Explained with ayahs 28–29
مشرکین کی جان کنی کا عالم
مشرکین کی جان کنی کے وقت کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب فرشتے ان کی جان لینے کے لئے آتے ہیں، تو یہ اس وقت سننے عمل کرنے اور مان لینے کا اقرار کرتے ہیں۔ ساتھ ہی اپنے کرتوت چھپاتے ہوئے اپنی بےگناہی بیان کرتے ہیں۔ قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کر اپنا مشرک نہ ہونا بیان کریں گے۔ جس طرح دنیا میں اپنی بےگناہی پر لوگوں کے سامنے جھوٹی قسمیں کھاتے تھے۔ انہیں جواب ملے گا کہ جھوٹے ہو، بد اعمالیاں جی کھول کہ کرچکے ہو، اللہ غافل نہیں جو باتوں میں آجائے ہر ایک عمل اس پر روشن ہے۔ اب اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتو اور جہنم کے دروازوں سے جا کر ہمیشہ اسی بری جگہ میں پڑے رہو۔ مقام…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 26
یہ آیت اور اس کے بعد والی آیت، جس میں قبض روح کے بعد متقیوں اور ملائکہ کی گفتگو کا ذکر ہے، قرآن ان متعدد آیات میں سے ہے جو صریح طور پر عذاب وثواب قبر کا ثبوت دیتی ہیں۔ حدیث میں ”قبر“ کا لفظ مجازا عالم برزخ کے لیے استعمال ہوا ہے، اور اس سے مراد وہ عالم ہے جس میں موت کی آخری ہچکی سے لے کر بعث بعد الموت کے پہلے جھٹکے تک انسانی ارواح رہیں گی۔ منکرین حدیث کو اس پر اصرار ہے کہ یہ عالم بالکل عدم محض کا عالم ہے جس میں کوئی احساس اور شعور نہ ہوگا۔ اور کسی قسم کا عذاب یا ثواب نہ ہوگا۔ لیکن یہاں دیکھیے کہ کفار کی روحیں جب قبض کی جاتی ہیں تو موت کی سرحد کے پار کا حال بالکل اپنی توقعات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
خلاصہ تفسیر
اور جب ان سے کیا جاتا ہے (یعنی کوئی ناواقف شخص تحقیق کے لئے یا کوئی واقف شخص امتحان کے لئے ان سے پوچھتا ہے) کہ تمہارے رب نے کیا چیز نازل فرمائی ہے (یعنی قرآن جس کو رسول کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کا نازل کیا ہوا فرماتے ہیں آیا یہ صحیح ہے) تو کہتے ہیں کہ (صاحب وہ رب کا نازل کیا ہوا کہاں ہے) وہ تو محض بےسند باتیں ہیں جو پہلوں سے (منقول) چلی آ رہی ہیں (یعنی اہل ملل پہلے سے توحید ونبوت ومعاد کے مدعی ہوتے آئے ہیں ان ہی سے یہ بھی نقل کرنے لگے باقی یہ دعوے اللہ تعالیٰ کے تعلیم دیئے ہوئے نہیں) نتیجہ اس (کہنے) کا یہ ہوگا کہ ان لوگوں کو قیامت کے دن اپنے گناہوں کا پورا بوجھ اور جن کو یہ لوگ بےعلمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
تفسیر آیت 28 تا 29:۔ الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ۠فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْۗءٍ ۭ بَلٰٓى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ فَادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ۔
کلام کا انطباق حال پر : یہ دو آیتیں بطور تضمین ہیں۔ اس تضمین سے اہل علم کی بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ صرف مستقبل کی ایک حکایت نہیں ہے بلکہ ان لوگوں پر بھی ٹھیک ٹھیک منطبق ہو رہی ہے جو آج اپنے غرور میں مست ہیں اور اسی حال میں مرتے ہیں۔ الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
29۔ 1 امام ابن کثیر فرماتے ہیں، ان کی موت کے فوراً بعد سب کی روحیں جہنم میں چلی جاتی ہیں اور ان کے جسم قبر میں رہتے ہیں (جہاں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے جسم و روح میں بعد کے باوجود، ان میں ایک گونہ تعلق پیدا کر کے ان کو عذاب دیتا ہے، (اور صبح شام ان پر آگ پیش کی جاتی ہے) پھر جب قیامت برپا ہوگی تو ان کی روحیں ان کے جسموں میں لوٹ آئیں گی اور ہمیشہ کے لئے یہ جہنم میں داخل کردیئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
15: اس سے معلوم ہوا کہ عذاب صرف ان لوگوں کو ہوگا جو کفر کی حالت میں مرے ہوں۔ اگر کوئی مرنے سے پہلے پہلے سچی توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول ہوجاتی ہے اور اسے معاف کردیا جاتا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
آیت نمبر 26 تا 29
قد مکرالذین من قبلھم (16 : 26) “ ان سے پہلے بھی بہت سے لوگ (حق کو نیچا دکھانے کے لیے ) ایسے ہی مکاریاں کرچکے ہیں ”۔ قرآن کریم ان کے پروپیگنڈے کو ایک ایسی عمارت سے تعبیر کرتا ہے جس کی بنیادیں بھی ہیں اور ستون بھی اور چھت بھی ہے۔ اس میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ ان کا پروپیگنڈا بڑ اگہرا ، مضبوط ، پختہ اور ضخیم تھا لیکن اللہ کی قوت اور تدبیر کے مقابلے میں یہ کامیاب نہ ہوا۔
فاقی اللہ بنیانھم من القواعد فخر علیھم الشقف من فوقھم (16 : 26) “ تو دیکھ لو کہ اللہ نے ان کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی اور اس کی چھت اوپر سے ان کے سر پر آرہی ”۔ یہ ایک ایسا منظر اور ایسی تصویر کشی ہے جس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
6 یہ مستکبرین کے مقابلہ میں متقین (پرہیزگاروں) کا حال بیان فرمایا کہ جب ان سے قرآن کے متعلق دریافت کیا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری تو نہایت عقیدت و ادب سے کہتے ہیں کہ " نیک بات جو سراپا خیر و برکت ہے " ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جس نے بھلائی کی دنیا میں اسے بھلائی کا خوشگوار پھل مل کر رہے گا۔ خدا کے یہاں کسی کی محنت اور ذرہ برابر نیکی ضائع نہیں جاتی۔
7 یعنی آخرت کی بھلائیوں اور نعمتوں کا تو پوچھنا ہی کیا ہے۔ دنیا و مافیا کی نعمتیں وہاں کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے مقابلہ میں ہیچ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
آیت 28 الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ
ایسے لوگ جنہیں اپنی زندگی میں اللہ یاد ہے نہ آخرت نیکی کی رغبت ہے نہ برائی سے نفرت بس اپنی عیش کوشی اور نفس پرستی میں مگن ہیں۔ اسی حالت میں جب فرشتے ان کے پاس پروانۂ موت لے کر آ دھمکیں گے :
بَلٰٓى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ
موت کے فرشتوں کے سامنے وہ سرتسلیم خم کرتے ہوئے اپنے اسلام اور اطاعت کا اظہار کریں گے اور اس طرح ان کے سامنے بھی جھوٹ بولنے کی کوشش کریں گے۔
Read the full tafseer →29۔ الف یہ مضمون پہلے سورة الحجرأت آیت 44 میں آچکا ہے وہاں سے حاشیہ دیکھ لیا جائے۔
Read the full tafseer →41۔ یعنی ان لوگوں کا جو رعونت نفس کی بنا پر قبول حق سے انکار کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” فلبئس “۔ میں ل تاکید کا ہے۔ واللام فی فلبئس لام التاکید (بحر) (آیت) ” مثوی المتکبرین “ ان الفاظ سے گویا یہ ظاہر کردیا کہ تکبر کی قدرتی اجزاء دوزخ ہی ہے۔ ووصف التکبیر دلیل علی استحقاق صاحبہ النار (بحر) (آیت) ” فادخلوا ابواب جھنم “۔ یعنی اپنی اپنی منزل وطبقہ کے مطابق جہنم کے مختلف دروازوں سے اس کے مختلف درجوں میں داخل ہو۔ خطاب لکل صنف منھم ان یدخل باب من ابواب جھنم (روح) ” خلدین فیھا “ یہاں تمام اہل جہنم کو سنا دیا کہ درجات عذاب گونسبۃ کم اور زائد ہوں، لیکن خلود و دوام بہرحال سب کے لیے ہے۔ رہائی، مخلصی کی صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
آیت نمبر 26 تا 34
ترجمہ : ان سے پہلے لوگوں نے بھ مکر کیا تھا، اور وہ نمرود تھا جس نے ایک بہت اونچا منارہ بنایا تاکہ اس پر چڑھ کر آسمان والوں سے
قتال کرے، آخر اللہ تعالیٰ نے ان بنیادوں کو جڑ سے اکھاڑدیا کہ ان پر آندھی اور زلزلہ بھیج کر ان کو منہدم کردیا، اور ان کے سروں پر ان کی چھتیں اوپر آپڑیں جس وقت وہ ان کے نیچے تھے اور ان پر عذاب وہاں سے آگیا جہاں کا انھیں وہم و گمان بھی نہ تھا، یعنی ایسی جہت سے کہ ان کے خیال و خواب میں بھ نہ تھا، اور کہا گیا ہے کہ یہ تمثیل ہے ان منصوبوں کو ناکام کرنے کی جن کو انہوں نے رسول کے خلاف استوار کیا تھا، پھر روز قیامت بھی اللہ انھیں رسوا کرے گا اور فرشتوں کے…
Read the full tafseer →فادخلوا ابواب جھنم خلدین فیھا فلبئس مثوی المتکبرین پس جہنم کے دروازوں میں (سے جہنم میں) داخل ہوجاؤ اور اس میں ہمیشہ کیلئے رہو۔ غرض تکبر کرنے والوں کیلئے جہنم برا ٹھکانا ہے۔ یعنی تم میں سے ہر صنف جہنم کے اس مخصوص دروازہ میں داخل ہو جو اس صنف کیلئے مقرر کیا گیا ہے۔ بعض علماء نے کہا : ابواب جہنم سے مراد ہیں : عذاب جہنم کی مختلف قسمیں۔
ضروری توضیح از مترجم
بظاہر خالِدِیْنَ فِیْھَا، ادخُلوا کی ضمیر فاعل سے حال ہے اور حال و ذوالحال کا زمانہ حسب قاعدۂ نحو ایک ہونا چاہئے اور ظاہر ہے کہ دوزخ میں داخل ہونے کے وقت خلود نہیں ہوسکتا۔ داخل ہونا محدود وقت میں ہوگا اور اندر رہنا ہمیشہ ہوگا ‘ اسلئے حضرت مفسر…
Read the full tafseer →(29) سو جہنم میں جاؤ، اس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہو، وہاں تمہیں نہ موت آئے گی اور نہ وہاں سے تم نکالے جاؤ گے، جہنم کافروں کا بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
Read the full tafseer →فَادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ : جہنم کے دروازوں کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة حجر (44)۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 29
قولہ تعالیٰ : فادخلوا ابواب جھنم یعنی یہ ان کی موت کے وقت کہا جائے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ان کے لئے عذاب قبر کے بارے بشارت اور اطلاع ہے، کیونکہ یہ کافروں کے لئے جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : دوسرے درکہ والا اس تک نہیں پہنچے گا مگر پہلے درکہ میں داخل ہونے کے ساتھ پھر دوسرے اور پھر تیسرے میں آگے اسی طرح۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کہ ہر درکہ کا الگ دروازہ ہے، پس بعض ایک دروازے سے داخل ہوں گے اور بعض دوسرے دروازے سے۔ واللہ اعلم۔ خلدین فیھا یعنی وہ اس میں پڑے رہیں گے۔ فلیئس مثوی یعنی کتنا برا مقام ہے۔ المتکبرین ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ایمان لانے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قد مکر الذین من قبلہم “ سے مراد نمرود بن کعنان ہے جب اس نے اونچی عمارت بنائی۔
2:۔ عبدالرزاق اور ابن جریر نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ زمین میں سب سے پہلے جبار (یعنی قہر وغضب والا) نمرود تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر ایک مچھر بھیجا جو اس کے ناک کے نتھنے میں گھس گیا وہ چار سو سال تک اس حال میں رہا کہ اس کا سر ہتھوڑے سے پیٹا جاتا تھا (جس سے اس کا آرام ملتا تھا) اس پر سب سے زیادہ رحم کرنے والا وہ شخص ہوتا جو اپنے ہاتھوں کو جمع کرکے اس کے سر کو مارتا تھا اور وہ چار سو سال تک جبار رہا تو اللہ تعالیٰ نے بھی چار سو سال تک عذاب دیا…
Read the full tafseer →[فَادْخُلُوْٓا : پس (اب) داخل ہو جائو ] [ اَبْوَابَ جَهَنَّمَ : جہنم کے دروازوں میں ] [ خٰلِدِيْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] [ فِيْهَا ۭ: اس میں ] [ فَلَبِئْسَ : تو یقینا کتنا برا ہے ] [ مَثْوَى الْمُتَكَبِرِيْنَ : گھمنڈ کرنے والوں کا ٹھکانہ ]
Read the full tafseer →(فَادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا) (سو تم دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ اس میں ہمیشہ رہو گے) (فَلَبِءْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ ) (سو تکبر والوں کا برا ٹھکانہ ہے) تکبر نے ان کو حق قبول کرنے نہ دیا لہٰذا دوزخ ہی ان کے مناسب حال ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
قال اللہ تعالیٰ : قد مکر الذین من قبلہم .... الیٰ .... ادخلوا الجنۃ بما کنتم تعملون۔
(ربط) ان آیات میں اول متکبرین کی اس دنیا وہ تباہی اور بربادی کا بیان ہے جو پہلے کافروں پر ناگہانی طور پر نازل ہوئی اس کے بعد الذین تتوفھم الملئکۃ ظالمی انفسھم۔ میں متکبرین کے اخروی عذاب کا بیان ہے یہ سب غرور اور تکبر کا نتیجہ ہے اور مقصود یہ ہے کہ جس طرح اگلے کافر اور متکبر ناگہانی بلاؤں میں مبتلا ہوئے جن کا پہلے سے کہیں وہم و گمان بھی نہ تھا اسی طرح تمہارا بھی یہی حال اور مآل ہوگا اور گزشتہ متکبرین کی طرح تم کو بھی غرور اور تکبر کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔ اور اس کے بعد وقیل للذین اتقوا الخ میں بطور مقابلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
24:۔ یہ الکافرین کی صفت ہے اور یہاں سے لے کر ” فَلَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ “ تک ادخال الٰہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے بیان فرمایا ہے کہ ظالموں یعنی مشرکوں کا یہ حال ہوگا۔ ” ظَالِمِیْ اَنْفُسِھِمْ “ یہ ” تَتَوَفّٰهُمْ “ کی ضمیر منصوب سے حال ہے یعنی یہ مشرکین شرک کی وجہ سے اپنے اوپر طلم کرتے رہے اور مرتے دم تک شرک پر ڈٹے رہے۔ ” تَتَوَفّٰهُمُ الْمَلٰئِکَةُ “ سے معلوم ہوا کہ جان قبض کرنے پر صرف ایک فرشتہ (عزرائیل) ہی مقرر نہیں بلکہ اس کام پر بہت سے فرشتے مامور ہیں جو عزرائیل کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ اس سے اہل بدعت کا یہ استدلال باطل ہوگیا کہ اگر ایک عزرائیل فرشتہ ایک وقت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
(ربط آیات)
اللہ تعالیٰ نے پہلے توحید کے دلائل بیان فرمائے اور پھر غیروں کو الہ ماننے والوں کی تردید فرمائی ، اللہ نے واضح فرمایا کہ خالق ، رب ، علیم کل ، قادر مطلق ، نافع اور ضار اس کے سوا کوئی نہیں ، لہذا عبادت کے لائق بھی کوئی نہیں ہو سکتا معبود برحق وہی اکیلا ہے اور اس بات میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اس کے بعد اللہ نے منکرین توحید کے باطل عقیدے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ ایک تو انہیں آخرت کے محاسبے کا یقین نہیں ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ تکبر کرتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ کفر شرک ، اور نافرمانی پر مصر ہیں ، جب ان کے سامنے اللہ کا کلام یا رسولوں کی بات پیش کی جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ تو پہلے…
Read the full tafseer →فَادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ 29
جهنم
جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ
معرّب جهنام «1» ، وقال أبو مسلم : كهنّام «2» ، والله أعلم .
( ج ھ ن م ) جھنم
۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔
بِئْسَ
و «بِئْسَ» كلمة تستعمل في جمیع المذام،
كما أنّ نعم تستعمل في جمیع الممادح، ويرفعان ما فيه الألف واللام، أو مضافا إلى ما فيه الألف واللام، نحو : بئس الرجل زيد، وبئس غلام الرجل زيد . وينصبان النکرة نحو : بئس رجلا، ولَبِئْسَ ما کانوا يَفْعَلُونَ [ المائدة/ 79] ، أي : شيئا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
الذین 1 ؎ تتوفہم الملائکہ یہ کفار کی رسوائی اور قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ اس روز ان سے خدا پوچھے گا کہ جن کو تم نے دنیا میں میرا شریک بنا رکھا تھا وہ کہاں ہیں، جواب نہ آئے گا، سرنگوں ہوجائیں گے، ان کی سرزنش کے لیے علماء، انبیاء، ملائکہ کہیں گے کہ یہ بڑے بدنصیب اور قابل سزا ہیں۔ مرتے دم تک یعنی اس وقت تک کہ فرشتے جان نکالنے آئے، اپنی اسی بت پرستی اور بدکاری میں اپنی جانوں پر ستم ڈھا رہے تھے اس وقت بھی ان کو توبہ نصیب نہ ہوئی اس پر وہ بدبخت سر نیچا کر کے ان اہل علم کے جواب میں کہیں گے ہم تو دنیا میں کوئی بھی برا کام نہیں کرتے تھے۔ ان کی دروغ گوئی پر ملائکہ کہیں گے کہ تم جھوٹے ہو، تمہارے…
Read the full tafseer →فَادْخُلُوْ ٓا اَبْوَابَ جَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط فَلَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ ۔
(سورۃ النحل : 29)
(پس اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، اسی میں ہمیشہ رہنے والے بن کر۔ بیشک برا ٹھکانہ ہے
غرور وتکبر کرنے والوں کے لیے۔ )
کافروں کی جب جان نکالی جائے گی اور جس طرح ان کے ساتھ توہین آمیز سلوک ہوگا اسی وقت ان کو یہ بھی بتادیا جائے گا کہ اب تمہارے مقدر میں جہنم ہے، بس اب اسی کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ جہنم میں داخلہ اگرچہ قیامت کے دن ہوگا لیکن اس کی خبر انھیں قبض روح کے ساتھ ہی دے دی جائے گی۔ پھر جہنم کے دروازوں کا بھی ذکر فرمایا تاکہ کافروں کو اس کی وسعت کا اندازہ ہوجائے اور یہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
فہم القرآن
ربط کلام : آخرت میں کفار اور مشرکین کی ذلت کی ابتداء۔
کفار اور مشرکین کے بارے میں بتلایا جا رہا ہے کہ ان کی موت ذلت کے ساتھ ہوگی اور قیامت کے دن بھی ذلیل ہوں گے۔ اس سے قبل دو آیات میں یہ بتلایا ہے کہ کفار دنیا میں بھی ذلیل ہوتے ہیں۔ بالخصوص انبیاء کرام کا براہ راست مقابلہ کرنے والے کفار اور مشرک بالآخر دنیا میں ذلیل ہوئے۔ اب یہ بتلایا جاتا ہے کہ ان کی ذلت کی ابتدا اسی وقت ہوجاتی ہے جب ملائکہ ان کی روح قبض کرتے ہیں۔ ملائکہ پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے ؟ وہ خوف کے مارے کہتے ہیں ہم کوئی برے کام نہیں کررہے تھے۔ ملائکہ انہیں جھڑکیاں دیتے ہوئے کہتے ہیں کیوں نہیں ! تم اپنے رب کے…
Read the full tafseer →29: فَادْخُلُوْا اَبْوَابَ جَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا فَلَبِئْسَ مَثْوی الْمُتَکَبِّرِیْنَ (تم جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجائو پس متکبرین کا ٹھکانہ بہت برا ہے) یعنی جہنم۔
Read the full tafseer →(29)” فادخلوا “ ان کو کہاجائے گا کہ داخل ہوجائو۔ ” ابواب جہنم خالدین فیھا فلیس مثوی المتکبرین “ ایمان سے منہ پھیرنے والوں کای ہی انجام بد ہوگا۔
Read the full tafseer →29۔ جب کفار قیامت کے دن قسمیں کھا کر یہ بات کہیں گے کہ ہمیں تو کچھ بھی خبر نہیں کہ ہم برے عمل کرتے تھے اور اللہ پاک ان کے جواب میں کہے گا کہ ہاں تم برے عمل جو کرتے تھے ان کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے پھر اس جواب وسوال کے بعد انہیں حکم ہوگا کہ جہنم کے دروازوں میں تم داخل ہوجاؤ اور ہمیشہ ہمیشہ کو بس اسی میں رہو اور یہی برا ٹھکانا تکبر اور غرور کرنے والوں کا ہے جو خدا اور رسول کی باتوں کو جھٹلایا کرتے تھے اور اپنی مالداری کے گھمنڈ میں رہے اور بت پرستی سے باز نہ آئے کفار جس و قت مرتے ہیں اسی وقت سے ان کو عذاب قبر کی سختی صبح شام دوزخ میں ان کا ٹھکانا دکھائے جانے کی سختی ہے اور پھر قیامت کے دن دوزخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
آیت 24
اللہ تبارک و تعالیٰ آیات الٰہی کے بارے میں مشرکین کی شدت تکذیب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (واذا قیل لھم ماذا انزل ربکم) ” جب ان سے کہا جاتا ہے، تمہارے رب نے کیا اتارا ہے ؟ “ یعنی جب ان سے قرآن اور وحی، جو اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے۔۔۔ کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔۔۔ کہ تمہار اسا کی بابت کیا جواب ہے ؟ کیا تم اس نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے شکر ادا کرتے ہو یا اس کی ناشکری کرتے ہوئے عناد رکھتے ہو ؟ “ تو وہ بدترین جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں یہ (اساطیر الاولین) ” پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں “ یعنی یہ جھوٹ ہے جسے محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے۔ یہ گزرے ہوئے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جنہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →57۔ منکروں کے لئے دوزخ میں داخلے کا حکم۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو حکم ہوگا کہ اب تم داخل ہوجائے دوزخ میں ہمیشہ کے لئے جس سے نہ کبھی نکل سکوگے اور نہ ہی وہاں کا عذاب ایسا ہوگا کہ کبھی ختم ہوسکے یا کسی قدر ہلکا ہوسکے۔ اور جب تم لوگ کفر وباطل پر ہی زندگی پھر اڑے رہے اور تم کفر ہی کی حالت میں جان دی تو اب تمہارے لیے ہمیشہ کا عذاب ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایسے بدبختوں کو اس طرح کی کسی اپیل و درخواست کا کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اور ان کو اسی وقت صاف طور پر کہہ دیا جاتا ہے کہ اب داخل ہوجائے تم جہنم کے دروازوں میں، اسی میں رہنا ہے تم کو ہمیشہ کے لئے سو یہ وہ خسارہ ہے جس جیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
قیامت کے دن مشرکین اور کفار کی رسوائی اور ذلت
تشریح : پچھلی آیات میں دنیا میں دیے گئے عذاب کا ذکر ہے اب ان آیات میں کفار کی وہ حالت بیان کی گئی ہے جو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیے جانے اور حساب کتاب کے وقت ہوگی۔ تب وہ سوحیلے بہانے بنائیں گے اور عذاب الٰہی سے بچنے کی کئی تدبیریں کریں گے مگر سب بےکار ہوگا۔ کیونکہ اللہ سب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے رہے لہٰذا ان کے برے اعمال اور شرک و کفر کی وجہ سے ان کو حکم دیا جائے گا کہ دوزخ کے دروازوں سے جہنم میں داخل ہوجاؤ اور ہمیشہ اسی میں رہو۔ ان کا کوئی شریک وہاں کام نہیں کرے گا۔ آخرت کا لفظ 115 دفعہ اور دنیا کا لفظ بھی قرآن میں 115 دفعہ آیا ہے۔ اور قیامت تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
جہاں تک اپنی حفاظت اقتدار اور غلبے کا تعلق ہے جس کے خاطر یہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے سے نہیں چوکتے تو اس کی مثالیں سامنے ہیں کہ ان سے پہلی کافر قوموں نے بہت تدبیریں کی تھیں اور بڑے دنیاوی اسباب جمع کئے تھے مگر تقدیر باری کے سامنے پیش نہ گئی اللہ کریم نے انہیں ایسے برباد کیا کہ بنیادوں تک سے اکھیڑ دیا اور ان کی چھتیں انہی پر گر گئیں یعنی جو تدبیریں حفاظت کیلئے کی تھیں وہی تباہی کا باعث بن گئیں اور عذاب الہی نے ایسا پکڑا کہ وہ سمجھ ہی نہ پائے کہ یہ مصیبت کدھر سے آرہی ہے یہ تو دنیا کا حال تھا اصل خرابی تو میدان حشر میں ہوگی جب انہیں تمام عالم کے روبرو رسوا کیا جائے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ف 5 یعنی کفار تو قرآن کو ” اساطیر الاولین “ کہ کر اس کی تکذیب کرتے ہیں مگر مومن اس کو سراپا خیر و برکت سمجھ کر اس پر ایمان لاتے ہیں۔
6 دنیا میں ان کی زندگی سکھ اور چین سے گزرے گی اور اللہ تعالیٰ ان کی روزی میں خیر و برکت عطا فرمائے گا، یا آخرت میں انہیں بہتر ثواب ملے گا۔
Read the full tafseer →(16:29) مثوی۔ ظرف مکان واحد۔ مثاوی جمع۔ ٹھکانا۔ دراز مدت تک ٹھہرنے کا انتظام فرودگاہ۔
آیات 27 ۔ 28 ۔ 29 میں کلام اور متکلم کے متعلق اشکال ہے جس کی وضاحت حسب ذیل ہے۔
یقول این ۔۔ سے تشاقون فیہم تک اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
ان الخزی الیوم ۔۔ ظالمی انفسہم اہل علم کا کلام ہے۔
ما کنا نعمل من سوء ۔۔ یہ کفار مشرکین کا کلام ہے۔
بلی ان اللہ ۔۔ خلدین فیھا۔ اہل علم کا کلام ہے۔
فلبئس مثوی المتکبرین۔ ارشاد ِ ربانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 29
بنیان گھر۔ القواعد بنیادیں۔ خر گر پڑا۔ سقف چھت۔ فوق اوپر۔ یخزی وہ ذلیل و رسوا کرے گا۔ این کہاں ؟ شرکاءی میرے شریک۔ تشاقون تم لڑتے ہو۔ اوتوا العلیم جن کو علم دیا گیا۔ تتوفی جان نکالتے ہیں۔ القوا انہوں نے ڈالا۔ اسلم صلح کا پیغام۔ مثویٰ ٹھکانا۔ المتکبرین بڑائی کرنے والے۔
تشریح آیت نمبر 26 تا 29
گزشتہ آیات میں جس مضمون کو شروع کیا گیا تھا اس کی تکمیل کی جا رہی ہے ساری دنیا کو اور خصا طور پر مکہ کے ان لوگوں سے خطاب کیا جا رہا ہے جو حج وغیرہ کے موقعوں پر آنے والے بیخبر لوگوں کے سامنے قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ کی ذات کے متعلق حقارت سے ذکر کرتے تاکہ اجنبی آدمی کے دل میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
بد لوگوں کی جان قبض کرنے کی خوفناک حالت
اس آیت میں بد لوگوں کی اور اس سے آگے کی آیت میں نیک لوگوں کی قبض روح کا حال ہے کہ بد لوگوں کی قبض روح کے لئے خوفناک صورت کے فرشتے آتے ہیں۔ اور عذاب قبر اور عذاب قیامت کا حال اس قریب المرگ شخص کی روح کو سناتے ہیں۔ اس کو سن کر وہ روح ڈرتی ہے اور جگہ بدن میں چھپتی ہے۔ وہ فرشتے روح کو بدن سے نکالنے کی غرض سے اس بد شخص کے منہ اور اس کی پیٹھ پر بڑی بری طرح مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خبیث جان اب بدن سے نکل، اللہ کا غضب اور عذاب تیرے لئے تیار ہے۔ روگٹے رونگٹے کو تکلیف پہنچ کر بد آدمی کی روح نکلتی ہے اور روح کے نکلتے ہی زمین پر ایک طرح کی بدبو پھیلتی ہے۔ اس بدبو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
[16] یعنی موت کے وقت تک کفر و شرک میں مبتلا رہے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
(ف 2) موت کے فرشتے کئی ہیں جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے ملک الموت حضرت عزرائیل کا مخصوص نام ہے جو موت کے عملہ کا اعلی افسر ہے ۔
دنیا میں جس قدر حادثے ہوتے ہیں ان کے اسباب دو قسم کے ہیں ، ایک وہ جو مادی ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جن کا تعلق فوق العادۃ قوتوں اور طاقتوں سے ہوتا ہے ، یہ دوسری قسم کے اسباب ملائکہ ہیں ، جو مادی اسباب پر اثر انداز ہوتے ہیں ، چناچہ موت کے لئے کچھ اسباب ظاہری ہیں جنہیں امراض کہتے ہیں کچھ باطنی اسباب ہیں ، یہ فرشتے ہیں صوفیا کے نزدیک امراض ہی ملائکہ موت ہیں ۔
Read the full tafseer →29 ۔ سو اچھا اب تم جہنم کے دروازوں میں سے جہنم میں داخل ہو جائو در انحالی کہ وہاں تم ہمیشہ رہنے والے ہو ۔ غرض وہ جہنم سرکشوں غرور کرنے اور مخالفت کرنیوالوں کا برا ٹھکانہ ہے۔ یعنی الزام ثابت ہوجانے کے بعد جہنم میں داخل ہونے کا حکم دے دیا جائے گا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ف 4۔ حاصل آیت کا یہ ہوا کہ تم نے اپنے سے پہلے کافروں کا حال خسارہ و عذاب دنیا و آخرت سنا لیا، اسی طرح جو تدبیر ومکر دین حق کے مقابلہ میں تم کر رہے ہو اور خلق کو گمراہ کرنا چاہتے ہو یہی انجام تمہارا ہوگا۔
Read the full tafseer →کافروں کو قیامت کے روز دوزخ میں داخل ہونے کے متعلق کہا جائے گا :
35۔ سمجھ لینا چاہئے کہ بہشت یا دوزخ جو کچھ ہے انسان کے اپنے عمل کا لازمی نتیجہ ہے جس طرح دنیا کے ہر عمل کا کوئی نہ کوئی لازمی نتیجہ ہے مثلا کھانے کا نتیجہ شکم سیری ‘ پینے کا سیرابی ‘ بھوک کا تکلیف ‘ بیماری کا بےآرامی ‘ گرنے کا چوٹ ‘ زہر کا موت ‘ شہد کا مٹھاس غرض ہر اچھے یا برے فعل کا ایک لازمی جسمانی نتیجہ ہے جو دنیا میں ہمارے عمل کے بعد ہم کو ملتا رہتا ہے اسی طرح ہم کو اپنے اعمال کا ایک روحانی نتیجہ بھی لازمی ملنے والا ہے جو ہم کو اس دوسرے عالم میں ملے گا پھر جس طرح زہر کھا کر مرنے کی ذمہ داری خود ہم ہی پر عائد ہوتی ہے اور ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–34
Commentary
It will be recalled that, after describing the blessings of Allah and proving that He was unique in the creation of the universe, the text made a pointed reference to how the polytheists chose to stick to their own ways of error. In the present verses, the text describes how they, not content with their own straying, tried that others should also go astray like them. The punishment they would get for doing that has also been stated here. Earlier to that (24), there is a question about the Qur’ an, and the addressees of the question, at this place, are the polytheists. It is their…
Read the full tafseer →26. The (Ayats 28 and 32), and several other verses in the Quran, clearly and definitely assert that immediately after death, souls suffer torment or enjoy peace in the world of Barzakh. The traditions use the word qabar (grave) metaphorically for this existence of the souls. This is the world in which souls enter immediately after death and will remain therein up to the Day of Resurrection. Yet the disbelievers of the traditions declare that after death souls will remain in a dormant state up to the time of Resurrection, and will neither feel any pain nor joy, nor will be conscious of…
Read the full tafseer →