An-Nahl 16:24

An-Nahl · from ayah 24

16:24

وَاِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّاذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ— قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ۟ۙوَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ مَّاذَاۤ اَنۡزَلَ رَبُّكُمۡ‌ۙ قَالُـوۡۤا اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَۙ

اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہے تو کہتے ہیں کہ (وہ تو) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when it is said to them, "What has your Lord sent down?" They say, "Legends of the former peoples,"

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 3 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:24

اور جب کوئی ان سے پوچھتا ہے کہ تمہارے رب نے یہ کیا چیز نازل کی ہے، تو کہتے ہیں "اجی وہ تو اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہے تو کہتے ہیں کہ (وہ تو) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان سے جب دریافت کیا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل فرمایا ہے؟ تو جواب دیتے ہیں کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ان سے کہا گیا کہ : تمہارے رب نے کیا بات نازل کی ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ : گزرے ہوئے لوگوں کے افسانے !۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب ان سے کہا جائے تمہارے رب نے کیا اتارا کہیں اگلوں کی کہانیاں ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب اُن سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل فرمایا ہے؟ (تو) وہ کہتے ہیں: اگلی قوموں کے جھوٹے قصے (اتارے ہیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے ؟ تو کہتے ہیں پہلے لوگوں کی بےاصل کہانیاں ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب ان سے پوچھا جائے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے ؟ تو کہتے ہیں : بس پہلے لوگوں کی داستانیں ہی ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے تو کہتے ہیں اگلوں کے فسانے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا اتارا تمہارے رب نے ؟ تو یہ (پوری ڈھٹائی سے) کہتے ہیں کہ اجی ! (بس قصے) کہانیاں پہلے لوگوں کی،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا چیز نازل کی تو کہتے ہیں کہ (وہی) اگلوں کے بےسند قصے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ پہلے لوگوں کے قصے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ان کفار سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا اتارا ہے ؟ تو کہتے ہیں کہ ”وہ تو پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

When they are asked: "What is it that your Lord has revealed?" They answer: "They are merely tales of olden times!"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When it is said to them, :What has your Lord sent down? They say, :It is nothing but the tales of the ancient people.

— Muhammad Taqi Usmani

When it is said to them, :What has your Lord sent down? They say, :It is nothing but the tales of the ancient people.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when it is said to them: "What is it that your Lord has revealed" They say: "Tales of the men of old!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when it is said unto them: What hath your Lord revealed? they say: (Mere) fables of the men of old,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when it is said to them, "What has your Lord sent down?" They say, "Legends of the former peoples,"

— Saheeh International

When they are asked, "What has your Lord revealed to you?" they say, "Only ancient legends".

— Muhammad Sarwar

And when it is said to them, what is it that your Lord has revealed? They say: Stories of the ancients;

— Muhammad Habib Shakir

And when it is said unto them: what is it that your Lord hath sent down? they say: fables of the ancient.

— Abdul Majid Daryabadi

When it is said to them, "What is it that your Lord has revealed?" they say, "Tales of the ancients!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 24–25

قرآن حکیم کے ارشادات کو دیرینہ کہنا کفر کی علامت ہے ان منکرین قرآن سے جب سوال کیا جائے کہ کلام اللہ میں کیا نازل ہوا تو اصل جواب سے ہٹ کر بک دیتے ہیں کہ سوائے گزرے ہوئے افسانوں کے کیا رکھا ہے ؟ وہی لکھ لئے ہیں اور صبح شام دوہرا رہے ہیں پس رسول ﷺ پر افترا باندھتے ہیں کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی اس کے خلاف اور کچھ کہنے لگتے ہیں۔ دراصل کسی بات پر جم ہی نہیں سکتے اور یہ بہت بری دلیل ہے ان کے تمام اقوال کے باطل ہونے کی۔ ہر ایک جو حق سے ہٹ جائے وہ یونہی مارا مارا بہکا بہکا پھرتا ہے کبھی حضور رسول ﷺ کو جادوگر کہتے، کبھی شاعر، کبھی کا ھن، کبھی مجنون۔ پھر ان کے بڈھے گرو ولید بن مغیرہ مخزومی نے انہیں بڑے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 24–26

سورة النَّحْل 22 نبی ﷺ کی دعوت کا چرچا جب اطراف و اکناف میں پھیلا تو مکہ کے لوگ جہاں کہیں جاتے تھے ان سے پوچھا جاتا تھا کہ تمہارے ہاں جو صاحب نبی بن کر اٹھے ہیں وہ کیا تعلیم دیتے ہیں ؟ قرآن کس قسم کی کتاب ہے ؟ اس کے مضامین کیا ہیں ؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے سوالات کا جواب کفار مکہ ہمیشہ ایسے الفاظ میں دیتے تھے جن سے سائل کے دل میں نبی ﷺ اور آپ کی لائی ہوئی کتاب کے متعلق کوئی نہ کوئی شک بیٹھ جائے، یا کم از کم اس کو آپ سے آپ کی نبوت کے معاملے سے کوئی دلچسپی باقی نہ رہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–29

خلاصہ تفسیر اور جب ان سے کیا جاتا ہے (یعنی کوئی ناواقف شخص تحقیق کے لئے یا کوئی واقف شخص امتحان کے لئے ان سے پوچھتا ہے) کہ تمہارے رب نے کیا چیز نازل فرمائی ہے (یعنی قرآن جس کو رسول کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کا نازل کیا ہوا فرماتے ہیں آیا یہ صحیح ہے) تو کہتے ہیں کہ (صاحب وہ رب کا نازل کیا ہوا کہاں ہے) وہ تو محض بےسند باتیں ہیں جو پہلوں سے (منقول) چلی آ رہی ہیں (یعنی اہل ملل پہلے سے توحید ونبوت ومعاد کے مدعی ہوتے آئے ہیں ان ہی سے یہ بھی نقل کرنے لگے باقی یہ دعوے اللہ تعالیٰ کے تعلیم دیئے ہوئے نہیں) نتیجہ اس (کہنے) کا یہ ہوگا کہ ان لوگوں کو قیامت کے دن اپنے گناہوں کا پورا بوجھ اور جن کو یہ لوگ بےعلمی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون۔ آیات 24 تا 32:۔ آگے چند آیات میں پہلے انہی متکبرین کی، جن کا ذکر اوپر گزرا، ان سازشوں اور شرارتوں کا ذکر ہے جو وہ اپنے زیر اثر لوگوں کو قرآن کی دعوت سے روکنے کے لیے کر رہے تھے۔ ساتھ ہی ان کے اس انجام کا بھی ذکر ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں ان کی مفسدانہ کوششوں کے نتیجہ میں ان کے اور ان کی پیروی کرنے والوں کے سامنے آنے والا ہے۔ پھر ان کے مقابل میں ان متقیوں اور خدا ترسوں کا ذکر ہے جو قرآن کی دعوت کے علمبردار تھے اور دنیا و آخرت میں جو صلہ ان کی ان مساعی کا ملنے والا ہے اس کی طرف اشارہ ہے۔ وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

24۔ 1 یعنی اعراض اور استہزا کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ مکذبین جواب دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو کچھ بھی نہیں اتارا، اور محمد ﷺ ہمیں جو پڑھ کر سناتا ہے، وہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جو کہیں سے سن کر بیان کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 23–24

13: چونکہ وہ گھمنڈ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اس لیے انہیں سزا بھی ضرور دے گا، اور اس کے لیے آخرت کا وجود ضروری ہے لہذا اس کے انکار کی کوئی وجہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 24–25

آیت نمبر 24 تا 25 یہ مستکبرین اور منکر دل والوں سے جب پوچھا جاتا ہے کہ ما ذا انزل ربکم (16 : 24) “ تمہارے رب نے یہ کیا چیز نازل کی ہے ”۔ یہ لوگ اس سوال کا صحیح جواب نہیں دیتے۔ حالانکہ جواب سیدھا سادہ ہے۔ یہ لوگ قرآن کریم کو پڑھ سکتے ہیں ، اس کے مفہوم کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہ اگر ایمان نہ بھی لائیں پھر بھی دیانت داری سے صحیح جواب تو دے سکتے تھے لیکن انہوں نے سیدھا جواب دینے کے بجائے یہ جواب دیا : اساطیر الاولین (16 : 24) “ وہ تو اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں ”۔ اساطیر ان کہانیوں کو کہا جاتا ہے جو وہم سے پر ہوں اور خرافات پر مشتمل ہوں۔ یہ لوگ قرآن کے بارے میں ایسے ریمارکس پاس کرتے ہیں حالانکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی ناواقف اشخاص بغرض تحقیق یا واقف لوگ ازراہ امتحان جب ان مکذبین سے کہتے ہیں یا وہ مکذبین خود آپس میں ایک دوسرے سے ازراہ تمسخر و استہزاء سوال کرتے ہیں کہ " کہو تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے "؟ مطلب یہ کہ قرآن جسے پیغمبر ﷺ خدا کا اتارا ہوا بتلاتے ہیں تمہارے نزدیک کیا چیز ہے اور محمد ﷺ اس دعوے میں کہاں تک سچے ہیں ؟ تو کہتے ہیں کہ (معاذ اللہ) قرآن میں رکھا ہی کیا ہے بجز اس کے کہ کتب سابقہ اور ملل سابقہ کی کچھ پرانی بےسند باتیں (توحید، نبوت، جنت و دوزخ وغیرہ) اور چند قصے کہانیاں نقل کردی گئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 24 وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ نبی اکرم کی دعوت کا چرچا جب مکہ کے اطراف و اکناف میں ہونے لگا تو لوگ اہل مکہ سے پوچھتے کہ محمد جو کہہ رہے ہیں کہ مجھ پر اللہ کا کلام نازل ہوتا ہے تم لوگوں نے تو یہ کلام سنا ہے چناچہ تمہاری اس کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ اس کے مضامین کیا ہیں ؟ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ کہ یہ کلام تو بس پرانے قصے کہانیوں پر مشتمل ہے۔ یہ سب گزشتہ قوموں کے واقعات ہیں جو ادھر ادھر سے سن کر ہمیں سنا دیتے ہیں اور پھر ہم پر دھونس جماتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

24 قرآن میں بس پہلے لوگوں کی کہانیاں ہی ہیں :۔ جب رسول اللہ اور آپ کی دعوت کا چرچا حدود مکہ سے نکل کر آس پاس کے علاقوں میں بھی پھیل گیا تو کفار مکہ جہاں کہیں جاتے اور لوگ ان سے پوچھتے کہ تم میں جو نبی پیدا ہوا ہے اس کی تعلیم کیا ہے اور وہ کس چیز کی دعوت دیتا ہے تو یہ لوگ بڑی بےنیازی اور لاپروائی سے کہہ دیتے کہ بس کچھ پہلے لوگوں کی داستانیں اور قصے کہانیاں ہی سنا دیتا ہے۔ کوئی نئی یا کام کی بات ان میں نہیں ہوتی اور ایسی باتیں ہم پہلے ہی بہت سن چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

33۔ یہ گہرا فشانی قرآن مجید جیسی محقق کتاب سے متعلق ! مشرکین مکہ تو خیر اپنی بیخبر ی، تاریک خیالی اور جہالت کیلئے ضرب المثل ہی ہیں، کمال یہ ہے کہ آج فرنگستان کے بڑے بڑے ” روشن خیال “ مدعیان علم و دانش بہک بہک کر بس یہی کہتے ہیں کہ ” قرآن “ میں ہے کیا، یہود ونصاری کی کتابوں سے کچھ قصے لے لے کر انہیں مسخ وتحریف کے بعد جمع کردیا گیا ہے۔ “ (آیت) ” لھم “۔ سے مراد مشرکین قریش ہیں۔ (آیت) ” واذا قیل لھم “۔ یعنی جب ان سے باہر کا کوئی شخص سوال کرتا ہے۔ یا خود آپس میں یہ ایک دوسرے سے پوچھ پاچھ کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–25

آیت نمبر 22 تا 25 ترجمہ : تمہاری عبادت کا مستحق تو صرف ایک معبود ہے، ذات وصفات میں اس کی کوئی نظیر نہیں، اور وہ اللہ تعالیٰ ہے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے قلوب وحدانیت کے منکر ہیں اور وہ وحدانیت پر ایمان لانے سے تکبر کرنے والے ہیں یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر اس بات کو جانتا ہے جس کو وہ چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں، لہٰذا وہ اس کی جزاء ان کو دے گا، وہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا بایں معنی کہ ان کو سزا دے گا، اور نضر بن الحارث کے بارے میں (آئندہ) آیت نازل ہوئی، اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے محمد ﷺ پر کیا نازل کیا ؟ (ما) استفہامیہ اور (ذا) موصولہ ہے تو لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا قیل لھم ماذآ انزل ربکم قالوا اساطیر الاولین اور جب ان (منکرین آخرت) سے کہا گیا کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا تو انہوں نے جواب دیا : (رب نے کچھ نہیں اتارا) یہ تو گذرے ہوئے لوگوں کی لکھی ہوئی (داستانیں) ہیں۔ قبائل عرب کو جب پتہ چلا کہ مکہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو انہوں نے ایام حج میں تحقیق احوال کیلئے کچھ آدمیوں کو مکہ بھیجا۔ یہ نمائندے آئے اور مکہ کی گھاٹیوں میں جو مشرک بیرونی لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کے پاس جانے سے روکنے کیلئے معمور تھے ‘ ان سے مل کر دریافت کیا کہ اللہ نے کیا کلام اتارا ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : یہ اللہ کا بھیجا ہوا کلام نہیں ہے بلکہ وہی حکایتیں ہیں جو پچھلوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(24) جب ان حصے کرنے والوں سے کہا جاتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ تمہارے سامنے تمہارے پروردگار کے کیا احکامات بیان کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ وہ تو پہلے لوگوں کی محض بےبنیاد باتیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا۔۔ : ”اَسَاطِيْرُ“ ”أُسْطُوْرَۃٌ“ کی جمع ہے، جیسے ”اَعَاجِیْبُ“ ”أُعْجُوْبَۃٌ“ کی۔ مراد بےاصل جھوٹی کہانیاں اور افسانے ہیں، یہ ان متکبر کفار کا قرآن مجید کے متعلق تبصرہ ہے جو وہ آپس میں کرتے اور اس کو پھیلاتے تھے کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے، بلکہ محمد ﷺ نے پچھلے لوگوں کے کچھ قصے کہیں سے سن لیے ہیں، انھی کو جوڑ جاڑ کر اللہ کے کلام کے نام سے لوگوں پر پیش کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 24 قولہ تعالیٰ : واذا قیل لھم ماذا انزل ربکم یعنی جب ان سے پوچھا جاتا ہے جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے ان لوگوں میں سے کو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل بعث بعد الموت کے منکر ہیں ماذا انزل ربکم کہ کیا نازل فرمایا ہے تمہارے پروردگار نے ؟ کہا گیا ہے : کہنے والا نضر بن حارث تھا، اور یہ آیت اسی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ وہ حیرہ کی طرف نکلا اور کلیلہ و دمنہ کی کہانیاں خرید کر لایا اور وہ قریش میں پڑھتا اور کہتا تھا : محمد ﷺ اپنے اصحاب پر نہیں پڑھتے ہیں مگر پہلے لوگوں کے من گھڑت قصے ؛ یعنی یہ ہمارے رب کی طرف سے نازل کردہ کتاب نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک مومنین ہی بطور آزمائش ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ جب قریش اکھٹے ہوئے اور کہنے لگے کہ محمد ﷺ میٹھی زبان والے آدمی ہیں جب کوئی آدمی اس سے بات کرتا ہے تو وہ اس کی عقل پر غالب آجاتا ہے تم اپنے عزت والے آدمیوں کو تیار کرو جن کے نسب معروف ہوں ان کو مکہ کے ہر راستہ پر ایک ایک کرکے بٹھاؤ جو شخص اس کا ارادہ لے کر آئے (یعنی محمد ﷺ سے ملنے کا) تو اس کو اس سے واپس کردو (ملنے نہ دو ) یہ لوگ ہر راستہ پر نکل پڑے جب کوئی آدمی اپنی قوم کی طرف سے آتا محمد ﷺ کے حالات اور پیغامات کو جاننے کے لئے وہ ان کے پاس آتا تو وہ قریشی سردار اس سے کہتا کہ میں فلاں بن فلاں ہوں اپنے نسب کے ساتھ ان کو اپنا تعارف کراتا اور کہتا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاِذَا : اور جب بھی ] [ قِيْلَ؛کہا جاتا ہے ] [ لَهُمْ؛ان سے ] [ مَاذَآ : کیا ] [ انزَلَ : اتارا ] [ رَبُّكُمْ ۙ : تمہارے رب نے ] [قَالُوْٓا : تو وہ کہتے ہیں ] [ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ : پہلے لوگوں کے افسانے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّکُمْ ) (الایۃ) (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل فرمایا تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ پہلے لوگوں کی لکھی ہوئی باتیں ہیں) صاحب معالم التنزیل فرماتے ہیں کہ یہ آیت مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ ان لوگوں نے مکہ معظمہ کی گھاٹیوں کو تقسیم کرلیا تھا۔ مختلف گھاٹیوں پر مختلف لوگ بیٹھ گئے تھے جو لوگ حج کے لیے آتے تھے انہیں بہکاتے اور ورغلاتے تھے تاکہ مسلمان نہ ہوجائیں، باہر سے آنے والے حجاج ان سے دریافت کرتے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے کیا نازل ہوا یعنی محمد رسول اللہ ﷺ نے کن چیزوں کی وحی کا تذکرہ فرمایا اور اللہ کی طرف سے جو ان پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–25

منکرین نبوت کے معاندانہ سوالات اور ان کے جوابات (ربط) یہاں تک دلائل توحید کا ذکر فرمایا اب آگے مشرکین کے قبائح اور منکرین نبوت کے معاندانہ سوالات کا ذکر کرکے ان کا جواب دیتے ہیں اسی سلسلہ میں حق تعالیٰ نے مشرکین کے پانچ شبہ ذکر فرما کر ان کا جواب دیا اور یہ بھی بتلا دیا کہ یہ شبہ کوئی نئے سب ہے نہیں پہلی امتوں کے لوگ اسی قسم کے شبہ کرچکے ہیں اور ہلاک اور برباد ہوچکے ہیں ان کی ہلاکت اور بربادی خود ان کے شبہوں کا جواب تھی۔ پہلا شبہ قال اللہ تعالیٰ : واذا قیل لہم ماذا انزل ربکم .... الیٰ .... الا ساء ما یزرون۔ آنحضرت ﷺ نے جب اپنی نبوت و رسالت پر قرآن کریم سے استدلال کیا کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 24–25

21:۔ توحید پر تین عقلی دلیلوں اور ان کے متعلقات بیان کرنے کے بعد منکرین پر شکوی کیا گیا ہے کہ وہ قرآن کو کلام الٰہی ماننے کے بجائے اسے اگلوں کے قصے کہانیاں قرار دیتے ہیں۔ ” لِیَحْمِلُوْا اَوْزَارَھُمْ الخ “ لام عاقبت کا ہے۔ اور یہ ان معاندین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ وہ قرآن کو اگلے لوگوں کی کہانیاں کہتے ہیں۔ اچھا اس قول باطل کی عاقبت اور اس کا انجام آخرت میں یہ ہوگا کہ وہ اپنے اور جن کو انہوں نے اس قول باطل سے گمراہ کیا ہے ان کے گناہوں کا بوجھ پیٹھ پر اٹھا کر سیدھے جہنم میں جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 22–25

(ربط آیات) ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی بعثت اور وحی الہی کے نزول کا ذکر فرمایا ، اس کے بعد اپنے انعامات اور نشانات قدرت کا ذکر کای جو اس کی وحدانیت کی دلیل بنتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرک لوگ جن ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں وہ تو کوئی چیز پیدا کرنے پر قادر نہیں ، بلکہ پیدا شدہ ہیں ۔ اللہ نے ان کو اموات کے لفظ سے تعبیر کیا ، کہ یا تو وہ مٹی اور پتھر کے بےجان بت ہیں ، یا فی الحال وفات پاچکے ہیں ، اور یا بہرحال مرنے والے ہیں ، ان میں سے کوئی بھی باقی رہنے والا نہیں ، ان کی اپنی زندگی بھی ذاتی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی عطا کردہ ہے تو جو ہستی خود اپنی ذات کی مالک نہیں وہ معبود…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ 24؀ۙ سطر السَّطْرُ والسَّطَرُ : الصّفّ من الکتابة، ومن الشّجر المغروس، ومن القوم الوقوف، وسَطَّرَ فلان کذا : كتب سطرا سطرا، قال تعالی: ن وَالْقَلَمِ وَما يَسْطُرُونَ [ القلم/ 1] ، وقال تعالی: وَالطُّورِ وَكِتابٍ مَسْطُورٍ [ الطور/ 1- 2] ، وقال : كانَ ذلِكَ فِي الْكِتابِ مَسْطُوراً [ الإسراء/ 58] ، أي : مثبتا محفوظا، وجمع السّطر أَسْطُرٌ ، وسُطُورٌ ، وأَسْطَارٌ ، قال الشاعر : 233- إنّي وأسطار سُطِرْنَ سطرا«6» وأما قوله : أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ [ الأنعام/ 24] ، فقد قال المبرّد : هي جمع أُسْطُورَةٍ ، نحو :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 24–25

واذا قیل لہم، اب ان کی ضد اور تکبر اور عناد کی ایک اور بات بیان فرماتا ہے کہ جب ان سے کوئی قرآن کی نسبت سوال کرتا ہے کہ وہ کیسا ہے تو اس کے الہامی مطالب سے قطع نظر کر کے طعن کی راہ سے اس کے پندآمیز قصوں کو اگلے لوگوں کی کہانیاں کہہ دیتے تھے، جاہلوں کو گمراہ کرنے کے لیے لیحملوا 1 ؎ الخ ولا تزر وازرۃ وزراخریٰ کے مخالف نہیں ہے کیونکہ یہاں یہ مراد نہیں کہ دوسروں کا گناہ اٹھا کر ان کو بری کردیں گے بلکہ یہ کہ ایک تو اپنا ذاتی گناہ اٹھاویں گے، دوم جن کو گمراہ کیا ہے ان کی گمراہی کا گناہ بھی انہی کے سر پر رہے گا (ف) اور ولاتزر الخ میں یہ مراد کہ دوسرے کو بری نہ کرے گا۔ (ف) منکرین کو قیامت میں دوہرا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 24–25

وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ مَّا ذَآ اَنْزَلَ رَبُّکُمْ لا قَالُوْ ٓا اَسَاطِیْرُالْاَوَّلِیْنَ ۔ لِیَحْمِلُوْ ٓا اَوْزَارَھُمْ کَامِلَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ لا وَمِنْ اَوْزَارِالَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَھُمْ بِغَیْرِعِلْمٍ ط اَلاَسَآئَ مَا یَزِرُوْنَ ۔ ( سورة النحل : 24۔ 25) (اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کے من گھڑت قصے ہیں۔ تاکہ وہ قیامت کے دن اپنے بوجھ بھی پورے اٹھائیں اور ان لوگوں کے بوجھ میں سے بھی حصہ بٹائیں جن کو یہ بغیر کسی علم کے گمراہ کررہے ہیں۔ جان رکھو کہ نہایت ہی برا ہوگا وہ بوجھ جو یہ اٹھائیں گے۔ ) آیتِ کریمہ میں اَسَاطِیْرُ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 24–25

فہم القرآن ربط کلام : منکرین آخرت حقیقت میں متکبر ہوتے ہیں لہٰذا تکبر کرنے کا نتیجہ اور اس کا انجام۔ یہ تکبر کا ہی نتیجہ ہے کہ کفار سے جب یہ کہا جاتا کہ سوچو تمہارے رب نے کیا کیا ارشادات نازل فرمائے ہیں۔ اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ ہم سے پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ اس طرح نہ صرف خود حق کا انکار کرتے ہیں بلکہ اس پروپیگنڈہ کے ذریعے دوسرے لوگوں کو بھی حق سے دور رکھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ ہوگا کہ قیامت کے دن یہ اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھانے کے علاوہ ان کا بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہوں گے جن کو انھوں نے گمراہ کیا ہوگا۔ کتنا ہی برا بوجھ ہے جسے اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ہمیشہ کے لیے جہنم میں ذلیل ہوں گے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

24: وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ (جب ان سے کہا گیا) ان کفار کو۔ مَّا ذَآ اَنْزَلَ رَبُّکُمْ قَالُوْا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ (تمہارے رب نے کیا اتارا وہ کہتے ہیں پہلے لوگوں کی کہانیاں) ۔ نحو : نمبر 1۔ ماذا یہ انزل کی وجہ سے منصوب ہے یعنی ای شئی انزل ربکم تمہارے رب نے کونسی چیز اتاری ؟ نمبر 2۔ ابتداء کی وجہ سے مرفوع ہے۔ ای شئی انزلہ ربکم وہ کونسی چیز ہے جس کو تمہارے رب نے اتارا ہے ؟ اساطیر یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ مفسرین کہتے ہیں کہ یہ ان لوگوں کا مقولہ ہے جو مکہ کے راستوں پر بیٹھ کر رسول اللہ ﷺ کے متعلق نفرت پھیلاتے جب حجاج کا کوئی وفد ان سے پوچھتا کہ رسول ﷺ پر کیا چیز اتاری گئی تو وہ کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (24)” واذا قیل لھم “ وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لائے۔ یہ مشرکین مکہ تھے ا ن کی سزائیں تقسیم کردی ہیں جب کہ انہوں نے حاجیوں سے سوال کیا۔ ” ماذا انزل ربکم قالوا اساطیر الاولین “ پچھلوں کی باتیں ہیں یا وہی باطل حکایتیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

24۔ معتبر سند سے تفسیر ابن ابی حاتم میں قتادہ کے قول کے موافق جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حج کے موسم میں دور دور کے لوگ مکہ میں آتے تھے جس سے قریش کو دکھ ہوا کہ باہر کے لوگ آنحضرت ﷺ کی باتیں اور قرآن شریف کی نصیحت کو سن کر بت پرستی چھوڑ دیں گے اس لئے قریش نے مکہ کے چاروں طرف لوگ بٹھلا دئیے تھے اور ان سے کہہ دیا تھا کہ جو کوئی قرآن شریف کا حال پوچھتے تو کہہ دینا کہ پہلے لوگوں کی ایک کہانی ہے 1 ؎۔ وہ یہی کہہ دیتے تھے اور جب وہ باہر کے لوگ مکہ کے اندر آتے تو جو لوگ مسلمان ہوگئے تھے وہ قرآن شریف کی بہت تعریف کرتے تھے اسی ذکر میں اللہ تعالیٰ نے آیت کا یہ ٹکڑا اور اگلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 24–29

آیت 24 اللہ تبارک و تعالیٰ آیات الٰہی کے بارے میں مشرکین کی شدت تکذیب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (واذا قیل لھم ماذا انزل ربکم) ” جب ان سے کہا جاتا ہے، تمہارے رب نے کیا اتارا ہے ؟ “ یعنی جب ان سے قرآن اور وحی، جو اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے۔۔۔ کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔۔۔ کہ تمہار اسا کی بابت کیا جواب ہے ؟ کیا تم اس نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے شکر ادا کرتے ہو یا اس کی ناشکری کرتے ہوئے عناد رکھتے ہو ؟ “ تو وہ بدترین جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں یہ (اساطیر الاولین) ” پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں “ یعنی یہ جھوٹ ہے جسے محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے۔ یہ گزرے ہوئے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جنہیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 14–65

زیور کے بارے میں حکم قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

41۔ مستکبرین کے استکبار کے ایک نمونہ اور مظہر کا ذکر وبیان : سو اس سے مستکبرین کے استکبار کا ایک نمونہ سامنے آتا ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ کیا اتارا تمہارے رب نے ؟ یعنی اس قرآن پاک کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جس کو محمد ﷺ رب کی طرف سے اتارا ہوا بتاتے ہیں ؟ تو اس کے جواب میں یہ لوگ یوں کہتے ہیں یعنی قرآن مجید جو کہ اسلام کا معجزہ بلکہ معجزوں کا معجزہ ہے اور حضرت محمد ﷺ کی صداقت و حقانیت کا زندہ وجاوید ثبوت ہے اس کے بارے میں یہ لوگ اندھے اور بہرے بن کر اس طرح کہتے ہیں۔ قرآن حکیم کی دعوت حق اور اس کے کلام معجز نظام نے جب لوگوں کو ہلا کر اور ان کے دلوں کو جھنجھوڑ کر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 20–26

غیر اللہ کی حقیقت اور ان کو پوجنے والوں کا انجام تشریح : پچھلی آیات میں اللہ نے اپنی نعمتوں، برکتوں اور بہترین تخلیق کا تذکرہ کیا ہے۔ اس قدر واضح ثبوت اور نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی کفار کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور وہ جوں کے توں کفر و شرک پر ہی قائم رہتے ہیں۔ بلکہ دوسروں کو بھی گمراہی کا سبق دیتے ہیں اور یہ ان کے لیے دہرے عذاب کا باعث بنے گا۔ کیونکہ ان کا گمراہی کا دیا ہوا سبق جہاں تک دوسرے لوگوں تک پہنچے گا اور پھر اس سے آگے جتنا یہ سبق پھیلتا چلا جائے گا تو ان تمام لوگوں کی گمراہی کا عذاب ان شروع میں سبق دینے والوں کے لیے ہی ہوگا کیونکہ گمراہی کی بنیاد انہوں نے ہی رکھی۔ یہاں یہ بات واضح ہے کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–25

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف اتنی بڑی کائنات کا خالق مالک اور پالنے والا جب اکیلا ہے تو وہی تمہارا معبود بھی ہے جو اکیلا عبادت کے لائق ہے ، اور جو لوگ اس کی واحدانیت پر یقین نہیں کرتے ان کے قلوب تباہ ہوچکے ہیں اور انکار کی مصیبت میں مبتلا ہیں کہ ۔ (قلب کی بیماری وصحت) قلب انسانی کا سب سے مہلک مرض عظمت الہی سے غافل ہو کر دوسروں سے امیدیں وابستہ کرنے میں ہے یعنی شرک اور اس کی صحت مندی کی علامت محبت الہی ہے لہذا جب قلب تباہ ہوتا ہے تو انسان میں تکبر پیدا ہوجاتا ہے جس کا اظہار منکرین کے کردار سے ہو رہا ہے اور بلاشبہ اللہ جل جلالہ سے ان کی کوئی بات چھپی ہوئی نہیں وہ سب جانتا ہے جو یہ ظاہرا کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 یعنی اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں ہے بلکہ محمد (ﷺ) نے پچھلے لوگوں کے کچھ قصے کہیں سے سن لئے ہیں انہی کو جوڑ جاڑ کر اللہ کے کلام کے نام سے لوگوں پر پیش کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:24) ما ذا ۔ کیا ہے یہ ؟ کیا چیز ہے ؟ ما ذا کی لفظی ساخت میں اختلاف ہے کوئی بسیط (غیر مرکب) اور کوئی اس کو مرکب کہتا ہے۔ بسیط کہنے والوں میں سے بعض قائل ہیں کہ ما ذا پورا اسم جنس ہے یا موصول ہے اور الذی کا ہم معنی یا پورا حرف استفہام ہے۔ مرکب کہنے والے کہتے ہیں کہ ماذا مرکب ہے ما استفہام اور ذا موصولہ سے۔ جیسے آیت ہذا یا آیت یسئلونک ما ذا ینفقون۔ (2:219) لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں یا ما استفہامیہ ہے اور ذا اسم اشارہ۔ یا ما زائدہ ہے۔ اور ذا اسم اشارہ۔ یا ما استفہامیہ اور ذا زائدہ ہے۔ اساطیر۔ اسطورۃ کی جمع ہے جیسے ارجوحۃ کی جمع اراجیح۔ اور احدوثۃ کی جمع احادیث ہے۔ اساطیر۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 22–25

لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 25 منکرۃ انکار کرنے والے۔ لا جرم یقینا ، قطعاً ۔ لایحب پسند نہیں کرتا ہے۔ ماذا کیا ؟ (حرف سوال) اساطیر (اسطورۃ) قصے، کہانیاں۔ لیحملوا تاکہ وہ اٹھائیں۔ اوزاراً (وزر) بوجھ۔ ساء برا ہے۔ تشریح : آیت نمبر 22 تا 25 سورۃ النحل کے آغاز سے ہی اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا بیان ہو رہا ہے اس پوری کائنات اور اس کے ذرے ذرے کا پیدا کرنے والا خلاق و رازق صرف اللہ ہی ہے۔ یہاں سے یہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ وہ رب جس نے ہر چیز کو پیدا کیا وہ اپنی ذات میں اس طرح ” واحد “ یعنی ایک ہے جس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ جو لوگ اللہ کی ذات اور صفات میں دوسروں کو شریک کرتے اور ایمان نہیں لاتے وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 24–25

دگنے عذاب کا ذکر شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ حج کے موسم میں دور دور کے لوگ مکہ میں آتے تھے جس سے قریش کو ڈر ہوا کہ باہر کے لوگ آنحضرت ﷺ کی باتیں سن کر بت پرستی نہ چھوڑ دیں۔ اس لئے قریش نے مکہ کے چاروں طرف لوگ بٹھادئیے تھے اور ان سے یہ کہہ دیا تھا کہ جو کوئی قرآن شریف کا حال پوچھے تو کہہ دینا کہ پہلے لوگوں کی ایک کہانی ہے، وہ یہی کہہ دیتے تھے اور جب وہ باہر کے لوگ مکہ کے اندر آتے تو جو لوگ مسلمان ہوگئے تھے وہ قرآن شریف کی بہت تعریف کرتے تھے۔ اسی ذکر میں اللہ تعالیٰ نے آیہ کا یہ ٹکڑا اور اگلا ٹکڑا ذکر فرمایا جس میں قرآن شریف کی تعریف کرنے والوں کا ذکر اور اس ٹکڑے میں جو لوگ اوروں کو بہکاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 24–27

[15] باہر کے لوگ مشرکین مکہ سے قرآن کے بارے میں سوالات کیا کرتے تھے کہ یہ کس قسم کی کتاب ہے، اس کے مضامین کیا ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–25

(ف 1) آخرت کے عقیدہ کو اسلام نے نہایت اہمیت کے ساتھ پیش کیا ہے ، کیونکہ جب تک نظام مکافات پر یقین نہ ہو ، اور جزاء وسزا کو نہ مانتا ہو ، ناممکن ہے کہ اخلاق و عادات کی درستی ہو سکے ، مگر جب آخرت کا ڈر دل سے اٹھ جاتا ہے تو دلوں میں انکار و وتمرد پیدا ہوجاتا ہے ، کیونکہ جب زندگی یہی تک محدود ، قیامت ، حشرنشر ، سب افسانہ ہے ، اگر جوابدہی اور مکافات عمل کا مسئلہ غلط ہے ، اور مرنے کے بعد جی اٹھنا محال ہے تو شرافت اور نیکی کی ضرورت ہے ، ؟ جب ظالم اور مظلوم دونوں کے لئے ابدی فنا ہے ، تو پھر کوئی شخص ظلم سے کیوں باز آئے رحم مروت ، انصاف اور حسن سلوک کی کیا حاجت رہی ، اور انسان کیوں نہ انتہا درجہ کا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

24 ۔ اور جب ان دین حق کے منکروں سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا چیز نازل فرمائی ہے تو جواب دیتے ہیں نازل کہاں فرمائی وہ تو پہلے ہی لوگوں کی بےسروپا کہانیاں ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ یعنی کوئی ناواقف شخص تحقیق کے لئے یا کوئی واقف شخص امتحان کے لئے ان سے پوچھتا ہے کہ قرآن جس کو رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کا نزال کیا ہوا فرماتے ہیں آیا یہ صحیح ہے۔ 2۔ یعنی اہل ملل پہلے سے توحید و نبوة ومعاد کے مدعی ہوتے آئے ہیں ان ہی سے یہ بھی نقل کرنے لگے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے ؟ کہتے ہیں کہ پہلوں کی کہانیاں ہیں : 29۔ یہ ان کی گوہر افشانی کس کے متعلق ہے ؟ قرآن کریم جیسی کتاب کے متعلق ، مشرکین مکہ تو خیر اپنی بیخبر ی تاریک خیالی اور جہالت کے لئے ضرب المثل ہی تھے کمال یہ ہے کہ آج کل بڑے بڑے ” روشن خیال “ مدعیان علم و دانش بہک بہک کر بس یہی کہتے ہیں کہ ” قرآن “ میں ہے ہی کیا ؟ یہود ونصاری کی کتابوں کے کچھ قصے ہی تو ہیں جو وہاں سے لے کر یہاں بیان کردیئے گئے ہیں ایسا کیوں ہے ؟ فرمایا دراصل نبی اعظم وآخر ﷺ کی دعوت کا چرچا جب اطراف واکناف میں پھیلا تو مکہ کے لوگ جہاں کہیں جاتے تھے تو ان سے پوچھا جاتا تھا کہ تمہارے ہاں جو صاحب نبی بن کر آئے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–34

Commentary It will be recalled that, after describing the blessings of Allah and proving that He was unique in the creation of the universe, the text made a pointed reference to how the polytheists chose to stick to their own ways of error. In the present verses, the text describes how they, not content with their own straying, tried that others should also go astray like them. The punishment they would get for doing that has also been stated here. Earlier to that (24), there is a question about the Qur’ an, and the addressees of the question, at this place, are the polytheists. It is their…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–26

21. In the preceding (Ayat 23) those arrogant people who were rejecting the message were warned that Allah has full knowledge of all their deeds. Now from (Ayat 24) the Quran takes up those deeds one by one and deals with the arguments they presented against the Messenger (peace be upon him), the objections they raised and the lame excuses they invented for their rejection, and reproaches and admonishes them. 22. One of their cunning devices was to create doubts about the Quran. Whenever outsiders came to visit Makkah, they would naturally make inquiries about the Quran, which the Prophet…

Read the full tafseer →