Explained with ayahs 26–27
نمرود کا تذکرہ
بعض تو کہتے ہیں اس مکار سے مراد نمرود ہے جس نے بالاخانہ تیار کیا تھا۔ سب سے پہلے سب سے بڑی سرکشی اسی نے زمین میں کی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک کرنے کو ایک مچھر بھیجا جو اس کے نتھنے میں گھس گیا اور چار سو سال تک اس کا بھیجا چاٹتا رہا، اس مدت میں اسے اس وقت قدرے سکون معلوم ہوتا تھا جب اس کے سر پر ہتھوڑے مارے جائیں، خوب فساد پھیلایا تھا۔ بعض کہتے ہیں اس کے سر پر ہتھوڑے پڑتے رہتے تھے۔ اس نے چار سو سال تک سلطنت بھی کی تھی اور خوب فساد پھیلایا تھا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد بخت نصر ہے یہ بھی بڑا مکار تھا لیکن اللہ کو کوئی کیا نقصان پہنچا سکتا ہے ؟ گو اس کا مکر پہاڑوں کو بھی اپنی جگہ سے…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 23
پہلے فقرے اور اس فقرے کے درمیان ایک لطیف خلا ہے جسے سامع کا ذہن تھوڑے غور و فکر سے خود بھر سکتا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ یہ سوال کرے گا تو سارے میدان حشر میں ایک سناٹا چھا جائے گا۔ کفار و مشرکین کی زبانیں بند ہوجائیں گی۔ ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ ہوگا۔ اس لیے وہ دم بخود رہ جائیں گے اور اہل علم کے درمیان آپس میں یہ باتیں ہوں گی۔
سورة النَّحْل 24
یہ فقرہ اہل علم کے قول پر اضافہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ خود بطور تشریح فرما رہا ہے۔ جن لوگوں نے اسے بھی اہل علم ہی کا قول سمجھا ہے انہیں بڑی تاویلوں سے بات بنانی پڑی ہے اور پھر بھی بات پوری نہیں بن سکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
خلاصہ تفسیر
اور جب ان سے کیا جاتا ہے (یعنی کوئی ناواقف شخص تحقیق کے لئے یا کوئی واقف شخص امتحان کے لئے ان سے پوچھتا ہے) کہ تمہارے رب نے کیا چیز نازل فرمائی ہے (یعنی قرآن جس کو رسول کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کا نازل کیا ہوا فرماتے ہیں آیا یہ صحیح ہے) تو کہتے ہیں کہ (صاحب وہ رب کا نازل کیا ہوا کہاں ہے) وہ تو محض بےسند باتیں ہیں جو پہلوں سے (منقول) چلی آ رہی ہیں (یعنی اہل ملل پہلے سے توحید ونبوت ومعاد کے مدعی ہوتے آئے ہیں ان ہی سے یہ بھی نقل کرنے لگے باقی یہ دعوے اللہ تعالیٰ کے تعلیم دیئے ہوئے نہیں) نتیجہ اس (کہنے) کا یہ ہوگا کہ ان لوگوں کو قیامت کے دن اپنے گناہوں کا پورا بوجھ اور جن کو یہ لوگ بےعلمی…
Read the full tafseer →ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يُخْــزِيْهِمْ وَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تُشَاۗقُّوْنَ فِيْهِمْ ۭ قَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْيَ الْيَوْمَ وَالسُّوْۗءَ عَلٰي الْكٰفِرِيْنَ۔
" خزی " کے معنی رسوائی کے ہیں۔ چونکہ ان مفسدین کے تمام فساد کا اصل شب، جیسا کہ اوپر گزرا، تکبر تھا اس وجہ سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے اس تکبر کی پاداش میں ان کو ذلیل و رسوا کرے گا۔ وَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تُشَاۗقُّوْنَ فِيْهِمْ یہ ان کی ذلت و رسوائی کی ایک شکل بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا کہ اب دکھاؤ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کی حمایت میں تم…
Read the full tafseer →27۔ 1 یعنی یہ تو وہ عذاب تھا جو دنیا میں ان پر آئے اور قیامت والے دن اللہ تعالیٰ انھیں اس طرح ذلیل و رسوا کرے گا کہ ان سے پوچھے گا تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جو تم نے میرے لئے ٹھہرا رکھے تھے، اور جن کی وجہ سے تم مومنوں سے لڑتے جھگڑتے تھے۔
27۔ 2 یعنی جن کو دین کا علم نہیں تھا وہ دین کے پابند تھے وہ جواب دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
14: یعنی اللہ کے کلام کو افسانہ قرار دے کر انہوں نے جن لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ ان کے ایسے گناہوں کا بوجھ بھی ان پر لادا جائے گا جو انہوں نے ان کے زیر اثر آ کر کیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
آیت نمبر 26 تا 29
قد مکرالذین من قبلھم (16 : 26) “ ان سے پہلے بھی بہت سے لوگ (حق کو نیچا دکھانے کے لیے ) ایسے ہی مکاریاں کرچکے ہیں ”۔ قرآن کریم ان کے پروپیگنڈے کو ایک ایسی عمارت سے تعبیر کرتا ہے جس کی بنیادیں بھی ہیں اور ستون بھی اور چھت بھی ہے۔ اس میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ ان کا پروپیگنڈا بڑ اگہرا ، مضبوط ، پختہ اور ضخیم تھا لیکن اللہ کی قوت اور تدبیر کے مقابلے میں یہ کامیاب نہ ہوا۔
فاقی اللہ بنیانھم من القواعد فخر علیھم الشقف من فوقھم (16 : 26) “ تو دیکھ لو کہ اللہ نے ان کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی اور اس کی چھت اوپر سے ان کے سر پر آرہی ”۔ یہ ایک ایسا منظر اور ایسی تصویر کشی ہے جس سے…
Read the full tafseer →1 یعنی جن شرکاء کی حمایت میں ہمارے پیغمبروں سے ہمیشہ لڑتے جھگڑتے تھے آج وہ کہاں ہیں۔ تمہاری مدد کو کیوں نہیں آتے (هَلْ يَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ يَنْتَصِرُوْنَ ) 26 ۔ الشعرآء :93) (فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍ ) 86 ۔ الطارق :10) یہ کہنا ہی ان کو رسوا کرنا ہے۔ یا رسوائی سے مراد جہنم میں داخل کرنا اور ان کی خفیہ مکاریوں کا پردہ فاش کرنا ہے۔ " (اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَيْتَهٗ ) 3 ۔ آل عمران :192)
2 یعنی وہ تو کیا جواب دے سکتے۔ البتہ انبیاء (علیہم السلام) اور دوسرے باخبر لوگ اس وقت ان مکار دغابازوں کو سنا کر کہیں گے کہ دیکھ لیا جو ہم کہا کرتے تھے۔ آج کے دن ساری برائی اور…
Read the full tafseer →آیت 27 ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يُخْــزِيْهِمْ وَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تُشَاۗقُّوْنَ فِيْهِمْ
قیامت کے دن انہیں مزید رسوا کرنے کے لیے ان سے پوچھا جائے گا کہ آج تمہارے وہ من گھرٹ معبود کہاں ہیں جن کی حمایت اور حمیت کی وجہ سے تم بڑی بڑی جنگیں لڑنے پر تیار ہوجاتے تھے ؟
Read the full tafseer →27 ایسے راہ حق میں رکاوٹیں پیدا کرنے والوں کا دنیا میں تو یہ انجام ہوا اور آخرت میں یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ انھیں سب کے سامنے حاضر کرکے پوچھے گا کہ بتاؤ تمہارے وہ بناوٹی شریک کدھر ہیں جنہیں تم نے میرے مقابلہ میں لا کھڑا کیا تھا اور میرے رسولوں سے دنیا میں ہمیشہ جھگڑا کرتے رہے تھے آج وہ کہاں ہیں اور تمہاری مدد کو کیوں نہیں پہنچتے ؟ وہ اس سوال کا کچھ جواب نہ دے سکیں گے اور یہی بات ان کے لیے سب کے سامنے رسوائی کا باعث بن جائے گی۔ پھر انھیں اس شرک کا جو بدلہ دیا جائے گا وہ انتہائی رسوا کن ہوگا۔
28 یعنی مشرک اللہ تعالیٰ کے سوال کا کوئی جواب نہ دے سکیں گے۔ سارے میدان محشر میں ایک سناٹا چھا جائے گا۔…
Read the full tafseer →36۔ (اہل ایمان سے) یعنی آخرت میں منکرین پوری اور انتہائی طور پر ذلت ورسوائی کے شکار ہوں گے، اور انہیں اور زیادہ جلانے، کڑھانے کے لیے ان سے سوال ہوگا کہ اب بتلاؤ، وہ تمہارے معبود کدھر گئے، جنہیں تم شریک الوہیت سمجھا کرتے تھے، اور جن کی خاطر تم اہل ایمان سے لڑتے جھگڑتے رہتے تھے۔ (آیت) ” شرکآء ی “۔ یعنی میرے شریک تمہارے زعم وپندار کے مطابق۔ ای شرکاءی فی زعمکم واعتقادکم (کبیر عن الزجاج) علی الاضافۃ الی نفسہ حکایۃ لاضافتھم (کشاف) الذین کنتم تزعمون فی الدنیا انھم شرکاءی (ابن جریر)
37۔ وہ منکرین مردودومخذول تو کیا جواب دیں گے، البتہ اہل حق پکار اٹھیں گے کہ آج کے دن (جیسا کہ ہم دنیا میں کہا کرتے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
آیت نمبر 26 تا 34
ترجمہ : ان سے پہلے لوگوں نے بھ مکر کیا تھا، اور وہ نمرود تھا جس نے ایک بہت اونچا منارہ بنایا تاکہ اس پر چڑھ کر آسمان والوں سے
قتال کرے، آخر اللہ تعالیٰ نے ان بنیادوں کو جڑ سے اکھاڑدیا کہ ان پر آندھی اور زلزلہ بھیج کر ان کو منہدم کردیا، اور ان کے سروں پر ان کی چھتیں اوپر آپڑیں جس وقت وہ ان کے نیچے تھے اور ان پر عذاب وہاں سے آگیا جہاں کا انھیں وہم و گمان بھی نہ تھا، یعنی ایسی جہت سے کہ ان کے خیال و خواب میں بھ نہ تھا، اور کہا گیا ہے کہ یہ تمثیل ہے ان منصوبوں کو ناکام کرنے کی جن کو انہوں نے رسول کے خلاف استوار کیا تھا، پھر روز قیامت بھی اللہ انھیں رسوا کرے گا اور فرشتوں کے…
Read the full tafseer →ثم یوم القیمۃ یخزیھم پھر قیامت کے دن اللہ ان کو رسوا کرے گا۔ یعنی ان کو ذلیل کرے گا اور دنیوی عذاب کے علاوہ ان کو رسوائی کے عذاب میں مبتلا کرے گا۔ دوسری آیت میں آیا ہے : رَبَّنَآ اِنَّکَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَہٗ ۔
ویقول این شرکاء ی الذین کنتم تشآقون فیھم اور فرمائے گا : (آج) میرے وہ شرکاء کہاں ہیں جن کی بابت تم (رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کی) مخالفت کرتے تھے۔
قال الذین اوتوا العلم اہل علم کہیں گے : یعنی انبیاء اور ملائکہ اور مؤمن نعمت ہدایت کا شکر ادا کرنے اور مشرکین کی توہین میں اضافہ کرنے اور کافروں کے دکھ پر مسرت ظاہر کرنے کیلئے کہیں گے۔ اللہ نے قیامت میں ہونے والے واقعہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(27۔ 28) اور پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دے گا اور ذلیل کرے گا اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سے فرمائے گا کہ تم نے جن معبودوں کو میرے شریک بنا رکھا تھا جن کی وجہ سے تم مخالفت کیا کرتے تھے اور جن کے بارے میں تم میرے انبیاء کرام سے لڑائی جھگڑا کرتے تھے وہ اب کہاں ہیں ؟ فرشتے اس حالت کو دیکھ کر کہیں گے، قیامت کے دن کا عذاب یعنی دوزخ اور اس کی شدت و سختی کافروں پر ہے جن کی جان فرشتوں نے بدر کے دن قبض کی تھی۔
پھر کافر اس کا جواب دینے کی کوشش کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے نیچے اور دبے ہوئے ہوجائیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے تو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی چیز کی پرستش نہیں کی تھی اور ہماری…
Read the full tafseer →ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يُخْــزِيْهِمْ وَيَقُوْلُ۔۔ : ”یُخْزِيْ“ ”خِزْيٌ“ سے باب افعال کا مضارع ہے، بمعنی رسوائی۔ یہ جسمانی عذاب سے بھی بڑھ کر ہوتی ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ آدمی جسمانی سزا کے آثار چہرے پر ظاہر نہ ہونے دے، مگر رسوائی کے آثار پورے جسم اور چہرے پر واضح ہوتے ہیں۔ ”ثُمَّ“ نسبتاً ترتیب کے لیے لایا گیا ہے کہ دنیا میں ہلاکت و بربادی کے بعد آخرت کی رسوائی اور عذاب کہیں سخت اور کبھی ختم نہ ہونے والا ہوگا اور اللہ تعالیٰ خود ان سے پوچھے گا کہ تم نے جو میرے شریک بنا رکھے تھے اور تم کہتے تھے کہ فلاں کو قبر میں سوال ہوا تو اس نے فلاں بزرگ کا دھوبی ہونے کا حوالہ دیا اور چھوڑ دیا گیا، فلاں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 27
قولہ تعالیٰ : ثم یوم القیمۃ یخزیھم یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں عذاب کے ساتھ رسوا کرے گا اور اس کے ساتھ انہیں ذلیل کرے گا اور ان کے ساتھ حقارت آمیز سلوک کرے گا۔ ویقول این شرکاءی اور ان سے پوچھے گا : تمہارے گمان میں اور تمہارے دعوے کے مطابق جو میرے شریک ہیں وہ کہا ہیں، یعنی وہ معبود جن کی تم میرے سوا عبادت اور پرستش کرتے ہو، اور یہ سوال برائے زجرو توبیخ ہے۔ الذین کنتم تشاقون فیھم یعنی جن کے سبب تم میرے انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ عداوت رکھتے تھے اور جھگڑا کرتے تھے، پس چاہئے کہ وہ تم سے اس عذاب کو دور ہٹائیں۔ اور ابن کثیر نے شرکاءی یا کو مفتوح بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قد مکر الذین من قبلہم “ سے مراد نمرود بن کعنان ہے جب اس نے اونچی عمارت بنائی۔
2:۔ عبدالرزاق اور ابن جریر نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ زمین میں سب سے پہلے جبار (یعنی قہر وغضب والا) نمرود تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر ایک مچھر بھیجا جو اس کے ناک کے نتھنے میں گھس گیا وہ چار سو سال تک اس حال میں رہا کہ اس کا سر ہتھوڑے سے پیٹا جاتا تھا (جس سے اس کا آرام ملتا تھا) اس پر سب سے زیادہ رحم کرنے والا وہ شخص ہوتا جو اپنے ہاتھوں کو جمع کرکے اس کے سر کو مارتا تھا اور وہ چار سو سال تک جبار رہا تو اللہ تعالیٰ نے بھی چار سو سال تک عذاب دیا…
Read the full tafseer →[ثُمَّ : پھر ] [ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ] [ يُخْــزِيْهِمْ : وہ رسوا کرے گا ان کو ] [ وَيَقُوْلُ : اور کہے گا ] [ اَيْنَ : کہاں ہیں ] [ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِينَ : میرے وہ شرکاء ] [ كُنْتم تُشَاۗقُّوْنَ : تم لوگ مخالفت کرتے تھے ] [ فِيْهِمْ ۭ: جن (کے بارے) میں ] [ قَالَ : کہیں گے ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جنھیں ] [ اُوْتُوا : دیا گیا ] [ الْعِلْمَ : علم ] [ ان یقینا ] [ الْخِزْيَ : ساری رسوائی ] [ الْيَوْمَ : آج کے دن ] [ وَالسُّوْۗءَ : اور ساری برائی (بھی)] [ عَلٰي الْكٰفِرِيْنَ : انکار کرنے والوں پر ]
Read the full tafseer →(فَصَبَّ عَلَیْہِمْ رَبُّکَ سَوْطَ عَذَابٍ ) (سو تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا) مکذبین اور معاندین کو دنیا میں تو عذاب پہنچنا ہی ہے آخرت میں بھی ذلیل ہوں گے اور عذاب میں ڈالے جائیں گے اسی کو فرمایا (ثُمَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُخْذِیْھِمْ ) پھر اللہ تعالیٰ انہیں قیامت کے دن رسوا کرے گا اور سوال فرمائے گا کہ وہ شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم جھگڑے کیا کرتے تھے، اس موقع پر علم والے حضرات بول اٹھیں گے اور یوں کہیں گے (اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ ) (بلاشبہ آج رسوائی اور بدحالی کافروں پر ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
قال اللہ تعالیٰ : قد مکر الذین من قبلہم .... الیٰ .... ادخلوا الجنۃ بما کنتم تعملون۔
(ربط) ان آیات میں اول متکبرین کی اس دنیا وہ تباہی اور بربادی کا بیان ہے جو پہلے کافروں پر ناگہانی طور پر نازل ہوئی اس کے بعد الذین تتوفھم الملئکۃ ظالمی انفسھم۔ میں متکبرین کے اخروی عذاب کا بیان ہے یہ سب غرور اور تکبر کا نتیجہ ہے اور مقصود یہ ہے کہ جس طرح اگلے کافر اور متکبر ناگہانی بلاؤں میں مبتلا ہوئے جن کا پہلے سے کہیں وہم و گمان بھی نہ تھا اسی طرح تمہارا بھی یہی حال اور مآل ہوگا اور گزشتہ متکبرین کی طرح تم کو بھی غرور اور تکبر کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔ اور اس کے بعد وقیل للذین اتقوا الخ میں بطور مقابلہ…
Read the full tafseer →23:۔ تخویف اخروی ہے۔ یعنی دنیا میں بھی انہیں حق کے خلاف منصوبہ بازی کی سزا دی گئی اور آخرت میں بھی انہیں سرِ محشر ذلیل و رسوا کیا جائے گا۔ آخرت میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو رسوا کرنے، ان کی اور ان کے معبودوں کی بےبسی ظاہر کرنے کے لیے ان سے سوال کرے گا کہ آج وہ میرے شریک کہاں ہیں جن کی وجہ سے تم میرے پیغمبروں سے جھگڑا کرتے تھے۔ ” قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ الخ “ اہل علم سے انبیاء (علیہم السلام) اور مؤمنین مراد ہیں جو دنیا میں مشرکین کو دعوت توحید دیا کرتے تھے (روح) یعنی آج آخرت میں صرف وہی لوگ رسوا ہوں گے جو دنیا میں دعوت توحید کو رد کیا کرتے تھے اور غیر اللہ کو کارساز اور عندہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
(ربط آیات)
اللہ تعالیٰ نے پہلے توحید کے دلائل بیان فرمائے اور پھر غیروں کو الہ ماننے والوں کی تردید فرمائی ، اللہ نے واضح فرمایا کہ خالق ، رب ، علیم کل ، قادر مطلق ، نافع اور ضار اس کے سوا کوئی نہیں ، لہذا عبادت کے لائق بھی کوئی نہیں ہو سکتا معبود برحق وہی اکیلا ہے اور اس بات میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اس کے بعد اللہ نے منکرین توحید کے باطل عقیدے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ ایک تو انہیں آخرت کے محاسبے کا یقین نہیں ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ تکبر کرتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ کفر شرک ، اور نافرمانی پر مصر ہیں ، جب ان کے سامنے اللہ کا کلام یا رسولوں کی بات پیش کی جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ تو پہلے…
Read the full tafseer →ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يُخْــزِيْهِمْ وَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تُشَاۗقُّوْنَ فِيْهِمْ ۭ قَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْيَ الْيَوْمَ وَالسُّوْۗءَ عَلٰي الْكٰفِرِيْنَ 27ۙ
خزی
خَزِيَ الرّجل : لحقه انکسار، إمّا من نفسه، وإمّا من غيره . فالذي يلحقه من نفسه هو الحیاء المفرط، ومصدره الخَزَايَة «2» ورجل خَزْيَان، وامرأة خَزْيَى وجمعه خَزَايَا . وفي الحدیث :
«اللهمّ احشرنا غير خزایا ولا نادمین» «3» . والذي يلحقه من غيره يقال : هو ضرب من الاستخفاف، ومصدره الخِزْي، ورجل خز . قال تعالی: ذلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيا [ المائدة/ 33] ،
( خ ز ی ) خزی
( س )…
Read the full tafseer →ثم یوم القیامۃ پھر فرماتا ہے کہ کچھ دنیا ہی کی سزا پر منحصر نہیں بلکہ قیامت کے دن بھی اللہ ان کو رسوا کرے گا کہ ان سے پوچھے گا کہ وہ میرے شریک جو تم نے اپنے نزدیک قرار دے رکھے تھے، کہاں ہیں ؟ ادھر طعن و توبیخ کے طور پر اہل علم (مومنین یا انبیاء یا ملائکہ) انہیں کہیں گے کہ آج کفار کی رسوائی اور برائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُخْزِیْہِمْ وَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَکَآئِ یَ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْھِمْ ط قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیٓ الْیَوْمَ وَالسُّوْ ٓئَ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیْ ٓ اَنْفُسِہِمْ ص فَاَلْقَوْا السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓ ئٍ ط بَلٰٓی اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ م بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 27۔ 28)
(پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انھیں ذلیل و خوار کرے گا اور پوچھے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کی حمایت میں تم لڑتے تھے، جن کو علم عطا ہوا وہ پکار اٹھیں گے، آج رسوائی اور بدبختی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : دنیا کے انجام کے ساتھ مجرموں کا آخرت میں انجام۔
گمراہ اقوام اور ان کے راہنماؤں کا دنیا میں بدترین انجام ہوا۔ قیامت کے روز بھی انہیں رسوا کیا جائے گا۔ قیامت کی رسوائیوں میں ایک رسوائی یہ ہوگی کہ غلط پیروں اور ان کے مریدوں، لیڈروں اور ان کے ور کروں، علماء اور ان کے پیروکاروں کو آمنے سامنے کھڑا کر کے اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے بارے میں تم بحث و تکرار، جنگ وجدال اور جھوٹے دلائل دیا کرتے تھے۔ جب کوئی جواب نہیں دے پائیں گے تو اہل علم پکار اٹھیں گے۔ آج کے دن کافر اور مشرک ذلیل ہوجائیں گے۔ قرآن مجید میں کافروں اور مشرکوں کی رسوائیوں کا یوں ذکر کیا…
Read the full tafseer →قیامت کو خمیازہ بھگتیں گے :
27: ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُخْزِیْہِمْ (پھر وہ قیامت کے دن ان کو رسوا کرے گا) رسوائی کے عذاب سے ان کو ذلیل کرے گا جو اس کے علاوہ ہوگا جو دنیا میں ان کو عذاب ملا۔ وََیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَکَآ ئِ یَ (اور کہیں گے کہاں ہیں میرے شریک) اپنی طرف اضافت کر کے ان کی اضافت و نسبت کو بیان کیا تاکہ استہزاء ً ان کو توبیخ کردی جائے۔ الَّذِیْنَ کُنـْتُمْ تُشَآ قُّوْنَ فِیْھِمْ (وہ جن کی وجہ سے تم رسول خدا اور مسلمانوں کی مخالفت کرتے تھے) دشمنی کرتے اور مسلمانوں سے ان کے معاملات کے سلسلہ میں جھگڑتے تھے۔
قراءت : تشاقون نافع نے پڑھا یعنی تشاقوننی فیہم۔ کیونکہ مؤمنوں کی مخالفت گویا…
Read the full tafseer →(27)” ثم یوم القیامۃ یخزیھم “ ان کو عذاب کے ذریعے مزید رسوا کرے گا۔ ” ویقول این شرکائی الذین کنتم تشافون فیھم “ جس وجہ سے تم مومنین کی مخالفت کرتے تھے، تم ان کو حاضر نہیں کرسکو گے تاکہ وہ تمہارے سے عذاب کو دور کریں۔ نافع نے ” تشاقون “ نون کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اضافت کی بناء پر اور دوسرے حضرات نے فتحہ کے ساتھ پڑھا۔ ” قال الذین اونو العلم “ اس سے مراد مومنین ہیں۔ ” ان الخزی “ بلاشبہ ان کے ذلت ” الیوم والسوئ “ عذاب ہے۔
Read the full tafseer →27۔ اللہ پاک نے فریب سے دین الٰہی کے روکنے کا نتیجہ جو کچھ دنیا میں ہوا اس کو بیان کر کے انہیں مکاروں کا آخرت کا حال یہ بیان کیا کہ یہ لوگ قیامت کے دن بہت ذلیل و رسوا ہوں گے اللہ پاک ان کی مکر کی باتوں کو اور ان بھیدوں کو جو ان کے دل میں پوشیدہ ہوں گے اپنی ساری مخلوق کے سامنے ظاہر کر دے گا۔ صحیحین میں ابن عمر ؓ کی ایک حدیث ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ہر ایک دغا باز کا جھنڈا اس کے ساتھ ہوگا اور اس کے فریب کے بموجب کہا جائے گا یہ فلاں شخص کا فریب ہے 1 ؎۔ پھر اللہ تعالیٰ ان دغا بازوں سے یہ کہے گا کہ وہ کہاں ہیں جنہیں تم نے اللہ کا شریک ٹھہرایا تھا اور ان کی حمایت میں اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
آیت 24
اللہ تبارک و تعالیٰ آیات الٰہی کے بارے میں مشرکین کی شدت تکذیب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (واذا قیل لھم ماذا انزل ربکم) ” جب ان سے کہا جاتا ہے، تمہارے رب نے کیا اتارا ہے ؟ “ یعنی جب ان سے قرآن اور وحی، جو اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے۔۔۔ کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔۔۔ کہ تمہار اسا کی بابت کیا جواب ہے ؟ کیا تم اس نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے شکر ادا کرتے ہو یا اس کی ناشکری کرتے ہوئے عناد رکھتے ہو ؟ “ تو وہ بدترین جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں یہ (اساطیر الاولین) ” پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں “ یعنی یہ جھوٹ ہے جسے محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے۔ یہ گزرے ہوئے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جنہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →51۔ منکروں کے لئے اصل عذاب آخرت میں۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ آخرت میں ان کے لئے ذلت و رسوائی کا عذاب ہوگا یعنی اس دنیاوی عذاب پر ہی بس نہیں بلکہ اصل عذاب تو آخرت کا ہے جو کہ بہت ہی بڑا نہایت ہی سنگین ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا (ولعذاب الاخرۃ اکبر لوکانوا یعلمون) (القلم : 32) یعنی آخرت کا عذاب یقینی طور پر بہت بڑا ہوگا۔ نیز فرمایا گیا (ولعذاب الاخرۃ اشق وما لہم من اللہ من واق) (الرعد : 34) یعنی آخرت کا عذاب یقینا بڑا ہی سخت ہوگا اور ان کے لئے اللہ کی پکڑ سے کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ سو نورحق و ہدایت سے محرومی اور راہ حق و صداقت سے روکنے اور منع کرنے کا جرم ایسا ہولناک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
قیامت کے دن مشرکین اور کفار کی رسوائی اور ذلت
تشریح : پچھلی آیات میں دنیا میں دیے گئے عذاب کا ذکر ہے اب ان آیات میں کفار کی وہ حالت بیان کی گئی ہے جو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیے جانے اور حساب کتاب کے وقت ہوگی۔ تب وہ سوحیلے بہانے بنائیں گے اور عذاب الٰہی سے بچنے کی کئی تدبیریں کریں گے مگر سب بےکار ہوگا۔ کیونکہ اللہ سب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے رہے لہٰذا ان کے برے اعمال اور شرک و کفر کی وجہ سے ان کو حکم دیا جائے گا کہ دوزخ کے دروازوں سے جہنم میں داخل ہوجاؤ اور ہمیشہ اسی میں رہو۔ ان کا کوئی شریک وہاں کام نہیں کرے گا۔ آخرت کا لفظ 115 دفعہ اور دنیا کا لفظ بھی قرآن میں 115 دفعہ آیا ہے۔ اور قیامت تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
جہاں تک اپنی حفاظت اقتدار اور غلبے کا تعلق ہے جس کے خاطر یہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے سے نہیں چوکتے تو اس کی مثالیں سامنے ہیں کہ ان سے پہلی کافر قوموں نے بہت تدبیریں کی تھیں اور بڑے دنیاوی اسباب جمع کئے تھے مگر تقدیر باری کے سامنے پیش نہ گئی اللہ کریم نے انہیں ایسے برباد کیا کہ بنیادوں تک سے اکھیڑ دیا اور ان کی چھتیں انہی پر گر گئیں یعنی جو تدبیریں حفاظت کیلئے کی تھیں وہی تباہی کا باعث بن گئیں اور عذاب الہی نے ایسا پکڑا کہ وہ سمجھ ہی نہ پائے کہ یہ مصیبت کدھر سے آرہی ہے یہ تو دنیا کا حال تھا اصل خرابی تو میدان حشر میں ہوگی جب انہیں تمام عالم کے روبرو رسوا کیا جائے گا…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی انبیاء اور ان کے متعبین سے وہ تمہیں لاکھ سمجھاتے مگر تم اس کے برعکس انہیں اپنا معبود ہی سمجھتے ان کے سامنے ہاتھ رگڑنے اور ان کے آستانوں پر نذرانے چڑھانے پر مصر رہتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
(16:26) مکر۔ اس نے (یہاں بمعنی جمع۔ انہوں نے) خفیہ تدبیر چلی۔
القواعد ۔ اس کی بنیادیں ۔ اس کی واحد القاعدہ ہے، جس چیز کسی چیز کا قعود ہو یعنی قیام ہو۔ وہ قاعدہ ہے۔ القواعد۔ بمعنی عمر رسیدہ عورتیں ہو تو اس کا واحد القاعدہ ہے جیسے کہ والقواعد من النساء (24:60) عورتوں میں سے بڑی بوڑھی عورتیں ہیں۔
خر۔ ماضی واحد مذکر غائب (باب ضرب) خر مصدر۔ وہ گرپڑا۔
شرکایٔ۔ مضاف مضاف الیہ۔ میرے شریک (تمہارے زعم کے مطابق)
کنتم تشاقون فی۔ جن کی بابت تم جھگڑا کیا کرتے تھے۔
ماضی استمراری ۔ جمع مذکر حاضر۔ مشاقۃ وشقاق مصدر بمعنی مخالفت کرنا۔ عداوت کرنا۔ جھگڑنا۔ ضد کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 29
بنیان گھر۔ القواعد بنیادیں۔ خر گر پڑا۔ سقف چھت۔ فوق اوپر۔ یخزی وہ ذلیل و رسوا کرے گا۔ این کہاں ؟ شرکاءی میرے شریک۔ تشاقون تم لڑتے ہو۔ اوتوا العلیم جن کو علم دیا گیا۔ تتوفی جان نکالتے ہیں۔ القوا انہوں نے ڈالا۔ اسلم صلح کا پیغام۔ مثویٰ ٹھکانا۔ المتکبرین بڑائی کرنے والے۔
تشریح آیت نمبر 26 تا 29
گزشتہ آیات میں جس مضمون کو شروع کیا گیا تھا اس کی تکمیل کی جا رہی ہے ساری دنیا کو اور خصا طور پر مکہ کے ان لوگوں سے خطاب کیا جا رہا ہے جو حج وغیرہ کے موقعوں پر آنے والے بیخبر لوگوں کے سامنے قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ کی ذات کے متعلق حقارت سے ذکر کرتے تاکہ اجنبی آدمی کے دل میں…
Read the full tafseer →اللہ پاک نے فریب سے دین الٰہی کے روکنے والوں کا نتیجہ جو کچھ دنیا میں ہوا اس کو بیان کر کے انہیں مکاروں کا آخرت کا حال یہ بیان کیا کہ یہ لوگ قیامت کے دن بہت ذلیل ورسوا ہوں گے اللہ پاک ان کی مکر کی باتوں کو اور بھیدوں کو جو ان کے دل میں پوشیدہ ہوں گے اپنی ساری مخلوق کے سامنے ظاہر کر دے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ ان دغا بازوں سے یہ کہے گا کہ وہ بت کہاں ہیں جنہیں تم نے اللہ کا شریک ٹھہرایا تھا اور ان کی حمایت میں اللہ کے رسولوں کے ساتھ جھگڑا کرتے تھے اور جن کی وجہ سے تم مسلمانوں سے لڑا کرتے تھے۔ اب ان بتوں کو بلاؤ وہ کہاں تھے تمہاری مصیبت کے وقت مدد کرنے نہیں آتے پھر جب ان پر حجت تمام ہوچکے گی تو نیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
[15] باہر کے لوگ مشرکین مکہ سے قرآن کے بارے میں سوالات کیا کرتے تھے کہ یہ کس قسم کی کتاب ہے، اس کے مضامین کیا ہیں، وغیرہ وغیرہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
چاہ کن را چاہ درپیش !
(ف 1) پہلے لوگوں کے حالات بیان فرمائے ہیں کہ انکار وتمرد کی عادتیں پرانی ہیں ، ابتداء سے بعض بدبخت ایسے موجود ہیں رہے ہیں جنہوں نے کفر وعناد سے حصہ وافر پایا ہے ۔ اور حق کے خلاف سازشیں کی ہیں شمع ہدایت کو گل کرنے کی سعی کی ہے ، گلشن حق وصداقت کی بربادی کے منصوبے باندھے ہیں ، مگر اللہ نے انہیں کے دام میں انہیں گرفتار کیا ہے ، جس طریق سے انہوں نے حق پرستوں کے خلاف عناد کا اظہار کیا ہے ، اسی طریق سے اللہ نے انکو بربادی کی راہیں دکھائی ہیں ۔
اس آیت میں تمثیل کے ذریعے اس حقیقت کو سمجھایا ہے کہ فرض کرو ، کہ ایک شخص نے ایک بڑا قلعہ طیار کیا ہے ، تاکہ اس کے ذریعے حق پرستوں کی…
Read the full tafseer →27 ۔ پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کو اور بھی رسوا کرے گا اور ان سے کہے گا کہ آج وہ میرے ساجھی اور شرکاء کہاں ہیں جن کے بارے میں تم اہل حق سے جھگڑا کیا کرتے تھے اس پر وہ لوگ جن کو حق بات کا علم دیا گیا تھا کہیں گے آج کے دن ہر قسم کی ذلت و رسوائی ان منکرین حق پر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
ف 3۔ جو شخص کسی کو گمراہ کیا کرتا ہے اس گمراہ کو تو گمراہی کا گناہ ہوتا ہے اور اس گمراہ کرنے والے کو اس گمراہی کا سبب بن جانے کا اس حصہ تسبب کو کچھ بوجھ فرمادیا گیا، اور پنے گناہ کا کامل طور پر اٹھانا ظاہر ہے۔
Read the full tafseer →قیامت کے روز پکارنے والوں اور پکارے جانے والوں کی حالت کا بیان :
33۔ فرمایا دنیا کی رسوائی تو ان کے حصے میں آئی جو آئی ، لیکن اس کا حال تو صرف اتنا تھا کہ وہ اس دنیا میں تباہ وبرباد کر کے رکھ دیئے گئے یہ رسوائی تو اتنی ہی تھی ابھی عذاب تو آگے آنے والا ہے جو انکے کئے کا اصل نتیجہ ہے اور جس نیتجہ سے وہ آخرت میں دوچار ہونے والے ہیں اور اس دنیاوی بربادی کے علاوہ قیامت کے دن بھی ان کو ذلیل ورسوا ہونا پڑے گا ، سارے انبیاء کرام اور ان کی امتیں جمع ہوں گی یہ غریب ونادار مسلمان جن کو آج یہ بڑی حقارت سے دیکھتے ہیں وہ عزت و کرامت کی خلعتیں پہنے کھڑے ہوں گے اور ان سب کے سامنے ان سرکشوں کو شرمسار کیا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–34
Commentary
It will be recalled that, after describing the blessings of Allah and proving that He was unique in the creation of the universe, the text made a pointed reference to how the polytheists chose to stick to their own ways of error. In the present verses, the text describes how they, not content with their own straying, tried that others should also go astray like them. The punishment they would get for doing that has also been stated here. Earlier to that (24), there is a question about the Qur’ an, and the addressees of the question, at this place, are the polytheists. It is their…
Read the full tafseer →23. There is a gap between this answer and the preceding question which has been left for the reader to fill. When Allah will ask: Now where are My partners, there will be dead silence in the plain where the entire mankind shall have to gather on the occasion of Resurrection. The disbelievers and the mushriks will be dumb founded for they will be at a loss to find an answer to this. Then those who had been given knowledge will make the assertion,“Indeed, disgrace, this day, and evil are upon the disbelievers.”
Read the full tafseer →