An-Nahl 16:25

An-Nahl · from ayah 25

16:25

لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ ۙ— وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ ؕ— اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ ۟۠لِيَحۡمِلُوۡۤا اَوۡزَارَهُمۡ كَامِلَةً يَّوۡمَ الۡقِيٰمَةِ‌ۙ وَمِنۡ اَوۡزَارِ الَّذِيۡنَ يُضِلُّوۡنَهُمۡ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ‌ؕ اَلَا سَآءَ مَا يَزِرُوۡنَ

(اے پیغمبر ان کو بکنے دو) یہ قیامت کے دن اپنے (اعمال کے) پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ سن رکھو کہ جو بوجھ اٹھا رہے ہیں برے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

That they may bear their own burdens in full on the Day of Resurrection and some of the burdens of those whom they misguide without knowledge. Unquestionably, evil is that which they bear.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 3 of surah · Ruku 9 of juzع

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:25

یہ باتیں وہ اس لیے کرتے ہیں کہ قیامت کے روز اپنے بوجھ بھی پورے اٹھائیں، اور ساتھ ساتھ کچھ اُن لوگوں کے بوجھ بھی سمیٹیں جنہیں یہ بر بنائے جہالت گمراہ کر رہے ہیں دیکھو! کیسی سخت ذمہ داری ہے جو یہ اپنے سر لے رہے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے پیغمبر ان کو بکنے دو) یہ قیامت کے دن اپنے (اعمال کے) پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ سن رکھو کہ جو بوجھ اٹھا رہے ہیں برے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اسی کا نتیجہ ہوگا کہ قیامت کے دن یہ لوگ اپنے پورے بوجھ کے ساتھ ہی ان کے بوجھ کے بھی حصے دار ہوں گے جنہیں بے علمی سے گمراه کرتے رہے۔ دیکھو تو کیسا برا بوجھ اٹھا رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(ان باتوں کا) نتیجہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن خود اپنے (گناہوں) کے پورے پورے بوجھ بھی اپنے اوپر لادیں گے، اور ان لوگوں کے بوجھ کا ایک حصہ بھی جنہیں یہ کسی علم کے بغیر گمراہ کر رہے ہیں۔ یاد رکھو کہ بہت برا بوجھ ہے جو یہ لاد رہے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہ قیامت کے دن اپنے بوجھ پورے اٹھائیں اور کچھ بوجھ ان کے جنہیں اپنی جہالت سے گمراہ کرتے ہیں، سن لو کیا ہی برا بوجھ اٹھاتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یہ سب کچھ اس لئے کہہ رہے ہیں) تاکہ روزِ قیامت وہ اپنے (اعمالِ بد کے) پورے پورے بوجھ اٹھائیں اور کچھ بوجھ اُن لوگوں کے بھی (اٹھائیں) جنہیں (اپنی) جہالت کے ذریعہ گمراہ کئے جا رہے ہیں، جان لو! بہت بُرا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تاکہ وہ قیامت کے دن اپنے بوجھ پورے اٹھائیں اور کچھ بوجھ ان کے بھی جنھیں وہ علم کے بغیر گمراہ کرتے ہیں۔ سن لو ! برا ہے جو بوجھ وہ اٹھا رہے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اور یہ اس لیے کہتے ہیں) کہ قیامت کے دن اپنے بوجھ تو پورے کے پورے اٹھائیں اور کچھ ان لوگوں کے بھی جنہیں وہ بغیر علم کے گمراہ کرتے رہے دیکھو ! کیسا برا بوجھ ہے جو وہ اٹھائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تاکہ وہ قیامت کے دن اپنے بوجھ بھی پورے اٹھائیں اور ان لوگوں کے بوجھ میں بھی حصہ بٹائیں جن کو یہ بغیر کسی علم کے گمراہ کررہے ہیں۔ جان رکھو کہ نہایت ہی برا ہوگا وہ بوجھ جو یہ اٹھائیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تاکہ اس کے نیچے میں یہ لوگ پورے پورے اٹھائیں اپنے (گناہوں کے) بوجھ قیامت کے دن اور ان لوگوں کے بوجھوں میں سے بھی، جن کو یہ گمراہ کرتے ہیں پانی جہالت (و بدبختی) سے خبردار ! بڑا ہی برا ہے وہ بوجھ جسے یہ لوگ خود ہی اپنے اوپر لادنے کا سامان کر رہے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

نتیجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن یہ اپنے (گناہوں کا بھی) پورا بوجھ اٹھائیں گے اور ان لوگوں کے بھی (گناہوں کا) بوجھ جنہیں یہ بغیر علم سے کام لئے گمراہ کررہے دیکھو جی ! (کیسا) برا ہے (یہ بوجھ) جو اپنے اوپر لاد رہے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تا کہ یہ اٹھائیں اپنے (گناہوں کے) بوجھ پورے کے پورے قیامت کے دن اور کچھ ان لوگوں کے بوجھ بھی جنہیں یہ گمراہ کر رہے ہیں لاعلمی میں آگاہ رہو ! بہت برا ہوگا جو بوجھ وہ اٹھائے ہوں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(اے پیغمبر ﷺ !) ان کو بکنے دو یہ قیامت کے دن اپنے اعمال کے پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے، سن لو کہ جو بوجھ اٹھا رہے ہیں برے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(They say so) that they may bear the full weight of their burdens on the Day of Resurrection and also of the burdens of those whom they misled on account of their ignorance. What a heavy burden are they undertaking to bear!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Hence, they shall bear the full weight of their burdens on the Day of Judgment, and also some of the burdens of those whom they mislead without knowledge. Remember, evil is the burden they bear.

— Muhammad Taqi Usmani

Hence, they shall bear the full weight of their burdens on the Day of Judgment, and also some of the burdens of those whom they mislead without knowledge. Remember, evil is the burden they bear.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They will bear their own burdens in full on the Day of Resurrection, and also the burdens of those whom they misled without knowledge. Evil indeed is that which they shall bear!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That they may bear their burdens undiminished on the Day of Resurrection, with somewhat of the burdens of those whom they mislead without knowledge. Ah! evil is that which they bear!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That they may bear their own burdens in full on the Day of Resurrection and some of the burdens of those whom they misguide without knowledge. Unquestionably, evil is that which they bear.

— Saheeh International

Besides their own burdens, on the Day of Judgment, they will have to carry on the burdens of those whom they have misled without knowledge. How evil that burden will be!

— Muhammad Sarwar

That they may bear their burdens entirely on the day of resurrection and also of the burdens of those whom they lead astray without knowledge; now surely evil is what they bear.

— Muhammad Habib Shakir

That they may bear their burthens in full on the Judgment- Day and also some of the burthens of those whom they have led astray without knowledge. Lo! vile is that which they shall bear!

— Abdul Majid Daryabadi

Let them bear, on the Day of Judgment, their own burdens in full, and also (something) of the burdens of those without knowledge, whom they misled. Alas, how grievous the burdens they will bear!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 24–25

قرآن حکیم کے ارشادات کو دیرینہ کہنا کفر کی علامت ہے ان منکرین قرآن سے جب سوال کیا جائے کہ کلام اللہ میں کیا نازل ہوا تو اصل جواب سے ہٹ کر بک دیتے ہیں کہ سوائے گزرے ہوئے افسانوں کے کیا رکھا ہے ؟ وہی لکھ لئے ہیں اور صبح شام دوہرا رہے ہیں پس رسول ﷺ پر افترا باندھتے ہیں کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی اس کے خلاف اور کچھ کہنے لگتے ہیں۔ دراصل کسی بات پر جم ہی نہیں سکتے اور یہ بہت بری دلیل ہے ان کے تمام اقوال کے باطل ہونے کی۔ ہر ایک جو حق سے ہٹ جائے وہ یونہی مارا مارا بہکا بہکا پھرتا ہے کبھی حضور رسول ﷺ کو جادوگر کہتے، کبھی شاعر، کبھی کا ھن، کبھی مجنون۔ پھر ان کے بڈھے گرو ولید بن مغیرہ مخزومی نے انہیں بڑے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 24–26

سورة النَّحْل 22 نبی ﷺ کی دعوت کا چرچا جب اطراف و اکناف میں پھیلا تو مکہ کے لوگ جہاں کہیں جاتے تھے ان سے پوچھا جاتا تھا کہ تمہارے ہاں جو صاحب نبی بن کر اٹھے ہیں وہ کیا تعلیم دیتے ہیں ؟ قرآن کس قسم کی کتاب ہے ؟ اس کے مضامین کیا ہیں ؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے سوالات کا جواب کفار مکہ ہمیشہ ایسے الفاظ میں دیتے تھے جن سے سائل کے دل میں نبی ﷺ اور آپ کی لائی ہوئی کتاب کے متعلق کوئی نہ کوئی شک بیٹھ جائے، یا کم از کم اس کو آپ سے آپ کی نبوت کے معاملے سے کوئی دلچسپی باقی نہ رہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–29

خلاصہ تفسیر اور جب ان سے کیا جاتا ہے (یعنی کوئی ناواقف شخص تحقیق کے لئے یا کوئی واقف شخص امتحان کے لئے ان سے پوچھتا ہے) کہ تمہارے رب نے کیا چیز نازل فرمائی ہے (یعنی قرآن جس کو رسول کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کا نازل کیا ہوا فرماتے ہیں آیا یہ صحیح ہے) تو کہتے ہیں کہ (صاحب وہ رب کا نازل کیا ہوا کہاں ہے) وہ تو محض بےسند باتیں ہیں جو پہلوں سے (منقول) چلی آ رہی ہیں (یعنی اہل ملل پہلے سے توحید ونبوت ومعاد کے مدعی ہوتے آئے ہیں ان ہی سے یہ بھی نقل کرنے لگے باقی یہ دعوے اللہ تعالیٰ کے تعلیم دیئے ہوئے نہیں) نتیجہ اس (کہنے) کا یہ ہوگا کہ ان لوگوں کو قیامت کے دن اپنے گناہوں کا پورا بوجھ اور جن کو یہ لوگ بےعلمی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لِيَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ۙ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭ اَلَا سَاۗءَ مَا يَزِرُوْنَ۔ یہ ان کی اس سعی نامراد کا انجام بیان ہورہا ہے جو وہ لوگوں کو حق سے روکنے کے لیے کررہے تھے۔ فرمایا کہ یہ جو کچھ کررہے ہیں اس کا انجام یہ ہونا کہ قیامت کے روز یہ اپنی گمراہی کا پورا بوجھ کو اٹھائیں گے ہی اس لیے کہ اس دن ان کے وہ شرکاء و شفعاء ان کے کچھ کام آنے والے نہیں ہیں جن کو یہ شریک خدا بنائے بیٹھے ہیں۔ مزید برآں اپنی سعی افساد کے بقدر ان کو ان لوگوں کے بوجھ میں سے بھی اٹھانا پڑے گا جو ان کی ان مفسدانہ کوششوں سے گمراہ ہوں گے۔ وَمِنْ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

25۔ 1 یعنی ان کی زبانوں سے یہ بات اللہ تعالیٰ نے نکلوائی تاکہ وہ اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسروں کا بوجھ بھی اٹھائیں۔ جس طرح حدیث میں آتا ہے۔ نبی نے فرمایا ' جس نے لوگوں کو ہدایت کی طرف بلایا، تو اس شخص کو ان تمام لوگوں کا اجر ملے گا جو اس کی دعوت پر ہدایت کا راستہ اپنائیں گے اور جس نے گمراہی کی طرف بلایا تو اس کو تمام لوگوں کے گناہوں کا بار بھی اٹھانا پڑے گا جو اس کی دعوت پر گمراہ ہوئے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 25–27

14: یعنی اللہ کے کلام کو افسانہ قرار دے کر انہوں نے جن لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ ان کے ایسے گناہوں کا بوجھ بھی ان پر لادا جائے گا جو انہوں نے ان کے زیر اثر آ کر کیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 24–25

آیت نمبر 24 تا 25 یہ مستکبرین اور منکر دل والوں سے جب پوچھا جاتا ہے کہ ما ذا انزل ربکم (16 : 24) “ تمہارے رب نے یہ کیا چیز نازل کی ہے ”۔ یہ لوگ اس سوال کا صحیح جواب نہیں دیتے۔ حالانکہ جواب سیدھا سادہ ہے۔ یہ لوگ قرآن کریم کو پڑھ سکتے ہیں ، اس کے مفہوم کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہ اگر ایمان نہ بھی لائیں پھر بھی دیانت داری سے صحیح جواب تو دے سکتے تھے لیکن انہوں نے سیدھا جواب دینے کے بجائے یہ جواب دیا : اساطیر الاولین (16 : 24) “ وہ تو اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں ”۔ اساطیر ان کہانیوں کو کہا جاتا ہے جو وہم سے پر ہوں اور خرافات پر مشتمل ہوں۔ یہ لوگ قرآن کے بارے میں ایسے ریمارکس پاس کرتے ہیں حالانکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی اس کہنے سے غرض یہ ہے کہ (معاذ اللہ) قرآن عزیز کو بےوقعت ٹھہرا کر اپنے ساتھ دوسروں کو گمراہ کریں اور اس طرح اپنے کفر وضلال کی پوری پوٹ کے ساتھ کچھ بوجھ ان لوگوں کے اضلال و اغواء کا بھی سر پر رکھیں۔ جنہیں اپنی نادانی اور جہالت سے گمراہ کر رہے ہیں۔ خیال کرو کیسی بدی کی پوٹ سر پر رکھ رہے ہیں۔ حدیث میں ہے " وَمَنْ دَعَا اِلٰی ضَلَالَۃٍ کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الْاِثْمِ مِثْلُ اٰثَامِ مَنِ اتَّبَعَہ، لَا یَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ اٰثَامِہِمْ شَیْئًا۔ " قال اللہ تعالیٰ (وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ) 29 ۔ العنکبوت :13)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 25 لِيَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ یوں ان کے دل حق کی طرف مائل نہیں ہو رہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ روز قیامت وہ اپنی اس گمراہی اور سر کشی کے وبال میں گرفتار ہوں گے۔ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ یعنی قیامت کے دن وہ نہ صرف اپنی گمراہی کا خمیازہ بھگتیں گے بلکہ بہت سے دوسرے لوگوں کی گمراہی کا وبال بھی ان پر ڈالا جائے گا جنہیں اپنے نام نہاد ‘ دانشورانہ مشوروں سے انہوں نے گمراہ کیا ہوگا۔ جیسے قرب و جوار کے لوگ جب اہل مکہ سے اس کلام کے بارے میں پوچھتے تھے یا مکہ کے عام لوگ قرآن سے متاثر ہو کر اپنے سرداروں سے پوچھتے تھے کہ ان کی اس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

25 یعنی ایک تو خود مجرم تھے دوسرے اور لوگوں کو پیغمبر کی اصل دعوت نہ بتانے کی وجہ سے انھیں بھی روک دیا لہذا ان کی گمراہی کا بار بھی انہوں نے اپنے اوپر لاد لیا۔ قیامت کے دن گناہوں کا یہ بار مجسم شکل میں ان کی پشتوں پر لاد دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

34۔ وعید ان لوگوں کے حق میں ارشاد ہورہی ہے، جو دوسروں سے قرآن کا تعارف اسے (آیت) ” اساطیر الاولین “ کہہ کر کراتے تھے، آخرت میں یہ اپنے انکار کا ثمرہ بھی چکھیں گے، اور دوسروں کے گمراہ کرنے کا بھی۔ (آیت) ” لیحملوا “ میں ل عاقبت کا ہے۔ اللام لام العاقبۃ (کبیر) (آیت) ” بغیر علم “۔ یعنی قرآن مجید کے متعلق ایسی بےسروپارائے یہ خود ہی بلاتحقیق، بلاسند، بلاثبوت دے بیٹھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–25

آیت نمبر 22 تا 25 ترجمہ : تمہاری عبادت کا مستحق تو صرف ایک معبود ہے، ذات وصفات میں اس کی کوئی نظیر نہیں، اور وہ اللہ تعالیٰ ہے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے قلوب وحدانیت کے منکر ہیں اور وہ وحدانیت پر ایمان لانے سے تکبر کرنے والے ہیں یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر اس بات کو جانتا ہے جس کو وہ چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں، لہٰذا وہ اس کی جزاء ان کو دے گا، وہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا بایں معنی کہ ان کو سزا دے گا، اور نضر بن الحارث کے بارے میں (آئندہ) آیت نازل ہوئی، اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے محمد ﷺ پر کیا نازل کیا ؟ (ما) استفہامیہ اور (ذا) موصولہ ہے تو لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لیحملوا اوزارھم کاملۃ یوم القیمۃ نتیجہ اس کہنے کا یہ ہوگا کہ قیامت کے دن اپنے گناہوں کا بھی پورا بوجھ اٹھائیں گے۔ یعنی یہ مشرک ایسا جواب اسلئے دیتے ہیں کہ لوگوں کو گمراہ کردیں اور قیامت کے دن اپنی گمراہی کے گناہوں کا بار پورا پورا اپنے اوپر اٹھائیں ‘ کیونکہ گمراہ کنی علامت ہے کامل گمراہی کی۔ دوسروں کو گمراہ بنانے سے معلوم ہوتا ہے کہ گمراہ کرنے والوں میں گمراہی جم گئی ہے (اسی وجہ سے تو وہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں) ۔ ومن اوزار الذین یضلونھم اور ان لوگوں کا بار (گناہ) بھی جن کو گمراہ کرتے ہیں۔ یعنی کچھ گناہ ان لوگوں کا بھی اپنے اوپر اٹھائیں جو ان کے گمراہ کرنے سے گمراہ ہوجاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(25) نتیجہ یہ ہوگا کہ ان لوگوں کو قیامت کے دن اپنے گناہوں کا پورا وزن اور اسی طرح ان لوگوں کے گناہوں کا بھی وزن جن کو یہ لوگ اپنی لاعلمی اور جہالت کی بنا پر رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لانے سے گمراہ کررہے تھے یاد رکھو کہ یہ حصے کرنے والے جن گناہوں کو اپنے اوپر لاد رہے ہیں وہ بہت ہی برا بوجھ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لِيَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة اعراف (38، 39) اور سورة عنکبوت (12، 13) ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ دَعَا إِلٰی ہُدًی، کَانَ لَہُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُوْرِ مَنْ تَبِعَہُ لاَ یَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ أُجُوْرِہِمْ شَیْءًا وَ مَنْ دَعَا إِلٰی ضَلاَلَۃٍ ، کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَہُ ، لَا یَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ آثَامِھِمْ شَیْءًا) [ مسلم، العلم، باب من سن سنۃ حسنۃ أو سیءۃ۔۔ : 2674 ]”جو شخص ہدایت کے کسی کام کی طرف دعوت دے اس کے لیے ان لوگوں کے اجر جتنا اجر ہوگا جو اس کی پیروی کریں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 25 قولہ تعالیٰ : لیحملوا اوزارھم کہا گیا ہے : یہ لام کی ہے، اور یہ اپنے ما قبل سے متعلق ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ لام عاقبت ہے، جیسا کہ اس قول میں ہے : لیکون لھم عدوا وحزنا (القصص :8) سنو (تاکہ (انجام کار) وہ ان کا دشمن اور باعث رنج و الم بنے) یعنی قرآن کریم اور نبی مکرم ﷺ کے بارے میں ان کے قول نے انہیں اس تک پہنچا دیا ہے کہ وہ اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائیں۔ کاملۃ (مکمل بوجھ) یعنی وہ اس میں سے کوئی چیز بھی نہ چھوڑیں اس مصیبت کی وجہ سے جو انہیں دنیا میں اپنے کفر کے سبب پہنچی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ لام امر ہے، اور اس کا معنی جھڑکنا اور دھمکانا ہے۔ ومن اوزار الذین یضلونھم بغیر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن جریر۔ اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” لیحملوا اوزاھم کاملۃ یوم القیمۃ ومن اوزار الذین یضلونہم بغیر علم “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اٹھائیں گے اپنے گناہوں کے ساتھ ان کے گناہوں کو بھی جن کو انہوں نے گمراہ کیا بغیر علم کے اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” واثقالا مع اثقالہم “ کی طرح ہے۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لیحملوا اوزاھم کاملۃ یوم القیمۃ “ سے مراد ہے کہ وہ اٹھائیں گے اپنے گناہ اور ان لوگوں کے گناہ جنہوں نے ان کی اطاعت کی اور یہ ہلکا نہ کیا جائے گا عذاب کچھ بھی ان لوگوں سے جنہوں نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لِيَحْمِلُوْٓا : انجام کار وہ اٹھائیں گے ] [ اَوْزَارَهُمْ : اپنے بوجھ ] [ كَامِلَةً : پورے پورے ] [ يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ۙ : قیامت کے دن ] [وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِينَ : اور ان کے بوجھوں میں سے ] [ يُضِلُّوْنَهُمْ : انھوں نے گمراہ کیا جن کو ] [ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭ : کسی علم کے بغیر ] [اَلَا؛خبردار !] [ سَاۗءَ : بُرا ہے ] [ مَا : وہ جو ] [ يَزِرُوْنَ : یہ لوگ اٹھائیں گے ] (آیت۔ 25) ۔ لِیَحْمِلُوْا پر جو لام ہے اسے لام کَیْ کے بجائے لام عاقبت (بمعنی آخرکار) ماننا بہتر ہے۔ یُضِلُّوْنَ کا فاعل اس میں شامل ھم کی ضمیر ہے اور اس کا مفعول اَلذَّیْنَمقدم ہے۔ یُضِلُّوْنَ کے ساتھ ھُمْ کی ضمیر اَلَّذِیْنَ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اسی کو فرمایا (لِیَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَھُمْ کَامِلَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ ) کہ ان حرکتوں کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قیامت کے دن اپنے کفر و شرک اور گناہوں کے پورے پورے بوجھ اپنے اپنے اوپر اٹھا کر لائیں گے اور ان لوگوں کے بھی بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے جنہیں گمراہ کیا تھا پھر فرمایا (اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ ) (خبردار یہ برا بوجھ ہے جسے اپنے اوپر لاد رہے ہیں) اپنے کیے کی بھی سزا بھگتیں گے اور ان لوگوں کے گناہ بھی ان کے سر پڑیں گے جن کو بہکایا اور ورغلایا، ان کے گناہوں کی بھی سزا ملے گی (گو وہ بھی عذاب سے نہ بچیں گے کیونکہ انہوں نے جانتے بوجھتے کفر اختیار کیا اور لوگوں کے ورغلانے میں آئے) سورة عنکبوت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–25

منکرین نبوت کے معاندانہ سوالات اور ان کے جوابات (ربط) یہاں تک دلائل توحید کا ذکر فرمایا اب آگے مشرکین کے قبائح اور منکرین نبوت کے معاندانہ سوالات کا ذکر کرکے ان کا جواب دیتے ہیں اسی سلسلہ میں حق تعالیٰ نے مشرکین کے پانچ شبہ ذکر فرما کر ان کا جواب دیا اور یہ بھی بتلا دیا کہ یہ شبہ کوئی نئے سب ہے نہیں پہلی امتوں کے لوگ اسی قسم کے شبہ کرچکے ہیں اور ہلاک اور برباد ہوچکے ہیں ان کی ہلاکت اور بربادی خود ان کے شبہوں کا جواب تھی۔ پہلا شبہ قال اللہ تعالیٰ : واذا قیل لہم ماذا انزل ربکم .... الیٰ .... الا ساء ما یزرون۔ آنحضرت ﷺ نے جب اپنی نبوت و رسالت پر قرآن کریم سے استدلال کیا کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 24–25

21:۔ توحید پر تین عقلی دلیلوں اور ان کے متعلقات بیان کرنے کے بعد منکرین پر شکوی کیا گیا ہے کہ وہ قرآن کو کلام الٰہی ماننے کے بجائے اسے اگلوں کے قصے کہانیاں قرار دیتے ہیں۔ ” لِیَحْمِلُوْا اَوْزَارَھُمْ الخ “ لام عاقبت کا ہے۔ اور یہ ان معاندین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ وہ قرآن کو اگلے لوگوں کی کہانیاں کہتے ہیں۔ اچھا اس قول باطل کی عاقبت اور اس کا انجام آخرت میں یہ ہوگا کہ وہ اپنے اور جن کو انہوں نے اس قول باطل سے گمراہ کیا ہے ان کے گناہوں کا بوجھ پیٹھ پر اٹھا کر سیدھے جہنم میں جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 22–25

(ربط آیات) ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی بعثت اور وحی الہی کے نزول کا ذکر فرمایا ، اس کے بعد اپنے انعامات اور نشانات قدرت کا ذکر کای جو اس کی وحدانیت کی دلیل بنتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرک لوگ جن ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں وہ تو کوئی چیز پیدا کرنے پر قادر نہیں ، بلکہ پیدا شدہ ہیں ۔ اللہ نے ان کو اموات کے لفظ سے تعبیر کیا ، کہ یا تو وہ مٹی اور پتھر کے بےجان بت ہیں ، یا فی الحال وفات پاچکے ہیں ، اور یا بہرحال مرنے والے ہیں ، ان میں سے کوئی بھی باقی رہنے والا نہیں ، ان کی اپنی زندگی بھی ذاتی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی عطا کردہ ہے تو جو ہستی خود اپنی ذات کی مالک نہیں وہ معبود…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِيَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ۙ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭ اَلَا سَاۗءَ مَا يَزِرُوْنَ 25؀ۧ حمل الحَمْل معنی واحد اعتبر في أشياء کثيرة، فسوّي بين لفظه في فعل، وفرّق بين كثير منها في مصادرها، فقیل في الأثقال المحمولة في الظاهر کا لشیء المحمول علی الظّهر : حِمْل . وفي الأثقال المحمولة في الباطن : حَمْل، کالولد في البطن، والماء في السحاب، والثّمرة في الشجرة تشبيها بحمل المرأة، قال تعالی: وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] ، ( ح م ل ) الحمل ( ض ) کے معنی بوجھ اٹھانے یا لادنے کے ہیں اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 24–25

واذا قیل لہم، اب ان کی ضد اور تکبر اور عناد کی ایک اور بات بیان فرماتا ہے کہ جب ان سے کوئی قرآن کی نسبت سوال کرتا ہے کہ وہ کیسا ہے تو اس کے الہامی مطالب سے قطع نظر کر کے طعن کی راہ سے اس کے پندآمیز قصوں کو اگلے لوگوں کی کہانیاں کہہ دیتے تھے، جاہلوں کو گمراہ کرنے کے لیے لیحملوا 1 ؎ الخ ولا تزر وازرۃ وزراخریٰ کے مخالف نہیں ہے کیونکہ یہاں یہ مراد نہیں کہ دوسروں کا گناہ اٹھا کر ان کو بری کردیں گے بلکہ یہ کہ ایک تو اپنا ذاتی گناہ اٹھاویں گے، دوم جن کو گمراہ کیا ہے ان کی گمراہی کا گناہ بھی انہی کے سر پر رہے گا (ف) اور ولاتزر الخ میں یہ مراد کہ دوسرے کو بری نہ کرے گا۔ (ف) منکرین کو قیامت میں دوہرا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 24–25

وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ مَّا ذَآ اَنْزَلَ رَبُّکُمْ لا قَالُوْ ٓا اَسَاطِیْرُالْاَوَّلِیْنَ ۔ لِیَحْمِلُوْ ٓا اَوْزَارَھُمْ کَامِلَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ لا وَمِنْ اَوْزَارِالَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَھُمْ بِغَیْرِعِلْمٍ ط اَلاَسَآئَ مَا یَزِرُوْنَ ۔ ( سورة النحل : 24۔ 25) (اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کے من گھڑت قصے ہیں۔ تاکہ وہ قیامت کے دن اپنے بوجھ بھی پورے اٹھائیں اور ان لوگوں کے بوجھ میں سے بھی حصہ بٹائیں جن کو یہ بغیر کسی علم کے گمراہ کررہے ہیں۔ جان رکھو کہ نہایت ہی برا ہوگا وہ بوجھ جو یہ اٹھائیں گے۔ ) آیتِ کریمہ میں اَسَاطِیْرُ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 24–25

فہم القرآن ربط کلام : منکرین آخرت حقیقت میں متکبر ہوتے ہیں لہٰذا تکبر کرنے کا نتیجہ اور اس کا انجام۔ یہ تکبر کا ہی نتیجہ ہے کہ کفار سے جب یہ کہا جاتا کہ سوچو تمہارے رب نے کیا کیا ارشادات نازل فرمائے ہیں۔ اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ ہم سے پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ اس طرح نہ صرف خود حق کا انکار کرتے ہیں بلکہ اس پروپیگنڈہ کے ذریعے دوسرے لوگوں کو بھی حق سے دور رکھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ ہوگا کہ قیامت کے دن یہ اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھانے کے علاوہ ان کا بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہوں گے جن کو انھوں نے گمراہ کیا ہوگا۔ کتنا ہی برا بوجھ ہے جسے اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ہمیشہ کے لیے جہنم میں ذلیل ہوں گے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قرآن کو کہانیاں کہنے والے کل اپنے گناہ کا بوجھ اٹھائیں گے : 25: لِیَحْمِلُوْا اَوْزَارَھُمْ کَامِلَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَہُمْ (نتیجہ اس کہنے کا یہ ہوگا کہ قیامت کے دن وہ اپنے گناہوں کا بھی پورا بوجھ اٹھائیں گے۔ اور ان لوگوں کا بار بھی جن کو گمراہ کرتے تھے) یہ بات انہوں نے لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے کہی۔ پس اپنی گمراہی کا پورا بوجھ انہوں نے اٹھایا۔ اور کچھ ان کا بوجھ بھی جو ان کے گمراہ کرنے سے گمراہ ہوئے۔ اور یہ بوجھ اضلال کا ہے کیونکہ ضال ومضل دونوں گناہ میں شریک ہیں۔ نحو : لیحملوا کا لام تعلیلیہ ہے۔ بِغَیْرِ عِلْمٍ (بغیر علم کے) نحو : یہ مفعول سے حال ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(25)” لیحملوا “ کہ وہ اٹھائیں گے ” اوزارھم “ اپنے نفسوں کے گناہ ” کاملۃ “ یہاں کمال کو ذکر کیا کیونکہ جب ان کو دنیا میں مصیبتوں نے گھیر لیا تو ان کے پاس کوئی نیکیاں نہیں تھیں جو ان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتیں۔ ” یوم القیامۃ ومن اوزار الدین یضلونھم بغیر علم “ بغیر دلیل کے ان کو ایمان سے روکتے تھے۔” الا ساء ما یزرون “ جو گناہ وہ اپنے اوپر لاد رہے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ہدایت کی طرف بلائے گا اس پر بھی اتنا ہی گناہ ہوگا جتنا گناہ کرنے والے پر اور گناہ کرنے والے کے بوجھ سے اس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

25۔ اس سے پہلے کی آیت میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ مشرکین مکہ اجنبی لوگوں کے بہکانے کی غرض سے قرآن شریف کو کہتے تھے کہ یہ پہلے اہل کتاب کی کتابوں سے چن چن کر پہلے لوگوں کی کہانیاں بنالی ہیں اس لئے فرمایا جو لوگ ایسی باتیں کہہ رہے ہیں اس کا بدلہ ان کو آخرت میں ملے گا اپنے گناہ کا بوجھ بھی بھرپور اٹھائیں گے اور جن لوگوں کو بہکا رکھا ہے ان کے گناہ کا بوجھ بھی ان کے کاندھے پر ہوگا اور یہ بہت ہی برا بوجھ ہوگا کہ ان کو اپنے برے کاموں کی بھی سزا ہوگی اور ان کے پیروی کرنے والوں کے بد افعال کی بھی۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی ایک حدیث ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص لوگوں کو ہدایت کی طرف بلاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 24–29

آیت 24 اللہ تبارک و تعالیٰ آیات الٰہی کے بارے میں مشرکین کی شدت تکذیب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (واذا قیل لھم ماذا انزل ربکم) ” جب ان سے کہا جاتا ہے، تمہارے رب نے کیا اتارا ہے ؟ “ یعنی جب ان سے قرآن اور وحی، جو اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے۔۔۔ کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔۔۔ کہ تمہار اسا کی بابت کیا جواب ہے ؟ کیا تم اس نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے شکر ادا کرتے ہو یا اس کی ناشکری کرتے ہوئے عناد رکھتے ہو ؟ “ تو وہ بدترین جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں یہ (اساطیر الاولین) ” پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں “ یعنی یہ جھوٹ ہے جسے محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے۔ یہ گزرے ہوئے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جنہیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 14–65

زیور کے بارے میں حکم قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

43۔ مستکبرین و منکرین کے ہولناک انجام کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ان مفسدین کی سعی نامراد کا نتیجہ وانجام یہ ہوگا کہ قیامت کے روز یہ لوگ پورے پورے بوجھ اٹھائیں گے اپنے کیے کرائے کے۔ خود گمراہ ہونے اور حق کے مقابلے میں باطل کو اپنانے وغیرہ جیسے سنگین گناہوں کے بوجھ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کیونکر جب قرآن مجید جیسے معجزہ کبری کو بھی انہوں نے قصے کہانیاں قرار دے دیا تو پھر ان کے لئے نورحق و ہدایت سے سرفرازی کی کوئی صورت باقی رہ ہی نہیں جاتی۔ اس لئے اس کے نتیجے میں ان کو اپنی گمراہی اور گمراہی پر اصرار کے بھاری بھر کم بوجھ بہرحال اٹھانا ہوں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور جو شرکاء و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 20–26

غیر اللہ کی حقیقت اور ان کو پوجنے والوں کا انجام تشریح : پچھلی آیات میں اللہ نے اپنی نعمتوں، برکتوں اور بہترین تخلیق کا تذکرہ کیا ہے۔ اس قدر واضح ثبوت اور نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی کفار کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور وہ جوں کے توں کفر و شرک پر ہی قائم رہتے ہیں۔ بلکہ دوسروں کو بھی گمراہی کا سبق دیتے ہیں اور یہ ان کے لیے دہرے عذاب کا باعث بنے گا۔ کیونکہ ان کا گمراہی کا دیا ہوا سبق جہاں تک دوسرے لوگوں تک پہنچے گا اور پھر اس سے آگے جتنا یہ سبق پھیلتا چلا جائے گا تو ان تمام لوگوں کی گمراہی کا عذاب ان شروع میں سبق دینے والوں کے لیے ہی ہوگا کیونکہ گمراہی کی بنیاد انہوں نے ہی رکھی۔ یہاں یہ بات واضح ہے کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–25

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف اتنی بڑی کائنات کا خالق مالک اور پالنے والا جب اکیلا ہے تو وہی تمہارا معبود بھی ہے جو اکیلا عبادت کے لائق ہے ، اور جو لوگ اس کی واحدانیت پر یقین نہیں کرتے ان کے قلوب تباہ ہوچکے ہیں اور انکار کی مصیبت میں مبتلا ہیں کہ ۔ (قلب کی بیماری وصحت) قلب انسانی کا سب سے مہلک مرض عظمت الہی سے غافل ہو کر دوسروں سے امیدیں وابستہ کرنے میں ہے یعنی شرک اور اس کی صحت مندی کی علامت محبت الہی ہے لہذا جب قلب تباہ ہوتا ہے تو انسان میں تکبر پیدا ہوجاتا ہے جس کا اظہار منکرین کے کردار سے ہو رہا ہے اور بلاشبہ اللہ جل جلالہ سے ان کی کوئی بات چھپی ہوئی نہیں وہ سب جانتا ہے جو یہ ظاہرا کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 اس مضمون کو نبی ﷺ نے ایک حدیث میں یوں فرمایا ہے :” جو شخص لوگوں کے لئے کسی اچھے طریقے کی رسم چھوڑ جائے اس کے لئے اپنا اجر ہے اور جتنے لوگ اس کی پیروی کریں گے اس کا بھی اسے اجر ملے گا اور جو شخص بری رسم کی بنیاد ڈالے گا اسے اس کا گناہ ہوگا اور ان لوگوں کے گناہ کا بوجھ بھی اس پر پڑے گا جو اس پر عمل کریں گے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

16:25 ۔ لیحملوا میں لام تعلیل کا ہے یحملو یحملون تھا۔ لام حرف عامل سے نون اعرابی گرگیا۔ (بوجہ اس کے) یا نتیجۃً وہ اٹھائیں گے۔ ادزارھم۔ مضاف، مضاف الیہ۔ اپنے بوجھ۔ وذرۃ کی جمع۔ ومن اوزار الذین۔ میں من تبعیضیہ ہے۔ یعنی بوجھ میں سے کچھ۔ بعض حصہ۔ یضلونہم۔ مضارع جمع مذکر غائب ہم ضمیرمفعول جمع مذکر غائب۔ یضلون کا فاعل وہ کفار ہیں جن کا ذکر اوپر چل رہا ہے اور ہم ضمیر مفعول کا مرجع الذین اسم موصول ہے۔ یعنی قیامت کے دن وہ اپنے گناہوں کا مکمل بوجھ اٹھائیں گے اور کچھ ان لوگوں کا بھی بوجھ اٹھائیں گے جن کو یہ بربنائے جہالت گمراہ کر رہے ہیں۔ بغیر علم۔ فاعل کا حال بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ وہ ہوگا۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 22–25

لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 25 منکرۃ انکار کرنے والے۔ لا جرم یقینا ، قطعاً ۔ لایحب پسند نہیں کرتا ہے۔ ماذا کیا ؟ (حرف سوال) اساطیر (اسطورۃ) قصے، کہانیاں۔ لیحملوا تاکہ وہ اٹھائیں۔ اوزاراً (وزر) بوجھ۔ ساء برا ہے۔ تشریح : آیت نمبر 22 تا 25 سورۃ النحل کے آغاز سے ہی اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا بیان ہو رہا ہے اس پوری کائنات اور اس کے ذرے ذرے کا پیدا کرنے والا خلاق و رازق صرف اللہ ہی ہے۔ یہاں سے یہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ وہ رب جس نے ہر چیز کو پیدا کیا وہ اپنی ذات میں اس طرح ” واحد “ یعنی ایک ہے جس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ جو لوگ اللہ کی ذات اور صفات میں دوسروں کو شریک کرتے اور ایمان نہیں لاتے وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 24–25

دگنے عذاب کا ذکر شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ حج کے موسم میں دور دور کے لوگ مکہ میں آتے تھے جس سے قریش کو ڈر ہوا کہ باہر کے لوگ آنحضرت ﷺ کی باتیں سن کر بت پرستی نہ چھوڑ دیں۔ اس لئے قریش نے مکہ کے چاروں طرف لوگ بٹھادئیے تھے اور ان سے یہ کہہ دیا تھا کہ جو کوئی قرآن شریف کا حال پوچھے تو کہہ دینا کہ پہلے لوگوں کی ایک کہانی ہے، وہ یہی کہہ دیتے تھے اور جب وہ باہر کے لوگ مکہ کے اندر آتے تو جو لوگ مسلمان ہوگئے تھے وہ قرآن شریف کی بہت تعریف کرتے تھے۔ اسی ذکر میں اللہ تعالیٰ نے آیہ کا یہ ٹکڑا اور اگلا ٹکڑا ذکر فرمایا جس میں قرآن شریف کی تعریف کرنے والوں کا ذکر اور اس ٹکڑے میں جو لوگ اوروں کو بہکاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 24–27

[15] باہر کے لوگ مشرکین مکہ سے قرآن کے بارے میں سوالات کیا کرتے تھے کہ یہ کس قسم کی کتاب ہے، اس کے مضامین کیا ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–25

(ف 1) آخرت کے عقیدہ کو اسلام نے نہایت اہمیت کے ساتھ پیش کیا ہے ، کیونکہ جب تک نظام مکافات پر یقین نہ ہو ، اور جزاء وسزا کو نہ مانتا ہو ، ناممکن ہے کہ اخلاق و عادات کی درستی ہو سکے ، مگر جب آخرت کا ڈر دل سے اٹھ جاتا ہے تو دلوں میں انکار و وتمرد پیدا ہوجاتا ہے ، کیونکہ جب زندگی یہی تک محدود ، قیامت ، حشرنشر ، سب افسانہ ہے ، اگر جوابدہی اور مکافات عمل کا مسئلہ غلط ہے ، اور مرنے کے بعد جی اٹھنا محال ہے تو شرافت اور نیکی کی ضرورت ہے ، ؟ جب ظالم اور مظلوم دونوں کے لئے ابدی فنا ہے ، تو پھر کوئی شخص ظلم سے کیوں باز آئے رحم مروت ، انصاف اور حسن سلوک کی کیا حاجت رہی ، اور انسان کیوں نہ انتہا درجہ کا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

25 ۔ اس کہنے کا یہ انجام ہوگا کہ قیامت کے دن ان منکروں کو اپنے گناہوں کا پورا بوجھ اور کچھ بوجھ ان لوگوں کا جن کو بلا تحقیق اور بےجانے بوجھے گمراہ کر رہے ہیں اٹھانا ہوگا خوب سن لو وہ بوجھ بہت برا ہے جس کو یہ اپنے اوپر لاد رہے ہیں ۔ یعنی اگر کوئی ان سے قرآن کریم کے متعلق دریافت کرتا ہے کہ بتائو تمہارے رب نے کیا نازل کیا تو بطوراستخفاف جواب دیتے ہیں کہ خدا نے کہا نازل کیا وہ تو پہلے لوگوں کے اور امم سابقہ کے افسانے ہیں وہ انہوں نے بھی سیکھ لئے ہیں۔ حضرت حق تعالیٰ نے فرمایا یہ لوگ قیامت میں اپنے گناہوں کا تو تمام بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے گناہوں کے ساتھ جن لوگوں کو لے جانے بوجھے جہالت کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 25–28

ف 3۔ جو شخص کسی کو گمراہ کیا کرتا ہے اس گمراہ کو تو گمراہی کا گناہ ہوتا ہے اور اس گمراہ کرنے والے کو اس گمراہی کا سبب بن جانے کا اس حصہ تسبب کو کچھ بوجھ فرمادیا گیا، اور پنے گناہ کا کامل طور پر اٹھانا ظاہر ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قیامت کے روز وہ لوگ اپنے بوجھ کے ساتھ دوسروں کا بھی بوجھ اٹھائیں گے : 30۔ قرآن کریم میں (آیت) ” لا تزر وازرۃ وزر اخری “۔ کی آیت پانچ بار آئی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ” کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا “ جس کا مطلب بالکل واضح اور صاف ہے کہ تم میں سے ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے کوئی شخص اگر دوسروں کو راضی رکھنے کے لئے یا انکی ناراضگی سے بچنے کی خاطر کفر اختیار کرے گا تو وہ دوسرے لوگ اس کے کفر کا وبال اپنے اوپر نہیں اٹھائیں گے بلکہ اسے آپ ہی اپنا وبال بھگتنے کے لئے چھوڑ دیں گے لہذا جس پر کفر کا غلط اور ایمان کا صحیح ہونا واضح ہوجائے اس کو چاہئے کہ وہ غلط رویہ چھوڑ کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–34

Commentary It will be recalled that, after describing the blessings of Allah and proving that He was unique in the creation of the universe, the text made a pointed reference to how the polytheists chose to stick to their own ways of error. In the present verses, the text describes how they, not content with their own straying, tried that others should also go astray like them. The punishment they would get for doing that has also been stated here. Earlier to that (24), there is a question about the Qur’ an, and the addressees of the question, at this place, are the polytheists. It is their…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–26

21. In the preceding (Ayat 23) those arrogant people who were rejecting the message were warned that Allah has full knowledge of all their deeds. Now from (Ayat 24) the Quran takes up those deeds one by one and deals with the arguments they presented against the Messenger (peace be upon him), the objections they raised and the lame excuses they invented for their rejection, and reproaches and admonishes them. 22. One of their cunning devices was to create doubts about the Quran. Whenever outsiders came to visit Makkah, they would naturally make inquiries about the Quran, which the Prophet…

Read the full tafseer →