہ نہ صرف وحی الہی کا انکار کرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں اور اس کی تردید کرتے ہیں ، اللہ نے ان کا انجام بیان فرمایا کہ قیامت کے دن یہ لوگ نہ صرف اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائیں گے بلکہ ان لوگوں کے گناہوں کا بار بھی ان پر ہوگا جن کو انہوں نے دنیا میں گمراہ کیا ، پھر اللہ نے فرمایا کہ ان لوگوں نے دنیا میں اسلام کے خلاف بڑی منصوبہ بندی کی ، بڑی سکی میں بنائیں ، چال بازیاں کرتے رہے مگر کامیاب نہ ہو…
Read the full tafseer →وَقِيْلَ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا مَاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ قَالُوْا خَيْرًا ۭ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةٌ ۭ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ ۭ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِيْنَ 30ۙ
وقی
الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35]
( و ق ی ) وقی ( ض )
وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
ترکیب : ماذا محل نصب میں ہے انزل سے جیسا کہ ماذا کے جواب قالو اخیرا ای انزل خیرا سے معلوم ہوتا ہے جنت عدن مخصوص بالمدح نعم کا یدخلونہا اس سے حال اور ممکن ہے کہ جملہ مستانفہ ہو کہ یدخلونہا اس کی خبر ہو یا محذوف ہو طیبین حال من المفعول وھوالقوی وقیل من الفاعل مقارنۃ اومقدرۃ۔
تفسیر : کافروں کے مقابلہ میں مومنین کا ذکر کرتا ہے وقیل للذین الخ کہ ان سے جو قرآن کا حال پوچھا جاتا ہے تو اس کو بہتر اور عمدہ بتلاتے ہیں۔ مکہ کے مشرکین ایام حج میں بدمعاش لوگوں کو مکہ کے رستوں پر بٹھلا دیتے تھے اور عرب کے قبیلوں میں آنحضرت ﷺ کے دین اور قرآن کا ایک حیرت خیز چرچا پھیلا ہوا تھا۔ وہ اپنے ایلچی ان ایام میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
وَقِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَآ اَنْزَلَ رَبُّکُمْ ط قَالُوْا خَیْرًا ط لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّّنْیَا حَسَنَۃٌ ط وَلَدَارُالْاٰخِرَۃِ خَیْرٌ ط وَلَنِعْمَ دَارُالْمُتَّقِیْنَ ۔ جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَہَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ لَہُمْ فِیْھَا مَایَشَآئُ وْنَ ط کَذٰلِکَ یَجْزِی اللّٰہُ الْمُتَّقِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ طَیِّبِیْنَ لا یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْکُمُ لا ادْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 30۔ 31۔ 32)
(اور یوں ہی پوچھا گیا ان سے جو متقی تھے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے تو وہ جواب دیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
فہم القرآن
ربط کلام : کفار، مشرکین اور مجرموں کے انجام کے بعد متقی حضرات کا صلہ اور ان کے انجام اور انعام کا بیان۔
اس خطاب کا آغاز اس بات سے ہوا تھا کہ لوگو ! تمہارا الٰہ صرف ایک ہی الٰہ ہے۔ جس کے ردِّ عمل میں کافر اور مشرک یہ کہتے ہیں یہ تو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ کفر و شرک سے تائب ہوئے اور اللہ کی توحید کا اقرار کیا ان کا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ جب ان سے پوچھا جائے کہ تمہارے رب نے تمہاری ہدایت کے لیے کیا نازل فرمایا ہے وہ بلا تاخیر کہتے ہیں کہ ہمارے رب نے جو کچھ نازل کیا ہے اس میں ہماری بھلائی اور رہنمائی ہے۔ ان کے لیے دنیا میں بھی بہتری ہے اور آخرت میں ان کے لیے…
Read the full tafseer →متقین کا درست اقرار اور آخرت میں اچھا گھر :
30: وَقِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقُوْا (اور کہا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا) اِتَّقَوْا سے یہاں شرک سے بچنا مراد ہے۔ مَاذَآ اَنْزَلَ رَبُّکُمْ قَالُوْا خَیْرًا (تمہارے رب نے کیا اتارا وہ کہتے ہیں بڑی بہتر چیز نازل فرمائی) خَیْرًا کو منصوب لائے۔ اور پیچھے اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ میں اس کو مرفوع قرار دیا گیا۔ کیونکہ تقدیرعبارت یہاں اَنْزَلَ خیرًا ہے۔ پس وہ جواب کو سوال کے مطابق لائے۔ اور وہاں تقدیرعبارت یہ ہے ھُوَاَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ پس جواب ذکر کر کے سوال سے اعراض کیا۔ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا (اور ان…
Read the full tafseer →(30)” وقیل للذین اتقوا “ اور یہ اس وجہ سے کہ عرب کے بعض قبیلے موسم حج میں لوگوں کو بھیجا کرتے تھے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے متعلق خبر معلوم کریں تو وہ مشرک حاجیوں کے راستے میں بیٹھ جاتے تو ان بیٹھنے والوں سے گزرنے والا اگر پوچھتا تو یہ جواب دیتے کہ وہ ساحر، کاہن، جھوٹا، شاعر اور مجنون ہے ۔ (نعوذ باللہ) اگر پوچھنے والے کو اچھی خبر نہ ملتی تو وہ ان بیٹھنے والوں کے متعلق کہتا کہ یہ سب شر ہیں۔ اگر وہ وفد مکہ داخل ہونے سے پہلے واپس چلا جاتا تو اپنے حامیوں سے جا کر یہی خبر بیان کرتے اور اگر وہ مکہ میں داخل ہوجاتے تو پھر صحابہ کرام ؓ ان کو صحیح خبر دیتے کہ وہ سچے نبی (ﷺ) ہمارے اندر مبعوث ہوئے ہیں۔
ماذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
30۔ 32۔ نافرمان لوگ اللہ کے رسول اور قرآن کی شان میں جو کہتے تھے اس کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اللہ پاک نے متقی اور ایمان والوں کا حال بیان فرمایا کہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے تو جواب دیتے ہیں کہ نیک باتیں۔ پھر اللہ جل شانہ نے یہ فرمایا کہ جس نے بھلائی کی اس کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے ایک نیکی کا بدلہ دس دس سے سات سات سو یا اس سے بھی دوگنا جتنا خدا چاہے دے گا پھر فرمایا کہ اس سے بھی بہتر آخرت کا گھر ان کے واسطے تیار ہے پھر فرمایا کہ متقیوں کا انجام کیا ہی اچھا ہے کہ وہ لوگ دنیا میں آخرت کی پونجی جمع کرتے ہیں اور آخرت کا گھر جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
آیت 30
جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی وحی کو جھٹلایا، ان کے قول کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کے قول کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اس بات کا اقرار و اعتراف کیا کہ اللہ نے جو کتاب نازل فرمائی ہے، وہ ایک عظیم نعمت اور بڑی بھلائی ہے جس کے ذریعے سے اللہ نے بندوں پر احسان فرمایا۔ (ان کے لئے اس دنیا میں بھلائی ہے) پس انہوں نے اس نعمت کا قبولیت اور اطاعت کے جذبے کے ساتھ استقبال کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ پس انہوں نے اسے جانا اور اس پر عمل کیا۔ (للذین احسنوا) ” ان کے لئے جو نیکو کار ہیں۔ “ ) یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مقام احسان پر فائز ہوئے اور انہوں نے اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →59۔ قرآن حکیم سراسر خیروخوبی : سو اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ منکرین کے برعکس متقین کے نزدیک قرآن حکیم ایک عظیم الشان اور بےمثال خیر اور بھلائی ہے یعنی (خیرا) کی تنوین تعظیم کی ہے۔ اور فی الواقع یہ بھلائی اتنی بڑی ہے کہ اس کی بھلائی اور خیروبرکت دنیا وآخرت کی سب خیروبرکت کو حاوی و محیط ہے۔ ایسی خیر اور بھلائی جو انسان کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی فوز و فلاح کی کفیل وضامن ہے۔ بہرکیف ارشاد فرما گیا کہ یہی سوال جب متقی اور پرہیزگار لوگوں سے کیا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا اتارا ؟ تو یہ اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ ایک بہت ہی بڑی خیر اور عظیم الشان بھلائی کہ یہ سعادت دارین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
نیک لوگوں کے لیے خوش خبری
تشریح : اللہ تعالیٰ کا یہ خاص طریقہ ہے کہ جہاں وہ دوزخ کا ذکر کرتے ہیں تو ساتھ ہی جنت کا ذکر ضرور ہوتا ہے۔ یہاں ان آیات میں جنت کا ذکر ہے۔ جنت کی دو خاص صفتیں بتائی گئی ہیں۔ ایک تو وہاں کے عیش و آرام ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ دوسرا ان سے انسان کبھی اکتائے گا نہیں۔ جیسا کہ دنیا میں دکھ اور سکھ ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ وہاں ایسا نہ ہوگا حدیث میں آتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جو شخص جنت میں داخل ہوجائے گا وہ (ہمیشہ) عیش میں رہے گا، اسے کوئی رنج و تکلیف نہیں پہنچے گی۔ نہ اس کے کپڑے پرانے ہوں گے اور نہ اس کا ثبات فنا ہوگا۔ “ (صحیح مسلم)
ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
جہاں تک اپنی حفاظت اقتدار اور غلبے کا تعلق ہے جس کے خاطر یہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے سے نہیں چوکتے تو اس کی مثالیں سامنے ہیں کہ ان سے پہلی کافر قوموں نے بہت تدبیریں کی تھیں اور بڑے دنیاوی اسباب جمع کئے تھے مگر تقدیر باری کے سامنے پیش نہ گئی اللہ کریم نے انہیں ایسے برباد کیا کہ بنیادوں تک سے اکھیڑ دیا اور ان کی چھتیں انہی پر گر گئیں یعنی جو تدبیریں حفاظت کیلئے کی تھیں وہی تباہی کا باعث بن گئیں اور عذاب الہی نے ایسا پکڑا کہ وہ سمجھ ہی نہ پائے کہ یہ مصیبت کدھر سے آرہی ہے یہ تو دنیا کا حال تھا اصل خرابی تو میدان حشر میں ہوگی جب انہیں تمام عالم کے روبرو رسوا کیا جائے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ف 5 یعنی کفار تو قرآن کو ” اساطیر الاولین “ کہ کر اس کی تکذیب کرتے ہیں مگر مومن اس کو سراپا خیر و برکت سمجھ کر اس پر ایمان لاتے ہیں۔
6 دنیا میں ان کی زندگی سکھ اور چین سے گزرے گی اور اللہ تعالیٰ ان کی روزی میں خیر و برکت عطا فرمائے گا، یا آخرت میں انہیں بہتر ثواب ملے گا۔
Read the full tafseer →(16:30) خیرا۔ بہتر ، بھلائی، نیکی، نیک کام۔ پسندیدہ فعل ۔ عقل ۔ عدل۔ فضل۔ جملہ اشیاء نافعہ۔ خیر میں شامل ہیں۔ شر کی ضدّ ہے
حسنۃ۔ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کی جان، بدن یا حالات میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنۃ کہلاتی ہے۔ سیئۃ کی ضد ہے۔
ولدار الاخرۃ۔ آخرت کا گھر۔ یعنی آخرت کا ثواب۔
ولنعم۔ اور بہت ہی عمدہ ہے۔ کلمہ مدح ہے بئس کی ضد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 34
خیر خیر، بھلائی، دارلاخرۃ آخرت کا گھر۔ نعم اچھا ، بہتر۔ عدن ہمیشہ۔ طیبین پاک صاف۔ امر حکم، فیصلہ۔ یظلمون وہ ظلم اور زیادتی کرتے ہیں۔ اصاب پہنچا۔ حاق گھیر لیا، پہنچ گیا۔
تشریح : آیت نمبر 30 تا 34
گزشتہ آیات میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب کفار و مشرکین سے کوئی اجنبی آدمی یہ سوال کرتا تھا کہ یہ شخص جو نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اور جس قرآن کو وہ سناتے ہیں ان کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ وہ جواب دیتے کہ قرآن کیا ہے (نعوذ باللہ) گذرے ہوئے لوگوں کے کچھ قصے کہانیاں ہیں جو اس کتاب میں بیان کی گئی ہیں۔ قرآن کریم کی حقارت کے ساتھ ساتھ وہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں بھی ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
ایماندار لوگوں کا ذکر اور ان کی قبض روح کی قابل رشک کیفیت
ان آیتوں میں اللہ پاک نے متقی اور ایمان والوں کا حال بیان فرمایا کہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے، تو جواب دیتے ہیں کہ نیک باتیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ جس نے بھلائی کی ہے اس کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور نیکی کا بدلہ دس سے سات سو یا اس سے بھی دوگنا جتنا خدا چاہے دے گا۔ پھر فرمایا کہ اس سے بہتر آخرت کا گھر ان کے واسطے تیار ہے۔ پھر فرمایا کہ متقیوں کا انجام کیا ہی اچھا ہے کہ وہ لوگ دنیا میں آخرت کی پونجی جمع کرتے ہیں اور آخرت کا گھر جس میں یہ لوتگ داخل ہوں گے اس میں ہر ہر موقع ومحل سے نہریں جاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
[16] یعنی موت کے وقت تک کفر و شرک میں مبتلا رہے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
(ف 2) موت کے فرشتے کئی ہیں جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے ملک الموت حضرت عزرائیل کا مخصوص نام ہے جو موت کے عملہ کا اعلی افسر ہے ۔
دنیا میں جس قدر حادثے ہوتے ہیں ان کے اسباب دو قسم کے ہیں ، ایک وہ جو مادی ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جن کا تعلق فوق العادۃ قوتوں اور طاقتوں سے ہوتا ہے ، یہ دوسری قسم کے اسباب ملائکہ ہیں ، جو مادی اسباب پر اثر انداز ہوتے ہیں ، چناچہ موت کے لئے کچھ اسباب ظاہری ہیں جنہیں امراض کہتے ہیں کچھ باطنی اسباب ہیں ، یہ فرشتے ہیں صوفیا کے نزدیک امراض ہی ملائکہ موت ہیں ۔
Read the full tafseer →30 ۔ اور جو لوگ پرہیز گار اور شرک سے بچنے والے ہیں جب ان سے کہا جاتا ہے اور قرآن کریم کے بارے میں دریافت کیا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا چیز نازل فرمائی تو وہ کہتے ہیں اور جواب دیتے ہیں کہ خیر نازل فرمائی ہے جن لوگوں نے نیک اعمال کئے ان کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور عالم آخرت اور پچھلا گھر تو یقینا بہت ہی بہتر ہے اور واقعی وہ پرہیز گاروں اور شرک سے بچنے والوں کا اچھا گھر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ف 4۔ حاصل آیت کا یہ ہوا کہ تم نے اپنے سے پہلے کافروں کا حال خسارہ و عذاب دنیا و آخرت سنا لیا، اسی طرح جو تدبیر ومکر دین حق کے مقابلہ میں تم کر رہے ہو اور خلق کو گمراہ کرنا چاہتے ہو یہی انجام تمہارا ہوگا۔
Read the full tafseer →تفسیر :
متقی لوگوں سے پوچھا جائے گا تو وہ جواب دیں گے کہ ” اللہ نے حق اتارا تھا “۔
36۔ اور جو لوگ بچتے رہتے ہیں برائیوں سے ان سے پوچھا جائے گا کہ تمہارے پروردگار نے کیا چیز نازل کی ہے ؟ تو وہ کہیں گے کہ بڑی خیر نازل فرمائی ہے یعنی جو سرتاسر خیر و برکت ہے۔ متقی لوگ کون ہیں ؟ وہ لوگ ہیں جو کفر وشرک سے بچتے رہتے ہیں اور دل سے کلمہ طیبہ کا اقرار کرتے ہیں (بیضاوی) گزشتہ آیت 24 میں آچکا ہے کہ مکذبین قرآن سے جب پوچھا جاتا ہے کہ کیا چیز اتری ہے ؟ تو وہ کہتے ہیں (آیت) ” اساطیر الاولین “۔ یعنی پہلوں کی کہانیاں ہی تو اتری ہیں ۔ اب ٹھیک ان کے مقابل گروہ مومنین کا ذکر ہے کہ جب ان سے قرآن کریم کی بابت سوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–34
Commentary
It will be recalled that, after describing the blessings of Allah and proving that He was unique in the creation of the universe, the text made a pointed reference to how the polytheists chose to stick to their own ways of error. In the present verses, the text describes how they, not content with their own straying, tried that others should also go astray like them. The punishment they would get for doing that has also been stated here. Earlier to that (24), there is a question about the Qur’ an, and the addressees of the question, at this place, are the polytheists. It is their…
Read the full tafseer →27. In contrast to the disbelievers (Ayat 24), the righteous people spoke highly of the Prophet (peace be upon him) and of the teachings of the Quran to the people coming from the suburbs of Makkah. Unlike the former they did not delude the people nor created misunderstandings in the minds. They were full of praise for them and told the truth about the Prophet (peace be upon him).
Read the full tafseer →