Explained with ayahs 22–23
اللہ ہی معبود برحق ہے، اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، وہ واحد ہے، احد ہے، فرد ہے، صمد ہے۔ کافروں کے دل بھلی بات سے انکار کرتے ہیں وہ اس حق کلمے کو سن کر سخت حیرت زدہ ہوجاتے ہیں۔ اللہ واحد کا ذکر سن کر ان کے دل مرجھا جاتے ہیں۔ ہاں اوروں کا ذکر ہو تو کھل جاتے ہیں یہ اللہ کی عبادت سے مغرور ہیں۔ نہ ان کے دل میں ایمان نہ عبادت کے عادی۔ ایسے لوگ ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے۔ یقینا اللہ تعالیٰ ہر چھپے کھلے کا عالم ہے ہر عمل پر جزا اور سزا دے گا وہ مغرور لوگوں سے بیزار ہے۔
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 21
یہاں سے تقریر کا رخ دوسری طرف پھرتا ہے۔ نبی ﷺ کے مقابلہ میں جو شرارتیں کفار مکہ کی طرف سے ہو رہی تھیں، جو حجتیں آپ کے خلاف پیش کی جا رہی تھیں، جو حیلے اور بہانے ایمان نہ لانے کے لیے گھڑے جا رہے تھے، جو اعتراضات آپ پر وارد کیے جا رہے تھے ان کو ایک ایک کر کے لیا جاتا ہے اور ان پر فہمائش، زجر اور نصیحت کی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
خلاصہ تفسیر
سو (جب اللہ تعالیٰ کا خالق اشیاء مذکورہ ہونا اور اس میں اس کا منفرد ہونا ثابت ہوچکا تو) کیا جو شخص پیدا کرتا ہو (یعنی اللہ تعالیٰ) وہ اس جیسا ہوجاوے گا جو پیدا نہیں کرسکتا (کہ تو دونوں کو معبود سمجھنے لگے تو اس میں اللہ تعالیٰ کی اہانت ہے اس کو بتوں کے برابر کردیا) پھر کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے اور (اللہ تعالیٰ نے جو اوپر دلائل توحید میں اپنی نعمتیں بتلائی ہیں ان پر کیا حصر ہے وہ تو اس کثرت سے ہیں کہ) اگر تم اللہ تعالیٰ کی (ان) نعمتوں کو گننے لگو تو (کبھی) نہ گن سکو (مگر مشرکین شکر اور قدر نہیں کرتے اور یہ جرم اتنا عظیم تھا کہ نہ معاف کرانے سے معاف ہوتا اور نہ اصرار پر آگے کو…
Read the full tafseer →لَاجَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۭ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْـتَكْبِرِيْنَ۔ یعنی یقیناً اللہ ان کے اس باطنی محرک انکار اور ان کے اس ظاہری انکار دونوں کو جانتا ہے وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ان کے دلوں میں استکبار کا خناس سمایا ہوا ہے اس وجہ سے وہ ایک حق کو حق مانتے ہوئے جھٹلا رہے ہیں اور ایک باطل سے اس کو باطل جانتے ہوئے چمٹے ہوئے ہیں۔ سو اللہ ایسے مغروروں اور متکبروں کو دوست نہیں رکھتا۔ " دوست نہیں رکھتا " یعنی ان کو مبغوض رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →23۔ 1 اَ سْتِکْبَار کا مطلب ہوتا ہے اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے صحیح اور حق بات کا انکار کردینا اور دوسروں کو حقیر و کمتر سمجھنا۔ کبر کی یہی تعریف حدیث میں بیان کی گئی ـ' یہ کبر و غرور اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ حدیث میں ہے کہ، وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی کبر ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
13: چونکہ وہ گھمنڈ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اس لیے انہیں سزا بھی ضرور دے گا، اور اس کے لیے آخرت کا وجود ضروری ہے لہذا اس کے انکار کی کوئی وجہ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
درس نمبر 120 ایک نظر میں
درس سابق میں ہمیں بتایا گیا کہ خالق کائنات کی اس عظیم مخلوق میں بیشمار آیات و نشانات موجود ہیں۔ اس عظیم تخلیق میں حضرت انسان کے فائدے ہی فائدے ہیں اور یہ کہ خالق حقیقی انسان کے ظاہر و باطن کا علم رکھتا ہے ۔ جبکہ جن ہستیوں اور اشیاء کو تم الٰہ سمجھتے ہو ، ان کی کوئی تخلیق نہیں ہے۔ وہ خود مخلوق ہیں ، وہ کسی چیز کا علم و شعور نہیں رکھتے ، بلکہ وہ مردہ ہیں اور ان کو اب اس جہان میں زندگی حاصل نہیں ہو سکتی ، یا وہ حیات کے قابل ہی نہیں ہیں۔ نیز ان ہستیوں کو اس قدر بھی معلوم نہیں ہے کہ سزاء و جزاء و جزاء کے لئے ان کو کب اٹھایا جائے گا۔ یہ تمام دلائل قطعاً اس بات کو ثابت…
Read the full tafseer →6 یعنی خوب سمجھ لو کبرو غرور کوئی اچھی اور پسندیدہ چیز نہیں، اس کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا، توحید کا انکار جو تم دلوں میں رکھتے ہو اور غرور وتکبر جس کا اظہار تمہاری چال ڈھال اور طور و طریق سے ہو رہا ہے، سب خدا کے علم میں ہے۔ وہ ہی ہر کھلے چھپے جرم کی سزا تم کو دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
فَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّهُمْ مُّسْـتَكْبِرُوْنَ
اس نکتے کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں آخرت کا یقین نہیں ہے وہ حق بات کو قبول کرنے سے کیوں جھجکتے ہیں اور ان کے اندر استکبار کیوں پیدا ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کا فلسفہ یہ ہے کہ جو شخص فطرت سلیمہ کا مالک ہے اس کے اندر اچھائی اور برائی کی تمیز موجود ہوتی ہے۔ اس کا دل اس حقیقت کا قائل ہوتا ہے کہ اچھائی کا اچھا بدلہ ملنا چاہیے اور برائی کا برا ع ”گندم از گندم بروید ‘ جو زجو !“
یہی فلسفہ یا تصور منطقی طور پر ایمان بالآخرت کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ مگر دنیا میں جب پوری طرح نیکی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
23 آخرت کا انکار تکبر ہے :۔ تکبر اس لحاظ سے ہے کہ یوم جزاء و سزا کے قائم ہونے سے انکار دراصل اللہ تعالیٰ کی دو صفات کا انکار ہے۔ ایک اللہ کا عادل ہونا دوسرے قادر مطلق ہونا اور جو شخص اتنے واضح اور فطری دلائل کو دیکھتے ہوئے بھی اللہ کی قدرت مطلقہ سے انکار کرتا ہے تو اس سے بڑھ کر اور اکڑ باز کون ہوسکتا ہے ؟ جبکہ رسول اللہ نے تکبر کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ تکبر یہ ہے کہ حق بات کو ٹھکرا دیا جائے اور دوسروں کو حقیر سمجھا جائے۔ (مسلم، کتاب الایمان۔ باب تحریم الکبر و بیانہ)
Read the full tafseer →32۔ (چنانچہ ہر مستکبر کو سزا بھی وقت مقرر پردے گا) خوب غور کرکے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ دین حق قبول کرلینے کے بعد بہرحال نفس کو قانون الہی کی اطاعت میں دینا پڑتا ہے، اور یہ اکثر طبائع کو بھی سخت گراں گزرتا ہے۔ انکے انکار والحاد کی بنیاد عموما خود سری، خود بینی وخود رائی ہی پر ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
آیت نمبر 22 تا 25
ترجمہ : تمہاری عبادت کا مستحق تو صرف ایک معبود ہے، ذات وصفات میں اس کی کوئی نظیر نہیں، اور وہ اللہ تعالیٰ ہے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے قلوب وحدانیت کے منکر ہیں اور وہ وحدانیت پر ایمان لانے سے تکبر کرنے والے ہیں یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر اس بات کو جانتا ہے جس کو وہ چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں، لہٰذا وہ اس کی جزاء ان کو دے گا، وہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا بایں معنی کہ ان کو سزا دے گا، اور نضر بن الحارث کے بارے میں (آئندہ) آیت نازل ہوئی، اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے محمد ﷺ پر کیا نازل کیا ؟ (ما) استفہامیہ اور (ذا) موصولہ ہے تو لوگوں…
Read the full tafseer →لا جرم ان اللہ یعلم ما یسرون وما یعلنون ضروری بات ہے کہ اللہ ان سب کے پوشیدہ اور ظاہر احوال سے واقف ہے۔ یعنی اللہ کی ربوبیت اور معبودیت سے انکار جو دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور اللہ کی عبادت اور اللہ کے رسول ﷺ کے اتباع سے تکبر جو وہ ظاہر کرتے ہیں ‘ اللہ سب سے واقف ہے۔
انہ لا یحب المستکبرین (اور) یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : چھوٹی سرخ چیونٹی کے برابر غرور (والا) جنت میں نہیں جائے گا اور چھوٹی سرخ چیونٹی کے برابر ایمان (والا) دوزخ میں داخل نہ ہوگا۔ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم میں سے بعض لوگ چاہتے ہیں کہ ان کا لباس خوبصورت…
Read the full tafseer →(23) ضروری بات ہے کہ یہ لوگ جو اپنے دلوں میں بغض وحسد ومکروخیانت چھپائے ہوئے ہیں اور لعن وطعن ولڑائی کے ساتھ پیش آتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے یہ سب احوال جانتے ہیں اور یقین بات ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان سے تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →لَاجَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ۔۔ : جس طرح کہا جاتا ہے کہ تم جو کچھ کر رہے ہو میں دیکھ رہا ہوں اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ تم اس کی سزا پا کر رہو گے، اسی طرح یہاں اللہ تعالیٰ کے علم کا ذکر ان کے ظاہر اور پوشیدہ اعمال کی سزا کی وعید کے لیے ہے اور یہ سزا کیا کم ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت نہیں، بلکہ بغض رکھتا ہے، ”اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْـتَكْبِرِيْنَ“ کہ وہ تکبر کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
آیت نمبر 22 تا 23
قولہ تعالیٰ : الھکم الہ واحد جب یہ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا محال ہے تو اب یہ بیان کیا کہ معبود واحد و یکتا ہے اس کے سوا کوئی رب نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی معبود ہے۔ فالذین لا یؤمنون بالاخرۃ قلوبھم منکرۃ یعنی ان کے دل نہ کوئی وعظ و نصیحت قبول کرتے ہیں اور نہ ان میں ذکر اثر انداز ہوتا ہے، یہ قدریہ کا رد ہے۔ وھم مستکبرون یعنی وہ حق قبول کرنے سے تکبر اور غرور کرنے والے ہیں۔ استکبار کا معنی سورة البقرۃ میں گزر چکا ہے۔ لاجرم ان اللہ یعلم ما یسرون وما یعلنون یعنی اللہ تعالیٰ جانتا ہے ہر وہ قول و عمل جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں پس وہ انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
1:۔ عبد ابن حمید ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ کے طریق سے حسن بصری (رح) سے انہوں نے قیس بن عباد (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا فرمایا تو وہ حرکت کرنے لگی فرشتے کہنے لگی یہ تو اپنی پشت پر کسی کو قرار نہیں پکڑنے دے گی لیکن یونہی صبح ہوئی زمین کے اندر پہاڑ گاڑ دیئے گئے اور فرشتوں کو معلوم بھی نہ ہوا کہ کہاں سے پیدا ہوگئے کہنے لگے اے ہمارے رب کیا تیری مخلوق میں کوئی ایسی چیز بھی ہے جو ان سے زیادہ سخت ہو اللہ نے فرمایا ہاں لوہا ہے پھر فرشتوں نے عرض کیا لوہے سے بھی سخت کوئی چیز اور مخلوق ہے فرمایا ہاں آگ ہے فرشتوں نے عرض کیا اے ہمارے رب کیا آگ سے بھی زیادہ سخت کوئی اور چیز…
Read the full tafseer →[لَاجَرَمَ : کوئی شک نہیں ہے ] [ ان : کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ يَعْلَمُ : جانتا ہے ] [ مَا : اس کو جو ] [ يُسِرُّوْنَ؛یہ لوگ چھپاتے ہیں ] [ وَمَا : اور اس کو جو ] [ يُعْلِنُوْنَ ۭ: یہ لوگ اعلان کرتے ہیں ] [ انهٗ : حقیقت یہ ہے کہ ] [ لَا يُحِبُّ : وہ پسند نہیں کرتا ] [ الْمُسْـتَكْبِرِيْنَ : بڑائی چاہنے والوں کو ]
(آیت۔ 23) ۔ اِنَّہٗ کو ضمیر الشان ماننا بہتر ہے۔
Read the full tafseer →(لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ ) (یہ بات ضروری ہے یقینی ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے وہ جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں) لہٰذا وہ ان کے عقیدہ انکار آخرت اور ظاہری و باطنی احوال و اعمال پر سزا دے گا۔ (اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَکْبِرِیْنَ ) (بلاشبہ وہ تکبر کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–23
ذکر دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ : خلق السموت والارض بالحق .... الیٰ .... انہ لایحب المستکبرین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اللہ کی معرفت اور اس کی وحدانیت کا علم سب سے اول اور مقدم اور اہم ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) اس کی تعلیم دیتے رہے۔ وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ اور توحید کے بعد درجہ تقویٰ کا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تمام اولین اور آخرین کو وصیت فرمائی ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ اس لیے اب آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت و حکمت کے قسم قسم کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور کمال قدرت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
19:۔ یہ اصل دعوی کا اعادہ ہے اور پہلے دونوں ثمروں پر متفرع ہے یعنی جب ثابت ہوگیا کہ ساری کائنات کا خالق اور سب کچھ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے تو اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ تم سب کا معبود برحق اور کارساز صرف ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور دعاء اور پکار کے لائق بھی صرف وہی ہے۔ (اِلٰھُکُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ) لا یشار کہ شیء فی شیء وھو تصریح بالمدعی و تمحیض للنتیجۃ عقب اقامۃ الحجۃ (ابو السعود ج 5 ص 448) ۔
20:۔ ” فَالَّذِیْنَ لَایُوْمِنُوْنَ “ تا ” اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَکْبِرِیْنَ “ زجر مع تخویف اخروی۔ جو لوگ مسئلہ توحید کو نہیں مانتے اور سرکشی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
(ربط آیات)
ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی بعثت اور وحی الہی کے نزول کا ذکر فرمایا ، اس کے بعد اپنے انعامات اور نشانات قدرت کا ذکر کای جو اس کی وحدانیت کی دلیل بنتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرک لوگ جن ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں وہ تو کوئی چیز پیدا کرنے پر قادر نہیں ، بلکہ پیدا شدہ ہیں ۔ اللہ نے ان کو اموات کے لفظ سے تعبیر کیا ، کہ یا تو وہ مٹی اور پتھر کے بےجان بت ہیں ، یا فی الحال وفات پاچکے ہیں ، اور یا بہرحال مرنے والے ہیں ، ان میں سے کوئی بھی باقی رہنے والا نہیں ، ان کی اپنی زندگی بھی ذاتی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی عطا کردہ ہے تو جو ہستی خود اپنی ذات کی مالک نہیں وہ معبود…
Read the full tafseer →لَاجَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۭ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْـتَكْبِرِيْنَ 23
جرم
وقیل : جَرَمَ وجَرِمَ بمعنی، لکن خصّ بهذا الموضع «جرم» كما خصّ عمر بالقسم، وإن کان عمر وعمر «7» بمعنی، ومعناه : ليس بجرم أنّ لهم النار، تنبيها أنهم اکتسبوها بما ارتکبوه إشارة إلى قوله تعالی: وَمَنْ أَساءَ فَعَلَيْها [ الجاثية/ 15] .
وقد قيل في ذلك أقوال، أكثرها ليس بمرتضی عند التحقیق «1» .
وعلی ذلک قوله عزّ وجل : فَالَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ قُلُوبُهُمْ مُنْكِرَةٌ وَهُمْ مُسْتَكْبِرُونَ [ النحل/ 22] ، لا جَرَمَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يُسِرُّونَ وَما يُعْلِنُونَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
رب تعالیٰ صرف ایک ہے۔
اس لیے فرمایا الہکم الہ واحد کہ تمہارا خدا صرف ایک ہی خدا ہے۔ مخالفین ان دلائلِ توحید سے بند ہوجاتے تھے اور دل میں بھی سمجھتے تھے مگر قوم کی رسم و عادت سے ان کی پرستش نہیں چھوڑتے تھے، دل میں توحید نہیں سماتی تھی اور نہ ان کا تکبر پیغمبر (علیہ السلام) کی پیروی کی اجازت دیتا تھا اس بات کو فالذین سے لے کر لایحب المتکبرین تک بیان فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →لاَجَرَمَ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَایُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ط اِنَّہٗ لاَیُحِبُّ الْمُسْتَکْبِرِیْنَ ۔
(سورۃ النحل : 23)
(یقینا اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں، بیشک وہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ )
منکرین کو تہدید
اللہ تعالیٰ کے دین کو قبول نہ کرنے کے ان کے پاس بیسیوں بہانے ہیں، کبھی کسی بات پر اعتراض کرتے ہیں اور کبھی کسی بات میں میں میخ نکالتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ یقینی طور پر اس بات کو جانتا ہے کہ وہ کیا چھپا رہے ہیں اور کیا ظاہر کررہے ہیں۔ وہ دل سے دین کی صداقت اور آنحضرت ﷺ کی سچائی پر یقین رکھتے ہیں لیکن ان کا غرور اور تکبر ان کے راستے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
فہم القرآن
ربط کلام : دلائل کے ساتھ باطل معبودوں کی نفی کرتے ہوئے اللہ کا ایک الٰہ ہونا ثابت کیا گیا ہے۔
اہل علم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی نام اللہ اور الٰہ ہے۔ لفظ الٰہ اور اللہ میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ الٰہ اللہ تعالیٰ کا نام ہونے کے ساتھ اس کی صفت کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ اگر الٰہ کو صرف صفت کے معنیٰ میں لیا جائے تو یہ ایسا لفظ اور نام ہے جو اللہ تعالیٰ کی تمام بڑی بڑی صفات کا ترجمان ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ کی مختلف صفات کا معنی لفظ الٰہ کے ذریعے ادا کیا گیا ہے۔ چناچہ یہاں پہلی آیات میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ جو لوگ آخرت پر…
Read the full tafseer →23: لَا جَرَمَ (ضروری بات ہے) یقینا۔ اَنَّ اللّّٰہَ یَعْلَمُ مَایُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ جانتے ہیں جو وہ چھپاتے اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں) ان کی پوشیدہ اور ظاہری حالت کو۔ پس اسی کے مطابق ان کو بدلہ دیگا۔ یہ وعید ہے۔ اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُسْتَکْبِرِیْنَ (اس کو تکبر کرنے والے پسند نہیں) توحید سے تکبر کرنے والے یعنی مشرکین۔
Read the full tafseer →(23)” لاجرم “ حق بات ہے۔” ان اللہ یعلم ما یسرون وما یعلنون انہ لا یحب المستکبرین “ حضرت عبداللہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ فرمایا کہ جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں ایک ذرہ برابر تکبر ہوگا اور وہ شخص دوزخ میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہوگا۔ ایک شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) ہم میں سے بعض لوگ چاہتے ہیں کہ ان کا لباس خوبصورت ہو، اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ جمال والا ہے ، جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر حق سے روگردانی اور لوگوں کو حقیر سمجھنے سے ہوتا ہے۔ ( بعض نے کہا کہ حق کے مقابلے میں مغرور ہوجانا اور حق کو حق نہ جاننا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
22۔ 23۔ اللہ پاک نے اس سے پہلے کی آیتوں میں بتوں کے معبود ہونے میں طرح طرح کی خرابی بیان فرما کر اب یہ فرمایا کہ تم لوگوں کا معبود وہی اکیلا خدا ہے جس نے ساری چیزیں دنیا میں پیدا کی ہیں دنیا میں تو چاہے تو لوگ جس کو معبود ٹھہرا لو مگر آخرت میں کوئی جھوٹا معبود نظر نہیں آئے گا اکیلا خدا ہی خدا ہوگا اور سارے جہان کا حساب و کتاب اسی کے ہاتھ میں ہوگا پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس بات کی خبر دی کہ کفار جو اپنے عقیدہ پر جمے ہوئے ہیں اور بتوں کی عبادت نہیں چھوڑتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ آخرت کے دن کا یقین ان کے دلوں میں نہیں ہے آخرت کا یہ لوگ انکار کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ قیامت وغیرہ کچھ بھی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
آیت 17
اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو تخلیق کیا اور اس نے تمہیں لا محدود نعمتیں عطا کیں۔۔۔ فرمایا کہ کوئی ہستی اس کے مشابہ نہ اس کی برابری کرسکتی ہے اور نہ اس کی ہمسر ہے، چناچہ فرمایا (افمن یخلق) ” پس کیا وہ ہستی جو تمام مخلوقات کو پیدا کرتی ہے “ اور وہ جو ارادہ کرتی ہے اسے کر گزرتی ہے۔ (کمن لایخلق) ” اس ہستی کی مانند ہوسکتی ہے جو (کم یا زیادہ) کچھ بھی پیدا کرنے پر قادر نہیں۔ “ (افلا تذکرون) ” کیا تم (اتنا) نہیں سمجھتے “ کہ تم پہچان سکو کہ وہ ہستی جو تخلیق میں یکتا ہے، وہی ہر قسم کی عبودیت کی مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ جس طرح اپنی تخلق و تدبیر میں یکتا ہے اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →40۔ استکبار یعنی اپنی بڑائی کا زعم اور گھمنڈ باعث ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور ان کی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ متکبرین کو پسند نہیں فرماتا یعنی ان کو جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے یہاں مبغوض ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ چناچہ صاف وصریح طور پر اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اپنی بڑائی کا گھمنڈ رکھنے والوں کو کہ برائی فقط اسی ذات وحدہ لاشریک کو سزا وار ہے جو سب کی خالق ومالک ذات ہے۔ باقی تو سب عاجز مخلوق ہیں۔ وھو الکبیر المتعال، اکبر من کل کبیر جل جلالہ وعز برھانہ۔ سو استکبار یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
غیر اللہ کی حقیقت اور ان کو پوجنے والوں کا انجام
تشریح : پچھلی آیات میں اللہ نے اپنی نعمتوں، برکتوں اور بہترین تخلیق کا تذکرہ کیا ہے۔ اس قدر واضح ثبوت اور نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی کفار کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور وہ جوں کے توں کفر و شرک پر ہی قائم رہتے ہیں۔ بلکہ دوسروں کو بھی گمراہی کا سبق دیتے ہیں اور یہ ان کے لیے دہرے عذاب کا باعث بنے گا۔ کیونکہ ان کا گمراہی کا دیا ہوا سبق جہاں تک دوسرے لوگوں تک پہنچے گا اور پھر اس سے آگے جتنا یہ سبق پھیلتا چلا جائے گا تو ان تمام لوگوں کی گمراہی کا عذاب ان شروع میں سبق دینے والوں کے لیے ہی ہوگا کیونکہ گمراہی کی بنیاد انہوں نے ہی رکھی۔
یہاں یہ بات واضح ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
اتنی بڑی کائنات کا خالق مالک اور پالنے والا جب اکیلا ہے تو وہی تمہارا معبود بھی ہے جو اکیلا عبادت کے لائق ہے ، اور جو لوگ اس کی واحدانیت پر یقین نہیں کرتے ان کے قلوب تباہ ہوچکے ہیں اور انکار کی مصیبت میں مبتلا ہیں کہ ۔
(قلب کی بیماری وصحت)
قلب انسانی کا سب سے مہلک مرض عظمت الہی سے غافل ہو کر دوسروں سے امیدیں وابستہ کرنے میں ہے یعنی شرک اور اس کی صحت مندی کی علامت محبت الہی ہے لہذا جب قلب تباہ ہوتا ہے تو انسان میں تکبر پیدا ہوجاتا ہے جس کا اظہار منکرین کے کردار سے ہو رہا ہے اور بلاشبہ اللہ جل جلالہ سے ان کی کوئی بات چھپی ہوئی نہیں وہ سب جانتا ہے جو یہ ظاہرا کرتے ہیں…
Read the full tafseer →ف 9 وہ یقیناً ذلیل و خوار ہوں گے اور جہنم ان کا ٹھکانا ہوگی۔ تکبر کی مذمت اور تواضح و انکسار کی تعریف میں متعدد احادیث بھی آئی ہیں۔ مثلاً حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : جنت میں وہ شخص داخل نہ ہوگا جس کے دل میں ذرہ بھر بھی تکبر ہے اور آگ میں وہ شخص داخل نہ ہوگا جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہے۔ (مسلم ابودائود)
Read the full tafseer →(16:23) لا جرم۔ بےشک۔ یقینا ۔ ضرور۔ حقا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 25
منکرۃ انکار کرنے والے۔ لا جرم یقینا ، قطعاً ۔ لایحب پسند نہیں کرتا ہے۔ ماذا کیا ؟ (حرف سوال) اساطیر (اسطورۃ) قصے، کہانیاں۔ لیحملوا تاکہ وہ اٹھائیں۔ اوزاراً (وزر) بوجھ۔ ساء برا ہے۔
تشریح : آیت نمبر 22 تا 25
سورۃ النحل کے آغاز سے ہی اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا بیان ہو رہا ہے اس پوری کائنات اور اس کے ذرے ذرے کا پیدا کرنے والا خلاق و رازق صرف اللہ ہی ہے۔ یہاں سے یہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ وہ رب جس نے ہر چیز کو پیدا کیا وہ اپنی ذات میں اس طرح ” واحد “ یعنی ایک ہے جس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ جو لوگ اللہ کی ذات اور صفات میں دوسروں کو شریک کرتے اور ایمان نہیں لاتے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
تکبر کی برائی
اس آیت میں ہے کہ تم لوگوں کا معبود ہی اکیلا خدا ہے جس نے ساری چیزیں دنیا میں پیدا کی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس بات کی خبر دی کہ کفار جو اپنے عقیدے پر جمے ہوئے ہیں اور بتوں کی عبادت نہیں چھوڑتے اس کی وجہ یہ ہے کہ آخرت کے دن کا یقین ان کے دلوں میں نہیں ہے، یہ لوگ آخرت کا انکار کرتے ہیں۔ بیشک ان کے دل حق سے منحرف اور تکبرو غرور میں مبتلا ہیں، عنقریب اس کی سزا پاویں گے۔ پھر فرمایا کہ بیشک عالم الغیب ان کے مکر کو خوب جانتا ہے اور ظاہر و باطن فساد ان کے اچھی طرح دیکھ رہا ہے اس سے کوئی مخفی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے مغرور لوگوں کو پسند نہیں کرتا اس لئے اس نے ایسی بہت سی پہلی امتوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
[14] آیت کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ جن معبودان باطل کی تردید کی جا رہی ہے وہ نہ تو لکڑی یا مٹی کے بت ہیں اور نہ ہی جن و فرشتے۔ کیونکہ بتوں کے معاملے میں مرنے کے بعد زندہ کر کے اٹھائے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ رہے جن و فرشتے تو وہ زندہ ہیں۔ لہذا جن ہستیوں کو حاجت روا سمجھ کر پکارا جاتا ہے وہ لامحالہ گزرے ہوئے انسان ہی ہوسکتے ہیں جیسے انبیاء اولیائے کرام اور بزرگان دین وغیرہ۔ جن کو نہ معلوم کیا کیا قرار دے کر اپنی حاجت روائی کے لئے پکارنا شروع کردیتے ہیں چناچہ مشرکین عرب کے بہت سے معبود گزرے ہوئے انسان ہی تھے۔ بخاری میں سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ ود ' سواع ' یغوث ' یعوق '…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
(ف 1) آخرت کے عقیدہ کو اسلام نے نہایت اہمیت کے ساتھ پیش کیا ہے ، کیونکہ جب تک نظام مکافات پر یقین نہ ہو ، اور جزاء وسزا کو نہ مانتا ہو ، ناممکن ہے کہ اخلاق و عادات کی درستی ہو سکے ، مگر جب آخرت کا ڈر دل سے اٹھ جاتا ہے تو دلوں میں انکار و وتمرد پیدا ہوجاتا ہے ، کیونکہ جب زندگی یہی تک محدود ، قیامت ، حشرنشر ، سب افسانہ ہے ، اگر جوابدہی اور مکافات عمل کا مسئلہ غلط ہے ، اور مرنے کے بعد جی اٹھنا محال ہے تو شرافت اور نیکی کی ضرورت ہے ، ؟
جب ظالم اور مظلوم دونوں کے لئے ابدی فنا ہے ، تو پھر کوئی شخص ظلم سے کیوں باز آئے رحم مروت ، انصاف اور حسن سلوک کی کیا حاجت رہی ، اور انسان کیوں نہ انتہا درجہ کا…
Read the full tafseer →23 ۔ اور یہ بھی یقین بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے جو کچھ یہ لوگ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں اور یہ بھی امر واقعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تکبر اور سرکشی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا یعنی جب وہ ان کے احوال ظاہری اور باطنی سے واقف ہے تو وہ ان کے تکبر اور ان کے متکبرانہ طرز عمل کو بھی جانتا ہے اس لئے ان کو پسند نہیں کرتا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
ف 3۔ خواہ داما جیسے بت یا فی الحال جیسے جو مرچکے یا فی المآل جیسے جو مریں گے مثلا فرشتے اور جن اور عیسیٰ علیہ السلام۔
4۔ یعنی بعض کو علم ہی نہیں، اور بعض کو تعیین معلوم نہیں، اور معبود کو تو علم محیط چاہئے خصوصا بعث کا کہ اس پر جزا ہوگی عبادت وعدم عبادت کی، تو اس کا علم تو معبود کے لئے بہت ہی مناسب ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ہر چھپی چیز اور مخفی چیز کو خوب جانتا ہے اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں :
28۔ (لاجرم) کا لفظ قرآن کریم میں پانچ بار بیان ہوا ہے ، سورة ہود کی آیت 22 میں اور اسی سورت النحل کی آیت 23 ‘ 62 اور 109 میں ایک بار سورة ال مومن کی آیت 43 میں ، اور ہر بار شرک کے رد ہی میں اس کا بیان ہوا ، نادانو ! تم کس سے چھپ رہے ہو اور کس سے اپنے دلوں کے نفاق اور اسلام دشمنی کو چھپا رہے ہو اس ذات پاک سے جو ہمہ داں اور ہمہ بیں ہے جو تمہارے ظاہر کو بھی جانتا ہے اور تمہارے باطن سے بھی واقف ہے جو تمہارے ان اعمال کو بھی دیکھ رہا ہے جو تم چھپا کر کرتے ہو اور ان کو بھی جن کا تم برملا ارتکاب کرتے ہو وہ تو وہ ذات ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
Commentary
Verses appearing immediately earlier described the many blessings of Allah Ta` ala in details, proved that He alone is their Creator and established that He is unique in this matter. Now, in the present verses, there comes an admonition against the failure of people to recognize that there is a fact behind the statement describing all these blessings - and that is Tauhid, the Oneness of Allah Ta’ ala, except whom there is none worthy of worship. Therefore, it was said: When it stands proved that Allah alone made the heavens and the earth, made the mountains and rivers, vegetation…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
20. That is, those who do not believe in the life in the Hereafter, have become so irresponsible, carefree and intoxicated with the life of this world, that they feel no hesitation or pang in denying any reality, and they put no value on or attach no worth to truth. That is why, they are not prepared to impose any moral restraint on themselves and feel no need to investigate as to whether the way, they are following is right or wrong.
Read the full tafseer →