An-Nahl 16:22

An-Nahl · from ayah 22

16:22

اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ— فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّهُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ ۟اِلٰهُكُمۡ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ‌‌ ۚ فَالَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ قُلُوۡبُهُمۡ مُّنۡكِرَةٌ وَّهُمۡ مُّسۡتَكۡبِرُوۡنَ

تمہارا معبود تو اکیلا خدا ہے۔ تو جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور وہ سرکش ہو رہے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Your god is one God. But those who do not believe in the Hereafter - their hearts are disapproving, and they are arrogant.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 3 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:22

تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے اُن کے دلوں میں انکار بس کر رہ گیا ہے اور وہ گھمنڈ میں پڑ گئے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تمہارا معبود تو اکیلا خدا ہے۔ تو جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور وہ سرکش ہو رہے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم سب کا معبود صرف اللہ تعالیٰ اکیلا ہے اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل منکر ہیں اور وه خود تکبر سے بھرے ہوئے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

تمہارا معبود تو بس ایک ہی خدا ہے۔ لہذا جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ان کے دل میں انکار پیوست ہوگیا ہے، اور وہ گھمنڈ میں مبتلا ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تمہارا معبوثد ایک معبود ہے تو وہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل منکر ہیں اور وہ مغرور ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تمہارا معبود، معبودِ یکتا ہے، پس جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منکر ہیں اور وہ سرکش و متکبّر ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، پس وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کرنے والے ہیں اور وہ بہت تکبر کرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تمہارا الٰہ بس ایک ہی ہے پھر جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے، انکار ان کے دلوں میں رچ بس گیا ہے اور اکڑ بیٹھے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ پر جو لوگ آخر پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منکر ہیں اور وہ گھمنڈ میں ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(پس ثابت ہوا کہ) معبود تم سب کا ایک ہی معبود ہے، مگر جو لوگ ایمان نہیں رکھتے آخرت پر، ان کے دل اڑے ہوئے ہیں (حق و صداقت کے) انکار پر، اور وہ مبتلا ہیں اپنی (جھوٹی) بڑائی کے گھمنڈ میں،

— مولانا اسحاق مدنی

تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے البتہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل منکر ہورہے ہیں اور وہ تکبر کررہے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے تو وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منکر ہیں اور وہ تکبر کرتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تمہارا معبود تو اکیلا ہے تو جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور وہ سرکش ہو رہے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Your God is the One God. But the hearts of those who do not believe in the Hereafter are steeped in rejection of the Truth, and they are given to arrogance.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Your God is One God. As for those who do not believe in the Hereafter, their hearts are defiant and they are arrogant.

— Muhammad Taqi Usmani

Your God is One God. As for those who do not believe in the Hereafter, their hearts are defiant and they are arrogant.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Your god is one God. But for those who believe not in the Hereafter, their hearts are in denial, and they are proud.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Your Allah is One Allah. But as for those who believe not in the Hereafter their hearts refuse to know, for they are proud.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Your god is one God. But those who do not believe in the Hereafter - their hearts are disapproving, and they are arrogant.

— Saheeh International

Your Lord is only One. The hearts of those who do not believe in the life hereafter dislike (the truth). They are puffed up with pride.

— Muhammad Sarwar

Your Allah is one Allah; so (as for) those who do not believe in the hereafter, their hearts are ignorant and they are proud.

— Muhammad Habib Shakir

God of you all is One God; so those who believe not in the Hereafter-their hearts are perverse and they are stiff-necked.

— Abdul Majid Daryabadi

Your Allah is one Allah: as to those who believe not in the Hereafter, their hearts refuse to know, and they are arrogant.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 22–23

اللہ ہی معبود برحق ہے، اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، وہ واحد ہے، احد ہے، فرد ہے، صمد ہے۔ کافروں کے دل بھلی بات سے انکار کرتے ہیں وہ اس حق کلمے کو سن کر سخت حیرت زدہ ہوجاتے ہیں۔ اللہ واحد کا ذکر سن کر ان کے دل مرجھا جاتے ہیں۔ ہاں اوروں کا ذکر ہو تو کھل جاتے ہیں یہ اللہ کی عبادت سے مغرور ہیں۔ نہ ان کے دل میں ایمان نہ عبادت کے عادی۔ ایسے لوگ ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے۔ یقینا اللہ تعالیٰ ہر چھپے کھلے کا عالم ہے ہر عمل پر جزا اور سزا دے گا وہ مغرور لوگوں سے بیزار ہے۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّحْل 20 یعنی آخرت کے انکار نے ان کو اس قدر غیر ذمہ دار، بےفکر، اور دنیا کی زندگی میں مست بنادیا ہے کہ اب انہیں کسی حقیقت کا انکار کردینے میں باک نہیں رہا، کسی صداقت کی ان کے دل میں قدر باقی نہیں رہی، کسی اخلاقی بندش کو اپنے نفس پر برداشت کرنے کے لیے وہ تیار نہیں رہے، اور انہیں یہ تحقیق کرنے کے پروا ہی نہیں رہی کہ جس طریقے پر وہ چل رہے ہیں وہ حق ہے بھی یا نہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–23

خلاصہ تفسیر سو (جب اللہ تعالیٰ کا خالق اشیاء مذکورہ ہونا اور اس میں اس کا منفرد ہونا ثابت ہوچکا تو) کیا جو شخص پیدا کرتا ہو (یعنی اللہ تعالیٰ) وہ اس جیسا ہوجاوے گا جو پیدا نہیں کرسکتا (کہ تو دونوں کو معبود سمجھنے لگے تو اس میں اللہ تعالیٰ کی اہانت ہے اس کو بتوں کے برابر کردیا) پھر کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے اور (اللہ تعالیٰ نے جو اوپر دلائل توحید میں اپنی نعمتیں بتلائی ہیں ان پر کیا حصر ہے وہ تو اس کثرت سے ہیں کہ) اگر تم اللہ تعالیٰ کی (ان) نعمتوں کو گننے لگو تو (کبھی) نہ گن سکو (مگر مشرکین شکر اور قدر نہیں کرتے اور یہ جرم اتنا عظیم تھا کہ نہ معاف کرانے سے معاف ہوتا اور نہ اصرار پر آگے کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اِلٰـهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ فَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّهُمْ مُّسْـتَكْبِرُوْنَ۔ منکرین کے انکار کی اصل علت غرور ہے : یعنی یہ امر تو ایک حقیقت ثابتہ ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے لیکن جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل اس کو ناگوار سمجھتے ہیں اور وہ گھمنڈ میں پڑے ہوئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اصل حقیقت ان لوگوں سے مخفی نہیں ہے لیکن چونکہ آخرت پر ان لوگوں کا ایمان نہیں ہے اس وجہ سے یہ بےخوف ہیں اور یہ اس امر میں ہتک محسوس کررہے ہیں کہ جن چیزوں کو وہ آباء و اجداد کے زمانے سے پوجتے آ رہے ہیں ان کو ایک شخص کے کہنے پر چھوڑ دیں۔ گویا سوال ایک شے کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

22۔ 1 یعنی ایک اللہ کا ماننا منکرین اور مشرکین کے لئے بہت مشکل ہے وہ کہتے ہیں ' اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود کردیا یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے ' دوسرے مقام پر فرمایا جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو منکرین آخرت کے دل تنگ ہوجاتے ہیں اور جب اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کا ذکر آجاتا ہے تو خوش ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 21–22

12: اس سے وہ بت مراد ہیں جن کی وہ پوجا کرتے تھے۔ فرمایا گیا ہے کہ وہ کسی کو پیدا تو کیا کرتے ؟ خود پیدا کیے گئے ہیں اور نہ ان میں جان ہے نہ انہیں یہ احساس ہے کہ ان کے پجاریوں کو مرنے کے بعد کب زندہ کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 22–23

درس نمبر 120 ایک نظر میں درس سابق میں ہمیں بتایا گیا کہ خالق کائنات کی اس عظیم مخلوق میں بیشمار آیات و نشانات موجود ہیں۔ اس عظیم تخلیق میں حضرت انسان کے فائدے ہی فائدے ہیں اور یہ کہ خالق حقیقی انسان کے ظاہر و باطن کا علم رکھتا ہے ۔ جبکہ جن ہستیوں اور اشیاء کو تم الٰہ سمجھتے ہو ، ان کی کوئی تخلیق نہیں ہے۔ وہ خود مخلوق ہیں ، وہ کسی چیز کا علم و شعور نہیں رکھتے ، بلکہ وہ مردہ ہیں اور ان کو اب اس جہان میں زندگی حاصل نہیں ہو سکتی ، یا وہ حیات کے قابل ہی نہیں ہیں۔ نیز ان ہستیوں کو اس قدر بھی معلوم نہیں ہے کہ سزاء و جزاء و جزاء کے لئے ان کو کب اٹھایا جائے گا۔ یہ تمام دلائل قطعاً اس بات کو ثابت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی جو دلائل و شواہد اوپر بیان ہوئے ایسے صاف اور واضح ہیں جس میں ادنیٰ غور کرنے سے انسان توحید کا یقین کرسکتا ہے لیکن غور و طلب تو وہ کرے جسے اپنی عاقبت کی فکر اور انجام کا ڈر ہو۔ جن کو بعد الموت کا یقین ہی نہیں نہ انجام کی طرف دھیان ہے وہ دلائل پر کب کان دھرتے اور ایمان و کفر کے نیک و بدانجام کی طرف کب التفات کرتے ہیں۔ پھر دلوں میں توحید کا اقرار اور پیغمبر کے سامنے تواضع سے گردن جھکانے کا خیال آئے تو کہاں سے آئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 22–23

فَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّهُمْ مُّسْـتَكْبِرُوْنَ اس نکتے کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں آخرت کا یقین نہیں ہے وہ حق بات کو قبول کرنے سے کیوں جھجکتے ہیں اور ان کے اندر استکبار کیوں پیدا ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کا فلسفہ یہ ہے کہ جو شخص فطرت سلیمہ کا مالک ہے اس کے اندر اچھائی اور برائی کی تمیز موجود ہوتی ہے۔ اس کا دل اس حقیقت کا قائل ہوتا ہے کہ اچھائی کا اچھا بدلہ ملنا چاہیے اور برائی کا برا ع ”گندم از گندم بروید ‘ جو زجو !“ یہی فلسفہ یا تصور منطقی طور پر ایمان بالآخرت کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ مگر دنیا میں جب پوری طرح نیکی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 22–23

23 آخرت کا انکار تکبر ہے :۔ تکبر اس لحاظ سے ہے کہ یوم جزاء و سزا کے قائم ہونے سے انکار دراصل اللہ تعالیٰ کی دو صفات کا انکار ہے۔ ایک اللہ کا عادل ہونا دوسرے قادر مطلق ہونا اور جو شخص اتنے واضح اور فطری دلائل کو دیکھتے ہوئے بھی اللہ کی قدرت مطلقہ سے انکار کرتا ہے تو اس سے بڑھ کر اور اکڑ باز کون ہوسکتا ہے ؟ جبکہ رسول اللہ نے تکبر کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ تکبر یہ ہے کہ حق بات کو ٹھکرا دیا جائے اور دوسروں کو حقیر سمجھا جائے۔ (مسلم، کتاب الایمان۔ باب تحریم الکبر و بیانہ)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

31۔ (قبول حق سے) (آیت) ” الھکم الہ واحد “۔ خطاب ساری نسل انسانی سے ہے، سب کو بتایا ہے کہ حق تعالیٰ لاثانی اور لاشریک لہ ہے۔ یعنی حق کے اتنے وضوح کے بعد بھی ایمان نہیں لاتے۔ (آیت) ” قلوبھم منکرۃ “۔ یعنی ان کے قلب ایسے نکارہ اور فاسد ہوچکے ہیں کہ وہ ہر معقول بات سے انکار ہی پر تلے ہوئے ہیں، ان کے دلوں میں نہ حق کی طلب و تلاش ہے، اور نہ کوئی فکر عاقبت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–25

آیت نمبر 22 تا 25 ترجمہ : تمہاری عبادت کا مستحق تو صرف ایک معبود ہے، ذات وصفات میں اس کی کوئی نظیر نہیں، اور وہ اللہ تعالیٰ ہے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے قلوب وحدانیت کے منکر ہیں اور وہ وحدانیت پر ایمان لانے سے تکبر کرنے والے ہیں یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر اس بات کو جانتا ہے جس کو وہ چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں، لہٰذا وہ اس کی جزاء ان کو دے گا، وہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا بایں معنی کہ ان کو سزا دے گا، اور نضر بن الحارث کے بارے میں (آئندہ) آیت نازل ہوئی، اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے محمد ﷺ پر کیا نازل کیا ؟ (ما) استفہامیہ اور (ذا) موصولہ ہے تو لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الھکم الہ واحد تمہارا معبود ‘ ایک معبود ہے۔ یعنی دلائل سے ثابت ہوگیا کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے ‘ اس کا کوئی شریک نہیں۔ فالذین لا یومنون بالاخرۃ قلوبھم منکرۃ پس جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ‘ ان کے دل (ا اللہ کی ان گنت نعمتوں کا) انکار کرتے ہیں باوجودیکہ خداداد نعمتیں بالکل ظاہر ہیں۔ بات یہ ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں کو نور معرفت سے محروم کردیا ہے ‘ اسی کی وجہ سے وہ کور بصیرت اور نابینا ہوگئے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو نے فرمایا : میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا کہ اللہ نے مخلوق کو تاریکی (کثیف مادیت اور حیوانی جہالت) میں پیدا کیا ‘ پھر ان پر اپنا نور (یعنی اس کا ایک چھینٹا) ڈال دیا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(22) اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہارا سچا معبود ایک ہی ہے یہ بت وغیرہ نعوذ باللہ تمہارے معبود نہیں جو لوگ مرنے کے بعد زندگی پر ایمان نہیں لاتے، ان کے دل ہی توحید سے منکر ہورہے ہیں اور وہ ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِلٰـهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ۔۔ : گزشتہ تمام دلائل اور احسانات بیان کرنے کے بعد ان کا نتیجہ اور خلاصہ بیان فرمایا کہ تمہارا معبود جس کی عبادت حق ہے، وہ ایک ہی ہے۔ ”وَّاحِدٌ“ کا مطلب ہے کہ وہ ایک ہے، کوئی اس کا ثانی یا شریک نہیں، نہ ذات میں نہ صفات میں۔ آگے وہ اسباب بیان کیے جو انسان کو توحید سے پھسلا کر شرک کی طرف لے جاتے ہیں، یہ اسباب درج ذیل ہیں : 1 ان میں سے پہلا سبب آخرت پر ایمان نہ ہونا ہے۔ آیت میں مشرکین ہی کو ”فَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ“ فرمایا ہے، اگر یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زندہ کرکے باز پرس کرنی ہے اور وہاں جزا و سزا صرف اس کے ہاتھ میں ہوگی، کسی دوسرے کا دخل نہ ہوگا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 22–23

آیت نمبر 22 تا 23 قولہ تعالیٰ : الھکم الہ واحد جب یہ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا محال ہے تو اب یہ بیان کیا کہ معبود واحد و یکتا ہے اس کے سوا کوئی رب نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی معبود ہے۔ فالذین لا یؤمنون بالاخرۃ قلوبھم منکرۃ یعنی ان کے دل نہ کوئی وعظ و نصیحت قبول کرتے ہیں اور نہ ان میں ذکر اثر انداز ہوتا ہے، یہ قدریہ کا رد ہے۔ وھم مستکبرون یعنی وہ حق قبول کرنے سے تکبر اور غرور کرنے والے ہیں۔ استکبار کا معنی سورة البقرۃ میں گزر چکا ہے۔ لاجرم ان اللہ یعلم ما یسرون وما یعلنون یعنی اللہ تعالیٰ جانتا ہے ہر وہ قول و عمل جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں پس وہ انہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–23

1:۔ عبد ابن حمید ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ کے طریق سے حسن بصری (رح) سے انہوں نے قیس بن عباد (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا فرمایا تو وہ حرکت کرنے لگی فرشتے کہنے لگی یہ تو اپنی پشت پر کسی کو قرار نہیں پکڑنے دے گی لیکن یونہی صبح ہوئی زمین کے اندر پہاڑ گاڑ دیئے گئے اور فرشتوں کو معلوم بھی نہ ہوا کہ کہاں سے پیدا ہوگئے کہنے لگے اے ہمارے رب کیا تیری مخلوق میں کوئی ایسی چیز بھی ہے جو ان سے زیادہ سخت ہو اللہ نے فرمایا ہاں لوہا ہے پھر فرشتوں نے عرض کیا لوہے سے بھی سخت کوئی چیز اور مخلوق ہے فرمایا ہاں آگ ہے فرشتوں نے عرض کیا اے ہمارے رب کیا آگ سے بھی زیادہ سخت کوئی اور چیز…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِلٰـهُكُمْ؛تم لوگوں کا الٰہ ] [ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ : واحد الٰہ ہے ] [فَالَّذِينَ : پس وہ لوگ جو ] [ لَا يُؤْمِنُوْنَ؛ایمان نہیں رکھتے ] [ بِالْاٰخِرَةِ : آخرت پر ] [ قُلُوْبُهُمْ : ان کے دل ] [ مُّنْكِرَةٌ: انکار کرنے والے ہیں ] [ وَّهُمْ : اور وہ لوگ ] [ مُّسْـتَكْبِرُوْنَ : بڑائی چاہنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

تمہارا معبود ایک ہی ہے وہ ظاہر اور پوشیدہ سب کو جانتا ہے گمراہ کرنے والے دوسرے کے بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہوں گے مشرکین کی تردید اور ان کے معبودان باطلہ کی حالت بیان فرمانے کے بعد (کہ وہ مخلوق ہیں بےجان ہیں بےعلم ہیں) معبود حقیقی یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت بیان فرمائی اور فرمایا (اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ) (کہ تمہارا معبود حقیقی ایک ہی ہے) صرف اسی کو معبود مانو، اس کے بعد آخرت کے منکرین کے بارے میں فرمایا کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل اس کے ماننے سے انکاری ہیں اور وہ تکبر کرنے والے ہیں، یہ تکبر انہیں حق قبول کرنے سے روکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–23

ذکر دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ : خلق السموت والارض بالحق .... الیٰ .... انہ لایحب المستکبرین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اللہ کی معرفت اور اس کی وحدانیت کا علم سب سے اول اور مقدم اور اہم ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) اس کی تعلیم دیتے رہے۔ وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ اور توحید کے بعد درجہ تقویٰ کا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تمام اولین اور آخرین کو وصیت فرمائی ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ اس لیے اب آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت و حکمت کے قسم قسم کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور کمال قدرت کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 22–23

19:۔ یہ اصل دعوی کا اعادہ ہے اور پہلے دونوں ثمروں پر متفرع ہے یعنی جب ثابت ہوگیا کہ ساری کائنات کا خالق اور سب کچھ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے تو اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ تم سب کا معبود برحق اور کارساز صرف ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور دعاء اور پکار کے لائق بھی صرف وہی ہے۔ (اِلٰھُکُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ) لا یشار کہ شیء فی شیء وھو تصریح بالمدعی و تمحیض للنتیجۃ عقب اقامۃ الحجۃ (ابو السعود ج 5 ص 448) ۔ 20:۔ ” فَالَّذِیْنَ لَایُوْمِنُوْنَ “ تا ” اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَکْبِرِیْنَ “ زجر مع تخویف اخروی۔ جو لوگ مسئلہ توحید کو نہیں مانتے اور سرکشی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 22–25

(ربط آیات) ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی بعثت اور وحی الہی کے نزول کا ذکر فرمایا ، اس کے بعد اپنے انعامات اور نشانات قدرت کا ذکر کای جو اس کی وحدانیت کی دلیل بنتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرک لوگ جن ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں وہ تو کوئی چیز پیدا کرنے پر قادر نہیں ، بلکہ پیدا شدہ ہیں ۔ اللہ نے ان کو اموات کے لفظ سے تعبیر کیا ، کہ یا تو وہ مٹی اور پتھر کے بےجان بت ہیں ، یا فی الحال وفات پاچکے ہیں ، اور یا بہرحال مرنے والے ہیں ، ان میں سے کوئی بھی باقی رہنے والا نہیں ، ان کی اپنی زندگی بھی ذاتی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی عطا کردہ ہے تو جو ہستی خود اپنی ذات کی مالک نہیں وہ معبود…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِلٰـهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ فَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّهُمْ مُّسْـتَكْبِرُوْنَ 22؀ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 22–23

رب تعالیٰ صرف ایک ہے۔ اس لیے فرمایا الہکم الہ واحد کہ تمہارا خدا صرف ایک ہی خدا ہے۔ مخالفین ان دلائلِ توحید سے بند ہوجاتے تھے اور دل میں بھی سمجھتے تھے مگر قوم کی رسم و عادت سے ان کی پرستش نہیں چھوڑتے تھے، دل میں توحید نہیں سماتی تھی اور نہ ان کا تکبر پیغمبر (علیہ السلام) کی پیروی کی اجازت دیتا تھا اس بات کو فالذین سے لے کر لایحب المتکبرین تک بیان فرماتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِلٰـھُکُمْ اِلٰـہٌ وَّاحِدٌ ج فَالَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ قُلُوْبُھُمْ مُّنْکِرَۃٌ وَّ ھُمْ مُّسْتَکْبِرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 22) (تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے، پر جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منکر ہیں اور وہ مغرور ہیں۔ ) منکرین کے انکار کا سبب غرور ہے قرآن کریم نے گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت پر متعدد دلائل ذکر کرنے کے بعدآخری فیصلہ کن بات فرمائی ہے کہ انسانو ! تم اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے مظاہر دیکھ چکے ہو۔ تم اس کے بےپناہ علم کی وسعتوں کا نظارہ کرچکے۔ زمین و آسمان میں اس کی لامحدود حاکمیت کا نفاذ بھی دیکھ چکے، کائنات کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی تمام…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 22–23

فہم القرآن ربط کلام : دلائل کے ساتھ باطل معبودوں کی نفی کرتے ہوئے اللہ کا ایک الٰہ ہونا ثابت کیا گیا ہے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی نام اللہ اور الٰہ ہے۔ لفظ الٰہ اور اللہ میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ الٰہ اللہ تعالیٰ کا نام ہونے کے ساتھ اس کی صفت کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ اگر الٰہ کو صرف صفت کے معنیٰ میں لیا جائے تو یہ ایسا لفظ اور نام ہے جو اللہ تعالیٰ کی تمام بڑی بڑی صفات کا ترجمان ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ کی مختلف صفات کا معنی لفظ الٰہ کے ذریعے ادا کیا گیا ہے۔ چناچہ یہاں پہلی آیات میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ جو لوگ آخرت پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

معبودِ حقیقی ان کی مخفی حالت سے واقف ہے وہ کفار و متکبرین کو پسند نہیں کرتا : 22: اِلٰـھُکُمْ اِلٰہٌوَّاحِدٌ (تمہارا معبود ایک ہی ہے) گذشتہ آیات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ الوھیت غیر اللہ کے لائق و مناسب ہی نہیں اور تمہارا معبود حقیقی ایک ہی ہے۔ فَالَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ قُلُوْبُھُمْ مُّنْکِرَۃٌ (پس وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکاری ہیں) اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے۔ وَّھُمْ مُّسْتَکْبِرُوْنَ (وہ تکبر کرتے ہیں) عبادت سے اور اس کی وحدانیت کے اقرار سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(22)” الھکم الہ واحد فالذین لا یومنون بالاخرۃ قلوبھم منکرۃ “ اس کا معنی ہے ” جاحدۃ “ انکار کرنا۔ ” وھم مستکبرون “ اور وہ قبول حق سے تکبر کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 22–23

22۔ 23۔ اللہ پاک نے اس سے پہلے کی آیتوں میں بتوں کے معبود ہونے میں طرح طرح کی خرابی بیان فرما کر اب یہ فرمایا کہ تم لوگوں کا معبود وہی اکیلا خدا ہے جس نے ساری چیزیں دنیا میں پیدا کی ہیں دنیا میں تو چاہے تو لوگ جس کو معبود ٹھہرا لو مگر آخرت میں کوئی جھوٹا معبود نظر نہیں آئے گا اکیلا خدا ہی خدا ہوگا اور سارے جہان کا حساب و کتاب اسی کے ہاتھ میں ہوگا پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس بات کی خبر دی کہ کفار جو اپنے عقیدہ پر جمے ہوئے ہیں اور بتوں کی عبادت نہیں چھوڑتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ آخرت کے دن کا یقین ان کے دلوں میں نہیں ہے آخرت کا یہ لوگ انکار کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ قیامت وغیرہ کچھ بھی نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–23

آیت 17 اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو تخلیق کیا اور اس نے تمہیں لا محدود نعمتیں عطا کیں۔۔۔ فرمایا کہ کوئی ہستی اس کے مشابہ نہ اس کی برابری کرسکتی ہے اور نہ اس کی ہمسر ہے، چناچہ فرمایا (افمن یخلق) ” پس کیا وہ ہستی جو تمام مخلوقات کو پیدا کرتی ہے “ اور وہ جو ارادہ کرتی ہے اسے کر گزرتی ہے۔ (کمن لایخلق) ” اس ہستی کی مانند ہوسکتی ہے جو (کم یا زیادہ) کچھ بھی پیدا کرنے پر قادر نہیں۔ “ (افلا تذکرون) ” کیا تم (اتنا) نہیں سمجھتے “ کہ تم پہچان سکو کہ وہ ہستی جو تخلیق میں یکتا ہے، وہی ہر قسم کی عبودیت کی مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ جس طرح اپنی تخلق و تدبیر میں یکتا ہے اسی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 14–65

زیور کے بارے میں حکم قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 21–22

39۔ معبودان من دون اللہ کی بےعلمی اور بیخبر ی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو کچھ خبر نہیں کہ ان کو کب اٹھایا جائے گا۔ نہ ان کو خود اپنے بارے میں کوئی علم ہے اور نہ دوسروں کے بارے میں کی ان کو کب دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اگرچہ عام طور پر اس ارشاد ربانی کو بتوں پر محمول کیا جاتا ہے لیکن لفظ (یبعثون) جو کہ " بعث " سے ماخوذ ہے اس کا مفہوم متبادر اس کے خلاف ہے۔ کیونکہ " بعث " کے معنی دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جانے کے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ یہ معنی اس ارشاد کو لکڑی پتھر کے بےجان اور بےحس بتوں پر محمول کرنے سے اباء کرتا ہے۔ کیونکہ بتوں کے اندر پہلے کوئی زندگی تھی ہی نہیں کہ ان کے دوبارہ زندہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 20–26

غیر اللہ کی حقیقت اور ان کو پوجنے والوں کا انجام تشریح : پچھلی آیات میں اللہ نے اپنی نعمتوں، برکتوں اور بہترین تخلیق کا تذکرہ کیا ہے۔ اس قدر واضح ثبوت اور نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی کفار کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور وہ جوں کے توں کفر و شرک پر ہی قائم رہتے ہیں۔ بلکہ دوسروں کو بھی گمراہی کا سبق دیتے ہیں اور یہ ان کے لیے دہرے عذاب کا باعث بنے گا۔ کیونکہ ان کا گمراہی کا دیا ہوا سبق جہاں تک دوسرے لوگوں تک پہنچے گا اور پھر اس سے آگے جتنا یہ سبق پھیلتا چلا جائے گا تو ان تمام لوگوں کی گمراہی کا عذاب ان شروع میں سبق دینے والوں کے لیے ہی ہوگا کیونکہ گمراہی کی بنیاد انہوں نے ہی رکھی۔ یہاں یہ بات واضح ہے کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–25

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف اتنی بڑی کائنات کا خالق مالک اور پالنے والا جب اکیلا ہے تو وہی تمہارا معبود بھی ہے جو اکیلا عبادت کے لائق ہے ، اور جو لوگ اس کی واحدانیت پر یقین نہیں کرتے ان کے قلوب تباہ ہوچکے ہیں اور انکار کی مصیبت میں مبتلا ہیں کہ ۔ (قلب کی بیماری وصحت) قلب انسانی کا سب سے مہلک مرض عظمت الہی سے غافل ہو کر دوسروں سے امیدیں وابستہ کرنے میں ہے یعنی شرک اور اس کی صحت مندی کی علامت محبت الہی ہے لہذا جب قلب تباہ ہوتا ہے تو انسان میں تکبر پیدا ہوجاتا ہے جس کا اظہار منکرین کے کردار سے ہو رہا ہے اور بلاشبہ اللہ جل جلالہ سے ان کی کوئی بات چھپی ہوئی نہیں وہ سب جانتا ہے جو یہ ظاہرا کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 اس غرور میں آ کر نہ وہ اللہ کو مانتے ہیں اور نہ رسول کو یہ ان کے انکار آخرت کا لازمی نتیجہ ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:22) منکرۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث۔ انکار مصدر منکر واحد مذکر۔ یہاں بمعنی جمع آیا ہے۔ انکار کرنے والے۔ مستکبرون۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ مستکبر واحد استکبار (استفعال) سے مصدر۔ اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والے۔ مغرور۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 22–25

لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 25 منکرۃ انکار کرنے والے۔ لا جرم یقینا ، قطعاً ۔ لایحب پسند نہیں کرتا ہے۔ ماذا کیا ؟ (حرف سوال) اساطیر (اسطورۃ) قصے، کہانیاں۔ لیحملوا تاکہ وہ اٹھائیں۔ اوزاراً (وزر) بوجھ۔ ساء برا ہے۔ تشریح : آیت نمبر 22 تا 25 سورۃ النحل کے آغاز سے ہی اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا بیان ہو رہا ہے اس پوری کائنات اور اس کے ذرے ذرے کا پیدا کرنے والا خلاق و رازق صرف اللہ ہی ہے۔ یہاں سے یہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ وہ رب جس نے ہر چیز کو پیدا کیا وہ اپنی ذات میں اس طرح ” واحد “ یعنی ایک ہے جس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ جو لوگ اللہ کی ذات اور صفات میں دوسروں کو شریک کرتے اور ایمان نہیں لاتے وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–23

تکبر کی برائی اس آیت میں ہے کہ تم لوگوں کا معبود ہی اکیلا خدا ہے جس نے ساری چیزیں دنیا میں پیدا کی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس بات کی خبر دی کہ کفار جو اپنے عقیدے پر جمے ہوئے ہیں اور بتوں کی عبادت نہیں چھوڑتے اس کی وجہ یہ ہے کہ آخرت کے دن کا یقین ان کے دلوں میں نہیں ہے، یہ لوگ آخرت کا انکار کرتے ہیں۔ بیشک ان کے دل حق سے منحرف اور تکبرو غرور میں مبتلا ہیں، عنقریب اس کی سزا پاویں گے۔ پھر فرمایا کہ بیشک عالم الغیب ان کے مکر کو خوب جانتا ہے اور ظاہر و باطن فساد ان کے اچھی طرح دیکھ رہا ہے اس سے کوئی مخفی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے مغرور لوگوں کو پسند نہیں کرتا اس لئے اس نے ایسی بہت سی پہلی امتوں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–23

[14] آیت کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ جن معبودان باطل کی تردید کی جا رہی ہے وہ نہ تو لکڑی یا مٹی کے بت ہیں اور نہ ہی جن و فرشتے۔ کیونکہ بتوں کے معاملے میں مرنے کے بعد زندہ کر کے اٹھائے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ رہے جن و فرشتے تو وہ زندہ ہیں۔ لہذا جن ہستیوں کو حاجت روا سمجھ کر پکارا جاتا ہے وہ لامحالہ گزرے ہوئے انسان ہی ہوسکتے ہیں جیسے انبیاء اولیائے کرام اور بزرگان دین وغیرہ۔ جن کو نہ معلوم کیا کیا قرار دے کر اپنی حاجت روائی کے لئے پکارنا شروع کردیتے ہیں چناچہ مشرکین عرب کے بہت سے معبود گزرے ہوئے انسان ہی تھے۔ بخاری میں سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ ود ' سواع ' یغوث ' یعوق '…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–25

(ف 1) آخرت کے عقیدہ کو اسلام نے نہایت اہمیت کے ساتھ پیش کیا ہے ، کیونکہ جب تک نظام مکافات پر یقین نہ ہو ، اور جزاء وسزا کو نہ مانتا ہو ، ناممکن ہے کہ اخلاق و عادات کی درستی ہو سکے ، مگر جب آخرت کا ڈر دل سے اٹھ جاتا ہے تو دلوں میں انکار و وتمرد پیدا ہوجاتا ہے ، کیونکہ جب زندگی یہی تک محدود ، قیامت ، حشرنشر ، سب افسانہ ہے ، اگر جوابدہی اور مکافات عمل کا مسئلہ غلط ہے ، اور مرنے کے بعد جی اٹھنا محال ہے تو شرافت اور نیکی کی ضرورت ہے ، ؟ جب ظالم اور مظلوم دونوں کے لئے ابدی فنا ہے ، تو پھر کوئی شخص ظلم سے کیوں باز آئے رحم مروت ، انصاف اور حسن سلوک کی کیا حاجت رہی ، اور انسان کیوں نہ انتہا درجہ کا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

22 ۔ ان سب دلائل مذکورہ سے یہ ثابت ہوا کہ تمہارا معبود برحق تو ایک ہی ہے وہی یکتا اور یگانہ ہے پھر حق واضح ہوجانے پر بھی جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور اعتقاد نہیں رکھتے ان کے دل منکر ہو رہے ہیں اور وہ لوگ بڑے سرکش ہیں ۔ یعنی اتنی وضاحت کے بعد بھی ان کے دل ایسے ناکارہ ہیں کہ ایک حق بات کا انکار کرتے چلے جاتے ہیں اور یہ بات بھی ظاہر ہوگئی کہ یہ لوگ بڑے متکبر اور سرکش ہونے کی وجہ سے حق کے مقابلے میں سرکشی کا اظہار کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–23

ف 3۔ خواہ داما جیسے بت یا فی الحال جیسے جو مرچکے یا فی المآل جیسے جو مریں گے مثلا فرشتے اور جن اور عیسیٰ علیہ السلام۔ 4۔ یعنی بعض کو علم ہی نہیں، اور بعض کو تعیین معلوم نہیں، اور معبود کو تو علم محیط چاہئے خصوصا بعث کا کہ اس پر جزا ہوگی عبادت وعدم عبادت کی، تو اس کا علم تو معبود کے لئے بہت ہی مناسب ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

معبود تو ایک ہی معبود ہے جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ گھمنڈ میں مبتلا ہیں : 27۔ زیر نظر آیت کا خطاب ساری نسل انسانی سے ہے اور سب کو بتایا ہے کہ حق تعالیٰ لاثانی اور لا شریک لہ ہے اور لوگ حق کے اتنے وضوع کے بعد ایمان نہیں لاتے ، گویا دلائل توحید کے ذکر کرنے کے بعد اصل مقصد کا اعلان فرمادیا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ ہے جو تمہارا خدا اور معبود ہے جس کی قدرت جس کی ربوبیت ‘ جس کی ہمہ دانی اور عہد بینی کے متعدد شواہد تم دیکھ چکے ہو اور اس کے علاوہ زمین و آسمان میں کوئی ایسی چیز نہیں جو تمہاری معبود بن سکے اسے مسجود ملائکہ ! اے مخدوم مہروماہ ! تجھے کیا ہوگیا کہ تو اپنے محسن ومنعم حقیقی کا بندہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–23

Commentary Verses appearing immediately earlier described the many blessings of Allah Ta` ala in details, proved that He alone is their Creator and established that He is unique in this matter. Now, in the present verses, there comes an admonition against the failure of people to recognize that there is a fact behind the statement describing all these blessings - and that is Tauhid, the Oneness of Allah Ta’ ala, except whom there is none worthy of worship. Therefore, it was said: When it stands proved that Allah alone made the heavens and the earth, made the mountains and rivers, vegetation…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–23

20. That is, those who do not believe in the life in the Hereafter, have become so irresponsible, carefree and intoxicated with the life of this world, that they feel no hesitation or pang in denying any reality, and they put no value on or attach no worth to truth. That is why, they are not prepared to impose any moral restraint on themselves and feel no need to investigate as to whether the way, they are following is right or wrong.

Read the full tafseer →