Explained with ayahs 28–29
مشرکین کی جان کنی کا عالم
مشرکین کی جان کنی کے وقت کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب فرشتے ان کی جان لینے کے لئے آتے ہیں، تو یہ اس وقت سننے عمل کرنے اور مان لینے کا اقرار کرتے ہیں۔ ساتھ ہی اپنے کرتوت چھپاتے ہوئے اپنی بےگناہی بیان کرتے ہیں۔ قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کر اپنا مشرک نہ ہونا بیان کریں گے۔ جس طرح دنیا میں اپنی بےگناہی پر لوگوں کے سامنے جھوٹی قسمیں کھاتے تھے۔ انہیں جواب ملے گا کہ جھوٹے ہو، بد اعمالیاں جی کھول کہ کرچکے ہو، اللہ غافل نہیں جو باتوں میں آجائے ہر ایک عمل اس پر روشن ہے۔ اب اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتو اور جہنم کے دروازوں سے جا کر ہمیشہ اسی بری جگہ میں پڑے رہو۔ مقام…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 25
یعنی جب موت کے وقت ملائکہ ان کی روحیں ان کے جسم سے نکال کر اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
خلاصہ تفسیر
اور جب ان سے کیا جاتا ہے (یعنی کوئی ناواقف شخص تحقیق کے لئے یا کوئی واقف شخص امتحان کے لئے ان سے پوچھتا ہے) کہ تمہارے رب نے کیا چیز نازل فرمائی ہے (یعنی قرآن جس کو رسول کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کا نازل کیا ہوا فرماتے ہیں آیا یہ صحیح ہے) تو کہتے ہیں کہ (صاحب وہ رب کا نازل کیا ہوا کہاں ہے) وہ تو محض بےسند باتیں ہیں جو پہلوں سے (منقول) چلی آ رہی ہیں (یعنی اہل ملل پہلے سے توحید ونبوت ومعاد کے مدعی ہوتے آئے ہیں ان ہی سے یہ بھی نقل کرنے لگے باقی یہ دعوے اللہ تعالیٰ کے تعلیم دیئے ہوئے نہیں) نتیجہ اس (کہنے) کا یہ ہوگا کہ ان لوگوں کو قیامت کے دن اپنے گناہوں کا پورا بوجھ اور جن کو یہ لوگ بےعلمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
تفسیر آیت 28 تا 29:۔ الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ۠فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْۗءٍ ۭ بَلٰٓى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ فَادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ۔
کلام کا انطباق حال پر : یہ دو آیتیں بطور تضمین ہیں۔ اس تضمین سے اہل علم کی بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ صرف مستقبل کی ایک حکایت نہیں ہے بلکہ ان لوگوں پر بھی ٹھیک ٹھیک منطبق ہو رہی ہے جو آج اپنے غرور میں مست ہیں اور اسی حال میں مرتے ہیں۔ الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ…
Read the full tafseer →28۔ 1 یہ مشرک ظالموں کی موت کے وقت کی کیفیت بیان کی جا رہی ہے جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرتے ہیں تو وہ صلح کی بات ڈالتے ہیں یعنی سمع وطاعت اور عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تو برائی نہیں کرتے تھے۔ جس طرح میدان محشر میں اللہ کے روبرو بھی جھوٹی قسمیں کھائیں گے اور کہیں گے ' اللہ کی قسم، ہم مشرک نہیں تھے ' دوسرے مقام پر فرمایا ' جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھا کر اپنے پاس جمع کرے گا تو اللہ کے سامنے بھی یہ اسی طرح (جھوٹی) قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں۔
28۔ 2 فرشتے جواب دیں گے کیوں نہیں ؟ یعنی تم جھوٹ بولتے ہو، تمہاری تو ساری عمر ہی برائیوں میں گزری ہے اور اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
15: اس سے معلوم ہوا کہ عذاب صرف ان لوگوں کو ہوگا جو کفر کی حالت میں مرے ہوں۔ اگر کوئی مرنے سے پہلے پہلے سچی توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول ہوجاتی ہے اور اسے معاف کردیا جاتا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
آیت نمبر 26 تا 29
قد مکرالذین من قبلھم (16 : 26) “ ان سے پہلے بھی بہت سے لوگ (حق کو نیچا دکھانے کے لیے ) ایسے ہی مکاریاں کرچکے ہیں ”۔ قرآن کریم ان کے پروپیگنڈے کو ایک ایسی عمارت سے تعبیر کرتا ہے جس کی بنیادیں بھی ہیں اور ستون بھی اور چھت بھی ہے۔ اس میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ ان کا پروپیگنڈا بڑ اگہرا ، مضبوط ، پختہ اور ضخیم تھا لیکن اللہ کی قوت اور تدبیر کے مقابلے میں یہ کامیاب نہ ہوا۔
فاقی اللہ بنیانھم من القواعد فخر علیھم الشقف من فوقھم (16 : 26) “ تو دیکھ لو کہ اللہ نے ان کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی اور اس کی چھت اوپر سے ان کے سر پر آرہی ”۔ یہ ایک ایسا منظر اور ایسی تصویر کشی ہے جس سے…
Read the full tafseer →3 یعنی شرک و کفر اختیار کر کے اپنے حق میں برا کرتے رہے۔ آخر اسی حالت میں موت کے فرشتے جان نکالنے کو آگئے۔ خلاصہ یہ کہ خاتمہ حالت کفر و شرک پر ہوا۔ العیاذ باللہ۔
4 یعنی اس وقت ساری فوں فاں نکل جائے گی۔ جو شرارت و بغاوت دنیا میں کرتے تھے سب کا انکار کر کے اطاعت وفاداری کا اظہار کریں گے کہ ہم نے کبھی کوئی بری حرکت نہیں کی ہمیشہ نیک چلن رہے۔ (يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰي شَيْءٍ ۭ اَلَآ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ ) 58 ۔ المجادلہ :18)
5 یعنی کیا جھوٹ بول کر خدا کو فریب دینا چاہتے ہو ؟ جس کے علم میں تمہاری ساری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
آیت 28 الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ
ایسے لوگ جنہیں اپنی زندگی میں اللہ یاد ہے نہ آخرت نیکی کی رغبت ہے نہ برائی سے نفرت بس اپنی عیش کوشی اور نفس پرستی میں مگن ہیں۔ اسی حالت میں جب فرشتے ان کے پاس پروانۂ موت لے کر آ دھمکیں گے :
بَلٰٓى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ
موت کے فرشتوں کے سامنے وہ سرتسلیم خم کرتے ہوئے اپنے اسلام اور اطاعت کا اظہار کریں گے اور اس طرح ان کے سامنے بھی جھوٹ بولنے کی کوشش کریں گے۔
Read the full tafseer →29 عذاب قبر اور اس کی کیفیت :۔ جن فرشتوں کے آنے کا اپنے نبی سے تقاضا کرتے رہے جب وہ آجاتے ہیں تو ان کی سب شیخیاں کر کری ہوجاتی ہیں اور جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں پھر اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ اپنی نافرمانیوں اور حق کے خلاف سرگرمیوں سے یکسر انکار کردیں گے اور اپنے ہتھیار ڈال دیں گے تاکہ انھیں فرشتوں کی طرف سے امن نصیب ہو۔ جس کا جواب انھیں یہ دیا جائے گا کہ کیا اب تم جھوٹ بول کر اللہ کو فریب دینا چاہتے ہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ تمہاری ایک ایک حرکت سے باخبر ہے کہ کس طرح تم نبیوں کے دشمن بنے رہے اور حق کو ٹھکراتے رہے اور اپنے کفر و شرک پر ڈٹے رہے۔ تمہاری اس سرکشی کی سزا یہ ہے کہ اب تم ہمیشہ کے لیے…
Read the full tafseer →38۔ یعنی موت کے وقت تک کفر وشرک میں مبتلا رہے تھے اے حال کو نھم مستمرین علی الشرک (روح)
39۔ اس پر ہیبت وہولناک منظر سے دو چار ہو کر منکرین حق اب خوشامدانہ لہجہ میں عرض کرنا شروع کریں گے کہ بھلا ہماری کیا مجال تھی، جو ہم شرک میں مبتلا ہوتے ! کہاں تو دنیا میں اتنا اکڑے ہوئے رہتے تھے، اور کہاں اب خوشامد پر اتر آئیں گے۔ (آیت) ” ماکنا نعمل من سوٓء “۔ یعنی اپنے خیال و عقیدہ میں تو ہم کوئی بری بات نہیں کررہے تھے، المراد ماکنا عاملین السوء فی اعتقادنا اے کان اعتقادنا ان علمنا غیر سیء (روح)
40۔ (تو اب تمہارے اقرار و انکار سے ہوتا کیا ہے۔ تمہارا حال تو عالم الغیب پر خود ہی سب روشن ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
آیت نمبر 26 تا 34
ترجمہ : ان سے پہلے لوگوں نے بھ مکر کیا تھا، اور وہ نمرود تھا جس نے ایک بہت اونچا منارہ بنایا تاکہ اس پر چڑھ کر آسمان والوں سے
قتال کرے، آخر اللہ تعالیٰ نے ان بنیادوں کو جڑ سے اکھاڑدیا کہ ان پر آندھی اور زلزلہ بھیج کر ان کو منہدم کردیا، اور ان کے سروں پر ان کی چھتیں اوپر آپڑیں جس وقت وہ ان کے نیچے تھے اور ان پر عذاب وہاں سے آگیا جہاں کا انھیں وہم و گمان بھی نہ تھا، یعنی ایسی جہت سے کہ ان کے خیال و خواب میں بھ نہ تھا، اور کہا گیا ہے کہ یہ تمثیل ہے ان منصوبوں کو ناکام کرنے کی جن کو انہوں نے رسول کے خلاف استوار کیا تھا، پھر روز قیامت بھی اللہ انھیں رسوا کرے گا اور فرشتوں کے…
Read the full tafseer →الذین تتوفھم الملئکہۃ ظلامی انفسھم جن کی جان فرشتوں نے حالت کفر پر قبض کی تھی (یعنی آخر وقت تک کافر تھے) اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے۔ نفسوں پر ظلم کرنے سے مراد کفر کرنا۔ نفس کو دوامی عذاب میں مبتلا کرنے کا سامان کرنا نفس پر ظلم ہے۔
فالقوا السلم ما کنا نعمل من سوء پھر کافر لوگ صلح کا پیغام ڈالیں گے (اور کہیں گے) ہم تو کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔
مَا کُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءَ - سَلَمَکی تشریح ہے اور السَّلَمَ سے مراد ہے : پیغام صلح (ترجمہ میں اسی تفسیر کا لحاظ کیا گیا ہے) یا اَلْقَوُا السَّلَمَ کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت کافر مطیع ہوجائیں گے ‘ اطاعت کا اظہار کریں گے۔ سُوْٓءَ سے مراد ہے : کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(27۔ 28) اور پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دے گا اور ذلیل کرے گا اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سے فرمائے گا کہ تم نے جن معبودوں کو میرے شریک بنا رکھا تھا جن کی وجہ سے تم مخالفت کیا کرتے تھے اور جن کے بارے میں تم میرے انبیاء کرام سے لڑائی جھگڑا کرتے تھے وہ اب کہاں ہیں ؟ فرشتے اس حالت کو دیکھ کر کہیں گے، قیامت کے دن کا عذاب یعنی دوزخ اور اس کی شدت و سختی کافروں پر ہے جن کی جان فرشتوں نے بدر کے دن قبض کی تھی۔
پھر کافر اس کا جواب دینے کی کوشش کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے نیچے اور دبے ہوئے ہوجائیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے تو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی چیز کی پرستش نہیں کی تھی اور ہماری…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ۔۔ : ”۠فَاَلْقَوُا“ ”أَلْقٰی یُلْقِیْ“ (افعال) سے ماضی معلوم کا جمع مذکر غائب ہے۔ مراد مستقبل ہے، کیونکہ وہ ماضی کی طرح یقینی ہے۔ ”اِلْقَاءٌ“ کا لفظ اجسام کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے کہا جاتا ہے : ”فُلاَنٌ أَلْقَی السَّلَاحَ“ کہ فلاں نے ہتھیار پھینک دیے، یعنی اپنے آپ کو حوالے کردیا۔ ”السَّلَمَ“ کا معنی ”اِسْتِسْلَامٌ“ ہے، یعنی مکمل طور پر تابع اور مطیع ہونا۔
ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ : اس سے مراد کفار ہیں، کیونکہ ”الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ“ پچھلی آیت میں مذکور ”اَلْکٰفِرِیْنَ“ کی صفت ہے اور اپنی جان پر سب سے بڑا ظلم کفر و شرک ہی ہے۔ (دیکھیے انعام : 22)…
Read the full tafseer →آیت نمبر 28
قولہ تعالیٰ : الذین تتوفھم الملئکۃ ظالمی انفسھم یہ کفار کی صفات میں سے ہے۔ اور ظالمی انفسھم یہ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے ؛ ای وھم ظالمون أنفسھم یعنی درآنحالیکہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کر رہے ہیں جن انہوں نے انہیں ہلاکت کی جگہوں میں ڈال دیا۔ فاتقوا السلم یعنی تب انہوں نے سر تسلیم خم کردیا، یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار کیا اور موت کے وقت تابعداد بن گئے اور کہنے لگے : ما کنا نعمل من سوٓء ہم تو کوئی برا کام یعنی شرک وغیرہ نہیں کیا کرتے تھے۔ پس ملائکہ انہیں کہیں گے : بلیٰ نہیں بلکہ تم تو بہت برے اعمال کیا کرتے تھے۔ ان اللہ علیم بما کنتم تعملون (بےشک اللہ تعالیٰ خون جانتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قد مکر الذین من قبلہم “ سے مراد نمرود بن کعنان ہے جب اس نے اونچی عمارت بنائی۔
2:۔ عبدالرزاق اور ابن جریر نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ زمین میں سب سے پہلے جبار (یعنی قہر وغضب والا) نمرود تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر ایک مچھر بھیجا جو اس کے ناک کے نتھنے میں گھس گیا وہ چار سو سال تک اس حال میں رہا کہ اس کا سر ہتھوڑے سے پیٹا جاتا تھا (جس سے اس کا آرام ملتا تھا) اس پر سب سے زیادہ رحم کرنے والا وہ شخص ہوتا جو اپنے ہاتھوں کو جمع کرکے اس کے سر کو مارتا تھا اور وہ چار سو سال تک جبار رہا تو اللہ تعالیٰ نے بھی چار سو سال تک عذاب دیا…
Read the full tafseer →[الَّذِينَ : وہ لوگ ] [ تَتَوَفّٰىهُمُ : جان قبض کرتے ہیں جن کی ] [ الْمَلٰۗىِٕكَةُ : فرشتے ] [ ظَالِمِيْٓ انفُسِهِمْ : اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہوتے ہوئے ] [ ۠فَاَلْقَوُا : تو وہ لوگ ڈالتے ہیں ] [ السَّلَمَ : مکمل اطاعت ] [ مَا كُنَا نَعْمَلُ : (اور کہتے ہیں) ہم عمل نہیں کرتے تھے ] [ مِنْ سُوْۗءٍ ۭ: کسی بھی برائی کا ] [ بَلٰٓى؛ (فرشتے کہتے ہیں) کیوں نہیں ] [ ان : یقینا ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ عَلِيْمٌۢ: جاننے والا ہے ] [ بِمَا : اس کو جو ] [ كُنْتم تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے تھے ]
ترکیب : (آیت۔ 28) ظَالِمِیْ اَنْفُسِھِمْ ۔ مضاف، مضاف الیہ مل کر تَتَوَفّٰھُمْ میں ھم (مفعول) کا حال ہے۔ الملگکۃ…
Read the full tafseer →(الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰھُمُ الْمَلآءِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِھِمْ ) (یہ وہ لوگ ہیں جن کی جانیں فرشتوں نے اس حال میں قبض کیں کہ یہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے) کفر ہی پر جئے اور کفر ہی پر مرے لہٰذا آج کفر کی سزا ملے گی۔ (فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ ) (پھر کافر لوگ صلح کا پیغام ڈالیں گے کہ ہم کوئی برا کام نہ کرتے تھے) جب وہاں عذاب میں مبتلا ہوں گے تو اس کے چھٹکارے کے لیے تدبیریں سوچیں گے، ان تدبیروں میں سے ایک تدبیر یہ ہوگی کہ سفارشی تلاش کریں گے اور یوں کہیں گے کہ کوئی ہماری سفارش کردیتا، کبھی کہیں گے کہ یہاں سے نکال دئیے جاتے تو دوبارہ دنیا میں جاکر اچھے عمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
قال اللہ تعالیٰ : قد مکر الذین من قبلہم .... الیٰ .... ادخلوا الجنۃ بما کنتم تعملون۔
(ربط) ان آیات میں اول متکبرین کی اس دنیا وہ تباہی اور بربادی کا بیان ہے جو پہلے کافروں پر ناگہانی طور پر نازل ہوئی اس کے بعد الذین تتوفھم الملئکۃ ظالمی انفسھم۔ میں متکبرین کے اخروی عذاب کا بیان ہے یہ سب غرور اور تکبر کا نتیجہ ہے اور مقصود یہ ہے کہ جس طرح اگلے کافر اور متکبر ناگہانی بلاؤں میں مبتلا ہوئے جن کا پہلے سے کہیں وہم و گمان بھی نہ تھا اسی طرح تمہارا بھی یہی حال اور مآل ہوگا اور گزشتہ متکبرین کی طرح تم کو بھی غرور اور تکبر کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔ اور اس کے بعد وقیل للذین اتقوا الخ میں بطور مقابلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
24:۔ یہ الکافرین کی صفت ہے اور یہاں سے لے کر ” فَلَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ “ تک ادخال الٰہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے بیان فرمایا ہے کہ ظالموں یعنی مشرکوں کا یہ حال ہوگا۔ ” ظَالِمِیْ اَنْفُسِھِمْ “ یہ ” تَتَوَفّٰهُمْ “ کی ضمیر منصوب سے حال ہے یعنی یہ مشرکین شرک کی وجہ سے اپنے اوپر طلم کرتے رہے اور مرتے دم تک شرک پر ڈٹے رہے۔ ” تَتَوَفّٰهُمُ الْمَلٰئِکَةُ “ سے معلوم ہوا کہ جان قبض کرنے پر صرف ایک فرشتہ (عزرائیل) ہی مقرر نہیں بلکہ اس کام پر بہت سے فرشتے مامور ہیں جو عزرائیل کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ اس سے اہل بدعت کا یہ استدلال باطل ہوگیا کہ اگر ایک عزرائیل فرشتہ ایک وقت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
(ربط آیات)
اللہ تعالیٰ نے پہلے توحید کے دلائل بیان فرمائے اور پھر غیروں کو الہ ماننے والوں کی تردید فرمائی ، اللہ نے واضح فرمایا کہ خالق ، رب ، علیم کل ، قادر مطلق ، نافع اور ضار اس کے سوا کوئی نہیں ، لہذا عبادت کے لائق بھی کوئی نہیں ہو سکتا معبود برحق وہی اکیلا ہے اور اس بات میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اس کے بعد اللہ نے منکرین توحید کے باطل عقیدے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ ایک تو انہیں آخرت کے محاسبے کا یقین نہیں ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ تکبر کرتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ کفر شرک ، اور نافرمانی پر مصر ہیں ، جب ان کے سامنے اللہ کا کلام یا رسولوں کی بات پیش کی جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ تو پہلے…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ۠فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْۗءٍ ۭ بَلٰٓى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 28
وفی
وقد عبّر عن الموت والنوم بالتَّوَفِّي، قال تعالی: اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها[ الزمر/ 42] أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ [يونس/ 46]
( وی) الوافی
اور کبھی توفی کے معنی موت اور نیند کے بھی آتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها[ الزمر/ 42] خدا لوگوں کی مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ [يونس/ 46] یا تمہاری مدت حیات پوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
الذین 1 ؎ تتوفہم الملائکہ یہ کفار کی رسوائی اور قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ اس روز ان سے خدا پوچھے گا کہ جن کو تم نے دنیا میں میرا شریک بنا رکھا تھا وہ کہاں ہیں، جواب نہ آئے گا، سرنگوں ہوجائیں گے، ان کی سرزنش کے لیے علماء، انبیاء، ملائکہ کہیں گے کہ یہ بڑے بدنصیب اور قابل سزا ہیں۔ مرتے دم تک یعنی اس وقت تک کہ فرشتے جان نکالنے آئے، اپنی اسی بت پرستی اور بدکاری میں اپنی جانوں پر ستم ڈھا رہے تھے اس وقت بھی ان کو توبہ نصیب نہ ہوئی اس پر وہ بدبخت سر نیچا کر کے ان اہل علم کے جواب میں کہیں گے ہم تو دنیا میں کوئی بھی برا کام نہیں کرتے تھے۔ ان کی دروغ گوئی پر ملائکہ کہیں گے کہ تم جھوٹے ہو، تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُخْزِیْہِمْ وَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَکَآئِ یَ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْھِمْ ط قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیٓ الْیَوْمَ وَالسُّوْ ٓئَ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیْ ٓ اَنْفُسِہِمْ ص فَاَلْقَوْا السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓ ئٍ ط بَلٰٓی اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ م بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 27۔ 28)
(پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انھیں ذلیل و خوار کرے گا اور پوچھے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کی حمایت میں تم لڑتے تھے، جن کو علم عطا ہوا وہ پکار اٹھیں گے، آج رسوائی اور بدبختی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
فہم القرآن
ربط کلام : آخرت میں کفار اور مشرکین کی ذلت کی ابتداء۔
کفار اور مشرکین کے بارے میں بتلایا جا رہا ہے کہ ان کی موت ذلت کے ساتھ ہوگی اور قیامت کے دن بھی ذلیل ہوں گے۔ اس سے قبل دو آیات میں یہ بتلایا ہے کہ کفار دنیا میں بھی ذلیل ہوتے ہیں۔ بالخصوص انبیاء کرام کا براہ راست مقابلہ کرنے والے کفار اور مشرک بالآخر دنیا میں ذلیل ہوئے۔ اب یہ بتلایا جاتا ہے کہ ان کی ذلت کی ابتدا اسی وقت ہوجاتی ہے جب ملائکہ ان کی روح قبض کرتے ہیں۔ ملائکہ پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے ؟ وہ خوف کے مارے کہتے ہیں ہم کوئی برے کام نہیں کررہے تھے۔ ملائکہ انہیں جھڑکیاں دیتے ہوئے کہتے ہیں کیوں نہیں ! تم اپنے رب کے…
Read the full tafseer →قبض روح کے وقت کفار کی اطاعت :
28: اَلَّذِیْنَ تَتَوَ فّٰہُمُ الْمَلٰٓپکَۃُ (وہ لوگ جن کی جان ملائکہ نے قبض کی) قراءت : حمزہ نے یاء کے ساتھ پڑھا اور اسی طرح اس کا مابعد بھی ظَالِمِیْ اَنْفُسِھِمْ (اس حال میں کہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے تھے) کفر باللہ کے ذریعہ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ (پس وہ صلح کا پیغام ڈالیں گے) صلح اور فرما نبرداری یعنی رجوع کریں گے اور جو ضد دنیا میں کی اس کے برعکس کریں گے اور کہیں گے مَاکُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْ ئٍ (ہم کوئی برا کام نہ کرتے تھے) جو کفر و انکار اور دشمنی ان کی طرف سے دنیا میں پائی گئی اس کا شدت سے انکار کردیں گے وہ علم والے اس کی تردید کرتے ہوئے کہیں گے۔…
Read the full tafseer →تفسیر (28)” الذین تتوفاھم الملائکۃ “ جن کی جان فرشتوں نے قبض کرلی تھی۔ حمزہ نے ” یتوفاھم “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور ان کے بعد جن کی روح قبض کی ہے۔” ظالمی انفسھم “ کفر کی وجہ سے یا کفر کی حالت میں منصوب ہے حال ہونے کی وجہ سے۔ یعنی اس حال میں کہ وہ کفر پر ڈٹے ہوئے تھے۔ ” فالقوا لسلم “ وہ تسلیم ہوجائے یا پیروی کرنے پر آمادہ ہوجائیں اور کہنے لگے۔” ما کنا نعمل من سوئ “ اس سے مراد شرک ہے ان کو فرشتوں نے کہا ” بلی ان اللہ علیہم بما کنتو تعملون “ عکرمہ (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ کفار ہیں جو بدر کی لڑائی میں مارے گئے۔
Read the full tafseer →28۔ اس آیت کے ٹکڑے میں بد لوگوں کی اور اس سے آگے جو ٹکڑا ہے اس میں نیک لوگوں کی قبض کا حال ہے۔ دونوں طرح کی روحوں کے قبض ہونے کے حال میں معتبر سند سے ابوداؤد و نسائی ابن ماجہ اور مسند امام احمد بن حنبل میں براء بن عازب ؓ وغیرہ سے جو روایتیں آئی ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بد لوگوں کی قبض روح کے لئے خوفناک صورت کے فرشتے آتے ہیں اور عذاب قبر اور عذاب قیامت کا حال اس قریب المرگ شخص کی روح کو سناتے ہیں۔ اس حال کو سن کر وہ روح ڈرتی ہے اور جگہ جگہ بدن میں چھپتی ہے وہ فرشتے روح کو بدن سے نکالنے کی غرض سے اس بد شخص کے منہ اور اس کی پیٹھ پر بری طرح سے مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خبیث اب بدن سے نکل اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
آیت 24
اللہ تبارک و تعالیٰ آیات الٰہی کے بارے میں مشرکین کی شدت تکذیب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (واذا قیل لھم ماذا انزل ربکم) ” جب ان سے کہا جاتا ہے، تمہارے رب نے کیا اتارا ہے ؟ “ یعنی جب ان سے قرآن اور وحی، جو اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے۔۔۔ کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔۔۔ کہ تمہار اسا کی بابت کیا جواب ہے ؟ کیا تم اس نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے شکر ادا کرتے ہو یا اس کی ناشکری کرتے ہوئے عناد رکھتے ہو ؟ “ تو وہ بدترین جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں یہ (اساطیر الاولین) ” پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں “ یعنی یہ جھوٹ ہے جسے محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے۔ یہ گزرے ہوئے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جنہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →54۔ ظالموں کی جان کنی کے وقت کا ہولناک منظر : سو اس وقت ایسے ظالم لوگ جان قبض کرنے والے فرشتوں سے صلح کی درخواست کریں گے اور سراپا تسلیم بن جائیں گے۔ اور ان کی وہ سب اکڑفوں فرشتوں کو دیکھتے ہی ہرن ہوجائے گی جس کی بناء پر یہ لوگ دنیا میں حق کا انکار کرتے اور اس کی راہیں روکا کرتے تھے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جن لوگوں نے اپنی فطرت کو تبدیل کرکے اور دین سے اعراض و روگردانی کی روش کو اپنا کر اور اس سے منہ موڑ کر خود اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اس روز وہ اپنی موت اور جان کنی کے وقت فرشتوں کو دیکھتے ہی صلح کا پیغام دیں گے اور حق کی مخالفت اور دشمنی کو ترک کرکے اپنی فرمانبرداری کا اعلان کریں گے۔ مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
قیامت کے دن مشرکین اور کفار کی رسوائی اور ذلت
تشریح : پچھلی آیات میں دنیا میں دیے گئے عذاب کا ذکر ہے اب ان آیات میں کفار کی وہ حالت بیان کی گئی ہے جو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیے جانے اور حساب کتاب کے وقت ہوگی۔ تب وہ سوحیلے بہانے بنائیں گے اور عذاب الٰہی سے بچنے کی کئی تدبیریں کریں گے مگر سب بےکار ہوگا۔ کیونکہ اللہ سب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے رہے لہٰذا ان کے برے اعمال اور شرک و کفر کی وجہ سے ان کو حکم دیا جائے گا کہ دوزخ کے دروازوں سے جہنم میں داخل ہوجاؤ اور ہمیشہ اسی میں رہو۔ ان کا کوئی شریک وہاں کام نہیں کرے گا۔ آخرت کا لفظ 115 دفعہ اور دنیا کا لفظ بھی قرآن میں 115 دفعہ آیا ہے۔ اور قیامت تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
جہاں تک اپنی حفاظت اقتدار اور غلبے کا تعلق ہے جس کے خاطر یہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے سے نہیں چوکتے تو اس کی مثالیں سامنے ہیں کہ ان سے پہلی کافر قوموں نے بہت تدبیریں کی تھیں اور بڑے دنیاوی اسباب جمع کئے تھے مگر تقدیر باری کے سامنے پیش نہ گئی اللہ کریم نے انہیں ایسے برباد کیا کہ بنیادوں تک سے اکھیڑ دیا اور ان کی چھتیں انہی پر گر گئیں یعنی جو تدبیریں حفاظت کیلئے کی تھیں وہی تباہی کا باعث بن گئیں اور عذاب الہی نے ایسا پکڑا کہ وہ سمجھ ہی نہ پائے کہ یہ مصیبت کدھر سے آرہی ہے یہ تو دنیا کا حال تھا اصل خرابی تو میدان حشر میں ہوگی جب انہیں تمام عالم کے روبرو رسوا کیا جائے گا…
Read the full tafseer →ف 3 تم تو سب سے برا کام یعنی شرک کیا کرتے تھے۔ (وحیدی)
4 اب انکار کرنے سے کیا ہوتا ہے۔ ساری عمر تو ایمان والوں سے لڑتے جھگڑتے رہے۔ اب عاجز آگئے تو لگے صلح کی پیشکش کرنے (وحیدی)
Read the full tafseer →(16:28) تتوفہم الملئکۃ ۔ وہ فرشتوں کی جماعت ان کی جان قبض کرتی ہے۔
توفی (باب تفعل) سے مضارع واحد مؤنث غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔
ظالمی انفسہم۔ حال ہے تتوفہم کی ضمیر ہم سے۔ ظالمی اصل میں ظالمین تھا نون بوجہ اضافت کے ساقط ہوگیا۔ درآں حالیکہ وہ اپنے اوپر ستم کر رہے تھے (بوجہ کفر کے) ۔
فالقوا السلم۔ القوا۔ القاء (افعال) سے ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے ڈالا۔ سلم (اسم ہے) صلح۔ انقیاد۔ فرماں برداری۔ اطاعت۔ عاجزی۔ تسلیم سے جس کے معنی سپرد کرنے کے ہیں۔ القوا السلم۔ وہ اطاعت و عاجزی کا اظہار کریں گے۔
ما کنا نعمل من سوئ۔ سے قبل وقالوا محذوف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 29
بنیان گھر۔ القواعد بنیادیں۔ خر گر پڑا۔ سقف چھت۔ فوق اوپر۔ یخزی وہ ذلیل و رسوا کرے گا۔ این کہاں ؟ شرکاءی میرے شریک۔ تشاقون تم لڑتے ہو۔ اوتوا العلیم جن کو علم دیا گیا۔ تتوفی جان نکالتے ہیں۔ القوا انہوں نے ڈالا۔ اسلم صلح کا پیغام۔ مثویٰ ٹھکانا۔ المتکبرین بڑائی کرنے والے۔
تشریح آیت نمبر 26 تا 29
گزشتہ آیات میں جس مضمون کو شروع کیا گیا تھا اس کی تکمیل کی جا رہی ہے ساری دنیا کو اور خصا طور پر مکہ کے ان لوگوں سے خطاب کیا جا رہا ہے جو حج وغیرہ کے موقعوں پر آنے والے بیخبر لوگوں کے سامنے قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ کی ذات کے متعلق حقارت سے ذکر کرتے تاکہ اجنبی آدمی کے دل میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
بد لوگوں کی جان قبض کرنے کی خوفناک حالت
اس آیت میں بد لوگوں کی اور اس سے آگے کی آیت میں نیک لوگوں کی قبض روح کا حال ہے کہ بد لوگوں کی قبض روح کے لئے خوفناک صورت کے فرشتے آتے ہیں۔ اور عذاب قبر اور عذاب قیامت کا حال اس قریب المرگ شخص کی روح کو سناتے ہیں۔ اس کو سن کر وہ روح ڈرتی ہے اور جگہ بدن میں چھپتی ہے۔ وہ فرشتے روح کو بدن سے نکالنے کی غرض سے اس بد شخص کے منہ اور اس کی پیٹھ پر بڑی بری طرح مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خبیث جان اب بدن سے نکل، اللہ کا غضب اور عذاب تیرے لئے تیار ہے۔ روگٹے رونگٹے کو تکلیف پہنچ کر بد آدمی کی روح نکلتی ہے اور روح کے نکلتے ہی زمین پر ایک طرح کی بدبو پھیلتی ہے۔ اس بدبو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
[16] یعنی موت کے وقت تک کفر و شرک میں مبتلا رہے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
(ف 2) موت کے فرشتے کئی ہیں جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے ملک الموت حضرت عزرائیل کا مخصوص نام ہے جو موت کے عملہ کا اعلی افسر ہے ۔
دنیا میں جس قدر حادثے ہوتے ہیں ان کے اسباب دو قسم کے ہیں ، ایک وہ جو مادی ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جن کا تعلق فوق العادۃ قوتوں اور طاقتوں سے ہوتا ہے ، یہ دوسری قسم کے اسباب ملائکہ ہیں ، جو مادی اسباب پر اثر انداز ہوتے ہیں ، چناچہ موت کے لئے کچھ اسباب ظاہری ہیں جنہیں امراض کہتے ہیں کچھ باطنی اسباب ہیں ، یہ فرشتے ہیں صوفیا کے نزدیک امراض ہی ملائکہ موت ہیں ۔
Read the full tafseer →28 ۔ جن کی جان فرشتوں نے اس حالت میں قبض کی تھی کہ وہ اپنی جان پر ظلم کر رہے تھے یعنی جن کا خاتمہ کفر پر ہوا تھا تب وہ دین حق کے منکر صلح کا پیغام اور اطاعت و فرماں برداری کا پیغام ڈالتے ہوئے کہیں گے ہم تو دنیا میں کوئی برا کام نہیں کیا کرتے تھے ان کو جواب دیا جائے گا بیشک تم برے کام کیا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کو وہ سب معلوم ہے جو تم کیا کرتے تھے۔ یعنی ان منکروں کے ساتھ دنیا میں جو سلوک ہوا وہ تو ہوا قیامت کے دن ان کی اور بھی زیادہ رسوائی اور ذلت ہوگی اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا کہ وہ میرے شریک جن کو تم شرکاء کہتے تھے اور میرے پیغمبروں سے اور اہل علم سے جھگڑا کرتے تھے وہ کہاں ہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
ف 3۔ جو شخص کسی کو گمراہ کیا کرتا ہے اس گمراہ کو تو گمراہی کا گناہ ہوتا ہے اور اس گمراہ کرنے والے کو اس گمراہی کا سبب بن جانے کا اس حصہ تسبب کو کچھ بوجھ فرمادیا گیا، اور پنے گناہ کا کامل طور پر اٹھانا ظاہر ہے۔
Read the full tafseer →A ۔
فرشتوں کا کفار سے خطاب جب وہ ان کی روحیں قبض کریں گے :
34۔ فرمایا جن لوگوں کی جانیں فرشتوں نے اس حال میں قبض کی تھیں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے یعنی موت کے وقت تک کفر وشرک میں مبتلا رہے تھے تب وہ صلح کا پیغام ڈالیں گے کہ ہم تو کوئی برائی نہیں کرتے رہے اس پر ہیبت ناک وہولناک منظر سے دو چار ہو کر منکرین حق اب خوشامندانہ لہجہ میں عرض کرنا شروع کریں گے ، کہ بھلا ہماری کیا مجال تھی جو ہم شرک میں مبتلا ہوتے ! کہاں تو دنیا میں اتنا اکڑے ہوئے رہتے تھے اور کہاں اب وہ خوشامد پر اتر آئیں گے کہ (آیت) ” ماکنا نعمل من سوء “۔ یعنی اپنے خیال اور عقیدہ میں تو ہم کوئی بری بات نہیں کر رہے تھے ‘ بلاشبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–34
Commentary
It will be recalled that, after describing the blessings of Allah and proving that He was unique in the creation of the universe, the text made a pointed reference to how the polytheists chose to stick to their own ways of error. In the present verses, the text describes how they, not content with their own straying, tried that others should also go astray like them. The punishment they would get for doing that has also been stated here. Earlier to that (24), there is a question about the Qur’ an, and the addressees of the question, at this place, are the polytheists. It is their…
Read the full tafseer →24. This is Allah’s addition to the previous assertion, and not its continuation. Those commentators, who have wrongly considered this as continuation of the preceding sentence, are unable to offer any satisfactory explanation for their opinion.
25. That is, when the angels take possession of their souls at the time of death.
Read the full tafseer →