Explained with ayahs 19–21
اللہ خالق کل
چھپا کھلا سب کچھ اللہ جانتا ہے، دونوں اس پر یکساں ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ قیامت کے دن دے گا نیکوں کو جزا بدوں کو سزا۔ جن معبودان باطل سے لوگ اپنی حاجتیں طلب کرتے ہیں وہ کسی چیز کے خالق نہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ جیسے کہ خلیل الرحمن حضرت ابرا ہیم ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ آیت (قَالَ اَ تَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ 95ۙ) 37۔ الصافات :95) تم انہیں پوجتے ہو جنہیں خود بناتے ہو۔ درحقیقت تمہارا اور تمہارے کاموں کا خالق صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے۔ بلکہ تمہارے معبود جو اللہ کے سوا جمادات، بےروح چیزیں، سنتے سیکھتے اور شعور نہیں رکھتے انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ قیامت کب…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 19
یہ الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ یہاں خاص طور پر جن بناوٹی معبودوں کی تردید کی جا رہی ہے وہ فرشتے، یا جن، یا شیاطین، یا لکڑی پتھر کی مورتیاں نہیں ہیں، بلکہ اصحاب قبور ہیں۔ اس لیے کہ فرشتے اور شیاطین تو زندہ ہیں، ان پر اَمْواتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ کے الفاظ کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ اور لکڑی پتھر کی مورتیوں کے معاملہ میں بعث بعد الموت علماؤں کا کوئی سوال نہیں ہے، اس لیے مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ کے الفاظ انہیں بھی خارج از بحث کردیتے ہیں۔ اب لا محالہ اس آیت میں اَلَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ سے مراد وہ انبیاء، اولیاء، شہداء، صالحین اور دوسرے غیر معمولی انسان ہی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
خلاصہ تفسیر
سو (جب اللہ تعالیٰ کا خالق اشیاء مذکورہ ہونا اور اس میں اس کا منفرد ہونا ثابت ہوچکا تو) کیا جو شخص پیدا کرتا ہو (یعنی اللہ تعالیٰ) وہ اس جیسا ہوجاوے گا جو پیدا نہیں کرسکتا (کہ تو دونوں کو معبود سمجھنے لگے تو اس میں اللہ تعالیٰ کی اہانت ہے اس کو بتوں کے برابر کردیا) پھر کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے اور (اللہ تعالیٰ نے جو اوپر دلائل توحید میں اپنی نعمتیں بتلائی ہیں ان پر کیا حصر ہے وہ تو اس کثرت سے ہیں کہ) اگر تم اللہ تعالیٰ کی (ان) نعمتوں کو گننے لگو تو (کبھی) نہ گن سکو (مگر مشرکین شکر اور قدر نہیں کرتے اور یہ جرم اتنا عظیم تھا کہ نہ معاف کرانے سے معاف ہوتا اور نہ اصرار پر آگے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
تفسیر آیات 20 تا 21:۔ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْـــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَاَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ ۚ وَمَا يَشْعُرُوْنَ ۙ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ۔
ان دونوں آیتوں میں سے پہلی آیت تو تمام معبودانِ باطل سے متعلق عام ہے اور دوسری آیت خاص ان کے ان آباء و اجداد سے متعلق ہے جن کی وہ پرستش کرتے تھے۔ فرمایا کہ اللہ کے سوا جن کو یہ پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایسوں کو حاجت روائی کے لیے پکارنا محض نادانی ہے۔ پھر ان کے ان آباء و اجداد کی طرف جن کو انہوں نے معبود بنا رکھا تھا، اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ تو مردہ…
Read the full tafseer →21۔ 1 مردہ سے مراد، وہ جماد (پتھر) بھی ہیں جو بےجان اور بےشعور ہیں۔ اور فوت شدہ صالحین بھی ہیں۔ کیونکہ مرنے کے بعد اٹھایا جانا (جس کا انھیں شعور نہیں وہ تو جماد کی بجائے صالحین ہی پر صادق آسکتا ہے۔ ان کو صرف مردہ ہی نہیں کہا بلکہ مزید وضاحت فرما دی کہ ' وہ زندہ نہیں ہیں ' اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ موت وارد ہونے کے بعد، دنیاوی زندگی کسی کو نصیب نہیں ہوسکتی نہ دنیا سے کوئی تعلق ہی باقی رہتا ہے۔
21۔ 2 پھر ان سے نفع کی اور ثواب و جزا کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
12: اس سے وہ بت مراد ہیں جن کی وہ پوجا کرتے تھے۔ فرمایا گیا ہے کہ وہ کسی کو پیدا تو کیا کرتے ؟ خود پیدا کیے گئے ہیں اور نہ ان میں جان ہے نہ انہیں یہ احساس ہے کہ ان کے پجاریوں کو مرنے کے بعد کب زندہ کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
آیت نمبر 17 تا 21
اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں۔ مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھایا جائے گا۔
یہ نتیجہ نہایت ہی موزوں وقت میں نکالا جاتا ہے ، ایسے حالات میں کہ نفس انسانی اور عقل سلیم اس کے مضمون کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔
افمن یخلق کمن لا یخلق (16 : 17) ” پھر جو پیدا کرتا وہ اور وہ جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے دونوں یکساں ہیں “۔ اس کا جواب صرف یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔ کیا کوئی حساس اور غوروفکر کرنے والا انسان اس ذات والا صفات کو جس نے یہ عظیم الشان کائنات کی…
Read the full tafseer →3 یعنی جن چیزوں کو خدا کے سوا پوجتے ہیں سب مردے (بےجان) ہیں۔ خواہ دواماً مثلاً بت، یا فی الحال مثلاً جو بزرگ مرچکے اور ان کی پوجا کی جاتی ہے یا انجام و مال کے اعتبار سے مردہ ہیں۔ مثلاً حضرت مسیح، روح القدس اور ملائکتہ اللہ، جس کی بعض فرقے پرستش کرتے تھے بلکہ جن و شیطان بھی جن کو بعض ممسوخ الفطرت پوجتے ہیں سب پر ایک وقت موت طاری ہونے والی ہے۔ پس جس چیز کا وجود دوسرے کا عطا کیا ہوا ہو اور وہ جب چاہے چھین لے، اسے خدا کس طرح کہہ سکتے ہیں ؟ یا عبادت کے لائق کیسے ہوسکتا ہے ؟
4 یعنی یہ عجیب خدا ہیں جنہیں کچھ خبر نہیں کہ قیامت کب آئے گی اور وہ خود یا ان کے پرستار کب حساب و کتاب کے لیے اٹھائے جائیں…
Read the full tafseer →آیت 21 اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ ۚ وَمَا يَشْعُرُوْنَ ۙ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ
جن اولیاء اللہ کے ناموں پر انہوں نے بت بنا رکھے ہیں وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں وہ فوت ہوچکے ہیں اور انہیں کچھ معلوم نہیں کہ قیامت کب برپا ہوگی اور کب انہیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔
Read the full tafseer →22 من دون اللہ سے مراد صرف بت نہیں :۔ ان دو آیات سے صاف واضح ہے کہ یہاں ایسے معبودوں کو ذکر نہیں کیا جارہا جو بےجان ہیں مثلاً سورج، چاند، ستارے، شجر و حجر اور لکڑی یا پتھر یا مٹی وغیرہ کے بت۔ کیونکہ ان کے لیے بعث بعد الموت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور جاندار یا ذوی العقول میں سے فرشتوں، فوت شدہ انبیاء، اولیاء اور صالحین کو خدائی صفات میں شریک بنایا جاتا رہا ہے۔ ان میں فرشتوں پر ( اَمْوَاتٌ غَیْرُاَحْیَاءٍ ) کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ وہ زندہ ہیں مرتے نہیں۔ باقی صرف اصحاب قبور رہ جاتے ہیں جن پر ( اَمْوَاتٌ غَیْرُاَحْیَاءٍ ) کا بھی اطلاق ہوسکتا ہے اور ان کے لیے بعث بعد الموت بھی ضروری ہے…
Read the full tafseer →30۔ چناچہ بعض کو تو سرے سے بعث کا علم واحساس ہی نہیں۔ بعض جن کو اتنا علم ہے، انہیں بھی وقت معین کا علم نہیں، ایسے بیخبروں کو، ایسے ناقص علم والوں کو معبود تسلیم کرلینا جہل وسفاہت کی انتہاء ہے ! (آیت) ” اموات غیر احیآء “۔ یہ صفت کسی نہ کسی معنی میں سارے معبودان باطل میں مشترک پائی جاتی ہے۔ مورتیوں کا بےجان ہونا تو ظاہر ہی ہے۔ باقی جن ” بزرگوں “ کی پرستش کی جاتی ہے، وہ بھی یا تو وفات پائے ہوئے ہوتے ہیں، اور یا عنقریب وفات پانے والے ہیں :۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
آیت نمبر 10 تا 21
ترجمہ : (اللہ) وہی ہے جس نے تمہارے فائدہ کے لئے آسمان بادلوں سے پانی برسایا اسی کو تم پیتے ہو اور اسی سے نباتات اگتی ہیں جس کو چرنے کے لئے تم اپنے جانوروں کو چھوڑتے ہو، اسی (پانی) سے تمہارے لئے کھیتی زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتی ہے بیشک ان تمام مذکورہ چیزوں میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں ہیں، ان لوگوں کے لئے جو اس کی صنعت میں غور و فکر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ ایمان لے آتے ہیں، اور اسی نے رات اور دن کو اور شمس و قمر کو اور ستاروں کو (اپنی قدرت سے) تمہارے کام میں لگا رکھا ہے (الشمس) پر نصب کے ساتھ اس کے ماقبل پر عطف کرتے ہوئے، اور…
Read the full tafseer →اموات غیر احیاء وہ (بت) بےجان ہیں ‘ زندہ نہیں (ان میں کبھی زندگی پیدا ہی نہیں ہوئی) یا یہ مطلب ہے کہ وہ (معبود) بذات خود مردے ہیں ‘ زندہ نہیں ہیں۔ ان کی زندگی خود بخود نہیں بلکہ ایک حیّ وقیوم کی عطا کردہ ہے۔
وما یشعرون ایان یبعثون اور ان کو خبر ہی نہیں کہ وہ مردے کب اٹھائے جائیں گے۔ یعنی ان کا دوبارہ اٹھایا جانا نہ ان کے اختیار میں ہے ‘ نہ ان کے پرستاروں کا دوبارہ زندہ کیا جانا ان کے بس میں ہے ‘ نہ اپنے پجاریوں کا زندہ کر کے اٹھایا جانا ان کو معلوم ہے ‘ پھر اپنے پرستاروں کو وہ جزا کیسے دے سکتے ہیں اور ان کی پرستش کا کیا فائدہ ہے اور کس طرح وہ معبودیت کے مستحق قرار پاسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(20۔ 21) اور جن کی یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر پوجا کرتے ہیں، وہ کسی بھی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے جیسا کہ ہم پیدا کرسکتے ہیں بلکہ وہ خود ذلیل مخلوق ہیں اور وہ بہت مردہ ہیں، ان کے ان معبودوں کو اتنی بھی خبر نہیں کہ وہ قبروں سے کب اٹھائے جائیں گے اور پھر حساب ہوگا یا یہ کہ کفار کو یہ بھی خبر نہیں کہ کب حساب ہوگا یا یہ کہ فرشتوں کو معلوم نہیں کہ حساب و کتاب کب ہوگا۔
Read the full tafseer →اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ ۚ : دوسرا وصف یہ کہ وہ مردہ ہیں زندہ نہیں۔ اس آیت میں ”اَمْوَاتٌ“ سے مراد وہ (نیک یا بد) مردہ لوگ ہیں جن کی مشرک لوگ عبادت کرتے تھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمَا يَشْعُرُوْنَ ۙ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ) ”اور وہ یہ شعور نہیں رکھتے کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔“ اٹھائے جانے کے شعور کا لفظ جمادات (بتوں اور قبروں) پر صادق نہیں آتا، بلکہ صاحب عقل انسانوں، جنوں اور فرشتوں ہی پر صادق آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے صرف مردہ کہنے پر اکتفا نہیں فرمایا، بلکہ فرمایا : (غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ) ”زندہ نہیں ہیں۔“ اس سے قبر پرستوں کا واضح رد ہوگیا جو کہتے ہیں کہ قبروں میں دفن شدہ بزرگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
آیت نمبر 20 تا 21
قولہ تعالیٰ : والذین یدعون من دون اللہ قرأۃ عام تدعون، تا کے ساتھ ہے کیونکہ اس کا ماقبل خطاب ہے۔ ابوبکر نے عاصم
سے اور ہبیرہ نے حفص سے یدعون یا کے ساتھ روایت کیا ہے، اور یہی یعقوب کی قرأت ہے اور رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ما تسرون وما تعلنون تو سب خطاب کی بنا پر تا کے ساتھ ہیں، سوائے اس کے جو ہبیرہ نے حفص سے اور انہوں نے حضرت عاصم سے روایت کیا ہے کیونکہ انہوں نے یا کے ساتھ پڑھا ہے۔ لا یخلقون شیئا یعنی وہ کسی شے کو پیدا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ہیں وھم یخلقون (بلکہ وہ خود پیدا کئے گئے ہیں) ۔ اموات غیر احیاء ای ھم اموات یعنی وہ مردہ ہیں، مراد بت ہیں، نہ ان میں روحیں ہیں، نہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
1:۔ عبد ابن حمید ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ کے طریق سے حسن بصری (رح) سے انہوں نے قیس بن عباد (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا فرمایا تو وہ حرکت کرنے لگی فرشتے کہنے لگی یہ تو اپنی پشت پر کسی کو قرار نہیں پکڑنے دے گی لیکن یونہی صبح ہوئی زمین کے اندر پہاڑ گاڑ دیئے گئے اور فرشتوں کو معلوم بھی نہ ہوا کہ کہاں سے پیدا ہوگئے کہنے لگے اے ہمارے رب کیا تیری مخلوق میں کوئی ایسی چیز بھی ہے جو ان سے زیادہ سخت ہو اللہ نے فرمایا ہاں لوہا ہے پھر فرشتوں نے عرض کیا لوہے سے بھی سخت کوئی چیز اور مخلوق ہے فرمایا ہاں آگ ہے فرشتوں نے عرض کیا اے ہمارے رب کیا آگ سے بھی زیادہ سخت کوئی اور چیز…
Read the full tafseer →[اَمْوَاتٌ: (وہ لوگ) مردہ ہیں ] [ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ ۚ: (وہ لوگ) کسی جان کے بغیر ہیں ] [ وَمَا يَشْعُرُوْنَ ۙ : اور وہ شعور نہیں رکھتے ] [اَيَّان : کہ کب ] [ يُبْعَثُوْنَ : وہ اٹھائے جائیں گے ]
Read the full tafseer →، پھر فرمایا (اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ ) (یعنی یہ بت جنہیں تم نے معبود بنا رکھا ہے بےجان ہیں زندہ نہیں ہیں) تم ان کی عبادت کیسے کرنے لگے ؟ (وَمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ ) (اور ان باطل معبودوں کو خبر نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے) ایمان اور عبادت کا سب سے بڑا انعام داخلہ جنت کی صورت میں موت کے بعد نصیب ہوگا اور یہ قیامت آنے پر موقوف ہے ان بےجان بتوں کو کچھ بھی خبر نہیں کہ مردے کب اٹھائے جائیں گے اگر ان سے موت کے بعد کسی طرح کا کوئی فائدہ حاصل ہونے کی امید رکھتے ہو تو یہ تمہاری غلطی ہے، جسے اعمال کا بدلہ دینا ہے وہ اللہ تعالیٰ شانہٗ ہے اسے معلوم ہے کہ قیامت کب قائم ہوگی تمہارے معبود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–23
ذکر دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ : خلق السموت والارض بالحق .... الیٰ .... انہ لایحب المستکبرین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اللہ کی معرفت اور اس کی وحدانیت کا علم سب سے اول اور مقدم اور اہم ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) اس کی تعلیم دیتے رہے۔ وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ اور توحید کے بعد درجہ تقویٰ کا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تمام اولین اور آخرین کو وصیت فرمائی ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ اس لیے اب آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت و حکمت کے قسم قسم کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور کمال قدرت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
18:۔ دونوں دعو وں پر تین دلائل ذکر کرنے کے بعد ان کا ثمرہ ذکر کیا گیا ” لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ ھُمْ یُخْلَقُوْنَ “ یہ پہلی دو دلیلوں پر متفرع ہے۔ ان دلیلوں سے معلوم ہوا کہ سب کچھ کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور مشرکین جن بندگانِ خدا کو بزعم خود متصرف و مختار سمجھ کر پکارتے ہیں پیدائش کائنات میں ان کا کوئی دخل نہیں بلکہ وہ خود ایک عاجز مخلوق ہیں۔” اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَاءٍ “ یہ تیسری دلیل پر متفرع ہے یعنی سب کچھ جاننے والا تو اللہ تعالیٰ ہے اور مشرکین کے مزعومہ معبود تو فوت ہوچکے ہیں، وہ ان کی دعاء اور پکار سے بیخبر ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ قبروں سے کب اٹھائے جائیں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
(ربط آیات)
سورة ہذا کی ابتداء میں بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر وحی نازل فرما کر انہیں انذار کا حکم دیا ، اور فرمایا (آیت) ” انذروا انہ لا الہ الا انا “۔ لوگوں کو ڈرا دو اور خبردار کر دو میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دلائل قدرت بیان فرمائے اور مخلوق کو عطا کردہ نعمتوں کا ذکر کیا جن میں ہر نعمت اللہ کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہے ، دلائل قدرت میں سے ارض وسما کی پیدائش ، انسان کی قطرہ آب سے تخلیق ، جانوروں کی پیدائش اور ان کے فوائد بارش کا نزول ، باغات اور نباتات کی تخلیق ، لیل ونہار اور شمس وقمر کی تسخیر ، ستاروں کی تسخیر ،…
Read the full tafseer →اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ ۚ وَمَا يَشْعُرُوْنَ ۙ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ 21ۧ
موت
أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة :
فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات
. نحو قوله تعالی:
يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] .
الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا
[ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] .
الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة .
نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ، وإيّاه قصد بقوله : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ترکیب : لایخلقون خبر ہے والذین کی اموات خبرثانی غیراحیاء تاکید ہے۔ ایان منصوب ہے یبعثون سے فالذین مبتدا قلوبہم جملہ خبر، ان اللہ الخ جملہ لاجرم بمعنی حق و ثبت کا فاعل جملہ ان اللہ الخ ما استفہامیہ وذاموصلہ والعائد محذوف اساطیر الاولین خبر ہے مبتداء محذوف کی لیحملوا ای قالوا ذالک۔ لیحملو الام العاقبۃ۔ و من اخفش کے نزدیک زائدہ ہے۔ والاساطیر جمع اسطورہ کی جیسے احادیث جمع اوحدوثہ واضا حیک جمع اضحوکۃ واعاجیب جمع اعجوبۃ بغیر علم حال من الفاعل ای یضلون الناس جاہلین۔
تفسیر : واللہ یعلم الخ اس میں ایک اور فرق الہ حق اور فرضی معبودوں میں بتلایا ہے کہ اللہ کو ہر ایک ظاہر و باطن بات معلوم ہے تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لاَیَخْلُقُوْنَ شَـْیًٔاوَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ ۔ اَمْوَاتٌ غَیْرُاَحْیَآئٍ ج وَمَا یَشْعُرُوْنَ لا اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 20۔ 21)
(اور جن کو یہ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے، وہ تو خود مخلوق ہیں۔ وہ مردہ ہیں، وہ زندہ نہیں اور نہیں سمجھتے کہ کب انھیں اٹھایا جائے گا۔ )
یہ الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ یہاں خاص طور پر جن بناوٹی معبودوں کی تردید کی جارہی ہے وہ فرشتے یا جن یا شیاطین یا لکڑی پتھر کی مورتیاں نہیں ہیں بلکہ اصحابِ قبور ہیں اس لیے کہ فرشتے اور شیاطین تو زندہ ہیں، ان پراَمْوَاتٌ غَیْرُاَحْیَآئٍ کے الفاظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
فہم القرآن
ربط کلام : بڑی بڑی نعمتوں کے ذکر کے بعد انسان کو احساس دلایا ہے کہ تو اگر اپنے رب کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہے تو تمہارے لیے ان کا گننا اور شمار کرنا ممکن نہیں ہے۔
آفاقی، زمینی اور بحری نعمتوں کے تذکرے کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ یہ چند نعمتوں کا بیان ہوا ہے اگر تم اپنے رب کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تم سب مل کر اپنے بنائے کمپیوٹرز اور دیگر ذرائع سے بھی ان کا شمار نہیں کرسکتے۔ اس کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت عقیدۂ توحید ہے۔ جس کی نشاندہی اللہ کی نعمتیں کر رہی ہیں۔ تم اس کی نعمتوں کی ناشکری اور اس کی ذات اور صفات میں اس کی مخلوق کو شریک کرتے ہو لیکن پھر بھی وہ درگزر کرتا اور تم پر رحم…
Read the full tafseer →21: اَمْوَاتٌ (وہ بےجان ہیں) مبتدا محذوف کی خبر غَیْرُ اَحْیَآ ئٍ وَمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ (وہ زندہ نہیں اور ان کو شعور نہیں کہ کب ان کو اٹھایا جائے گا) اس میں ان سے الوھیت کے خصائص کی نفی ہے اس طرح کہ وہ خالق نہیں ہیں اور وہ ایسی زندگی نہیں رکھتے کہ جس پر موت وارد نہ ہو۔ اسی طرح وقت بعث کا ان کو علم نہیں۔ اور ان کے لئے مخلوق کی صفات ثابت کیں کہ۔ نمبر 1۔ وہ مرنے والی مخلوق ہیں۔ نمبر 2۔ بعثت سے ناواقف ہیں۔ اور امواتٌ غَیْرُ اَحْیَاء کا معنی یہ ہے کہ اگر وہ فی الحقیقت معبود ہوتے تو وہ ہمیشہ زندہ رہتے موت کا شکار نہ ہوتے۔ یعنی موت کی آمد ان پر ہو ہی نہ سکتی۔ حالانکہ انکا معاملہ…
Read the full tafseer →(21)” اموات “ یہ بت بےجان ہیں۔ ” غیر احیاء وما یشعرون “ یہ بت شعور نہیں رکھتے۔ ” ایان “ کہ قیامت کب آئے گی۔ ” یبعثون “ قرآن اس پر دلالت کرتا ہے کہ قیامت کے دن ان بتوں کو حاضر کیا جائیگا اور ان کو زندگی دی جائے گی، یہ بت ان کے پجاریوں سے برأت کرلیں گے۔ بعض نے کہا کہ کفار کو معلوم نہیں کہ بتوں کو کب اٹھایاجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
19۔ 21۔ مشرکوں کے جھوٹے معبودوں کی یہ دوسری مذمت ہے کیونکہ پہلے اس سے یہ فرمایا تھا کہ زمین و آسمان اور دریا اور ان کے اندر جو جو چیزیں ہیں سب خدائے وحدہ لا شریک نے پیدا کیں ان مشرکوں کا اگر یہ اعتقاد ہے کہ جن بتوں کی یہ پوجا کرتے ہیں ان میں ان چیزوں کے پیدا کرنے کی قدرت ہے یا کوئی شئے انہوں نے پیدا کی ہے تو اس شئے کی نشان دہی کی جاوے ورنہ پھر ان کو اس خالق کے برابر کیوں سمجھتے ہیں اب دوسری بات یہ فرمائی کہ اللہ پاک ہر شخص کے ظاہر اور باطن کو یکساں جانتا ہے جو کام چھپ کر کیا جاتا ہے اس سے بھی وہ واقف ہے اور جو کھلم کھلا کیا جاتا ہے اسے بھی وہ دیکھتا ہے تو کیا ان بتوں کو بھی ایسا علم ہے کہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
آیت 17
اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو تخلیق کیا اور اس نے تمہیں لا محدود نعمتیں عطا کیں۔۔۔ فرمایا کہ کوئی ہستی اس کے مشابہ نہ اس کی برابری کرسکتی ہے اور نہ اس کی ہمسر ہے، چناچہ فرمایا (افمن یخلق) ” پس کیا وہ ہستی جو تمام مخلوقات کو پیدا کرتی ہے “ اور وہ جو ارادہ کرتی ہے اسے کر گزرتی ہے۔ (کمن لایخلق) ” اس ہستی کی مانند ہوسکتی ہے جو (کم یا زیادہ) کچھ بھی پیدا کرنے پر قادر نہیں۔ “ (افلا تذکرون) ” کیا تم (اتنا) نہیں سمجھتے “ کہ تم پہچان سکو کہ وہ ہستی جو تخلیق میں یکتا ہے، وہی ہر قسم کی عبودیت کی مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ جس طرح اپنی تخلق و تدبیر میں یکتا ہے اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
39۔ معبودان من دون اللہ کی بےعلمی اور بیخبر ی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو کچھ خبر نہیں کہ ان کو کب اٹھایا جائے گا۔ نہ ان کو خود اپنے بارے میں کوئی علم ہے اور نہ دوسروں کے بارے میں کی ان کو کب دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اگرچہ عام طور پر اس ارشاد ربانی کو بتوں پر محمول کیا جاتا ہے لیکن لفظ (یبعثون) جو کہ " بعث " سے ماخوذ ہے اس کا مفہوم متبادر اس کے خلاف ہے۔ کیونکہ " بعث " کے معنی دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جانے کے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ یہ معنی اس ارشاد کو لکڑی پتھر کے بےجان اور بےحس بتوں پر محمول کرنے سے اباء کرتا ہے۔ کیونکہ بتوں کے اندر پہلے کوئی زندگی تھی ہی نہیں کہ ان کے دوبارہ زندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
غیر اللہ کی حقیقت اور ان کو پوجنے والوں کا انجام
تشریح : پچھلی آیات میں اللہ نے اپنی نعمتوں، برکتوں اور بہترین تخلیق کا تذکرہ کیا ہے۔ اس قدر واضح ثبوت اور نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی کفار کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور وہ جوں کے توں کفر و شرک پر ہی قائم رہتے ہیں۔ بلکہ دوسروں کو بھی گمراہی کا سبق دیتے ہیں اور یہ ان کے لیے دہرے عذاب کا باعث بنے گا۔ کیونکہ ان کا گمراہی کا دیا ہوا سبق جہاں تک دوسرے لوگوں تک پہنچے گا اور پھر اس سے آگے جتنا یہ سبق پھیلتا چلا جائے گا تو ان تمام لوگوں کی گمراہی کا عذاب ان شروع میں سبق دینے والوں کے لیے ہی ہوگا کیونکہ گمراہی کی بنیاد انہوں نے ہی رکھی۔
یہاں یہ بات واضح ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
وہ ایسا قادر ہے اور اتنا کریم ہے کہ تمہاری خاطر پانی کو کس طرح صاف کرکے بہترین بخارات کی شکل میں اوپر لے جا کر تم پر برسایا جو خود تمہارے پینے کے استعمال میں بھی آتا ہے اور زمین پر طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے اور پھلدار درخت پیدا فرما کر ان پر پھل لگاتا ہے جیسے زیتون کھجوریں ، انگور اور طرح طرح کے پھل ایک سی زمین پر ایک سا پانی برسا کر یہ بیشمار طرح کے سبزے درخت کھیتیاں اور پھل پھول اگانا اس…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی ان بتوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کے پوجنے والے مرنے کے بعد دوبارہ کب زندہ ہوں گے ؟ اس مفہوم کے اعتبار سے ” یشعرون “ میں ” ھم “ ضمیر معبودوں کے لئے اور یبعثون کی ضمیر ان کے پوجنے والے کافروں کے لئے ہوگی۔ (شوکانی) شاہ صاحب لکھتے ہیں : شاید یہ ان کو فرمایا جو مرے بزرگوں کو پوجتے ہیں۔ (موضح) اس صورت میں دونوں ضمیریں معبودوں کے لئے ہوں گی۔ معلوم ہوا کہ معبود کے لئے یوم بعث کا جاننا ضروری ہے۔ (کذافی الروح)
Read the full tafseer →(16:21) ایان۔ کب ۔ متی کے قریب المعنی ہے بعض کے نزدیک یہ اصل میں ای ادان تھا۔ (کونسا وقت ہے) الف کو حذف کر کے وائو کو یاء کیا پھر یاء کو یاء میں مدغم کیا۔ ایان بن گیا۔
یبعثون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ وہ اٹھائے جائیں گے۔ بعث مصدر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 21
ذرا اس نے پھیلا دیا، پیدا کیا۔ الوان (لون) رنگ۔ یذکرون وہ دھیان دیتے ہیں۔ لحم گوشت۔ طری تازہ۔ تستخرجو تم نکالتے ہو۔ حلیۃ زیور۔ تلبسون تم پہنتے ہو۔ مواخر پھاڑنے والا، پھاڑنے والیاں۔ لتبتغو تاکہ تم تلاش کرو۔ القی اس نے ڈالا، رکھا۔ رواسی (راسیۃ) بوجھ، پہاڑ۔ تمید جھک جانا۔ سبل (سبیل) راستے۔ علمت علامتیں، نشانیاں۔ نجم ستارہ۔ یخلق پیدا کرتا ہے۔ تعدوا تم گنو گے ، شمار کرو گے۔ لاتحصوا تم شمار نہ کرسکو گے۔ تبسرون تم چھپاتے ہو۔ تعلنون تم ظاہر کرتے ہو۔ یدعون پکارتے ہیں۔ یخلوقن وہ پیدا کئے جاتے ہیں۔ اموات مردے ہیں۔ ایان کب ؟ یبعثون وہ دوبارہ اٹھائیں جائیں گے۔
تشریح : آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
اس آیت میں ارشاد ہے کہ اللہ پاک ہر شخص کے ظاہر اور باطن کو یکساں جانتا ہے، تو کیا ان بتوں کو بھی ایسا علم ہے۔ اگر یہ بات نہیں ہے تو ان بتوں کی پوجا کرنا بےفائدہ ہے کیونکہ ان میں بلکل کسی شے کے پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے یہ تو بلکل بےجان ہیں۔ ان میں حس و حرکت تک نہیں، زندہ ہونا تو درکنار نرے پتھر ہی پتھر ہیں۔ ان کے بتوں کو کیا خبر ہے کہ ان کے پجاری اور یہ خود مرنے کے بعد کب زندہ ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
[14] آیت کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ جن معبودان باطل کی تردید کی جا رہی ہے وہ نہ تو لکڑی یا مٹی کے بت ہیں اور نہ ہی جن و فرشتے۔ کیونکہ بتوں کے معاملے میں مرنے کے بعد زندہ کر کے اٹھائے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ رہے جن و فرشتے تو وہ زندہ ہیں۔ لہذا جن ہستیوں کو حاجت روا سمجھ کر پکارا جاتا ہے وہ لامحالہ گزرے ہوئے انسان ہی ہوسکتے ہیں جیسے انبیاء اولیائے کرام اور بزرگان دین وغیرہ۔ جن کو نہ معلوم کیا کیا قرار دے کر اپنی حاجت روائی کے لئے پکارنا شروع کردیتے ہیں چناچہ مشرکین عرب کے بہت سے معبود گزرے ہوئے انسان ہی تھے۔ بخاری میں سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ ود ' سواع ' یغوث ' یعوق '…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
بتوں نے کیا پیدا کیا ہے جو اسن کی پوجا کرتے ہو ۔
(ف 1) مکہ والے بت پرست تھے لات ومنات کی پوجا کرتے ، پتھروں کی پرستش کرتے اور ان اصنام کو خدا جانتے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، کیا ان بتوں کا کائنات میں کچھ ہے ؟ کیا زمین وآسمان میں کسی چیز کو انہوں نے پیدا کیا ہے ؟ یا یہ کہ خود مخلوق ہیں ۔
اللہ کی نعمتیں بیشمار ہیں ، ایک ایک سانس جو ہم لیتے ہیں ، اس کے لئے اللہ کے ہزاروں قانون سرگرم عمل ہیں ، عمر بھر اگر اس کی توصیف میں صرف کردیں ، جب بھی اس کی حمد سے عہد برآء نہ ہو سکیں ، وہی تو ہے جس نے ہمیں خلعت وجود بخشا ہے ۔ اور زندگی عنایت کی ہے ہمیں ضمیر اور عقل سے نوازتا ہے نعمتیں دی ہیں ، اور ہمیں اس…
Read the full tafseer →21 ۔ وہ مردے میں بےجان زندہ نہیں ہیں اور ان کو یہ بھی خبر نہیں کہ قیامت کب آئے گی اور مردے کب اٹھائے جائیں گے ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شاید یہ ان کو فرمایا جو مرے ہوئے بزرگوں کو پوجتے ہیں ۔ 12 خلاصہ۔ یہ کہ نہ جن کا علم محیط اور جو خود مخلوق وہ خالق کے برابر کیسے ہوسکتے ہیں اور عبادت میں خدا تعالیٰ کے شریک کیونکر ہوسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
ف 3۔ خواہ داما جیسے بت یا فی الحال جیسے جو مرچکے یا فی المآل جیسے جو مریں گے مثلا فرشتے اور جن اور عیسیٰ علیہ السلام۔
4۔ یعنی بعض کو علم ہی نہیں، اور بعض کو تعیین معلوم نہیں، اور معبود کو تو علم محیط چاہئے خصوصا بعث کا کہ اس پر جزا ہوگی عبادت وعدم عبادت کی، تو اس کا علم تو معبود کے لئے بہت ہی مناسب ہے۔
Read the full tafseer →وہ مردے ہیں نہ کہ زندگی رکھنے والے ‘ وہ نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے :
26۔ کیا ایسے بےخروں اور ناقص علم والوں کو معبود تسلیم کرلینا جہل وسفاہت کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے ؟ اور یہ الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ یہاں خاص طور پر جن بناوٹی معبودوں کی تردید کی جارہی ہے وہ فرشتے جن شیاطین یا لکڑی ‘ پتھر کی مورتیاں نہیں ہیں بلکہ اصحاب قبور ہیں اس لئے کہ فرشتے اور شیاطین تو زندہ ہیں ان پر (آیت) ” اموات غیر احیآء “۔ کے الفاظ کا اطلاق نہیں ہو سکتا اور لکڑی پتھر کی مورتیوں کے معاملہ میں (آیت) ” بعث بعد الموت “۔ کا کوئی سوال ہی نہیں ہے اس لئے (آیت) ” مایشعرون ایان یبعثون “۔ کے الفاظ انہیں بھی خارج از بحث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
Commentary
Verses appearing immediately earlier described the many blessings of Allah Ta` ala in details, proved that He alone is their Creator and established that He is unique in this matter. Now, in the present verses, there comes an admonition against the failure of people to recognize that there is a fact behind the statement describing all these blessings - and that is Tauhid, the Oneness of Allah Ta’ ala, except whom there is none worthy of worship. Therefore, it was said: When it stands proved that Allah alone made the heavens and the earth, made the mountains and rivers, vegetation…
Read the full tafseer →19. The words employed here to refute man made deities clearly indicate that these deities were deceased prophets, saints, martyrs and pious and other extraordinary beings buried in their graves and not angels, jinns, devils or idols. For the angels and devils are alive: therefore, the words,“They are dead, not living”cannot apply to them, and it is out of the question to say about idols of stone or wood that“They do not know at all when they shall again be raised to life”in the Hereafter. As regards the objection to this version that there were no such deities in Arabia, this is based on the…
Read the full tafseer →