Explained with ayahs 26–27
نمرود کا تذکرہ
بعض تو کہتے ہیں اس مکار سے مراد نمرود ہے جس نے بالاخانہ تیار کیا تھا۔ سب سے پہلے سب سے بڑی سرکشی اسی نے زمین میں کی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک کرنے کو ایک مچھر بھیجا جو اس کے نتھنے میں گھس گیا اور چار سو سال تک اس کا بھیجا چاٹتا رہا، اس مدت میں اسے اس وقت قدرے سکون معلوم ہوتا تھا جب اس کے سر پر ہتھوڑے مارے جائیں، خوب فساد پھیلایا تھا۔ بعض کہتے ہیں اس کے سر پر ہتھوڑے پڑتے رہتے تھے۔ اس نے چار سو سال تک سلطنت بھی کی تھی اور خوب فساد پھیلایا تھا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد بخت نصر ہے یہ بھی بڑا مکار تھا لیکن اللہ کو کوئی کیا نقصان پہنچا سکتا ہے ؟ گو اس کا مکر پہاڑوں کو بھی اپنی جگہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
سورة النَّحْل 22
نبی ﷺ کی دعوت کا چرچا جب اطراف و اکناف میں پھیلا تو مکہ کے لوگ جہاں کہیں جاتے تھے ان سے پوچھا جاتا تھا کہ تمہارے ہاں جو صاحب نبی بن کر اٹھے ہیں وہ کیا تعلیم دیتے ہیں ؟ قرآن کس قسم کی کتاب ہے ؟ اس کے مضامین کیا ہیں ؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے سوالات کا جواب کفار مکہ ہمیشہ ایسے الفاظ میں دیتے تھے جن سے سائل کے دل میں نبی ﷺ اور آپ کی لائی ہوئی کتاب کے متعلق کوئی نہ کوئی شک بیٹھ جائے، یا کم از کم اس کو آپ سے آپ کی نبوت کے معاملے سے کوئی دلچسپی باقی نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
خلاصہ تفسیر
اور جب ان سے کیا جاتا ہے (یعنی کوئی ناواقف شخص تحقیق کے لئے یا کوئی واقف شخص امتحان کے لئے ان سے پوچھتا ہے) کہ تمہارے رب نے کیا چیز نازل فرمائی ہے (یعنی قرآن جس کو رسول کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کا نازل کیا ہوا فرماتے ہیں آیا یہ صحیح ہے) تو کہتے ہیں کہ (صاحب وہ رب کا نازل کیا ہوا کہاں ہے) وہ تو محض بےسند باتیں ہیں جو پہلوں سے (منقول) چلی آ رہی ہیں (یعنی اہل ملل پہلے سے توحید ونبوت ومعاد کے مدعی ہوتے آئے ہیں ان ہی سے یہ بھی نقل کرنے لگے باقی یہ دعوے اللہ تعالیٰ کے تعلیم دیئے ہوئے نہیں) نتیجہ اس (کہنے) کا یہ ہوگا کہ ان لوگوں کو قیامت کے دن اپنے گناہوں کا پورا بوجھ اور جن کو یہ لوگ بےعلمی…
Read the full tafseer →قَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْيَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَــرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُوْنَ۔
" مکر " کے معنی سازش اور چال کے ہیں، چونکہ ان مفسدین کی یہ تمام سرگرمیاں محض اپنی لیڈری کے تحفظ کے لیے تھیں۔ وہ دیدہ دانستہ حق کی مخالفت کر رہے تھے اس وجہ سے قرآن نے اس کو " مکر " سے تعبیر فرمایا۔
یہ اشارہ ہے ماضی کی ان قوموں کی طرف جنہوں نے اپنے رسولوں کی اسی طرح کے اغراض کے تحت مخالف ت کی جس طرح کے اغراض کے تحت قریش کے لیڈر آنحضرت ﷺ کی مخالفت کر رہے تھے۔ فرمایا کہ اس کی پاداش میں اللہ کے عذاب نے ان کی…
Read the full tafseer →26۔ 1 بعض مفسرین اسرائیلی روایات کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ اس سے مراد نمرود یا بخت نصر ہے، جنہوں نے آسمان پر کسی طرح چڑھ کر اللہ کے خلاف مکر کیا، لیکن وہ ناکام واپس آئے اور بعض مفسرین کا خیال میں یہ ایک کہانی ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ کے ساتھ کفر و شرک کرنے والوں کے عمل اسی طرح برباد ہونگے جس طرح کسی کے مکان کی بنیادیں متزلزل ہوجائیں اور وہ چھت سمیت گرپڑے۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مقصود ان قوموں کے انجام کی طرف اشارہ کرنا ہے، جن قوموں نے پیغمبروں کی تکذیب پر اصرار کیا اور بالآخر عذاب الٰہی میں گرفتار ہو کر گھروں سمیت تباہ ہوگئے، مثلاً قوم عاد وقوم لوط وغیرہ۔ جس طرح دوسرے مقام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
14: یعنی اللہ کے کلام کو افسانہ قرار دے کر انہوں نے جن لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ ان کے ایسے گناہوں کا بوجھ بھی ان پر لادا جائے گا جو انہوں نے ان کے زیر اثر آ کر کیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
آیت نمبر 26 تا 29
قد مکرالذین من قبلھم (16 : 26) “ ان سے پہلے بھی بہت سے لوگ (حق کو نیچا دکھانے کے لیے ) ایسے ہی مکاریاں کرچکے ہیں ”۔ قرآن کریم ان کے پروپیگنڈے کو ایک ایسی عمارت سے تعبیر کرتا ہے جس کی بنیادیں بھی ہیں اور ستون بھی اور چھت بھی ہے۔ اس میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ ان کا پروپیگنڈا بڑ اگہرا ، مضبوط ، پختہ اور ضخیم تھا لیکن اللہ کی قوت اور تدبیر کے مقابلے میں یہ کامیاب نہ ہوا۔
فاقی اللہ بنیانھم من القواعد فخر علیھم الشقف من فوقھم (16 : 26) “ تو دیکھ لو کہ اللہ نے ان کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی اور اس کی چھت اوپر سے ان کے سر پر آرہی ”۔ یہ ایک ایسا منظر اور ایسی تصویر کشی ہے جس سے…
Read the full tafseer →9 یعنی لوگوں کو گمراہ کرنے اور پیغام حق کو پست کرنے کی جو تدبیریں آج کی جا رہی ہیں ان سے پہلے دوسری قومیں بھی انبیاء (علیہم السلام) کے مقابلہ میں ایسی تدبیریں کرچکی ہیں۔ انہوں نے مکرو تلبیس کے بڑے اونچے محل کھڑے کردیے، پھر جب خدا کا حکم پہنچا تو اس نے پکڑ کر بنیادیں ہلا دیں۔ آخر عذاب الٰہی کے ایک جھٹکا میں ان کے تیار کیے ہوئے محل ان ہی پر آپڑے جن کی چھتوں کے نیچے سب دب کر رہ گئے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی تدبیریں خود ان ہی پر الٹ دی گئیں۔ اور جو سامان غلبہ و حفاظت کا کیا تھا وہ فنا و ہلاکت کا سبب بن گیا۔ بلکہ بعض اقوام کی بستیاں حسی طور پر بھی تہ وبالا کردی گئیں۔
Read the full tafseer →آیت 26 قَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ
ان سے پہلے بھی مختلف اقوام کے لوگوں نے ہمارے انبیاء و رسل کی مخالفت کی تھی اور ان کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے طرح طرح کے حربے آزمائے تھے اور سازشیں کی تھیں۔
فَاَتَى اللّٰهُ بُنْيَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَــرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ
جب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آیا تو مخالفین کی تمام سازشوں کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا گیا اور ان کی بستیوں کو تلپٹ کردیا گیا۔ سدوم اور عامورہ کی بستیوں کے بارے میں ہم پڑھ آئے ہیں : فَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ہود : 82 ”پھر جب آگیا ہمارا حکم تو ہم نے کردیا اس کے اوپر والے حصے…
Read the full tafseer →26 قریش کی اسلام دشمن سرگرمیاں :۔ قریش مکہ صرف یہی نہیں کہ لوگوں میں غلط پروپیگنڈا کرکے انھیں اسلام سے دور رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ بلکہ اسلام کو روکنے کے لیے کئی طرح کی تدبیریں کرتے رہتے تھے۔ وہ اسلام لانے والوں پر ناروا سختیاں کرتے، انھیں تنگ کرتے۔ بیت اللہ میں داخلہ اور بالخصوص طواف پر پابندیاں قرآن بلند آواز سے پڑھنے پر پابندیاں اور دھمکیاں اور پھر معاشرتی بائیکاٹ، یہ سب کچھ وہ اس لیے کر رہے تھے کہ اسلام اور اس کی دعوت کا کلی طور پر استیصال کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان سے پہلے لوگ بھی دعوت حق کے مقابلے میں ایسی ہی چالیں چلتے رہے اور ان چالوں کے اونچے اور مضبوط محل کھڑے کردیئے۔ لیکن جب…
Read the full tafseer →35۔ واقعات تاریخی کو یہاں تمثیلی رنگ انشاء میں پیش کیا گیا ہے۔ یعنی جن پر قوت و شوکت منکرین سابقین نے انبیاء کرام کے خلاف خوب خوب منصوبے گانٹھے تھے، بڑی بڑی زبردست چالیں سوچی تھیں، حق تعالیٰ نے ان کی ایک نہ چلنے دی، ان کی ساری خیالی عمارتیں مسمار ہو کر رہیں، اور وہ اس طرح بربادونابود ہوئے کہ جیسے سب چھت کے نیچے دب کر رہ گئے۔ (آیت) ’ من حیث لایشعرون “۔ شامت زدہ قوموں پر تباہی عموما ایسے ہی راستوں اور طریقوں سے آتی ہے، جدھر ان کا خیال و گمان بھی نہیں ہوتا :۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
آیت نمبر 26 تا 34
ترجمہ : ان سے پہلے لوگوں نے بھ مکر کیا تھا، اور وہ نمرود تھا جس نے ایک بہت اونچا منارہ بنایا تاکہ اس پر چڑھ کر آسمان والوں سے
قتال کرے، آخر اللہ تعالیٰ نے ان بنیادوں کو جڑ سے اکھاڑدیا کہ ان پر آندھی اور زلزلہ بھیج کر ان کو منہدم کردیا، اور ان کے سروں پر ان کی چھتیں اوپر آپڑیں جس وقت وہ ان کے نیچے تھے اور ان پر عذاب وہاں سے آگیا جہاں کا انھیں وہم و گمان بھی نہ تھا، یعنی ایسی جہت سے کہ ان کے خیال و خواب میں بھ نہ تھا، اور کہا گیا ہے کہ یہ تمثیل ہے ان منصوبوں کو ناکام کرنے کی جن کو انہوں نے رسول کے خلاف استوار کیا تھا، پھر روز قیامت بھی اللہ انھیں رسوا کرے گا اور فرشتوں کے…
Read the full tafseer →قد مکر الذین من قبلھم جو لوگ ان سے پہلے ہو گذرے ہیں ‘ انہوں نے بڑی بڑی تدبیریں کیں ‘ یعنی اللہ کے پیغمبروں کے ساتھ فریب کرنے کی بڑی تدبیریں کیں۔
فاتی اللہ بنیا لھم من القواعد فخر علیھم السقف من فوقھم وانھم العذاب من حیث لا یشعرون پس اللہ نے ان کا بنا بنایا گھر جڑ بنیاد سے ڈھا دیا ‘ پھر اوپر سے ان پر چھت آپڑی اور (علاوہ ناکامی کے) ان پر (ا اللہ کا)
عذاب ایسی طرح آگیا کہ ان کو خیال بھی نہ تھا۔ یعنی ان کی تدبیروں کی جڑیں اکھاڑ دینے کیلئے اللہ کا حکم آگیا اور ہلاکت آفریں عذاب ایسے راستوں سے ان پر آپہنچا جن کا ان کو گمان بھی نہ تھا۔ ان کی تدبیریں ہی اسباب ہلاکت بن گئیں ‘ جیسے کوئی قوم اپنے بچاؤ…
Read the full tafseer →(26) جیسا کہ یہ لوگ آپ کی مخالفت کیلیے بڑی بڑی تدبیری کرتے ہیں جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں انہوں نے اپنے انبیاء کرام کے مقابلہ کے لیے بڑی بڑی تدبیریں کرتے ہیں جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں، انہوں نے اپنے انبیاء کرام کے مقابلہ کے لیے بڑی بڑی تدبیریں کیں جیسا کہ نمرود جبار کہ اس نے آسمان پر جانے کے لیے سیڑھی بنائی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا بنابنایا گھر (سیڑھی) جڑ سے ڈھا دیا تو گویا ان پر اوپر سے وہ سیڑھی آپڑی اور یہ انہدام کا عذاب ان پر ایسی حالت میں آیا کہ ان کو خیال بھی نہ تھا۔
Read the full tafseer →قَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ : مکر کا معنی خفیہ اور مضبوط تدبیر یا کسی دوسرے کو حیلے کے ساتھ اس کے مقصد سے روکنا ہے، یہ خیر کے لیے ہو تو قابل تعریف ہے، شر کے لیے ہو تو قابل مذمت۔ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے کہ اس سے پہلے لوگوں نے بھی رسولوں کے خلاف خفیہ تدبیریں اور سازشیں جتنی کرسکتے تھے کیں مگر بری طرح ناکام ہوئے۔
فَاَتَى اللّٰهُ بُنْيَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ۔۔ : ”بُنْیَانٌ بَنَی یَبْنِيْ“ (ض) کا مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، بنائی ہوئی عمارت۔ ”الْقَوَاعِدِ“ ”قَاعِدَۃٌ“ کی جمع ہے، بنیادیں۔ اس کی تفسیر دو طرح سے کرتے ہیں، ایک تو یہ کہ یہ ایک تمثیل ہے، یعنی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 26
قولہ تعالیٰ : قد مکر الذین من قبلھم یعنی وہ اقوام جو سابقہ رسولوں کے ساتھ کفر کرنے کے سبب ان سے سبقت لے گئی ہے (وہ دعوت حق کے خلاف مکروفریب کیا کرتی تھیں) لیکن حسین اور خوبصورت انجام رسل (علیہم السلام) کا ہوا۔ فأتی اللہ بنیانھم من القواعد فخر علیہم السقف من فوقھم حضرت ابن عباس اور حضرت زید بن اسلم ؓ وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ نمرود بن کنعان اور اس کی قوم نے آسمان پر چڑھنے اور اس کے باسیوں کو قتل کرنے کا ارادہ کیا، پس انہوں نے ایک محل بنایا تاکہ وہ اس سے اوپر چڑھ سکیں اس کے بعد کہ اس نے گدھوں کے ساتھ بنایا جو بنایا، پس وہ گر پڑا۔ اس کا بیان سورة ابراہیم کے آخر میں گزر چکا ہے
اور فاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قد مکر الذین من قبلہم “ سے مراد نمرود بن کعنان ہے جب اس نے اونچی عمارت بنائی۔
2:۔ عبدالرزاق اور ابن جریر نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ زمین میں سب سے پہلے جبار (یعنی قہر وغضب والا) نمرود تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر ایک مچھر بھیجا جو اس کے ناک کے نتھنے میں گھس گیا وہ چار سو سال تک اس حال میں رہا کہ اس کا سر ہتھوڑے سے پیٹا جاتا تھا (جس سے اس کا آرام ملتا تھا) اس پر سب سے زیادہ رحم کرنے والا وہ شخص ہوتا جو اپنے ہاتھوں کو جمع کرکے اس کے سر کو مارتا تھا اور وہ چار سو سال تک جبار رہا تو اللہ تعالیٰ نے بھی چار سو سال تک عذاب دیا…
Read the full tafseer →قَدْ مَكَرَ : چالبازی کرچکے ہیں ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جو ] [ مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے پہلے تھے ] [ فَاَتَى: تو پہنچا ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ بُنْيَانهُمْ : ان کی عمارت پر ] [ مِّنَ الْقَوَاعِدِ : بنیادوں سے ] [ فَخَــرَّ : پس گر پڑی ] [ عَلَيْهِمُ : ان پر ] [ السَّقْفُ : چھت ] [ مِنْ فَوْقِهِمْ : ان کے اوپر سے ] [ وَاَتٰىهُمُ : اور پہنچا ان پر ] [ الْعَذَابُ : عذاب ] [ مِنْ حَيْثُ؛جہاں سے ] [ لَا يَشْعُرُوْنَ : وہ شعور نہیں رکھتے تھے ]
س ق
[سَقْفًا : (ف۔ ن) مکان پر چھت ڈالنا۔]
[ شَقْفٌ ج سُقُفٌ۔ چھت۔ زہر مطالعہ آیت۔ 26 ۔]
Read the full tafseer →معاندین سابقین کے عذاب کا تذکرہ، قیامت کے دن کافروں کی رسوائی اور بدحالی، متکبرین کا برا ٹھکانہ ہے
مشرکین مکہ جو قرآن مجید کے اولین مخاطب تھے اسلام اور داعی اسلام ﷺ کے خلاف طرح طرح کی تدبیریں سوچتے تھے اور آپس میں مشورے کرتے تھے۔ (وَ قَدْ مَکَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ) میں ان لوگوں کی مکاری کا تذکرہ فرمایا جو پہلی امتوں میں گزرے ہیں، یہ لوگ حضرات انبیاء (علیہ السلام) کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کا کیا کرایا سب برباد کردیا جیسے کوئی شخص عمارت بنائے اور پھر اس کی بنیادیں اور ستون گرپڑیں اور پھر اوپر سے چھت گرجائے، ان کی بنائی ہوئی تعمیر بھی برباد ہوئی اور خود بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
قال اللہ تعالیٰ : قد مکر الذین من قبلہم .... الیٰ .... ادخلوا الجنۃ بما کنتم تعملون۔
(ربط) ان آیات میں اول متکبرین کی اس دنیا وہ تباہی اور بربادی کا بیان ہے جو پہلے کافروں پر ناگہانی طور پر نازل ہوئی اس کے بعد الذین تتوفھم الملئکۃ ظالمی انفسھم۔ میں متکبرین کے اخروی عذاب کا بیان ہے یہ سب غرور اور تکبر کا نتیجہ ہے اور مقصود یہ ہے کہ جس طرح اگلے کافر اور متکبر ناگہانی بلاؤں میں مبتلا ہوئے جن کا پہلے سے کہیں وہم و گمان بھی نہ تھا اسی طرح تمہارا بھی یہی حال اور مآل ہوگا اور گزشتہ متکبرین کی طرح تم کو بھی غرور اور تکبر کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔ اور اس کے بعد وقیل للذین اتقوا الخ میں بطور مقابلہ…
Read the full tafseer →22:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ مشرکین مکہ سے پہلے سرکش قوموں نے انبیاء (علیہم السلام) کے خلاف منصوبے بنائے مگر ان کے منصوبے خود ان کی اپنی ہلاکت کا باعث بنتے۔ ” فَاَتَی اللّٰهُ بُنْیَانَھُمْ الخ “ یہ اقوام گذشتہ کی تباہی و ہلاکت کی تمثیل ہے یعنی ان کی مثال ان لوگوں کی سی ہے جو ستونوں پر ایک عمارت بنائیں اور اس کی چھت ستونوں پر سے گر پڑے اور بنانے والے اپنی ہی بنائی ہوئی چھت کے نیچے دب کر مرجائیں۔ کحال قوم بنوا بنیانًا و مدوہ بالاساطین فاتی البنیان من الاساطین بان ضعضعت فسقط علیھم السقف و ماتوا وھلکوا الخ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
(ربط آیات)
اللہ تعالیٰ نے پہلے توحید کے دلائل بیان فرمائے اور پھر غیروں کو الہ ماننے والوں کی تردید فرمائی ، اللہ نے واضح فرمایا کہ خالق ، رب ، علیم کل ، قادر مطلق ، نافع اور ضار اس کے سوا کوئی نہیں ، لہذا عبادت کے لائق بھی کوئی نہیں ہو سکتا معبود برحق وہی اکیلا ہے اور اس بات میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اس کے بعد اللہ نے منکرین توحید کے باطل عقیدے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ ایک تو انہیں آخرت کے محاسبے کا یقین نہیں ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ تکبر کرتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ کفر شرک ، اور نافرمانی پر مصر ہیں ، جب ان کے سامنے اللہ کا کلام یا رسولوں کی بات پیش کی جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ تو پہلے…
Read the full tafseer →قَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْيَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَــرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُوْنَ 26
مكر
المَكْرُ : صرف الغیر عمّا يقصده بحیلة، وذلک ضربان : مکر محمود، وذلک أن يتحرّى بذلک فعل جمیل، وعلی ذلک قال : وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] . و مذموم، وهو أن يتحرّى به فعل قبیح، قال تعالی: وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43]
( م ک ر ) المکر ک
ے معنی کسی شخص کو حیلہ کے ساتھ اس کے مقصد سے پھیر دینے کے ہیں
یہ دو قسم پر ہے ( 1) اگر اس سے کوئی اچھا فعل مقصود ہو تو…
Read the full tafseer →ترکیب : فاتی اللہ ای قصد۔ من فوقہم متعلق ہے خرّ سے ویجوزان یکون ‘ من لابتداء الغایۃ وان یکون حالا اے کائنا من فوقہم یوم القیامۃ طرف ہے یخزیہم کا الیوم کا عامل الخزی الذین جملہ الکافرین کی صفت ہے ظالمی حال ہے ھم ضمیر تتوفہم سے السلم بمعنی القول جیسا کہ دوسری آیت میں ہے فالقوا الیھم القول ماکنا تفسیر السلم کی۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ کافر قرآن کو مکروفریب سے قصے کہانیاں بتلاتے ہیں، لوگوں کو بہکانے کے لیے اب فرماتا ہے کہ کچھ انہیں پر منحصر نہیں ان سے پہلوں نے بھی دین حق کے مقابلہ میں بہت کچھ مکروفریب کئے تھے کہ جن کو خدا نے برباد کردیا۔ فاتی اللہ الخ بعض مفسرین کہتے ہیں آیت کے ظاہری معنی…
Read the full tafseer →قَدْمَکَرَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَاَتَی اللّٰہُ بُنْیَانَہُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّعَلَیْھِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِھِمْ وَاَتٰـہُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لاَیَشْعُرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 26)
(دعوتِ حق کے خلاف) ان لوگوں نے بھی مکر و فریب کیا جو ان سے پہلے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی عمارت جڑوں سے اکھاڑ دی، پس ان کے اوپر سے ان پر چھت آپڑی اور ان پر عذاب وہاں سے آیا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا۔ )
مکر، سازش اور چال کو بھی کہتے ہیں اور خفیہ تدبیر کو بھی۔
گزشتہ قوموں کے احوال سے مشرکین کو وارننگ
اشرارِ قریش کو سنا کر یہ فرمایا جارہا ہے کہ تم سابقہ امتوں کے واقعات کو قصہ کہانیاں سمجھتے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گمراہوں اور ان کے راہنماؤں کا دنیا میں انجام۔
” لفظ مکر “ کے بارے میں کئی بار وضاحت ہوچکی ہے کہ اگر اس لفظ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا معنی تدبیر اور منصوبہ بندی ہوتا ہے۔ اگر مکر کی نسبت کسی برے کام اور شخص کی طرف ہو تو پھر اس کا معنی فریب، دھوکا، سازش اور شرارت ہوتا ہے۔ جرائم پیشہ لوگوں، کفار اور مشرکین کی شروع سے یہ عادت رہی ہے کہ وہ لوگوں کو حق سے دور رکھنے اور اپنا ہمنوا بنانے کے لیے مختلف قسم کی سازشیں، شرارتیں اور ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ ان میں غلط قسم کے الزامات اور مختلف قسم کا پروپیگنڈہ ہر دور میں انبیاء کرام (علیہ السلام) اور داعیانِ حق کے خلاف کیا…
Read the full tafseer →پہلوں کی تدابیر ان پر الٹ دی گئیں :
26: قَدْ مَکَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَاَتَی اللّٰہُ بُنْیَانَھُمْ مِّنَ القَوَا عِدِ ( ان سے پہلے لوگوں نے تدابیر کیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کی بنیادوں کو جڑ سے گرا دیا) یعنی جڑوں کی جانب سے اور وہ ستون ہیں۔ درحقیقت یہ تمثیل ہے کہ انہوں نے منصوبہ بندی کی تاکہ رسولوں کے خلاف محاذ آرائی کریں اللہ تعالیٰ نے انہی کے اپنے منصوبوں سے ان کو ہلاک کردیا۔ جیسا کہ وہ لوگ جو عمارت بنائیں اور ستون بنا کر مضبوط کریں۔ مگر ہلکر ستونوں سے عمارت اکھڑ جائے اور چھت ان کے اوپر آرہے۔ وہ اس کے نیچے دب کر ہلاک ہوجائیں۔
قول جمہور :
یہ ہے کہ اس سے مراد نمرود بن کنعان تھا جبکہ…
Read the full tafseer →قد مکر الذین من قبلھم سے کون مراد ہے
(26) قد مکر الذین من قبلھم “ اس سے مراد نمرود بن کنعان ہے اور اس نے آسمان کی طرف چڑھنے کے لیے بابل میں ایک اونچی عمارت بنوائی تھی۔ ابن عباس ؓ اور وہب کا بیان ہے کہ اس عمارت کی اونچائی پانچ ہزار ذراع تھی۔ کعب اور مقاتل کا بیان ہے کہ اس کی بلندی دو فرسخ تھی۔ لیکن تیز آندھی آنے کی وجہ سے وہ سمندر میں جا گری اور اس کا کچھ ان لوگوں پر گرپڑا جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوگئے۔ جب ان پر وہ عمارت گری تو وہ اپنی زبان کے ساتھ جزع فرع کرنے لگے اور وہ ایک دوسرے کو تہتر زبانوں میں پکارنے لگے۔ اسی وجہ سے اس کا نام بابل پڑگیا۔ اس سے پہلے ان لوگوں کی زبانیں سر یانی تھیں۔ اسی وجہ…
Read the full tafseer →26۔ تفسیر مقاتل بن حیان تفسیر عبد الرزاق اور تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس اور زید بن اسلم سے روایت ہے کہ یہ نمرود کی عمارت کا حال ہے 1 ؎۔ پانچ ہزار گز اونچی اونچی عمارت بابل میں نمرود نے اس ارادہ سے بنائی تھی کہ آسمان پر چڑھ کر خدا سے مقابلہ اور لڑائی کرے آخر سخت آندھی اور زلزلہ سے وہ عمارت گری اور ہزاروں آدمی نمرود کے لشکر کے دب کر مرگئے چار سو برس تک نمرود زمین میں بڑے بڑے ظلم اور ستم کرتا رہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا طرح طرح کے جبر کر کے لوگوں کو ملت ابراہیمی سے روکتا رہا آخر اس ذلت سے ہلاک ہوا کہ حکم الٰہی سے مچھر اس کی ناک کے نتھنے سے دماغ میں گھس گیا ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
آیت 24
اللہ تبارک و تعالیٰ آیات الٰہی کے بارے میں مشرکین کی شدت تکذیب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (واذا قیل لھم ماذا انزل ربکم) ” جب ان سے کہا جاتا ہے، تمہارے رب نے کیا اتارا ہے ؟ “ یعنی جب ان سے قرآن اور وحی، جو اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے۔۔۔ کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔۔۔ کہ تمہار اسا کی بابت کیا جواب ہے ؟ کیا تم اس نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے شکر ادا کرتے ہو یا اس کی ناشکری کرتے ہوئے عناد رکھتے ہو ؟ “ تو وہ بدترین جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں یہ (اساطیر الاولین) ” پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں “ یعنی یہ جھوٹ ہے جسے محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے۔ یہ گزرے ہوئے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جنہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →46۔ اہل کفر وباطل کی مکاریوں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی طرح طرح کی مکاریوں سے کام لیا یعنی حق اور اہل حق کے خلاف، سو اہل باطل نے اہل حق کیخلاف ہمیشہ ہر طرح کی مکاریاں کیں ان کا راستہ روکنے کی غرض سے اور ان کی یہ مکاریاں بھی ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ہل جائیں اور اپنی جگہوں سے سرک جائیں جیسا کہ دوسرے مقام ارشاد فرمایا گیا وان کان مکرہم لتزول منہ الجبال (ابراہیم : 46) سودشمنان حق کی، حق اور اہل کیخلاف ایسی مکاریاں ہمیشہ سے ہی رہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ لیکن اس سب کے باوجود وہ حق کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔ سو اس میں اہل حق کے لئے تسکین وتسلیہ کا سامان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
غیر اللہ کی حقیقت اور ان کو پوجنے والوں کا انجام
تشریح : پچھلی آیات میں اللہ نے اپنی نعمتوں، برکتوں اور بہترین تخلیق کا تذکرہ کیا ہے۔ اس قدر واضح ثبوت اور نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی کفار کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور وہ جوں کے توں کفر و شرک پر ہی قائم رہتے ہیں۔ بلکہ دوسروں کو بھی گمراہی کا سبق دیتے ہیں اور یہ ان کے لیے دہرے عذاب کا باعث بنے گا۔ کیونکہ ان کا گمراہی کا دیا ہوا سبق جہاں تک دوسرے لوگوں تک پہنچے گا اور پھر اس سے آگے جتنا یہ سبق پھیلتا چلا جائے گا تو ان تمام لوگوں کی گمراہی کا عذاب ان شروع میں سبق دینے والوں کے لیے ہی ہوگا کیونکہ گمراہی کی بنیاد انہوں نے ہی رکھی۔
یہاں یہ بات واضح ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
جہاں تک اپنی حفاظت اقتدار اور غلبے کا تعلق ہے جس کے خاطر یہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے سے نہیں چوکتے تو اس کی مثالیں سامنے ہیں کہ ان سے پہلی کافر قوموں نے بہت تدبیریں کی تھیں اور بڑے دنیاوی اسباب جمع کئے تھے مگر تقدیر باری کے سامنے پیش نہ گئی اللہ کریم نے انہیں ایسے برباد کیا کہ بنیادوں تک سے اکھیڑ دیا اور ان کی چھتیں انہی پر گر گئیں یعنی جو تدبیریں حفاظت کیلئے کی تھیں وہی تباہی کا باعث بن گئیں اور عذاب الہی نے ایسا پکڑا کہ وہ سمجھ ہی نہ پائے کہ یہ مصیبت کدھر سے آرہی ہے یہ تو دنیا کا حال تھا اصل خرابی تو میدان حشر میں ہوگی جب انہیں تمام عالم کے روبرو رسوا کیا جائے گا…
Read the full tafseer →ف 1 اس میں ان کافروں کو وعید سنائی گئی ہے جو نبی ﷺ کو نیچا دکھانے کے لئے مکر و فریب کی عمارتیں کھڑی کر رہے تھے کہ ان کا حشر بھی وہی ہونے والا ہے جو پہلے لوگوں کا ہوا۔ لہٰذا وہ یا تو اپنی شرارتوں سے باز آجائیں یا اپنے آپ کو عذاب الٰہی کے لئے تیار رکھیں (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
(16:26) مکر۔ اس نے (یہاں بمعنی جمع۔ انہوں نے) خفیہ تدبیر چلی۔
القواعد ۔ اس کی بنیادیں ۔ اس کی واحد القاعدہ ہے، جس چیز کسی چیز کا قعود ہو یعنی قیام ہو۔ وہ قاعدہ ہے۔ القواعد۔ بمعنی عمر رسیدہ عورتیں ہو تو اس کا واحد القاعدہ ہے جیسے کہ والقواعد من النساء (24:60) عورتوں میں سے بڑی بوڑھی عورتیں ہیں۔
خر۔ ماضی واحد مذکر غائب (باب ضرب) خر مصدر۔ وہ گرپڑا۔
شرکایٔ۔ مضاف مضاف الیہ۔ میرے شریک (تمہارے زعم کے مطابق)
کنتم تشاقون فی۔ جن کی بابت تم جھگڑا کیا کرتے تھے۔
ماضی استمراری ۔ جمع مذکر حاضر۔ مشاقۃ وشقاق مصدر بمعنی مخالفت کرنا۔ عداوت کرنا۔ جھگڑنا۔ ضد کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 29
بنیان گھر۔ القواعد بنیادیں۔ خر گر پڑا۔ سقف چھت۔ فوق اوپر۔ یخزی وہ ذلیل و رسوا کرے گا۔ این کہاں ؟ شرکاءی میرے شریک۔ تشاقون تم لڑتے ہو۔ اوتوا العلیم جن کو علم دیا گیا۔ تتوفی جان نکالتے ہیں۔ القوا انہوں نے ڈالا۔ اسلم صلح کا پیغام۔ مثویٰ ٹھکانا۔ المتکبرین بڑائی کرنے والے۔
تشریح آیت نمبر 26 تا 29
گزشتہ آیات میں جس مضمون کو شروع کیا گیا تھا اس کی تکمیل کی جا رہی ہے ساری دنیا کو اور خصا طور پر مکہ کے ان لوگوں سے خطاب کیا جا رہا ہے جو حج وغیرہ کے موقعوں پر آنے والے بیخبر لوگوں کے سامنے قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ کی ذات کے متعلق حقارت سے ذکر کرتے تاکہ اجنبی آدمی کے دل میں…
Read the full tafseer →نمرود کی عبرتناک ہلاکت کے ذکر سے قریش کو تنبیہ : اس آیت میں فرمایا کہ انہوں نے کچھ نئی بات نہیں کی، کافر پہلے بھی کر گزرے ہیں۔ پس جو ان کا نتیجہ ہوا وہی ان کا بھی ہوگا یعنی یہ نمرود کی عمارت کا حال ہے کہ پانچ ہزار گز اونچی ایک عمارت بابل میں نمرود نے اس ارادہ سے بنائی تھی کہ آسمان پر چڑھ کر خدا سے مقابلہ اور لڑائی کرے۔ آخر سخت آندھی اور زلزلہ سے وہ عمارت گری اور ہزاروں آدمی نمرود کے لشکر کے دب کر مر گئے۔ چار سو برس تک نمرود زمین میں بڑے بڑے ظلم اور ستم کرتا رہا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا اور طرح طرح کے جبر کر کے لوگوں کو ملت ابراہیمی سے روکتا رہا۔ آخر اس ذلت سے ہلاک ہوا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
[15] باہر کے لوگ مشرکین مکہ سے قرآن کے بارے میں سوالات کیا کرتے تھے کہ یہ کس قسم کی کتاب ہے، اس کے مضامین کیا ہیں، وغیرہ وغیرہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
چاہ کن را چاہ درپیش !
(ف 1) پہلے لوگوں کے حالات بیان فرمائے ہیں کہ انکار وتمرد کی عادتیں پرانی ہیں ، ابتداء سے بعض بدبخت ایسے موجود ہیں رہے ہیں جنہوں نے کفر وعناد سے حصہ وافر پایا ہے ۔ اور حق کے خلاف سازشیں کی ہیں شمع ہدایت کو گل کرنے کی سعی کی ہے ، گلشن حق وصداقت کی بربادی کے منصوبے باندھے ہیں ، مگر اللہ نے انہیں کے دام میں انہیں گرفتار کیا ہے ، جس طریق سے انہوں نے حق پرستوں کے خلاف عناد کا اظہار کیا ہے ، اسی طریق سے اللہ نے انکو بربادی کی راہیں دکھائی ہیں ۔
اس آیت میں تمثیل کے ذریعے اس حقیقت کو سمجھایا ہے کہ فرض کرو ، کہ ایک شخص نے ایک بڑا قلعہ طیار کیا ہے ، تاکہ اس کے ذریعے حق پرستوں کی…
Read the full tafseer →26 ۔ جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں انہوں نے بڑی بڑی مکاریاں اور پر فریب تدبیریں کی تھیں سو اللہ تعالیٰ کا عذاب ان کی عمارت کی بنیادوں پر پہنچا اور اوپر سے ان پر عمارت کی چھت گر پڑی اور ان مکاروں پر وہ عذاب وہاں سے آیا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے بندوں کو گمراہ کرنے کی جو تدبیریں کیا کرتے تھے اور شرارتوں کے جو حال بچھاتے تھے اور جو محل تیارے کئے تھے وہ سب ان ہی پر الٹ پڑے اور ان کی پر فریب تدبیروں کی جڑیں ہلا دیں اور جو گھروندا انہوں نے اپنی شرارتوں کا بنا یا تھا وہ سب انہی پر گرا پڑا اور خلاف توقع ان پر عذاب خداوندی کچھ اس طرح آیا کہ ان کو خیال اور گمان بھی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
ف 3۔ جو شخص کسی کو گمراہ کیا کرتا ہے اس گمراہ کو تو گمراہی کا گناہ ہوتا ہے اور اس گمراہ کرنے والے کو اس گمراہی کا سبب بن جانے کا اس حصہ تسبب کو کچھ بوجھ فرمادیا گیا، اور پنے گناہ کا کامل طور پر اٹھانا ظاہر ہے۔
Read the full tafseer →پہلوں نے بھی تدبیریں کی تھیں اور وہ اس کا وبال بھگت رہے ہیں :
31۔ واقعات تاریخی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ذرا غور کرو اور دیکھو کہ جن پر قوت و شوکت منکرین سابقین نے انبیائے کرام کے خلاف خوب منصوبے گانٹھے تھے ، بڑی بڑی زبردست چالیں چلیں تھیں اور سوچے سمجھے منصوبے بنائے تھے حق تعالیٰ نے ان کے ساتھ کیا کیا اور انکی ساری چالیں کس طرح ناکام بنا دی گئیں اور انکی ساری خیالی عمارتیں مسمار ہو کر رہیں اور وہ اس طرح برباد ونابود ہوئے کہ جیسے سب چھت کے نیچے دب کر رہ گئے ، شامت زدہ قوموں پر تباہی عموما ایسے ہی راستوں اور طریقوں سے آتی ہے جدھر ان کا خیال و گمان بھی نہیں ہوتا ، گزشتہ انبیاء کی قوموں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–34
Commentary
It will be recalled that, after describing the blessings of Allah and proving that He was unique in the creation of the universe, the text made a pointed reference to how the polytheists chose to stick to their own ways of error. In the present verses, the text describes how they, not content with their own straying, tried that others should also go astray like them. The punishment they would get for doing that has also been stated here. Earlier to that (24), there is a question about the Qur’ an, and the addressees of the question, at this place, are the polytheists. It is their…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
21. In the preceding (Ayat 23) those arrogant people who were rejecting the message were warned that Allah has full knowledge of all their deeds. Now from (Ayat 24) the Quran takes up those deeds one by one and deals with the arguments they presented against the Messenger (peace be upon him), the objections they raised and the lame excuses they invented for their rejection, and reproaches and admonishes them.
22. One of their cunning devices was to create doubts about the Quran. Whenever outsiders came to visit Makkah, they would naturally make inquiries about the Quran, which the Prophet…
Read the full tafseer →